Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 15)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 15)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
ابتسام۔۔۔ اس کیس میں بری طرح پھس گۓ ہو ۔۔ یار۔۔
اس سے نکلنا۔۔اب۔۔؟؟ بہت سوچ سمجھ کے چال چلنی ہوگی۔
احد ! وہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔ تم جانتے ہو۔۔۔! ابتسام نے لب بھینچے۔
جانتا ہوں۔۔ لیکن عدالت ثبوت مانگتی ہے۔۔
19 اپریل کی رات کا وہ کہہ رہی ہے کہ تم اسکے ساتھ تھے۔ پیراڈاٸز ہوٹل میں۔۔ ایک ہی روم میں۔۔۔۔
احد نے مزید تفصیل دی۔ ابتسام ان لمحات کو سوچ کے رہ گیا۔
ابتسام ۔۔ ! اس وقت چاہے نیوز پیپر ہو یا ٹی وی چینل۔۔۔! یہی نیوز چل رہی ہے۔۔۔ وہ لڑکی اپنی عزت کو بھی داٶ پے لگا چکی ہے۔
دروازے پے ناک ہوٸ۔ اور سیکرٹری اندر داخل ہوٸ۔
سر۔۔یہ آپ کے لیے اینولیپ آیا ہے۔۔۔
ایک اینویلپ ابتسام کیجانب بڑھایا۔
سیکرٹری جا چکی تھی۔
اینولیپ کھولا۔ تو ابتسام نے ماتھا مسلا۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ احد نے سوالیہ انداز سے دیکھا۔
ابتسام نے اسکی جانب بڑھایا۔
وہ کورٹ کی جانب سے سمن تھا۔
فاریہ اپنی چال بہت تیزی سے چل رہی تھی۔
اس پے تو کل کی پیشی کی تاریخ ہے۔۔۔۔ احد دزیادہ پریشان ہوا۔
ہمممم۔۔۔۔۔ ! عدالت میں ۔۔پیشی کا مطلب جانتے ہو۔۔۔؟؟
میڈیا کا طوفان۔۔۔۔!
وہ اب حقیقتاً صحیح معنوں میں پریشان ہوا۔
احد۔۔ اس سب پے عدالت کیا فیصلہ سناٸے گی۔۔؟؟
ابتسام نے آگے کی سوچی۔
اگر۔۔۔ فیصلہ تمہارے حق میں ہوا۔۔ جو لگتا نہیں۔۔ تو۔۔ فاریہ پے الٹا کیس بن جاٸے گا۔۔
اور اگر۔۔ فاریہ کے حق میں ہوا تو۔۔۔ ؟؟ اور یہ۔۔۔ ثابت ہوگیا کہ۔۔ تم نے۔۔۔ اس کے سا تھ۔۔۔۔ ؟؟
ابتسام کی تیز نظروں سے اسکی بات ادھوری رہ گٸ۔
تو۔۔ یا تو۔۔ سزا ہوگی۔۔۔ یا ۔۔۔ ؟؟؟
یا کیا۔۔۔؟؟؟ سوالیہ انداز۔
یا۔۔ فاریہ سے نکاح۔۔۔۔!
احد کی بات سے ابتسام کا دماغ گھوما۔
امپاسبل۔۔۔ ! ابتسام پیر زادہ۔۔۔ اس فاریہ جیسی۔۔ دو ٹکے کی لڑکی سے نکاح کرے گا۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔! وہ سختی سے اپنی جگہ سے اٹھا۔
یار۔۔ یہ تو پریڈیکشنز ہیں۔۔ کیا پتہ۔۔ اب کیا سین ہونے والا ہے۔۔۔؟؟
اور اس فاریہ کا اصل ارادہ کیا ہے۔۔۔ تم۔۔! یا تمہاری دولت۔۔۔؟ کیا چاہتی ہے وہ۔۔۔؟؟
احد نے اسے کالم ڈاٶن کرنا چاہا۔
تم۔۔یہ کیس لڑنے کی تیاری کرو۔۔۔ کل تم جاٶ گے عدالت۔۔۔ میں نہیں۔۔ جو کرنا ہے تمہیں کرنا۔۔۔ اور اس جھوٹے کیس سے مجھے باہرنکالنا ہے۔
ابتسام نے احد کو آڑے ہاتھوں لیا۔ تو اسکے ہوش اڑے۔
کیا یار۔۔۔ ایک دن میں سارا کیس اسٹڈی کروں۔۔ اور۔۔۔؟؟؟ احد سوچ میں پڑ گیا۔
کیا۔۔۔؟ کوٸ اور کرے گا۔۔۔؟؟ ابتسام۔نے سخت تیور لیے اسے گھورا۔
اچھا ٹینشن نہ لو۔۔۔ کر لوں۔۔گا ہینڈل۔۔۔! ابھی میں چلتا ہوں۔۔ کچھ عدالتی کارواٸ کرنی ہے۔ پھر ملاقات ہوتی ہے۔
احد جا چکا تھا۔ جبکہ ابتسام اس رات کو سوچنے لگا۔
وہ رات۔۔۔ اس کی زندگی کا عذاب بن جاٸے گی۔ اسے کیا خبر تھی۔۔؟؟













شاور لے کے اس نے ایک پنک کلر کے سمپل مگر خوبصورت کپڑوں کا انتخاب کیا ۔
زیب تن کرتی آٸینے کے سامنے کھڑی وہ گیلے بالوں کو
سلجھا رہی تھی۔ کہ ایک دم سے دل کے نہاں خانے میں ارتسام کی شبیہ ابھری۔ تو دل نے ایک بیٹ مس کی۔
کچھ خاص تو ہے۔۔ اس شخص میں۔۔ جو اسے الگ بناتا ہے۔۔۔!
یہی سوچتی وہ باہر نکلی ۔ ناشتہ لگ چکا تھا۔ وہ ناشتے کےلیے بیٹھی۔ تھی ارحام نیچے آتا دکھاٸ دیا ۔
ایک نسوانی وجود کو پیرزادہ منشن دیکھ وہ وہیں تھم۔گیا۔
بانو۔۔بی۔۔۔ یہ ۔۔کون۔۔؟؟ پاس کھڑی بانو بی سے پوچھا۔
بیٹا۔۔۔ یہ۔۔ ارتسام بیٹا کی دلہن ہیں۔۔ ! بہت محبت سے کہا ۔
ارحام تو گنگ رہ گیا ۔
یہ۔۔کب ہوا۔۔۔۔؟؟ میں کہاں تھا۔۔۔؟ بارات کب گٸ۔۔۔؟؟ ڈولی کب آٸ۔۔۔؟؟ میں کیوں انجان رہا۔۔۔؟؟ ارحام منہ بناتا وہیں ایک چیٸر پے بیٹھا۔ بانو بی مسکرا کے رہ گٸیں۔
جبکہ عروش بہت سخت کنفیوز ہورہی تھی ۔
باٸ دا وے۔۔۔ میرا نام ارحام ہے۔۔۔ اگر آپ بھاٸ کی دلہن ہیں۔۔تو۔۔ میری بھابھی ہوٸیں۔۔ اور میں آپ کا اکلوتا پیارا اور ہونہار دیور۔۔۔! ارحام نے اپنا تعارف بڑے پیارے انداز میں کروایا۔ تو عروش مسکرا کے رہ گٸ۔
دونوں ہی ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگے۔ ساتھ میں ناشتے سے پورا پورا انصاف کررہا تھا۔
دی گریٹ ارحام۔
اچھا ایک بات تو بتاٸیں۔۔۔ آپ اچانک سے آکہاں سے گٸیں۔۔۔؟
ارحام کی بات پے عروش ایک دم چپ سی ہوگٸ۔
کیا ہوا۔۔؟ پریشان نہ ہوں۔۔ ایسے ہی پوچھ لیا۔۔۔ ویسے۔۔ میں اپنے بھاٸ جان سے پوچھ لوں گا۔۔۔ ان کے پاس میجک کیا ہے۔۔۔؟؟ کہ اچانک سے بھابھی لے آۓ۔۔
اب کی بار پھر سے مسکرا کے کہتا وہ اٹھا ۔
عروش سر جھکاۓ چپ ہی رہی۔ اس کے پاس کہنے کو کچھ بھی تو نہ تھا۔ وہ تو خود نہیں جانتی تھی۔ کہ اس کے ساتھ ہو کیا گیا ہے۔۔۔؟؟ اسے کیا جواب دیتی۔۔؟؟
ارحام الله حافظ کہتا جا چکا تھا۔ جبکہ وہ سوچوں میں گھری وہیں بیٹھی رہ گٸ۔













سر۔۔۔! اتنے بزی ہیں۔۔؟ خیریت ہے۔۔؟؟
ابرش روز کی طرح آج بھی ایڈوکیٹ علیم خان کے پاس پہنچی۔ تو انہیں ایک فاٸل میں سر گھساۓ دیکھا۔
ہاں۔۔ کچھ نہیں۔۔ بس ایک کیس آگیا ہے۔۔۔اسے ہی سالو کرنا ہے۔۔۔!
مجھے بھی بتاٸیں ناں۔۔ کس کا کیس ہے۔۔؟؟
شاید۔۔۔ تم بھی جانتی ہو۔۔۔۔ جو آج کل ہر جگہ کی زینت بنی ہے کہانی۔۔۔۔ مشہور بزنس مین ۔۔ابت۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ بات مکمل کرتے کہ ان کے فون پے کال آگٸ۔
اور وہ فون پے بات کرنے لگے۔
ارے۔۔۔! پریشان نہ ہوں۔۔۔ آپ کا کیس مضبوط ہے۔۔۔ اور مضبوط ہاتھوں میں ہے۔۔۔
کل پہلی پیشی تھی۔ آگے کی تاریخ پڑ گٸ تو کیا ہوا۔۔۔ مجھے پہلے پتہ تھا وہ یہی کریں گے۔۔ آپ بے فکر رہیں۔۔ یہ کیس ہم ہی جیتیں گے۔۔۔
ایڈوکیٹ علیم خان نے فون کے مقابل کو تسلی دی۔
سر۔۔۔ مجھے جانا ہوگا۔۔۔ بابا کی طبعیت اچانک سے خراب ہوگٸ ہے۔۔۔
ابرش نے کال بند کرتے علین خان سےکہا۔
ہاں۔۔ ٹھیک ہے فوراً جاٶ۔۔۔ انہوں نے بھی اجازت دی تو وہ باہر نکلی۔ اس بات سے انجان کے کوٸ ہے جو اسکا پیچھا کر رہا ہے۔













ارتسام دو دن سے گھر نہیں گیا تھا۔ ایمرجنسی کی وجہ سے وہ ہاسپٹل میں ہی تھا۔ ارحام ملنے گیا تھا۔ اور جو شادی کا واقعہ ہوا۔ اسکی تفصیل۔لے آیا تھا۔ لیکن ارتسام خود گھر نہ آیا۔
عروش نے ان دو دنوں میں پورا پیرزادہ منشن گھوم۔لیا۔ اور اب اسکے پاس کرنے کو بھی کچھ نہ تھا۔
ملازموں میں سے صرف بانو بی ہی بات کرتی تھیں۔ وہ بھی صرف ضرورت کے تحت۔
اور جو اسے یہاں لے کے آیا تھا۔ وہ اسے یہاں لے بھول ہی گیا تھا۔
آج اچانک سے ہی دل ہی دل میں اس نے ارتسام۔سے گلہ کیا۔ اور اس بات سے مکمل انجان کہ ارتسام اچانک اس کے سر پے آن کھڑا ہوا ہے۔ وہ گارڈن ایریا میں بیٹھی۔ ایک ہی تقطے پے نظریں مرکوز کیے ہوۓ تھی۔
مسز ارتسام۔۔ پیرزادہ۔۔۔!
دھمیے لیکن پورے استحاق سے پکارا۔ تو وہ تو اچھل۔ہی گٸ۔
آپ۔۔۔؟؟؟ مطلب۔۔۔ تم۔۔۔؟؟ وہ سٹپٹا گٸ۔
پہلے آپ پھر تم۔۔۔ ؟؟ ارتسام نے سر جھٹکا۔
میری مسز نے مس کیا مجھے۔۔۔؟؟ اسے تنگ کرنے کی غرض سے کہا۔
میں۔۔ میں۔۔کیوں مس کرنے لگی تمہیں۔۔؟ اکھڑے لہجے میں پوچھا۔ جبکہ نظریں بار بار جھک رہی تھیں۔
ہمممم۔۔۔یہ بھی صحیح ہے۔۔۔ بلکہ اچھی بات ہے۔۔ میرا کام بھی ایسا ہے۔۔ کہ نہ دن دیکھنا نہ رات۔۔۔ بس پن ڈیوٹی۔۔۔ ! اپنا فرض ادا کرنا ۔۔چلو۔۔۔ یہ بھی اچھا ہے۔۔بیوی۔۔ سمجھدار ملی ہے۔۔۔ !
چہرے پے سنجیدگی لیکن آنکھو ں میں شرارت تھی۔
کہتے وہ اندر جانے کے لیے پلٹا۔
کیا۔۔آپ ۔۔مجھے بیوی مانتے ہیں۔۔؟؟
اچانک پوچھے گۓ سوال پے ارتسام ٹھٹھکا۔اور اسکی جانب پلٹا۔
آپ ۔۔میری بیوی ہیں۔۔ عروش ارتسام۔۔۔ ! آپ کانام جڑ چکا ہے میرے نام کے ساتھ ۔۔ ہمیشہ کے لیے۔۔
ہر لفظ پے زور دےکے کہا۔
لیکن۔۔۔ میں آپ کو اپنا شوہر نہں مانتی۔۔۔ آنکھوں میں جھانکتے دل سخت کیے وہ کہتی ارتسام کو لب بھینچنے پے مجبورکر گٸ۔
کیوں۔۔؟ مسلمان نہیں ہو کیا۔۔؟؟
واٹ۔۔۔؟؟ اچانک سوال پے وہ سٹپٹاٸ۔
نکاح کو نہیں مانتی تو یقیناً مسلمان نہیں ہوگی۔
ورنہ۔۔ نکاح جیسے مقدس رشتے سے انکار نہ کرتی۔
اچھا خاصا اسے لاجواب کرتا ارتسام مڑتا اندر جا چکا تھا۔
یہ۔۔۔۔یہ کیا بو ل گیا۔۔؟؟
عروش کے تو صحیح معنوں میں ہوش اڑے۔














ان کا بی پی انتہا کی حد تک شوٹ کر گیاتھا۔ اچھا ہوا آپ بروقت ہاسپٹل لے آٸیں۔
یہ کچھ ٹیسٹ ہیں کروالیں۔ اور یہ میڈیسن لکھ رہی ہوں۔ ہیں۔ انہیں ریگولر دیتی رہیے۔ اور ٹینشن سے دور رکھیں۔
ڈاکٹر کی ہدایت پے وہ سر ہلاتی باہر نکلی۔ ٹیسٹ کرواۓ۔ اور بابا کو لیے کیب کروا کے گھر کی جانب گامزن تھی سارے راستے وہ چپ رہی۔ مجیب صاحب بھی کچھ نہ بولے۔
ایک شکوہ تھا ۔ ابرش کے دل میں۔ باپ کے لیے۔۔ کہ وہ کیوں حوصلہ ہار رہے تھے۔۔؟؟
کیوں اسکے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے۔۔۔؟؟
کیب گھر کے پاس روکتے اسے پیسے تھماتی وہ مجیب صاحب کو لے اندر داخل ہوٸی۔
وہ بہت چپ سی تھی۔ اور آج اسکی خاموشی مجیب صاحب کو بھی چبھ رہی تھی۔
ابرش۔۔۔! ان کی نخیف سی آواز ابھری۔
ابرش نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
بیٹا۔۔ باپ سے ناراض نہ ہو۔۔۔ میرے اختیار میں کچھ نہیں۔۔! وہ ن۔لہجے میں بولے۔
بابا۔۔۔ آپ ۔۔۔نے اپنے لیے نہیں میرے لیے خود کا خیال رکھنا ہے۔۔! ابرش نے ان کاہاتھ تھام۔کےکہا ۔
بیٹا۔۔ اب تو ایسا لگتا ہے۔۔ وقت پورا ہوگیا ہے۔۔۔ اور۔۔ جی میں یہی آتا ہے۔۔ کہ۔۔ جانے سے پہلے ۔۔تمہیں ۔۔مضبوط ہاتھوں میں سونپ دوں۔۔۔!
بابا۔۔۔ پلیز۔۔۔۔! ایسی باتیں نہ کریں۔۔ مجھے بس آپ چاہیے۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔وہ رو دی ۔
مجیب صاحب نے اسے گلے سے لگایا
وہ کیا بتاتے اسے ۔۔کہ وہ کتنا ڈرے ہوۓ تھے۔ اس انسپکٹر سے۔۔۔۔
اور انکاڈر بھی سچ تھا۔













زور سے مکا اسٹیرٸنگ پے مارتا۔ وہ غصے کی آخری حد کو چھوتا۔۔ گاڑی کو واپسی کی روڈ پے ڈالتا۔ اپنے دماغ میں پلاننگ کرتا وہ بہت سخت تیر لیے وہ پولیس اسٹیشن جا رہا تھا۔
ایک۔بار۔۔۔ صرف ایک بات میرے ہاتھ لگ جاٶ۔۔۔ پھر دیکھنا۔۔۔ کیا حال کرتا ہوں۔۔ تمہارا۔۔۔!
جسطرح تم۔نے میری عزت کا جنازہ نکالا۔۔ ویسے ہی تمہاری عزت نہ روندھی تو میرا نام بھی انسپکٹر شاہان نہیں۔۔۔
مکرو چہرہ۔۔۔ تھا جو دھیرے دھیرے سامنے آرہا تھا۔ اور یہ مکرو چہرے کب بھیانک روپ اختیار کر لے۔۔ کوٸ نہیں جانتا تھا۔












آج تیسرا دن تھا۔۔۔ کالو نے کچھ نہ کھایا نہ پیا۔۔۔ وہ بس روۓ جا رہا تھا۔
بھا۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔ بے بی واپس لا کے دو۔۔۔ وہ میری تھی۔۔۔ مجھے نہیں پتہ ۔۔۔ وہ رو رو کے بس یہی کہہ رہا تھا۔
اور سرفراز انصر غصے کے گھونٹ پی کے رہ جاتا۔ کیسا وہ ایک شخص پلک جھپکتے اس کی ناک کے نیچے سے اسی کی دلہن کو نکال لے گیا او وہ منہ دیکھتا رہ گیا۔
لیکن۔۔۔ اس نے سوچ لیا تھا ۔ کہ وہ چپ نہیں بیٹھے گا۔
وہ کسی نہ کسی طرح بدلہ لینا چاہتا تھا۔
اور سب سے پہلے اسے اسکا پتہ چاہیے تھا۔
اس کے آدمیوں نے اس دن رخصتی پے ان کا پیچھا تو کیا۔ لیکن۔۔ چوہدری کے مشٹنڈوں نے انہیں راستے میں روک لیا۔
اور وہ ان تک نہ پہنچ سکے۔
لیکن اب اس نے پکا تہیہ کر لیا تھا ۔ وہ ان تک پہنچ کے رہے گا اور اپنی دلہن کو واپس لاۓ گا۔ چاہے کچھ بھی ہو جاۓ۔









ارحام کو یونی نہ جاتے آج چوتھا روز تھا۔ بلال اور عمیر اسکے لیے کافی پریشان تھے۔
اور اس کے نہ آنے کی وجہ آج کنول کو بھی پتہ چل گٸ تھی۔ اور وہ بے انتہا غصے میں گارڈن میں بیٹھی دوستوں کے ساتھ گپیں مارتی لمظ کے سر پے جا کھڑی ہوٸ۔
بہت خوش ہوگی ناں ۔۔تم۔۔م؟ کنول غصے سے پھنکاری۔
کیا مطلب۔۔؟؟ وہ ماتھےپے بل ڈالتے کھڑی ہوٸ۔
بدلہ خوب لیا تم۔نے۔۔۔۔ اس سے۔۔۔!
کل لاسٹ ڈیٹ ہے اساٸمنٹس سبمٹ کروانے کی۔۔ اور وہ یہاں نہیں۔۔ ایک اسکی پینٹنگ کی وجہ سے اسکا فیوچر کا نقصان کیا۔ اور اب اسکا سمسٹر بھی تمہاری وجہ سے ضاٸع ہو جاۓ گا۔ ہو جاٶ مطمیٸن۔۔ ہو جاٶ۔۔خوش۔۔۔ !
کنول نے صحیح دل کی بھڑاس نکالی۔
کیاکہہ رہی ہو تم۔۔۔؟؟ کس کی بات کر رہی ہو۔۔۔؟؟ لمظ کو اس کا طرز تخاطب پسند نہ آیا۔
سب پے ایک نظر ڈالتی کنول وہاں سے نکل گٸ۔ لیکن لمظ اس کے پیچھے ہی گٸ۔ اور اس سے ساری بات پوچھی۔
بلال کے زریعے اسے جو بھی پتہ تھا سب بتا دیا۔
لمظ۔۔ ! تم۔نے بہت برا کیا اس کے ساتھ۔ ایک بار بھی نہیں سوچا۔۔ کہ کیا اثر ہوگا اسکے فیوچر پے۔۔؟؟
کنول نے دکھے دل سے کہا۔
لمظ پےتو گھڑوں پانی گر گیا۔ اس نے تو ایسا سچا ہی نہ تھا۔ اسے لگا شرمندگی کی وجہ سے وہ یونی نہیں آرہا۔ اسے کیا معلوم تھا۔۔ کہ ۔۔اسے ریسٹیکیٹ کر دیا گیا ہے۔۔؟؟
کنول جا چکی تھی۔
اسکے ہاتھ میں اپنی اساٸمنٹ پکڑی تھی۔ جو وہ آج سبمٹ کروانے آٸ تھی۔
پرفیسر نے سب کو ہی اساٸمنٹ سبمٹ کا کہا تھا۔ لیکن کلاسز اپنی اپنی تھیں۔
اس نے سوچ لیا تھا۔ کہ اگر ارحام نہیں کروا پاۓ گا۔۔ تو وہ بھی نہیں کرواۓ گی۔
سب سے پہلے اس نے کیسے بھی کر کے اسکی کلاس کے ایک لڑکے سے اس سبجیکٹ کے نوٹس لیے۔ اور انہیں لیے وہ لاٸبریری میں گٸ۔
اسکا فرسٹ سمسٹر تھا۔ جبکہ ارحام کا لاسٹ۔ اور وہ کیسے بھی کر کے اسکی مدد کرنا چاہتی تھی۔
ہاں وہ اسکی اساٸمنٹ بنا رہی تھی۔ ڈھیر ساری کتابوں میں سر دٸیے ۔ کل لاسٹ ڈے تھا۔ اور اسکی وجہ سے ارحام کا پڑھاٸ کا حرج ہو۔ اسے کہاں منظور تھا۔ چھٹی ٹاٸم تک وہ لاٸبریری میں بیٹھی رہی۔
چھٹی کو دس منٹ رہتے تھے۔ تو وہ سب سمیٹتی پروفیسر فراز کے آفس جا پہنچی ۔ اور وہاں جاتے ہی اس نے کنفیس کر لیا کہ پینٹنگ اس نے چھپاٸ تھی۔ ارحام بے قصور ہے۔
پروفیسر فراز کو بے حد غصہ غصہ آیا۔ لیکن وہ کنٹرول کر گۓ۔
اور اسے وہاں سے جانے کا کہہ دیا۔ اور خود ارحام کو کال کرکے اسے واپس یونی بلوایا۔
وہ تو حیران رہ گیا۔ کہ اچانک کایا پلٹ۔۔کیسے۔۔۔؟؟
لیکن پروفیسر فراز نے بھی اسے فی الحال ڈیٹیل نہ بتاٸ۔ اسے بس یونی آنے کو کہا۔













روڈ پے تھکے قدموں سے چلتی وہ اپنی گاڑی کو ڈھونڈ رہی تھی جو آج شاید آنا ہی نہیں چاہ رہی تھی۔ ۔۔
کافی دیر ویٹ کرنےکے بعد اس نے سوچا کال کروں۔ لیکن۔۔ پھر ایک دم سے ارحام کا خیال آتے ہی وہ کیب کراتی ارحام کے گھر پہنچ گٸ۔
وہ ایریا جانتی تھی۔ لیکن گھر ڈھونڈنے میں اسے پریشانی نہ ہوٸ۔
سب سے بڑا اور خوب صورت گھر۔۔ انہی کا تھا۔
پیرزادہ منشن پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا تھا۔ دستک دیتی وہ اندر داخل ہوٸ جہاں اسے سیکیورٹی والوں نے روک لیا۔
بادل نخواستہ اپنی ساری پہچان کرواٸ لیکن پھر بھی اندر جانےکی اجازت نہ ملی۔
اس کے آنے کا پیغام انٹر کام کے زریعےاندر پہنچ چکا تھا۔
کافی دیر انتظار کے بعد اسے اندر جانے کی اجازت ملی ۔ اور وہ ایک شخص کےہمراہ اندر داخل ہوتی نجانے کونسے راستوں سے ہوتے اسےایک روم۔کے باہر کھڑا چھوڑ کے چلا گیا۔
لمظ کچھ شش و پنج میں پڑ گٸ۔ کہ اندر جاۓ یا نہ۔۔۔؟
لیکن پھر دل بڑا کر کے وہ اندر داخل ہوگٸ۔ جہاں کا منظر ایک جم کا تھا۔ اور وہ سامنے ہی ارحام کو باڈی بلڈنگ کرتا دیکھ چکی تھی۔
اسکا کسرتی سینہ۔۔۔ اور سکس پیکس دیکھ بے اختیار لمظ نے نظریں پھیریں۔
اتنے میں ارحام کی نظر اس پے پڑ چکی تھی۔
ٹاول سے پسینہ خشک کرتا وہ اسکی طرف بڑھا ۔ اوت خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔
لمظ کی نظریں اٹھیں لیکن پھر اسکا حلیہ دیکھ جھجھک کے جھک گٸیں۔
کیوں۔۔ آٸ ہو۔۔۔؟؟ کٹیلے لہجے میں پوچھا۔
لمظ نے نامحسوس انداز میں چشمہ درست کیا۔
وہ۔۔۔ میں ۔۔۔ نظریں اٹھ رہی تھیں۔۔ جھک رہی تھیں۔۔ اور ارحام کو یہ منظر دل پے لگ رہا تھا۔
لیکن چہرہ سپاٹ تھا۔
جاری ہے۔۔
