Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 17)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

ابرش دل بڑا کر کے ابتسام کے آفس پہنچ ہی گٸ۔

ایکسکیوز می! مجھے ابتسام علی سے ملنا ہے۔ ابھی اسی وقت۔۔۔!

ایکبار وہ پھر ریسپشنسٹ کے پاس وہی الفاظ دہرا رہی تھی۔

سوری میم۔۔۔ اس وقت وہ ایک خاص میٹنگ میں ہیں۔ أندر کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں۔

بناوٹی مسکراہٹ سے بولا۔

اور میں نے آپ سے کہا۔ کہ مجھے جانا ہے۔ تو مطلب جانا ہے۔

ابرش نے دانت پیستے کہا۔

پلیز میم۔۔۔!آپ ویٹ۔۔۔۔؟؟؟

اسکی بات ادھوی رہ گٸ۔ جبکہ ابرش ابتسام کے آفس کی جانب بڑھ چکی تھی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابتسام۔۔۔ ! دیکھو یار یہ خاموشی کا قفل توڑ دو۔ ایک ڈاکٹر اور دوسرا وکیل۔۔۔ ان سے کبھی کچھ نہیں چھپانا چاہیے۔ اسی میں بہتری ہوتی۔

تم۔۔کہنا کیا چاہتے ہو۔۔؟ ابتسام کو اسکا گھما پھرا کے بالکل۔نہ بھایا۔

جیسا کہ تم کہہ رہے ہو۔ اس رات تم گھر پے بھی نہیں تھے۔۔ تو ۔۔۔کہاں تھے تم۔۔۔؟؟

احد نے ڈاٸریکٹ پوچھا۔

ابتسام کی آنکھو ں کے سامنے وہ پل لہراۓ۔ تو اس نے آنکھیں میچ لیں۔

ابتسام۔۔۔؟؟ أحد نے پکارا۔

نہیں بتا سکتا۔۔۔ ! سپاٹ لہجے میں جواب آیا۔

ابتسام۔۔۔ تمہیں ۔۔۔یار۔۔ جیل۔ہوجاۓ گی۔۔ بدنامی الگ۔ ۔۔

احد نے سر پے ہاتھ مارا۔

ٹھیک ہے ۔۔ جو ہوتا ہے فیصلہ ہو جانے دو۔۔ میں ہر سزا کے لیے تیار ہوں۔ ابتسام نے آخر فیصلہ لے ہی لیا۔

احد منہ دیکھتا رہ گیا۔

بہت غلط کررہا ہے۔۔۔ ! احد دکھ سے بولا۔

ابتسام کچھ کہتا کہ آفس کا دروازہ دھڑلے سے کھولتی ابرش اندر داخل ہوٸ۔

وہ دونوں ہی چونک کے دروازے کی طرف دیکھنے لگے۔

سر ۔۔

میں نے انہیں منع کیا۔ لیکن۔۔ یہ۔۔۔؟؟؟

ریشپنسٹ بھی پیچھے۔بھاگی آٸ۔

ابتسام نے ریسپنسٹ کو جانےکا اشارہ کیا۔ اور خود اٹھتا ابرش کے پاس آیا۔

کیا حرکت ہے یہ۔۔۔؟؟ کیوں آٸ ہو یہاں۔۔؟ ابرش نے ایک نظر ابتسام کو دیکھا۔ اور فوراً احد کے پاس پہنچی۔

اس رات۔۔۔ یہ کہاں تھے۔۔۔ یہی جاننا چاہتے ہوں گے ناں آپ۔۔۔؟؟

ابرش کا انداز پراسرارا تھا۔

جی۔۔۔۔۔؟؟ احد تو اسکے سامنے کچھ بولنے کے قابل ہی نہ رہا

تو سنیں۔۔۔! اس رات۔۔۔؟؟

ابرش مجیب شمس۔۔۔! ایک سکینڈ میں یہاں سے نکلو۔

ابتسام نے غصہ ضبط کرتے اس بیچاری کی بات ہی پوری نہ ہونے دی۔

ابرش نے ابتسام کی سبز آنکھوں میں اپنی کالی ٹکاٸیں۔

یہ۔۔اس رات میرے۔۔ ساتھ۔۔میرے گھر پے تھے۔

ابتسام کی آنکھوں میں دیکھتے بنا ڈرے کہا۔

جبکہ ابتسام غصہ ضبط کرتے آنکھیں میچ گیا۔ کتنے دنوں سے وہ اس بات کو چھپا رہا تھا۔ اور آج اس بے وقوف لڑکی نے آکے خود ہی بول دیا۔

لیکن۔۔۔؟؟؟ یہ سب کیسے۔۔۔؟؟ ابتسام۔۔۔ کیا یہ۔۔ سچ ہے۔۔؟؟ احد کی تو زبان تالو کے ساتھ چپک گٸ۔

یہ کیا بتاٸیں گے۔۔۔؟؟ بتانا ہوتا تو اب تک چھپاتے نہ۔۔۔!

ابرش نے منہ بنا کے کہا۔

ابرش مجیب شمس۔۔ ! ہو گیا تمہارا۔ اب جاٶ یہاں سے۔

ابتسام نے سپاٹ لہجے میں اسے کہا۔

ارررےےے۔۔ کیسے جاۓ۔۔؟؟ یہ گواہ ہیں۔۔ تمہاری بے گناہی کی۔۔۔! احد فوراً سے بشتر آگے بڑھتے بولا۔

احد ! یہ لڑکی مکمل پاگل ہو چکی ہے۔۔اور۔۔تم۔۔۔؟؟ تم بالکل چپ رہو۔۔۔

احد کو دیکھتے چبا کے کہا۔

اور تم۔۔۔ نکلو یہاں سے۔۔۔! ایک منٹ سے پہلے ۔

ابتسام نے اسے باہر کا راستہ دکھایا۔

میں یہاں آپ کی مدد کرنےآٸ ہوں۔

ابرش نے دھیمے لیکن پختہ لہجےمیں کہا ۔

میں نے مانگی مدد۔۔؟؟

اسی کے انداز میں آنکھیں اس پے ٹکا کے پوچھا۔

ابرش تو چپ ہی ہوگٸ۔

ابتسام۔۔۔! احد پھر سے بولا۔

تمہیں ایک ات سمجھ نہیں آتی۔۔؟؟ چپ رہو۔۔؟

پلٹ کے غصے سے ڈانٹا۔ وہ منہ بسور کے رہ گیا۔

اور ابرش کی جانب مڑا۔

تم جا رہی ہو۔۔ یا دھکے دے کے نکالوں۔۔؟؟

ابتسام نے غصہ ضبط کرتے کہا۔

نہیں جار ہی میں۔۔ جو کرنا ہے کر لیں۔ ۔میں نے ایک عہد کیا ہے خود سے۔۔ ہمیشہ سب کی مدد کرنی ہے چاہے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔ اور یہاں تو آپ میری وجہ سے خود کو سزا دے رہے ہیں۔ میں کیسے اپنے ضمیر پے یہ بوجھ لے سکتی ہوں۔۔۔؟؟

ہرگز نہیں۔۔ آپ چاہیں یا نہ چاہیں۔۔۔ میں یہ بات عدالت میں کہوں گی۔۔۔کہ اس رات۔۔۔؟؟

جسٹ شٹ آپ۔۔۔! ابتسام چلایا۔۔

تمہیں انداہ بھی ہے۔۔ اس بات کے بعد کیا ہوگا۔۔؟؟

تمہارا کردار۔۔ مشکوک ہوجاۓ گا۔۔۔ تم۔۔۔ ؟؟

غصے سے لب بھیچے۔۔

چلو۔۔۔ نکلو۔۔۔ یہاں سے۔۔۔! اب کی بار ابتسام نے اسے بازو سے پکڑ کے باہر نکالنا چاہا۔ وہ خود کو چھڑانے لگی۔

ایک منٹ۔۔۔؟؟ اس سب کا ایک حل ہے میرے پاس۔۔۔! احد کےکہنے پے دونوں رکے۔ اور پلٹ کے احد کو دیکھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

آپ۔۔۔؟؟ آپ کون ہیں۔۔؟؟ لمظ جو نیچے اتر رہی تھی۔ عروش اسے دیکھتی اسکے پاس چلی آٸ۔

لمظ کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔

سر جھکا کے پاس سے گزرنا چاہا۔

آپ کو تو چوٹ آٸ ہے۔۔۔؟؟ عروش بے اختیار اس کے پاس آتی اسکا چہرہ چھو کے بولی۔۔

میں ٹھیک ہوں۔۔۔! لمظ نے اسکا ہاتھ دھیرے سے پیچھے کیا۔

بھابھی۔۔۔! یہ دوست ہے میری۔۔۔!

ارحام کے سیڑھیاں اترنے پے عروش نے مسکرا کے ارحام کو دیکھا۔

ارحام بھاٸ۔۔! شاید۔۔ ان کی طبعیت نہیں ٹھیک۔۔ آپ انہیں چھوڑ آٸیں گھر۔

نہیں۔۔ میں ۔۔ چلی جاٶں گی۔ ۔۔ لمظ نے فوراً منع کیا۔

بھابھی جی۔۔۔ ! آکے دیکھیں۔۔دودھ ابل رہا ہے اب؟؟ار چیک کریں کوٸ کمی تو نہیں رہ گٸ۔

فاطمہ نے آتے عروش کو بلایا۔

ہاں۔۔ ! تم چلو۔۔ میں ابھی آٸ۔

ارحام۔بھاٸ! آپ انہیں خود چھوڑ کے آٸیں گھر۔ اوکے۔

پیار سےکہتے وہ فاطمہ کے ساتھ کچن میں چلی گٸ۔

آج وہ فاطمہ کے ساتھ مل کے رس ملاٸ بنا رہی تھی۔ کیونکہ ارتسام کوبھی بہت پسند تھی۔

چلو۔۔۔! ارحام۔نے گہرا سانس خارج کرتے اسکے پاس آتے کہا۔

ارحام۔۔! میں چلی جاٶں گی۔۔۔ مجھے ضرورت نہیں تمہاری جھوٹی ہمدردی کی۔

اگر۔۔ ایک منٹ میں میرے ساتھ تم۔نہ چلی۔۔ تو آج ہی تمہارے بابا کو جا کے بتا دوں گا۔ کہ تم۔اس دن اس شادی پے گٸ تھی۔ اور مجھے ان سے جھوٹ بھی تم نے بلوایا تھا۔۔

کان کےپاس غرا کے کہتے وہ لمظ کو لب بھینچنے پے مجبور کر گیا۔

میں۔۔۔ تمہارا منہ۔۔توڑ دوں گی ارحام۔۔۔! چشمہ جو تھوڑا سا ساٸیڈ سے ٹوٹ گیاتھا۔ اسے درست کیا۔

بعد میں توڑ لینا۔۔ ابھی چلو۔۔۔!

کہتے ہی اسکا ہاتھ تھاما اور باہر کی جانب چل دیا۔ لے جا کے اسے گاڑی میں بٹھایا۔ اور گاڑی اسکے گھر کے روڈ پے ڈالدی۔

لمظ منہ بناتی غصے سے اسکے ہر عمل کو دیکھتی رہی۔

سارا راستہ خاموشی میں گزرا۔

گاڑی گھر کے پاس روکتے ہی وہ اترنے لگی۔

لمظ۔۔۔! بنا اسکی طرف دیکھے وہ دھیمے سے بولا۔

گاڑی کا دروازہ کھولتے اسکا ہاتھ رکا۔ لیکن وہ اسکی طرف پلٹی نہ۔

ایم سوری۔۔۔! میں نے غلط کیا۔۔! میں سخت غصے میں آگیا تھا۔ اور غصے میں اچھے برے کی پہچان ہی کھو ددیتا ہوں۔ پلیز۔۔۔ ہو سکے تو۔۔۔ معاف۔۔۔؟؟

ارحام نے اسکی جانب دیکھا۔ جو اب اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ لیکن آنکھوں میں نمی تھی۔

سوری۔۔۔۔؟؟ دھیرے سے پھر سے کہا۔

لمظ نے گہرا سانس خارج کیا۔

اٹس اوکے۔۔۔ ! لیکن۔۔ یہ لاسٹ ٹاٸم ہے۔۔ آٸندہ اگر ایسا کیا تو۔۔ مجھ سے براکوٸ نہیں ہوگا۔

لمظ ہاتھ اٹھا کے وارن کرتی ارحام کو مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔

ارحام نے کانوں کو ہاتھ ہلاتے سر نفی میں ہلایا۔

اور بے اختیار ہی ہاتھ بڑھا کے اسکی ناک کو چھوا۔

لمظ کا دل زور سے دھڑکا۔

باٸ۔ کہتے ساتھ ہی وہ نیچے اترتی گیٹ کے اندر داخل ہوگٸ۔

اس کے جاتے ہی ارحام نے گاڑی واپس موڑ لی۔

اسکا غصہ بہت شدید ہوتا تھا۔ ابتسام کی طرح اور جلدی ہی اتر بھی جاتا تھا۔ جسا ابھی ہوا ۔ اور ساتھ ہی اپنی غلطی کا احساس بھی۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ارتسام کے رات کو گھر آنے پے عروش پھر سے روم میں چھپ گٸ وہ ایسے ہی کرتی تھی۔ اور ارتسام کے روم۔میں آنے سے پہلے ہی صوفے پے کمفرٹر لیے سو جاتی تھی۔ لیکن ارتسام جانتا تھا وہ صرف ایکٹنگ کرتی ہے۔ اس لیے کبھی کچھ نہ کہا۔

وہ خود اسے وقت دے رہا تھا۔ کہ وہ اسکے اور اپنے بیچ کے رشتے کو سمجھے۔ وہ اس پے اپنی مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتا تھا۔

وہ اس کے ساتھ سے خوش ہو۔۔ اسکے بعد ہی وہ اسکے ساتھ اپنے رشتے کا خوشی سے آغاز کرنا چاہتا تھا۔

ان دنوں ارتسام کی ملاقات ابتسام سے بھی نہ ہوسکی۔ وہ کب آتا کب جاتا۔۔ کوٸ مقرر وقت نہ تھا۔

جب تک ابی جان گھر تھیں سبھی وقت کی پابندی کرتے تھے۔

لیکن اب سبھی کی روٹین خراب ہوٸ ہوٸ تھی۔

اور ابھی اسے پتہ چلا تھا۔ کہ کل ابتسام کے کیس کی فاٸنل سنواٸ ہے ارتسام نے بھی کل عدالت جانے کا سوچا۔ ساتھ میں ارحام نے بھی ۔

وہ دونوں بھاٸ بھی اچھے خاصے تپے ہوٸے تھے۔ اس فاریہ پے۔ لیکن ابتسام نے سختی سے انہیں منع کیا تھا۔ کہ وہ اس معاملے سے دور رہیں۔

ورنہ ابھی تک یہ دونوں کی سے کیا کر چکے ہوتے۔

یہ تو کافی ٹیسٹی ہے۔۔۔ آپ نے بناٸ فاطمہ آپا؟

رس ملاٸ کھاتے ارتسام اچانک سے بولا۔ جبکہ پردے کی اوٹ سے عروش دیکھ رہی تھی اور دل پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا۔۔

جی۔۔۔ جی۔۔۔وہ۔۔۔ بھابھی نے بناٸ ہے۔۔

ہکلاتےبوۓ کہا تو ایک لمحے کو ارتسام کے لبوں نے مسکراہٹ کو چھوا۔

ہمممممم۔۔۔۔ مزید کوٸ لفظ پھر تعریف کا نہ بولا۔ جس پے عروش منہ بناتی وہاں سے اپنے روم کیجانب بڑھ گٸ۔

جبکہ ارتسام اسکا جانا نوٹ کر چکا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

عدالت میں سبھی پہنچ چکے تھے۔

ایک طرف فاریہ کامی ایڈووکیٹ علیم خان اور میڈیا تھا جو سب کامی کے دوست تھے۔

جبکہ دوسری طرف احد اور ابتسا م تھے۔۔ کچھ ہی دیر میں پچھلی سیٹوں پے ارحام اور ارتسام بھی براجمان ہو چکے تھے۔

وہ اپنے بھاٸ کو اس مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تھے۔

جج صاحب کے آنے پے کمرہ عدالت میں خاموشی چھا گٸ۔

جج صاحب اب سیٹ پے بیٹھے۔

عدالت کی کارواٸ شروع کی جاٸے۔

جج کے کہتےہی علیم خان تابڑ توڑ لفظوں کے حملے کرنے لگے۔

وہ جانتے تھے جیت انہی کی ہے۔

جج صاحب ۔۔!

میری آپ سے درخواست ہے۔ کہ جب سب ثبوت آپ کے سامنے ہیں تو بنا کوٸ در کیے آپ مجرم کو سخت سے سخت سزا سناٸیں۔ تا کہ عدالت کا مزید وقت برباد نہ ہو۔

آٸ ابجیکشن ماٸ لارڈ۔۔۔! احد اپنی جگہ سے کھڑا ۔

میرے دوست وکیل اپنے الفاظ کا چناٶ سوچ سمجھ کے کریں ۔ جرم ابھی ثابت نہیں ہوا۔ مجرم کہنے سے گریز کریں۔

کوٹ ٹھیک کرتا مڑ کے عیلم خام کو دیکھتا آٸ برو اٹھا کے بولا۔

اوبجیکشن سسٹینڈ۔! علیم خان نے پہلو بدلا۔

جج صاحب۔۔! جیسا کہ میرے قابل دوست بہت اچھی کہانی گڑ کے سنا ڈالی۔ میں کچھ حقاٸق عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔

میں اس کیس کی وکٹم مس فاریہ کو کٹہرے میں بلانے کیاجازت چاہوں گا۔

اجازت ہے۔

فاریہ ایک نظر علیم خان پے ڈالتی سر پے دوپٹہ درست کرتی کٹہرے میں پہنچی۔

مس فاریہ۔۔۔! جس رات آپ کے ساتھ یہ واقعہ ہوا۔ آپ بتا سکتی ہیں۔۔؟؟ اس دن کیا تاریخ تھی۔ ؟

میں اپنےبیان میں بتا چکی ہوں۔ تڑخ کے کہا۔

ارے ایک بار پھر سے بتا دیں۔۔۔ احد مسکایا۔

٢١ اپریل۔۔ کی رات تھی۔ منہ بناتے کہا۔

صحیح۔۔۔۔ رات کے کتنے بجے مسٹر ابتسام آپ کے پاس پہنچے۔۔۔؟؟ کچھ۔۔ یاد ہو۔۔؟؟

اب کی بار تھوڑا ایکٹنگ کرتے بولا۔

یہ کیسا سوال ہے۔ ؟ اب آپ میری انسلٹ کر رہے ہیں۔۔

فاریہ نے ماتھے پے بل ڈالے۔

دیکھیں۔۔۔! یہ عدالت ہے۔۔ اور کیس آپ نے فاٸل۔کیا ہے۔ اور کیس فاٸل کرنے سے پہلے آپ کو سوچنا چاہیے تھا۔ کہ عدالت میں کس قسم کے سوالات ہوں گے۔۔!

اوبجیکشن۔۔۔ ۔! آپ یوں ۔۔ مس فاریہ سے ایسے سوالات نہیں کر سکتے۔

جج صاحب میرا کوٸ بھی سوال کیس سے ہٹ کے نہیں ہے۔ اس لیے میرے فاضل دوست بیچ میں بول کے مجھے روک رہے ہیں۔

اوبجیکشن اوور رول۔۔۔۔!

علیم خان غصے سے بیٹھ گۓ۔

چلیں آپ کی آسانی کر دیتے ہیں۔۔ انکی واپسی کتنے بجےہوٸ۔۔؟ صبح ہی گۓ ہوں گے۔۔؟ ہیں ناں۔۔!!

احد جان بوجھ کے بات کو گھما گھما کے بولتا فاریہ کی عزت کر رہا تھا۔

جی۔۔۔ تقیباً صبح چھ بجے کا وقت ہو گا۔۔۔

فاریہ بھی اب سختی سے بات کرنے لگی۔

اچھا مسٹر ابتسام نے آپ کو وہاں بلوایا تھا۔۔ یا آپ نے انہیں۔۔؟

اگلا سوال فاریہ دیکھتی رہ گٸ۔

انہوں نے میسج کر کے بلایا تھا۔ فاریہ کا لہجہ ڈگمگایا۔

آپ کے پاس ثبوت ہے اپنی بات کاکوٸ کال ریکارڈ یا کوٸ میسج۔۔؟؟

اب کی بار احد نے اسے صحیح دبوچا۔

تھا۔۔۔ جج صاحب تھا ثبوت ۔۔۔لیکن۔۔ یہ۔۔ابتسام علی پیرزادہ اتنا ہوشیار بندہ ہے۔۔۔ اس نے سارا ڈیٹا ۔۔ ختم کروا ڈالا۔۔۔

لہجے میں درد سمویا۔

لیکن۔۔ وہ تصویریں۔۔وہ تو کافی ہیں۔۔ ناں۔۔۔!

نہیں۔۔ مس فاریہ۔۔! وہ تصویریں کافی نہیں ہیں۔۔ان تصویروں کو اگر دوسرے رخ سے دیکھا جاۓ ٠اور ان تصویروں میں غور کیا جاۓ۔۔۔۔تو مجھے آپ ابتسام علی پیرزادہ کےساتھ نہ صرف زور زبردستی کرتی دکھاٸ دے رہی ہیں۔ بلکہ۔۔ ایک عدد تھپڑ بھی کھا چکی ہیں۔

آخر میں آواز اونچی ہوگٸ۔ فاریہ دانت کچکچاتے رہ گٸ۔ اور مڑ کے کامی کو ایک نظر دیکھا۔

یہ۔۔جھوٹ ہے۔۔۔ ! آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ زبردستی میرے ساتھ ہوٸ ہے۔۔۔

جج صاحب۔۔۔مجھے انصاف چاہیے۔۔ ! میں لڑکی ہو کے آج عدالت سے اپنے لیے انصاف مانگتی ہوں ۔ اگر ۔۔ آج آپ نے انصاف نہ کیا تو کوٸ لڑکی کبھی اپنے لیے انصاف نہیں مانگے گی۔۔ بلکہ موت کو گلے لگا لے گی۔۔

روتے ہوۓ وہ بیٹھتی چلی گٸ۔

بات بنتی نہ دیکھ وہ ایموشنل ایکٹنگ کرنے لگی۔

مس فاریہ۔۔ آپ کے جزبات کی قدر کرتا ہوں۔۔ اگر ان میں زرا بھی سچاٸ ہوتی تو۔۔ ضرور۔۔ آپ کے حق میں ہی فیصلہ ہوتا۔۔۔

لیکن۔۔یہاں معاملہ الٹ ہے جج صاحب۔۔ ! کہاں لکھا ہے۔۔ کہ ہر بار عورت ہی صحیح ہوتی ہے۔۔۔؟؟ اور مرد غلط۔۔؟؟

بس کہیں دیکھ لیا۔۔۔ کہ عورت کےساتھ ظلم ہوا ہے۔۔ بنا سچاٸ جانے سبھی اسکی حمایت میں بھاگے چلے آتےہیں۔

جج صاحب۔۔! میرے فاضل دوست۔۔۔ کیس کو الجھا رہے ہیں صرف۔۔ ! اگر ان کے پاس کوٸ قابل قدر ثبوت ہے تو پیش کریں۔

علیم خان کی بات پے احد مسکرا دیا

جج صاحب ۔۔! اب میں آپ کے سامنے ایک ایسا گواہ ثبوت کے طور پیش کرنے جا رہاہوں۔۔ جس کے بعد مزید کسی بات کی کوٸ گنجاٸش نہیں رہے گی۔ مجھے اجازت چاہیے

اجازت ہے۔۔۔! جج صاحب کے کہتےہی عدالتی ہال میں ایک دم سے خاموشی چھا گٸ۔

قدموں کی چاپ پے سبھی نے گردن موڑ کے آنے والے گواہ کو دیکھا۔

دھیمی چال چلتی وہ کٹہرے کی جانب مضبوط قدموں سے بڑھ رہی تھی۔

حلف اٹھاٸیں۔ احد نے کہا

میں جو کہوں گی سچ کہوں گی۔ سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گی۔

میم۔۔ آپ عدالت کو بتاٸیں اس رات کیا ہوا تھا۔

اثبات میں سرہلاتی وہ جج صاحب کی جانب مڑی ۔ جبکہ فاریہ کی نظر کامی پے جا ٹہری۔ اور آنکھوں ہی آنکھوں میں بات ہوٸ۔

جج صاحب۔۔! میرا نام ابرش مجیب شمس ہے۔۔۔اور جس رات کی یہ محترمہ بات کر رہی ہیں۔۔ اس رات یہ سب ہوا۔۔ ہی نہیں۔۔!

کیونکہ۔۔ اس رات۔۔۔۔ ؟؟

ابتسام کی جانب ایک نظر دیکھا۔ جو بنا پلک جھپکے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

ابتسام علی پیرزادہ ۔۔۔ میرے ساتھ تھے۔۔ میرے گھر پے۔۔۔! سارے الفاظ کہتے اک بار بھی ابتسام پے سے نظر نہ ہٹاٸ۔

عدالت ہال میں چہ مگوٸیاں شروع ہوگٸیں۔

مجھے کچھ سوال کرنے ہیں۔۔ان سے ۔۔! علیم خان غصہ ضبط کرتے کھڑے ہوٸے۔

احد نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں آگےآنے کو کہا۔ وہ کوٹ سے فرضی گرد کو جھاڑتے آگے بڑھے۔

آپ ۔۔جانتی ہیں ۔۔آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔؟؟

جی بالکل۔۔۔جانتی ہوں۔۔ اسی انداز میں بنا ڈرے جواب دیا۔

بنا کسی رشتے کے۔۔ ایک شخص کے ساتھ رات بھر۔۔۔۔!!

ایکسکیوز می۔۔۔ وکیل صاحب۔۔۔! زبان سنبھال کے بات کریں۔ بنا کسی رشتے کے کیا مطلب آپ کا۔۔؟؟

ہاں تو۔۔؟؟ کیو ں جانے لگے ۔۔۔؟؟ مسٹر ابتسام ۔۔ رات کے وقت آپ کے گھر۔۔؟؟

آٸ برو اچکاتے پوچھا۔

ابرش نے ایک گہرا سانس خارج کیا ۔

جب ایک شوہر اپ سیٹ ہوگا۔۔تو وہ بیوی کے پاس ہی آۓ گا ۔۔ناں۔۔ ! کیوں آپ کو کوٸ اعتراض ہے۔؟؟

ابرش کے الفاظ نے سبھی کی بولتی بند کر دی۔

علیم خان تو سکتے میں آگٸے۔

جبکہ ابرش نے انہیں مسکرا کے دیکھا۔

وہیں فاریہ پے گھڑوں پانی گرا۔ تو دوسری طرف۔۔ ارحام اور ارتسام بھی شاکڈ تھے۔

آپ۔۔۔جھوٹ بول رہی ہیں۔۔! بہت دیر بعد یہی بول پاٸے۔

کوٸ لڑکی اپنے نکاح کولے کے جھوٹ نہیں بولتی مسٹر وکیل۔۔۔ ! اور سچ یہی ہے۔۔

مسٹر ابتسام ۔۔علی پیرزادہ۔۔میرے شوہر ہیں۔ اور میں انکی منکوحہ۔۔

کہتے ہوۓ پیار بھری نظر ابتسام پے ڈالی جبکہ ابتسام اسکی اتنی دیدی دلیری پے عش عش کر اٹھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *