Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 07)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

کال بند کرتے وہ وہاں سے اٹھی۔ آنکھوں میں آۓ آنسوٶں کو صاف کیا۔ اور باتھ روم کی جانب بڑھی۔

جبکہ ماریہ خاموش رہی۔ وہ بھی اسکی ساری بات سن چکی تھی۔ مزید کچھ کہہ کے اسے ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ واش بیسن میں منہ ہاتھ دھوتے خیال بابا کی جانب چلا گیا تو منہ صاف کرتی وہ باہر نکلی۔

بابا اگر آفس نہیں گۓ تو ۔۔کہاں جا سکتے ہیں۔۔؟؟

دماغ ایک بار پھر بے سکون ہوا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

نیو گاڑی پسند کرتے وہ اب شاہان کو اسکی پسند کی گاڑی دلوا چکے تھے۔ اچھی خاصی مہنگی گاڑی پے اس نے ہاتھ رکھا تھا۔ اور بہت طریقہ کار سے اپنی بات منوا لی تھی۔ مجیب صاحب گھر کے کاغذکو راجہ جمال کے پاس گروی رکھوا آۓ تھے اور اچھی خاصی رقم قرضہ کے طور پے لے آۓ تھے۔

ہاۓ رے ماں باپ ۔۔۔۔بیٹی کا جہیز پورا کرتے اپنے سر کی چھت بھی بیچ دیتے ہیں۔

بیٹیوں کا باپ ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔

مجیب صاحب خوش تھے کہ انکا ہونے والا داماد خوش ہے۔ اور وہ خوش تو انکی بیٹی کو بھی خوش رکھے گا۔

کاش ماں باپ پیسوں سے بیٹیوں کا نصیب بھی خرید سکتے۔۔۔۔۔! 😌

ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔! اب کل۔ملاقات ہوگی بارات پے۔۔۔

مجیب صاحب مسکرا کے بولے۔

جی جی۔۔۔۔! ہوٹل۔۔۔۔ اچھا والا بک کیا ہے ناں آپ نے۔۔؟؟

بنا کسی تردد کے شاہان نے دریافت کیا۔

جی۔۔۔۔۔جی بیٹا۔۔۔ہوٹل کا ایڈریس میں نے آپ کے گھر والوں کو بتا دیا ہوا ہے۔ ان شاء اللہ کسی قسم کی کوٸ کمی نہیں رہے گی۔

مجیب صاحب مسکراتے بولے۔

ارے نہیں انکل۔۔! آپ پے پورا یقین ہے مجھے۔ آپ بہت اچھے ہیں۔ یہ۔۔۔ گاڑی۔۔ میں لے جا سکتا ہوں۔۔؟؟ کل بارات اسی پے لاٶں گا۔۔۔ اگر آپ کا دل مانے تو۔۔۔؟؟

جان بوجھ کے وہ ایکٹنگ کرتا بولا۔

ارے بیٹا۔۔ آپ ہی کی ہے۔۔۔ لے جاٶ ۔

مجیب صاحب نے اسکا کاندھا تھپتھپاتے کہا۔

تو وہ ان کے بغل گیر ہوتا گاڑی میں بیٹھا جا چکا تھا۔ جبکہ مجیب صاحب کی آنکھیں نم ہو گٸیں۔ ساری زندگی خود کراٸے کی گاڑیوں رکشہ یا بس میں سفر کیا۔ آج ہونے والے داماد کو گاڑی لے دی۔

جب تک ان کے دوست علی پیرزادہ زندہ تھے۔ وہ انکا بہت خیال رکھتے تھے۔ بھاٸیوں کی طرح چاہتے تھے۔

انہوں نے ہی کمپنی کی طرف سے انہیں گاڑی دی تھی۔ جو بعد نیں ایک ایکسیڈینٹ میں بے کار ہو چکی تھی

لیکن مجیب صاحب نے اسے گھر کے گیراج میں ہی کھڑا رکھا۔ نہ بیچا نہ پھینکا۔ اس گاڑی کے ساتھ ان کے دوست کی ایں جڑی تھیں۔

خود بھی ہمیشہ حق حلال کھایا۔ اور بیٹی کو بھی ویسی ہی سیکھ دی۔ ویسی ہی تربیت کی۔

اصول و انصاف میں بیٹی انہی کی کاپی تھی۔ بس تھوڑا غصے کی تیز تھی۔

رکشے میں بیٹھے وہ شادی ہال کی طرف پہنچ چکے تھے۔ ان کے ساتھ انکے دوست مبارک بھاٸ بھی تھے۔

جو ان سے پہلے ہی وہاں موجود شادی کی تیاری دیکھ رہےتھے۔ تقربیاً سبھی محلے والے ان کے ہمقدم تھے۔ ابرش ہر برے اچھے وقت میں سب کے ساتھ کھڑی ہوٸ تھی۔ سبھی اداس بھی تھی اس کے جانے سے اور خوش بھی کہ اسکا گھر بس رہا ہے۔جبکہ مجیب صاحب اندر ہی اندر ایک دکھ پال رہے تھے۔

انکا بہت دل تھا کہ ان کے اپنے سگھے بھاٸ حبیب شمس بھی اس موقع پے ان کے ساتھ ہوتے لیکن کچھ حالات کی وجہ سے وہ ان کے ساتھ قطع تعلق کر چکے تھے۔

وہ بنک میں بہت بڑے عہدے پے فاٸز تھے۔ جبکہ مجیب شمس نے اس جاب سے حبیب کو منع کیا۔

کہ یہ سود کاکام ہے لیکن وہ نہ مانے۔ نتیجتاً دونوں میں تلخ کلامی ہوٸ۔ اور دس سالہ ابرش کے ساتھ وہ اپنے الگ گھر میں شفٹ ہوگٸے جو ان کے والد کی جاٸیداد میں انکو حصہ ملا تھا۔

ابرش کی والدہ منزہ ابرش کی پیداٸش پے ہی دم توڑ گٸ تھیں۔ مجیب صاحب نے اکیلے ہی اپنی بیٹی کی پرورش بہترین اصولوں پر کی۔

مجیب ۔۔! یہ گڑیا۔۔۔ مجھے دے دو۔۔۔! ایک دن علی پیر زادہ ابرش کو مجب شمس کے ساتھ دیکھ اس پے فدا ہوگٸے۔ انہیں وہ چار سالہ معصوم ابرش بہت زیادہ بھاٸ تھی۔

علی بھاٸ ۔۔! یہ آپ ہی کی بیٹی ہے۔۔۔! مجیب نے مسکرا کے ابرش کو ان سے ملوایا۔

نہیں تم۔۔۔میری بات سمجھے نہیں۔۔۔! مجھے یہ ہمیشہ کے لیے دے دو۔۔۔! ابرش کے گال پے پیار کرتے انہوں نے مجیب کو حیرت میں ڈال دیا ۔

میرا ابتسام۔۔۔ ! اس کے لیے ہاتھ مانگ رہا ہوں۔۔ میں ابرش کا۔۔ ! مجیب صاحب کا ہاتھ تھامے علی نے انہیں گنگ کر دیا۔

علی۔۔۔ علی بھاٸ۔۔۔! کہاں آپ۔۔۔پیرزادہ ۔۔ اور کہاں۔۔۔؟؟؟

نہیں مجیب ۔۔۔! ایساکچھ مت کہنا۔۔۔ میں زات پات پے یقین نہیں رکھتا۔ میرے لیے سب سے بڑی زات اس رب کاٸنات کی ہے۔ اور میں ایک عام سا بندہ۔۔ بس۔۔ مجھے انکار مت کرنا۔۔ یہ رحمت مجھے دے دو۔۔ وعدہ کرو۔۔ کہ یہ رحمت میرے گھر جاٸے گی۔۔۔ مجیب وعدہ کرو۔۔۔

ہاں۔۔۔ یہ آپ کی امانت ہے۔۔۔ ابتسام بیٹے کی امانت ہے۔۔۔! مجیب صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔

وہ آنسو آج بھی موجود تھے انکی آنکھوں میں ۔

ماضی کی یادوں کی پرچھاٸیاں ہٹیں تو حال کا منظر واضح ہوا۔

معاف کردینا علی۔۔۔بھاٸ۔۔ ! میں اپنا وعدہ نہ نبھا سکا۔۔۔

شادی ہال میں کھڑے وہ سب طرف نگاہ دوڑاتے آنسو صاف کرتے دل ہی دل میں علی سے مخاطب ہوۓ۔

مجیب بھاٸ ! اداس نہ ہوں اللہ اچھا کرے گا۔۔۔ ایک نہ ایک دن سبھی بیٹیوں کو اپنے شوہر کے گھر جانا ہی ہوتا ہے۔۔۔

مبارک بھاٸ بنا انکی سوچ کی عکاسی کیے انہیں تسلی دے رہے تھے۔مجیب صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔ اور نامحسوس انداز سے آنسو صاف کرتے انتظامات دیکھنے لگے۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

ٹھیک پندرہ دن بعد عروش کے نکاح کی تاریخ فکس کر دی گٸ۔ بہت دھوم دھام سے شادی کرنے کا سوچا گیا تھا۔ آخر چوہدریوں کی بیٹی کی شادی تھی۔

سبھی اس شادی کو نجواۓ کرنے کے لیے تیاریاں شروع کر چکےتھے۔ ایسے میں عروش کا بارہا یہی دل چاہ رہا تھا کہ وہ خود کو ختم کر دے۔

کہیں ایک بار کوشش بھی کی لیکن پھر ہاتھ کانپنے لگے۔۔ کہ حرام۔موت تو اللہ کو پسند نہیں۔۔ پھر وہ کیسے اتنا بڑا قدم اٹھا سکتی تھی۔۔ یہی سوچتے اس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا۔

جب انسان بے بس ہو جاتا ہے اور انسانوں کے روپ میں چھپے بھیڑیوں سے مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رہتی تو وہ تب سب کچھ اللہ پے چھوڑ دیتا ہے اور یہیں سے ان بھیڑیوں کی بربادی کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ کیونکہ انسان کا بدلہ اللہ کے بدلے کے آگے کچھ بھی نہیں۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

لمظ کا مارے غصے برا حال تھا۔

ماتھے پے بے شمار بل۔ڈالے لال بھبھوکے چہرے کے ساتھ وہ ارحامکو دیکھے جا رہی تھی۔جبکہ اپنے ہر عمل سے وہ ارحام کے دل کی دنیا کو ہلا چکی تھی۔

تم۔۔۔۔ ؟ تم یہاں کیسے آۓ؟

ماتھے پے بل ڈالے غصے سے پوچھا۔

دروازے سے۔۔۔۔! برجستہ مسکراتے جواب آیا۔

رحمان بابا۔۔۔۔! لمظ نے آواز لگاٸ۔

ششیشیشی۔۔۔۔۔! کان کے پردے پھاڑنے ہیں کیا؟؟ کانوں ک ملتا وہ نخرے سے بولا۔۔

تمہاری اتنی ہمت۔۔۔کہ میرے گھر میں۔۔ بنا میری اجازت کے تم داخل ہو گۓ؟کیسے ۔؟؟

پاٶں سے۔۔۔! چلتے ہوۓ آیا ہوں۔۔ خیر۔۔۔ یہ۔۔نوٹس ۔۔تھے۔۔ جو شاید۔۔۔ تمہیں۔۔ چاہیے تھے۔۔۔؟؟

اااایییک منٹ۔۔۔! یہ تمہارے پاس۔۔۔؟ لمظ کو کچھ غلط ہونے کا احساس جاگا۔

ہاں۔۔۔ میرے پاس۔۔۔!

لاٶ ادھر دو مجھے۔۔۔۔! لمظ نے ہاتھ آگے بڑھایا۔

ایسے کیسے دے دوں۔۔۔؟؟ ارحام۔نے ہاتھ پیچھےکر لیا۔

کیا۔۔۔ مطلب۔۔۔؟؟ لمظ کی حیرت سے آنکھیں پھیلیں۔

نوٹس چاہیے تو۔۔۔ ایک کام کرنا پڑے گا۔۔ سوچتا بوا۔

کیا کام۔۔۔؟ ماتھےطپے تیوری چڑھاٸ۔

امممممم۔۔۔ ریکوسٹ کرو نوٹس کے لیے۔۔۔۔تو سوچوں۔۔۔؟؟ ارحام آج اسے صحیح تپانے کے چکروں میں تھا۔

ہرگز نہیں۔۔۔! نوٹس دو۔۔ اور چلتے بنو۔۔۔! لمظ نے چٹکی بجاتے کہا تو ارحام۔نے ایک آٸ برو اچکاٸ۔۔

اوہو۔۔۔۔! اپنی گلی میں۔۔۔ تو۔۔ ڈوگی بھی lion ہوتا ہے۔۔۔! سنا تھا۔ آج دیکھ لیا۔۔۔!!

ارحام۔نے مذاق اڑایا۔ تو وہ سلگ کے رہ گٸ۔

بکواس بند کرو۔ اپنی۔ جارحانہانداز مث اسکی جانب بڑھی۔

نوٹس چھیننے چاہے۔ لیکن وہ بھی ارحام تھا۔ نوٹس کو تھامے ہاتھ کو اوپر کردیا۔

لمظ نے بھی اوپر ہوتے نوٹس جھپٹے۔ لیکن بے سود۔

اسی لمحے میں وہ ارحام کے بہت قریب آگٸ۔ اور اس لمحے کا ارحام نے جی بھر کے فاٸدہ اٹھاتے اسکی بھوری آنکھوں میں اپنی گہری سبز آنھیں ٹکا دیں۔

لمظ پھر سے گنگ رہ گٸ۔ آج تو ارحام اسے حیرت کے بہت سے جھٹکے پے جھٹکے دٸے جا رہا تھا۔

پھر جھٹکے سے پچھے ہٹی چہرے پے آۓ بالوں کی آبشار کو پیچھے کیا۔

ارحام۔۔۔ نوٹس دو مجھے۔ اب کی حق جتاتے تنگ پڑتےکہا۔

پیار سے کہو تو سوچوں۔۔۔؟؟ ایک ٹرانس کی کیفیت میں وہ بولا۔

لمظ اسکی بات پے سکتے میں ہی آگٸ۔

دماغ درست ہے تمہارا۔۔؟؟ لمظ اس بار تو صحیح تپی۔

لگتا ہے۔۔تمہیں نوٹس چاہیے ہی نہیں۔۔ تو ٹھیک ہے۔۔اسے پھاڑ ہی دیتا ہوں۔۔

نہیں۔۔۔ رکو۔۔۔رکو۔۔۔ پلیز۔۔۔!

سامنے کرتے وہ اسے پھاڑنے لگا۔ کہ لمظ تڑپی۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔! ارحام نوٹس دے دو۔۔۔پلیز۔۔۔۔ چباتے ہوۓ کہا۔

کچھ کمی ہے۔۔۔مزہ نہیں آیا۔۔۔ ارحام نے اسے مزید تنگ کیا۔

ارحام۔۔۔ پلیز۔۔ نوٹس دے دو۔۔۔!

ایک گہرا سانس خارج کرتی وہ دل پے پتھر رکھتی اس بار قدرے نرمی سے بولی۔

ارحام مسکراتا ہوا اسکے پاس ہوا۔

کچھ جمی تو نہیں بات۔۔ چلو۔۔۔ کوٸ نہیں۔۔ رکھ لو۔۔۔ کیا یاد کرو۔۔ گی ۔۔لمظ نے فوراً نوٹس جھپٹے۔

کس سخی سے پالا پڑا ہے۔۔۔ اسکے جھپٹنے پے ایک لمحہ کو وہ رکا لیکن پھر اپنی بات مکمل کر لی۔

اب یہاں سے جاٶ۔۔۔ اور میرا چشمہ دیتے جاٶ۔۔

لمظ نے دانت چباتے دھیمے لہجے میں کہا۔

جا تو رہا ہوں میں لیکن ۔۔یہ۔۔ چشمہ۔۔۔ بھول جاٶ۔۔۔ کیونکہ بنا۔۔۔ چشمے کے تم۔۔۔ زیادہ کیوٹ جیری لگتی ہو۔۔۔ قریب ہوتا آنکھوں میں شرارت لیے کہتا وہ دروازے کی جانب بڑھا کہ ایک دم سے ٹھٹھک کے رکا۔

لمظ جو اسکی طرف غصے سے پلٹی تھی۔ دروازے پے ایستادہ حیران نظروں سے دیکھتے نظر حبیب صاحب پے پڑی۔ وہ دونوں ہی ایک لمحے کو سٹپٹا گٸے۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

شکر ہے۔ فاٸل۔مل۔گٸ۔ ورنہ آج برے پھسے تھے۔

سفیان صاحب مسرور نظر آۓ۔

ہاں۔۔ سفیان صاحب میں نے شکر کا کلمہ پڑھا۔

اتنے میں ابتسام آفس سے باہر آتا دکھاٸ دیا تو وہ دونوں چپ ہوگۓ۔ ابتسام کی ڈیل ہوچکی تھی۔ اور کروڑوں کا فاٸدہ ہونے والا تھا۔

لیکن مجال تھا کہ اسکے چہرے پے ایک سماٸل تک آٸ ہو۔۔ بہت ہی کوٸ شادر نادر لوگ تھے۔ جو ابتسام کی مسکراہٹ کی جھلک دیکھ پاتے۔ اور شاید وہ اس کے اپنے ہی ہوسکتے تھے۔

***************************************

یہ۔۔۔سب کیا ہے۔۔۔؟؟

لہجہ میں غصے کی آمیزش تھے۔

بابا۔۔۔! یہ۔۔۔ نوٹس دینے آۓ تھے۔۔۔ یونی۔۔میں ساتھ پڑھتے ہیں۔۔

دھیمے لہجے میں کہتی وہ پجر سے ارحامکو بہت پیاری لگی۔

Sir may i introduce myself…

I m arhaam ali peerzada..

کہتے ساتھ ہی مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔

میکانکی انداز میں حبیب صاحب نے ارحام کا ہاتھ تھاما۔

پیرزادہ گروپ آف انڈسٹری کے مالک علی پیرزادہ کے بیٹے؟ انہوں نے تصدیق کرنی چاہی۔

جی جی بالکل۔۔۔! ارحام کو خوشی ہوٸ کہ وہ اسے پہچان گٸے ہیں۔

ارے بیٹا۔۔۔ بیٹھو ناں۔۔۔ ! کھڑے کیوں ہو۔۔۔؟؟ آپ کے والد مرحوم میرے بہت اچھے دوست تھے۔

ایک دم سے ہی حبیب صاحب کے چہرے پے دوستانہ مسکراہٹ ابھری ۔ لمظ تو دیکھتی رہ گٸ۔

ارحام۔کے چہرے پے ایک لمحے کو سایہ لہرایا۔

بہت اچھے انسان تھے۔۔۔۔ ارحام اور حبیب صاحب بیٹھتے حبیب صاحب دکھ سے بولے۔

جی۔۔۔۔۔! ارحام مزیدکچھ نہ بولا پایا۔ اس نے تو نہ ماں نہ ہی باپ دونوں کا لمس ہی محسوس نہ کیا تھا۔

انکل اجازت دیں پھر ملاقات ہوگی۔ ارحام۔نے واپس اٹھتے کہا۔

بیٹا۔۔۔! آتے جاتے رہا کرو۔۔ اچھا لگا یہاں آۓ۔۔ !حبیب صاحب نے پھر اسے گلے سے لگایا۔

ارحام دھیرے سے مسکراتا لمظ کو ایک نظر دیکھتا اللہ حافظ کہتا باہر نکلا۔

بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔ ! حبیب صاحب نے مسکراتے لمظ کے سر پے ہاتھ پھیرا اور اندر بڑھ گۓ۔ جبکہ لمظ سمجھ نہ پاٸ۔ کہ ان کے دل میں کیا چل رہا ہے۔۔۔؟؟

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

بابا۔۔۔! کہاں تھے آپ آج سارا دن۔۔؟؟ مجیب صاحب کے آتے ہی ابرش نے ان تک پہنچتے کہا۔ جبکہ گھر مہمانوں سے بھر گیا تھا۔

اور ابرش مہندی کے جوڑے میں کھلی کھلی رنگت اور الگ ہی روپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ ایک لمحے کو مجیب صاحب نے بھی اپنی نظریں پھیر لیں کہ کہیں انکی اپنی ہی نظر اپنی بیٹی کو نہ لگ جاۓ۔

بیٹا۔۔۔ کچھ کام تھا۔ تو وہاں گیا تھا۔۔

سر پے شفقت بھرا ہاتھ رکھتے وہ پیار سے بولے۔

وہ مزید کچھ بولتی کہ اسکی دوستیں اسے وہاں سے لے جانے لگیں۔

تو مجیب صاحب مسکراتے رہ گٸے۔

مہندی ہے رچنے والی۔۔۔

آنکھوں میں گہری لالی۔۔۔

کہیں۔۔ سکھیاں اب کلیاں

ہاتھوں پے کھلنے والی ہیں۔۔

تیرے من کو جیون کو ۔۔

نٸ خوشیاں ملنے والی ہیں۔۔۔

اوہ۔۔۔ہریالی۔۔۔بنو۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈھولک کی تھاپ پے گیت شروع ہوچکے تھے۔

ہر طرف ایک خوشی کا سماں تھا۔

سب کے چہرے کھلے ہوٸے تھے۔

اور ابھی ابرش کی خوشی میں شامل ہونے آۓ تھے۔ اسے دعاٸیں دے رہے تھے۔

اور ابرش مسکراتے ہوۓ سب کی دعاٸیں لے رہی تھی۔

تبھی ردا کی والدہ سفیہ خالہ وہاں پہنچیں شرمندہ سی۔

خالہ ردا کہاں ہے۔۔؟؟ ابرش نے فوراً سے پوچھا۔

بیٹا۔۔۔! وہ۔۔ گھر ہے۔۔۔ سر جھکاتے جواب دیا۔

کیوں۔۔ آپ اسے کیوں نہیں لاٸیں۔۔؟؟ ابرش کو برا لگا۔

بیٹا۔۔ کیسے لاتی۔۔ ایک تو۔۔ وہ آنا نہیں چاہ رہی تھی۔ اور دوسرا۔۔۔ اسکے بابا بھی نہیں چاہتے کہ وہ۔۔گھر سے باہرنکلے۔۔۔! دھیمے لہجے میں کہا۔

خالہ۔۔۔! اس سے تو اچھا ہوتا آپ اسے مار ہی دیں۔ غصہ ضبط کرتے کہا۔ تو خالہ سفیہ منہ دیکھتی رہ گٸیں۔

خالہ اگر اسے یوں گھر میں قید رکھنا ہے تو ۔۔ مار دیں۔ جان چھڑاٸیں اپنی بھی۔ اور اسکی بھی۔

بہت رسان سے کہا۔ خالہ سفیہ کا سر جھک گیا۔

مہندی کی خوشبو سے۔۔۔

سانسوں پے چھا جاۓ۔۔۔

ہم۔۔آۓ ۔تجھ کو لینے۔۔

نزرانہ دل کے دینے۔۔۔

یہی ہے۔۔ لگن۔۔۔

دلہا والے مہندی لے کے پہنچے تھے۔ابرش سب سے بہت پیار سے ملی۔ دو نندیں تھیں۔ اور ساس ۔۔ پھوپھیاں الگ اور خالاٸیں الگ۔ جن سے وہ آج ہی مل رہی تھی۔ اسکی ساس نے اسے مہندی لگانے میں پہل کی۔ اور پھر باری باری سب نے ہی آگے بڑھ کر مہندی لگانے کی رسم ادا کی۔

ابرش تو ان سب کو دیکھتی رہ گٸ۔ ایک سے بڑھ کرایک تیار اور میک اپ کی دکان لگ رہی تھیں۔

ابرش کا انہیں انکے بھڑکیلے کپڑے دیکھ دماغ گھوم سا گیا۔ تو ایکسکیوز کرتی وہ وہاں سے اٹھ کے اندر کی جانب بڑھی۔ اسکا دل گھبرانے لگا تھا۔ا چانک۔۔۔

کیوں۔۔ وہ نہیں جانتی تھی۔

یا اللہ! یہ۔۔میرا دل کیوں گھبرا رہا ہے۔۔ کچھ برا ہونے والا ہو۔۔جیسے۔۔۔؟؟ آنکھیں بند کرتی وہ بس دل کو سنبھال رہی تھی۔ کہ بند آنکھوں کے گوشے میں وہ شخص پھر سے آن سمایا۔ جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔

یہ کیا ہورہا ہے مجھے۔۔۔؟ اٹھ کھڑی ہوٸ۔

میری شادی ہو رہی ہے۔۔ کوٸ میرا محرم بننے جا رہا ہے۔۔ تو۔۔ یہ۔۔اس دل نے۔۔۔ کیوں بغاوت شروع کر دی ہے۔۔

نہیں۔۔ نہیں۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔

بالکونی سے باہر چاند کو دیکھتے وہ اپنے اندر کے اس ان دیکھے جذبے کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اور نہیں جانتی تھی کہ کب اسکی آنکھیں آنسوٶں سے بھر گٸیں۔۔۔۔؟؟

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

رات بھر وہ نہ سو سکا۔۔۔ رہ رہ کے اسے اس شخص کے الفاظ کسی ہتھوڑے کی طرح اس کے وجود کو گھاٸل کرتے رہے۔۔ جو آج ہاسپٹل میں آۓ تھے۔

اگر اس وقت ایمرجنسی نہ ہوتی تو وہ ضرور انکو سبق سکھاتا۔ اور انہیں جیل کی ہوا دلواتا۔

لیکن ایک دن پہلے آۓ کیس کے سلسے میں اسے جانا پڑا جہاں تین لڑکے بیک وقت لاۓ گٸے تھے۔

تیزاب سے انکا جسم جھلس گیاتھا۔ اور مخصوص حصے ان کے بری طرح بے کار ہوۓ تھے۔ کل سے وہ بے ہوش تھے۔ ان میں آج ایک کو ہوش آیا تھا۔ اور ہوش میں آتےہی اس نے پورے ہاسپٹل کو سر پے اٹھا لیا تھا۔

وہ چاہتا تھا کہ اسے زہرکا انجکشن دے دیا جاۓ وہ نہیں جینا چاہتا تھا۔

کس نے تیزاب گرایا ۔۔۔نہیں جانتا تھا۔؟

پولیس تو آٸ لیکن کچھ پتہ نہ چل سکا۔ بہت مشکل سے اسے قابو کیا۔

باقی کے دو ابھی تک بے ہوش تھے۔ اور ان کے گھر واوں سے بھی رابطہ نہ ہو سکا تھا۔ اب تک۔ اور جس کوہوش آیا تھا اس نے بتایا ہی نہ ۔۔۔ عجیب پریشانی میں گھر گیا تھا۔

اسے میں اب جب وہ سونے لگا تو بے چین ہوتا اٹھ بیٹھا۔

یا اللہ میرے دل کو سکون دے۔ اور اگر یہ سب میرے سامنے آہی گیا ہے تو۔۔ مجھے اس قابل کر دے۔۔کہ میں یہ گناہ روک سکوں۔۔۔

ارتسام اللہ سے ہی دعا مانگتا رہا۔ جو۔شاید قبولیتکا وقت تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

جم۔میں وہ اپنا غصہ اتارے جا رہا تھا۔ رہ رہ کے اسے اس لڑکی کے الفاظ کچوکے لگا رہے تھے۔ جی چاہ رہا تھا کہ سامنے ہو۔ اور وہ اسے جان سے مار ڈالے۔

لیکن اتنی آسانی سے وہ اسے چھوڑنے والانہ تھا۔ اچھی خاصی سزا دینے کا سوچ رکھا تھا۔ لیکن اس وقت اپنے غصے کو قابو نہیں کر پا رہا تھا۔

موباٸل پے آتی کال نے اسے چونکایا۔۔

ٹاول سے پیسینہ خشک کرتا۔ کسرتی سینہ۔۔ ماتھے پے گرے گیلے بال۔۔ اور گہری سبز رنگ آنکھیں۔۔ اسے بے انتہا پرکشش بنا رہی تھیں۔ اور اپنے مردانہ حسن سے وہ بھی اچھی طرح واقف تھا۔ تبھی تو غرور اور نخرہ کچھ زیادہ ہی موجود تھا۔

ہاں۔۔ بولو۔۔۔!

سر۔۔! بلاآخر مسٹر چوہدری آپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ مقابل نے مسرور ہوتے کہا۔

ہممممم۔۔۔ تھوڑا انتظار اور کرواٶ۔۔۔ تا کہ ملاقات کا مزہ آۓ۔

آٸینے میں اپنے سکس باٸپس دیکھتے مسکراتے بولا۔

جی سر۔۔۔ ایز یو وش۔۔۔

فون بند ہو چکا تھا۔ ساٸڈ پے رکھتا وہ شاور لینے چلا گیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

صبح سے گہما گہمی تھی۔

شادی والا گھر تھا۔

بھلے سبھی نے شادی ہال پہنچنا تھا۔ لیکن پھر بھی شای کا ماحول بنا ہوا تھا گھر بھر میں۔ محلے والوں نے بھرپور ساتھ دیا تھا۔مجیب صاحب کا۔

بابا۔۔۔! مصروف انداز میں ادھر سے ادھر جاتے مجیب صاحب کو ابرش نے بازو سے پکڑ کے روکا۔

جبکہ وہ آج جان بوجھ کے اسے نظر انداز کر رہے تھے۔

جی میری جان۔۔۔!! انہوں نے بہت جذب کے عالم میں کہا۔

بابا۔۔ ان کے گلے لگ گٸ۔ آنکھیں نم ہوگٸیں ۔ آج اسکی رخصتی تھی۔ اسے آج بابا کو چھوڑ کے جانا تھا۔

وہ گلے لگی تو مجیب صاحب نے آنکھیں بند کرتے اسے اپنے ساتھ لگایا۔ اور اس کے اچھے نصیب کی دعا کرنے لگے۔

بابا۔۔ آج آپ کہیں نہیں جاٸیں گے۔ میرے پاس رہیں گے۔ بچوں کی طرح سر اٹھا کے کہتی۔۔ وہ مجیب صاحب کو بچی ہی لگی۔

کہیں نہیں جاٶں گا۔ آج اپنی گڑیا کے ساتھ رہوں گا۔ لیکن ۔۔شادی ہال تو مجھےہی جانا پڑے گا ناں۔۔ سارا انتظام دیکھنے۔۔۔ آپ ماریہ بیٹی کے ساتھ پارلر چلی جانا۔ اور پھر وہیں سے شادی ہال ۔۔۔ میں آپ کو وہیں ویٹ کرتا ملوں گا۔

مجیب صاحب نے اسکے آنسو بہت پیار سے صاف کیے۔

بابا۔۔۔! بیٹیاں کیوں رخصت کر دیتے ہیں۔۔؟؟ اس نے شکوہ کیا۔

بیٹا۔۔ یہ تو طے ہے کہ ایک دن بیٹی نے اپنے گھر رخصت ہونا ہے۔۔ ہمارے نبیوں کی بیٹیاں بھی رخصت ہوٸ ہیں۔ ہماری کیا اوقات ہے۔۔۔؟؟ وہ مسکراۓ۔

بابا۔۔۔! آج وہ بار بار آنکھیں نم کر رہی تھی۔ اپنی بھی اور مجیب صاحب کی بھی۔

بیٹا۔۔مجھ سے ایک وعدہ کرو۔ چاہے کچھ بھی ہوجاۓ۔۔ اپنا مقصد کبھی نہیں بھولو گی۔ اچھاٸی کا ساتھ ہمیشہ دوگی۔ اور براٸ کے خلاف کھڑی ہوگی۔

چاہے سامنے پھر آپ کا اپنا باپ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔!

سخت الفاظ تھے۔ لیکن لہجہ میں پیار۔

ابرش نے نم آنکھوں سے مکراتے ہوۓ اثبات میں

سر ہلایا۔

وہ نہیں جانتی تھی۔ کہ بہت جلد ہی اس کے ساتھ ایک ایسا معاملہ پیش آنے والا تھا۔ جس میں اس کا کڑا امتحان تھا۔

جای ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *