Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 27)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

اگلے دن وہ سب شام کو لمظ کے گھر پہنچ کے تھے۔ سواۓ ابرش اور ابتسام کے۔

وہ دوونوں ہاسپٹل میں تھے۔ مجیب صاحب کے پاس۔

انکے چیک اپ کے لیے فارن ڈاکٹر نے آج آنا تھا۔ اور ان کے ٹیسٹ کرنے تھے۔ جس میں وہ یہ ڈیساٸیڈ کرتے کہ انکا علاج کس حد تک پاسبل ہے۔۔؟

اس لمحے ابرش نے اپنے بابا کے پاس ہونے کی خواہش کی۔ ابتسام نے اسے اکیلے نہ جانے دیا۔

اس کے ساتھ خود بھی وہ وہیں ہاسپٹل میں تھا۔

یہاں سے فری ہوتے دونوں نے سیدھا مسٹر حبیب کے گھر ہی جانا تھا۔

ابرش نہیں جانتی تھی۔ کہ جس کےگھر رشتہ لے کے جا رہے ہیں۔ وہ اور کوٸ نہیں اس کے چچا جان کی بیٹی تھی۔

ابرش کو تو لڑکی کانام بھی معلوم نہ تھا۔ باپ کی ٹینشن میں وہ نامتک پوچھنا بھول گٸ تھی۔

دو گھنٹے کے بد ڈاکٹر زیدی باہر آۓ۔

ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ مسٹر ابتسام۔۔۔ ! رپورٹس میں ایک دن کا ٹاٸم لگے گا۔

آپ اللہ پے بھروسہ رکھیں۔ اللہ نے چاہا تو سب اچھا ہوگا۔

ڈاکٹر۔۔۔! پلیز۔۔ صرف یہ بتاٸیں بابا۔۔۔؟ بابا ٹھیکہو جاٸیں گے ناں۔۔؟؟

ابرش کا لہجہ نم اور دکھی تھا۔

دیکھیں ہم تو ۔۔ علاج کر سکتےہیں۔۔ فا اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔

بون کینسر۔۔۔۔۔ کا مریض۔۔ شازو نادر ہی صحت یاب ہوتا ہے۔۔۔ او وہ بہت لکی ہوتا ہے۔۔۔

بس۔۔۔ آپ اللہ سے دعا کریں۔۔ معجزے ہوتے دیر نہیں لگتی۔

انہوں نے تسلی تو دی۔ لیکن۔۔ مکمل مطمین نہ کر سکے۔

ابتسام ان کے ساتھ ہی آگے بڑھا۔ جبکہ ابرش مجیب صاحب کے روم کیجانب بڑھی۔

جو مسلسل ایک ٹک چھت کو گھور رہے تھے۔

بابا۔۔۔۔! اپنے آنسو اپنے اندر اتارتی وہ ان کا ہاتھ تھامے وہیں بیٹھ گٸ۔

کیا ہوا۔۔؟ میرا بچہ۔۔۔اتنا کمزور تو نہیں۔۔ کہ اتنی سی بات پے دل چھوڑ دے۔۔۔؟؟

وہ بمشکل اٹھتے ہوۓ بیٹھے۔

یہ۔۔۔ چھوٹی سی بات ہے۔۔۔؟؟ ابرش نے نروٹھے پن سے گلہ کیا۔

بیٹا۔۔۔! زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔۔ جس کا جتنا وعدہ ہوا ہے۔۔ وہ پورا ہونا ہے۔۔۔

پہلے۔۔۔ چلا جاتا تو۔۔۔ آپ کا دکھ لے کے جاتا ۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔ اب دل مطمین ہے۔۔۔! ابتسام بیٹا۔۔۔!آپ کے لیے بالکل پرفیکٹ ہیں۔ وہ آپ کے محافظ ہیں۔

ان پے کبھی بھروسہ نہ توڑنا۔۔۔ہمیشہ ان کا ساتھ نبھانا۔۔۔ !

مجیب صاحب اسے پھر سے پیار سے سمجھانے لگے۔

کیا زندگی پہلے جیسی واپس نہیں ہو سکتی۔۔۔؟؟ ہنستی مسکراتی۔۔۔ سب دکھوں سے آزاد۔۔۔؟؟

ابرش نے انکے ہاتھ پے دباٶ بڑھاتے کہا۔

بیٹا۔۔۔! اللہ کو جو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے ناں۔۔۔ آزماٸشیں بھی اسیکے لیے سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔۔ اور ۔۔۔ اگر دنیا میں ہی سب پا لیا۔ تو آخرت کےلیےکیا بچایا۔۔۔؟؟

یہ دنیا آزماٸش کی جگہ ہے۔۔ آج آزماٸش پے پورا اتریں گے تو آخرت میں اسکا انعام ملے گا ناں۔۔؟؟

اللہ سے دعا کرا کرو۔۔ بیٹا۔۔۔! وہ ہمیں ہر آزماٸش پے ہورا اترنے کی تو فیق دے۔

ہوں تو اللہ کبھی کسی سے غافل نہیں ہوتا۔۔وہ اب جانتا ہے۔۔۔لیکن۔۔ جن کے دلوں پے مہر لگا دے۔۔ اللہ پھ ان سے غافل۔ہو جاتا ہے۔۔۔

کہتے ہوۓ ان کے اپنے آنسو بھی بہہ نکلے۔

اللہ سے رو کے دعا کیا کرو۔۔ بیٹا۔۔۔ اللہ دنیا میں ہی مشکلیں اور پریشانیاں دے۔۔ آخرت میں بخشش کا ساماں کر دے۔۔ آمین

انہوں نے اتنےپیارے انداز میں سمجھایا۔ کہ ابرش کے بے چین ل کو سکون آگیا۔

آگے بڑھ کے باپ کے سینے سے لگی۔ کہ اتنی دیر میں ابتسام اندر داخل ہوا۔ اس کےہاتھ میں شاپرز تھے جن میں میڈیسن جوس اور پھل وغیرہ تھے۔

انکل۔۔۔ اب کیسےہیں آپ۔۔۔؟؟

ابتسام کے لہجے میں عزت اور احترام۔تھا۔

دیر سے ہی سہی لیکن وہ سمجھ گیا تھا۔ کہ یہ شخص اسکے باپ کا جگری دوست ہی نہیں بہت خاص انسان بھی ہے۔ جسکی بیٹی عام نیں وہ خود کیسے عام ہو سکتا ہے۔ اور اتنے اختلافات کے باوجود انہوں نے اسے ابرش کو سونپ دیا۔ بنا ایک لفظ بولے۔۔ بنا کسی گارنٹی کے۔۔ انہو ںنے آنکھ بند کعکے ابرش اسے دے دی۔

تو وہ کیسے نہ ان کی عزت کا انکی کٸیر کرتا۔۔۔۔؟؟

بہتر ہوں بیٹا۔۔۔۔! آپ دونوں خواہ مخواہہی پریشان ہورہے ہو۔۔۔ ! میں بالکل ٹھیک ہوں۔

اپنے اندر کا درد چھپاتے وہ مسکرا کے بولے۔

اللہ آپ کو صحت دے۔ آمین۔

ابتسام نے کہتے ابرش کو چلنے کا اشارہ کیا۔

ابرش نے اثبات میں سرہلاتے بابا کو اللہ حافظ بولا۔

ان کے نکلتے ہی ایک ملازم اور ایک میل ڈاکٹر اندر جا چکے تھے۔ جو چوبیس گھنٹے ان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے میڈیسن سونے جاگنے غرض ہر طرح کا خیال رکھتے تھے۔

گاڑی میں ابرش کی غیر معمولی خاموشی کو ابتسام نے بری طرح محسوس کیا۔

کوٸ بات تھی جو وہ چھپا رہی تھی۔۔۔

لیکن کیا۔۔۔؟؟؟

موڑ کاٹتے ایک اچٹتی نگاہ ابرش پے ڈالی۔

یہ۔۔۔۔یہ کہاں لے آۓ۔۔۔؟ ہم تو ارحامکے رشتے کے لیے جا رہے تھے ناں۔۔؟ پھر یہاں۔۔؟؟

ابرش کا دل اس گھر کو دیکھ بہت سخت انداز میں دھڑکا تھا۔

وہیں لایا ہوں۔ گاڑی سے اترتے جتلانے والےانداز میں کہا۔ ابرش تو سُن ہی رہ گٸ۔ اسے اپنی آنکھو ںپے یقین نہآیا کہ وہ واپس ایک دن اس گھر کی دہلیز پھر سے پار کرنے والی تھی۔

بس فرق صرف اتنا تھا۔

کہ جب دہلیز چھوڑی تب باپ ساتھ تھا۔ آج واپس آٸ تو شوہر ساتھ ہے۔!

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

سیڑھیو ں سے اترتا وہ اکڑ اور غرور کا بادشاہ حبیب شمس تھا۔ شمس خاندان کا واحد ایساچشم و چراغ جس کے لیے دولت شہرت شان و مرتبہ ہی سب کچھ تھا۔ پھر چاہے لیگل طریقہ سے ہو یا ایل لیگل۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم! قدرے اونچی آواز میں کہا۔

سبھی انکی طرف متوجہ ہوۓ۔ نگینہ مسز حبیب شمس کا چہرے پے تو بارہ بجے ہوٸے تھے۔

جی ۔۔ نگینہ۔۔۔ ! مہمانو ں کے لیے چاۓ پانی کا بندوبست کیا۔۔۔؟؟

انکے سلام کے فوراً بعد بیوی سے پوچھا۔

ارے نہیں بہت شکریہ۔۔۔ آپ سے بس ایک درخواست کرنے آۓ ہیں۔

آپ اپنی بیٹی۔۔ لمظ ہمیں دے دیں۔ ہمارے ارحام کے لیے۔۔۔

پاس بیٹھی لمظ کا دل زور سے دھڑکا۔

جبکہ ارحام نے اسے شوخ نظروں سے دیکھا ۔

نگینہ نے آنکھ کے اشارے سے منع کیا۔

وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن۔۔ ۔۔؟؟ کچھ باتیں پہلے طے کر لیں جاٸیں تو زیادہ بہتر ہیں۔۔۔

انکی پراسراربات پے ابی جان سمیت ارحام اور ارتسام بھی چونکے۔ عروش کو بخار تھا۔ وہ نہ آسکی۔

جبکہ ابتسام اور ابرش جلد ہی انہیں جواٸن کرنے والے تھے۔

کیسی باتیں۔۔؟ ابی جان نے سنجیدگی سے پوچھا۔

لمظ میری اکلوتی بیٹی ہے۔۔۔ ! جو بھی میرا ہے ۔۔ وہ سب اسکا ہے۔۔۔ اب۔۔۔ ایسے خالی ہاتھ تو نہیں بیاہوں گا۔۔نہیں۔۔ اچھا خاصا جہیز دوں گا۔ آپ یہ بتاٸیں۔۔ آپ بدلے میں کیا حق مہر لکھ کے دیں گے؟؟ ٹانگ پے ٹانگ چڑھا ۓ اکڑ سے پوچھا۔

ارحام کچھ بولتا کہ ارتسام نے اسکا بازو پکڑ کے روک دیا۔جہاں اس کے ماتھے پے بل پڑے وہیں لمظ کا ل زوروں سے دھڑکا۔

آپ۔۔۔ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔؟؟ ابی جان کو انکا انداز کچھ خاص نہ بھایا۔

وہی جو آپ نے سنا۔۔۔۔! مجھے میری بیٹی کو سیکیور کرنا ہے۔۔ تو آپ تو ہیں بھی اتنے امیر۔۔۔ ! اتنا حق مہرلکھ کے دیں۔ جو پیرزادوں کی شان کو ظاہر کر سکے۔

اک اداۓ بے نیازی سے کہا۔

حق مہر۔۔ خالصتاً لڑکی کا حق ہوتا ہے۔۔ اور وہ جو چاہے وہی لکھا جاۓ گا۔

اسلیے یہ آپ یا ہم نہیں۔۔ لمظ طے کرے گی۔

اچانک سے کان میں پڑی آواز پے وہاں موجود ابھی لوگ چونکے۔

وہ کوٸ اور نہیں۔۔ ہماری ابرش تھی۔

ابتسام کے ساتھ اندر داخل۔ہوتے وہ حبیب صاحب کی آخر کے الفاظ من و عن سن چکی تھی۔ جواب دینا اپنا فرض سمجھا۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم ! ابی جان سوری۔۔تھوڑا لیٹ ہوگۓ۔

مسکر کے کہتی وہ ابیجان کو مطمین کر گٸ۔

تم۔۔۔۔تم یہا ں کیسے۔۔آگٸ۔۔اندر۔۔۔؟؟ نکلو یہاں سے۔۔۔! حبیب صاحب کا پارہ ہاٸ ہوا۔

ایک منٹ۔۔۔۔!یہ آپ میری بیوی سے کسطرح بات کررہے ہیں۔۔ ؟؟ زبان کو سنبھال۔کے بات کریں۔ ورنہ۔۔اچھا نہیں ہوگا۔

ابتسام نے دھمیے لہجے میں وارن کیا۔

بیوی۔۔۔۔؟؟ نگینہ کا چہر ہ حیرانی سے دیکھا۔ انکی بھی کم و بیش یہی حالت تھی۔

یہ۔۔۔یہ لڑکی۔۔۔ آپ کی بیوی۔۔۔۔؟

حبیب صاحب کے لیے یہ خبر کس شاکنگ نیوز سے کم نہ تھی ۔

مسٹر۔۔حبیب صاحب۔۔! ابرش ہمارے خاندان کی بڑی بہو ہے۔۔ اور اسکا رتبہ بھی باقی بہووں سے اونچا ہوگا۔

باقی رہ گٸ حق مہر کی بات۔۔ آپ کی بیٹی سامنے ہے پوچھ لیتے ہیں جو وہ کہے۔

ابیجان ابرش کی ہم خیال ہوٸیں۔

لمظ پےسوا لیہ نظریں ٹکاٸیں تو وہ گڑبڑا گٸ۔

اس بچی سے کیا پوچھتے ہیں۔۔۔؟؟ یہ معاملے گھر کے بڑے طے کرتے ہیں۔۔ بچے نہیں۔۔۔!

فوراً سے حبیب صاحب نے ٹوکا۔

بڑے معاملات نہیں طے کرتے۔۔۔ وہ سودے بازی کرتےہیں۔۔ اور بیٹوں اور بیٹیوں کی بولی لگاتےہیں۔۔

ابرش نے طنز کا ایک اور تیر پھینکا۔

تم۔۔۔ چپ ہو۔۔۔اس معاملہ سے تمہارا کوٸ تعلق نہیں سمجھی۔

غصہ سے منہ بناتے کہا۔

حبیب صاحب کو ابرش کاحق مہر کے بیچ میں بولنا سخت کڑوا لگا۔

اگر آپ کا دل نہیں۔۔۔تو ٹھیک ہے۔۔ آپ جا سکتے ہیں۔

حبیب صاحب نے پہلا پتہ پھینکا۔

ارحام غصہ ضبط کرتا فوراً اٹھا۔ کہ ابتسام نے روک لیا۔

ٹھیک ہے بتاٸیں۔۔ کیا ڈیمانڈز ہیں آپ کی۔۔؟

سپاٹ انداز میں کہا۔

حق مہر۔۔۔ ایک کروڑ۔۔ اور پیرزادہ منشن۔۔میری بیٹی کے نام کریں۔

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کےکہتے وہ وہاں ابتسام سمیت سب کو حیران کرگۓ۔

یہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔آپ۔۔؟؟

آپ جانتے بھی ہیں کہ یہ سب ناممکن ہے؟؟ ابی جان کو غصہ آیا لیکن پھر بھی تحمل کا مظاہرہ کرتے وہ یکدم کھڑی ہوٸیں۔

ہماری پہلی بہو شرعی حق مہر سے آٸ ہے۔ تو ہم۔۔۔؟؟

شرعی حق مہر۔۔۔؟؟ اسکو ہی سوٹ کرتا ہے۔۔۔! جیسی حیثیت ہو گی۔۔بندہ ویسی ہی بات کرے گا۔۔۔

میری بیٹی کسی عام شخص کی بیٹی نہیں۔۔ حبیب شمس کی بیٹی ہے۔۔۔ تو حق مہر اسکی حیثیت دیکھ کے ہی ہوگا۔

بہت اکڑ اور غرور سے کہا ۔

انسان کی حیثیت پیسہ نہں بتاتا۔۔۔۔۔ اسکا کردار ہی اسکی پہچان ہوتا ہے۔۔

کہتے ہوٸے وہ دھیرے سے چلتی آگے بڑھی۔

میرے بابا بھلے ایک امیر انسان نہ بن سکے۔ لیکن۔۔۔ ان کی شخصیت میں وہ اثر ہے۔ جو آج تک آپ اپنے پیے سے بھی نہ بنا سکے۔۔۔! نظروں میں ان کے لیے جو تھوڑی بہت عزت تھی۔ آج وہ بھی ختم ہوگٸ۔

تم یہاں صرف پیرزادہ فیملی کی بہو ہونے کی حیثیت سے ہی آپاٸ ہو۔۔۔ ورنہ۔۔۔میرے ملازم تمہیں اندر نہ گھسنے دیتے۔۔

نفرت اور حقارت سے کہتے وہ سبھی کو سلگا گۓ۔

انف از انف۔۔۔مسٹر حبیب شمس۔۔۔!

باوجود ضبط کے ارحام چپ نہ رہ سکا۔

آپ میری بھابھی کی توہین نہیں کر سکتے ۔ انگلی اٹھا کے وارن کرتے وہ غرایا۔

ہمیں آپ کی کوٸ ڈیمانڈز قبول نہیں۔۔ ! آپ اپنی بیٹی رکھیں اپنے پاس۔۔۔! اور کوٸ اچھا اور امیر گاہک ڈھونڈ کے بیچ دیجے گا۔۔۔ ہمیں نہیں کرنا یہ سودا ۔

ارحام۔۔۔۔۔!

ارحام کے اتنے سخت الفاظ پے ابتسام اس پے چلایا۔

ارتسام نے آگے بڑھ کے ابتسمم کو کول ڈاٶن کرنا چاہا۔

لیکن جو بھی تھا ۔ اس میں لمظ کا کوٸ قصور نہیں تھا۔

ارحام کی بات پے لمظ بری طرح روٸ تھی۔

اگر ۔۔۔ ایسی بات ہے تو ٹھیک ہے۔۔ ایک ہفتےکے اندر تم۔۔۔ لوگوں سے بھی اونچے خاندان میں شادی کر کے دکھاٶں گا اپنی بیٹی کی۔ کارڈ بھیجوں گا۔۔ شادی پے ضرور آنا۔۔۔

حبیب صاحب نے بھی ادھار نہ رکھا ۔

ٹو ہیل ود یور کارڈ۔۔۔۔! ارحام کییہی عادت بہت بری تھی۔ وہ غصہ میں ہر حد پر کر لیتا تھا۔

ارحام۔۔۔! تم ۔۔ جاٶ۔۔یہاں سے۔۔

ابتسام جانتا تھا وہ کس دل سے یہ سب کہہ رہاتھا۔ لمظ اسکی محبت تھی۔ اور وہ اپنی محبت کو ٹھکرارہا تھا۔ صرف کاغذ کے ٹکڑوں اور مٹی کے گھروندے پے۔ اور وہ بھاٸیوں کا بھاٸ نہیں باپ تھا۔

خود پے تق سب سہہ سکتا تھا۔ لیکن بھاٸیو ںپے کوٸ آنچ آۓ وہ اسے کہاں برداشت تھا۔

ہمیںآپ کی ڈیمانڈز منظور ہیں۔۔ ہم ۔۔ ایک ہفتے بعد بارات۔۔۔؟؟

نو۔۔ وے۔۔۔۔! بھاٸ۔۔۔ ! میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والا ۔۔ تو بہتر ہوگا۔۔ آپ ایسا کوٸ فیصلہ نہ لیں ۔ کہ آپ ک بعد میس پچھتاناپڑے ۔

ارحامنے غقہ ضبط کرتے کہا

اور ۔۔ تم سے بھی میں یہی کہوں گا۔۔ ارحام۔۔۔! ایسا کوٸ قدم اٹھانا۔۔ کہ بعد میں پچھتانا پڑے۔

اسی کے الفاظ اسی کو واپس لٹاۓ۔

ابرش کے موباٸیل پے بیپ ہوٸ۔ وٹس ایپ ویڈیو تھی وہ کوٸ۔ لوڈنگ پے تھی۔ ابرش نے موباٸل بیگ میں رکھ دیا۔

بھاٸ۔۔۔! فیصہ ہو گیا ہے۔۔۔ میں یہ رشتہ نہیں کرنا چاہتا۔ آپ سب ابھی کے ابھی میرے اتھ چل رہے ہیں۔

ارحام کے الفاظ پے ابتسام نے غصے بھی نظر اس پے ڈالی۔

ابھی تم اتنے بڑے نہیں ہوۓ۔ کہ فیصلے کر سکو۔ ۔۔۔! ضبط کے مارے ابتسام کا چہرہ لال ہو گیا۔

بھاٸ۔۔۔ !ارحام۔۔! پلیز اسٹاپ دس۔۔۔ جو بات کرنی ہے گھر چل کےبھی ہوکستی ہے۔ یہاں تماشا ضرور بنانا ہے۔۔؟؟ ارتسام نے دھیرے سے کہا۔

اسے لے جاٶ۔۔ااتسام فی الحال یہاں سے۔۔۔ !

ابتسام نے غصہ بھری نظر اے ارحام کو دیکھا۔

آپ جو مرضی کر لیں۔ میں نہیں کروں گا۔۔۔

ارحام کو ضد چڑھ گٸ۔

تو میری بھی ایک بات غور سے سن لو۔۔۔ آخری فیصلہ میرا ہوگا۔ سمجھے۔

اور میرا فیصلے کے خلاف جانے کا حق میں کسیکو نہں دوں گا۔ ۔

ہر لفظ پے زور دیتے کہا۔

ابتسام نے اپنی اہمیت واضح کی۔

حبیب صاحب زیر لب مسکراۓ۔

ابرش نے نفرت بھری نظر ان پے ڈالی۔ کسطرح وہ بھاٸیو ں کے بیچ میں پھوٹ ڈال رہے تھے۔

ارحام۔۔۔ بھاٸ جو کہہ رہے ہیں۔ اسے سنیں اور۔۔۔؟؟

نہیں ابی جان۔۔۔! میں ان کے کسی بھی غلط فیصلے میں انکا ساتھ نہیں دوں گا۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔۔ ! پھر چاہے۔۔ کچھ بھی کھونا کیوں نہ پڑے۔

ایک قہر کی نظر لمظ پے ڈالی۔ وہ بے چاری جی جان سے لرز گٸ۔

وہ تو بنا کسی قصور کے ماری گٸ تھی۔

تم گھر۔۔ جاٶ۔۔ ! تم ے گھر چل کے بات ہوگی ۔ابتسام علی پیرزادہ اتنا کمزورنہیں ہوا۔ کہ ایک کروڑ اور ایک پیرزادہ منشن کو حق مہر میں دینے سے سڑک پے آجاۓ گا۔

سر اٹھاتے فخر سے کہتا وہ حبیب صاحب کو لرزا گیا ۔

تو ٹھیک ہے۔۔ آجانا ٹھیک ایک ہفتے بعد بارات لےکے۔۔۔ ! بیٹی بیاہ دوں گا آپ کے بھاٸ کے ساتھ۔

!

حبیب صاحب مسکرا کے بولے۔

ابر۔۔۔ منہ میٹھا کرواٸیں۔

ابتسام نے سنجیدہ انداز میں کہا۔

کسی بھول میں مت رہیے گا۔ بھاٸ۔۔۔ میں مر جاٶں گا۔۔ لیکن یہ شادی۔۔۔؟؟

چٹاخ۔۔۔۔۔! ابتسام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اس کے مرنے کی بات سن کے۔ ضبط چھوٹا تو ہاتھ اٹھا۔

سبھی حیران کھڑے تماشا دیکھتے رہ گۓ۔

ارحام کا غصہ حبٕیب صاحب پے سوا نیزے پے پہنچا۔ جسکی وجہ سے اس پے آج اسکے لاڈ اٹھانے والےبھاٸ نے ہاتھ اٹھایا ۔

آٶٹ۔۔۔۔۔! ابتسام کی دھیمی مگر غراتی آواز۔۔ ارحام نے لب بھیچے اور بڑے بڑے ڈانگ بھرتا باہر نکل گیا۔

ابر۔۔۔۔؟؟ ابتسام نے خود کوکمپوز کرتے ابرش کو پکارا جو بت بنی کھڑی تھی۔

سوری۔۔۔ ابتسام۔۔۔ یہ اس قابل نہیں ۔۔۔! کہ ان سوداگروں کا منہ میٹھا کروایا جاۓ۔ یہ تو۔۔۔۔؟؟

ابتسام کی تیز نظر نےاسکے الفاظ کو بریک لگاٸ۔

وہ جو نفرت سے حبیب صاحب کو دیکھتے ابتسام کی بات کو منع کیا چپ ہی ہوگٸ۔۔ ابی جان نے حیرت سے اسے دیکھا۔

ابتسام نے ملازمہ سےکہا تو وہ منہ میٹھا کروانے فوراً آگے بڑھی۔۔

شاید آپ کے گھر والے خوش نہیں اس رشتے سے۔۔۔!

ابرش نے مٹھاٸ کھانے سے منع کر دیا تو حبیب صاحب نے اسکا بھی ایشو بنایا۔

آپ بے فکر رہیں۔ جتنی سیکورٹی آپ لکھوا رہے ہیں ناں حق مہر کی صورت۔۔ وہ سکھی رہے گی۔ گارنٹی دے تو رہے ہیں۔ اور کیا چاہتےہیں۔۔؟

لب بھنچے بظاہرسپاٹ لہجےمیں کہا۔ جبکہ ارحام پے ہاتھ اٹھانا۔ اسے اندر ہی اندر کھاۓ جا رہا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

گھر پہنچتے ہی ارحام اپنے روم میں جاتےہی توڑ پھوڑ شروع کردی ۔ ہر چیز کو اٹھا اٹھا کے پھینکتا وہ اپنا غصہ اتار رہا تھا۔ جو کم ہونے کی بجاۓ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔

کیسے۔۔۔۔۔ کیسے۔۔ مجھ پےباتھ اٹھا یا بھاٸ نے۔۔۔؟

اس نے اپنے بال نوچنے والے انداز میں کھینچے ۔

اس کا خو دپے سے اختیار کھو رہا تھا۔

میں بھی دیکھتا ہوں کیسے کرواتےہیں۔۔ میری شادی میری مرضی کے بنا۔۔۔

میں بھی ارحام پیرزادہ ہوں۔۔ اپنی بات کا پکا۔۔۔ آپ ہی کا بھاٸ۔۔۔

ضدی۔۔۔

ارحام نے دل ہی دل میں ابتسام کو مخاطب کیا۔

کوٸ نہیں جانتا تھا۔ اس کے دل میں کیاپل رہا ہے۔۔۔؟؟

************

کیاہوا؟ اتنی خوش۔۔؟؟ کیاتیر مارا۔۔۔؟؟

ادیبہ نے فاریہ کو سمکراتے موباٸلمیں گم دیکھا۔ تو پوچھ ہی لیا۔

آج کی رات۔۔۔ پانا ہے کیا۔۔۔

ہونا ہے۔۔۔۔کیا۔۔۔؟؟ کھونا ہے کیا۔۔۔؟

اس نے لہک کے گانا گایا۔

کیا کیا ہے۔۔۔؟؟ ادیبہ کو اس کے انداز سے خوف محسوس ہو ا۔

آج رات وہ ادیبہ کے گھر ہی رکی تھی۔

میڈیا سے بات نہ ہوسکی آج میری۔۔۔!

تو میں نےبھی باقیوی طرح یوٹیوب چینل کا سہارا لیا۔ اور اپنی رپورٹ کو ایک مشہور یو ٹیوبر کو دیکھا دی اس نے مرچ مصالحہ لگا کے اسے پیش کیا۔ اب دیکھنا۔۔ جب یہ ویڈیو۔۔ ابتسام کی وہ سو کالڈ واٸف دیکھے گی۔ تو خود کہے گی۔ اسکا شوہر غلط اور میں فاریہ اختر صحیح ہوں ۔

پوری پلاننگ بتاتے جھولےپےبیٹھی وہ۔

ادیبہ کو اس سے اپنے لیے بھی خطرے کی بو آٸ۔

کامی فاریہ کے بہت قریب تھا۔ یہ بات ادیبہ جانتی تھی۔ لیکن ان دنوں وہ بھی نجانے کہاں غاٸب تھا۔

یا غاٸب کروا دیا گیا تھا۔۔۔۔؟؟ وہ نہیں جانتی تھی ۔ وہ بس سوچ سکی ۔ زبان سے کچھ نہ بولی۔

#####################

کیا ہو گیاتھا۔۔۔؟ ابتسام بیٹا۔۔۔کنٹرول یور سیلف۔۔۔

گھر آتے ہی ابی جان نے غصے سے بھرے ابتسام کو کالم ڈاٶن کرنا چاہا۔

ابی جان۔۔۔۔! آپ۔۔۔ کو نہیں پتہ۔۔ اس وقت۔ ۔۔ اس دل پے کیا بیت رہی ہے۔۔ ارحام۔۔۔۔ اسکو بیٹا۔۔۔ مانا ہے میں نے۔۔۔ اور آج ۔۔۔سب کے سامنے۔۔ مجھے اس پے ہاتھ اٹھا نا پڑا۔۔۔ آپ کو نہیں پتہ۔۔۔ یہاں۔۔ یہاں۔۔ درد ہوا ہے۔۔۔!دل کے مم پے ہاتھ رکھے کہتے اسکا لہجہ نم تھا۔

آپ فکر نہ کریں۔ ارحام سمجھتا ہے۔۔ وہ آپ کو کبھی غلط نہیں کہے گا۔ بپت پیار کرتا ہے وہ آپ سے۔۔۔

ابی جان نے دھیمے انداز میں سمجھایا۔

ابرش نے پانی کا گلاس ابتسام کی جانب بڑھایا۔

ایک سوال تھا اسکی نظروں میں ۔ جسے ابرش نے ایک منٹ میں پڑھ لیا۔

وہ۔۔۔ بابا کے۔۔۔ چھوٹے بھاٸ ہیں۔۔۔۔ ۔۔ لیکن۔۔۔ ہم سے قطع تعلق ہیں۔۔

بہت دھیمی آواز میں کہتے نظریں جھکاٸیں۔

ابتسام نے گلاس تھامتے لبوں سے لگایا۔

واپسی پے ارتسام ان کے ساتھ نہ تھا۔ ہاسپٹل ایک کیس آگیا تھا۔ تو اسے ایمرجنسی میں جانا پڑا۔

اوپر سیڑھیوں کے ایک ساٸیڈپے کھڑے ارحام نے نیچے کا منظر دیکھا۔

لیکن لب بھینچے واپس روم کی جانب مڑا۔

جہاں لمظ کی بے شمار کالز آٸ ہوٸیں تھیں۔

ارحام شدید غصے میں تھا۔ آج پہلی بار اسکے بھاٸ نے اس پے ہاتھ اٹھایا۔ لمظ کے باپ کی وجہ سے۔۔ اور وہ یہ بات بھولنے والا نہ تھا۔

اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ بدلہ لے گا۔

کالز آتی جا رہی تھیں۔ لیکن وہ کان بند کیے لیٹا رہا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

روم میں آتے موباٸل آن کیا تو ایک ویڈیو شو ہوٸٸ۔

وہ یو ٹیوب چینل کی تھی کوٸ۔

جس پے فاریہ اپنی پریگننسی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی تھی۔ اور اپنے ہونے والے بچے کا باپ ابتسام کو بتا رہی تھی ۔ اس کے ہاتھ میں پریگننسی رپورٹ بھی تھی۔

ہوسٹ اس کے حق میں بول رہا تھا۔ اور فاریہ کی دل جوٸ کر رہا تھا۔

کافی مشہور یو ٹیوبر تھا وہ۔

ابش نے لب بھیچنے۔ اتنے میں ابتسام روم میں داخل ہوا۔ ابرش کو موباٸل۔میں سر دیۓ دیکھا۔ تو ٹھٹھکا۔

دھیرے دھہرے چلتا اس کے قریب آیا۔

کیا ہوا۔۔۔؟ اسے یوں گم صم دیکھا ۔ تو پوچھ بیٹھا۔

ابرش نے نم آنکھوں سے موباٸل اسکے سامنے کیا اور ویڈیو پلے کی۔ جیسے جیسے ویڈیو چلتی جا رہی تھی۔ ابتسام کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔

خود پے قابو کرتا وہ آنکھیں بند کرتے واپس کھول کے ابرش کو ایک نظر دیکھا۔ موباٸل ساٸیڈ پے رکھا۔ اور نارمل انداز میں باتھ لینے چلا گیا۔

شاور کےنچے کھڑے ہوتے ٹھنڈے پانی سے وہ اپنے اندر کی آگ بجھانے کی کوشش کرنے لگا ۔

اسے نجانے کیوں لگ رہا تھا ۔ کہ ابرش کچھ خاموش ہے۔۔۔ کہیں۔۔ وہ اس بات پے یقین۔۔۔؟؟ ابتسام کا دل ایک پل کو دھڑکا۔

نہیں۔۔۔!اسے مجھ سے محبت بعد میں ہوٸ ہے۔۔ یقین پہلے کیا ہے۔۔۔ اور اسکا یقین اتنا کمزور نہیں۔۔ کہ ایک جھٹکے سے ٹوٹ جاۓ۔

شاور لیتا واٸیٹ شرٹ اور لوز ٹراٶز میں وہ جب باہر نکلا۔ تو ابرش کہیں نہ تھی۔ اسے پورے روم میں ڈھونڈا۔ وہ نہ ملی۔

ابتسام کا دل کسی انہونی کی وجہ سے بری طرح دھڑکا۔ باہر نکلتا وہ کاریڈور سے ہوتا صحن اور پھر باہر باغیچے تک پہنچ گیا ۔ سب جگہ دیکھتا رہا وہ اسے نہ ملی۔ کسی ملازم سے پوچھ کے وہ اپنا ڈر سچ نہیں ثابت نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ایک دم سے اسے پول ساٸیڈ پے کسی کے ہونے کا احساس ہوا۔ تو میکانکی انداز میں اسطرف بڑھا ۔

پول ساٸیڈ پے ہی وہ اسے نظر آگٸ۔

پول کی ساٸیڈ پے بیٹھی وہ اس میں پاٶں ڈالے ہلا رہی تھی۔ اور پانی کا شور سن رہی تھی۔ ابتسام دل ہی دل میں شکر کرتا اس کے پاس جا بیٹھا ۔

ابرش نے اسکا آنا محسوس تو کر لیا تھا۔ لیکن ظاہر نہ کیا۔

ابتسام بھی اسی کی طرح اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ کچھ پل گزرے کہ ابتسام نے اسکے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھا۔

ابرش نے گردن موڑ کے اسے دیکھا۔ ابتسام سمجھ نہ پایا کہ اس کی آنکھیں کیا کہانی سنا رہی ہیں۔

اگلے پل وہ پھر سے پانی کو دیکھنے لگی۔

یہاں کیوں آگٸ۔۔؟؟ دھیرے پوچھا۔

اندر۔۔۔دل گھبرا رہا تھا۔ ۔ مختصر جواب بنا کسی تاثر کے۔

ابتسام نے دھیرے سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لےکے دبایا۔

تو دونوں کی نظریں پل بھر کو ملیں ۔

چپ کیوں ہو۔۔۔؟؟ ابتسام نے اسکی آنکھو ں میں جھانکتے پوچھا۔

کیا کہوں۔۔ ابتسام۔۔۔؟؟ آج جو ارحام کے ساتھ ہوا۔۔۔وہ نہیں ہونا چاہیے تھا ۔

آپ کو۔۔ ارحام کے فیصلے کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔

وہ جو سمجھ رہا تھا کہ وہ فاریہ کے متعلق کوٸ بات کرے گی۔ ارحام کے بارے میں بات کرتی وہ ابتسام کو حیرت میں ڈال گٸ ۔

خاموشی سے اٹھا۔

چلو اندر چلیں۔ رات بہت ہوگٸ ہے۔۔۔ سپاٹ انداز تھا۔ جو ابرش کو چھبا۔

اور لب بھینچے کھڑی ہوٸ۔

آپ میری بات کو اگنور نہ کریں۔ آپ حبیب صاحب کو جانتے نہیں۔۔ کس قسم کے انسا ن ہیں وہ۔۔۔ ؟؟

ابرش نے تنفر سے کہا۔

ابر۔۔۔۔۔! مجھے نہیں جاننا کہ وہ کیسے انسان ہیں۔۔

Leave thia topic. Come inside…

ماتھے پے دوبل ڈالے وہ آگے کی طرف بڑھا ۔ لیکن ابرش وہیں غصہ سے کھڑی رہی۔

What…?

آٸ برو اچکاۓ۔

آپ غلط کر رہے ہیں۔۔۔!

ناچاہتے ہوۓ بھی لہجہ تلخ ہوا۔ جو ابتسام کو ناگار گزرا۔

ابتسام انہی قدموں پے واپس پلٹا۔

ابر۔۔۔۔ ! میں اپنے بھاٸ کے لیے بہتر فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہوں۔ اور مجھے اس میں کسی سے مشورے کی ضرورت قطعی نہیں ۔

سخت لہجہ۔ اور سخت الفاظ۔

ابرش کو تو سلگا ہی گٸے۔

اوہ۔۔۔۔ اچھھھا۔۔۔۔۔ صحیح۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ جیسے آپ کو بہتر لگے۔۔ کریں ۔ منہ پھیرتے کہا

ابر۔۔۔۔ اندر چلو۔۔۔۔!نفی میں سر ہلاتے ابتسام نے ابرش کا ہاتھ تھاما۔ جو ابرش نے غصے سے زور سے جھٹکا۔

اور پیچھے ہوٸ۔ کہ اسی اثنا میں اسکا پاٶں پھسلا۔ اور وہ پول کے ٹھنڈے پانی میں جا گری ۔

یہ سب صرف ایک لمحے میں ہوا۔ ابتسام اپنا جھٹکا ہوا ہاتھ دیکھتا رہ گیا۔ جبکہ ابرش پانی میں ہاتھ پاٶں ما رنے لگی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *