Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 38)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

آپ ہمیں بتاٸیں گے ؟ آپ کی گاڑی کپٹن فہد کے پاس کیسے پہنچی؟

اس سے سوال و جواب ہورہے تھے۔ وہ شاک میں تھا۔ اس سے فون لے لیا گیا تھا۔ اور ایسا سلوک ہو رہا تھا۔ جیسے وہ قاتل ہو۔

میں آپ سے کہہ رہا ہوں۔میں نے صرف اسکی مدد کی۔ بس۔۔! سپاٹ انداز میں کہا۔

سامنے بیٹھے شخص نے اپنے ساتھ والے کو اشارہ کیا کہ وہ اس شخص کولے کے آۓ جس نے اعتراف جرم کیا تھا۔

وہ سامنے آیا۔

یہ۔۔۔ یہ تو گارڈ ہے۔۔۔ ابتسام کو یاد آیا۔ لاسٹ ٹاٸم یہی تھا گاڑی کےپاس۔

مجھے ہی سر ابتسام نے کہا تھا کہ گاڑی میں بم فٹ کر دو۔ میں نے صرف بم لگایا تھا۔ مجھے نہیں پتہ تھا انکا ارادہ کیا ہے۔۔؟؟ مجھے انہوں نے بیوی بچے کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔۔ اللہ کا واسطہ ہے۔۔ مجھے چھوڑ دو۔۔ میں بے قصور ہوں وہ بہت بری طرح ہاتھ جوڑتا رویا۔

ابتسام بھی اسے دیکھ حیران تھا۔ وہ ایک دم پیور ایکٹنگ کر رہا تھا۔

اسے لے جاٶ۔۔ وہ روتا رہا۔ لیکن ۔ اسے لے جا چکے تھے۔

اب آپ کیا کہیں گے۔۔؟؟ سوال پھر سے ہوا۔

یہ شخص ۔۔جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔خد پے ضبط کرتے وہ بولا تھا۔

سامنے والوں کی نظروں میں بے یقینی تھی۔

آپ کو جو کرنا ہے کر سکتے ہیں۔ لیکن۔۔ ایک وعدہ ہے میرا۔۔ خود سے۔۔۔ فہد کے قاتل کو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔ جہاں بھی ہوگا۔۔ اسے ڈھونڈ کر بیچ چوراہے پے ماروں گا۔

اٹھتے ہوۓ اپنے بازو ٹیبل پے جماۓ پراسرار انداز میں کہتا وہ وہاں سے جانے لگا۔

رک جاٸیے میجر۔۔۔! آواز پے رکا ۔ لیکن پلٹا نہیں۔

جب تک۔۔۔ سب کچھ کلیٸر نہیں ہوجاتا۔ آپ کو سسپنڈ کیا جاتا ہے۔۔ آپ یہاں سے کہیں نہیں جا سکتے۔

سخت الفاظ تھے۔ سخت لہجہ۔

ابتسام نے دانت پیسے۔ لیکن خاموش رہا۔

ابھی تک جو ہر رہا تھا۔ اس کے حساب سے بہت رعایت تھی۔ لیکن ابتسام کو جوش سے نہیں سمجھداری سے کام لینا تھا۔

انکی بات مان کے ہی وہ اپنی منوا سکتا تھا۔

اسلیے خاموش ہوگیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ارحام۔۔ مت جاٶ۔۔۔ اس وقت۔۔؟

ابرش نے اسے روکا۔

بھابھی۔۔ ! بھاٸ کا نمبر اچانک سے بند ہوگیا۔ ابھی ابھی وہ آۓ۔۔ اور ساتھ ہی۔۔پھر سے چلے گۓ۔۔ آخر۔۔ وجہ تو جاننی ہوگی ناں۔۔۔؟؟

ارحام بے چین تھا۔

ارحام ۔۔ تمہارے بھاٸ بہت بہادر ہیں۔ وہ مینج کر لیں گے۔ بس۔۔ میری بات مان جاٶ۔۔ اتنی رات گۓ گھر سے باہر نہ جاٶ۔۔

ابرش نے بہت پیار اور فکر سے کہا تو ارحام لب بھینچتا گاڑی کا کھلا درواہ بند کر گیا۔ وہ ابرش کی بات کیسے ٹال سکتا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

چلاٶ۔۔ ناں۔۔ گولی۔۔۔ لالے دی جان۔۔۔؟؟

احمر نے شاہان کی کنپٹی پے بندوق کی نال رکھی تو اسکا سانس رکا۔ فاریہ بھی حیرت اور ڈر سے احمر کو دیکھنے لگی۔ اس کے ساتھ اور آدمی بھی تھے۔

پھس گۓ۔۔۔۔! فاریہ زیرِ لب کہتی اٹھی۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ ہوا نکل گٸ۔۔۔؟؟ احمر مسکرا کے بولا۔ شاہان کے ہاتھ سے گن چھینی۔ اور اپنے آدمی کی طرف اچھالی وہ تو ہے ہی سرپھرا تھا۔

شاہان نے غلط بندے سے پنگا لے لیا تھا۔

تمہیں کیالگا۔۔۔؟ تم بچ کے نکل جاٶ گے۔۔ اور احمر تم تک پہنچ نہیں پاۓ گا۔۔؟؟ اسکے پاس آکے غراتے ہوۓ کہا۔ شاہان کے پسینے چھوٹ گۓ۔

اب تک تُو بچا رہا۔۔۔ کیوں۔؟ احمر پاس آتے غرا کے بولا۔

میں نے تجھے چھوڑے رکھا۔۔۔ تجھے کیا لگا۔۔؟؟ تُو پیرزادہ منشن اس چڑیل کے ساتھ گھومے گا۔۔ اور احمر تجھے گھومنے دے گا۔۔؟؟

احمر کے فاریہ کا چڑیل۔کہنے پے فاریہ کا منہ بنا۔

لے چلو انہیں۔۔ اور اچھی خاطر تواضع کرو۔

ان دونوں کو دھکے دے کے وہاں سے گن پواٸنٹ سے لے جایا گیا۔

احمر نے ابتسام کو کال۔کی۔ لیکن۔۔ اسکا نمبر ایک بار پھر بند تھا۔

اوہ۔۔۔یار۔۔۔ یہ بھی ناں۔۔؟؟؟ خیر۔۔ آٸیں گے تو سرپراٸز دوں گا۔

احمر بھی وہاں سے نکتا چلا گیا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

علیشا اور عزرا پھوپھو نے بھاگنے کی فل۔پلاننگ کر لی تھی۔

صبح منہ اندھیرے ہی وہ دونو ں ماں بیٹی نکلیں تو ارتسام ارحام ابرش لمظ اور عروش نے انکا راستہ بہت اسٹاٸل سے روکا۔

اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔ ؟ پھوپھو۔۔؟ زرا دیر کو جاٶ۔۔۔ ملاقات کے بہانے۔۔۔۔

ارحام۔نے گنگنایا تو وہ گھبرا گٸیں۔

کککککیا۔۔۔ مطلب۔۔؟؟ وہ ہکلاٸیں۔

اچانک ابی جان نے آگے بڑھ عزرا پھوپھو کو ایک تھپڑ رسید کیا۔

ہمیں نہیں پتہ تھا۔۔ ہم اپنے ہی آستین میں ناگن پال ہے تھے۔ زرا شرم نہیں آٸ آپ کو۔۔؟ یہ بھی تو آپ کے بچے تھے ناں۔۔؟؟ کیسے کر لیا۔۔۔ آپ نے یہ سب۔۔؟؟

ابی جان نے غصہ ضبط کرتے کہا۔

جبکہ پھوپھو کا سر جھک گیا۔

ابی جان پولیس کو کال کریں۔

ارتسام نے آگے بڑھتےکہا۔

ننننہیں۔۔ پلیز معاف کردو۔۔۔ مجھ سے بھول ہوگٸ۔۔۔ میں بیٹی کو یہاں بیاہنے کی لالچ میں اندھی ہوگٸ تھی۔ مجھے معاف کر دیں۔۔ پلیز۔۔۔

پھوپھو نے ہاتھ جوڑے۔

ابی جان نے منہ پھیر لیا۔

گھر کا بھیدی لنکا ڈھاۓ سنا تھا۔ آج دیکھ لیا۔

ارحام نے مٹھی دباٸ۔

ارتسام ان سے کہہ دو۔ یہ یہاں سے چلیں جاٸیں۔ اور کبھی اپنی شکل نہ دکھاٸیں۔ آج سے ہمارا ان کے ساتھ کوٸ تعلق نہیں۔۔

ابیجان کہتے وہاں رکی نہیں۔۔ جبکہ ان سب کا ارادہ انہیں اتنی آسانی سے چھوڑنے کا نہیں تھا۔

جنید خان کو آپ نے ہماری پل پل کی رپورٹ دی۔۔۔ آپ نے اس گھر کا نمک کھایا۔ لیکن آپ کو اس گھر کو ڈبوتے شرم نہیں آٸ۔۔۔؟؟

ابرش نے آگے بڑھ کے انہیں کہتے احساس دلانا چاہا۔

لیکن وہ وہاں سے نکلنے کے چکروں میں تھیں۔

ایک منٹ۔۔ آپ ایسے نہیں جا سکتیں۔

ابرش نے ان کے جاتے قدم نوٹ کیے تو روکا۔

ارحام انکے بیگ چیک کرو۔۔ کیا کچھ لے کے جا رہی ہیں یہ۔۔؟؟ بازو سینے پے باندھے بہت فرصت سے انہیں دیکھتے کہا۔ تو ان دونوں ماں بیٹی کا رنگ فق ہوا۔

زبردستی بیگ چھینا۔ اور کھولا۔

ہزاروں کی نقدی اور زیور۔۔۔۔ سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گۓ۔

💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛

کیسے۔۔۔؟؟ کیسے بچ سکتا ہے۔۔وہ ۔۔؟؟ ببر کو جب سے یہ پتہ چلا تھا۔ بم دھماکے میں ابتسام کی جگہ کوٸ اور مارا گیا ہے۔ وہ غصے سے پاگل ہو گیا تھا۔

تم۔۔۔ تم۔۔لوگوں کو کہا تھا۔اس ابتسام کی گاڑی میں بم رکھو۔۔ تم لوگ کس کی گاڑی میں رکھ آۓ؟

اپنے ایک ساتھی کا گریبان پکڑا۔ اس وقت وہ اپنے ایک بہت خفیہ اڈے پے چھپا ہوا تھا۔

سر۔۔ ! گاڑی تو انہی کی تھی۔۔۔ لیکن۔۔ اس میں انکا دوست۔۔ تھا کوٸ۔۔ وہی مارا گیا۔

سر جھکاۓ کہتا وہ پریشان لگا۔

پتہ کرو۔۔۔ پتہ کرو۔۔ وہ کہاں ہے۔۔۔؟؟ ببر پاگلوں کی طرح چلایا تھا۔

وہ بچ گیا ہے تو۔۔ ہمیں ڈھونڈ کے مارے گا۔۔

فکر نہ کریں۔۔سر۔۔ ایک بم سے بچ گیا۔۔ دوسرا ابھی رہتا ہے۔۔ اس سے نہیں بچے گا۔۔۔

وہ شخص کمینگی ہنسی ہنسا۔

ببر نے آنکھیں گھما کے اسے دیکھا۔ اور قہقہ مار کے ہنسا۔

ہاں اب کی ناں۔۔ مزے کی بات۔۔ ایک نہیں۔۔دو نہیں۔۔ بلکہ پورا پیرزادہ منشن جاۓ گا۔۔۔بوم۔۔۔۔۔

ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ایک اور بم۔۔۔؟؟ پیرزادہ منشن۔۔؟؟

وہ جو چھپکے انکی باتیں سن رہا تھا۔ اس بات پے بری طرح چونکا۔

موباٸل نکالا۔ لیکن اس پے لاک تھا۔

شٹ۔۔۔کیا کروں۔۔؟؟ یہاں سے کیسے نکلوں۔۔؟؟

یہاں سے نکلوں گا۔۔ تو ہی سب کو بچا پاٶں گا۔۔۔

یہ ببر تو۔۔؟؟ بہت بڑی پلاننگ کر کے بیٹھا ہے۔۔

دوبارہ سے چھپ کے دیکھا۔

میں اکیلا ان کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔ ان کے پاس اسلحہ ہے۔۔ اور تعداد میں بھی زیادہ ہیں۔۔ جبکہ۔۔ میں۔۔؟؟ اسے خود پے غصہ آیا۔

مجھے پہلے۔۔ یہاں سے نکلنا ہوگا۔۔ تاکہ ان کےگھنوٶنے منصوبے کا ابتسام بھاٸ کو بتا سکوں۔۔!

###########################

فلیش بیک۔

گاڑی چلاتے وہ ابتسام کے بارے میں سوچ کے مسکرا رہا تھا۔ جس کی گاڑی وہ مزے سے لے آیا تھا۔ کہ موباٸل پے آتی اریبہ کی کال دیکھ مسکاہٹ مزید گہری ہوگٸ۔

ایک ہاتھ سے گاڑی ڈراٸیو کرتے دوسرے ہاتھ سے کال پک کی۔

زہے نصیب ۔۔۔۔۔! کیسےیاد کیا۔۔؟

کہاں ہو۔۔؟؟ کب سے ویٹ کر رہے ہیں۔۔ سب۔۔؟؟ اب آبھی جاٶ۔۔۔!

وہ سخت غصے میں آپ تمکا لحاظ بھی بھول جاتی تھی۔

آرہا ہوں۔۔۔یار۔۔ گاڑی ڈراٸیو کررہا ہوں۔ اب کیا اڑ کے آجاٶں؟ وہ سیر تھی۔ تو فہد بھی سواسیر تھا ۔

ہاں آجاٶ۔۔۔ !

بہت جلدی ہورہی ہے۔۔ ؟؟ ابھی نکاح ہے تو یہ حال ہے محترمہ کا۔۔۔؟؟ کہو تو رخصتی بھی کروالوں۔۔؟؟ فہدکی بات پے وہ بلش کرنے لگی۔ جبکہ فہد خیالوں میں اس نظارے کو انجواٸے کر رہا تھا۔

ابھی نکاح کرلو۔۔۔ یہی بہت ہے۔۔ کیپٹن جی۔۔۔!

وہ بھی بنا شرماٸے بولی۔

ابا حضور آجاٸیں تو۔۔ ہی ہوگا نکاح۔۔ ان کےبنا تو نہیں ہوگا ناں۔۔؟ فہد نے بات بناٸ۔

اب نیا شوشہ نہ چھوڑنا۔ فہد ورنہ جان سے ماردوں گی۔

اریبہ تقریباً چلاٸ تھی۔ جبکہ فہد ا قہقہہ گونجا تھا۔

بیٹا۔۔۔۔! کیوں تنگ کر رہے ہو۔؟ کل سے رورو کے اسکا برا حال ہے۔ اب اور نہ ستا میرے بچے۔

امی کی آواز سنتےہی فہد سیریس ہوا۔

جومیری ماں کا حکم۔۔۔ اب تو اڑ کے آرہا ہوں۔۔ بس آپ کے کرنل نے ہی بہت لیٹ چھوڑا۔

باتوں باتو ں میں وہ باپ کو بھی کھینچ لایا۔

ہاں۔۔ جانتی ہوں۔۔ وہ تو سدا کے میرے دشمن ہیں۔۔ اب بھی نکاح میں نہیں آٸیں گے۔ اچھا آجاٸیں۔ نہ جی ڈیوٹی پہلے۔۔۔!

امی جان بھی شروع ہوگٸیں۔

اچانک فہد کی نظر ساٸیڈروڈ پے گٸ ۔ جہاں ایک گاڑی سڑک سے نیچے کھاٸ ک طرف گری ہوٸ تھی۔ اس میں سے دھواں نکل رہا تھا۔ اور لگتا تھا ابھی ابھی کوٸ ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔

امی جان بعد میں بات کرتا ہوں۔

کہتے ہی کال ڈسکنکٹ کی۔ گاڑی روکی۔ اور موباٸل ساٸڈ سیٹ پے رکھتا وہ نیچے کی طرف بھاگا۔

گاڑی بری طرح جل چکی تھی۔ اس میں ایک ادھیڑ عمر مرد تھا۔ جو بری طرح زخمی تھا۔

سر۔۔۔ سر۔۔ آر یو آل راٸیٹ۔۔۔؟ فہد کی بات پے انہوں نے جواب نہ دیا۔ انکی کنڈیشن بہت خراب تھی۔ فہد انہیں نکال اپنی گاڑی کی طرف لے گیا۔

انہس فرنٹ سیٹ پے بٹھایا ۔

بی۔۔۔یییٹا۔۔۔۔! میرا۔۔۔ بیگ۔۔۔؟؟ اس گاڑی میں۔۔؟ ضروری چییزیں۔۔۔! وہ بمشکل بولے ۔

سر۔۔۔! ویٹ۔۔ میں ابھی لایا۔

کہتےہی فہدواپس نیچے بھاگا۔ جیسے ہی وہ انکا بتایا ہوا سامان لیتا مڑا۔ اسکی گاڑی ایک دھماکے سے اڑی۔ وہ وہیں حیرت کی مورت بنا کھڑا رہ گیا۔

گاڑی میں بلاسٹ ہوا تھا۔مطلب۔؟ وہ آدمی۔۔ ؟؟

فہد کے دل کو کچھ ہوا۔ وہ فوراً اوپر بھاگا۔

لیکن۔۔ سب کچھ جل گیا تھا۔ فہد کی آنکھیں نم۔ہوگٸیں۔ اسے ان انکل پے ترس آیا۔ جو اپنے ایکسیڈنٹ سے تو بچ گۓ۔لیکن اس بلاسٹ میں مارے گٸے۔

یقیناً ۔۔یہ ابتسام بھاٸ کومارنے کی سازش تھی۔ابھی وہ سوچ رہا تھا۔ کہ اسے دور سے ایکگاڑی آتی دکھاٸ دی۔

فہدنے فوراً اپنی پاکٹ سے اپنا آٸ ڈی کارڈ۔نکالا۔ اور وہیں کہیں مٹی میں گندا کرکے لاش کے پاس پھینک دیا۔ وہ انکل مکمل طور پر جھلس چکے تھے۔

فہد صرف افسوس کر سکا۔ اور فوراً ان کا بیگ لیے ایک درخت کی اوٹ میں ہو گیا۔

گاڑی پاس آکے رکی۔ اس یں ے تین آدمی باہر نکلے۔

مر گیأ ہے۔۔ شاید۔۔؟؟ ایک بولا۔

لیکن۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔ یہ۔۔ وہ تو نہیں۔۔ جس کو مارنا تھا۔۔؟؟

فہد کی آٸ ڈی دیکھتے وہ پریشان ہوۓ۔ باس کو فون لگا۔

جتنی دیر میں وہ فون پے بات کر رہے تھے۔ فہد چپکے ان کی گاڑی کے نیچے چلا گیا۔ او ہاتھوں اور ٹانگوں کی مدد سے وہ اس گاڑی کے ساتھ چپک گیا۔

سب سے مشکل کام ٹریننگ میں یہی لگتا تھا۔ فہد کو۔۔ لیکن۔۔ ہمت نہیں ہارتا تھا۔ آج وہی ٹریننگ وہی ہمت اسکے کام آرہی تھی۔ وہ ان کے باس تک پہنچنا چاہتا تھا۔

وہ تینوں گاڑی میں بیٹھے اب اپنے خفیہ اڈے کی طرف گامزن تھے۔ جہاں انکا باس ان کا انتظار کر رہا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

آپ لوگوں کو شرم نہیں آٸ۔۔ جو یوں چوری کر کے یہ سب لے جارہے تھے۔ ابرش نے انکو سختی سے کہا۔

وہ منہ دیکھتی رہ گٸیں کہنے کو کچھ بچا جو نہ تھا۔ اور انہیں وہاں سے نکلنا تھا۔

لاسٹ ٹاٸم ببر سے انکی بات ہوٸ تھی۔ اور اسکا آخری مشن عذرا پھوپھو نے ہی پورا کیا تھا۔ ببر نے ان کے ذریعے پیر زادہ منشن میں بم رکھوایا تھا۔ اس کے عوض وہ انہیں اچھی خاصی بھاری رقم دینے کا پابند تھا۔ اب انہیں یہاں سے نکلنا تھا۔ کچھ بھی کر کے۔

بیٹا۔۔۔ معاف کردو۔۔ سب کچھ تم رکھ لو۔۔ ہمیں جانے دو۔۔۔ ! عزرا پھوپھو نے ہاتھ جوڑے۔

ابرش کو انکا یوں اتنی جلدی ہار مان جانا ہضم نہ ہو رہا تھا۔

ارحام ۔۔ انہیں اسٹور روم میں بند کر دیتے ہیں۔۔ ضرور یہاں سے نکل کے یہ کوٸ نہ کوٸ سازش کریں گیں۔

ارحام کے کان میں کہتی وہ انکی طرف دیکھ رہی تھی۔

وہ سٹپٹا گٸیں۔

You are rite bhabhi…

ارحام نے ہاں میں ہاں ملاٸ اور انکو لمظ اور عروش کی مدد سے گھسیٹتا اسٹور رم میں لے جا کے بند کر دیا۔

وہ بہت چلاٸیں۔۔ لیکن انہو ں نےبھی کان بند کر لیے۔

آپ کو کیا لگتا ہے۔۔۔؟ کیا کرنے والی ہوں گیں یہ۔۔؟؟ ارتسام نے ابرش کو سوچ میں ڈوبا دیکھ تو پاس چلا آیا۔

جو بھی کرنے والی ہوں۔۔ یقیناً وہ پیر زادہ منشن کے حق میں اچھا نہیں ہوگا۔

ابرش کے چہرے پے پریشانی تھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

پوسٹ مارٹم رپورٹ کب تک آۓ گی۔۔؟

ایک قابل افسر نے پوچھا۔ ابتسام پاس ہی تھا۔اسے وہیں نظر بند کیا گیا تھا۔

سر۔۔ اس میں ٹاٸم لگے گا۔۔ لیکن۔۔؟؟

وہ رکا۔

لیکن کیا۔۔؟؟ ابتسام بھی چونکا۔

سر۔۔ ڈاکٹر جواد نے یہ کہا ہے۔۔ کہ مرنے والے کی عمر ساٹھ سے اوپر ہے۔۔۔۔

واٹ۔۔۔؟؟؟ ایساکیسے ہو سکتا ہے۔۔؟ وہ افسر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔

انکی بات سن کے ابتسام کے دل کی کلیاں کھل اٹھیں۔

میرا دل کہہ رہا تھا۔ فہد زندہ ہے۔۔۔!

فرط جزبات سے آنکھو ں میں آنسو آگۓ۔

ویٹ آ منٹ۔۔۔؟؟ گاڑی کے پاس سے فہد کا آٸ ڈی کارڈ اور اسکا جلا ہوا سامان ملا ہے۔

افسر حیران تھا۔

ابتسام نے آٸ ڈی کارڈ جھپٹا۔ جس پے افسر نے لب بھینچے۔

افسر۔۔۔ ! اندھے کو بھی نظر آتا ہے۔ کہ یہ آٸ ڈی کارڈ جلا نہیں۔۔ جس کا مطلب ہے۔۔ یہ بعد میں وہاں پھینکا گیا ہے۔۔۔

ابتسام نے انکو ایک نٸ راہ دکھاٸ۔

آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتےہیں۔۔؟؟

آٸ ڈی کارڈ۔۔۔ ہعد میں وہاں پھینکا۔۔۔؟؟ ابتسام ہمکلامی میں بولا۔

مطلب اس نے کسی کو گمراہ کرنا چاہا ہے۔۔۔ اسکے پیچھے کوٸ ہوگا۔۔۔ اور۔۔ وہ۔۔۔ مصیبت میں ہے۔۔۔!

ابتسام نے کڑی سے کڑی جوڑی ۔ وہ افسر اسکا منہ دیکھتے رہ گۓ۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

گاڑی جیسے ہی رکی۔ وہ گاڑی کے نیچے سے زمین پے ہی لیٹا رہا۔ وہ تینوں اب اندر کسی بلڈنگ میں جا رہے تھے۔ پورا علاقہ سنسان تھا۔ وہ کونسی جگہ تھی۔ فہد سمجھ نہیں پایا۔ ان کےجانے کے بعد وہ باہرنکلتا بہت احتیاط سے انکا پیچھا کرتا اندر کی جانب بڑھا۔

ہو نہ ہو۔۔۔ اس سب کے پیچھے وہ ببر ہی ہے۔

فہد کو شک تھا۔ اسکا دل یی کہہ رہا تھا۔ اور شک یقین میں بدلا۔ جب واقعی سامنے ببر کو دیکھا۔

فہد کو اس شخص کا جو سامان ملا۔ وہ تو فہد نہیں لا سکا۔ لیکن اس میں سے موباٸل نکال لایا تھا۔ جو اب وہ اندر انکی ساری باتیں سننے کے بعد استعمال کی غرض سے نکالا۔ تو اس پے لاک لگا تھا۔

لیکن کیمرہ اون کرتا وہ وہاں کے اڈے کی تصویر بنا چکا تھا۔

کرنے کو تووہ ابھی اسی وقت ہی اسکا کام تمام کر دوں۔۔ لیکن۔۔ مجھے۔۔ ابتسام بھاٸ کے گھر والوں کو بچانا ہے۔۔ کسی بھی طرح انہیں بتانا ہے۔۔ اس کے لیے مجھے یہاں سے نکلنا پڑے گا۔۔

فہد سوچتا وہاں سے باہرنکلا۔

کیسے نکلوں یہاں سے۔۔؟؟ یکدم اسکی نظر گاڑی پے پڑی۔

لیکن یہاں سے نکلا تو انکو شک ہوجاۓ گا۔۔۔

کیا کروں ۔۔ کیا کروں۔۔؟ سوچ فہد۔۔؟

فہد تیزی سے دماغ لڑانےلگا۔ کہ اتنے میں ایک آمی اس طرف آتا دکھاٸ دیا۔

فہد فوراً سے چھپا۔

وہ موباٸل پے کوٸ کال کرتا آرہا تھا۔ اسکے آگے ہوتے ہی ہد نے اس پے حملہ کیا۔ اور اسکی خاص رگ کق دباتے اسے بے ہوش کردیا۔

اسکے وجود کو ایک طرف چھپاتے اب فہد اسکا موباٸل دیکھنےلگا۔

اس پے لاک نہ تھا۔ ایک منٹ کی بھی دیری کیے بنا فہد نے ابتسام کو کال ملاٸ ۔ ساتھ میں ادھر ادھر بھی نظر رکھی ہوٸ تھی۔ نمبر بند تھا۔ فہد نے مٹھیاں بھینچیں۔

ہد نے دوبارہ اے ابتسام کی بجاٸے حمزہ کو کال ملاٸ۔ کال جا رہی تھی۔ لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا۔ فہد دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا۔

کال کٹ گٸ۔ پھر سے کال ملاٸ۔

ہیلو؟ فوراً اٹھا لی گٸ۔ کہ فہد کو کسی کے قدموں کی چاپ سناٸ دی۔ وہ وہیں خاموشی سے چھپ کے ایکس اٸیڈ پے بیٹھ گیا۔

ہیلو۔۔؟؟ کون۔۔؟؟حمزہ کی کرخت آواز سناٸ دی۔

حمزہ۔۔۔بھاٸ؟

فہد کی آواز سماعت سے ٹکراٸ تو وہ حیران ہوا۔

فہد۔۔؟؟ یہ تم۔۔۔ کس نمبر سے بات کر رہے ہو۔۔؟؟ حمہ جو اپنے گھر تھا۔ اور فہد اور ابتسام کے ساتھ کیا ہوا وہ ابھی تک لاعلم تھا۔

حمزہ بھاٸ سمجھانے کا وقت نہیں۔ میں مشکل میں ہوں۔۔ اس وقت۔۔ لیکن۔۔ پلیز۔۔ابتسام بھاٸ سے کہیں۔۔ پیرزادہ منشن خالی کروالیں۔ وہاں ۔۔ببر نے بمفٹ کروایا ہے۔۔ جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

فد نے فوراً کا م کی بات کی۔

یہ۔۔یہ کیا بولے جا رہے ہو۔۔؟؟ تم۔۔۔ تم کہاں۔۔ ہو۔۔؟؟ بتاٶ مجھے۔ میں ابھی آتا ہوں۔۔

حمزہ کو اسکی فکر ہوٸ۔

پلیز بھاٸ۔۔ میری کر نہ کریں۔ پہلے انکو بچاٸیں میں خود نہیں جانتا یہ کونسی جگہ ہے۔۔؟ بس اتنا پتہ ہے یہ ببر کا کوٸ خفیہ اڈا ہے۔۔۔

تم۔۔ اپنی لوکیشن آن کرو فوراً۔۔ حمزہ نے اگلا آرڈر لگایا

پلیز بھاٸ۔۔ آپ کو بچاٸیں۔۔ جا کے۔۔!فہد نے دانت پیسے۔

انہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔ تم اپنی لوکیشن آن کرو۔۔ تمہیں میں چھ نہیں ہونے دوں گا۔

حمزہ کا سخت اور مضبوط انداز فہد کے دل کو تلی دے گیا۔

میں کر رہا ہوں۔۔ آن۔۔ !لیکن آپ پلیز ابتسام بھاٸ سے رابطہ کریں۔۔ انکانمبر۔۔؟؟؟

ابھی وہ بات کر رہا تھا۔کہ کال کٹ گٸ۔ سگنل چلے گۓ تھے۔

فہد نے پرواہ نہیں کی۔ اب وہ کشتیاں جلا کے آگے بڑھنے والا تھا۔ جو اس نے انفارم کرنا تھا وہ کر دیا تھا۔ اب ببر کو موت کے گھاٹ اتار کے ہی وہاں سے نکلنے کا ارادہ تھا اسکا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

اماں۔۔ ہمیں۔۔ یہاں سے نکلنا ہوگا۔۔ ورنہ ہم بھی پیرازادہ منشن کے ساتھ موت کے گھاٹ اتر جاٸیں گے۔

علیشا کو بہت فکر تھی۔

اب کیا کروں۔۔؟؟ وہ ابرش اتنی تیز نکلے گی۔ کیا پتہ تھا۔۔؟ عذرا پھوپھو نے منہ بنایا۔

موباٸل بھی لے لیے ہم سے۔۔کہیں ہمیں پولیس کے حوالے نہ کردیں۔۔۔

علیشا کو مزید پریشانی لاحق ہوٸ۔

مجھےتو یہ ٹینشن ہے۔۔ اس ببر کی کال آگٸ اور کسی نے اٹھا لی تو سارا راز فاش ہو جاۓ گا۔

اپنی جگہ سے اٹھتے وہ پراسرار انداز میں بولیں۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

موباٸل دراز میں رکھا مسلسل بجے جا رہا تھا۔ کسی کا دھیان نہ تھا۔ لیکن اچانک ہی دراز کے پاس سے گزرتے لمظ کو موباٸل بجنے کی آواز آٸ۔ تو وہ ٹھٹھکی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *