Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 33)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

اب تم۔مجھے سکھاٶ گے۔ کہ کس کا یہ کیس ہے اور کس کا نہیں۔۔؟؟ کرنل کو غصہ آگیا۔

زیادہ بحث کی۔ تو دونوں کو اس کیس سے ڈس مس کر دوں گا۔ کڑک دار لہجے میں کہتے وہ حمزہ کو لب بھینچنے پے مجبور کر گۓ۔

اورا یک بات اور۔۔۔ابتسام کو جو ٹریننگ دی گٸ ہے۔ اس میں اپنی جان کو کیسے بچانا ہے۔ وہ بھی بتایا گیا ہے۔ چھوٹا سا بچہ نہیں ہے وہ۔۔۔ کہ پانی میں ڈوب جاۓ گا۔ منہ بناتے طنز سے کہا۔

سر۔۔۔ اسے گولی بھی لگی تھی۔ حمزہ کا دل دکھا اس بات سے۔

تو۔۔۔؟إ فوجی کو گولی نہیں تو کیا دشمن پھولوں کے ہار ڈالے گا۔۔۔؟ یہ سب ہوتا رہتا ہے۔ اور پھر فوجی جب بھی کسی مشن کے لیے نکلتا ہے۔ اپنی جان ہتھیلی پے لے کے نکلتا ہے۔ وہ اپنے ملک اور قوم کے لیے لڑتا ہے۔ کبھی غازی بن کے لوٹتا ہے تو کبھی شہید کے عہدے پے فاٸز ہوتا ہے۔

اب کی بار لہجہ میں وطن سے محبت تھی۔

ابتسام نے جہاں اتنے اچھے کام کیے وہیں۔اس نے ان دس لوگوں کو زندہ چھوڑ کے غلطی کی۔ جہنوں نے اسے دیکھ لیا تھا۔ اور یہ اس کے خالف جارہی تھی بات۔ جس شعبے سے اسکا تعلق ہے۔ وہ اپنا آپ ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ اوپر سے ضرور اسی کی کوٸ کمزوری ہاتھ لگی ہوگی۔ جو بلال خان اس تک پہنچ گیا۔ جو کہناسکے لیے ماٸنس پواٸنٹ ہے۔

ان دس لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار تو دیا ہے۔ راز راز ہی رہ گیا ہے۔

حمزہ نے ابتسام کا دفاع کیا۔

ہاں۔۔ جانتا ہوں۔۔ بہت تیر مارا ہے۔۔ تم لوگوں نے۔ ! لیکن لگتا ہے۔۔جس سپیڈ سے تم لوگ جا رہے ہو اب اپنا کورٹ مارشل کرواٶ گے۔

ابتسام کے کارناموں کی لسٹ کافی لمبی ہے۔ جہاں سے اسے بال بال بچایا گیا ہے۔ وہ جو لڑکی کیس لے کے کورٹ میں گٸ بھول گۓ۔۔؟؟

کرنل نے غصے اور طنز سے کہا۔

سر وہ لڑکی جھوٹی تھی۔ پھر سے دفاع کیا۔

جھوٹ ہو یا سچ ۔۔ لیکن۔۔ اس نے اپنے آپ کو ڈبونے والا کا م کیا تھا۔ اور ساتھ میں ہمیں بھی۔

فہد کے موباٸل پے میسج ٹون آٸ اسکا خاص آدمی جو ہر وقت جنید خان کے ڈیرے کے باہر پہرہ دے رہا تھا۔ اور پل پل کی رپورٹ بھی فہد کو پہنچا رہا تھا۔

سر۔۔۔۔ دوسرا پوتا پہنچ گیا ہے۔ جنید خان کا۔۔۔ ببر خان۔۔

فہد نے انہیں آپس میں الجھتے دیکھا تو فوراً میسج پڑھتے انفارم کیا ۔

گڈ۔۔۔ اب آیا چوہا بِل سے باہر۔ کمر پے ہاتھ باندھے وہ اتنی دیر میں پہلی بار مسکراۓ۔ اور حمزہ کو بالکل اچھے نہ لگے۔

یاد رکھنا ۔۔۔ وہ ثبوت والی چِپ۔۔۔ ابتسام کے پاس تھی۔ اور وہ ہر حال میں مجھے چاہیے۔ اگلا حکم نامہ جاری ہوا۔۔ وہ دونوں سوچ میں پڑ گۓ۔

اب جاٶ۔۔۔ اور اپنے کاموں پے لگو۔ مجھے دو دن میں یہ کام ختم ہوتا دکھاٸ دے۔

آرڈر دیتے وہ کرخت لہجے میں بولے۔

تو دونوں باہر نکل آۓ۔

آج بابا کچھ زیادہ شنٹی نہیں ہورہے تھے؟ فہد نے منہ بناتے کہا۔ ایک تو ہم سے وہاں ابتسام بھاٸ کی فیملی سے جھوٹ بلوایا۔اور اب ہمیں ڈانٹ بھی رہے ہیں۔۔ ایک طرف تو ظاہر ایسے کر رہے ہیں۔کہ ابتسام بھاٸ نہیں رہے۔ اگلے ہی پل انکی باتوں سے مجھے ایسا لگتا ہے۔جیسے یہ جانتے ہیں ابتسام۔بھاٸ زندہ ہیں۔ اور کہاں ہیں۔ بہت گھنے ہیں۔۔

فہد کو آج اپنے والد کرنل شیخ زمان پے کافی تپ چڑھی تھی۔

شاید ابتسام کے یہاں نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی اپ سیٹ ہیں۔

اتنے دن ہوگۓ ابتسام سر نے رابطہ بھی تو نہیں کیا۔ مطلب۔۔۔ یا تو۔۔۔ زندہ نہیں۔۔؟ حمزہ نے فہد کو گھورا۔ تو وہ سٹپٹا گیا۔

یا ۔۔۔ موباٸیل ان کے پاس نہیں۔۔۔! اگلی بات پے وہ دونوں چونکے۔

اسکا مطلب ہے موباٸل گاڑی میں ہی ہے۔۔ حمزہ نے فوراً سوچا۔

اور اب دونوں کا رخ اس جگہ کی طرف تھا۔ جہاں انہوں نے گاڑی کو چھپایا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

وہ وہاں سے بھاگ تو آیا تھا۔ لیکن ابھی وہ گھر نہیں جا سکتا تھا۔ وہ جانتا وہ لوگ جو بھی تھے۔ اس کے گھر بھی پہنچ جاٸیں گے۔ وہ اپنے ایک دوست کے پاس پناہ کے لیے چلا گیا تھا۔

شاہان۔۔۔ اب کیسے ہو۔۔؟؟

زہیر نے اسے کھانے کے بعد بستر لگا کے دیا۔بخار کی میڈیسن بھی اسے دی تھی۔

بہتر ہوں۔۔ یار۔۔ بس۔۔ یہی سمجھ لے موت کے منہ سے نکل کےآیا ہوں۔۔ شاہان نے دل ہی دل میں رب کا شکر ادا کیا۔

لیکن ۔۔۔ یہ سب ہوا کیسے۔۔۔؟؟ حیرانی سے پوچھا۔

تو شاہان سوچ میں پڑ گیا ۔ وہ لمحے جب برش نے اس پے وار کیا۔ کسی فلم کی طرح گھومنے لگے۔ لب بھینچے وہ آنکھیں موند گیا۔ زہیر جانتا تھا۔ جب تک وہ خود نہیں بتانا چاہے گا۔ وہ نہیں بتاۓ گا۔ اسے آرام۔کرتا دیکھ وہ باہر نکل آیا۔

آنکھیں کھولتا وہ بند دروازے کو دیکھنے لگا۔

میں آرہا ہوں۔۔ ابرش۔۔ اس بار۔۔۔ تمہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دوں گا۔ ا کے اندر بے پناہ غصہ بھرا تھا

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابرش بیٹا۔۔۔ اگر آپ ایسے کریں گیں۔۔ اپنا خیال نہ رکھ کے تو۔۔۔ آپ ہم سب کو تکلیف دیں گیں۔

ابی جان آفس جانے سے پہلے اسکے پاس آٸیں تھیں۔ جو بس کمرے کی ہو کے رہ گٸ تھی۔

ابیجان۔۔۔! مجھے جینے کا دل نہیں کرتا۔ اسکا ٹوٹا لہجہ بکھرا حلیہ اور چہرے کی زردی ماٸل رنگت۔ انکا دل کٹ سا گیا۔

بیٹا۔۔۔! جینا تو پڑے گا ناں۔۔۔؟؟ اب آپ اکیلی نہیں ہیں۔ ایک اور جان جڑ چکی ہے آپ کے ساتھ۔ اس کی خاطر ۔ آپ کو جینا ہے۔۔ اگر ایسے کریں گیں۔ تو ۔۔ اسے بھی کھو۔۔۔؟؟؟ کہتے ہوۓ ابی جان رو دیں۔

نہیں۔۔۔ ابرش تڑپ ہی تو گٸ۔ اور ان کے گلے لگی۔

ابی جان۔۔۔ مجھے ابتسام لا دیں۔۔ مجھے ۔۔۔بابا چاہیے۔۔۔ میں ان دونوں کے بنا۔۔ کیا کروں۔۔؟

اسکا رونا ابی جان کو بھی رولا رہا تھا۔

ابرش۔۔! ابتسام کی جگہ آپ نے سنبھالنی ہے۔ ان کے سارے فراٸض آپ نے پورے کرنے ہیں۔

ایسا مت کہیں۔۔ وہ واپس آٸیں گے۔۔۔!میرا دل کہتا ہے۔

اس نے سر اٹھاتے روتے ہوۓ کہا

جب اتنا یقین ہے۔ تو پھر رونا کس بات کا۔۔۔؟ اٹھو۔۔ چلو۔۔ منہ ہاتھ دھوٶ۔۔ اور نیچے آٶ۔ ب مل کے ناشتےکرتےہیں۔ پھر آپ اور میں مل کے آفس جاٸیں گے۔

ابی جان نے پلاننگ کی۔ ابرش اثبات میں سر ہااتی اٹھی اور فریش ہونے چلی گٸ۔

دل تو میرا بھی نہیں مان رہا کہ ابتسام کو کچھ ہوا ہو۔۔ بس اللہ سے دعا ہے کہ وہ جہاں بھی ہے خیر خیریت سے ہو۔ اور صحیح سلامت جلد از جلد گھر پہنچ جاۓ۔ آمین۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابتسام وہاں سےنکتا کافی دور آگیا تھا۔ وہ اس علاقہ کو جانتا نہیں تھا۔ لیکن اتنے دن یہاں رہ کے لوگوں سے میل ملاپ کر کے وہ اس علاقے اور یہاں سے نکلنے کا راستہ جان گیا تھا۔ اس کے پاس ایک بے کار گن کے سوا کچھ نہ تھا۔ اسکا موباٸیل بھی اسکے پاس نہ تھا۔۔ کہ وہ کسی سے رابطہ کر سکے۔ موباٸل وہ گاڑی میں ہی سیکرٹ جگہ چھپا آیا تھا۔

لیکن وہ رابطہ ابھی کرنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا وہ ایکسپوز ہوگیا ہے۔ جو کہ اسکے حق میں بالکل اچھا نہ تھا۔ بلال خان کا اس تک پہنچنا۔۔اسکی بہت بڑی ناکامی تھا۔ وہ بزنس مین کے روپ میں چھپا ایک محب وطن فوجی تھا۔ اور بلال خان کا اس تک پہنچنا۔۔ مطلب اسکی فیملی تک بھی پہنچنا تھا۔ یہی بات اسے پریشان کر رہی تھی۔ اس لیے بلال خان کو اس نے ایک گولی سے اس جہان فانی سے کوچ کروا دیا تھا۔ لیکن اسکے ساتھ اور آدمی بھی تھت۔ جہنوں نےابتسام کا چہرہ دیکھ لیا تھا۔ ابتسام کو پہلے اس جنید خان سے حساب بے باک کرنا تھا۔ اس کے بعد ہی وہ اپنی فیملی سے ملنا چاہتا تھا۔ تاکہ اس کی وجہ سے اسکی فیملی پے کوٸ آنچ نہ آۓ۔

بلال خان کی موت کے بعد جنید خان پاگل ہوگیا ہو گا۔ یہ سوچ کے ابتسام چلتے ہوۓ مسکرایا تھا۔

لیکن۔۔۔ چپ نہیں بیٹھے گا۔ ۔۔ ضرور ڈھونڈے کا بیٹے کے قاتل کو۔۔۔

جنید خان۔۔زیادہ نتظار نہیں کرواٶں گا۔ آرہا ہوں۔۔ تم جیسے گیدڑ سے ملنے۔۔۔ تمہیں موت کے گھاٹ اتارنے۔

ابتسام نے سڑک پے پہنچتے ایک گاڑی والے کو ہاتھ دے کے لفٹ لی۔

اسکی داڑھی اور مونچھیں اس وقت کافی بڑھی ہوٸ تھیں۔ جسے اس نے خود ہی بڑھا لیا تھا۔ بال بھی کچھ حدتک کانوں سے اب نیچے آرہے تھے۔ اس روپ نے اسکی خوب صورتی ٠کو مزید اجاگر کر دیا تھا۔ اور زیادہ ڈیشنگ پرسنلٹی لگنے لگی تھی۔

سر آپ کو کہاں جانا ہے۔۔؟ اس شخص نے دھیمےلہجےمیں پوچھا۔ وہ اس ہٹے کٹے اور خوبرو جوان کے سامنے تھوڑا دبک سا گیا تھا۔ اس لیے ٹہرے لہجے میں پوچھا۔ تو ابتسام اپنی سوچوں سے باہر نکلا۔ حنزہ اور اپنے خفیہ ٹھکانےپے وہ جانا چاہتا تھا۔ اس کے پاس کے علاقے کا بتاتے وہ اب کی بار ابرش کے خیالوں میں کھو گیا تھا۔ وہ جانتا تھا ۔ ان تک کرنل نے اس کے مرنے کی خبر ہی پہنچاٸ ہوگی۔ سر نفی میں ہلایا۔ کیا حالت ہوٸ ہوگی گھر میں سب کی؟ وہ بس سوچتا رہ گیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابتسام اور ابیجان کی غیر حاضری پے آفس کا سارا کام زلفی دیکھتا تھا۔ ڈیل وہ اور ابی جان کرتے تھے۔ لیکن نام۔۔ ابتسام کا چلتا تھا۔ دنیا والوں کی نظر میں وہ بزنس مین تھا۔ جبکہ درحقیقت وہ ایک جلتا شعلہ تھا۔

جو دشمن کو جلا کے بھسم کر دینے والا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ساری گاڑی چھان ماری لیکن۔۔ موباٸل نہ ملا۔ وہ دونوں تھک ہار کے باہر نکلے۔

کہاں رکھ سکتا ہے ابتسام موباٸل۔

نہیں ملا۔۔۔؟؟ آواز پے وہ دونوں پلٹے۔ انکا سانس جیسے تھما۔

وقت نے بھی جیسے ساتھ چھوڑ دیا۔ حمزہ اپنے جگری دوست کو دیکھتا بے اختیار اسکی جانب بڑھتا اسے بھینج کے گلے لگا گیا۔

میری زندگی سنواری

مجھ کو گلے لگا کے۔۔

بٹھا دیا فلک پے

مجھے خاک سے اٹھا کے۔۔۔

یارا تیری یاری کو۔۔۔۔

میں نے تو۔۔۔۔ جانا۔۔۔

تیرے جیسے یار کہاں۔۔۔۔

کہاں ایسا یارانہ۔۔۔

یاد کرے گی دنیا۔۔۔

تیرا میرا افسانہ۔۔۔

یار بھاٸ مجھے بھی مل۔لینے دو۔۔۔!! فہد نے اپنے جذبات پے قابو پاتے حمزہ سے کہا۔

تو وہ آنسو صاف کرتا الگ ہوا سر جھکاۓ وہ بس اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔ کہ اس نے اسکا بھاٸ جیسا دوست لوٹا دیا۔

تم دونوں تو ایسے رو رہے ہو۔۔ جیسے میری محبوبہ ہو۔۔ ابتسام نے انکا مذاق اڑایا۔

آپ نے اتنے دن بعد رابطہ کیا۔۔۔ کہاں تھے آپ؟ فہد نے دل میں اٹھتا سوال کیا۔

بہت مزے میں تھا۔۔۔ آگے بڑھ کے گاڑی کے فرنٹ کا ڈور اوپن کیا۔ اور اسکی طرف سے ایک سیکرٹ شیٹ اتاری تو اسکے اندر دراز تھا۔دیکھنےمیں ایسا لگتا تھا۔ جیسے وہ گاڑی کا ہی حصہ ہے۔ موباٸل نکال ان کے سامنے کیا۔ یہ رہا۔۔۔ چہرے پے سنجیدگی تھی۔

کمال ہو یار۔۔۔۔! حمزہ نے داد دی۔

اور وہ ثبوت والی چپ؟

فہد نے اگلا سوال داغا۔ موباٸل کے اوپربھی ایک شیٹ تھی۔ اسے ہٹانے کے بعد اسکی ساٸیڈ پے موباٸل کے کلر کے جیسی ہی ایک چیز لگی تھی۔جو بہت زیادہ غور کرنے پے ہی معلوم ہوتی تھی۔ اس پے پھونک مارنے سے اسکا رنگ چینج ہوگیا۔ اور وہ اتر کے ہاتھ میں آگٸ۔

یار۔۔۔۔ یہ۔۔۔ سب۔۔۔ کیسے کر لیا۔۔۔؟؟ حمزہ نے چپ لیتے تعریف کی۔

ان دس لوگوں کا کیا ہوا۔۔؟؟ جہنوں نے مجھے دیکھ لیا تھا۔۔۔؟؟

اب کی بار سنجیدگی سے پوچھا۔

موت کے گھاٹ اتار دیا۔ لہجے میں بلا کی سختی تھی۔

اور پھر فہد نے اسے ساری ڈیٹل دی۔

میں کرنل کو انفارم کر دوں کہ ابتسام ہمارا شیر لوٹ آیا ہے۔

نہیں۔۔ ابھی نہیں۔۔۔ !مجھے جبیند خان سے حساب بے باک کر لینے دو۔ ورنہ کرنل نے اس بے حس اور دشمنِ وطن کو گرفتار کر لینا ہے۔جبکہ میں اسے موت کے گھاٹ اتارنا چاہتا ہوں۔۔ جیسے۔۔ اس نے۔۔۔ میرے ماں باپ کو مارا۔۔۔۔

ابتسام کے اندر آگ بھڑکی ہوٸ تھی۔ جو اتنی آسانی سے نہیں بجھ سکتی تھی۔ جنید خان کے خون کے بعد ہی وہ ٹھنڈی ہوسکتی تھی۔

کیا پلاننگ ہے؟ حمزہ اور فہد بھی سر جوڑ گۓ ۔ اب تینوں مل کے آخری داٶ کھیلنے والے تھے۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابی جان اور ابرش آفس سے لوٹے تو کافی تھک گۓ تھے۔ عروش نے ہاسپٹل جانا شروع کر دیا تھا۔ ابی جان کی اجازت سے ۔ ارتسام اسے ساتھ لے جاتا۔ وہ پڑھتی بھی اور ٹریننگ بھی ہوجاتی۔ اور اس بات سے بےحد خوش کہ ارتسام ہر لمحہ اس سے باخبر رہتا تھا۔

گھر پہنچے تو لمظ کو وہاں د یکھ ابرش کی آنکھیں پھر سے نم۔ہوگٸیں۔

آپ ٹھیک ہیں ناں آپی۔۔؟؟ ابرش کو گلے لگایا۔اور ابیجان کو سلام کیا۔ لمظ خود بھی کافی کمزور لگ رہی تھی۔

ہمممممم۔۔۔۔! تم۔کیسی ہو۔۔۔ایک ساتھ بیٹھتے پوچھا۔

شکر ہے اللہ پاک کا ۔۔۔لہجہ دھیما تھا۔

بیٹا۔۔ آپ باتیں کریں۔ میں آتی ہوں۔

ابی جان ایکسکیوز کرتی اٹھ گٸیں۔

لمظ۔۔! ان کے آخری وقت میں میں ان کے ساتھ نہیں تھی۔۔۔ ! دونوں ہی مجھ سے۔۔۔ روٹھ کے گۓ ہیں۔۔

ابرش پھر سے رو دی۔

پلیز آپی۔۔۔ میں آپ کو یوں نہیں دیکھ سکتی۔ آپ بہت بہادر ہیں۔ اورمیری آٸیڈیل ۔۔۔ پلیز۔۔۔۔

میری بھی آٸیڈیل ہیں بھابھی۔۔۔! ارحام کی اچانک آمد نے دونوں کو چونکایا۔

ابرش روتے ہوۓ دھیما سا مسکاٸ۔ یہ ارحام ہی تھا۔ جو اسے ہر وقت چٸیر اپ رکھتا تھا۔ وہ چچا بننے والا تھا۔ اس بات کی اسے بے انتہا خوشی تھی۔

ڈرا دیا۔۔۔ لمظ پلکیں جھپکاتی رخ پھیر کے بولی۔

میں نے ڈرایا۔ اور لمظ میڈم ڈر گٸیں۔۔؟؟ جیسے میں ڈریکولا ہوں ناں۔۔؟؟ ارحام برا منا گیا۔

ابرش کے نمبر پے کال آرہی تھی۔ جو اس نے دیکھی۔ ان ناٶن نمبر سے کال آتی دیکھ وہ اٹھتی ایکسکیوز کرتی وہاں سے اپنے روم میں چلی گٸ۔

جبکہ ارحام کو آج اتنے دنوں بعد لمظ سے ملاقات کا بہانہ مل گیا۔

ہیلو۔۔۔؟؟ موباٸل کان سے لگایا۔ لیکن جواب ندارد۔۔

نمبر دیکھا۔ کال جا رہی تھی۔

ہیلو۔۔۔؟؟ کون۔۔؟؟ اب کی بار دل تھوڑا دھڑکا۔

کال بند ہوگٸ۔ ابرش کا دل مسلسل دھڑک رہا تھا۔

ابتسام۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے کیوں لگا۔۔۔ یہ وہی ہیں۔۔؟ دوبارہ اسی نمبر پے کال۔ملاٸ۔

لیکن کال نہ ملی۔ وہ نمبر کسی کے استعمال میں نہ تھا۔

یہ۔۔۔یہ آپ ہی تھے ابتسام۔۔۔۔! میرا دل کہہ رہا ہے۔۔ آپ ہی تھے۔ اچانک سے ابرش کی نظر واٸس میسج پے چلی گٸ۔ یہ تو۔۔۔ بہت۔۔ پرانا ہے۔۔؟؟

ابتسام۔۔۔نے مجھے۔۔۔ ؟؟ میں نے دیکھا کیوں نہیں۔۔؟؟

ابرش کو لگا اچانک اسکا خون سیروں بڑھ گیا ہو۔

آن کیا۔ آواز کانوں سے ٹکاٸ۔

ابر۔۔۔۔! آواز سنتے ابرش نےآنسو روکتے آنکھیں بند کیں۔ اتنے دنوں بعد آواز سنی۔

ابر۔۔۔ میں۔۔ اس وقت۔۔ زندگی اور موت کے منہ میں ہوں۔۔ نہیں جانتا زندہ ۔۔۔۔ زندہ لوٹوں گا۔یا۔۔ شہید ہو کے۔۔۔ ! آواز سے ایسا محسوس ہو رہا تھا۔ کہ وہ گاڑی ڈراٸیو کر رہا ہے۔ اور مشکل۔میں پھسا ہے۔ ابرش کو لگا ابتسام مشکل میں نہیں بلکہ وہ خود ہے۔

مجھے۔۔۔ معاف کر دینا۔۔۔ اگر

۔ لوٹ نہ سکا۔۔۔ تو۔۔

میں رہوں نہ رہوں۔۔ میری وفاٸیں ہمیشہ۔۔ تمہارے ساتھ رہیں گیں۔

میرے جیتے جی ۔۔۔ بعد مرنے کے۔۔ ہر سانس میں صرف تم۔۔۔ !!

سب کا خیال رکھنا۔۔اور اپنا۔۔۔ بھی۔۔ میرے لیے۔۔۔! آٸ لوو یو سو مچ۔۔۔

آواز بند ہوگٸ۔

ابرش پھوٹ پھوٹ کے رودی۔

میری وفاٸیں یاد کرو گے۔۔۔

روٶ گے۔۔۔ فریاد کرو گے۔۔۔

نہیں۔۔۔ آپ لوٹ کے آٶ گے۔۔ مجھے یقین ہے۔۔۔آپ واپس آٶ گے۔۔۔ میں نے تو ۔۔آپ کے ساتھ جینا سیکھا۔ محبت کو سمجھا۔۔۔۔ جانا۔۔۔ پلیز لوٹ آٶ۔۔۔ لوٹ آٶ۔۔۔۔!

آنسو ایک بار پھر سے بہنے لگے۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابی جان نے آج اتنے دن بعد دراز میں سے تصویر نکالی۔ ایک کے بعد دوسری ۔

پہلی تصویر میں علی اور عثمان تھے ایک ساتھ۔

جب وہ ڈاکٹرز بن کے لوٹے تھے۔ کتنے پیارے دن تھے۔

دوسری تصویر میں علی اور انکی اہلیہ تھیں ۔ ان کی شادی کی تصویر۔

آنکھو ں میں آنسو بہہ نکلے۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ انہیں نہیں بھولیں تھیں۔ اپنوں کو کون بھول سکتا ہے۔۔۔؟؟

ابتسام کی پہلی سالگرہ تھی۔ اس نے نیا نیا چلنا سیکھا تھا۔ کتنے دھوم دھام سے انہوں نے سالگرہ کی تھی۔

لمحات فلم کی طرح آنکھوں میں چلنے لگے۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

کچھ گیت لبوں پے سجتے ہیں۔۔۔۔

کچھ ساز دلوں میں بجتے ہیں۔۔۔

جب تم۔۔ آجاتے ہو۔۔ سامنے۔۔۔۔

جب تم آجاتے۔۔۔ ہو۔۔۔ سامنے۔۔۔

علی اور رخسار ابتسام کو چوم رہے تھے۔ اس سے بہت پیار جتا رہے تھے۔ اور کیمرہ کلک پے کلک کیے جا رہا تھا۔

شام سویرے دیکھوں تم کوکتنا سندر روپ ہے۔۔۔۔۔

سنگ تمہارا ٹھنڈی چھایا۔۔۔ باقی دنیا دھوپ ہے۔۔

موسم بھی رنگ بدلتے ہیں۔۔۔۔

سو دیپ نگر میں جلتے ہیں۔۔۔

جب تم آجاتے ہو۔۔سامنے۔۔۔۔

سن کے ایسی باتیں جانے کیوں آنکھیں جھک جاتیں ہیں۔۔۔۔

کچھ باتیں ہونٹوں تک آکے جانے کیوں رک جاتی ہیں۔۔؟

یہ جیون اچھا لگتا۔۔۔

ہر سپنا سچا لگتا ہے۔۔۔جب تم آجاتے ہو سامنے۔۔

سات سمندر سے بھی گہرا دیکھو اپنا پیار ہے

اس گھر میں اب ہر پل ہر دم خوشیوں کا تہوار ہے۔۔

وہ گذرے پل یاد آتے ہیں۔۔۔

وہ بیتے کل یاد آتےہیں۔۔۔

جب تم۔۔آجاتے ہو سامنے ۔۔۔۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ماضی۔

ایک تہلکہ خیز آمد تھی۔ جنید خان کی پیرزاہ منشن میں۔ ہر طرف سراسیماں سی حالت ہوگٸ تھی سبھی نوکروں کی۔

جنید خان کے آنے کی دہشت ہر سمت چھاٸ تھی۔

حلیمہ خان۔۔۔۔۔! اونچی آواز میں للکارا۔

حلیمہ سمیت سبھی وہاں اکھٹےہوگۓ۔

سیڑھیوں سے اترتے وہ ٹھٹھکیں۔

آپ نے خود کے لیے سانسیں تنگ کرلیں ہیں۔۔بہت غلط کیا آپ نے ہمارے بیٹے کو ورغلا۔کے۔۔۔

غصے سے بھری آوازآٸ۔

آواز دھیمی رکھ کے بات کریں جنیدخان۔۔ یہ آپ کی حویلی نہیں۔۔ پیرزادہ منشن ہے۔۔۔ جہاں آپ کی چینخ و پکار کوٸ نہیں سننے والا۔

اورہمارانام۔۔ حلیمہ خان نہیں۔۔

حلیمہ اسد پیرزادہ ہے۔۔۔اوراسی نام سے جانے جاتے ہیں ہم۔۔

حلیمہ کے کہنے پے اسد پیرزادہ نے ان دونوں کو خاموشی سے دیکھا۔ انکی دشمنی کا عالم تو سدا کا عروج پے تھا۔

ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر۔۔ ہوتے بھی کیوں نہ۔۔۔؟إ

بہن بھاٸ جو تھے۔

بہت ہوگیا۔۔۔ اب اور نہیں۔۔ میرے بچوں سے دور رہیں۔۔ ورنہ۔۔۔؟ سخت غراتے ہوۓ دھمکی دی۔

ورنہ کیا۔۔۔؟؟ وہ بھی دوبدو ہوٸیں۔

آپ کی نسیلیں مٹا دیں گے۔۔ حلیمہ خان۔۔۔۔! للکار کافی اونچی تھی۔

اتنی ہمت ہے کہ میرے بچوں کو آنکھ اٹھا کے بھی دیکھ سکیں۔۔؟ حلیمہ نے انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتےکہا۔

دونوں بہن بھاٸ آمنے سامنے تھے۔ جبکہ اولادیں پیچھے کھڑیں نفرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔

یہ ایک جنگ تھی۔ خاندانی جنگ۔ جو برسوں سے چلی آرہی تھی۔ بہن بھاٸ کے بیچ۔ وقت کے ساتھ جو پختہ ہوتی گٸ۔

مٹی نہ نفرت۔۔۔ بس۔۔ انسان مٹ گٸے۔۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *