Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 39)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 39)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
لمظ۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟؟ ابرش کی آواز پے وہ چونکی۔
آپی۔۔ آپ کو لگتا نہیں۔۔جیسے کسی موباٸل کے بجنے کی آواز آرہی ہے۔۔؟؟
ابرش نے غور سے سنا۔ لیکن آواز نہ آٸ۔
نہیں تو۔۔۔! بلکہ میں کب سے ٹراٸ کر رہی ہوں۔۔ ابتسام کے نمبر پے۔۔ لیکن انکا نمبر ہی بند جا رہا ہے۔۔ اللہ خیر کرے۔ وہ ٹھیک ہوں۔۔! ابرش نے پریشانی سے کہا
کچھ نہیں ہوگا انہیں۔ وہ بہت بہادر ہیں۔ فکر نہ کریں۔
لمظ نے ابرش کو تسلی دی کہ تبھی پھر سے موباٸل کے بجنے کی آواز آٸ ۔ اب کی بار ابرش بھی چونکی۔














سرفراز انسر حبیب صاحب کےگھر داخل ہو چکا تھا۔ حبیب صاحب جانتے تھے کہ وہ آۓ گا۔ انہوں نے اپنے دوست ایس ایچ او فرحان کو پہلے ہی سے انفارم کیا ہوا تھا۔
باہر نکلو۔حبیب۔۔۔۔۔ کہاں ہے۔۔ میری بہن۔۔؟؟
سرفراز چلایا۔
آواز نیچی رکھ کے بات کرو۔۔ سرفرازانسر۔۔۔!
حبیب صاحب سیڑھیاں اترتے نیچے آۓ۔
اور بہت کارنامے باز ہے تمہأری بہن۔۔ شکر کرو۔۔ ابھی زندہ ہے۔۔ جسطرح اس نے میرا پورا خاندان توڑا۔۔ اسکی سزا۔۔ تو موت سے بھی بدتر ہونی چاہیے تھی۔
حبیب صاحب کے للکار کے بولنے پے سرفرز انسر پیچ و تاب کھاتا رہ گیا۔
حبیب میری بہن کہاں ہے۔۔؟؟ غراتے ہوۓ پوچھا۔
ہوں۔۔۔۔۔۔ حبیب صاحب طنزیہ ہنسی ہنسے۔
اور اسکے قریب ہوۓ۔
ڈھونڈ لو۔۔۔! ویسے بھی تم ٹھہرے غنڈے۔۔ لوگوں کےگھروں میں گھس کے غنڈا گردی کرنا تمہارا پیشہ ہے۔۔ تو ۔۔ جاٶ۔۔۔ پورا گھر تمہارے سامنے ہے ڈھونڈ لو۔
حبیب صاحب کا لہجہ اسرفراز کو تپا گیا۔ اس نے اپنے ساتھ آۓ تینوں آدمیوں کو گھر کی تلاشی لینےکا کہا۔ وہ تینوں الگ الگ سمت میں بکھر گۓ۔
یاد رکھنا حبیب ۔۔۔ میری بہن کو کچھ بھی ہوا۔۔۔ میں تمہیں۔۔ چوڑوں گا نہیں۔۔۔! سخت غصیلے انداز میں کہا۔
تمہاری بہن کی گندگی نے میرے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس حساب سے تو مجھے اسے جہنم واصل کر دینا چاہیے تھا۔
بہت مطمین انداز میں کہا۔
بھاٸ۔۔۔؟ ایک طرف سے نگینہ روتی ہوٸیں باہر آٸیں۔ اور سرفراز کے سینے سے لگیں۔
تم۔۔۔ ٹھیک ہونا۔۔؟؟؟ سرفراز نے بہت پرواہ سے پوچھا۔
بھاٸ۔۔ اس بندے نے مجھے قید کر کے رکھا تھا۔ روتے ہوۓ کہا۔
اور ہماری بہو۔۔؟؟ کالو۔۔ کی ہونے والی بیوی ۔۔؟؟ وہ کہاں ہے۔۔؟؟ پراسرار انداز میں پوچھا۔ تو نگینہ گڑبڑا گٸیں۔ اور پھٹی پھٹی نگاہوں سے حبیب صاحب کو دیکھا ۔
کیا ہوا۔۔؟ مجھے کیا دیکھ رہی ہو۔۔؟ بھاٸ کچھ پوچھ رہا ہے۔۔ اسکا جواب دو۔۔۔؟؟
حبیب صاحب کے اطمینان میں زرافرق نہ آیا۔
ضروریہ شخص اسے کہیں چھوڑ آیا ہے۔ بہت شاطر انسان ہے یہ۔۔ نگینہ پھنکاری۔
ہاہاہاہہہا!سازش تم کرو۔۔۔میرے بھاٸ کو تم نے مجھ سے الگ کیا۔ پورے گھر پے راج کرنے کا خواب دیکھ رہی ہو۔۔ اور اب۔۔ میری بیٹی کا استعمال کرنے جارہی تھی۔۔ اور۔۔ شاطر میں ہوں۔۔؟؟
حبیب صاحب صوفے پے آرام سے بیٹھتے بولے ۔
سچ سچ بتا۔۔۔ کہاں ہے۔۔ تیری بیٹی۔۔؟ ورنہ جان سے مار ڈالوں گا۔ گن کا رخ اسکی جانب کیا۔ باقی کے تین آدمی بھی الرٹ کھڑے تھے۔
تمہیں کیا لگتا میں اپنی بیٹی کو تمہارے انتظار میں بٹھا کے رکھوں گا۔ کہ تم آٶ اور اسے لے جاٶ۔۔۔؟؟ پاگل سمجھ رکھا ہے مجھے؟
حبیب صاحب غصے سے کھڑے ہوۓ۔
میں تو کہتی ہوں۔۔ مارو اسے گولی۔ کام ختم کرو۔۔
سرفراز کے ہاتھ سے گن نگینہ نے کھینچی اور حبیب صاحب پے تانی۔
ہممممم۔۔۔ نگینہ نہیں۔۔ ناگن ہو تم۔۔۔ میرا گھر کھا گٸ۔ حبیب صاحب کو سخت غصہ آیا۔
ہاہاہاہاہہا۔۔۔ صحیح کہا تم نے۔۔۔۔ تمہاری بیوی۔۔۔ شگفتہ کق بھی میں نے ہی مارا تھا۔ زہر دے کے۔۔۔ ! دوست تھی میری۔۔۔ لیکن۔۔ وہ عیاشی کی زندگی گزار رہی تھی۔ اور میں۔۔ طلاق لے کے آگٸ۔ مجھے تم جیسا ہینڈسم اور پیسوں والا سوٹ کرتا تھا۔ میں نے شگفتہ کو ہٹا دیا راستے سے۔۔ اور اسکی جگہ لے لی۔
آج حبیب صاحب پے ایک اور راز افشا ہوا تھا۔
تم۔۔۔ وہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھے کہ سرفراز کے آدمیوں نے انکو جکڑ لیا۔
تم نے میری بیوی کو مارا۔۔ مجھ سے میری محبت چھینی۔۔ تمہیں ۔۔میں جان سے مار دوں گا۔۔۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔ اس وقت تم۔۔ ہمارے قبضے میں ہو۔۔ پھر بھی پھڑ پھڑا رہے ہو۔ ۔۔۔؟؟
چلو ایک اور سچ بھی سن لو۔۔۔ تمہارے ساتھ رہتے بہت جلد ہی تم سے اکتا گٸ۔۔۔ تھی۔۔ میں۔۔ اور پھر یہ جاٸیداد۔۔ اس میں تمہارا بھاٸ بھی وارث نکلا۔ اور ۔۔پھر۔۔۔ نگینہ دی گریٹ نے۔ اسے بی راستے سے ہٹایا۔ پہہلے میں نے تمہارے بھاٸ کو آفر دی کہ تمہیں مار کے ساری جاٸیداد پے دونوں عیاشی کرتے ہیں۔۔۔
جانتے ہو۔۔۔ مجھے بھا گیاتھا تمہارا وہ سادا سا بھاٸ۔۔! اور جب دل آجاۓتو۔۔۔۔۔پھر۔۔ حلال حرام کا فرق مٹ جاتا ہے۔۔ میں نے تعلق بنانا چاہا مجیب سے۔۔ لیکن۔۔ اس نے مجھے دھتکار دیا۔۔ میری محبت کو۔۔۔ نگینہ کی محبت کو۔۔۔ اسی لمحے تم۔۔ گھر داخل۔ہوۓ۔۔ اور پھر میں نے تمہیں جو دکھایا۔ تم نے اسے ہی سچ مان کے اپنے بھاٸ کو گھر سے نکال دیا۔
حبیب صاحب نے سختی سے آنکھیں بند کیں۔ تو دو آنسو بہہ نکلے۔
اور تمہارا۔۔۔ بھاٸ بھی چپ چاپ چلا گیا۔۔۔تمہاری بے یقینی اسے مار گٸ۔۔۔ !
اب ۔۔تم بھی جاٶ۔۔ اپنے بھاٸ کے پاس۔۔۔! اور پھر۔۔ یہ ساری جاٸیداد صرف میری۔۔۔ نگینہ کی۔۔۔ ہہاہہہاہاہاہاہ۔۔۔
کہتےہی وہ پاگلوں کی طرح ہنسی ۔
اور گن کا رخ حبیب صاحب کیجانب کیا ۔
مار ڈالو۔۔۔ میری یہی سزا ہے۔۔ لیکن۔۔ یاد رکھنا۔۔ مجھے مار کے بھی تمہیں۔۔ کچھ نہیں ملے گا۔۔۔ کیونکہ۔۔ میں نے اپنی ساری جاٸیداد۔۔ سب کچھ۔۔ لمظ کے نام۔کر دیا ہے۔۔ جو میرے مرنے کے بعد اسکے نام۔خود بخود ٹرانسفر ہوجاۓ گا۔۔
حبیب صاحب نے اسکے سر پے دھماکہ کیا۔
پھر ۔۔۔ تمہاری بیٹی کو بھی بہت جلد اوپر پہنچاٶں گی۔۔۔ اس کے مرنے کے بعد تو۔۔ پھر اکلوتی وارث بچی میں۔۔ ! سب کی مالک بنوں گی میں۔۔۔
چلو۔۔۔ اب شاباش۔۔ مرنے کے لیےتیار ہوجاٶ۔۔۔! کہتےہی گن کاٹریگر دبایا۔ کہ ایک گولی چلی جو سیدھا نگینہ کے ہاتھ پے لگی جس سے وہ ٹریگر دبا رہی تھی۔
پلٹ کے تڑپتے ہوۓ آنے والے کو دیکھا۔
اریسٹ دیم۔۔۔۔! ایس ایچ او۔۔فرحان علی نے بروقت پہنچ کے حبیب صاحب کو بازیاب کرا لیا تھا۔ اور ان سب کو پولیس حراست میں لے چکی تھی ۔
لیڈیز پولیس نے نگینہ کو پکڑا تھا۔
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ کھینچ کے ایک تھپڑ نگینہ کو رسید کیا ۔ وہ ایکدم منہ دیکھتی رہ گٸ ۔
ہاہاہاہاہ۔۔ تم ۔۔کچھ بھی نہیں کر پاٶ گے۔۔ یں واپس آٶں گی۔۔ تمہیں۔۔ نہیں چھوڑوں گی۔ وہ جھٹپٹاٸ۔
فرحان۔۔ یہ لو۔۔ موباٸل۔۔! ایک طرف گلدان کے پیچھے سے موباٸل۔نکالکے فرحان کو دیا۔
اس میں اس نے اپنے تمام گناہوں کا اقرار کیا ہے ۔ اسے سخت سے سخت سزا ہونی چاہیے۔۔
انہوں نے سختی سے کہا۔ تو فرحان نے انکا کاندھا تھپک کے اپنے ساتھ کا یقین دلایا
ان سب ک پولیس پکڑ کے لے گٸ۔ نگینہ نے بہت شور مچایا۔ لیکن اس بار بری پھسی تھی۔
حبیب صاحب دل ہار کے صوفے پے ڈھے سےگۓ تھے۔
انہیں شگفتہ کی یاد ستانے لگی۔ ان کے ہونے سے انکی زندگی مکمل تھی۔
بھاٸ کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ وہ خود کو آج بہت اکیلا محسوس کر رہےتھے۔
صد شکر تھا کہ وہ بیٹی کو بچا گۓ۔ ورنہ روز محشر بیوی کوکیامنہ دکھاتے؟














حمزہ سارے راستے ابتسام کا نمبر ٹراٸ کرتا رہا۔ لیکن نہ ملا ۔ فہد سے وہ رابطہ نہیں کر سکتا تھا۔ کہ اسکی کال پے وہ کہیں وہاں پھس نہ جاۓ ۔
اس کے پاس پیرزادہ منشن کا بھی نمبر نہ تھا۔
لیکن احمر کا تھا۔ اسے کال ملاٸ۔
اور اسے ساری ڈیٹیل دی۔ وہ بھی پریشان ہو گیا ۔
لالے دی جان۔۔۔ فکرناٹ۔۔۔ میں ہوں۔۔ ناں۔۔ میرےپوتے پیرزادہ منشن پے آنچ بھی نہیں آسکتی ۔
ٹھیک مجھ سے رابطے میں رہنا۔ میں بماسکواڈ ٹیم کو بھیجتا ہوں۔۔ تم پیر زادہ منشن خالی کرواٶ۔۔۔ فوراً۔
حمزہ کا رخ اب ہیڈ کوارٹر کیجانب تھا۔













آواز۔۔ سنی آپ نے؟ لمظ نے ابرش سے کہا۔
ابرش کا رخ دراز کی جانب تھا۔
آگے بڑھی۔ دراز کھولا۔ موباٸل الٹا پڑا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
ابرش نے موباٸل۔ہاتھ میں تھاما۔
ببر۔۔کالنگ۔۔۔! دونوںکا دل بری طرح دھڑکا۔ اس نام سے کون واقف نہ تھا۔۔؟؟
پک کریں۔۔۔ لمظ نے دھیرے سےکہا۔
ابرش نے کال پک کی۔ اور سپیکر پے ڈال دیا۔ اتنے میں ابی جان بھی وہاں پہنچیں ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں۔۔۔
کتنی دیر سے تمہیں۔۔ فون کر رہا ہوں۔۔ اٹھا کیوں نہیں رہی تھی۔۔؟؟ اب غور ے سنو میری بات ۔۔ صرف آدھا گھنٹہ ہے تمہارےپاس۔ نکلو وہاں سے۔۔ ورنہ پیزادہ منشن کے ساتھ تم۔بھی اڑ جانا ۔۔۔ پھر نہ کہنا۔۔۔ بتایا نہیں۔۔! کہتےہی فون بند ہو گیا تھا۔
لمظ اور ابرش کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔
کی۔۔۔۔کیا مطلب ہوا۔۔اس بات کا۔۔؟؟
کچھ۔۔۔ کچھ غلط ہے۔۔۔! ابرش دھمیے سے بولی۔
سب کو لے کے باہر نکلو ابرش۔۔۔ جو بھی ہی اس پیر زادہ منشن میں ہے۔۔۔!
ابی جان نے آگے بڑھتے مضبوط انداز میں کہا۔
ابھی ابرش جواب دیتی کہ احمر اندر داخل ہوا۔ اس کے ساتھ اسکے آدمی بھی تھے۔
ابیجان۔۔۔! احمر آتے ہی اونچی آواز میں پکارا۔
ابی جان ابرش اور لمظ کو دیکھتی نیچے اتریں۔
کیا ہوا۔۔؟؟ آپ یہاں۔۔؟؟ ابی جان کے ماتھے پے بل پڑے۔ وجہ اتنے سارے آدمیوں کو پیر زادہ منشن میں ساتھ لے کے آنا تھا۔
گستاخی معاف ابی جان۔۔۔! ابھی اسی وقت سب کو یہاں سے نکلنا ہوگا۔۔۔ ! سب کی جان کو خطرہ ہے۔
احمر نے انکا تیکھا انداز محسوس کر لیا تھا۔
کیسا خطرہ۔۔؟؟ ابی جان کو خطرے کی بو آٸ۔
ابی جان۔۔۔ فی الحال یہاں ے نکلیں۔۔ مجھے سب کو محفوظمقام پرپہنچانا ہے۔۔۔ باقی باتیں بعد میں کرلیجیے گا۔
کہتے ہی احمرنے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ وہ پیرزا منشن میں پھیل جاٸیں۔
پلک جھپکنے میں آرڈر پاس ہوا۔
یہ۔۔۔یہ۔۔ہو کیا رہا ہے سب۔۔؟؟
ابی جان کو سخت برا لگا۔۔
ابرش اور لمظ بھی نیچے آگٸیں۔
توعروش آواز سنتی نیچے آٸ۔آج وہ ہاسپٹل نہ گٸ تھی ۔ جانا ارتسام نے بھی نہ تھا ۔ ایک ایمرجنسی کیس کی وجہ سے اسے جانا پڑا۔
دوسری طرف سے ارحام بھی غیر لوگوں کو گھر میں پھیلتے دیکھ پریشان ہوتا نیچے آیا۔
کیا ہو رہا ہے سب۔۔؟ ارحام کی سخت آواز پے احمر مڑا۔
احمر بھاٸ آپ۔۔؟؟ أرحام ایک دو بار ابتسام کے ساتھ اسے دیکھ چکا تھا۔ اور سلام دعا بھی ہوٸ تھی۔
لالے دی جان۔۔۔ سب کو لے کے یہاں سے نکلو۔
کوٸ بھی یہاں رہنا نہیں چاہیے۔ یہاں۔۔ بم۔۔ فٹ ہے۔۔ جو کسی بھی وقت۔۔ پھٹ سکتا ہے۔۔۔
بس سب۔۔ نکلو۔۔۔ اور گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔
احمر نے بنا وقت ضاٸع کیے فوراً کہا۔
آدھے گھنٹے میں پھٹ جاۓ گا بم۔۔۔! ابرش نے سانس روکے کہا۔
اب اسے ببر کی بات سمجھ آگٸ تھی۔ اسکی بات پے سب نے حیرت سے اسے دیکھا
آپ۔۔۔ آپ کو کیسے پتہ۔۔؟
احمر نے حیرت سے پوچھا۔
تو ابرش نے مختصراً ببر کی کال کا بتا دیا۔ جو پھوپھو عذرا کے نمبر پے آٸ۔ اور یہ بھی بتایا وہ بھی یہیں ہیں۔
احمر نے دانت پیسے۔
آپ لوگ باہر نکل جاٸیں۔ وہ ماں بیٹی۔۔ کہاں ہیں۔۔؟؟ بس اتنا بتا دیں۔۔۔
ارحام۔نے اسٹور روم کی جانب اشارہ کیا۔ اور خود ان سب کو لیے باہر کی جانب بڑھا۔
باہر آتے ہی ایک گاڑی انکا ویٹ کر رہی تھی۔
بیٹھیں۔۔ابیجان۔۔! ارحام۔نے دروازہ کھولا۔
ابی جان سوچ میں ڈوبی ہوٸ تھیں۔ پلٹ کے ایک نظر پیرزادہ منشن کو دیکھا۔
یہ۔۔۔ میرا۔ گھر۔۔۔۔؟؟؟ ان کی آنکھیں نم ہوٸیں۔
اللہ نے چاہا تو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔
ارحام نے انکا ہاتھ تھام کے انکو تسلی دی۔
ابی جان نے رخ پھیرا۔ اور آنسو صاف کیے۔ کیسا وقت آگیا تھا۔۔ اپنےہی گھر سے وہ بھاگ رہے تھے۔
ہونہہ ۔۔۔ یہ پھوپھو صاحبہ جانتی ہوں گی۔ کیونکہ پیرزاہ منشن میں اتنی سیکیورٹی میں تو کوٸ اندر آنہیں سکتا۔۔۔ ہو ناں۔ہو۔۔۔ یہ کام ۔۔پھوپھو نے ہی کیاہے۔
ابرش کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔
لیکن۔۔ ہم اندر نہیں جا سکتے۔۔۔ وہ بم۔۔کسی بھی وقت۔۔؟؟
بیس منٹ ہیں ۔۔! ابرش نے کلاٸ پے بندھی گھڑی دیکھتے ان سب سے کہا۔
سب نے ایک پل ایک دوسرے کو دیکھا۔ اور واپس اندر کی جانب بڑھے۔
جہاں احمر پھوپھو کو اچھا خاصا ڈرا دھمکا چکا تھا۔













دیکھیں۔۔ میری بات سمجھیں۔۔ مجھےجانے دیں۔ فہد ۔۔ مشکل میں ہے۔۔اسے ضرورت ہے میری۔۔ پلیز۔۔۔!
ابتسام سے جس حد تک ہو سکا خود پے ضبط کیے وہ ان سے دھیمے لہجے میں بولا۔
غصہ کر کے وہ کام بگاڑ سکتاتھا ۔
انافرز نے ایک دوسرے کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
اگر فہد زندہ ہے۔۔ تو کوٸ توتھا۔۔ جو آپ کی گاڑی میں تھا۔۔؟؟
وہ افسر سوچتے بولا ۔
یہ تو فہد ہی بت پاۓگا۔ کہ اسکی جگہ کون تھا۔۔؟ ابھی مجھے جان دیں۔
مجھے اندر آنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔۔۔؟ باہر سے پتی آوازوں پے وہ پلٹے۔ حمزہ کو ہیڈ کوراٹر کے گیٹ سے اندر نہیں آنے دیا جا رہا تھا۔
حنزہ کو بلاٸیں اندر۔۔۔! ابتسام نے دانت پیستے کہا تو اس افسر نے ابتسام کے تیور دیکھتےانٹر کام پے حمزہ کو اندر آنے کی اجازت دی ۔
دروازہ کھلا۔ حمزہ اندر آیا۔
کیا ہو رہا ہے یہ سب۔؟ کیوں روکا مجھے انہوں نے؟ کرنل شیخ زمان کہاں ہیں۔۔؟؟ حمزہ آتے ہی غصے سے شروع ہوگیا۔ وہ اپنے روم میں ہیں۔۔ ! افسر بھی تھوڑا درشتگی سے بولا۔
حمزہ نے سر جھٹکا۔ اور ابتسام کیجانب مڑا۔ کب سے فون کیےجا رہا ہوں۔۔۔ اٹھا کیو ں نہیں رہے۔۔؟؟ ادھر فہد بھی پریشان ہے۔۔۔اور۔۔؟؟؟
واٹ۔۔۔؟؟ فہد۔۔۔؟؟ افسر کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں۔
کیوں۔۔؟؟ میں نے کوٸ اور نام لے لیاہے۔۔جو دھچکا لگا۔۔؟؟ طنز سے کہتے واپس ابتسام کی جانب مڑا۔
وہ خطرے میں ہے۔۔۔ اس وقت وہ ببر کے اڈے پے ہے۔۔ ہمیں اسے بچانا ہوگا ۔۔۔! مضبوط لہجے میں کہتا اس کے ارادے خطرناک حد تک سامنے والے کو ڈرا کے رکھ رہےتھے۔
ابتسام نے سر اثبات میں ہلایا۔ ایک چمک تھی اسکی آنکھوں میں۔۔ افسر کے طرف بھاری قدم لیتے بڑھا۔
میری چیزیں۔۔؟؟؟ ابتسام کے پراسرار انداز پے افسر اسے دیکھے گیا۔
دےدو۔۔ افسر۔۔۔! کرنل شیخ زمان کی آمد پے وہ سارے چونکے۔
دھیرے دھیرے چلتے آگے آۓ۔
میجر ابتسام علی۔۔۔! مجھے ببر جیسا ناسور۔۔موت کے اترا دیکھنا چاہیے۔
انکے الفاظ انکا لہجہ انتہاٸ سخت تھا
میرا وعدہ ہے۔۔۔ یہ مشن آج مکمل ہوگا۔۔ اور تبھی میجر ابتسام آپ کو اپنی شکل دکھاۓ گا۔
اور۔۔۔۔
ان کےکان کے نزدیک ہوا۔ کیپٹن فہد کو زندہ واپس لاٶں گا۔
کہتےہی وہ واپس حمزہ کی طرف پلٹا۔
ایک اور مسٸلہ بھی ہے۔۔۔ حمزہ کے چہرے پے پریشانی تھی۔ ابتسام کی سوالیہ نظروں پے حمزہ نے پیرزادہ منشن میں بم کا بتا دیا۔
جسے سن ابتسام کے پیروں تلے سے زمین نکل گٸ۔
ڈونٹ وری میں ٹیم روانہ کرتا ہوں۔۔افسر بھی فوراً حرکت میں آیا۔ ابتسام اللہ کا نام لیتا سرپے کفن باندھے حمزہ کے ہمراہ باہرنکلا۔
لاسٹ لوکیشن کیا تھی۔۔؟؟ ابتسام نے سنجیدگی سے پوچھا۔
حمزہ نے لوکیشن ابتسام سے شیٸر کی۔ جو سگنل آٶٹ ہونےپہلے ہی حمزہ کو مل گٸ تھی ۔
دونوں اب اپنی منزل کی جانب گامزن تھے۔















یہ ایسے نہیں بتاۓ گی۔۔۔ ایک منٹ۔۔! ابرش نے چھری گرم کرتے پھوپھو کی کلاٸ کےپاس لے جاتے اسے ہراساں کیا۔
چھھھچھوڑو۔۔مجھے۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔! پھوپھو رو رہی تھیں۔۔
بتاٶ۔۔۔؟کہاں۔۔ ہے بم۔۔؟؟ چھری اسکی کلاٸ کےپاس رکھتےپوچھا۔
نہیں۔۔پتہ۔۔۔۔! روتے کہا۔
اسکی بیٹی کو مار ڈالو۔۔۔! احمر نے علیشا کو دیکھتے سرد آواز میں کہا۔
مییی۔میں۔۔۔ نے کچھ نہیں۔۔کیا۔۔ سب اماں۔۔ کا کیا دھرا ہے۔۔ میں نے منع بھی کیاتھا۔۔لیکن۔۔ اماں نہیں۔۔مانی۔۔۔ اللہ کا واسطہ ہے اماں بتا دو۔۔۔ کہاں لگایا ہے۔بم۔۔؟؟ علیشا نے ماں کو جھنجھوڑا۔
اگر یہ نہیں بتاۓ گی۔ تو اسے اسکی بیٹی سمیت یہیں قید کر دو۔۔ پندرہ منٹ بعد بم پھٹ جاۓ گا۔۔ اس پیر زادہ منشن کے ساتھ یہ بھی اللہ کو پیارے ہو جاٸیں گے۔۔
ابرش نے کہتے سب کو وہا ں سے چلنے کا کہا۔
کککیاکککیا مطلب۔۔؟؟ پھوپھو کے حواس جاگے۔
تمہارے نمبر پےکال آٸ تھی۔۔ ببر نے بم کا ٹاٸم بتا یا تھا۔۔۔ ! اب رہو یہیں۔۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد بم۔۔ بوم۔۔۔۔ پھٹے گا۔۔۔ اور پھر آکے ناں۔۔ تمہاری اور تمہاری بیٹی کی لاش کے چھتڑے اکھٹے کر کے چیل کوٶں کو کھلا دیں گے۔
ارحام نے دانت پیستےکہا۔
نہیں۔۔۔ ۔۔ رکو۔۔۔۔!ان کے باہر جاتے قدموں کو پھوپھو کی آواز نے روکا۔ تو وہ پلٹے۔
وہ۔۔۔وہ ۔۔۔ نیچے ہے۔۔۔۔! ڈرتے ڈرتے بتایا۔
وہ اب ان کی بتاٸ ہوٸ جگہ پے بھاگے۔
باڑ کی ایک طرف درخت کے نیچے کھود کے بم کو دبایا گیا تھا۔
یہ۔۔۔؟؟ احمر کو اچھنبا ہوا۔۔۔؟؟
ایک ۔۔۔کچن میں بھی ہے۔۔۔! پھوپھو کی آواز آٸ۔ تو وہ آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھتے کچن کا رخ کیا۔
بڑا سا کنٹینر اٹھایا۔اسکے اندر ٹاٸم بم تھا۔
بارہ منٹ ۔۔۔؟؟
سب سر پکڑ کے بیٹھ گۓ۔
ایک اور۔۔ ہے۔۔۔ انکی شکلیں دیکھتے پھوپھو نے ڈرتے ڈرتے پھر سےکہا۔
تُو ایک ہی بار میں بتا دے ناں۔۔ کتنے بمفٹ کراۓ ہیں۔۔؟ سارے بم نکال کے تجھ میں فٹ کردیتا ہوں۔
احمر جارحانہ انداز میں انکی جانب بڑھا۔ تو وہ بیٹی کے پیچھے چھپیں۔ جبکہ علیشا نے جھٹ سے آنکھیں موند لیں۔ احمر نے دانت پیستا رہ گیا ۔
کہاں ہے تیسرا بم۔۔؟؟؟ ابرش نے غصے سے پوچھا۔
چھھھھ چھت پے۔۔۔! منڈیر کے پیچھے۔۔۔! وہ سب۔۔۔ سے بڑا بم ہے۔۔۔! پھوپھو جھٹ سے بولیں۔
تو سب اوپر کی جانب بھاگے۔ وہ واقعی بہت بڑا بم تھا۔
یہ تو بہت تباہی مچاۓ گا۔۔۔ احمر کا دل سخت برا ہوا۔
صرف دس منٹ؟ ارحام دھیرے سے بولا۔
بم۔کو کون ڈیفیوز کرے گا۔۔؟؟ عروش کی بھی پریشان آواز نکلی۔
سبھی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔













ایک ایک کر کے وہ ببر کے سبھی آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا تھا۔ اور انکی لاشوں کو بھی ٹھکانے لگاتا جارہا تھا۔ اب چند ایک ہی بچے تھے۔
جو ببر کے ساتھ تھے۔
اوۓ۔۔ فیمو۔۔۔۔ کتنا ٹاٸم بچا ہے۔۔؟؟ دھماکے میں۔۔؟؟ ببر نے غراتے ہوۓ پوچھا۔
جناب صرف دس منٹ۔۔۔! فوراً جواب آیا۔
ہاہاہاہاہاہاہ انتظار ہے۔۔۔ بوم۔۔۔۔۔ بوم۔۔۔۔بوم۔۔؟؟؟
ڈ ڈز۔۔۔ ڈز۔۔۔۔۔۔ڈز۔۔۔۔۔!
ابھی وہ بول رہا تھا۔ کہ باہر سے گولیاں چلنے کی آواز آٸ۔ تو وہ سارے چو کنا ہوۓ۔ اپنا اپنا اسلحہ اٹھایا اور پوزیشن سنبھالی۔
فہد بھی چوکنا ہوا۔
لگتا ہے۔۔ پہنچ گۓ شیر۔۔۔؟؟ وہ مسکرایا۔
شیر آٸیں۔ اور دھاڑیں ناں۔۔ ایسا تو ہو سکتا نہیں ۔
ایک نظر چھپ کے انکو دیکھتا وہ نۓ حوصلے سے لڑنے کو تیار تھا۔














سب پیچھے ہٹ جاٸیں۔ آواز پے وہ چونکے۔
وہ چار لوگوں پے مشتمل ایک ٹیم تھی۔ جو فوجی ہی لگ رہے تھے۔ اور خود کو کور کیا ہوا تھا۔
Get everyone out of the house.
ایک افسر نے اونچی آواز میں کہا۔
تو وہ سب باہر کی طرف بڑھے۔
The other two bombs have been defused. That’s all that’s left.
(باقی کی دو بم نکارہ ہو چکے ہیں۔ اب صرف یہی بچاہے۔ )
ایک افسر نے دھیرے سے کہا۔
Michael carefully. If even one wrong wire cut … We.. All … ??
(میکاٸیل دھیان سے۔ اگر ایک بھی غلط واٸر کٹی تو۔۔۔ ہم۔۔ سب۔۔؟؟ )
میکاٸیل نے لمبا سانس خارج کیا ۔ اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ اسکے سامنے تین واٸرز تھیں۔ جن میں سے صرف ایک کو کٹ کرنا تھا۔
سب پیر زادہ منشن سے دور چلے گۓ تھے۔ جبکہ ارتسام کی گاڑی اسی وقت پیر زادہ منشن میں داخل ہوٸ تھی۔ جو ہر بات سے انجان تھا۔
میکاٸیل نے اللہ کا نام لے کے واٸر کاٹی۔ اور آنکھیں بند کرتے کلمہ پڑھا۔
