Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 12)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 12)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
پروفیسر فہداور پروفیسر فراز آچکے تھے۔ ہر طرف ہلہ گلہ تھا۔
سب اپنی اپنی پینٹنگس لیے آڈیٹوریم پہنچے تھے۔
ارحام بھی بلال کے ساتھ جاتا دکھاٸ دیا۔
لمظ کی نظر بھی اس پے پڑی۔
دونوں نے ایک دوسرے کو نفرت اور حقارت سے دیکھا۔
ارحام اپنے دوست بلال کے ساتھ پینٹنگ اٹھاۓ جس پے واٸیٹ کپڑا ڈالاہوا تھا ، آڈیٹوریم کی جانب بڑھ گیا۔
چال مغرورانہ اور اکڑ بے حساب۔ آنکھوں پے بلیک گلاسز۔۔ کسی ریاست کا شہزادہ ہی لگا۔
لمظ نے دیکھ کے منہ بگاڑا۔ اور رخ دوسری جانب کر لیا۔
دیکھ تو۔۔۔۔!! کیسے اکڑکے چل رہا ہے۔۔۔!!اکڑ جچتی بھی ہے۔۔۔۔اور۔۔۔انداز۔۔۔اف۔۔!!
انداز دیکھا تھا کتنا شاہانہ تھا۔۔۔۔۔!!کنول نےدل کےہاتھوں مجبور ہو کے تعریف کی تو لمظ کو غصہ آگیا۔
شکل دیکھی۔۔ ہے۔۔۔۔!! میسنا بلا۔۔۔ کہیں۔۔ کا۔۔۔!!
اور ۔۔۔ یاد رکھنا۔۔۔ ڈٸیر۔۔ اکڑ کے چلنے والے بہت جلد زمین پے گرتے ہیں۔۔۔!!
لمظ کی نیلی آنکھیں چمکیں۔
کیا۔۔۔ مطلب۔۔۔۔؟؟ کنول حیران ہوتی اسے دیکھنےلگی۔
سمجھانےکا ٹاٸم نہیں۔۔۔!! چلو۔۔۔ دکھاتی ہوں۔۔۔ لاٸیو شو۔۔۔!!
لمظ اسکا ہاتھ تھامے خود بھی آڈیٹوریم کی جانب بڑھی۔
جہاں۔ آج آرٹ ایگزبیشن تھی۔
یونی کے سب اچھے اچھے آرٹسٹ آج یہاں جمع تھے ۔ اپنی اپنی مہارت کے جلوۓ بکھیرنےکے لیے۔
اور ان سب میں راجا اندر بنا ارحام سب کی آنکھوں کا تارا۔۔ اپنی اکڑ۔میں کھڑا تھا۔
جبکہ بلال اسکی پینٹنگ اٹھاٸے اس کے ساتھ ساتھ ہی تھا۔
چمچہ۔۔۔۔۔!
لمظ نے زیرلب غصے سے کہا۔
کنول نے رخ موڑ کے دیکھا۔
ہے تو تمہارا ہی بھاٸی۔۔۔!!
منہ بنایا۔
ہممممممم!! آنکھیں سامنے ارحام پی گاڑتی وہ مسکراٸی۔
اسی بات کا تو اس نے فاٸدہ اٹھایا تھا۔
سبھی اس وقت ارحام۔کے ارد گرد موجود تھے۔
انتظار تھا تو پروفیسر فراز کا۔ جو پوری یونی میں ہٹلر مشہور تھے۔
سواۓ ارحام کے۔۔۔۔اس کے لیے وہ ہمیشہ سوفٹ ہارٹ تھے۔
لیکن آج شاید وہ بھی نہیں رہنے تھے۔
لیٹس کم۔۔۔۔!!پروفیسر فہد۔۔۔ اس سے ملیں۔۔۔ ہماری یونی کے ہونہار طالب علم۔۔۔۔ ارحام علی پیرزادہ۔۔۔۔!!
اور جو یہ پینٹنگ کرتا ہے۔۔۔ پوچھیں۔۔ مت۔۔۔ لاجواب۔۔۔!! شاہکار۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر۔۔ فراز شروع ہوگٸے تھے تعریفوں کے پُل باندھنا۔
اور ارحام میں مغروری مزید بڑھتی جا رہی تھی۔
ہمممم۔۔۔اگر ایسی بات ہے تو۔۔۔ ہم بھی اس ہونہار کا شاہکار دیکھنا چاہیں گے۔ پروفیسر فہد بہت مرعوب ہوۓ۔
کیوں نہیں۔۔؟؟
ہمممم۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔ارحام۔۔۔ اپنی وہی زبردست پینٹینگ شو کرو۔۔۔۔۔!! اپنا شاہکار۔۔۔۔
Such an amazing art work.
ارحام سے کہتے وہ پروفیسر فہد کو بھی ساتھ ساتھ بتانے لگے۔
کیوں۔۔۔ نہیں۔۔۔۔!! لیجیے۔۔۔۔!!
پینٹنگ بلال کے ہاتھ میں تھی۔ ارحام نے بنا دیکھے کپڑا ہٹایا۔
پورفیسر فہد نے دیکھا تو ناسمجھی سے وہ کبھی پروفیسر فراز کو دیکھتےتو کبھی ارحام کو۔
پروفسر فراز کا بھی یہی حال تھا۔ کبھی وہ پینٹنگ کو دہکھتے کبھی ارحام کو۔۔۔۔
یہ۔۔۔۔ کیا۔۔۔ مذاق ہے۔۔۔ ارحام۔۔۔۔؟؟
پروفیسر فراز کالہجہ سخت ہوا۔
سر۔۔۔۔!! مذاق نہیں۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔ پینٹنگ۔۔۔۔ہے۔۔۔!! ارحام نے ابھی بھی مڑکر پینٹنگ کو دیکھنا ضروری نہیں سمجھا۔
جبکہ دور کھڑی لمظ کاہنس ہنس کے برا حال تھا تو۔ کنول حیرانی کی مورتی بنی تھی۔
ارحام۔۔۔۔ یہ۔۔۔ کونسی۔۔۔ پینٹنگ ہے۔۔۔۔؟؟
دانت پیسے۔
سر۔۔۔یہ وہی۔۔۔پینٹنگ۔۔ ہے۔جو آپ کو۔۔ بہت۔۔۔پسند آٸی۔۔۔!! اسیلیے تو اس۔۔۔۔ شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحام۔کو شاہ پے ہی بریک لگی۔کیونکہ وہ مڑکے دیکھ چکا تھا۔
وہ شاہکار نہیں ۔۔۔ ایک خالی پینٹنگ تھی۔ بالکل کلین۔۔۔اور بڑے بڑے حروف میں اس پے شاہکار لکھا تھا۔
ارحام نے لب بھینچے۔
آنکھیں میچیں۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ کس کا کام ہے
۔
پلٹا تو دور ہی وہ نظر آگٸ۔ جسکی مسکراہٹ ارحام کو اسوقت زہرلگی۔
ارحام۔۔۔۔ !! یہ۔۔ سب کیا۔۔۔ہے۔۔۔؟؟
سبھی کی نظریں ادھر اٹھ رہی تھیں۔
اور سامنے ارحام تھا۔
The king of uni.
ہرمٸسلے کا حل ہوتا تھا۔۔ اس کےپاس۔۔۔ اور آج کیاکرتا سب دیکھنے کے لیے بے چین ہوۓ۔
سر۔۔۔۔!! یہی تو ہے۔۔۔۔!! خود اعتمادی کی انتہاکر دی۔
اچھا۔۔۔۔۔۔اا۔ا۔۔۔ا!!
پروفیسر نے اچھا کو کافی لمبا کیا۔
اس میں بادل تھے۔۔ ناں۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ کہاں ہیں۔۔۔؟؟ تیکھے انداز سے پوچھا۔
سر۔۔۔۔۔!! وہ ۔ ہوا ۔۔۔ ہوا لے گٸ۔۔۔۔!!
برجستہ جواب آیا۔
وہاں موجود سبھی کے چہروں پے مسکراہٹ سی پھیلنے لگی۔
اچھھھھاااا۔۔۔ اور وہ جھرنا۔۔۔۔؟؟
سر۔۔۔۔!! وہ بادل نہیں۔۔!!
چلے گٸے۔۔۔ تو ۔۔۔ بارش نہیں۔۔ ہوٸی۔۔۔۔!! اس لیے۔۔ جھرنے کا پانی۔۔۔ سوکھ گیا۔۔۔۔!!
بہت دکھ سے بولا۔ لیکن خود اعتمادی میں کمی نہ آٸی۔
ہنسی کی ہلکی ہلکی آوازیں آٸیں۔
اوروہ لڑکی۔۔۔۔؟؟ جوجھرنے کے پاس تھی۔۔۔۔۔؟؟ وہ۔۔؟؟
پروفیسر فراز نے غصہ ضبط کرتے پوچھا۔
Sir its common sense…
جب ۔۔بادل نہیں۔۔۔ بارش نہیں۔۔۔۔ جھرنا نہیں۔۔۔ تو لڑکی کا کیا کام۔۔۔۔؟؟ وہ بھی اپنے گھر ۔۔۔ چلی گٸ ۔
اتنا کہنے کی دیر تھی۔ وہاں موجودسب طالب علموں کے قہقہے بلند ہوۓ۔
میرے آفس میں آکے ملو۔۔۔ مجھ سے۔۔۔!! پروفیسرفراز غصے سے پاٶں پٹختے وہاں سے پروفیسر فہد کو لیے واک۔آٶٹ کر گٸے۔
ان کے جانے کے بعد ہنسی کا طوفان برپا ہوگیا۔
کچھ اس پل کوہنس کے انجواٸے کر رہے تھے تو کچھ مذاق اڑارہے تھے۔
وہ بھی ہنستی ہوٸی ارحام کو سامنے آٸی۔ جو لب بھینچے اسے ہی گھور رہا تھا۔
واہ۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔ کمال کی۔۔۔ Explanation تھی۔۔۔۔۔!!
لمظ نے داد دی۔
یہ سب ۔۔۔ تمہیں۔۔۔ بہت۔۔ مہنگا۔۔۔پڑنے والاہے۔۔۔!!
you pay for this….
ارحام نے دانت پیسے۔
ابھی تو۔۔۔ آفس جاٶ۔۔۔ اور وہاں Pay کرو۔۔۔۔!!
کان کے پاس ہوتی وہ سرگوشی کرتی ارحام کے غصے کوہوا دے گٸ۔















ابرش مجیب صاحب کو گھر لے آٸی تھی۔
مجیب صاحب کو ڈسچارج کرنے کے بعد ارتسام دودن کی چھٹی پے اپنے دوست شاہد کے بے حد اصرار پر اس کے ہمراہ اسکے گاٶں شادی پے جا چکا تھا۔
ابی جان کی اجازت سے۔ اور ابی جان کو بھی اپنی زمینوں کے حساب کتاب کے لیے گاٶں جانا تھا۔ اس لیے وہ بھی کچھ دنوں کے لیے اپنے گاٶں چلی گٸیں۔
اس بات سے انجان کے واپسی پے ان کے لیے کنتے بڑے سرپراٸزز تیار ہوں گے۔














مجیب صاحب چپ سے ہوگٸے تھے۔ انہیں رہ رہ کے اپنی جلد بازی پے غصہ آرہا تھا۔ کہ کیوں انہوں نے جلد بازی میں بیٹی کا رشتہ طے کردیا۔ مزید براں وہ شاہان کا انداز یاد کر کے بھی خوف زدہ تھے۔
جو بھی تھا ابرش ان کی بیٹی تھی۔ بیٹا نہیں۔۔ لاکھ وہ مضبوط لیکن تھی وہ نازک سی لڑکی ہی۔
وہ اسے اب کیسے بچاپاتے اس شا ہان نامی بلا سے۔ یہی سوچتے ان کے دماغ میں درد بڑھنے لگا۔
بابا کیا ہوا۔۔؟؟ آپ کے سر میں درد ہے کیا؟
کنپٹی کو مسلسل دباتے ابرش کی نظر ان پے جا ٹہری۔
نہیں۔۔ بیٹا۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔ ٹھیک ہوں۔۔میں۔۔ تم پریشان نہ ہو۔۔۔
انہوں نے جبراً مسکراتےکہا۔
بابا۔۔۔۔! میں نے سوچ لیا ہے۔۔ میں وکالت کا یہ آخری سمسٹر مکمل کر کے اپنی پریکٹس سٹارٹ کروں گی۔
اور۔۔۔؟؟؟ لمحے بھر کا توقف کیا۔
اپنا سب کچھ واپس لوں گی۔۔ اس شاہان سے۔۔۔! لہجے میں سختی اور نفرت تھی۔
نہیں بیٹا۔۔۔! ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔۔۔وہ پولیس والا ہے۔۔ کوٸ الٹا کیس بنا دے گا۔۔
مجیب صاحب ڈرتے ہوٸے بولے۔
نہیں۔۔بابا۔۔۔ وہ ہماری چیزیں ہیں سب۔۔۔ حق حلال کی ہیں۔۔ واپس لازمی لوں گی۔ چاہے اس کے لیے مجھے کسی بھی حد تک جانا پصے۔۔ چھوڑوں گی نہیں۔۔
ابرش اس راجہ کا بھی زکر کرنا چاہتی تھی۔ لیکن ان کی حالت کےپیش نظر فی الحال کے لیے یہ ٹاپک نہ چھیڑا
بابا ۔۔! آپ آرام کریں۔۔۔ باپ کے ماتھے پے بوسہ دیتی مسکراتی باہر نکلی۔
کھلی ہوا میں باہر آتے وہ پرسکون سی مسکراٸ۔
میں جانتی ہوں۔۔۔میں غلط نہیں۔۔ اور نہ ہی کبھی غلط کا ساتھ دوں گی۔ چاہے پھر مجھے کسی بھی حد تک کیوں نہ جانا پڑے۔
نہ ہی کسی کے ساتھ زیادتی کروں گی۔ اور نہ ہی کرنے دوں گی۔
یہ وعدہ ہے میرا خود سے۔۔۔
انسپکٹر شاہان۔۔ بہت جلد ملاقات ہوگی تم سے۔۔۔! دل ہی دل میں وہ اس انسان سے مخاطب ہوٸ۔














دلہا سہرے میں تھا۔ اسکی شکل کسی کو دیکھنے نہ دی۔ بلکہ اس کے ساتھ اسکا چھوٹا بھاٸ بھی سہرا سجاٸے بیٹھا تھا۔
یہ کونسا نیا رواج چل نکلا ہے۔۔؟؟ ارتسام کو عجیب سا لگا۔
یار یہ سرفراز بھاٸ کا چہیتا بھاٸ ہے۔۔ جو کہتا ہے سرفراز بھاٸ فوراً کر دہتے ہیں۔
اس نے بھی کہا ہوگا۔۔۔ میں نے سہرا پہننا ہے۔ سرفراز بھاٸ نے پہنا دیا ہوگا۔
حد ہے جاہل پن کی۔ ارتسام کو بہت عجیب لگ رہا تھا۔ بارات لے جانے کا شور اٹھا تو سبھی دوسرے گاٶں جانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔
وہ سب دوست بھی شاہد کی جیپ میں بیٹھے دوسرے گاٶں روانہ ہوچکے تھے۔ جہاں بہت پرجوش انداز میں ان کا ویلکم ہوا تھا۔
بلاشبہ وہاں کی سبھی لڑکیاں خوبصورت تھیں۔ ۔خیر۔۔۔ نکاح شروع کیا گیا۔ تو سہرا بھی ہہٹا۔ دنوں بھاٸیو ں نے سہرا اتار کے ساٸیڈ پے رکھا۔ اور وہیں ارتسام کے پیروں تلے سے زمین نکلی۔
یہ وہی دونوں بھاٸ تھے۔ جو اس دن ہاسپٹل میں آٸے میں ملے تھے
سرفراز انصر ولد انصر علی۔۔ کیاآپ کو سکا راٸج الوقت بعوض تیس لاکھ۔ حق مہر ۔ عروش مصطفی بنت محمد مصطفی ۔کیاآپ کو اپنے نکاح میں قبول ہے۔۔؟؟
سرفراز انصر مسکرایا۔
جی۔۔قبول ۔۔۔ہے۔۔۔ شرماتے کہا۔
ساتھ ہی اسکا کالیہ بھاٸی بھی مسکراتے بولا۔
قبول ہے۔۔مجھے بھی۔۔۔ !
اب نے اسکا مزاق سمجھ کے ہنس کے ٹال دیا۔۔ کہ دماغی طور پے وہ ٹھیک نہیں تو اس لیے کوٸ اسے کچھ نہ بولا۔
لیکن لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ نکاح ایک نازک معاملہ ہے۔ زرا سی لاپراہی کیا سے کیا کر دیتی ہے۔
مولوی صاحب پھر سے بولے۔
تو سرفراز نے پھر سے مسکراتے وہی جواب دینےلگا۔کہ۔۔۔
ایک منٹ۔۔ مولوی صاحب۔۔۔ ! ارتسام نے بہت جبر کیا لیکن عہ غلط ہوتا نہ دیکھ سکا۔ اس لیے انچی آواز میں بولا۔ کہ سبھی کی نظریں بیک وقت اس پے اٹھیں۔














اب رونا بند بھی کرو۔ اگلی شام کامی پھر سے فاریہ کے پاس تھا۔ اس کے گھر میں۔
گھر میں کوٸ نہ تھا۔ اور وہ فاٸدہ اٹھاتا اند داخل ہو چکا تھا۔
تم۔نے جو میرے ساتھ کیا ہے۔۔ اس کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گٕی۔ یاد رکھنا۔
آنکھیں صاف کرتی وہ گویا ہوٸ۔
اچھا بابا۔۔ نہ کرنا معاف جو چاہے سزا دے دینا۔ وہ اسے پھر سے قابو کرنے لگا۔
تم نے سارے کیے کراۓ پے پانی پھیر دیا۔
اور وہ۔۔ زولفقار۔۔ وہ بھی ایک کام نہ کر سکا۔ سب بے کار ہو۔۔۔ وہ غصہ ہوٸ۔
اچھا دیکھو میری طرف۔۔ تم جو وقت۔۔ ابتسام کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی۔ وہ وقت تم نے میرے ساتھ سپینڈ کر لیا۔ لیکن۔۔یہ بات صرف تم اور میں ہی جانتے ہیں۔۔ناں۔۔۔ اور تو کوٸ نہیں جانتا ناں۔۔؟؟
ابتسام کی وہ تصویریں تمہارے پاس ہی ہیں۔۔ تم جب چاہو۔۔اس کے خلاف ایکشن لے سکتی ہو۔۔
کامی نے اسے نٸ راہ دکھاٸ۔
اس نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔
واقعی۔۔۔ یہ تو ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔ اسطرح تو میں نے سوچانہیں تھا۔۔۔! یوں تو ابتسام ابھی بھی پھس سکتا ہے۔۔۔
وہی بیٹھے بیٹھے اس نے آگے کی ساری پلاننگ کر لی۔ اسکی آنکھیں چمکنے لگیں۔ جہنیں کامی نے بہت اچھے سے محسوس کیا۔
بس ۔۔۔ خوش میری جان۔۔۔؟؟ کامی نے اسکے گرد حصار بنایا۔
دور رہو مجھ سے۔۔۔ فاریہ نے اسکا ہاتھ جھٹکا۔ تو منہ بسور کے رہ گیا۔ یہ اسکا گھر تھا۔ اور یہاں وہ اسکے ساتھ کوٸ زور زبردستی نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے صبرکے گھونٹ پی کے رہ گیا۔














کیا مطلب۔۔؟؟ نکاح کیوں روکا۔۔۔؟؟
جاوید چوہدری نے ماتھے پے بل ڈالے ارتسام سے پوچھا۔
کیونکہ یہ۔۔۔ اس نکاح کے لاٸق نہیں۔۔ یہ دونو ں بھاٸ ایک نمبر کے فراڈ ہیں۔ اور آپ۔۔ انہیں اپنی بیٹی دینے جارہے ہیں۔۔؟؟
ارتسام نے بھی غصے کی شدت کو ضبط کرتے کہا۔
دیکھو برخوردار۔۔ ! یہ ہمارے گھر کامعاملہ ہے۔۔ زاتی۔۔۔۔۔
توبہتر ہوگا۔۔ اس معاملے میں نہ پڑو۔
آپ کے اندر خوفِ خدا نہیں ہے کیا۔؟ آپ کیسے کس ادھیڑ عمر شخص کے ساتھ بیاہ سکتے ہیں؟؟
ارتسام کو حیرت ہوٸ۔
جاوید چوہدر نے ارتسام کو سخت گھوری سے نوازا
اور مولوی صاحب کی جانب مڑے۔
آپ نکاح شروع کریں۔۔۔! حکمیہ لہجے میں کیا۔
اور میں نے کہا۔۔ یہ نکاح نہیں ہوگا۔
اب کی بار ارتسام غصے سے بولتا آگے بڑھا۔
تم ہوتے کون ہو۔۔؟؟ یہ نکاح روکنے والے؟
سرفراز انصر بھی غصے سے کھڑا ہوا۔ ۔
مانو نہ مانو اسکا اس لڑکی کے ساتھ ضرور کوٸ چکر ہوگا۔۔ تبھی۔۔اتنا منہ بھر کے۔۔۔۔؟؟؟
چپ۔۔۔ ایک دم ۔۔۔ چپ۔۔۔۔
ارتسام نے انگلی اآٹھا کے اونچی آواز میں للکارا۔ تو وہ عورت ایک دم سہم کے چپ ہوگٸ۔
آپ۔۔۔ کیا آپ کو اپنی بیٹی عزیز نہیں۔۔؟ جو یوں دو کوڑی کے انسان کے ساتھ اسے بیاہ رہے ہیں۔۔؟ جانتے بھی ہیں۔۔ کیا پلاننگ کی ہوٸ ہے ان دونوں بھاٸیوں نے۔۔؟؟
ارتسام دکھ اور غصے سے بولا۔
کچھ لمحے تو جاوید چوہدری ارتسام کو گھوری ڈالتے رہے۔
ہاں۔۔ جانتا ہوں۔۔ تمہیں۔۔کیا تکلیف ہے۔۔؟
وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گۓ۔ جبکہ ارتسام ان کی بات سن شاکڈ رہ گیا۔
اوہ۔تو۔۔۔وہ ۔۔ یقیناً آپ کی سگھی بیٹی نہیں۔۔ ہوگی۔۔ ورنہ۔۔ آپ اتنا بڑا ظلم کبھی نہ ہونے دیتے۔ ارتسام۔نے فوراً اندازہ لگایا۔
میں تمہیں آخری بار کہہ رہا ہوں۔۔ نکاح میں خلل مت ڈالو۔۔۔
جاوید چوہدری پھر سے سخت انداز میں بولا۔
یہ نکاح تو میں ہونے نہیں دوں گا۔۔۔ سیدھا جیل پہنچاٶں گا۔۔ تم سب کو۔۔۔! ارتسام نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔
ارتسام کیاکر رہا ہے۔۔۔ ؟ کیوں ان سے پنگا لے ہا ہے۔۔؟؟ یہ لوگ صحیح لوگ نہیں ہیں۔۔ مت لے پنگا۔۔۔!
شاہد نے اسے دھیمی آواز میں سمجھانا چاہا۔
اوٸے لڑکے ۔۔۔تو کیا چاہتا ہے۔؟کیوں۔۔ رنگ میں بھنگ ڈال رہا ہے۔۔؟؟ سرفراز انصر اسکے پاس آکے منما کے بولا۔ اس وقت وہ بس نکاح کے حق میں تھا۔ اور لڑاٸ نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے بہت آرام سے پوچھا۔
شرم ہے یا نہیں تم میں۔۔۔؟؟ ارتسام نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
مولوی صاحب نکاح شروع کرو۔ اسے تو بعد میں دیکھتا ہوں۔ دانت پیستا سرفراز بولا۔
ابھی دیکھ لو۔۔۔ شوق سے دیکھ لو۔۔۔ !
اسے باہر نکالو۔۔۔۔ جاوید چوہدری نے اپنے آدمیوں سے کہا۔
مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔۔ ارتسام نے جاوید چوہدری سے کہا۔
جاوید چوہدری ایک نظر سب کو دیکھتا اسے لیے ایک کم گوشے کی جانب بڑھا۔
بولو۔۔۔؟؟ اور یہ آخری بار ہے اس کے بعد یہاں نظر نہ آٶ۔
غصہ ضبط کرتے وہ بولے۔
بہت سوچ کے کڑے مراحل سے گزرتے ارتسام نے الفاظ ترتیب دیۓ۔
آپ نے جتنے بھی پیسے لینے کیے ہیں۔۔ اس کے دو گنا میں آپ کو دیتا ہوں۔۔ یہ نکاح روک دیں۔
ارتسام نے اندھیرے میں تیر چلایا۔
جاوید چوہدری کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گٸیں۔
بولیں۔۔۔؟؟ جو رقم آپ کہیں گے۔۔ لکھ دوں گا۔۔۔ لیکن۔۔ یہ نکاح کا مذاق مت بنواٸیں۔
ارتسام نے انہیں سمجھاتے کہا ۔
60 لاکھ۔۔۔؟؟؟ جاوید چوہدری کو صرف پیسے کی زبان سمجھ آتی تھی۔ لہذا اسی زبان میں بات کی۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔! میں دینے کو تیار ہوں۔۔ ارتسام نے ایک لمحے میں فیصلہ کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ۔ تمہیں۔۔ لڑکی کو یہاں سے لے جانا ہوگا۔۔ وہ بھی نکاح کر کے۔۔۔!
اور 60 لاکھ کی رقم حق مہر میں مجھے ادا کرنی ہوگی۔
جاوید چوہدری نے ابکی بار ارتسام کی بولتی بند کر دی۔
وہ نکاح کیسے کر سکتا تھا۔۔؟؟ بنا ابی جان کو بتاۓ وہ۔۔۔؟؟ نہیں۔۔ وہ نہیں کر سکتا تھا۔
ایسا نہیں۔۔ہو سکتا۔۔۔۔ میری ابی جان یہ فیصلہ کریں گیں۔ میں نہیں۔۔۔۔!
میں۔۔۔ نکاح۔۔نننہیں ۔۔۔۔کر سکتا۔۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔جاٶ یہاں سے اور بیچ میں نہ پڑو۔۔۔ کیونکہ۔۔ اب میں اس لڑکی کو گھر میں نہیں رکھ سکتا۔
جاوید چوہدری نے اٹل لہجے میں کہا۔
او واپس لوگوں کے بیچ جانے لگا جہاں نکاح چھوڑا تھا۔
چلیں مولوی صاحب۔۔۔ نکاح شروع کریں۔
سبھی ہاں موجود لوگوں میں چہ مگوٸیاں ہورہی تھیں۔ لیکن چوہدری کے سامنے کوٸ بول جاٸے کسی میں اتنا دم نہ تھ۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں یہ نکاح کروں گا۔۔۔
ارتسام نے لمحے کے ہزارویں حصے میں یہ فیصلہ لیا۔ ایک لمحے کو وہاں سب کو سانپ سونگھ گیا۔














ابتسام میٹنگ سے فری ہوتا آفس میں آیا تو موباٸل پے میسج ٹون بجی۔
بزی انداز میں موباٸل اٹھا کے دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گۓ۔
اسے اپنی آنکھوں پے یقین نہ آیا۔ بار بار دیکھا۔ لیکن۔۔۔ وہ ان تصویروں کے جال میں الجھ کے رہ گیا۔
تبھی کال آگٸ۔
تصویریں مل گٸیں۔۔؟؟
شیریں زبان میں پوچھا۔ ابتسام بس کڑوا گھونٹ پی کر رہ گیا۔
اگر چاہتے ہو۔۔۔ کہ بدنامی نہ ہو۔۔۔تو جیسا جیسا کہوں۔۔ ا ویسا ویسا کرنا پڑے گا۔۔ ورنہ نتاٸج بہت سنگین صورت حال اختیار کرجاٸیں
سی یو۔۔۔۔!
کال۔بند ہوچکی تھی۔ ابتسام نے موباٸل پے وہ تصویریں پھر سے دیکھیں۔ اور بہت تیزی سا اسکا دماغ چل رہا تھا۔
لیکن کال کا ڈیٹا مٹ چکا تھا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا۔ کہ وہ کتنے بڑے جال میں پھنستا جا رہا ہے۔
جاری ہے۔
