Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 09)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 09)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
گھر کے باہر ڈراپ کرتا وہ اسکی طرف دیکھ کے مسکرایا۔
آج اندر آنے کو نہیں کہو گی۔۔؟؟؟ تنگ کیا۔
نہیں۔۔۔۔۔! مسکرا کے اسی کے لہجے میں بولتی وہ گاڑی سے نیچے اتر گٸ۔ اتنے میں حبیب صاحب کی گاڑی بھی گھر کےاندر داخل ہوٸ۔ جہنیں دیکھ لمظ کا دل بہت زرور سے دھڑکا۔
بابا۔۔۔۔؟؟؟ لمظ زیرلب بڑبڑاٸ۔
کہاں سے آرہی ہو۔۔؟؟ لہجہ انتہاٸ سخت تھا۔ اسکا سجا روپ دیکھ وہ آسانی سے اندازہ لگا سکتے تھے۔ کہ ہو نہہ ۔۔ وہ شادی پے ہی گٸ تھی۔
لمظ نے تھوک نگلا۔ حبیب صاحب اسکے قریب پہنچ گۓ۔
میں نے پوچھا۔۔ کہاں سے آرہی ہو۔۔۔؟؟ لہجہ اب کی بار زیاہ سخت تھا۔ ارحام فوراً گاڑی سے نکلا۔
انکل ۔۔ یہ میرے ساتھ تھی۔ لمظ نے مڑ کے اسے دیکھا اسے لگا تھا وہ جا چکا ہے۔
تمہارے ساتھ۔۔۔؟؟ ان کے ماتھےپے تیوری پڑی۔
جی انکل۔۔ آج ایک دوست کی انگیجمنٹ تھی۔ تو ہم وہیں تھے۔ واپسی پے سوچا۔۔ ڈراپ کر دوں۔ ارحام نے فوراً بات گڑی۔
لمظ اندر جاٶ۔ انہوں نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ لمظ شکرانہ انداز میں ارحام کو دیکھتی اندر بڑھ گٸ۔
صرف دوستی ہے۔۔۔ لمظ کے ساتھ۔۔ یا دوستی سے بڑھ کے ہے۔۔۔؟؟
بہت گھمبیر لجہ تھا انکا ۔
میں سمجھا نہیں آپ کی بات ؟ ارحام کے ماتھے پے بھی بل نمایا ں ہوٸے۔۔
دیکھو بیٹا۔۔۔ جس سوساٸٹی میں ہم رہتےہیں۔ وہاں۔۔ لڑکے اور لڑکی کی دوستی کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے ۔۔۔ اگر۔۔ تم سیریس ہو لمظ کے لیے۔۔ تو گھر والوں سے بات کرو۔ اور۔۔رشتہ لے کے آٶ۔
حبیب صاحب کے الفاظ پے ارحام کے چودہ طبق روشن ہوگۓ۔
انکل۔۔۔۔!کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔ آپ۔۔؟؟ ایسی کوٸ بات نہیں۔۔۔ اور پلیز۔۔ ایسا کچھ نہ سوچیں۔۔
ارحام نے انہیں دن میں خواب دیکھنے سے ٹوکا۔
تو بیٹا۔۔!اب لمظ سے پھر زرا دور ہی رہنا۔۔۔
حبیب صاحب نے میٹھا سا طنز کیا۔ ارحام لب بھینچتا واپس گاڑی میں بیٹھتا۔گاڑی آگے بڑھا چکا تھا۔
حبیب صاحب کے چہرے پے ایک مسرور کن مسکراہٹ تھی۔















مجیب صاحب کو آٸ سی یو میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ تقریباً سبھی محلے کے باعزت لوگ اور دوست احباب ہاسپٹل میں موجود تھے۔
ابی جان بھی اپنی گاڑی میں گارڈز کے ہمراہ وہاں پہنچیں۔
اور ابرش کو دلاسا دیا۔ وہ تو تھی ہمت والی۔
ڈاکٹر ٹریٹمنٹ کر رہے تھے۔ اور وہ اللہ سے دعا گو تھی۔
اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔ لیکن اظہار نہیں کر رہی تھی۔
ابی جان ارحام کو کافی دفعہ کال ملا چکی تھیں لیکن وہ پک ہی نہیں کر رہا تھا۔
مجبوراً انہیں ابتسام کو کال کرنی پڑی۔
اور اسے ساری بات مختصراً بتا دی۔
ابی جان۔۔۔ آپ کو ہاسپٹل نہیں جانا چاہیے تھا۔ ابتسام ان کے لیے فکر مند ہوا۔
بیٹا۔۔۔ شمس ٹھیک نہیں ہیں۔۔ آٸ سی یو میں ہیں۔۔ اور مجھے ایسا لگ رہا ہے۔۔ میرے علی۔۔ مجھے چھوڑ کے جا رہے ہیں۔۔۔
ابی جان کا لہجہ نم ہو گیا۔
ابتسام نے لب بھینچے۔
کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ آپ گھر جاٸیں۔ میں جلد ہی پہنچتا ہوں وہاں۔۔ لیکن آپ۔۔ گھر۔۔ جاٸیں ابھی۔۔۔ !
ابتسام اپنا کوٹ اٹھاتا موباٸل کان سے لگاۓ بار نکلا۔ بنا کسی سے کچھ کہے گاڑی کو روڈ پے ڈالتا اسکا رخ ہاسپٹل کی جانب موڑا۔












چلیں ابی جان۔۔۔! ایک ملازمہ رضیہ پاس آتے بولی۔ تو ابی جان اثبات میں سر ہلاتیں واپس ابرش کے پاس آٸیں۔
بیٹا۔۔۔! حوصلے اور ہمت سے کام لینا ہے۔۔ ان شاء اللہ کچھ بھی برا نہیں ہو گا۔ لیکن یہ یاد رکھنا ۔۔ اللہ ہمیشہ اپنے بندوں ک ہی آزماتا ہے۔
وہ اسکی ڈھارس بڑھا رہی تھیں۔ اور اس لمحے انکے لب سے ادا ہوۓ الفاظ ابرش کو ٹھنڈی پھوارجیسے محسوس ہوۓ تھے۔
میں چلتی ہوں بیٹا۔۔ کسی چیز کی ضرورت ہو۔۔ ابتسام آرہے ہیں۔ ان سے کہنا۔۔ اور خود کو اکیلا مت سمجھنا۔۔ وہ اسے تھپکی دیتی باپر نکل گٸیں۔
ابرش کی نظروں نے انکا دور تک پیچھا کیا۔ ایک آنسو بہہ کے گال پے گرا تھا۔
اکیلی ہی تو تھی۔۔اتنے ساروں میں بھی وہ اکیلی تھی۔
اسکا اپنا تو آٸ سی یو میں تھا۔ اور۔۔۔ وہ اکیلی تھی۔
ہٹو۔۔۔ہٹو۔۔۔ کہاں ہے۔۔وہ۔۔؟
ایک موٹا ادھیڑ عمر آدمی ہانپتے ہوۓ وہاں پہنچا۔
کیا مسٸلہ ہے۔۔۔؟ اقبال۔انکل نے فوراً ناگواری سے اسے دیکھتے کہا۔
مسٸلہ۔۔۔؟؟؟ یہ ایسے نہیں مر سکتا۔۔ میرا ادھار لیا ہے اس نے۔۔۔۔!وہ شخص بپھرکے بولا۔
ایک لمحے کو تو ابرش کا دل بری طرح لرزا۔
کیا مطلب اس بات کا۔۔۔؟ ابرش ہمت کرتی اسکے سر پے پہنچتے بولی۔
مطلب صاف ہے۔ 40لاکھ روپے قرض لیا ہے اس نے۔ اور اپنے گھر کے کاغذ گروی رکھواۓ۔ کہ پندرہ دنوں میں رقم واپس لوٹا دے گا۔ اب اگر یہ مر گیا تو۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔! دلہن کے روپ میں اسکا بکھرا حلیہ اندر آتے ابتسام کو وہیں ٹھٹھکا گیا۔
خبردار۔! میرے بابا کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو۔۔۔ انگلی اٹھا کے وارن کرتی وہ ابتسام کی سوچوں میں جگہ بناتی چلی گٸ۔ ابتسام اسے پہچان گیا تھا۔
آگے بڑھنے کی بجاۓ وہ وہیں کھڑا اسکا انداز دیکھنے لگا۔
ارے۔۔ میں نے کیا کہنا۔۔ مجھے بس اپنے پیسے چاہیں۔
وہ شخص ماتھےپے تیوی چڑھا کے بولا۔
مل جاٸیں گے۔۔ جاٸیں یہاں سے اب آپ۔۔۔! ابرش نے دانت پیستے کہا۔
دیکھ لو۔۔۔ اگر پندرہ دن تک پیسے نہ لوٹاۓ تو گھر نیلام کر دوں گا۔۔ پھر نہ کہنا۔۔ بتایا نہیں۔۔۔
راجہ قمر بڑے تیکھے انداز میں مخاطب ہوا
ایک بار کی کہی بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔؟ بول دیا ہے ناں۔۔ مل جاٸیں گے۔۔ تو اب یہاں سے جاٶ۔۔۔ ابرش نے غصہ کنٹرول کرتے کہا۔
نہ میں کیسے مان لوں۔۔۔ تم۔۔۔ ہو کون۔۔۔؟ وہ راجہ اب بہت دلچسپی سے ابرش کو سر ے پاٶں تک دیکھنے لگا۔ اور دور کھڑے ابتسام نے اسکی نظر کا بدلتا زاویہ محسوس کر لیا۔
یہ۔۔۔ بیٹی ہے شمس صاحب کی۔
ابرش سے پہلے اقبال انکل بول دیٸے۔
اچھا۔۔۔ اچھا۔۔ اسی کی شادی تھی ناں۔۔۔! کیا نہیں ہوٸ۔۔۔؟؟ بڑے طنز سے پوچھا۔ ابرش نے آنکھیں میچتے خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے باز رکھا۔
ہوٸ یا نہ ہوٸ۔۔۔ تمہیں اس سے مطلب۔۔؟؟ تمہیں تمہارے پیسے مل جاٸیں گے۔ اب جاٶ یہاں سے۔۔
اقبال انکل نے بات کو سنبھالنا چاہا۔
نہیں۔۔ امیں نے کہا۔۔۔ اگر ٹوٹ شوٹ گٸ ہے ۔۔تو۔۔ میں۔۔؟؟
چٹاخ۔۔۔۔
وہ مزید کچھ بولتا کہ ایک زور دار تھپڑ نے اسکی بولتی بند کر دی۔منہ پے ہاتھ رکھے وہ سامنے کھڑے اس چھے فٹ انسان کو دیکھ کے حیران رہ گیا۔
ابتسام نے ایک زور کا دھکا اسے دیا کہ وہ دور جا گرا۔
ابرش سمیت سبھی اس لمحے حیران رہ گٸے۔
ابتسام نے اپنے کف فولڈ کیے۔ اور راجہ قمر کو گریبان سے پکڑ کے اٹھایا۔
تیرے گھر میں بھی ہوگی۔۔ تیری ماں۔۔ بہن۔۔ بیٹی۔۔۔؟؟ ان کے لیے بھی ایسے رشتے ڈھونڈتا ہے۔۔۔؟؟
سرد و سپاٹ انداز راجہ قمر کو اندر تک سہما گیا۔
نن۔۔نننہیں۔۔ مجھے۔۔۔ چھوڑ دو۔۔۔ وہ ہکلاتے ہوۓ ڈرتے ہوۓ بولا۔۔
ابتسام۔نے ایک زور کا مکا اسے جڑ دیا۔ وہ مکا کھا کے دیوار کے ساتھ لگا۔ اپنے منہ پے ہاتھ رکھے وہ باہر کی طرف لپکا۔
ابتسام اپنا غصہ کنٹرول کرتا واپس ابرش کی جانب مڑا۔
یوں تو اتنی زبان چلتی ہے۔۔۔ اور وہ اتنی بکواس کر رہا تھا۔۔منہ کیوں نہیں توڑا اسکا۔۔؟؟
ابتسام نے آڑے ہاتھوں لیا اسے۔
ابرش تو اسکا انداز ہی دیکھتی رہ گٸ۔ بنا پلک جھپکے وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ ابتسام نے لب بھینچے۔
اتنے میں ڈاکٹر آٸ سی یو سے باہر آۓ۔
dont worry. He is out of dannger.
لیکن۔۔۔ پلیز احتیاط کیجیے گا۔۔۔۔ انہیں ماٸنر اٹیک ہوا ہے۔۔۔ انکا خیال رکھیں۔ اور کوٸ پریشان کن بات مت کریں۔ اگر دوبارہ ے اسطرح کی کنڈیشن ہوٸ تو مشکل ہے وہ سرواٸیو کر سکیں۔
ڈاکٹر کہتے آگے بڑھا۔
ابرش نے رب کا شکر ادا کیا۔
ڈاکٹر۔ میں۔۔ بابا سے مل۔۔۔؟؟ ابرش اپنا حوصلہ آج ہار رہی تھی۔ باپ کی تکلیف اسے اند رہی اندر مزور کر ہی تھی۔
ڈاکٹر جاتے ہوٸے رک کے پلٹے۔
تھوڑی دیر میں انہیں وارڈ میں شفٹ کر دیں گے۔ تب آپ مل لیجیے گا۔
اب جا کے ابرش کی جان میں جان آٸ تھی۔ باپ کی اس ناگہانی تکلیف نے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ضبط کر دی تھی۔
مجیب صاحب کو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ لیکن وہ ابھی بے ہوش تھے۔
باری باری کر کے سارے ہی جو مدد کو آۓ تھے حوصلہ اور دلاسا دیتے جا چکے تھے۔
باپ کو صحیح سلامت دیکھ ابرش کے کھوۓ حواس کام کرنے لگے تھے۔
پلٹ کے ابتسام کے پاس آٸ۔
آپ نہ بھی آتے تو۔۔ اسے میں اچھے سے سبق سکھا دیتی۔ لیکن ۔۔۔ آپ نے بیچ میں آکے۔۔ سارا کچھ بگاڑ دیا۔
ابرش واپس پہلے والی ٹون میں آگٸ۔ ابتسام نے ایک آٸ برو چڑھاٸ۔
رٸیلی۔۔۔۔؟ لیکن مجھے تو ایسا کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔؟؟ طنزاً کہتا وہ ابرش کو شرمندہ کرنا چاہا۔
آپ ابھی مجھے جانتے نہیں ناں۔۔ اس لیے ایسا بول رہے ہیں۔۔ جب جان جاٸیں گے۔۔ ابرش مجیب شمس کی بہادری کا اعترارف بھی کریں گے۔
ابرش نے ایک فخرانہ مسکراہٹ اچھالی۔اور پلٹی۔
انتظار رہے گا۔۔۔ کب۔۔۔ موقع ملتا ہے جاننے کا۔۔۔؟
ابتسام نے معنی خیزی سےکہا۔ تو وہ رخ موڑ کے اسکو خشمگیں نگاہوں سے دیکھتی دانت پیسنے لگی۔ ابتسام نے بھی اسے گہری نظروں کے حصار میں لیا۔
ابرش کو اسکا دیکھنا ناگوار گزرا۔ تو رخ پلٹ گٸ۔ اپنے حلیے پے نظر ڈالتی وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتی باپ کے پاس کرسی پے جا بیٹھی۔
ابتسام ا سکے چہرے کے بدلتے زاویوں کو ہی دیکھتا رہ گیا۔
میرا خیال ہے۔۔ آپ کو اب جانا چاہیے۔۔۔ امیر لوگ۔۔ غریبوں کو زیادہ پروٹو کول دیں۔۔ تو غریب مفت میں ہی بدنام ہو جاتے ہیں۔
بنا اسکی طرف دیکھتے وہ اسی کو مخاطب کرتے بولی۔
میں یہاں۔۔ اپنی ابی جان کی وجہ سے ہوں۔۔ اس لیے۔۔ خوش فہمی نہ پالو ۔۔ تو ہی بہتر ہے۔۔
ابتسام نے بھی اسے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔
ایک کڑی نظر ابرش نے اس پے ڈالی اور باپ کی نبض چیک کرنے لگی۔
ابتسام چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا۔ اسے اندازہ نہ ہوسکا۔ وہ مڑی تو ناک کی سیدھ میں ہی اسے پایا۔
یہ۔۔کیا حرکت ہے؟؟ اسکے ماتھے پے تیوری چڑھی۔
کیا ہوا۔۔؟؟ اب کیا حرکت کی میں نے۔۔؟؟
ابتسام انکی فاٸل دیکھتا ابرش سے اچھنبے سے پوچھا۔
بدتمیز انسان۔۔۔! زیر لب کہتی وہ خود ہی دور ہوٸ۔
ابتسام۔نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور سر جھٹکتا باہر نکلا۔
ڈاکٹر سے تمام معلومات لیتا وہ واپس وارڈ کی جانب آیا۔ ۔ بہت دھیرے سے درواہ کھولتا وہ اندر بڑھا کہ۔
ابرش کو باپ کے سرہانے سر رکھے آنکھیں موندے پایا۔
اس لمحے وہ اسے دیکھتا چلا گیا۔
بیٹا۔ ۔ابتسام۔۔!آپ ایک بار مل تو لیں۔۔ یقیناً وہ آپ کے معیار پے پوری اترے گی۔
ابی جان۔۔۔بات معیارکی نہیں۔۔۔ خاندان کی ہے۔۔۔
آپ جانتی ہیں۔۔ہم ۔۔ پیرزادہ فیملی ہیں۔۔ اور میں ایک عام لڑکی کو کیسے اپنی زندگی میں شامل۔کر لوں؟
ابتسام نے انکار کیا تھا۔ صاف۔
بیٹا وہ۔۔ عام لڑکی نہیں۔۔ اگر وہ عام ہوتی تو۔۔۔ آپ کے بابا اسے آپ کے لیے کیوں منتخب کرتے؟
ابی جان۔۔۔ بابا نےکیا سوچ کے۔۔ ایسا فیصلہ لیا تھا۔۔۔ میں نہیں جانتا۔۔ لیکن۔۔ میں کسی بھی عام لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔
ابتسام کے جواب پر ابی جان چپ سی ہوگٸیں۔ علی کو دیا عہد وہ پورا نہ کر پاٸیں تھیں۔ اور خاموشی سے ابرش سے دستبردار ہوگٸیں تھیں۔
وہ جان بوجھ کے ابرش کو ایک ایسے انسان کے ساتھ نہیں جوڑ سکتی تھیں ۔جو اسے ہر روز اسکی زات کا طعنہ دے۔
ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔ جیسے آپ کی مرضی۔۔ لیکن یاد رکھنا ۔۔ ایک دن آپ پچھتاٸیں گے۔۔۔
اس زات پات کے چکر میں آپ ہیرا گنوا بیٹھیں گے۔
دروازہ زور سے کھلنے کی آواز پے دونوں ہی چونکے۔اور آنے والے کو دیکھا۔













واٹ آ پلیزنٹ سرپراٸز یار۔۔۔ ! ارتسام نے شاہد کو گلے لگایا۔
ہاسپٹل وہ کسی کی تیمارداری کرنے آیا تھا۔ کہ اسے بچپن اور اسکول لاٸف کا دوست ارتسام مل گیا۔
الحَمْدُ ِلله …یار۔۔ یوں اچانک۔۔یہاں۔۔۔؟؟ شاہد نے حیرت سے دریافت کیا۔
ڈاکٹر ارتسام کہتے ہیں ناچیز کو۔۔۔! مسکراتے فخر سے کہا۔
اور ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔ شاہد زور سے ہنسا۔ بہت خوشی ہوٸ یار۔۔۔
اچھا وہ ایک تھا ناں اپنا دوست۔۔۔ بلو۔۔۔ یاد ہے۔۔۔؟؟ شاہد نے یاد کرانا چاہا۔
ہاں ۔۔۔ ہاں۔۔ یاد ہے۔۔۔ بلو رانی کو کون بھول سکتا ہے۔ ارتسام بی مسکرا دیا ۔
اس کے کزن کی شادی ہے۔۔۔ دو دن بعد ۔۔ سبھی دوستوں کو اکھٹا کر رہا ہے تم۔بھی چلنا۔۔۔
شاہد نے آفر کی۔
یار۔۔۔ میں کیاکروں گا جا کے۔۔۔؟؟ بن بلاۓ۔۔؟؟
کچھ نہیں ہوتا۔۔ وہ تو ڈھونڈ ڈھونڈ کے دوستو کو اکٹھا کر رہا ہے۔ اور تم جانتے ہو ناں۔۔ کہ گاٶں والے کتنے ملنسار ہوتے ہیں۔ بس۔۔۔ طے ہوگیا۔۔ پرسوں ہم جا رہے ہیں۔ مل کے۔۔ سبھی ۔۔ اور تم بھی چل رہے ہو۔۔۔!شاہد نے اسے زبردستی کہا۔
ارتسام کا ارادہ نہیں تھا۔ پھر بھی ہامی بھرتا ٹال۔گیا۔
لیکن شاید اسکا فون نمبر لینا نہ بھولا۔
ڈاکٹر۔۔ اارتسام۔۔ آپ کے بھاٸ آۓ ہیں۔۔ اس وارڈ میں ہیں۔۔ ! آٸ ڈونٹ نو۔۔ کیا وجہ ہے۔۔؟؟ آپ نے چیک کیا؟
ڈاکٹر فہد نے اشارہ کرتے کہا۔
ڈاکٹر فہد ابتسام۔کو اچھی طرح جانتا تھا۔ اور اسے وارڈ میں دو بار آتا جاتا دیکھ چکا تھا۔ تو ارتسام کو ڈھونڈتا وہ اس تک پہنچا۔
ابتسام کا سن کے ارتسام بنا ایک منٹ کی دیری کیے وہ اس وارڈ کی جانب بڑھا۔












سارا راستہ وہ حبیب صاحب کی بات پے اپ سیٹ رہا۔ اور غصہ آتا رہا۔ لیکن ضبط کرتا رہا۔
وہ یہ تک بھول گیا تھا کہ وہ شادی پے ابی جان کے ساتھ گیا تھا۔ اور انہیں یکسر فراموش کر گیا تھا۔ البتہ انہیں میسج کرنا نہ بھولا تھا کہ وہ ایمرجنسی میں وہاں سے دوست کی طرف نکلاہے۔













بھاٸ۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔۔؟ آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔؟؟ ارتسام۔نے اندر آتے ہی ابتسام سے فکرمندی سے پوچھا۔
ابتسام نے اسکے کندھے پے ہاتھ رکھتے اسے تسلی دی اور مجیب صاحب کی حالت کے بارےمیں بتایا ۔
ارتسام نے دلہن بنی اس لڑکی کی جانب دیکھا۔ جسکی آنکھیں رونے سے سرخ ہوچکی تھیں۔ لیکن ان میں بلاکی کشش تھی۔
ارتسام نے فوراً نظریں پھیر لیں۔
جو بھی تھا۔ وہ ایک نامحرم تھی۔ ابرش کی نظریں پلٹ کے اپنے باپ پے جا ٹہریں۔
ارتسام نے آگے بڑھ کےدوبارہ سے انکا مکمل چیک اپ کیا۔
دیکھیں۔ شکر ہے اللہ کا یہ۔۔ ٹھیک ہیں۔۔ آپ فکر۔مند مت ہوں۔ آپ ۔۔۔ گھر چلی جاٸیں۔
ارتسام نے اسے اس حالت میں دیکھتے اسکے بھلے کے لیے کہا۔
میں بابا کو چھوڑ کے کہیں نہیں جاٶں گی۔ سرد لہجے میں کہا۔
ارتسام نے ابتسام کی جانب دیکھا۔ تو ابتسام نے کندھے اچکاٸے۔کہ میں کیاکہہ سسکتا ہوں۔
دیکھیں۔۔ بات کو سمجھنےکی کوشش کریں۔ مجیب انکل کو کچھ نہیں ہوگا۔۔ میں گارنٹی لیتا ہوں۔ آپ گھر جاٸیں۔ اور چینج کرلیں ۔ یہ جینٹس وارڈ ہے۔ اس طرح اچھا نہیں لگتا۔۔ دبے دبے لفظوں میں ارتسام نے اسے پھر سے سمجھایا۔
ابرش کو بھی اپنی حالت کا ایک دم احساس جاگا۔ تو شرمندہ سی ہوگٸ۔
آپ۔۔۔ میرے بابا۔۔کا خیال رکھیں گے ناں۔۔؟ ابرش نے یقین کرنا چاہا۔
جی بالکل۔۔۔ یہ مجھے بالکل اپنے بابا کی طرح ہیں۔ بھروسہ رکھیں۔ بلکہ۔۔ رات ہوچکی ہے۔ اس وقت آپ۔۔ کا اکیلے گھر جانا بھی مناسب نہیں۔ بھاٸ۔۔۔۔۔؟؟
کہتے ساتھ ہی وہ ابتسام کی طرف مڑا۔ لیکن اسکی خونخوار نظروں کو دیکھتے باقی کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گۓ۔
میں۔۔۔ چلی جاٶں گی۔ آپ بس ۔۔میرے بابا کا خیال۔رکھنا۔۔
ابرش نے آنسو صاف کرتے ارتسام سے کہا۔
ارتسام نے اثبات میں سر ہلایا۔ تو وہ دلہن کے آنچل میں خود کو سمیٹتی باہرکی جانب قدم بڑھا چکی تھی۔
ابتسام نے اسکے جاتے لمحے رخ پھیر لیا تھا۔۔
بھاٸ۔۔ آپ کونہیں لگتا۔۔۔ آپ کو اسکے ساتھ جانا چاہیے ؟؟ ارتسام نے ابتسام کے پاس آتے دھیمے لہجے میں کہا۔
اتسام نے اسے گھورا۔ اور باہرکی جانب قدم بڑھاۓ
جہاں سے ابھی ابرش نکلی تھی۔
ارتسام زیرِ۔لب مسکراتا۔ ۔وہیں شمس صاحب کے پاس بیٹھ گیا۔ اسے انکا خیال۔رکھنا تھا۔













وہ ہاسپٹل سے نکل کے سنسان سڑک پے چلے جارہی تھی۔ کہ گاڑی اس کے پاس آکے رکی۔ وہ چونکی۔
بیٹھو گاڑی میں۔
بنا اسکی جانب دیکھتے ابتسام نے سپاٹ لہجے میں آرڈر لگایا۔
ابرش کو غصہ تو بہت آیا۔ اس کے انداز پے۔ لیکن صبر کے گھونٹ پی کے رہ گٸ۔
اس وقت اسے ویسے بھی مدد کی ضرورت تھی۔ اس لیے خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گٸ۔ ابتسام نے اسکے بیٹھتے ہی گاڑی آگے بڑھا دی۔
ایڈریس بتاٶ۔۔۔؟؟ ابھی بھی بنا اسکی طرف دیکھے کہا۔ تو ابرش نے ایک نظر اس مغرور انسان کی طرف دیکھا۔
بنا کسی بحث کے اسے ایڈریس بتایا ۔
گاڑی سگنل پر رکی۔
ابتسام نے باہر کی جانب دیکھتے ونڈو نیچے کی۔ کہ۔۔
اے ۔۔ اللہ کے نام دے دے۔۔۔ مولا۔ تم دونو ں کی جوڑی سلامت رکھے۔
وہ ہجڑا تھا۔ جو اسکی گاڑی کے پاس کھڑا ہوتا اسے دعا دیتا بولا۔
ابتسام۔نے مڑکے ایک نظر ابرش کو دیکھا۔ دلہن کا بکھرا روپ اس وقت بھی وہ سامنے والے پے بجلیاں گرانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
ابتسام۔نے اس ہجڑے کو کافی زیادہ نوٹ بنا گنے تھما دیٸے۔
اللہ تیرے بھاگ چنگے کرے۔ اللہ تجھے سوہنا سا پتر دے۔ تیری سوہنی دلہن کی طرح کا۔۔۔ اس نے خوش ہوتے دعاٸیں دیں۔
اور یہ پہلی بار تھا کہ ابرش کا دل بہت سخت دھڑکا تھا۔ اور وہ بلش کرنے لگی تھی۔
ابتسام کی نظروں نے اس منظر کو پورے دل سے انجواۓ کیا تھا اپنی نیچر سے ہٹ کے۔
اس سے پہلے کہ وہ ہجڑے سے کچھ کہتا وہ دوسری گاڑی کی طرف جا چکا تھا۔ سگنل کھل گیا تھا۔ ابتسام نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
آپ کو اسے کلٸیر کرنا چاہیے تھا۔۔ ابرش کے لب ہلے۔
کس بات کے متعلق۔۔۔؟؟ ابتسام نے بنا اسکی جانب دیکھے پوچھا۔
یہی کہ۔۔۔۔ ہم۔۔۔ ہسبینڈ واٸف نہیں۔۔۔ ابرش نے اسے دیکھتے کہا۔۔
ہمممم۔۔ میں کہتا اور وہ یقین کر لیتا۔۔ جبکہ رات کے گیارہ بج رہے ہیں۔ تم دلہن کے ڈریس میں میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پے بیٹھی ہو۔ اور میں ۔۔۔ اسے صفاٸیأ ں د
دیتا کہ۔۔ کہ ہم میں کوٸ تعلق نہیں۔۔۔ ؟؟
ابتسام نے اچھا خاصا أسے شرمندہ کر دیا۔
ایک بات۔۔ ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔ ابرش مجیب شمس۔۔۔ ! گاڑی اسکے گھر کے باہر روکتے وہ سپاٹ انداز میں اسکی جانب مڑا۔ جبکہ۔۔ ابرش اسکے یوں مکمل نام لے کے بولنے پے حیرت زدہ ہوٸ۔
میں ابتسام علی پیرزادہ ہوں۔۔ اور میں اپنی زات کی صفاٸیاں کسی کو بھی نہیں دیا کرتا۔
اترو گاڑی سے۔۔ کہتے ساتھ ہی اسے اترنے کا اشارہ کیا۔
ابرش گہرا سانس خارج کرتی گاڑی سے اتری۔
یہاں تک آپ نے ساتھ د۔یا۔ شکریہ۔
ان شاء اللہ۔۔۔۔۔۔ اللہ نے چاہا تو دوبارہ ملاقات نہیں ہوگی۔۔کبھی۔
سختی سے کہتی وہ ابتسام کو غصہ دلا گٸ۔
ہممممم۔۔۔ بہت خوش فہمی ہے۔۔۔؟؟ کہ میں تم سے ملاقات کروں گا۔۔؟؟
اسکی جاتے قدم ابتسام کے طنز نے روک لیے۔ وہ پلٹی تھی۔
نہیں خوش فہمی نہیں اللہ سے دعا ہے۔۔۔ کیونکہ۔۔۔ میری لاٸف میں اور مجھے میرے آس پاس گھمنڈی لوگ نہیں چاہیے۔
ابرش نے بھی اسکی طبعیت اچھے سےصاف کی۔ جس پے وہ اچھا خاصا تلملا کے رہ گیا۔
وہ اندر جا چکی تھی۔ جھٹکے سے گاڑی واپس موڑتا وہ زن سے بھگا لے گیا۔
گھمنڈی۔۔۔۔! زر لب کہتی وہ واپس اپنے گھر کی دہلیز پے تھی۔ اسکا دل بہت بھاری ہو رہا تھا۔ باتھ روم میں جاتے وہ آٸینے کے سامنے کھڑی اپنا دلہن کا روپ دیکھ رہی تھی۔ آنسو بہتے چلے گٸے۔
پانی کے ڈھیر سارے چھینٹے مارتی وہ باہر نکلی۔
آنکھو ں میں اچھی خاصی جلن ہورہی تھی۔ ڈریس چیینج کرتی وہ آج کے سارے دن کے متعلق سوچتی رہ گٸ۔
وقت نے بہت تیزی سے پلٹا کھایا تھا۔ اور وہ وقت کی اس ہیر پھیر کو دیکھتی رہ گٸ تھی۔
جاری ہے














اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیا خیال۔ہے انسپکٹر شاہان چپ بیٹھے گا؟
اپنی راۓ دیں اور دعاٶں میں یاد رکھیں۔














آپ سب نے پوچھا حق مہر کس واقعے سے منسوب ہے۔ ؟ تو میں آپ کو بتانا چاہوں گی۔ یہ ہمارے علاقے کا واقعہ ہے۔جسے تھوڑا ردوبدل کے ساتھ پیش کیا ہے۔
ہم سب تیار ہورہے تھے۔ شادی ہال جانے کے لیے۔ لیکن اتنے میں سننے میں آیا۔ کہ نہیں جانا ۔۔۔ کیونکہ لڑکی والے واپس آرہے ہیں کیونکہ بارات نہیں آٸ۔
میں یہ بھی بتا دوں۔ نکاح مہندی کی رات کو ہو چکا تھا۔ اور جہیز جا چکا تھا۔ جو کافی مہنگا تھا۔ حق مہر لکھ دیا گیا تھا۔ گولڈ اور دس لاکھ ۔
جو بارات والے دن ادا کرنا تھا۔
لڑکے والوں نے فون کیا۔ کہ وہ حق مہر نہیں دیں گے۔ اگر آپ اوکے کریں تو ہم بارات لاٸیں گے۔ ورنہ نہیں۔
یوں بہت ساری باتیں ہوٸیں۔ اور بارات نہ آٸ۔
دلہن پارلر میں تیار ہوٸ شادی ہال کی بجاۓ گھر واپس آگٸ۔
بارات دوسرے شہر سے آنی تھی۔ وہاں انہوں نے اپنے علاقے میں مشہور کر دیا کہ بارات اس لیے نہیں لے کے گۓ لڑکی کسی کے ساتھ بھاگ گٸ ہے۔
سوچیں۔۔ لوگ کس کدھر گری ہوٸ حرکت کرتے ہیں۔ مرنا نہیں سوچا ہوا کسی نے۔۔ کسی کی بہن بیٹی کو بھیڑ بکری سمجھ لیتے ہیں۔
اور آخر میں مختصراً اتنا بتاٶں ۔۔ یہ معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔
لڑکے والے چاہتے ہیں کہ لڑکی والے خلع لیں۔ اور لڑکی والے چاہتے ہیں کہ لڑکا طلاق دے۔
اوراس سب میں اس بے چاری لڑکی کا کیا قصور۔۔؟؟ جو پس کے رہ گٸ ہے۔
اسی لیے میں نے اسی وقت سوچا کہ کم از کم لڑکیوں میں اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے حق کے لیے کھڑی ہوسکیں۔ پھر چاہے وہ عزت کا حق ہو۔۔ وراث میں حق ہو۔۔۔ یا حق مہر ہو۔۔۔!
جزاك اللهُ
