Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 37)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 37)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
کیا ہوا۔۔۔؟؟ اتنی حیرت سے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔؟؟ پہچانا نہیں کیا۔۔؟؟
ابتسام نےسنجیدگی سےپوچھا۔ لیکن آنکھوں کی چمک مزید بڑھ گٸ۔ دھیرے دھیرے چلتا ابیجان کے پاس آیا۔ ان کی آنکھوں میں ڈھیر آنسو تھے۔ ہاتھ بڑھا کے اسکے گال کو چھوا۔ جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہوں۔ کہ وہ واقعی ان کے سامنے ہے۔ طہرے پے مسکراہٹ آٸ۔ ت ابتسام کے سنے سے لگیں رونے لگیں۔ ابتسام نے انہیں اپنی بانوں میں بھرا آنکھیں موند گیا۔ وہی تو انکی کل کاٸنات تھی۔ ان کا سب کچھ۔
مرنے کی خبر سن کے ان پے کیا بیتی ہوگی۔ وہ سمجھ سکتا تھا۔ اسکی آنکھیں بھی بھیگ گٸیں۔
ابی جان۔۔۔۔! پلیز۔۔ مت روٸیں۔۔ میں آگیاہوں۔۔ ناں۔۔ اب نہیں رونا۔۔۔! بہت پیار سے ان کے آنسو صاف کیے۔ اور انکے ہاتھوں کو چوما۔
ارتسام اور ارحام بے اختیار ہوتے ابتسام کے سینے سے جالگے۔
ارے۔رے۔۔۔۔ ایک ایک کر کے ملو۔۔۔ کیا کررہے ہو۔۔؟؟
ابتسام دونوں کے بیچ میں خود کو اٹکا ہوا محسوس کرنے لگا۔
بہت۔۔ برے ہیں آپ۔۔۔ بھاٸ۔۔۔ بہت زیادہ۔۔ !ارحام بچوں کی طرح رونے لگا تھا۔
بس کر۔۔ جا میری جان۔۔۔ لوٹ آیا ہوں۔۔ اب جتنے گلے شکوے ہیں سب سنبھال کے رکھو۔۔ سب سنوں گا۔ پہلے نکاح کر لو۔۔۔
ابتسام نے حیرانی کی مورت بنے مولوی صاحب کو یکھا ۔ ارحام آنسو پونچھتا واپس بیٹھا۔ ارتسام نے ابتسام کا ہاتھ تھاما۔ اسکے ساتھ لگ کے کھڑا ہوا۔
مولوی صاحب قبول و ایجاب کروا رہے تھے۔ مبارک کا شور اٹھا۔ ایک بار وہ پھر بھاٸ کے سینےسے لگے۔ اپنے اندر کی پیاس کو بجھا رہے تھے۔ ابتسام ان کے پیار اور انکی چاہت پے اندر ہی اندر آسودہ ہو رہا تھا۔
ان سے فارغ ہوتا اس نےلمظ کے سر پے بھیشفقت کا ہاتھ رکھا۔ اور مبارک دی۔ حبیب صاخحب سے بھی بغلگیر ہوا۔ ان سے بات کرنے کے بعد اب اس نے چاروں طرف نظر دوڑاٸ۔ اپنی متاع جان کو ڈھونڈا۔ لیکن وہ وہاں نہ تھی۔
بھاٸ۔۔ مطلع ابر آلود ہے۔۔ گرج چمک کے ساتھ بارش کا بھی امکان ہے۔۔۔ آل دا بیسٹ۔۔۔! ارحام نے مسکراتےہوۓ کان میں گھس کے کہا۔
جبکہ خوشی اسکے چہرے پے صاف دیکھ رہی تھی۔
ایک طرف نکاح ہوگیا۔ اپنی من پسند لڑکی سے دوسری طرف بھاٸ لوٹ آیا۔ ایک کے ساتھ ایک خوشی فری۔۔ ڈبل۔مزہ۔۔۔ خوشی کا.
ابتسام مسکراتا سیڑھیاں چڑھا۔ جبکہ پیچھے مڑ کے ہال کی جانب ایکنظر دیکھا جہاں سبھی خوش تھے۔ ایک دوسرے کے سنگ۔
ابتسام اپنی فیملی کو یوں مکمل اور خوش ہوتا دیکھ اندر تک آسودہ ہوا تھا۔














وہ لوٹ آیا تھا۔۔۔ہاں۔۔ وہ آگیا تھا۔۔
جسے دن رات دعاٶں میں مانگا۔ اپنے رب سے۔۔ وہ لوٹ آیا تھا۔
اللہ اتنا مہربان ہوجاۓ گا۔۔ سوچا نہ تھا ۔ ابرش روم۔میں آتے ہی اپنے ل کو سنبھالتی باتھ روم کا رخ کر چکی تھی۔
واش بینسن پے کھڑے سامنے اپنا عکس شیشیے میں دیکھتے جیسے خود کو یقین لا رہی تھی ان آنکھوں نے اسے ہی دیکھا تھا۔۔
آنسو بہتے جا رہے تھے۔ منہ پے پانی کے چھنٹے مار کے وہ خود کو ہوش میں لا رہی تھی۔ کہ واقعی معجزہ ہوا تھا۔
وہ شخص لوٹ آیا تھا۔ آنکھیں موندےوہ بے اختیار روتے چلی گٸ۔
پھر وضو کرتی باہر نکلی ۔ اور شکرانے کے نفل ادا کیے۔ شوہرکی واپسی پے سب سے پہلے اپنے رب کا شکر ادا کرنا تھا۔ جس نے اسے اسکی دنیا لوٹا دی تھی ۔
سلام پھرتے وہ جو کچھ پل پہلے پھوٹ پھوٹ کے روٸ تھی۔ اب وہاں مکمل سکون تھا۔ دل میں اللہ نے سکون بھر دیا تھا۔ ایک آسودگی کا عالم تھا۔
آنکھیں موندے وہ رب کا شکر ادا کر رہی تھی دعاٸیں کر رہی تھی۔ کہ اپنے اردگرد ابتسام کی مخصوص خوشبو محسوس کی۔
دل بہت سخت دھڑکا۔
وہ تو اسے اسکے احساس سے ہی جان لیا کرتی تھی۔
ابرش نے آنکھیں نہ کھولیں۔ جبکہ اسکے اشک بہنے لگے۔
ابتسام میٹھی نگاہوں سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
وہ واقعی کوٸ عام لڑکی نہ تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ سب سےپہلے اسکے سینےسے آکے لگتی۔ اس سے گلے شکوے کرتی۔ جبکہ یہاں تو وہ سب سے پہلے سجدہ بجا لاٸ۔ اپنے اللہ کے حضور۔۔
شوہر غازی بن کے لوٹا۔ تو ملاقات بعد میں ۔۔ پہلے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوٸ۔ وہ کسیے خو کو خوش نصیب نہ سمجھتا۔ جو اسے ایک بہت ہی خاص نعمت سے اللہ نے نوازا تھا۔
نیک بیوی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔
آنکھیں کھولتی وہ اٹھی جاۓ نماز اٹھاٸ۔ اور ابتسام کو نظر انداز کرتی باہر جانےلگی کہ ابتسام نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
اور اسے کینچ کے اپنے قریب کیا۔
ابرش کی جھکی نظریں اوپر نہ اٹھ رہی تھیں۔ پلکیں لرز رہی تھیں تو دل حلق میں آیا ہوا تھا۔
تیرے یہ بے رخی۔۔۔ جان لےلےگی میری۔۔۔! ماتھےکےساتھ ماتھا جوڑے وہ گھمبیر لہجے میں بولا
ابرش بے اختیار آنکھیں کوھلے اسے دیکھتی اسکے لبوں پے ہاتھ رکھ گٸ۔
کتنی ان کہی داستانیں تھیں اسکی آنکھوں میں۔ ابتسام تو جیسے ڈوب ہی گیا ۔
تین ماہ۔۔۔۔ اٹھارہ دن اور چھ گھنٹے۔۔۔ آپ۔۔۔ مجھ سے دور رہے۔۔۔ ! ان لمحوں میں ایک بار بھی۔۔۔ میں آپ کو یاد نہ آٸ۔۔؟؟
ناچاہتے ہوۓ بھی گلہ زبان پے آگیا۔ ابتسام نے شکر ادا کیا کہ کچھ تو بولی۔
کیا ایسا ممکن تھا ابرش؟؟ اپنے دل سے پوچھو۔۔۔! اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے مزید قریب کیا۔
آپ۔۔۔آپ کو پتہ ہے۔۔۔؟ بابا بھی۔۔؟؟ ابرش نے آنسو ضبط کرتے کہنا چاہا۔
شی۔۔۔۔۔۔ جانتا ہوں۔۔ انکل کی ڈیتھ ہوگٸ ہے۔۔ ابتسام نے اسے رونے سے بازرکھا۔
لیکن اب بس۔۔ میری جان ۔۔اور نہیں رونا۔۔۔! میں آگیا ہوں۔۔ ناں۔۔ سب صحیح ہوجاۓ گا۔۔اب۔۔
آپ بہت برے ہیں۔۔ بالکل مجھے بھول گۓ۔۔۔
ابرش نے اسکے سینے پے دھیرے سے مکا مارا۔ تو وہ مسکرایا۔
کوٸ لمحہ ایسانہیں گزرا۔۔ جس میں تم نہ تھی۔ابر۔۔۔ ہر پل ہر لمحے۔۔ تم ہی تم تھی۔۔ میری دنیا۔۔ میری زندگی۔۔
میری قسمت کے۔۔
ہر اک پرنے پے۔۔۔
میرے جیتے جی۔۔
بعد مرنے کے۔۔
میرے ہر اک کل۔۔
ہر اک لمحے میں ۔۔
تو لکھ دے میرا اسے۔۔۔۔
ابتسام کی آنکھوں کی وارفتگی نے ابرش کے دل کی دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ۔
سارے گلے شکوے زبان پے ہی دم توڑ گۓ۔
سارے راز اسکی آنکھوں سے عیاں ہوگۓ تھے۔
محبت مہرباں جو ہوگٸ تھی۔
ہر کہانی میں
سارے قصوں میں۔
دل کی دنیاکے
سچے رشتوں میں
زندگانی کے سارے حصوں میں۔۔
تو لکھ دے میرا اسے۔۔۔
ابرش اسکے سینےسے لگی بس روۓ جا رہی تھی۔
اے خدا۔۔۔ اے خدا۔۔۔
جب بنا اسکا ہی بنا۔۔۔
اتنے عرصے کی تشنگی نے دونوں کوپور پور تھکا دیا تھا۔ اپنی مضبوط بانہوں میں اسے لیے ابتسام اپنی آنکھیں بند کر گیا تھا۔ وہ اس احساس کو جی رہا تھا۔ اسکی محبت اسکےپاس تھی۔
اسکے چہرے پے آنسو صاف کرتے ابتسام اسے بس دیکھے جا رہا تھا۔
میرے حصے کی خوشی کو ہنسی کو۔
تو چاہے آدھا کر۔۔۔۔۔
چاہے لے لے تو میری زندگی
پر یہ مجھ سے وعدہ کر۔۔۔
اسکے اشکوں پے غموں پے
دکھوں پے اسکے ہر اشک پر۔۔۔
حق میرا ہی رہے ہر جگہ ہاں ہر گھڑی عمر بھر۔۔۔
ہر وقت ہو یہی۔۔۔
وہ ہے مجھ میں ہی۔۔۔
ہو جدا کہنے کو۔۔۔
بچھڑے نہ پر کبھی۔۔۔
ابرش نے ابتسام کے ہاتھوں کو تھاما۔ اور لبوں سے لگا لیا۔
اے خدا۔۔۔ اے خدا۔۔
جب بنا اسکا ہی بنا۔۔۔۔
آپ سے دور نہیں رہ سکتی میں۔۔ اب۔۔۔ اور کہیں نہیں جانے دوں گی آپ کو اب کبھی۔۔۔
دوبارہ سے اسکے سینے سے لگی۔ ابتسام دھیرے سے مسکرا دیا۔
ابر۔۔۔۔ ! میں نے اپنی زندگی کے لیے ہمیشہ مضبوط لڑکی کے لیے ہی سوچا تھا۔۔۔ کیوں؟؟ کیوں کہ میں مضبوط ہوں۔۔ اپنے ملک کے لیے۔۔ اپنے وطن کے لیے۔۔۔! اب کی بار ابتسام کا لہجہ جنونی ہوا۔
جانتی ہو۔۔ جب۔۔ آرمی جواٸن کی۔ تو مقصد ۔۔ اپنے دشمن کو موت کےگھاٹ اتارنا تھا۔
تب اتنا سمجھتا نہیں تھا۔ کہ ایک فوجی ہوتا کیا ہے۔۔؟
أسکا اصل مقصد کیا ہے۔۔۔؟
لیکن۔۔ جیسے جیسے وقت گزرا۔۔ احساس ہوا۔ سمجھا جانا۔۔۔ کہ میں نےتو۔۔ ایک ایسی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔۔ جہاں صرف ملک اور اسلام کے دشمنوں کو صفہ ہستی سے مٹانا ہے۔۔ اپنےملک کے لیے لڑنا ہے۔۔ نہ کہ اپنے زاتی دشمنوں سے بدلہ لینا ہے۔۔ اور جس دن یہ۔۔۔ بات عقل کے پردوں میں سماٸ۔ اسی دن۔۔ اپنے دشمن کو خیر آباد کہہ دیا۔ میں اپنے وطن کے لیے اپنا آپ قربان کرنے کے لیے آگے بڑھتا چلا گیا۔ جبکہ بدلہ تو کہیں بہت پیچھے چھوڑ آیا۔
آج وہ ابرش پے پرت در پرت کھل رہا تھا۔ ابرش اسے سنے گٸ۔
وقت گزرتا رہا۔ دل میں ایک کسک تھی۔ کہ میرے ماں باپ کا قاتل زندہ ہے۔
لیکن۔۔۔ ہمارا مذہب اسلام۔۔ یہ تو سکھاتا ہی نہیں۔۔ کہ جب اللہ اور اسکے رسول کی راہ میں نعرہ تکبیر بلند کرو۔۔ تو اپنے مفاد کو آگے رکھو۔
میں نے اپنے وطن کو آگے رکھا۔ اپنی فیمیلی سے بھی آگے۔۔ اور۔۔شاید اللہ کو بھی یہ ادا پسند آگٸ۔ جب ملک دشمنوں پے شکنجہ تنگ کرنے لگا تو اس میں جنید خان کا نام سر فہرست آیا۔
ابر۔۔۔ یقین جانو۔۔ اس دن اللہ کو بہت قریب سے جانا۔۔۔ میں نے جو کام اللہ کی راہ کے لیے شروع کیا۔ اللہ نے مجھے میری منزل تک راہنماٸ فرماٸ۔
ابرش گم صم اسے سنے جا رہی تھی۔ اسکا جذبہ ایمانی اسے کچھ بھی کہنے سے باز رکھ رہا تھا۔
آج ۔۔ واپس لوٹا ہوں۔۔ تو پورے فخر۔۔ کے ساتھ۔۔ اس ملک دشمن کا خاتمہ کر کے۔۔
لہجہ میں سختی تھی۔
اگر بدلہ لینا ہوتا۔۔تو۔۔ اسے زندہ رکھتا ۔۔ ہر روز ایک نٸ موت دیتا۔۔ لیکن۔۔۔ نہیں کر سکا۔۔۔ اپنے اللہ کو ۔۔ناراض نہیں کر سکا۔۔۔!
ابرش کے ہاتھ تھامے وہ لب بھینچے ضبط کیے کہنے لگا۔
ابرش نے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔ آپ۔۔۔ ایک سچے فوجی ہیں۔۔ جذبہ ایمانی سےمعمور آپ کا دل مجھے آپ سے مزید عقیدت پے اکسا رہا ہے۔۔
ابر۔۔۔! گھمبیر لہجہ میں اسے پکارا تو ایک بار دل بہت زوروں سے دھڑکا۔
مجھے ایک وعدہ دو۔۔۔ فوجی کی زندگی او موت کا کوٸ بھروسہ نہیں۔۔ بس۔۔ ایک وعدہ کرو۔ ہمیشہ ہر حال میں میرا ساتھ دو گی۔۔ مضبوط ابرش کی طرح۔۔ ناکہ۔۔ ایک کمزور لڑکی کی طرح۔۔۔!
سپاٹ انداز میں اس سے وعدہ لیا۔
میں۔۔ میں ۔۔ آپ کے بنا۔۔۔ نہیں رہ سکتی۔
ابرش کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
ابر۔۔۔! تم۔۔میری فیملی۔۔۔میرا سب کچھ ہو۔۔۔ تم سب ہ تو میں ہوں۔۔
لیکن۔۔ میرا وطن۔۔ میرا عشق ہے۔۔جنون ہے۔۔ اس سے آگے کوٸ نہیں۔۔ شہید ہونے کی تمنا ہے میری۔۔۔ تو دل بڑا کرو ابرش۔۔۔!
لہجہ میں وطن سے محبت کی سرشاری تھی۔ پھر سے اس پاگل کے آنسو صاف کیے۔
تو پھر سے اسکے سینے سے جا لگی۔
ابتسام نے اسے اپنی بانہوں میں سمیٹا۔
اور پرسکون ہوتے آنکھیں موند لیں۔ ابرش کی خاموشی کو وہ سمجھ گیا تھا۔ وہ اس کے ہر فیصلہ میں اس کے ساتھ تھی۔
دروازے پے ناک ہوٸ تو دونوں چونکے۔
ارحام مسکاتا اندر داخل ہوا۔ ابرش نے رخ پھیر کے آنسو صاف کیے۔
دو ۔۔ ہنسو کے جوڑے کی پراٸیویسی میں خلل ڈالنے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔۔ نیچے آپ دونوں کو بلایا جا رہا ہے۔ بلکہ بے صبری کا عالم ہے۔
ارحام کے چہکنے پے ابرش نے اسے مسکرا کے دیکھا۔ ابتسام کی غیر حاضری میں سب سے زیادہ خیال اسی نے رکھا تھا۔
تم چلو۔۔ ہم آتےہیں۔۔ ! ابتسام نے مسکراتے ہوۓ کہا
نہ نہ۔۔۔ میں لے کے جاٶں گا۔۔ آرڈر ہے سختی والا۔ چلیں۔۔۔ ! کہتے ہی ابتسام کا بازو تھاما۔ اور ابرش کے لیے راستہ چھوڑا۔
لیڈیز فرسٹ۔۔۔۔سر جھکا کے کہا۔
ابرش نفی میں سر ہلاتی باہر نکلی۔
یار بھاٸ۔۔۔ ! یہ۔۔ داڑھی مونچ کیوں رکھ لیں ہیں۔۔؟؟ وہ بھی اتنی لمبی۔۔۔؟؟ اوپر سے بال بھی بڑھا لیے۔۔؟؟ لگتا ہے۔۔ آپ نہیں کسی اورکو پکڑ کے لے کے جا رہا ہو۔
چلتے ہوۓ ارحامنے اپنی راۓ سے بھی نوازا۔
کیوں۔۔ اس یں زیافہ ہینڈسم نہیں لگ رہا۔۔؟؟
ایک آنکھ ونک کرتےپوچھا۔
یہ بات ناں۔۔ آپ بھابھی سے پوچھنا۔۔۔ ارحامنے سرگوشیانہ انداز میں کہا۔
ہال میں ان کے پہنچتے ہی سب نے تالیوں سے ان دونوں کابھرپور استقبال۔کیا۔
کافی بڑے ساٸز کا کیک وہاں رکھے وہ انکا ویٹ کر رہے تھے۔
پلیز بھاٸ۔۔۔بھابھی۔۔ آجاٸیں کیک کٹ کریں۔۔
ارتسام۔نے کیمرہ اٹھاتے ان سے کہا۔
لیکن۔۔ ہم۔۔ کیوں۔۔؟؟ نکاح ارحام لمظ کا ہوا ہے تو کیک بھی۔۔؟
آپی۔۔ ہم سب کی خوشیاں آپ سے اور ابتسام بھاٸ سے جڑی ہیں۔۔ یقین جانیں۔۔ نکاح سے زیادہ خوشی۔۔ ابتسام بھاٸ کے واپس لوٹ کے آنے کی ہے۔
لمظ نے ابرش کا ہاتھ تھام کے آگے کیا۔ دوسری طرف سے ابتسام سکے ساتھ آن کھڑا ہوا۔ ابی جان نے مسکراتے ہوۓ انہیں دیکھا ۔ آنکھوں میں آٸ نمی کو صاف کیا۔
اور اللہ سے اپنی فیملی کے یونہی سدا مسکرانے اور خوشیوں کی دعا کی۔
کیک کٹ ہوا۔ سب سے پہلے ابیجان کو کھلایا گیا۔ اچھا خاصا شور کیا۔ سب کے چہرے اندرونی خوشی سے جگمگا رہے تھے۔
ارحام کیک کھا کم رہا تھا۔ سب کے چہروں پےلگا زیادہ رہا تھا۔
ابیجان کو بھی اس نے اپنی شرارتوں میں شامل کر لیا تھا۔
علیشا اور عذراپھپھو منہپے جھوٹی سماٸل لیے ان کے پاس ہی کھڑی تھیں۔
کوٸ فاٸدہ نہیں ہوا۔۔ جنید خان سے ہاتھ ملانے کا بھی ۔۔ کچھ نہیں بگاڑ سکا وہ انکا۔۔۔ دیکھ لو۔۔۔ سب کتنے خوش ہیں۔۔
عزراپھوپھو نے جلتےہوۓ کہا۔
اماں۔۔ اس سے پہلے کہ ہم پھنسیں۔۔ یا یہ راز کھل جاۓ کہ جنید خان کو ساری خبریں گھر کی ہم پہنچاتے رہے ہیں۔ ۔۔۔ ہمیں یہاں سے نکل لینا چاہیے۔
علیشا نے زیرلب کہا۔
صحیح کہہ رہی ہو۔۔ اب تو ابتسام بھی لوٹ آیا ہے۔۔ اس نے تو ہمیں چھوڑنا ہی نہیں۔۔۔
دونوں آپس میں سر جوڑے لگی تھیں۔ لیکن ابتسام کی نظروں سے بچ نہیں پاٸیں تھیں۔
اتنےمیں ابتسام کے نمبر پے کال آٸ۔ وہ مسکراتا ایکسکیوز کرتا ساٸیڈ پے ہوا۔ فون کان کے ساتھ لگایا۔
لکن آگے کی خبر سن اسکے ہوش و حواس جاتے رہے۔
اسکے چہرے پے غیر معمولی سنجیدگی دیکھتے وہ سبھی ایک پل کو چپ سے ہوگۓ۔
وہ۔۔۔۔وہ ٹھیک ہے۔۔؟ ابتسام کو اپنی آواز بھی کسی گہری کھاٸ سے آتی سناٸ دی۔
sir… he is no more….
آگے کی آواز سنتے وہ لڑکھڑایا تھا پاس کھڑے ارتسام نے فوراً تھاما۔
بھاٸ ۔۔کیاہوا۔۔۔؟ لہجہ میں پریشانی تھی۔
فہد۔۔۔۔؟ مجھے۔۔۔ جانا ہوگا۔۔۔! ابتسام کا لہجہ بھی ٹوٹا تھا۔ اور وہ خود بھی۔
بھاٸی۔۔ ہم بھی آپ کے ساتھ۔۔۔؟؟
أرتسام نے بولنا چاہا۔
نہیں۔۔ تم لوگ نہیں جا سکتے۔۔۔ سب کا خیال رکھو۔۔۔ میں جلد ہی واپس آجاٶں گا۔۔
کہتے ہوٸے ابی جان کے پاس آیا۔
ابی جان اجازت ہے۔۔۔؟؟ وہ ہمیشہ ان سے اجازت لے کے مشن پے جا یا کرتا تھا۔
جاٶ۔۔ بیٹا۔۔۔ ! وطن کی راہ میں یا تو شہید بن کے لوٹو۔۔ یا غازی بن کے۔۔۔ ابیجان کو آپ پے ہمیشہ فخر رہے گا۔۔۔
بہت پیار سے ہمیشہ والے جملے ادا کیے۔
ایک نظر ابرش کو دیکھا ۔ جس کے چہرے پے درد اور سماٸل ایک ساتھ تھی ۔ وہ جن قدموں سے گھر میں داخل ہوا تھا۔ انہی پے لوٹ گیا تھا۔















سر۔۔۔۔ لاش پوری طرح جھلس گٸ ہے۔۔۔ ! پہچاننے میں بھی نہیں آرہی ۔۔۔! وہاں پہنچا تو یہ الفاظ سننے کو ملے۔ ایک پل کے لیے سختی سے آنکھیں موند لیں۔
اور نہیں تو کیا۔۔ جب دیکھو کورٹ مارشل کورٹ مارشل کرتے رہتے ہیں۔۔ جیسے کورٹ مارشل جیب میں لے کےگھوم رہے ہوں۔۔ اور وقت پڑتےہی ہمارے منہ پے ماریں گے۔
ابتسام کی آنکھو ں سے آنسو بہہ نکلے۔
اور میری شادی کا کیا۔۔۔؟؟ اماں حضور نے ناں۔۔ اب ان کرنل کو نہیں چھوڑنا۔۔۔ ہاۓ لگتا ہے۔۔ کنوارہ ہی مر جاٶں گا۔۔۔ ؟؟؟
ہر طرف دھواں تھا۔ جو آنکھو ں میں چبھ رہا تھا۔
ارے۔۔ سوری یار۔۔۔ غلطی ہوگٸ۔۔ فکر نہ کرو۔۔ اتنی جلدی چھوڑ کے نہیں جانے والا۔
فہد کے کہے الفاظ کی بازگشت ہر سو ہو رہی تھی ۔ لیکن لب اسکے خاموش تھے۔ اتنی ہمت نہ ہورہی تھی۔ کہ آگے بڑھ کے لاش سے کپڑا ہٹا کے دیکھ لیتا۔
اگر۔۔ اجازت ہو تو۔۔۔ میں اپنی اماں سے مل آٶں۔۔؟ کافی دفعہ فون آچکا ہے۔۔گاٶں میں بے رونقی سی ہوگٸ ہے۔۔ سبھی لڑکیاں انتظار میں ہیں۔۔ کب گھبرو جوان آۓ گا۔۔۔
ابتسام نے رخ پھیرا۔ ہوا کے تیز تھپیڑوں نے اسے اند رتک سلگا دیا تھا۔
آپ ناں۔۔ بہت لکی ہیں۔۔ میرے جیسا دوست آپ کو ملا۔
اسکے آخری الفاظ۔۔۔۔ وہ سب یاد کرتا اپنا دل دکھا رہا تھا۔
تیرے جیسا یار کہاں۔۔۔؟؟
کہاں ایسا۔۔۔ یارانہ۔۔۔۔؟؟
یاد کرے گی دنیا ۔۔۔
تیرا میرا افسانہ۔۔۔۔
لاش کو ہیڈ کوارٹر لے کے جارہے تھے۔ پوسٹ مارٹم کےلیے۔
سر۔۔ آپ کو بھی چلنا ہوگا۔ ساتھ۔
کپٹن داور کے کہنے پے ابتسام نے حیرت سے دیکھا۔
سر۔۔۔! بم۔۔ آپ کی گاڑی میں تھا۔ اور۔۔۔ کپٹن فہد۔۔ آپ کی گاڑی چلا رہے تھے۔۔۔ آپ کو۔۔ چلنا ہوگا ساتھ۔
کپٹن داورنے سر جھکاۓ کہا۔ تو ابتسام کو سب سمجھ آگیا۔
مطلب اس پے شک کیا جا رہا تھا۔ کہ اس نے۔۔ فہد کو۔۔۔؟؟ ابتسام اپنے جذبات پے ضبط کرتا اثبات میں سر ہلاتا ساتھ ہو لیا۔














دروازہ کھولو۔۔۔ کوٸ ہے۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں دروازہ کھولو۔۔۔۔۔!
نگینہ مسلسل چلا رہی تھی۔ لیکن کسی میں جرات نہیں تھی کہ دروازہ کھولتا۔
مین گیٹ کھلا۔ حبیب صاحب اندر داخل۔ہوۓ۔ وہ اکیلے لوٹے تھے۔ اپنی بیٹی کو پیرزاہ منشن ہی چھوڑ آۓ تھے۔ اسکا ارحام سے نکاح کر کے۔
وہ اسے ابی جان کے حوالے کر کے آٸے تھے۔ امانت کے طور پے۔ جب تک کہ یہ نگینہ اور اس کے بھاٸ کا قصہ وہ تمام نہ کر لیتے۔
حبیب صاحب نے کان لپیٹے اور سونے کے لیے چل دیٸے۔
حبیب۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں۔۔ دروازہ کھولو۔۔۔ ورنہ بہت برا ہوگا تمہارے ساتھ۔۔ میرا بھاٸ تمہیں چھوڑے گا نہیں۔۔۔!
وہ اندر بیٹھی کھوکھلی دھمکیاں دیتی رہی۔
حبیب صاحب نے پرواہ نہ کی۔ وہ تو آنے والے وقتکی پلاننگ کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے دوست ایس ایچ او فرحان علی سے بھی بات کر لی تھی۔ انہیں نے مدد کا پورا وعدہ کیا تھا۔
لیکن ۔۔ وہ فی الحال تو نگینہ کو قیدمیں رکھ کے اپنے دل کو ٹھنڈ ک پہنچا رہے تھے۔













وہ رہی۔۔۔! چلاٶ۔۔گولی۔۔۔ !
فاریہ اور شاہان اس وقت پیرزادہ منشن کے بالکل سامنے والی بلڈنگ میں موجود تھے۔ اور انہوں نے رات کا وقت چنا تھا۔ حملے کے لیے۔
جب ابرش ارحام کے ساتھ باہر نکلی گاڑی پورچ میں کھڑی تھی۔ وہ بہت پریشان تھی۔ پریشانی صاف واضح تھی۔ وہ ارحام سے کچھ کہہ رہی تھی۔
تمہارا نشانہ تو اچھا ہے ناں۔۔؟؟ فاریہ کی زبان چلی۔ تو شاہان نے دانت پیس کے اسے دیکھا
میں پولیس والا ہوں۔۔ سمجھی تم۔۔۔!
اسی لیے پوچھا ہے۔۔۔۔! فاریہ کی اگلی بات شاہان کے پیروں لگی سر بجھی۔
اتنی بے اعتباری ہے۔ تو خود مارلو۔۔۔ تم تو شاید ۔۔ نہیں۔۔ شاید نہیں۔۔ یقیناً بہت اچھی نشانے باز ہوگی۔۔۔
غصے سے کہتا شاہان پیچھے ہٹا۔
ارے۔۔۔ میں تو بس ایسے کہہ رہی تھی۔۔ یہ۔۔ گن اصلی ہے ناں۔۔؟؟ یہ ناں۔ہو۔۔۔ گولی لگے۔ اور بعد میں پتہ چلے پولیس مقابلے والی نقلی گن لے آۓ ہو۔۔۔؟؟؟
فاریہ آج نجانے کون سے پولیس کے ساتھ اپنے حساب کتاب پورے کر رہی تھی۔
دیکھو۔۔ اگر تم۔۔ ایک منٹ کے اندر چپ نہ ہوٸ۔ تو اسے تو بعد میں ماروں گا۔ تمہیں پہلے اوپر پہنچاٶں گا۔
شدید غصے کا عالم تھا فاریہ نے ہونٹوں پے انگلی رکھ کے خود کو چپ کرالیا ۔
دماغ خراب کر دیا ہے۔۔۔ شاہان نے نشانہ لیا۔
ابرش کے دل کا۔۔ فاریہ دوربین سے دیکھ رہی تھی ۔
یس۔۔۔ گڈ۔۔۔! اسکا منہ پھر کھلا۔ شاہان نے لب بھینچے۔ ٹریگر پے ہاتھ رکھا۔ گولی چلتی۔۔ کہ۔۔۔؟؟؟
جاری ہے۔
