Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 25)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

میں نے کہا۔۔۔ قریب نہیں آنا۔۔۔

ابرش نے روتے ہوۓ لرزتی آواز میں ابتسام سے کہا۔ وہ جو لب بھینچے اسکی بکھری حالت دیکھ کے اندر تک ٹوٹ گیاتھا۔ اسکی آواز سے ہوش کی دنیا میں واپس آیا ۔۔

فوراً آگے بڑھ کے اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا۔ کہ ابرش کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا۔ اتنی شدت تھی ابتسام کے اپنے ساتھ لگانے پے کہ وہ سن پڑ گٸ۔

راڈ ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

بارش ابھی بھی برس رہی تھی۔ لیکن اب اسکا زور ٹوٹ گیا تھا۔

میں۔۔ میں ۔۔ نے ۔۔مار دیا۔۔۔ اسے۔۔۔ میں۔۔ قاتل۔۔۔ بن۔۔۔گٸ۔۔۔۔

ہوش و حواس کھوتی وہ بس یہی بولے جا رہی تھی۔

اس پے لرزہ طاری ہو گیا تھا۔

اسکے ہونٹ نیلے ہو رہے تھے۔

رنگت سفید پڑ رہی تھی۔

شیییییییی۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔۔ ابتسام نے اسکے گیلے بالوں کو کانوں کے پیچھےکیا۔ اور اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا۔

کچھ نہیں ہوا۔۔۔ ادھر دیکھو۔۔۔! ابتسام نے اسکو اپنے ہونے کا مان بخشا۔ اسکے ماتھےپے اپنے لب رکھے۔

آنکھیں موندے وہ دونوں ہی اب ایک جان دو قالب لگ رہے تھے۔

ابتسام نے رب کا شکر ادا کیا کہ وہ صحیح سلامت تھی۔ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو۔۔۔؟؟ اس سے آگے کی سوچ وہ سوچنا بھی نہیں چاہ رہا تھا۔

اسے خود سے الگ کرتا اسے اپنا کوٹ پہنایا اور اپنے ساتھ لگاۓ گاڑی کی جانب بڑھا۔

گاڑی میں بٹھاتے ایک قر بھری نظر پلٹ کے اس بے سدھ پڑے وجود پے ڈلی۔ غصہ پھر سے عود کر آیا۔ بلیو ٹوتھ کان سے لگاۓ اس نے اپنے گارڈز کو اسے ٹھکانے لگانے کا بولا۔

یاد رکھنا فیضی۔۔۔! یہ مرنا نہیں چاہیے۔۔۔!

لہجے میں شیر جیسی گرگراہٹ تھی۔

بلیو ٹوتھ کان سے ہٹاۓ وہ ڈراٸیونگ سیٹ پے بیٹھا ایک نظر ساتھ بیٹھی ابرش پے ڈالی۔ جو بس سر جھکاۓ گود میں رکھے ہاتھوں کو دیکھے جا رہی تھی۔ جبکہ سردی کا اثر بہت زیادہ تھا۔ اسکا لرزنا ابتسام کی نظر سے چھپ نہ سکا۔

رش ڈراٸیونگ کرتا وہ گھنٹے کا سفر منٹوں میں طے کرتا فارم ہاٶس پہنچا۔

گاڑی روکتے اسکی طرف کا دروازہ کھولا۔ ابرش کے وجود میں کوٸ جنبش نہ ہوٸ۔

خود ہی آگے بڑھتے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا۔ ابرش نے لرزتے وجود اورلرزتی پلکوں کی باڑ اٹھاتے ایک نظر اپنے مجازی خدا کو دیکھا ۔

ابتسام نے اےس صرف ایک نظر دیکھا۔ اور نظر پھیر لی۔ وہ اسے یوں ٹوٹی بکھری حالت میں اچھی نہ لگی۔ وہ اسے ہمیشہ مضبوط دیکھتا آیا تھا۔ سٹرونگ گرل۔۔۔

آج اسکی ایسی حالت دیکھ وہ بہت دکھی تھا۔

روم میں لے کےآیا تو وہ اب بری طرح لرز رہی تھی۔ کپڑے اسکے گیلے ہوچکے تھے۔ ابتسام نے اسے کھڑا کیا تو وہ لڑکھڑا کے واپس اس کے سہارے کھڑی ہوٸ۔

ابتسام اسے سہارا دٸیے بس اسے دیکھے جا رہا تھا۔

کیاکچھ نہیں تھا اسکی آنکھوں میں۔۔

میں۔۔ نے۔۔۔ مار۔۔ دیا۔۔۔اسے۔۔۔؟؟ آنسو بہہ نکلے۔۔اسکے پھر سے۔۔

اتنا کچھ وجانے کے بعد بھی وہ اپنے ہوش و حواس قاٸم رکھے ہوۓ تھی۔

ورنہ اسکی جگہ کوٸ اور ہوتا تو کب کی ہمت ہار جاتا۔

ابتسام نے اسکو اٹھایا ۔ اور باتھ روم لے گیا۔

شاور کے نیچے کھڑا کرتا وہ ایک ہاتھ سےاسے تھامے گرم پانی کا شاور کھولتا خود بھی بھیگتا چلا گیا اور وہ بھی۔

گرم پانی پڑنے سے ابرش کو سکون سا محسوس ہوا۔ آنکھیں بند کیے اپنے بازو سینے پے باندھے۔

بے اختیار ابتسام کی نظریں اسکی بازو پے گٸ۔ جہاں زخم ہوۓ تھے۔ اسکی کلاٸوں پے بھی خراشیں تھیں۔

اس لڑکی نے کتنی تکلیف سہی۔ لیکن اپنی عزت کی حفاظت کی۔

ابتسام کے دل میں آج اسکا مقام اور زیادہ بڑھ گیا تھا۔

ہاں آج وہ کہہ سکتا تھا۔

اسکی زندگی میں آنے والی لژکی کوٸ عام لڑکی نہیں تھی۔

بہت خاص تھی۔ وہ بہت زیادہ خاص۔۔۔

اور وہی تو ڈیزرو کرتی تھی۔ ابتسام کے ساتھ قدم سے قدم ملا کے چلنا۔۔

ابتسام نے شاور کے نیچے کھڑے اسکا چہرہ اوپر کیا۔

ابرش نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔

ابتسام کی آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا ایک سمندر تھا۔ ۔ جس سے وہ نظریں چراتی واپس آنکھیں بند کر گٸ۔

ابتسام نے شاور بند کیا۔ پاس ہینگ ہوا ٹاول اسکے گرد لپیٹا۔

اب تو وجود کے ساتھ اسکا دل بھی بری طرح لرز رہا تھا۔

ابتسام کی آنکھوں میں جلتے دیپ وہ دیکھ چکی تھی۔

کپڑے چینج کر لو۔۔۔ ابرش۔۔ورنہ ٹھنڈ لگ جاۓ گی۔

گھمبیر آواز میں کہتا وہ ابرش کے دل کےتار چھیڑ گیا ۔

جھکی پلکیں وہ نہ اٹھا سکی۔

اپنا ہی ایک سوٹ اسے تھماتے وہ باہر نکلا۔ کیونکہ وہ فارم ہاٶس میں تھے۔ اور وہاں ابرش کا کوٸ سوٹ نہ تھا۔

ابتسام باہر نکلا۔ اور خود بھی اپنا ایک سوٹ لیتا چینجنگ روم میں چلا گیا۔

واپس آیا تو ابھی تک ابرش باہر نہ آٸ تھی۔

ابر۔۔۔۔؟؟ ابر۔۔۔؟؟ اس نے آواز لگاٸ۔

دروازہ دھیرے سے کھلا۔

وہ ابتسام کی شرٹ اور کھلے ٹراٶزر میں بھیگے بالوں اور جھکے سر کےساتھ ابتسام کو سن کر گٸ۔

اسکا یہ روپ دیکھتا وہ بے خود سا ہوا۔

آگے بڑھتا اسے اپنی بانہوں میں بھرا۔ ابرش نے بے اختیار اسکی آنکھو ں میں دیکھا۔

دونوں کی نظریں ملیں۔

ایک کی آنکھوں میں شرم و حیا تو دوسرے کی آنکھوں میں جذبات کا ٹھا ٹھیں مارتا سمندر۔۔

دونوں ہی ایک دوسرے ک دل و جان سے قبول کر چکے تھے۔

بس لفظوں کا اظہار ہی باقی تھا۔

اسے نرم بستر پے بٹھاتے وہ اسکے زخموں پے اناٸمنٹ لگانے لگا۔

اور وہ بے اختیار اسے دیکھے گٸ۔

اسے ابھی بھی ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے جو بھی ہوا۔

اسے ابتسام کی پرزور شخصیت نے کہیں پیچھے دھکیل دیا تھا۔

وہ اسکے سحر میں بری طرح جکڑی گٸ تھی۔

وہ جو اسکے درد پے تڑپا تھا۔ اسے صحیح سلامت دیکھتا اس پے غصے کی بجاۓ اپنی محبت کی بارش کر رہا تھا۔

اور وہ پور پور بھیگی جا رہی تھی۔

ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔؟؟ بنا اسکی جانب دیکھے اسکی نظروں کی تپش اپنے چہرے پے اسے محسوس کرتے دھیرے سے پوچھا۔

ابرش نے نظریں جھکا لیں۔

آپ۔۔۔مجھ سے۔۔ ناراض نہیں۔۔؟؟ فل میں آیا سوال ک ہی لیا۔

انٸمنٹ بند کرتا اسے واپس ڈرار میں رکھتا وہ اسکی جانب مکمل پلٹا۔۔۔

اور اسے کمر سے تھام کے اپنے قریب کیا ۔ کہ ابرش کو اپنے چہرے پے ابتسام کی گرم سانسوں کی تپش محسوس ہوٸ وہ دل و جان سے لرز گٸ۔

بہت زیادہ ناراض تھا۔۔۔ اب بھی ہوں۔۔!

سخت اور گھمبیر لہجے میں کہتا وہ ابرش کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گیا۔

اور سزا بھی ملے گی۔۔۔ اپنی ناک اسکی ناک کےساتھ رب کرتا وہ آنکھیں موندےجذبات کی رو میں بہکتا بولا۔

ابرش کی سانس رک گٸ۔

وہ کیسی سزا کی بات کر رہا تھا۔؟؟ کہیں۔۔ وہ اس سے الگ۔۔۔؟؟ بس یہی بات آٸ اس کے دماغ میں۔

ابتسام۔۔۔۔۔۔؟؟ گلابی لرزتے لبوں سے ابتسام کو اپنا نام آج بہت میٹھا لگا

ہمممممم۔۔۔ وہ آنکھیں بند کیے بس اسے محسوس کیے جا رہا تھا۔

آپ۔۔۔کیا۔۔سزا دیں۔۔ گے۔۔؟؟ ڈرتے ہوۓ پوچھا۔

اسکی بات پے ابتسام نے دھیرے سے اپنی آنکھیں وا کیں۔ اس ہرنی کی آنکھوں میں ایک ڈر تھا۔

دونوں کے لبوں کے بیچ ایک انچ کا فاصلہ بھی مٹاتا وہ اسکے لبوں پے جھکا۔

قطرہ قطرہ اسکی سانسوں کو پیتا وہ اسے بے بس کر گیا۔

پیچھے ہوتا وہ اسے اپنے سینے میں چھپا گیا۔

اور وہ آنکھیں بند کرتی اس نٸے اور اچھوتے احساس کے تحت شرما کے ابتسام کی شرٹ کو مٹھی میں دبا گٸ۔

ابتسام نے اسکے گیلے بالوں میں اپنی انگلیاں چلاتے اپنے لب اسکے بالوں میں رکھے۔

بالوں کو ساٸیڈ پے کرتا وہ اسکی مخملی صرحی دار گردن پے اپنے دہکتے لب رکھتا ابرش کو سمٹنے پے مجبور کر گیا۔

وہ پھر سے لرزنے لگی۔ وہ ان جذبوں کی تاب نہ لاپا رہی تھی۔

ابر۔۔۔۔۔! جذبات سے مخمور لہجہ۔

ابرش نے اسکے سینے سے سر نہ اٹھایا۔ اور مضبوطی سے اسکے سینے میں خود کو چھپایا۔ ۔

ابتسام کے لبوں نے مسکراہٹ کو چھوا۔

اسی سے بچنے کے لیے اسی کے سینے میں پناہ لے رہی تھی۔

اسے بیڈ پے لٹاتے لاٸیٹ آف کرتا اس کے قریب آیا۔

ابر۔۔۔ ! اگر ۔۔تمہیں کچھ بھی ہوجاتا۔۔آٸ سوٸیر۔۔۔ جان لے لیتا میں تمہاری۔۔

جنونی انداز میں کہتے وہ اس پے حاوی ہونے لگا۔

تم نے اپنی حفاظت کرنی ہے۔۔۔

ہمیشہ۔۔۔

میرے لیے۔۔۔

خود کو سنبھال کے رکھنا ہے۔۔۔

اس کی آنکھوں پے اپنا پیار بھرا لمس چھوڑتا وہ اسکا دل دھڑکا رہا تھا۔

آنکھوں سے گالوں اور گردن کا سفر طے کرتا وہ ابرش کی سانسیں روکنے کے در پے ہوا۔

ابتسا۔۔۔۔۔۔! پورا زور لگا کے اسے پیچھے کرنا چاہا۔

ابتسام رکا۔۔ اور اندھیرا میں ہی اسکے تاثرات جاننے کی کوشش کرنے لگا۔

پلیز۔۔۔! مجھے۔۔۔ شرم۔۔۔؟؟ اسکی آواز پے ابتسام کے دل میں پھر سے گدگدی ہوٸ۔

اسکے ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھساۓ وہ اسے سب کچھ بھلانے پے مجبور کر گیا۔

یاد رہا تو بس ابتسام اور اسکا پیار اور اسکا ساتھ۔ ۔

دھیرے دھیرے رات گذرتی جارہی تھی۔

اورابتسام علی پیرزادہ ور ابرش کو محبت کی بارش میں بھگوۓ جار ہی تھی۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

میر۔۔۔۔میری۔۔۔ بات سنیں۔۔ پلیز۔۔۔؟؟؟

اس کے ر پےکھڑی وہ آنسو ضبط کرتی بولنہیں پارہی تھی۔

ارتسام خاموشی سے لیٹا رہا۔

پلیز۔۔۔۔ایک بار۔۔۔؟؟ آپ۔۔ میری۔۔۔ بات سن لیں۔۔ وہ التجاٸیہ لہجےمیں بولی۔ ارتسام کے دل کو کچھ ہوا۔

اس کے آنسو ارتسام کو درد دے رہے تھے۔ لیکن اس کے الفاظ۔۔ وہ پتھر بنا لیٹا رہا۔

میں۔۔ بہت بد بخت ہوں۔۔ پہلے۔۔ بابا۔۔۔ چلے گۓ۔۔۔ پھر۔۔ ماں کی زندگی میری وجہ سے۔۔۔ کبھی ایک دن اچھی نہ گذری۔۔۔ اور آج۔۔ آپ کو بھی۔۔تکلیف۔۔۔؟؟

اس سے اچھا ہوتا۔۔ میں مر۔۔۔جاتی۔۔۔

ہوگٸ بکواس۔۔۔؟؟

اس کے مرنے کی بات پے ایک بار پھر اسکا غصہ حاوی ہوا فوراً سے اٹھتا وہ اسے ڈرا گیا ۔

جاٶ۔۔ جا کے سو جاٶ۔۔

منہ پھرے وہ اٹھا تھا۔

کہ عروش نے اسکا ہاتھ تھا۔

مجھے معاف کر دیں۔۔ پلیز۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوگٸ۔۔۔

وہ ہاتھ تھامے بچوں کی طرح روتے ہوۓ اسے منا رہی تھی۔

ارتسام نے دل کی نہ سنتے آنکھیں سختی سے میچے اسکا ہاتھ دھیرے سے پیچھے کیا۔ کہ وہ تڑپ کے رہ گٸ۔

ٹھیک ہے ۔۔۔ سوجاٸیں جا کے۔۔ اب کی بار دھمے لہجےمیں کہا۔ اسکی نرمی دیکھتی وہ اسکی پشت پے اپنی بانہیں جما گٸ۔

ارتسام اس کے عمل پے حیران رہ گیا۔

پلیز معاف کر دیں۔۔۔

وہی جملہ وہ بار بار دہرا رہی تھی۔

اسکے ہاتھ اپنی مر سے ہٹاتا وہاسکی جانب مڑا۔

اس نے اپنی آنکھیں رو رو کےسوجھا لیں تھیں ۔

ارتسام نے اسکے آنسو صاف کیے۔

عروش۔۔۔ ! رونا بند کرو۔۔۔ دھیمی آواز میں کہا۔

نہیں۔۔پہلے آپ کہیں۔۔ آپ نے دل سے معاف کر دیا۔۔۔

وہ بضد ہوٸ۔

ایک شرط پے۔۔۔۔! ارتسام کو بھی اسے تنگ کرنے کا موقع ملا۔ اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

آج کے بعد۔۔۔ الگ ہونے کی بات نہیں کریں گیں۔۔چاہے کچھ بھی ہوجاٸے۔۔

سخت لہجہ لیکن دھیمی آواز عروش کو بہت کچھ باور کرا گٸ۔

نفی میں سر جھکا کے ہلاتی وہ ارتسام کو مسکرانے پےمجبور کر گٸ۔ ارتسام نے اسے اپنی بانہوں میں بھرا۔

اور اس لمحے عروش کو لگا اسے سواری دنیا مل گٸ ہو۔

ارتسام نے اسکے ماتھےپے لب رکھے تو اسکی پلکیں لرزیں۔

وہ۔۔۔میری۔۔۔ منہ دکھاٸ۔۔۔؟؟ ہکلاتے کہتے وہ ارتسام کا رخ دوسری جانب لے گٸ۔

جی ضرور۔۔۔آٸیے۔۔۔! اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے وہ اسے بیڈپے لے کے آیا۔

اسکے ہاتھوں کا لمس اپنی کمر پے محسوس کرتے عروش کی آدھی جان نکل گٸ تھی۔

ڈبیہ کھولتے اس میں سے ڈاٸمنڈ رنگ نکال کےاسکی فنگر میں پہناتے وہ اسکے ہاتھوں کو چوم گیا ۔

بہت پیاری ہے۔۔۔!عروش نے دل سے تعریف کی۔

ہمممم۔۔۔ ! عروش۔۔۔! میں نہیں جانتا کب کیسے۔۔۔ ۔۔؟؟ لیکن۔۔ آپ۔۔ضروری ہوگٸ ہیں۔۔ اس دل کے لیے ۔۔۔

اس جان کے لیے۔۔

اس ۔۔۔ زندگی کے لیے۔۔۔

میرے جینے کے لیے۔۔۔

کہتے ہوۓ وہ اسکے چہرے کے ساتھ چہرہ جوڑ گیا۔

عروش کا دل بت سخت دھڑکے جا رہا تھا۔ کہ بس ابھی باہر آجاۓ گا۔

جان تو اس وقت لبوںسپے آٸ جب ارتسام نے دھیعے سے اس کے لبوں کو چھوا۔

سارا خون نچڑ کے چہرے پے آگیا۔

اس کے سنے میں چہرہ چھپاۓ گہرے سانس لیتی وہ ارتسام کو مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔ ۔

آپ ۔۔۔ کچھ نہیں کہیں گیں۔۔۔؟؟

روش کو لگ ہی نہیں رہا تھا۔ کہ یہ وی ارتسام ہے۔۔۔ ج ابھی کچھ یر پہلے اتنا غصے میں تھا۔ جبکہ اب کتنی نرمی سے بات کر رہا تھا۔

ار۔۔۔تسسسا۔۔ممم۔۔۔۔۔ آپ نے۔۔ ابھی مجھ پے۔۔۔ غصہ کیا ۔۔۔؟ مجھے۔۔۔ آپ سے ڈرلگا۔۔۔

کہتے ہوٸے بچوں کی طرح منہ بنایا۔ ارتسام نے اسکی آنکھوں پے لبوں کو رکھا تو وہ جی جان سے لرز گٸ۔

اب نہیں کروں گا۔۔ غصہ۔۔۔؟؟ کبھی نہیں۔۔کروں گا۔۔۔! اسے اپنے قریب کرتے خمار آلود لہجے میں کہتے وہ لاٸیٹ آف کر گیا۔

جبکہعروش اآج تو اپنی سانس روکے اس کول پیرزادہ کی محبت میں جکڑی جا رہی تھی۔

محبت پر پھلاۓ انہییں اپنی آغوش میں لے رہی تھی۔

اور عروش کیوں نا شکری کرتی۔ اللہ نے اسکو اس کے صبر کا پھل دیا تھا۔

جتنا اللہ کا شکر ادا کرتی کم تھا۔

اور شوہر کو جب دل سے اپنا مان لیا تھا تو کیسے اسکے حقوق ادا کرنے سے پیچھے ہٹ سکتی تھی۔۔۔؟

اور آج اسکی خود سپردگی کا عالم دیکھ کے ارتسام دل سے آسودہ ہوا تھا۔

وہ زبردستی کا قاٸل نہ تھا۔

اور نہ ہی اسکی تربیت میں عورت کے ساتھ جاہلانہ سلوک روا رکھنا سکھایا جاتا تھا۔ ان کے خاندان میں عورت کو سر کا تاج بناتے ہیں ناکہ پاٶں کی جوتی۔۔۔

وہ بھلے ابی جان کی اجازت کےببنا نکاح کر کے آیا تھا۔ لیکن اس نے بیوی کو عزت دی۔ اور اس اسکا اصل مقام دیا۔

اور یہی ہمارے حخاندانی ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

موباٸیل پے مسلسل ارحام کی کالز آۓ جا رہی تھیں۔ لیکن وہ بھی اگنور کیے جا رہی تھی۔

جبکہ آنکھوں میں آنسو بہہے جا رپے تھے۔

پھر کالز آنا بند ہوگٸیں۔ تو وہ پرسکون ہوتی سونے کے لیے لیٹ گٸ۔

لیکن آنسو پھر بھی بہے جا رہے تھے۔ کتنا ظالم انسان ہے۔۔۔

ایک بار جو منہ سے نکلا ہو کہ مت کرو شادی۔۔ پیار کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔ اوپر سے بس تنگ کیے جا رہا ہے۔۔

میں بھی اب بات نہیں کرتی۔۔۔

لمظ بھی دل مضبوط کر کے لیٹی رہی۔۔ اور کب نہند ک وادیوں میں کھو گٸ پتہبہہ نہ چلا۔

کافی در بعدجب کروٹ بدلی تو تکیے کے پاس ہی کسی کو بیٹھا پایا۔ کچھ لمحے تو ہوش میں آتے گذر گۓ۔ لیکن جیسے ہی پوش و حواس بحال ہوۓ سکتے میں آگٸ۔

ارحام بہت ہی مزے سے مطمین انداز میں اسکے تکیے کے پاس بیٹھا اسے سوتے میں نہار رہا تھا۔ جبکہ چند لمحے پہلے چہرے پے مسکراہٹ تھی۔ جو اب ذاٸل ہوگٸ تھی۔

تم۔۔۔۔ تم یہاں۔۔۔؟؟ کیسے۔۔۔؟؟ آگۓ۔۔؟؟ لمظ بیڈ سے چھلانگ مار کے دور جا کھڑی ہوٸ۔

دروازہ سے تو ۔۔۔ آنہیں سکا۔۔۔ کھڑکی سے۔۔ آیا ہوں۔۔

بہت اطمینان سے جواب دیا ۔

کیسے۔۔۔۔؟؟ آٸ۔۔مین۔۔۔۔ تمہیں۔۔ کسی نے دیکھا نہیں۔۔؟

لمظ کا پریشانی سے برا حال تھا۔۔

نہیں۔۔ کسی نے نہیں دیکھا۔۔۔

کہتےہوۓ قفم بہ قدم اسکی جانب بڑھا۔

تم۔۔۔تم۔۔ پاگل۔ہہو۔۔۔ اتنی رات گۓ یوں۔۔ کسی کے گھر۔۔ بلکہ۔۔کسی لڑکی کے روم میں۔۔۔؟ تم۔۔۔ ایس اکیسے کر سکتے ہو۔۔؟ زچ آتے پوچھا۔ وہ جو اسکے سر پے پہنچ گیا تھا۔ بنا حیل و حجت کے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالےاسے اپنے قریب کر گیا۔

لمظ اسکی جرات پے ششدر رہ گٸ۔

چھوڑو۔۔۔مجھے۔۔۔ کیا بے ہودگی ہے۔۔۔؟لمظ نے ناگواری سے کہا۔

تو ارحمنے فوراً ہی اسے چھوڑ دیا۔ اسے اپنی غلطی کا احساس جاگا۔ جو بھی تھا وہ اس پے ابھی کوٸ حق نہیں رکھتا تھا۔

سوری۔۔۔۔۔! دونوں ہاتھ اوپر کے فوراً اپنی غلطی تسلیم کی۔

بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے خود کو کمپوز کرتی اس پاگل کی جانب دیکھا۔

کیوں۔۔ آۓاس وقت۔۔؟؟ سنجیدگی سے پوچھا۔

کال اٹینڈ کر لیتی تو ۔۔ اتنا بڑا رسک لے کے نہ آنا پڑتا۔۔۔

اسی کے انداز میں جواب دیا۔

کیوں۔۔۔؟ کیوں اٹینڈ کرتی۔۔۔؟؟ جب بات کنے کا وقت تھا۔تب تو کی نہیں۔۔۔! اتنی رات گۓ۔۔۔ میری یاد آٸ۔۔۔؟؟

لمظ اسکی بات پے سلگ ہی گٸ۔

ہاں۔۔ آگٸ۔۔۔! اس لمحے ایمرجنسی ہوگٸ تھی۔۔اس لیے۔۔کچھ کہہ نہ سکا۔۔۔ لیکن۔۔۔ تم۔۔۔بھی صحیح کوٸی ڈھیٹ۔۔۔۔؟؟

لمظ کی تیز نظروں پے ارحامنے باقی کے الفاظ زبان تلے دبا لیے۔

ارحام۔۔۔ جاٶ۔۔یہاں سے۔۔۔!لمظ نے اسے واپس جانے کا اشارہ کرتے کہا۔

ہرگز نہیں۔۔! ایسے تو نہیں جاٶں گا۔۔

بہت آرام سے ایک چیٸر پے بیٹھتے کہا۔

یہ۔۔یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔؟؟ پلیز ارحام۔۔۔ جاٶ۔۔ یہاں سے۔۔ مام یا ڈیڈ کو پتہ چلا تو۔۔ نجانے کیا ہوجاۓ۔۔

لمظ کو سخت کوفت ہورہی تھی۔

تم چاہتی ہو۔۔۔ کہ میں۔۔ یہاں سے چلا جاٶں۔۔۔تو ٹھیک ہے۔۔۔ ایک شرط پے۔۔۔! ٹانگ پے ٹانگ جماۓ وہ سکون سے بولتا لمظ کو بت سکون کر گیا۔۔

کیسی شرط۔۔۔؟؟ ماتھے پے تیوری چڑھی۔

just say i love you…

ایک لمحے کو توقف کے بعد فوراً سے کہہ دیا۔ کہ لمظ تو سن ہی ہو کے رہ گٸ۔

بولو۔۔۔! ارحام نے اپنی بات پے زور دیا۔

ارحام۔۔۔۔! کیا طریقہ ہے یہ ۔۔سب۔۔۔؟؟ کیوں کہوں میں یہ۔سب۔۔؟؟ لمظ اسکے پاس آتی آہیستہ آواز میں چلاٸ۔

Because I love you.. lamz…

کھڑے ہوتےبہت گھمبیر لہجےمیں کہتے وہ لمظ کی بولتی بند کر گیا۔

اور کچھ۔۔۔؟؟ ارحام۔نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔

ار۔۔۔ح۔۔۔۔ا۔۔مممم۔۔۔! خشک پڑتے لبوں پے زبان پھیری۔

ارحام۔نےپاس جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کے اسکی جانب بڑھایا۔

جسے اسنے اپنے لبوں سے لگا لیا۔

لیکن نظریں ہنوز اسی پے ٹکی تھیں۔

ایسے نہ مجھے تم دیکھو۔۔۔

سینے سےلگا لوں گا۔۔۔

تم کو میں چرالوں گا۔۔ تم سے۔۔

اپنا بنا لوں گا۔۔۔۔

گھمبیر انداز۔۔ بولتی آنکھیں۔۔ آنچ دیتا لہجہ۔۔۔

لمظ کو اپنا دل بہت زور سے دھڑکتا سناٸ دیا ۔

فوراًسے رخ بدلا۔ کہ وہ دوبارہ سا سامنے جا کھڑا ہوا۔

جواب۔۔۔؟؟ زور دیتےکہا۔

ارحاممم؟مما۔۔۔ نے۔۔۔ بات۔۔۔ پکی۔۔۔ککر۔۔۔؟؟

لمظ۔۔جواب۔۔۔؟۔۔۔؟ ارحام کے ماتھے پے دو بل۔پڑے۔

لمظ نے تھوک نگلا۔ ۔

اسکے دلکی دھڑکنوں کا شور اسے اپنے کانوں میں سناٸ دے رہا تھا۔

لمظ۔۔۔؟؟ ارحام نے دوبارہ پکارا جبکہ اس بار لہجہ سخت تھا۔

i love…..??

وہ آگے نہ بول پاٸ۔ اور شرم سے نظریں جھکا گٸ ارحام کے چہرے پے ایک دلفریب مسکراہٹ بکھر گٸ۔

کل ابی جان کو بھیجوں گا۔۔۔ ہمارے رشتے کے لیے۔۔ مام ڈیڈ سے کہہ دینا۔۔۔ لمظ ارحام کی ہے۔۔۔ صرف ارحام کی۔۔۔۔! سخت لہجہ۔۔ لمظ کی پلکیں اٹھیں۔

اگر۔۔۔مری لمظ کا نام بھی کسی کے ساتھ لیا۔۔۔ تو۔۔ جان لے لوں گا انکی۔۔۔۔!

اس کے کانوں کے قریب جھکتا پہلے پیار پھر غراتے ہوۓ کہا۔

لمظ نے گھور کے اسے دیکھا۔

پھر سے اسے دیکھ رہی ہو۔۔۔؟؟ میں خود پے اختیار ھو دوں گا۔۔۔ جیری۔۔۔۔! پھر نہ گلہ کرنا۔۔۔

شرارت سے کہتا وہ لمظ کو تپاگیا۔

اب نکلو۔۔ فوراً۔ یہاں سے۔۔ ٹام کے بچے۔۔۔! اسے دھکا دے کے نکالتی دانت پیسے کہا۔

ٹام ۔۔کے بچے۔۔۔ وہ ابھی آۓ نہیں۔۔ ! لیکن شادی ہوجانے دو۔۔ تمہاری یہ خواہش بھیجلدی پوری کر دوں گا۔ پرامس۔۔۔ آگے جاتے گردن موڑ کے اسے کہتے وہ اسے کانوں تک سرخ کر گیا۔

اب جاٶ۔۔۔!وہ اس سے بحث نہ کر سکی۔۔ وہ بات سے بات نکالنے کا ہنر جانتا تھا۔

صبح ملاقات ہوتی ہے لڑکی۔۔۔۔ ! اسکی ناک کو ہاتھ سے چھوتے مسکاتے نیچے اترنے لگا۔

آرام سے۔۔۔۔!اسکا ہاتھ زرا کا زرا پھسلا۔ کہ بے اختیار لمظ کے لبو ں سے ادا ہوا۔

ارحام۔نے فلاٸنگ کس اچھالی ۔ اور مسکراتا پاٸپ کے سہارے یچے اترتا۔ جا چکا تھا۔

لمظ ابھی بھی وہی کھڑی دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کو بمشکل سنبھال پا رہی تھی

پاگل۔۔۔بندر۔۔۔! مسکراتے ہوۓ اسے نیا لقب دیا۔

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

یہ ناول حق مہر خالصتاً میرا منتہا چوہان کا ہے۔۔

کوٸ اسے کاپی پیسٹ کرتا ہے تو۔۔ اللہ دیکھ رہا ہے۔۔ میں اللہ پے چھوڑنے والوں میں سے ہوں۔۔ اور آپ جانتے ہیں آج تک میں نے کبھیاپنے کسی ناول پے نہیں لکھا۔

dont copy paste without my permision etc.

کیونکہ میں جانتی ہوں۔۔ بہت سے لوگ کرتے ہیں۔۔ اور ایسا لکھ کے میں انہیں گناہ گار نہیں کر سکتی۔

ناول چوری ہوتے ہیں یہ عام بات ہے۔۔۔ لیکن۔۔ ٹیلنٹ کوٸ چوری نہیں کر سکتا۔

الحَمْدُ ِلله میرا ٹیلنٹ میرے پاس رہے گا۔ اللہ کی کرم نوازی ہے۔ میں کچھ بھی نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *