Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 01)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

ابتسام بیٹا۔۔۔۔!

آپ۔۔ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔؟؟

آپ۔۔ فیکٹری کو کیسے بند کرسکتے ہیں۔۔۔۔؟؟

آپ جانتے ہیں۔۔ کتنے لوگوں کا رزق جڑا ہے اس فیکٹری سے ۔۔ !! اتنا بڑا فیصلہ ۔۔یوں اچانک۔۔۔؟؟ یہ۔۔۔ صحیح نہیں ہے۔۔۔۔!!

وہ بہت پریشان حال تھے۔

جبکہ ابتسام علی پیرزادہ اتنا ہی مطمیٸن۔

بلیک تھری پیس میں وہ سلکی بال ماتھے پے گراۓ کھلتا سپید رنگ( جو کہ انکو وراثت میں ہی ملا تھا۔) ہلکی سی بیٸرڈ جو چہرے کو مزید چارچاند لگارہی تھی۔

وہ اپنی گرین آنکھوں سے سامنے والے کو مات کرنے کا ہنر رکھتا تھا۔

اپنی تھوڈی کے نیچے ہاتھ جماۓ بڑے مطیٸن انداز میں سامنے والے کو سن رہا تھا۔

مجیب انکل۔۔۔!! آپ جانتے ہیں ۔۔۔اس فیکٹری سے مجھے ان چھ ماہ میں آٹھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔۔۔۔!! اور اسے مزید ۔۔۔ چلانا ۔۔ گھاٹے کا سودا ہے۔۔۔۔

آپ کی بات۔۔ ٹھیک ہے۔۔! لیکن بیٹا۔۔ وہاں۔۔ جو غریب مزدور کام۔کر رہے۔۔۔ ہیں۔۔۔ انکا کیا قصور۔۔۔؟؟

مجیب صاحب کو ان بے چارے مزدورں کی فکر ستا رہی تھی۔

میں فیصلہ کر چکا ہوں ۔۔۔ انکل….آپ۔۔۔؟

بیٹا۔۔ جی۔۔

!! میں آپ کو مجبور نہیں کروں گا۔۔ لیکن ۔۔ ریکوسٹ ہے۔۔۔ ایک بار اپنے فیصلے پے نظر ثانی کر لیں۔۔۔

وہ بیچارے بھوکے ۔۔۔۔؟؟

آپ۔۔۔ جا سکتے ہیں۔۔۔!!

ابتسام کو انکا یوں اپنی بات بیچ میں کاٹنا سخت ناگور گذرا۔

اسلیے۔۔ انہیں سرد انداز میں کہتے اپنے لیپ ٹاپ کی طرف مڑ گیا۔

مجیب صاحب نم آنھوں سے باہر آگٸے۔

وہ جانتے تھے۔ اب فیصلہ بدلنے والا نہیں۔

لیکن ان۔۔۔ ایک ہزار مزدورں کی رزق روٹی کا کیا بنے گا۔۔۔؟؟

یہی سوچتے ان کی آنکھیں نم ہو گٸیں۔

اوپر آسمان کی جانب دیکھتے انکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

اللہ ہے ناں۔۔۔ وہی سب کا مالک ہے۔۔۔۔۔!!

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ارحام۔۔۔۔ !!ارحام۔۔۔۔!!

پورے ہال میں صرف ایک ہی نام کی باز گشت تھی۔

اور وہ مہارت سے کینوس پے ربگ بکھیرے جا رہا تھا۔

آج آرٹ کمپیٹیشن تھا۔ اور دی بیسٹ ارحام علی پیرزادہ اس میں ہر بار کی طرح حصہ لے رہے تھے۔

ہر دلعزیز وہ ہوبرو نوجوان ہر لڑکی کی آنکھ کا تارا۔

اس وقت اپنی گرین آٸیز سے کینوس پے فوکس کیے ہوۓ تھا۔

گرین آٸیز اسکی اپنے بڑے بھاٸی سے مشابہت رکھتی تھیں۔

وہ گھر بھر میں سب سے چھوٹا ہونے کے ساتھ سبھی کا لاڈلا تھا۔

پڑھاٸی میں نمبر ون۔

تو آرٹ کا وہ شہزادہ تھا۔

کچھ بھی بول دو۔۔ وہ پلک جھپکتے بنا کے سامنے کر دیتا۔

سب یہی کہتے اسکے ہاتھ میں جادو ہے۔

اس وقت اسکی پینٹنگ آخری مراحل میں تھی۔

مخالف والی ایک لڑکی تھی۔ وہ بھی بہت مہارت سے رنگوں کو کینوس پے اتار رہی تھی۔ اور کچھ الجھی ہوٸی بھی تھی۔ نروس تھی۔

لیکن ارحام اتنا ہی مطمٸین انداز میں اپنا ورک مکمل کر رہا تھا۔

ٹاٸم از اپ۔۔۔!!

ایک آواز گونجی تو اسی لمحے ارحام کا ہاتھ رکا۔

دوسری جانب لڑکی جس کا نام سونیاتھا۔ وہ بھی سٹاپ کر گٸ۔

ہال میں خاموشی چھا گٸ۔

یکدم ارحام اپنی پینٹنگ کے آگے سے ہٹا۔

تو پورے ہال پے چھایا سناٹا تالیوں سے گونج اٹھا۔

سب نے ہی بے حد تعریف کی۔

اور ہمیشہ کی طرح پہلا انعام کا حقدار ٹھہرا۔

کوٸی ایسا شخص نہ تھا ۔ جس نے ارحام کے کام کی تعریف نہ کی ہو۔

ہر طرف ایک ہی شور تھا۔

ارحام دی بیسٹ۔۔۔!!

جہاں سب اس کے دیوانے تھے۔ وہیں ایک ہستی ماتھے پےتیوری چڑھاۓ مسلسل اسے گھورے جا رہی تھی۔

جی۔۔۔۔ وہ کوٸی اور نہیں۔۔۔ اس یونی کی سب سے ٹاپر لڑکی لمظ حبیب شمس تھی۔

جس نے ہمیشہ ہی سب سے ہاٸییسٹ نمبرز لیے تھے۔

اور شروع سے ہی اسکی اور ارحام کی نہیں بنتی تھی۔

پوری یونی میں انکی جوڑی کو ٹام اینڈ جیری کی جوڑی کہاجاتا تھا۔

ابھی بھی وہ سب کے ساتھ اپنی جیت سلیبریٹ کر رہا تھا کہ نظر بھٹکتی لمظ پے جا ٹکی۔

ایک آنکھ سے اسے ونک کیا۔ اور ساتھ میں طنزیہ سماٸیل پاس کی۔

لمظ کے تو پیروں لگی سر پے بجھی۔

لوفر۔۔۔۔!! زیرِلب دہرایا۔

کون۔؟؟ کس کو کہا۔۔۔؟؟ کنول کو حیرت ہوٸی ۔۔ وہ ہمکلامی میں کسے بول رہی تھی۔۔

وہی جسے لوفری کا انعام ملاہے۔۔۔

لمظ نے جلے دل سے کہا۔

ہاٸے۔۔۔۔۔!! کتنا ہینڈسم ہے یار۔۔۔۔۔!! اف۔۔۔۔ میرا تو کرش ہے۔۔۔۔!!

جی چاہتا ہے۔۔ بس سامنے ہو۔۔۔ اور میں اسے دیکھتی رہوں۔

کنول مسکراتے ہوٸے ارحام۔کودیکھے جا رہی تھی۔ جو اب پارٹی کے لیے کینٹین کا رخ کر چکے تھے۔

ایک کام کرو۔۔۔!! تصویر کھینچ کے روم۔میں لگا لو۔ اور صبح شام اسکی تصویر کے آگے دِیا جلانا۔۔۔۔!!

چِلا کٹنا۔۔ شاید مل۔جاٸے۔۔۔۔!!

طنز سے کہتی لمظ وہاں سے اٹھی ۔۔ کہ کچھ یاد آنےپے پھر سے پلٹی۔

اور ہاں۔۔۔!! تصویر پے ہار ڈالنا نہ بھولنا۔۔۔!!

اس سے تمہیں بھی افاقہ ہو گا ۔۔ اور اسے بھی۔۔۔!!

آٸی بڑی۔۔۔۔!! کرش ہےمیرا۔۔!!

منہ بگاڑ کے کہتی وہ کنول کو سکتے میں ڈال گٸ۔

جب ہوش آیا تو اسکے پیچھے بھاگی۔ جو لاٸبریری جا رہی تھی۔

یقین مان ایک بات بھی سمجھ نہیں آٸی۔

ماسوۓ تصویر بنانے کے۔۔۔!!

کنول نے ڈھیٹوں کیطرح موباٸیل۔بیگ کی پاکٹ سے نکالا۔

چل آ۔۔۔۔!! چلتےہیں۔۔۔!!

کہاں۔۔۔۔؟؟ لمظ نے حیرت سے اس سے پوچھا۔

یار۔۔۔!! خود ہی تو کہا۔۔ تصویر بنا لو۔۔۔۔! اب۔۔ خود ہی۔۔۔۔۔!!

کنول۔نے منہ بنایا۔

اور لمظ نے گہرا سانس کھنچتےہاتھ سر پے مارا۔

میں نہیں جا رہی۔۔۔۔!! تم نے جانا تو جاٶ۔۔!!

لمظ کو غصہ آگیا۔

تو کنول مسکینوں والا منہ بنانے لگی۔ لمظ نے نظرانداز کیا اور ایک بک اٹھا کے وہیں ساٸیڈ پے بیٹھ گٸ۔

اے۔۔۔پیاری۔۔۔ !! چل ناں۔۔۔۔!!

کنول نے منمناتےکہا۔

کنول۔۔ !! چپ کر کے بیٹھو۔۔۔!! اور خبردار ۔۔ جو گٸ تصویر بنانے۔۔۔۔!! اتنا ہی کوٸی۔۔۔ وہ سلیبرٹی۔۔۔۔۔!!

لمظ نے منہ بنایا۔

اب کنول کو بےچینی ہونےلگی۔

بس وہ کسی طرح ارحام کی تصویر بنانا چاہتی تھی۔

کچھ لمحے گزرے ہوں گے۔

کہ کنول اٹھی۔

مجھے۔۔۔۔ ناں۔۔ وہ واش روم جاناہے۔۔۔!!میں ابھی۔۔ آٸی۔

لمظ کی سوالیہ نظروں پے جھٹ سے جواب دیتی وہ وہاں سے نکل گٸ۔

لمظ نے نفی میں سر ہلایا۔

پوری یونی کا وہ کنگ تھا۔

اور ہر لڑکی ہی اس پے فدا تھی۔

لمظ دوبارہ سے کتاب کے مطالعہ میں مصروف ہوگٸ۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہ جلد بازی میں گھرسےنکلی۔ آج وہ واقعی لیٹ ہوگٸ تھی۔

اس نے آج اپنی لاسٹ سمسٹر کی فیس جمع کروانی تھی۔

ابھی وہ گھر سے نکلی تھی۔ کہ سامنے سے سفیہ خالہ روتی ہوٸیں گذریں۔

اور ابرش انہیں روتا دیکھ نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاٸے۔۔۔۔۔؟؟ ناممکن۔۔۔!!

کیا ہوا۔۔۔؟؟ خالہ۔۔۔؟؟ آپ۔۔۔ رو کیوں رہی ہیں۔۔۔؟؟

سفیہ خالہ نے منہ کے آگے دوپٹہ رکھ مزید اپنے آنسو بہاٸے۔

بیٹا۔۔۔۔! ردا۔۔۔ ۔۔ کل شام۔۔۔ سے غاٸب۔۔ ہے۔۔۔!! کچھ پتہ نہیں۔۔۔ کہاں چلی گٸ ہے وہ۔۔؟؟

اوہ۔۔۔۔۔ آپ نے دیکھا۔۔۔۔ساری جگہ۔۔۔؟؟

ابرش پریشان ہوگٸ۔

ردا کے ابا گۓ ہوۓ ہیں۔۔ رات کو بھی ڈھونڈتے رہے۔۔۔ابھی بھی گٸے ہوۓ ہیں۔۔۔!!

خالہ۔۔۔!! آپ نے پولیس میں رپورٹ درج کراٸی۔۔۔؟؟

ابرش نے ایک اور سوال کیا۔

ردا کے ابا گٸے تھے۔ جمال بھاٸی کے ساتھ۔۔ لیکن انہوں نے۔۔ منع کر دیا۔۔۔ کہ چوبیس گھنٹوں سے ۔۔پہلے رپوٹ نہیں لکھیں گے۔۔۔!!

سفیہ خالہ نے آنسو ضبط کرتے کہا۔

اسے کیسے۔۔۔۔؟؟ کر سکتےہیں وہ۔۔۔۔؟؟

ابرش کو غصہ آگیا۔

تبھی ردا کے ابا کمال صاحب اپنےبھاٸی کے ساتھ آتے دکھاٸی دیۓ۔

کیا ہوا۔۔۔ ردا کے ابا۔۔؟؟ پتہ چلاکچھ۔۔۔؟؟

سفیہ خالہ نے فوراً پوچھا۔

ننہیں۔۔۔۔۔!! ساری جگہ۔۔۔ پتہ کیا۔۔۔۔۔ کہیں۔۔ نہیں ملی۔۔۔!!

نجانے کہاں چلی گٸ۔۔۔؟؟

کمال صاحب ایک ہارے ہوٸے باپ لگ رہے تھے۔

ابرش کوان پے بہت ترس آیا۔

انکل۔۔ وہ گٸ کہاں تھی۔۔۔؟؟ کچھ تو پتہ ہوگا۔۔۔؟

بیٹا۔۔۔!!اسکول سے واپس آکے شام کو وہ اکیڈمی جاتی تھی۔۔۔کل شام کو بھی گٸ۔۔۔ لیکن۔۔ وہ۔۔ واپس نہیں ۔۔آٸی۔۔!!

ڈیٹیل میں جواب دیا۔

آپ۔۔۔ نے اکیڈمی میں پتہ کیا۔۔۔؟؟

ابرش کی آنکھوں کے آگے وہ تیرہ سال کی بچی گھوم رہی تھی۔۔۔ اوردل تھا کہ اسکی سلامتی کی دعا کر رہا تھا۔

بیٹا چار چکر لگا چکا ہوں۔۔۔!!وہ سب یہی کہتے ہیں۔۔ کہ وہ کل۔اکیڈمی آٸی ہی نہیں۔۔۔!!

کمال صاحب کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔

کسی۔۔۔۔ دوست کے ۔۔ گھر۔۔۔؟؟

ایک اور خدشہ ظاہر کیا۔

سب سے پتہ کیا۔ کوٸی نہیں جانتا۔۔۔!!وہ رو دٸیے۔ کندھے پے ڈالا رومال سے اپنے آنسو صاف کیے۔

اس وقت وہ صرف ایک بے بس باپ نظر آرہا تھا۔

ابرش نے لب بھینچے۔

چلیں۔۔ میرے ساتھ۔۔!!

ابرش نے ایک عزم سے کہا۔

لیکن۔۔۔ کہاں۔۔ بیٹا۔۔؟؟

پولیس اسٹیشن۔۔۔!! دانت چبا کے کہا۔

لیکن۔۔۔۔!!انہوں نے کچھ کہنا ۔ لیکن ابرش نے ٹوک دیا۔

آپ۔۔ چلیں۔۔ میرے ساتھ۔!

وہاں چل کے بات کرتے ہیں۔

کچھ ہی دیر بعد وہ قریبی پولیس اسٹیشن پہنچ چکے تھے۔

ایکسکیوز می۔۔۔!!

ہمیں ایک رپورٹ درج کرانی ہے۔۔۔!!

وہاں موجود ایک اہلکار کوکہا۔

اس نے ابرش کو سر سے پاٶں تک دیکھا۔

صاحب ابھی نہیں آٸے۔ انتظار کرو۔

اس اہلکار نے سگریٹ کا ایک کش لگاتے کہا۔

ابرش نے اپنی کلاٸی پے بندھی گھڑی پے ایک نظر ڈالی۔

میرا خیال۔ہے۔۔ یہ وقت ان کا ڈیوٹی کا ہے۔۔۔!اور انہیں اس وقت۔۔ آن ڈیوٹی ہونا چاہیے۔

ابرش نے سخت لہجے میں کہا۔

ارے۔۔ مجھےکیا۔۔ پتہ۔۔۔؟؟ میں ایک چھوٹا سا اہلکار ہوں۔ مالک نہیں۔ سر آٸیں گے ۔ تو خود ہی بات کر لینا۔۔

وہ شخص کافی تپا ہوا تھا۔

فون لگاٶ۔

ابرش نے بنا لحاظ کے آرڈر لگایا۔

اس نے حیرت سے دیکھا۔

آپ۔۔ ہو کون۔۔۔؟؟ اب کی بار وہ تھوڑا جھجھکا۔

تھوڑی دیر میں پتہ چل جاۓ گا۔۔۔!! فون لگاٶ۔

ابرش نے ٹیبل پے ہاتھ رکھے غصہ ضبط کرتے کہا۔

اہلکار نے فوراً کال ملاٸی۔ ابھی کال۔جا رہی تھی کہ۔ انسپکٹر شاہان اندر داخل ہوا۔

اوٸے۔۔۔۔!! کیوں کر رہا ہے۔۔۔کال۔۔۔؟؟ پتہ ہے تجھے۔۔۔ میری ٹاٸمنگ کا۔۔۔!!

آتے ہی رعب سے موباٸیل سے کال کاٹتے بولا۔

سر۔۔۔!!۔ یہ۔۔۔ لڑکی۔۔۔ملنا چاہتی تھی۔۔۔!!

بہت مودب انداز میں کہا۔

انسپکٹر شاہان نے گہری نظروں سے ابرش کا معاٸنہ کیا۔

ہممممممم!! اندر بھیج دو۔۔۔!! چہرے پے مسکراہٹ سجاٸے اس نے اپنے آفس کی جانب قدم بڑھاٸے۔

ابرش گہرا سانس خارج کرتی کمال اور جمال صاحب کے ساتھ اسکے آفس میں گٸ۔

ہاں تو۔۔میڈم جی۔۔۔!! کیا کام۔ہے۔۔۔؟؟ مجھ ناچیز سے۔۔۔؟

بیٹھتےہوٸے ایک ادا سے کہا۔

رپورٹ درج کرانی ہے۔

انکی بیٹی۔۔ کل شام سے۔۔۔۔!

ارے۔۔ اوہ بڈھے۔۔۔۔!! تُو پھر آگیا۔۔۔

کہا تھا ناں۔۔ تجھے۔۔۔ چوبیس گھنٹوں سے پہلے رپورٹ نہیں لکھوں گا۔۔۔۔!! چل جا یہاں سے۔۔۔!!

انسپکٹر شاہان نے بدتمیزی سے کہتے ٹانگ پے ٹانگ رکھی۔

کمال۔صاحب نے ابرش کی طرف دیکھا۔

آپ۔۔ رپورٹ بھی لکھ رہے ہیں۔۔ اور اپنے اہلکاروں کو ان کے ساتھ بھی بھیج رہے ہیں۔۔ اس بچی کو ڈھونڈنے کے لیے۔۔۔!!

ایک ایک لفظ پے زور دے کے کہا۔

اچھھھھھاااا۔!! دھمکی دے رہی ہو۔۔ مجھے۔۔؟؟

انسپکٹر شاہان غصے سے اٹھا۔

نہیں۔۔۔!! آپ کی ڈیوٹی آپ کو سمجھا رہی ہوں۔۔۔!!

بہتری اسی میں ہے۔۔۔۔کہ۔۔انکی رپورٹ لکھیں۔

ابرش پرسکون انداز میں بولی۔

ہونہہ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ لکھتا۔۔۔۔!! چلو نکلو یہاں سے۔۔۔۔!!

انسپکٹر شاہان غصے سے بولا۔ اور واپس اپنی سیٹ کی جانب بڑھا۔

ابرش نے جمال صاحب کو اشارہ کیا۔

انہوں نے ڈرتے ہوٸے اثبات میں سر ہلایا۔

بیٹیوں ک سنبھال سکتے نہیں۔۔۔ بھاگ گٸ ہوگی کسی کے ساتھ۔۔۔۔ اور پھر آجاتے ہیں پولیس میں رپورٹ لکھوانے۔۔۔

انسپکٹر شاہان نے واپس بیٹھتے اونچی آواز میں غصے کا اظہار کیا۔

انکی جگہ۔۔۔ اگر آپ کی بیٹی غاٸب ہوتی۔۔۔ تب بھی آپ یہی کہتے کہ۔۔ بھاگ گٸ ہے وہ کسی کے ساتھ۔۔۔؟؟

ابرش نے اسی کے الفاظ اسے واپس موڑے تو اسکے تن بدن میں آگ لگ گٸ۔

زبان کو لگام دو لڑکی۔

ورنہ۔۔۔۔۔!! پھر سے غصے سے اٹھا۔

ورنہ کیا۔۔۔؟؟ ابرش نے بھی اسی انداز میں کہا۔

ایک تو انکی بیٹی نہیں مل رہی۔ اوپر سے آپ بھی انکی مدد نہیں کر رہے۔۔ الٹا زلیل کر رہے ہیں۔۔۔۔ شرم آنی چاہیے آپ کو۔۔۔۔!!

آپ۔۔۔ کو یہ عہدہ عوام کی خدمت کرنےکے لیے دیا گیاہے۔۔ نا کہ انہیں زلیل کرنے کے لیے۔۔۔۔

ابرش نے اچھی خاصی سنا دیں۔

اگر ایک منٹ میں تم لوگ یہاں سے نہ نکلے تو۔۔۔ تم تینوں کو جیل میں بند کر دوں گا۔

انسپکٹر شاہان نے غصہ ضبط کرتے کہا۔

ایسے ہی۔۔۔۔!! غنڈہ راج ہے کیا۔۔۔۔؟ جو بند کر دو گے۔۔۔؟؟

ابرش بھی دانت پیستی آگے بڑھی۔

رپورٹ تو میں نہیں لکھوں گا۔۔۔ تمہیں جو کرنا ہے کرلو۔۔۔

غراتے ہوٸے کہا۔

رپورٹ بھی لکھو گے اور مدد بھی کرو گے۔۔۔ !!

ابرش نے چیلنجنگ انداز میں کہا۔ اور جمال صاحب کی طرف پلٹی۔

دیکھا آپ۔۔ نے۔۔۔۔!! یہ ہے پولیس کا مکرو چہرہ۔۔۔۔!! کسطرح یہاں غریب لوگوں کو زلیل کیا جا تا ہے۔۔۔ انکی رپورٹ تک نہیں لکھی جاتی۔۔۔ بلکہ بے عزت کر کے نکال دیا جا تا ہے۔۔۔!! دیکھیں۔۔ دیکھیں۔۔۔۔!!

اچانک سے انسپکٹر شاہان کی جانب مڑی جو حیرت کی مورت بنے یہ سب دیکھ رہا تھا۔

مجرم سے بڑے مجرم تو یہ۔۔۔ ایسے پولیس والے ہوتے ہیں۔۔۔۔!! جو پولیس کی وردی پہن کر بڑے دھڑلے سے جرم بھی کرتے ہیں۔ اور پوچھنے والا بھی کوٸی نہیں۔۔۔!!

لیکن میں آپ سے پوچھتی ہوں۔۔۔؟؟ کب تک ہم۔۔ ان پولیس والوں کی جوتیاں کھاٸیں گے۔۔؟؟

کیوں انصاف کا ترازو غریب اور امیر کے لیے الگ الگ ہے۔۔۔؟کیا غریب ہونا بھی ایک جرم ہے۔۔۔۔؟؟

کیا غریب انسان نہیں۔۔۔؟؟

کیا غریب کی کوٸی عزت نہیں۔۔۔ ہوتی۔۔؟؟

بند کرو یہ۔۔ بکواس۔۔۔!!

انسپکٹر شاہان کو اچانک ہوش آیا۔ اور آگے بڑھا۔

یہ سب تو اب جاٸے گا سوشل میڈیا پے۔۔۔!! اور دیکھتی ہوں۔۔ جس وردی کو پہن کے تم۔۔ اتنا گھمنڈ کر رہے ہو۔۔ کیسے تمہارے جسم پے رہتی ہے۔۔۔۔!!

سیدھا سسپنڈ کرواٶں گی۔۔۔

اور ہاں۔۔۔ میں دھمکی نہیں دیا کرتی۔۔۔

ابرش یہ کہہ کے جمال صاحب اور کمال صاحب کے ساتھ باہر نکلنے لگی کہ انسپکٹر شاہان نے روکا۔

رکو۔۔۔۔!!

ماجد۔۔۔!! او۔۔۔ماجد۔۔۔۔!! غصے سے کانسٹیبل کو اندر بلایا۔

جی صاحب جی۔۔۔!!

وہی کانسٹیبل فوراً اندر آیا۔

انکی رپورٹ لکھو۔ اور ۔۔دو اہلکار۔۔ کو ان کے ساتھ روانہ کرو۔۔۔!! انکی بیٹی کو ڈھونڈیں۔

منہ بنا کے کہتے ابرش کو وہ مسکرانے پے مجبور کر گیا۔

ابرش نے جمال صاحب اور کمال صاحب کو رپورٹ لکھوانے کااشارہ کیا۔

اور خود انسپکٹر شاہان کی جانب آٸی۔

Good decision on the spot.

انسپکٹر شاہان نے دانت پیستے ہوٸے ابرش کی جانب دیکھا۔

تمہیں تو ۔۔ میں ۔۔ دیکھ لوں گا۔۔۔۔!! بہت مہنگا پڑنے والا ہے۔۔ تمہیں یہ پنگا۔۔۔۔ دھمکی دی۔

شوق سے۔۔۔!! میں سستے کام کرتی بھی نہیں۔۔۔

ابرش جاتے جاتے مڑی۔

اور ہاں۔۔۔

مجھے ڈھونڈنے میں آپ کو پریشانی نہ ہو۔۔۔ اسلیے بتا دیتی ہوں۔

میرا نام۔۔ ابرش مجیب شمس ہے۔۔

مستقبل قریب کی ایڈووکیٹ۔!!

انتظار رہے گا۔۔۔!!

مسکرا کے کہتی وہ وہاں سے انسپکٹر شاہان کا خون جلا کے نکلی۔

رپورٹ درج ہوچکی تھی۔

انکل ۔۔۔!! آپ ان کے ساتھ جاٸیں۔ اور ہر جگہ کی نشاندہی کریں۔ یہ آپ کی مدد کریں گے۔

آپ کے پاس فون نمبر ہے ناں۔۔۔ میرا۔۔۔!! کوٸی بھی مسٸلہ ہو۔۔ فوراً کال کر دیجیے گا۔

ابرش نے انہیں تسلی دی۔ تو وہ ابرش کا شکریہ ادا کر کے آگے بڑھ گٸے۔

جبکہ ابرش کا رخ اب بنک کیجانب تھا۔

کیب کرواٸی اوربنک کا ایڈریس بتاتی وہ ردا کےبارے میں سوچنےلگی۔

اور اسکی سلامتی کی دعاٸیں کرنی لگی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

آخری فاٸیل پے ساٸن کر کے دیتے وہ مطمغٸین انداز میں بیٹھی تھیں۔

یہ۔۔ ابی جان تھیں۔

پیرزادی فاطمتہ الزہرہ گدی نشین تھیں۔

ورثےمیں بے انتہاجاٸیداد ملی تھی۔ کہ خود بھی نہیں جانتی تھیں۔۔ کہ کہاں کہاں۔۔ انکی زمینینں ہیں۔۔

مجیب شمس ان کے بیٹے کے زمانے سے ان کے ساتھ تھے۔۔

بہت اولڈ ہونے کے باوجود وہ اب بھی باہمت تھیں۔

انہوں نے تین پوتوں کو اکیلے پروان چڑھایا۔

جو ایک سے بڑھ کر ایک تھا

پیرزادہ مینشن کا ہر چھوٹا بڑا فیصلہ وہی کرتی تھیں۔

اور انکا فیصلہ پتھر پے لکیر ہوا کرتا تھا۔

کیا بات ہے۔۔۔؟ مجیب صاحب۔۔؟؟ کچھ پریشان دکھاٸی دے رہے ہیں۔۔۔؟؟

ابی جان نے انکی پریشانی نوٹ کر لی۔

جی۔۔ وہ۔۔۔!! مجیب صاحب فاٸیل پکڑتے جھجھکے تھے۔

ایک وہی تھے جو پیزادہ مینشن آجا سکتےتھے۔ ورنہ اور کسی کواجازت نہیں تھی۔

بولیں۔۔۔!! کیا ہوا۔۔۔؟؟ اوہ۔۔۔ ہاں یاد۔۔۔ آیا۔۔۔ آپ کی بیٹی کی شادی ہے۔۔ناں۔۔؟؟

فوراً سے ایک چیک نکالا۔

اور اس پے اچھی خاصی رقم لکھ کے مجیب صاحب کی جانب چیک بڑھایا۔

یہ۔۔۔یہ۔۔کیا ہے۔۔۔؟؟ وہ حیران ہوٸے۔

یہ۔۔ ایک تحفہ ہے۔۔۔!! مسکرا کے کہا۔

مجیب صاحب نے چیک پے لکھی رقم کو دیکھا۔

دس لاکھ۔۔۔۔۔؟؟؟

یہ۔۔۔ تو۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔ ہیں۔۔۔!! وہ تھوڑا گھبرا گٸے۔

ان کےہاتھ بھی لرز گٸے۔

بیٹیوں کے لیے کچھ بھی کبھی زیادہ نہیں ہوا۔۔۔ !!

جتنا کرو۔۔۔کم ہی پڑجاتا ہے۔۔۔!!

خیر۔۔۔۔!! یہ آپ رکھیں۔ ۔۔مزید بھی اگر ضرورت ہوٸے تو بلاجھجک بتا ٸے گا۔

ابی۔۔۔جی۔۔۔۔!! یہ۔۔۔اتنا بڑا ۔۔احسان۔۔ میں کیسے اتاروں گا۔۔؟؟

مجیب صاحب ابھی بھی گھبرا رہےتھے۔

آج اگر علی زندہ ہوتے تو۔۔ کیاتب بھی آپ۔۔ یہی کہتے ؟

ابی جان کے کہنےپے مجیب صاحب کی آنکھیں نم ہو گٸیں۔

وہ توانکا سب کچھ تھا۔ ان کے ہوتے کوٸی بھی پریشانی آٸی ہی کب تھی۔۔۔؟؟

آپ۔۔ ہمیں ہمارے علی کی طرح ہیں۔۔۔ انہوں نے آپ کو۔۔ ہمیشہ بھاٸیوں کی طرح چاہا ہے۔۔۔!!

ابی جان اداس ہوگٸیں۔

آپ۔۔۔ بھی۔۔ اس گھر کا فرد ہیں۔۔۔ جانتےہیں ناں۔۔۔!!اس لیے۔۔ کبھی بھی کسی۔۔ چیز کو احسان نہ سمجھیے گا۔۔

اور ہاں۔۔۔!! آپ نے ۔۔ ابتسام۔کو یاد کروادیا ہے ناں۔۔ کل۔۔ ارتسام آرہے ہیں۔۔ چاٸینہ سے واپس۔۔۔!! دس سال بعد۔۔۔ اور۔۔ ابتسام اور ارحام دونوں نے جانا ہے اپنے بھاٸی کولینے۔۔

ابی جان کے لہجے میں اپنے پوتوں کے لیے بےانتہا محبت تھی۔

ابی جان نے اٹھتےہوٸے کہا۔

جی جی۔۔۔!! بتا دیا تھا۔۔۔ اور انہیں یاد بھی ہے۔

مجیب صاحب نے فوراً کہا ۔

اور چیک ہاتھ میں تھامے رکھا۔

انکی کیا جرات کہ ابی جان کی کسی بات سے اختلاف کریں۔

اجازت لیتے وہ باہر آگۓ۔

ان کا رخ اب گھر کی جانب تھا۔

بات تو وہ۔۔ کچھ کرنا چاہ رہے تھے لیکن۔۔۔ کر نہ پاٸے۔

اور سوچوں کا رخ بدلا۔

بیٹی کا خیال آتے ہی لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔

ایک وہی تو تھی انکی زندگی کی روشنی.. انکا سب کچھ۔۔۔!!

اور جو کچھ ہی دنوں میں اپنے گھرکی ہونے والی تھی۔ اور یہی بات وہ جانتی بھی نہ تھی۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *