Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 35)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

صحیح کہا۔۔۔ ! اب گولی کی زبان میں ہی بات کریں گے تم سب سے۔۔۔!ابی جان بھی غصے سے دانت پیستی بولیں۔ وہ کہاں بھولیں تھیں۔ اپنے لخت جگر کا لہو۔۔ ؟؟ جو ہر رات ان کو کانٹوں پے سلاتا تھا۔

اب نکلو یہاں سے۔۔ ورنہ دھکے دے کے۔۔۔۔؟؟

بس۔۔۔۔۔! جنید خان نے ہاتھ اوپر کھڑا کرتے للکارتے ہوۓ ارتسام کی بات کاٹی۔

تاریخ خود کو دہراۓ گی۔ حلیمہ خان۔۔۔ اب دیکھو۔۔۔ میں کیا کرتا ہوں۔۔ میرے پوتے کو مارنے کے بعد تمہیں کیا لگتا ہے۔۔ تم سب بچ جاٶ گے۔۔۔؟؟ تمہاری نسل نہ مٹا دی۔۔۔تو میرا نام بھی جنید خان نہیں۔۔

تمہارے منہ سے یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں۔۔ جنید خان۔۔۔ جو اپنی ماں کا سگھا نہ ہوسکا۔۔۔وہ کسی اور کا کیا ہوگا۔۔۔؟؟ ابی جان کے طنزیا لہجے میں کہتے جنید خان نے لب بھینچے۔ یہ راز تو وہ بچپن سے چھپاتے آۓ۔ اور وقت کے ساتھ انہیں لگا سب بھول بھال گٸے ہیں۔۔ حلیمہ کی یادداشت اتنی تیز ہوگی۔ انہیں اندازہ نہ تھا۔

دانت پیستے وہ بنا مزید کچھ کہے وہاں سے نکلتے چلے گۓ۔

گاڑی میں بیٹھے تو چہرہ سپاٹ تھا۔

ادا جان۔۔۔ حکم کریں۔۔ ببر نے ان کے ساتھ بیٹھتے کہا۔

مجھے۔۔ ان سب کی لاشیں چاہیٸں۔۔۔

پراسرار انداز میں ببر کے کان کے پاس جھک کے کہتے وہ ببر کو چونکا گۓ۔

ہوجاۓ گا۔۔۔ کام۔۔۔ آپ ٹینشن نہ لیں۔ کہتے انہیں تھپکی دیتا اپنیگاڑی کیجانب بڑھ گیا۔ تین گاڑیاں ایک ساتھ شراٹے سے منشن سے نکلیں ۔

یہ کون تھا۔۔ ابی جان۔۔۔؟؟ ارتسام نے ابی جا کو کرسی پے ڈھتے ہوۓ پوچھا۔ بنا ابتسام کے وہ ان خونخوار بھیڑیے سے نہیں لڑسکتیں تھیں۔

رضیہ پانی لے آٸ۔

ابی جان نے گلاس کو۔منہ لگایا اور انہیں مختصراً اپنا اور جنی خان کا آپس میں کیا رشتہ ہے۔۔۔بتا ہی دیا ۔

مطلب۔۔۔؟؟ یہ ہمارے ماموں تھے۔۔۔؟ کیا ۔۔۔۔سگھے ماموں ؟ ارحام کو شک ہوا۔

ابی جان نے ایک نظر ارحام کو دیکھتے اثبات میں سر ہلایا۔

اوہ ماٸ گاڈ۔۔۔۔! اتنا ظالم اور بے حس شخص۔۔۔سے ہمارا کوٸ رشتہ نہیں ہوسکتا۔

ارحام نے نفی میں سر ہلایا۔

ابی جان۔۔ ! بابا اور ۔۔ماما کا ایکسیڈینٹ۔۔۔؟؟ ارتسام وہ بات نہ بھولا تھا۔ جو ابی ہوٸ تھی۔

ہمممممم۔۔۔۔۔ یہ قاتل ہیں۔۔ میری کوکھ کے۔۔۔ آپ کے ماں باپ کے۔۔۔۔! ابی جان کی آنکھیں نم ہوگٸیں۔

ابرش نے انہیں پاس بیٹھتے حوصلہ دیا۔

اب انہیں آجانا چاہیے۔۔۔ ہم۔۔ سب کو انکی ضرورت ہے۔۔۔

ابی جان ہمت ہار رہی تھیں۔ ابرش کی آنکھیں بھی نم ہوگٸیں۔

وہ ضرور آٸیں گے۔۔ میرا دل کہتا ہے۔۔۔وہ آٸیں گے۔۔ بس آپ ہمت نہیں ہاریں گیں۔۔ ہم سب ۔۔ایک ساتھ ہیں۔۔ کوٸ بھی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

سب پے ایک مضبوط نظر ڈالتی وہ مضبوط انداز میں بولی۔

سبھی ابی جان کے پاس ہوگۓ۔ اور انہیں تسلیاں دینے لگے۔

سبھی موجود تھے سواۓ ایک تمہارے۔۔۔

صرف ایک تمہاری۔۔ کمی۔۔۔ کوٸ پوری نہ کرسکا۔۔۔

ابی جان سب کے ہوتے ہوۓ بھی ابتسام کو یاد کررہیں تھیں۔ابتسام انکی طاقت تھا۔ انکی ہمت۔ اسے دیکھ دیکھ کے تو جیتی تھیں۔ خود کوینگ سمجھتی تھیں۔ لیکن جب سے وہ گیا تھا۔ انکی حالت گری گری سی رہنے لگی تھی۔۔

جو سب نے نوٹ کی تھی۔

لیکن۔۔ سبھی بے بس تھے۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

گاڑی اپنے منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ کہ اچانک ایک کچے راستے پے جہاں ایک طرف تو اونچے پہاڑ تھے۔ تو دوسری طرف کھاٸ۔

انہیں لگا۔۔ گاڑی بے قابو ہورہی ہے۔۔ ڈراٸیو نے بمشکل گاڑی کو قاب کیا۔ کہ تبھی گارڈز کی ایک گاڑی دھماکے سے اڑگٸ۔ جسے دیکھ ببر اورجنید خان کی سٹی گم۔ہوگٸ۔

دونوں گاڑیوں کے ٹاٸر پنکچر ہوگۓ تھے۔ مجبوراً ڈراٸیو کو روکنا پڑا۔

اس گاڑی کے رکتے ہی حمزہ ایک بہت بڑے ڈنڈے کو اٹھاۓ وہاں داخل۔ہوا۔

سر پے کالا کپڑا باندھے وہ یوں لگ رہا تھا۔ شہید ہونے کے لیے آیا ہے۔

اس نے آتے ہی گاڑی کے شیشے کو بڑا سا ڈنڈا مارکر توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ ببر کی گاڑی پے فہد نے دھاوا بول دیا۔ ایسے گاڑی کی دھلاٸ کر رہا تھا۔ جیسے کآڑے دھو رہا ہے۔ سبھی کو گاڑی سے گھسیٹ کےادھ موا کر کے دونوں نے گاڑی سے نکال باہر پھنکا۔

بہت ۔۔۔ غلط جگہ پنگا لے لیا تو نے۔۔۔۔۔

جنید خان کو کالر سے پکڑے حمزہ غرایا۔

کون ہو تم۔۔۔؟ جنید خان زخموں سںے ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھتے بولا۔

اتنے میں دبنگ انٹریکے ساتھ ابتسام وہاں پے پہنچا۔ جسے دیکھ جنید خان کا سانس سینے میں اٹکا۔

تم۔۔۔۔تم زندہ ہو۔۔۔؟؟ انہیں اپنی آنکھوں پے یقین نہ آیا۔

ابتسام نے حمزہ کے ہاتھ سے ڈنڈا لے کے جنیف خان کے جبڑے پے مارا۔ تو اسکا جبڑا ہی ٹوٹ گیا۔ منہ سے خون کا فوارہ چھوٹ گیا۔

میرے گھر میں گھسنے کی تمہاری جرات کیسے ہوٸ۔۔۔ کم******* کہتے ہی گریبان سے پکڑ کے زمین پے پٹٸخا ۔ تو وہ درد سے کرلاتے رہ گٸے۔

اب کی بار ابتسام نے بیلٹ نکالی اور اسی بیلٹ سے ببر اور جنید کو بے تحاشا مارا۔ کہ وہہوش و حواس کھونےلگے۔

یہ مار۔۔ میرے گھر میں بلا اجازت گھسنے۔۔۔ میرے گھر والوں کو ٹارچر کرنے۔۔۔ میرے ماں باپ کو مارنے۔۔۔ میری بیو کے بارے میں غلط الفاظ ادا کرنے۔۔ کی تھی۔ اب۔۔۔ اس ملک کے دشمن کو میں کیا سزا دہتا ہوں۔۔

کہتےہی ابتسام نے گن نکالی اسکا انداز بے حد پراسرار تھا۔

کیا۔۔۔ کیا کر رہے ہو۔۔۔؟؟ دیکھو ابتسام۔۔ یہ۔۔مت کرو۔۔۔ بھول جاٶ۔۔سب۔۔۔ دیکھو۔۔۔ میں تمہارا ماموں ہوں۔۔ مجھ پے رحم کھاٶ۔ جنید خان نے ہاتھ جوڑتےکہا۔

میرے ماں باپ پے رحم کھایا تھا تم نے۔۔۔؟؟

دانت پیستے کہا۔

م۔۔۔معا۔۔۔ف کر۔۔دو۔۔۔؟؟

جنید خان کو موت سامنے نظر آٸ تو اسکا اصل باہر نکل آیا۔

ہاہاہاہ۔۔۔ معافی۔۔۔؟؟ جو ابتسام کی ڈکشنری میں تو۔۔۔ ہو۔۔۔ لیکن۔۔۔ میجد ابتسام کی ڈگری میں نہیں۔۔۔

تمخر اڑاتےکہا۔

میجر۔۔۔۔۔؟؟

زیر لب دہرایا۔

ابتسام نے گن جنید خان کی طرف زمین پر پھینکی۔

میجر ابتسام۔اپنے دشمن کو ایک موقع دیتا ہے۔۔۔ تمہیں بھی دیا۔ اٹھاٶ گن۔۔۔ اینڈ شوٹ می۔۔۔

اتنے جارحانہناندا میں کہا کہجنید خان کو اپنا سانس کتا محسوس ہوا۔

شوٹ می۔۔۔ اب کی بات وہ غصے سے چلایا ۔

جنید خان نے فوراً گن اٹھاٸ اور ابتسام پے فاٸر کیا۔ جس سے وہ ڈاچ کھاتا بچ گیا تھا ۔

جنید خان نے مزید فاٸر کرنا چاہے۔ لیکن گن خالی تھی۔

جبڑے بھینچے گن فور پھینکی۔

اور ایک نظر سامنے کھڑے ان تین شیروں کو دیکھا۔

اس وقت فہد حمزہ اور ابتسام تینوں سر پے کالا کپڑا باندھے ایک لاٸن میں مضبوط ارادوں کے ساتھ کھڑے تھے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل۔میں ہے۔۔

دیکھنا ہے زور کتنا۔۔ بازو قاتل میں ہے؟

ابتسام۔نے شعر پڑھا۔ اور گولی چلا دی۔ جو جنید خان کے دلکے پار ہوٸ۔

وہ اپنے سینے پے ہاتھ رکھتا ابتسام کو حیرت سے دیکھتا رہ گیا۔ ابتسام نے اسے زور سے لات ماری اور وہ گہری کھاٸ میں جا گرا۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

فہد نے پڑھا۔

خس کم جہاں پاک

حمزہ نے کہتے ہوۓ مڑ کے ببر کو دیکھا۔ جو وہاں موجود نہیں تھا۔

یہ کہاں گیا۔۔۔؟؟ حمزہ نے تلاش کیا ابتسام اورفہد نے بھی ساتھ دیا۔ لیکن وہ غاٸب ہوگیا۔

مجھے نہیں تھا پتہ۔۔۔ اتنا بزدل۔ہوگا۔۔ یہ۔۔۔ بجاۓ اپنے ادا جان کو بچانے کے خود کو بچا کے بھاگ نکلا۔

ابتسام نے دانت پیسے۔

لیکن یہ ہمارے حق میں اچھا نہیں۔۔۔ وہ ہماری خاص کر تمہاری۔۔ حقیقت جان گیا ہے۔۔ وہ وار کرے گا۔۔ اور بہت سخت وار کرے گا۔

حمزہ کو پریشانی ہوٸ۔

اللہ ہے ناں۔۔۔! گھبراتے کیوں ہو۔۔۔؟؟ ڈھونڈ لیں گے۔اس بزدل کو اب آگے کا سوچو۔۔۔ جنید خان کے خلاف ثبوت کرنل تک پہنچ چکے ہیں۔۔ اب ریڈ مارنے کا وقت ہے۔ جنید خان کے سارے اڈوں پے چھاپے مارو۔ سب بچوں ک باز یاب کرواٶ۔۔ اور جو کچھ ملتا ہے۔ انفارم کرو۔۔۔

فہد۔۔۔ ! تم۔۔اس ببر کو تلاش کرو۔۔! تینوں وہاں سے نکلتے آگے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ یہ جان بغیر کے ببر کا ان کے ہاتھ سے نکل جانا ان کے لیے کتنے بڑے خطرے کا سبب بننے والا تھا۔

💗
💗
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
💗
💗

پیرزادہ منشن میں تو اتنی سخت سیکیورٹی ہے۔۔۔ یہاں اندر جانا تو پاسبل نہیں۔۔مجھے۔۔۔ ابرش کے باہرنکلنے کا ویٹ کرنا ہوگا۔۔۔

لیکن۔۔۔ میں یہاں ۔۔زیادہ دیررک نہیں سکتا۔ میرے پیچھے ہ لوگ پڑے ہیں۔ جہنوں نے کڈنیپ کیا۔۔۔ مجھے چوکنا رہنا پڑے گا۔۔۔

کوٸ نہیں۔۔ کب تک بچے گی۔۔؟ چوڑوں گا نہیں۔۔۔

شاہان۔۔ بدلہ کی آگ میں اتنا اندھا ہوگیا تھا۔ کہ اسے اپنےماں باپ کی بھی فکر نہ تھی۔ ان سے بھی نہ ملا۔ ۔۔ بس ایک ہی جنون تھا ابرش سے بدلہ۔

وہ بھیس بدل کے پورا پیرزادہ منشن بہت ہی احتیاط سے گھوم کے دیکھنے کے بعد اب وہاں سے نکلنا ہی مناسب سمجھا کہ۔ سامنے احمر اور اسکے ساتھیوں پے نظر پڑی تو فوراً خود کو کور کرتا چھپا گیا۔

ایک درخت کی اوڑھ میں ہوتا وہ انکو دیکھنے لگا۔

ہونہہ ۔۔۔وہ یہاں ضرور آۓ گا۔۔۔ سب طرف نظر رکھو۔ اس بار وہ بچ کے نہیں جانا چاہیے۔۔ سمجھے تم سب۔۔۔؟؟ احمر نے سخت انداز میں اپنے ساتھیوں کو تنبیہ کی تو سب اپنی اپنی پوزیشنز لے چکے تھے۔

افففففف۔۔۔ اب یہاں سے کیسے نکلوں گا۔۔۔؟؟ یہ تو یہاں ڈیرہ جما کر بیٹھ گۓ ہیں۔۔۔شاہان نے منہ نیچے کر کے چھپایا۔

کہ اتنے میں ایک گاڑی اسکے پاس آکے رکی۔ اور گاڑی کا فرنٹ ڈور اوپن ہوا۔

شاہان نے اچھنبے سے دیکھا۔

کم اِن۔۔۔! اس لڑکی نے فوراً سے کہا۔ تو اہان ایک لمحہ سوچتے گاڑی میں سوار ہوا۔ اور وہ گاڑی کو بہت طریقے سے وہاں سے لے کے نکل گٸ۔

کون ہو تم۔۔۔؟؟ شاہان کے ماتھے پے بل تھے۔ جبکہ اس لڑکی کے چہرے پے سماٸیل۔

ایک نظر شاہان کو دیکھتے وہ سامنے ونڈ اسکرین کے پار روڈ پے ڈال گٸ۔

###########*************#######

چلو ایک کام کرتے ہیں۔۔ میں تمہیں اپنے پوتے بلال خان کا خون معاف کرتا ہوں۔۔ بدلے میں تم۔۔۔ مجھے یہ۔۔ ابتسام کی بیوہ۔۔ دے دو۔۔ میرے پوتے۔۔ ببر خان کے لیے۔۔۔

ابرش پھر سے ہمت ہارنے لگی تھی۔ جنید خان کے الفاظ اس کے دماغ پے ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے۔

کہاں ہو ابتسام۔۔۔ ؟؟ لوٹ آٶ۔۔۔ اب نہیں برداشت ہوتا۔۔۔

یہ ہمت والی لڑکی اب ہمت ہارنے لگی ہے۔۔۔ صرف آپ کے نہ ہونے کی وجہ سے۔۔۔ پلیز لوٹ آٶ۔۔۔!

وہ روۓ جا رہی تھی۔ اور ابتسام کو دل سے یاد کر رہی تھی۔

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

کیا ہوا۔۔۔؟؟

کرنل نے بلایا ہے۔۔۔ ! فہد نے لب بھینچے۔

انہیں پتہ چل گیا ہے سب۔۔۔! پیشی ہے۔۔۔! فہد ابتسام کے ساتھ اب کرنل کے آفس کی طرف کا رخ کیا۔

جبکہ حمزہ جنید خان کے سارے اڈے سیل کر رہا تھا۔ اور وہاں سے بہت سے بچوں کو بازیاب کر وا چکا تھا۔

ساتھ میں جو جو اسے مزید وہاں سے ملا۔ اس پے اس کے رونگٹے کھڑے ہوگۓ۔

شرم آنی چاہیے تم لوگوں کو۔۔۔اتنی بڑی بات مجھ سے چھپاٸ۔۔۔؟؟

کرنل کو بے انتہا غصہ آیا ہوا تھا۔ وہ دونوں سر جھکاۓ کھڑے تھے۔ جو انہوں نے کرنا تھا وہکر چکے تھے۔ اب ابتسام کے دماغ میں ببر سمایا ہوا تھا۔ اسکا واں سے نکل جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔

کچھ پوچھا ہے میں۔نے۔۔؟؟ انہوں نے ابتسام کو گھورا۔

سر۔۔۔! آپ کیا پوچھ رہے ہیں۔۔؟؟ ابتسام نے معصومیت سےمنہ بناتے کہا۔۔

میجر ابتسام۔۔۔ زیادہ مصصوم بننے کی کوشش مت کرو۔ تم زندہ تھے۔۔ یہ بات مجھے کیوں نہ بتاٸ گٸ۔۔؟؟ اور یہ دو نمونے۔۔۔ ؟؟ دوسرا۔۔۔؟ کہاں ہے۔۔۔؟؟ کہتے ہوۓ انکا دھیان حمزہ کی غیر حاضری پے گیا۔

سر۔۔۔ وہ بس آنے والاہوگا۔۔۔آپ کانٹینیو کریں۔ فہد کی زبان میں کھجلی ہوٸ۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آتا۔۔۔؟؟ تم۔لوگوں کو کب تک میں بچاتا رہوں گا۔۔؟؟ سب کام خراب کر دیتے ہو۔۔۔ اب جنید خان کا کام بھی تم لوگوں نے یقیناً کر دیا ہوگا۔۔ کرنل نے دانت پیسے۔۔۔

سر۔۔۔! جنید خان۔۔۔؟؟ ابتسام سوچنے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔

جس طرح کا تم۔تینوں کا رویہ ہے۔۔ دل تو کرتا ہے۔۔ کورٹ مارشل کردوں۔۔ تم تینوں کا۔۔۔ لیکن۔۔ ؟؟

سر۔۔مے آٸ کم ان۔۔

کرنل کی بات ابھی ادھوری تھی۔ کہ حمزہ کی انٹری ہوٸ۔

لو جی۔۔۔ ! آگۓ۔۔۔؟؟ کیا کارنامہ سر انجام دے کے آۓ ہو۔۔؟؟ انہوں نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔

سر۔۔۔! جنید خان۔۔ کے اڈوں پے ریڈ ماری۔۔۔ سر۔۔۔ وہاں۔۔۔ سےبچے ۔۔ اسلحہ اور۔۔ لڑکیاں بھی۔۔ برآمد ہوٸیں۔۔ انکی بری ۔۔ حالت تھی۔۔۔ انکے جسم کے اعضا کو جلایا گیا تھا۔۔۔ ! ضبط کی وجہ سے حمزہ کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔

کرنل بھی چپ سے ہوگۓ۔

تم لوگوں نے کبھی آرڈرز کو فالو نہیں کیا۔۔ اپنے آرڈرز خود کو خود دیتے ہو۔۔۔! جبتک میں اسکی رپورٹ آگے فاروڈ نہ کر دوں۔۔ تم۔تینوں کو سسپنڈ کر رہا ہوں۔۔۔!

تھینک یو سر۔۔۔۔! فہد کی زبان پھر چلی۔جبکہ سسپنڈ کی بات پے تینوں کو ہی تپ چڑھی تھی۔

کیا مطلب اس بات کا۔۔۔؟ کرنل کے کان کھڑے ہوۓ۔

سر۔۔۔! ویسے بھی اس کیس نے بہت تھکا دیا تھا۔ اب تھوڑا ریسٹ کرنا چاہیے۔۔ اسلیے آپ نے سسپنڈ کر کے مسلہ حل کر دیا۔ گھر میں ماں ویٹ کر رہی ہے۔۔ کہ جلدی سے گھر پہنچو۔۔ تاکہ وہ شادی کر سکیں۔ والد محترم بھی انکی نہیں سنتے۔۔ اب انکو جا کے چہرہ دکھاٶں گا۔ تو ماں کو سکون آۓ گا۔

فہد نے پلاننگ کی۔ اورلگے ہاتھ شادی بھی کر لوں گا۔

اور آپ۔۔۔؟؟ آپ بھی بتا دیں۔۔؟

حمزہ سے پوچھا۔

سر۔۔۔شادی کے بعد ہنی مون پے نہیں جا سکا۔۔ تو ؟؟ حمزہ نے بھی ارادہ بتایا۔

اور۔۔؟ آپ۔۔؟؟ ابتسام کی جانب تیکھے انداز میں دیکھا۔

سر۔۔۔! گھر جاٶں گا۔۔۔ انہیں سرپراٸز دوں گا۔۔ ان کے لیے تو میں مر چکاہوں۔۔ان کو اپنا چہرہ دکھاٶں گا۔۔ کہ کتنا ڈیشنگ ہوگیا ہوں۔۔

ابتسام نے بھی مسکراہٹ دباتے اپنے ارادے بتاۓ۔

بہت خوشی ہوٸ۔ تم تینوں کے ارادے جان کے۔۔۔ بہتر ہوگا۔۔ اپنے ارادے فی الحال ملتوی کردو۔

کیونکہ۔۔۔صرف دودن ہیں۔۔ تم۔لوگوں کے پاس۔ اپنے سارے مسلے سالو کرو۔ اور مجھے رپورٹ کرو۔

سر۔۔۔یہ تو زیادتی ہے۔۔۔ فہد نے دہاٸ دی جبکہ اندر سے اس فیصلے سے وہ بہت خوش تھا باقی دو کی طرح۔

ناٶ۔۔ گو۔۔۔!کرنل نے فاٸل کھول لی۔ انکو نظر انداز کر دیا۔

پلیز۔۔۔ کچھ تو سوچیں۔۔سر۔۔۔ میری ماں کے بارے میں۔۔۔ہی سوچ لیں؟؟ فہد نے مزید ایکٹنگ کی۔

اب اگر ایک لفظ مزید کہا تو کورٹ مارشل کردوں گا۔ تم تینوں کا۔گٹ لاسٹ۔

آخر غصے سے وہ چلاۓ تھے۔ دبی دبی آواز میں۔

تو تینوں سر جھکاۓ باہرنکلے۔ باہرنکلتے تینوں کے چہرے پے سماٸیل تھی۔

تینوں ہاتھ پے ہاتھ مار کے ہنسے۔ وہ کرنل کو باتوں کے زریعے گھومانا خوب جانتےتھے۔

چلو۔۔۔ ایک ماہ کے سسپنڈ سے تو بچے۔۔ حمزہ نے شکر کیا۔

اور نہیں تو کیا۔۔ جب دیکھو کورٹ مارشل کورٹ مارشل کرتے رہتے ہیں۔۔ جیسے کورٹ مارشل جیب میں لے کےگھوم رہے ہوں۔۔ اور وقت پڑتےہی ہمارے منہ پے ماریں گے۔

فہد نے پیچھے مڑ کے دروازے کی طرف دیکھتے دھیمی آواز میں کہا۔ کہ کہیں باہر نکلتے کرنل سن نہ لیں۔

ہم۔۔کون سا باز آنے والے ہیں۔۔ ؟؟ ابتسام نے سماٸل دی ۔

اور میری شادی کا کیا۔۔۔؟؟ اماں حضور نے ناں۔۔ اب ان کرنل کو نہیں چھوڑنا۔۔۔ ہاۓ لگتا ہے۔۔ کنوارہ ہی مر جاٶں گا۔۔۔ ؟؟؟

بکواس بند کر اپنی۔۔۔! حمزہ کو اسکی بات پے سخت غصہ آیا۔

ہر وقت کا بولنا تمہارا ضروری نہیں۔۔۔! ابتسام کو بھی اسکی مرنے کی بات سخت ناگوار گزری۔

ارے۔۔ سوری یار۔۔۔ غلطی ہوگٸ۔۔ فکر نہ کرو۔۔ اتنی جلدی چھوڑ کے نہیں جانے والا۔

شرمندہ ہوتےمسکراتے کہا۔

حمزہ جو جو بھی بازیاب ہوۓ ہیں۔ انکو ہیڈکوارٹر لے چلو۔ وہیں دیکھتے ہیں آگے کیا کرنا ہے۔۔؟؟

ابتسام نے حمزہ سے کہتے قدم باہر کی جانب بڑھاۓ۔

لیکن۔۔۔کرنل نے تو دو دن کے لیے ہمیں سسپنڈ کیا ہے۔۔ ہم۔۔۔کیسے جا سکتےہیں۔۔؟؟ یا کوٸ بھی کارواٸ۔۔؟؟

سسپنڈ۔۔ انہوں نے تم لوگوں کوکیا ہے۔۔۔مجھے۔۔ نہیں۔۔ ؟؟ کیونکہ ۔۔میں تو زندہ ہی نہیں۔۔! ابتسام نے سماٸل دیتے ایک آنکھ ونک کی۔

حمزہ اسکی بات سمجھتا مسکرایا۔

اگر۔۔ اجازت ہو تو۔۔۔ میں اپنی اماں سے مل آٶں۔۔؟ کافی دفعہ فون آچکا ہے۔۔گاٶں میں بے رونقی سی ہوگٸ ہے۔۔ سبھی لڑکیاں انتظار میں ہیں۔۔ کب گھبرو جوان آۓ گا۔۔۔

فہدکی اوٹ پٹانگ باتیں سنتے ابتسام اورحمزہ نے نفی میں سر ہلایا۔ یہ نہیں سدھر سکتا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
💗
💗
💗
💗
💗
💗
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ببر وہاں سے نکل تو آیا تھا۔ لیکن وہ آگے کی پلاننگ کر رہا تھا۔ اپنے زخموں کی پرواہ کیے بنا اپنے چند قابل بھروسہ آدمیوں کو ساتھ لیا۔ اور جنید خان کے جاں بحق ہونے کے بارے۔میں بتایا۔ وہ فی الحال یہ خبر لیک آوٹ نہیں کر سکتا تھا۔ اسے اپنے آپ کو بھی بچانا تھا۔ اور سارے اڈے سیل ہو چکے تھے۔ اس وقت ببر خالی ہاتھ تھا۔ اسے اپنے اڈوں کی بھی فکر تھی۔ جن تک ابھی انٹیلیجنس کی پہنچ نہیں ہوٸ تھی۔ اور اس سے پہلے کہ وہ اس تک پہنچتے وہ ابتسام کو مارنے کی پلانگ کر چکا تھا۔ اور اپنے ہی ایک ساتھی کے زریعے اسکی گاڑی میں بم فٹ کروایا۔ تا کہ ابتسام کے مرتےہی سب کا دھیان اکی طرف چلا جاۓ گا۔ اور اسے اتنا وقت مل جاۓ گا۔ کہ وہ اپنے اڈوں کو کہیں اور منتقل کر سکے۔

🔥
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

چٹاخ۔اب اگر تم نے ایک لفظ بھی میری بیٹی کے خلاف بولا۔۔ تو جان لے لوں گا تمہاری۔۔!

آج پہلی بار۔۔ پہلی بار حبیب شمس نے اپنی بیوی پے ہاتھ اٹھایا۔ اور وہ دنگ اپنے شوہر کو دیکھتی رہ گٸں۔

آپ کی جرات کیسے ہوٸ۔۔۔؟ مجھ پے ہاتھ اٹھانے کی۔۔؟؟

وہ بپھریں تھیں۔

منہ بند رکھو۔۔ تم جیسی ڈاٸن کو میں نے اتنے سال گھر رکھا۔۔ احسان سمجھو میرا۔۔ ورنہ تم جیسی کو تو دھکے دے کے گھر سے نکال باہر کرنا چاہیے تھا مجھے۔

حبیب صاحب آج پورے جاہ و جلال میں تھے۔

کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا۔۔؟؟ کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ؟؟

وہ بھی دوبدو ہوٸیں۔

میرا منہ نہ ہی کھلے تو بہتر ہے تمہارے لیے۔۔۔ جسطرح تم۔نے جھوٹ بولے۔۔ او میں بے وقوف تم پے اندھا بھروسہ کرتا رہا۔۔۔ ؟؟ تف ہے مجھ پے۔۔ لیکن۔۔ بس۔۔ اب اور نہیں۔۔ بہت ہوگیا۔۔ بہت کر لی تم نے من مانی۔۔ اب ایک بات میری کان کھول کے سن لو۔۔۔ میری بیٹی کی شادی ارحام سے ہی ہوگی۔۔۔ تم تو کیا کوٸ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔

انگلی اٹھا کے وارن کیا۔

آپ۔۔۔۔آپ جانتے نہیں ابھی میرے بھاٸ کو۔۔ وہ اپنے بیٹےکی منگ کو حاصل کرنا جانتےہیں ۔

کھوکھلی دھمکی دی۔

اچھا۔۔۔۔ ؟؟ منگ۔۔؟؟ کونسی منگ۔۔۔؟؟ حبیب صاحب پراسرار انداز میں خود پے ضبط کیے انکی جانب بڑھے۔ انہوں نے دوقدم ڈرتے ہوۓ پیچھے لیے۔

یہ تو آج انہیں کوٸ اور ہی حبیب لگ رہے تھے۔ یہ تو وہ حبیب تھے ہی نہیں۔۔ جو انکی ہاں میں ہاں ۔۔ملاتے تھے۔

بابا۔۔۔۔؟؟ اچانک لمظ کی آمد نے انکو چونکا دیا۔ وہ پیچے کی طرف پلٹے۔ارحام اور لمظ کو ایک ساتھ دیکھ وہ چپ ہوگۓ۔ جبکہ انکی مسز موقع غنیمت دیکھتیں وہاں سے رفو چکر ہوگٸیں۔

اندر آٶ بیٹا۔۔۔! انہوں نے مسکرا کے استقبال کیا ۔ مجیب شمس کے جانے کے بعد ان میں بہت زیادہ بدلاٶ آگیا تھا۔ اور کیا جہ تھی۔ ۔۔؟ اس سب کے پیچھے کوٸ سمجھ نہیں پار ہا تھا۔

انکل۔۔۔ لمظ کو چھوڑنے آیا تھا۔ بس اب چلتا ہوں۔۔!

ارحامنے بھی مودب انداز میں کہا۔

ارحام مجھے کچھ بات کرنی ہے تم۔۔۔سے۔۔ بیٹھو۔۔ انہوں نے سوچتے ہوۓ ارحام سے کہا۔ جبکہ پریشانی انکے چہرے پے صاف ظاہر تھی۔

کیا بات ہے انکل۔۔؟؟ سب ٹھیک ہےناں۔۔؟ وہ انکے پاس ہی بیٹھ گیا۔

لمظ ۔۔! ارحام کے لیے چاۓ پانی کا بندوبست کرو۔۔ بیٹا۔۔۔! انہوں نے لمظ کو وہاں سے ہٹایا۔

وہ سر اثبات میں ہلاتے کچن کیجانب چلی گٸ ۔

حبیب صاحب نے ارحامسے ساری بات کہہ ڈالی۔

ارحام۔۔۔ مجھے اس عورت پے رتی بھر یقین نہیں۔۔ یہ۔۔ میری بیٹی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتی ہے۔ جس نے میرے بھاٸ کو نہیں بخشا۔۔ وہ میری بیٹی کو کیا بخشے گی۔۔؟؟ انہوں نے دانت پیستے کہا ۔

انکل۔۔ آپ فکر۔نہ کریں۔ لمظ ۔۔ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔ ارحام کو بھی سخت غصہ آیا تھا۔ لیکن سوتیلی ماں تھی۔ اپنا اصل تو دیکھانا تھا ناں۔۔

میں چاہتا ہوں۔۔ لمظ کا اور تمہارا نکاح ہوجاۓ۔۔ تا کہ میں ۔۔ مطمین ہوسکوں کہ میری بیٹی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔۔ ! انہوں نے اپنے دل کی بات کہہ دی۔ تو ارحام کو چپ لگ گٸ۔

چاہتا تو وہ بھی یہی تھا۔ لیکن۔۔ بنا ابتسام کے وہ۔۔ اپنی زندگی کی اس خوشی کو نہیں منا سکتا تھا۔ اور یہ بات وہ ان سے کہہ بھی نہیں پا رہا تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *