Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 19)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 19)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
ابی جان اپنے روم میں جا چکی تھیںں۔ ارتسام اور ابتسام بھی انہی کے روم میں تھے۔ وہ انہیں اپنے اچانک ہوے والے نکاح کی مکمل ڈیٹیل دے رہے تھے۔ کافی سوال۔جواب اور گلے شکوے ہوۓ لیکن۔ آخر ابی جان نے انہیں معاف کر دیا۔
تھے بھی تو انہیں جان سے عزیز۔۔ ان سے ناراض بھلا کہاں رہ سکتی تھیں۔
ابتسام بیٹا۔۔۔ آپ جاٸیں اور ریسٹ کریں ۔ آپ کا زخم۔بھی ابھی تازہ ہے۔۔
انہوں نے ابتسام کے چہرے پے رقم درد ک محسوس کر لیا۔
آپ ناراض تو نہیں۔ ناں۔۔؟؟
ہاتھ تھاتے پوچھا۔
پہلےتھی لیکن اب نہیں ہوں۔۔ ! بس میری ایک بات یاد رکھیے گا۔ آپ دونوں نے بہت جلد اپنی اپنی زندگی کا۔فیصلہ لیے ہے۔۔جن حالات میں بھی لیا ہو۔۔ ! اب نبھانا ہے۔۔ آخری سانس تک۔۔ ڈگمگانا نہیں۔۔
انہوں نے سخت مگر استحاق بھرے لہجے میں انہیں تنبیہہ کی۔
لو یو ابی جان ۔۔۔! ارتسام کاتو مانو اب سانس بحال ہوا تھا۔
جاٸیں ۔۔۔ آپ دونوں اب آرام کریں۔ صبح بات کریں گے۔
ابی جان کے کہنے اور ان کے راضی ہوجانے پے دونوں کادل۔ہلکا پھلکا ہو گیا تھا۔
بھاٸ کھانا کھا کے میڈیسن لازمی لیجیے گا۔ میں بجھواتا ہوں۔
ابتسام۔اثبات میں سر ہلاتا اپنے روم۔کی جانب بڑھا۔ جبکہ ارتسام کچن میں فاطمہ بی کے پاس جاتے انہیں ابتسام کے لیے خاص کھانے کا کہتے اور میڈیسن دیتے خود بھی اپنے روم کی جانب بڑھا۔
جہاں عروش پورے روم میں اپنے ہاتھوں کے ناخنوں کودانتوں کے نیچے دباتی ان گنت چکرلگا چکی تھی۔۔ وہ ڈر رہی تھی۔ کہ اسکے مستقبل کاکیا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔۔؟ ہو سکتا تھا۔۔۔اسے اس گھر سے نکال۔دیتے۔۔۔؟؟
جبکہ اب تو اسکا اپنا دل بھی ارتسام کی طرف ہمکنےلگا تھا۔ اسے اچھا لگنے لگا تھا۔ وہ کیسے اس سے دستبردار ہو جاتی۔۔؟؟
وہ ازحد پریشان اپنے ناخنوں کو دانتوں سے مسلسل چباۓ جا رہی تھی۔ جو ٹینشن میں اسکی عادت تھی۔
دروازہ کھلا۔ اور ارتسام۔اندر داخل۔ہوا۔ عروش کاسانس رکا۔
ارتسام نارمل انداز میں اپنی کبرڈ کی جانب بڑھا۔
اسکی اس خاموشی سے عروش تنگ آگٸ۔وہ کچھ بولا۔کیوں نہیں؟
باتھ لے کے نکلا تو اسے یونہی ناخن چباتے دیکھ ارتسام کوسخت ایری ٹیشن ہوٸ۔
بال۔سُکھاتا۔ ان میں ہاتھ پھیرتا لب بھینچے اسکی طرف بڑھا۔ اور اسکی دونوں کلاٸیوں کو تھامتے اپنے سامنےکیا۔
یہ کیا نخوست زدوہ کام کررہی ہیں آپ۔۔؟؟ کتنی بری بات ہے یہ۔۔۔؟؟ پتہ ہے آپ کو۔۔؟؟
ارتسام نے بہت سنجیدگی سے اسے ڈانٹا۔ تو اسکا۔منہ بن گیا۔
مجھے۔۔ ٹینشن میں۔۔ سمجھ ہی نہیں لگتی۔۔۔! منہ بناتی وہ معصومیت سے بولی۔ تو ارتسام۔نے اسکی کلاٸیاں چھوڑ دیں۔
کیسی ٹینشن۔۔؟؟ اینےسینے پے ہاتھ باندھتے سہولت سے پوچھا۔
وہ۔۔۔ وہ۔۔ آپ کی ابی جان۔۔؟؟؟ انہوں نے۔۔کیا کہا۔۔۔؟
جھجھکتے ہوۓ پوچھ ہی لیا۔
ارتسام اسے ایک گہری نظر سے دیکھتا گہرا سانس خارج کرتا واپس ڈرسنگ ٹیبل۔کی جانب بڑھا۔
اس سب میں آپ کو پڑنے کی ضرورت نہیں۔۔میں جانوں اور ابی جان۔۔۔!
پلٹ کے سنجیدگی سے کہا۔ تو عروش کا اچھا خاصا دماغ گھوما۔
منہ بناتی صوفے پے جا بیٹھی۔ اور کمفرٹر کھولنے لگی۔
جبکہ ارتسام اسکی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا۔
ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔؟؟ اچانک سے ماتھےپے بل ڈالے وہ ارتسام کی جانب مڑی۔ ارتسام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
ابھی تو چپ چاپ لیٹنے لگی تھی۔ اب کیا بولنے والی تھی۔
وہ شخص مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ اس نے میرے سوتیلے باپ کو پیسوں کا لالچ دیا۔ اور مجھے بیچنے کے لیے راضی ہوگیا۔۔
کتنی منتیں کیں میںنے۔۔۔کتنے واسطے ڈالے۔۔۔ لیکن۔۔ انکو رحم نہ آیا۔ یہاں تک میری ماں بھی چپ تھی۔۔۔
دکھی انداز میں ارتسام کو دیکھا۔ جو اب سنجیدگی سے ہی اسے دیکھ رہ تھا۔
اور۔۔۔ میری سگھی ماں نے میرے سوتیلے باپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیٸے۔۔ !
وہ انسان۔۔۔ جو بیٹیوں کا سودا کرنے سے باز نہ آۓ۔ ۔۔ اس نے آپ کی بات کیسے مان لی۔۔۔؟
اب کی بار لہجہ میں غصے کی امیزش تھی۔
آخر آپ نے کیا سبز باغ دیکھاۓ ہیں انہیں۔۔۔؟؟ کہ اس انسان نے سرفراز انصر جسے خطرناک بندے کو نہ کردی۔۔۔؟؟ اور مجھے آپ کے ساتھ نکاح کر کے رخصت کر دیا۔ ۔۔؟؟؟
کوٸ تو وجہ ہوگی۔۔۔؟؟ مجھے وہ وجہ جاننی ہے۔۔ ؟
عروش کا انداز حتمی تھا۔
ارتسام اس چھٹانک بھر لڑکی کو دیکھتا رہ گیا۔ یا تو بولتی ہی نہیں تھی۔ چھپتی چھپاتی رہتی تھی۔۔ اور آج تو ارتسام کے چودہ طبق روش کرگٸ۔
جبکہ وہ یہ نہیں جانتا تھا۔ یہ تو آغاز تھا۔
وہ کیسا ایٹم بم تھی۔۔ وہ اسکی سوچ سے بھی کٸ ہاتھ اوپر تھی۔
عروش۔۔! سب باتوں کی ایک بات۔۔۔جو بیت گیا اسے بھول۔جاٸیں۔ اور اگر یاد رکھنا ہے تو بس اتنا یاد رکھیں کہ آپ پیرزادہ منشن کی چھوٹی بہو ہیں۔ اور میری بیوی۔۔۔!
اب سو جاٸیں ۔۔ صبح ہاسپٹل جلدی جانا ہے۔۔ تو پھر نیند نہیں کھلے گی۔۔
ہاسپٹل کیوں۔۔؟؟ برجستہ سوال کیا۔
ارتسام نے بیڈ پے بیٹھتے گھڑی اتارتے اسکی بات سنتے اسکی جانب دیکھا۔
ڈاکٹر۔۔ ہاسپٹل ہی جاتے ہیں۔۔۔مادام۔۔۔! اور کہاں جانا ہم نے۔۔۔! کہتے ہی وہ سونے کے لیے لیٹ گیا۔
جبکہ عروش کے لیے ایک نٸ دنیا چھوڑ گیا۔۔
ارتسام کی بات پے اسکی ماند آنکھو ں میں ایک چمک ابھری تھی۔ اپنی ساری بات بھلا کے وہ ڈاکٹر پے ہی اسکا دماغ اٹک گیا۔
اگر ارتسام سونے کے لیے آنکھیں نہ موند چکا ہوتا تو اس چمک سے ضرور متعارف ہوتا۔
ارتسام کو سوتا دیکھ وہ منہ بسور کے رہ گٸ۔ ۔
اب تو اسے خواب بھی ہاسپٹل ہی کے آنے تھے۔














بابا۔۔۔! آپ کی طبعیت ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ ابرش کو بار بار انکا خیال آرہا تھا۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اڑکے باپ کے پاس پہنچ جاۓ۔
ملازمہ اسے ابتسام کے روم میں چھوڑ گٸ تھی۔ کافی دیر ابتسام۔کا انتظار کرتے اس نے مجیب صاحب کو کال کر دی۔
وہ جو میڈیسن لیتے ابھی سونے کے تیاری کر رہے تھے۔ ابرش کی کال دیکھ انہوں نے فورا ً پک کی۔
کیسی ہو بیٹا۔۔؟؟ اور ابتسام کیسا ہے۔۔؟؟
انہوں نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
وہ ٹھیک ہیں اب۔۔۔ لیکن ۔۔بابا۔۔۔ وہ۔۔۔ مجھے اپنے گھر لے آٸیں ہیں۔
ابرش کی آواز دھیمی ہوگٸ۔
ہاں۔۔بیٹا۔۔! جانتا ہوں۔۔ مجھ سے بات ہوٸ تھی۔
اچھا۔۔ کب۔۔؟؟ اورآپ مان گۓ۔۔؟؟ ابرش نے بیچ میں ٹوکا۔
بابا۔۔۔ مجھے آپ کے پاس آنا ہے۔۔۔۔ ! ابرش کالہجہ نم۔ہوا۔
بیٹا۔..! میں ٹھیک ہوں۔۔ میری فکرمت کرو۔۔۔! تمہارا۔۔ وہیں رہنا زیادہ مناسب ہے۔۔۔ بیٹا۔۔۔! اور ۔۔جو ابتسام کہے ۔۔ اسکی ہر بات مانو۔۔ ! ان کا لہجہ بھی نم ہوا تھا
پہلی بار ابرش کے بنا وہ رہے تھے۔ ہر باپ کی طرح ان کا بھی دل تھا کہ وہ بہت شان سے بیٹی کو رخصت کریں۔
لیکن وہ اسکی جان اور عزت کی سلامتی کی وجہ سے مجبور ہوگۓ تھے۔
بابا۔۔!میں کل آٶں گی۔۔۔! آپ کے پاس۔۔! ابرش نے بہت پیار سے کہا۔ جبکہ آنسوٶں پے بندھ باندھے رکھا۔
بیٹا۔۔! ابتسام کے ساتھ ہی آنا۔۔۔۔! بلکہ جہاں جاٶ ۔۔۔ اسی کے ساتھ جانا۔۔۔!
اور میی فکرمت کرو۔۔ یہاں۔۔ میں اکیلا نہیں ہوں گا۔۔ ایک لڑکا ہوگا کل سے میرے ساتھ۔۔ ابتسام نے میری دیکھ بھال کے لیے اسے بلایا ہے۔۔ کل وہ بھی آجاۓ گا۔۔
بس۔۔ اب۔۔آپ اپنے گھر رہو۔۔۔!
اچھا بیٹا۔۔۔! فون رکھتا ہوں۔۔ کافی رات ہوگٸ ہے ۔ کل بات۔۔ ہوگی۔۔۔۔ الله حافظ
کہتے ساتھ ہی انہوں نے کال بند کر دی۔ اور پھوٹ پھوٹ کے رو دٸے۔
ابرش ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے دل کا چین تھی۔ وہ جان بوجھ کے اسکے ساتھ ایسا رویہ رکھ رہے تھے۔ کہ وہ یہاں ان کے پاس نہ آۓ۔۔
صرف اسکی سلامتی کے لیے۔۔ وہ نہیں چاہتے تھے۔ کہ اسے کوٸ نقصان پہنچے۔ اور وہ اپنی بیٹی کی حفاظت کیسے کر سکتے تھے۔
انہیں ابتسام کی صورت میں ایک مضبوط ساٸباں ملاتھا۔ ابرش کے لیے۔ اور اگر وہ ابرش کو باربار اپنے پاس بلاٸیں۔ تو وہ کیسے وہاں رہتی۔۔۔؟؟
مجھے معاف کردینا بیٹا۔۔۔میں ۔۔اک بے بس باپ ہوں۔ بیٹی کا باپ۔۔۔ کمزور باپ۔۔۔ جس کے لیے عزت سے بڑھ کے کچھ نہیں۔۔۔
دل ہی دل میں وہ ابرش سے مخاطب ہوتے آنسو پونچھنے لگے۔













کال۔بند ہو چکی تھی۔ لیکن ۔۔۔ ابرش نے موباٸیل۔ابھی تک کان کے ساتھ لگایا تھا۔ خاموش آنسو گالوں پے بہتے چلے جارہے تھے۔ اسے یقین نہ آیا کہ اسکے بابا اسطرح ایک د ن میں اسے پرایا کر دیں گے۔
ابتسام دروازہ کھولے اندر داخل ہوا۔ ابرش کویوں گم صم روتا دیکھ ٹھٹھکا۔
دھیرے سے چلتا اس کے پاس آیا۔ ابرش کو احساس ہی کہاں تھا کہ ابتسام اسکے پاس پہنچ چکا ہے۔ اسے تو اپنے بابا کی اجنبیت پے رہ رہ کے رونا آرہا تھا۔
بے اختیار ہی اسکے گال سے لڑھکتے ایک آنسو کو اپنی انگلی کی پور پے اٹھایا۔ تو ابرش ایک دم۔چونکی۔
اوربالکل اپنے سامنے ابتسام کو دیکھتی ہوش میں آٸ۔ فوراً سے رخ موڑ کے اپنے گالوں کو صاف کیا۔
وہ مضبوط تھی۔ وہ کسی کے سامنے بھی رو کے خود کوکمزورثابت نہیں کرنا چاہتی تھی۔
کیا ہوا؟؟ کیوں روٸ۔۔؟؟ سنجیدہ انداز میں آنسو پے نظر جماۓ۔پوچھا تو ابرش نے ایک شکوہ۔کناں نظر ابتسام پے ڈالی۔
جیسے جانتا ہی نہ ہو۔۔؟؟
مجھے۔۔بابا کے پاس۔۔۔؟؟ وہ اکیلے ہیں۔۔بیمار ہیں انہیں میری ضرورت ہے۔۔۔!
ابرش نے ہرلفظ پے زور دیتے کہا۔
وہ سکون سے ہیں۔۔ابرش۔۔! اور انہیں سکون سے رہنے دو۔۔ خود بھی سکون سے رہو اور مجھے بھی سکون لینے دو۔
بہت سنجیدگی سے بنا پلک جھپکے وہ ابرش کو دیکھتا کہتا اسے چپ کرا گیا۔
خود بستر پے بیٹھتا کالرساٸیڈ پے کرتا۔ درد کوبرداشت کرتا بازو سیدھی کی۔ اتنے میں دروازے پے ناک ہوٸ۔
ملازمہ کھانا اندر۔لے کے آٸ ساتھ میں میڈیسن بھی تھی۔ ٹیبل پے ٹرے رکھ وہ جا چکی تھی۔
ابتسام میں اب بالکل ہمت نہ تھی۔ کہ وہ اٹھ کے کھانا بھی اٹھا لیتا۔
کافی دیر سے اسے بازومیں درد ہورہاتھا۔جو وہ برداشت کے ابی جان کے پاس بیٹھا رہا۔
ابرش اسکی کنڈیشن کے پیش نظر کھانے کی ٹرے اٹھا کے اسکے سامنے رکھی۔ تو وہ سیدھا ہوتا کھانے کھانے بیٹھا۔
باٸیں ہاتھ س سپون پکڑی اورچاول۔کی پلیٹ میں سے چاول۔کھانے لگا۔ بنا ابرش کو جھوٹے منہ دعوت دیٸے ۔
لیکن۔۔ باٸیں ہاتھ سے کھانا اس کے لیے دشوار ہو رہا تھا۔
رکھیں نیچے۔۔ میں کھلاتی ہوں۔۔ پاس بیٹھتے سپون ابتسام کے ہاتھ سے لی۔ اس نے بھی بنا کچھ کہے سپون اسے دے دی۔
ابرش نے سپون میں چاول ڈالے اسکے منہ کی جانب بڑھاۓ۔
ابتسام نے ایک نظر اس پاگل لڑکی کو دیکھا جو دو دنوں میں پلک جھپکتے اسکی ہوگٸ تھی
وہ جس کے بارے میں سوچنا بھی خطا سمجھتاتھا۔ آج کتنے حق سے اسکے بیڈ روم میں تھی۔ اسکی نظروں کے سامنے۔
ابتسام کو ایسا محسوس ہورہا کہ وہ شروع سے ہی اس کے ساتھ تھی۔ کبھی الگ ہوٸ ہی نہیں۔ اور یہ احساس کیوں ہو رہا تھا۔۔وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔
خاموشی سے دو چار نوالے لیتا وہ اب میڈیسن لے کے سونے کی تیاری میں تھا۔
ابرش کو یوں اپنا نظر انداز کٸے جانا غصہ دلا گیا۔
بندہ کو اتنے بھی خود غرض نہیں ہونا چاہیے۔
ابتسام جو خاموشی سے آنکھیں موندنے والا تھا اسکی بات پے بدکا۔
مجھے بھی بھوک لگی ہے۔۔! بادلنخوستہ بول ہی دیا۔
تو کھا لیتی تم بھی کھانا۔۔ دوسپون تھیں۔ ایکآپ کی ایک میری۔۔۔ابلکہ ایک منٹ میں اور منگوا دیتا ہو۔س یہ جھوٹے ہوگۓ ہیں۔
کہتے ہی انٹرکام پے بیل دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
رہنے دیں۔ میں یہی کھا لوں گی۔ ٹرے اٹھا کے صوفے پے بیٹتی وہ ابتسام کو کوٸ چھوٹی سی روٹھی بچی ہی لگی۔
ابتسام نے تیکے سے ٹیک لگا کے اسے بہت فرصت سے دیکھا۔
وہ بہت معصوم تھی۔ اسکا ہر انداز اسے معصوم بناتا تھا۔ اسکا ہونا ابتسام کو ایک عجیب خوشی دے رہا تھا۔
دیکھتے دیکھتے اسکی آنکھیں نیند کی وجہ سے بند ہونے لگیں۔
آپ سونے لگے ہیں۔۔۔؟؟ اچانک سے اسکے سر پے آ کے کھڑی وہ بولی تو ابتسام ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھا۔
کیوں۔۔؟؟ سونا منع ہے۔۔؟؟ زچ آتے پوچھا۔
خود سونے لگے۔۔۔ اور میرا کیا۔۔؟؟
کمر پے ہاتھ باندھتے ماتھے پے بل ڈالےپوچھا۔۔۔
کیا کیا۔۔۔؟؟ ابتسام کو کچھ سمجھ نہ آیا۔۔۔
وہ منہ بسورتی وہاں سے پیچھے ہٹی۔
حد ہے۔۔ آپ کو کوٸ احساس بھی ہے یا نہیں۔۔؟؟
دانت پیستے شکوہ کیا۔
ابتسام نے سر پکڑ لیا۔
مسٸل کیاہے۔۔؟؟ یہ اتنا بڑا روم نظر نہیں آرہا۔۔ ہم دنوں کے لیے کافی ہوگا۔۔ آٸ تھنک۔۔ اب کی بار ابتسام۔نے طنزًا کہا۔
ابرش کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
جو ابتسام کی نظروں سے چھپی نہ رہ سکیں۔













اب کیا ہوا۔۔؟؟ اب کی بار زچ ہو کے گھورتے ہوۓ پوچھا وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اسکی ناک میں دم کیےہوۓ تھی۔
آپ ہر بات اتنے آرام سے کہہ دیتے ہیں۔۔ اب بھلا۔۔۔ اس ایک روم میں۔۔۔ میں آپ کے ساتھ اکیلے کیسے رہ سکتی ہوں۔؟؟
اپنی پریشانی پے وہ منہ بنا کے بولی۔ ابتسام کو۔اسکی دماغی حالت پے شک ہوا۔
کیا مطلب۔۔؟؟ ویسے ہی۔۔ جیسے سب ہسبینڈ واٸف رہتے ہیں۔۔
اسکی بات کو سرسرے انداز میں ٹالتے کہا۔
لیکن۔۔۔؟؟ ابرش نے لب بھینچے۔
آپ کے روم میں بیڈ بھی ایک ہے۔۔۔! اتنے زیادہ امیر ہیں۔۔ بندہ روم۔میں دو بیڈ سیٹ کروا لیتا ہے۔۔۔ اب میں کہاں سوٶں گی۔۔؟؟
ابرش کو اپنے سونے کی فکر لگی وہ بھی تو آج کا سارا دن اچھا خأصا تھک چکی تھی۔
مسز۔۔۔! کسی بھول میں مت رہنا۔۔۔ نہ ہی یہ کوٸ ڈرامہ ہے اور نہ ہی کسی فلم کی شوٹنگ۔۔ کہ میں آپ کو کہوں۔۔ آجاٶ آپ بیڈ پے سوجاٶ۔۔ میں صوفے پے سوجاتا ہوں۔۔ یہ حقیقی دنیا ہے بہتر ہوگا۔ اپنی خیالی نیا سے باہر آجاٶ۔۔
ابتسام نے اسکی اچھی خاصی طبعیت صاف کی۔
میڈیسن وہ لے چکا تھا۔ اور اسے اب نیند آنے لگی تھی
۔
اوپر سے ابرش کا بے فضول تنگ کرنا۔ وہ اب سر تکیے پے رکھے۔ آنکھیں موند گیا۔
میں بھی کوٸ کسی فلم کی مظلوم ہیروٸین نہیں۔۔ کہ قربانی دے دوں۔مجھے۔۔۔ صوفے پے نیند نہیں آتی۔۔۔
مججے رخصت کر کے آپ لاۓ ہیں۔ تو اب آپ کی زمہ داری ہے۔ کہ میرے سونے کے لیے بیڈ کا بندوبست کریں۔
ابرش نے آج قسم۔کھالی تھی اسے اچھی طرح تنگ کرنے کی ۔
مسز۔۔۔! کروٹ اسکی طرف لی۔ آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں۔
بیڈ کا ساٸز کافی بڑا ہے۔ آپ یہاں آکے سو سکتی ہیں۔۔
لیکن۔۔ پلیز ۔۔منہ بند کر کے۔۔۔! مجھے مزید آواز نہ آۓ اب آپ کی۔۔۔! غصہ میں وہ اسے آپ کہہ کے ہی پکار رہا تھا۔ اتنا ابرش کو آٸیڈیا ہوگیا تھا۔
کچھ پل یونہی بیت گۓ۔ وہ ۔وہیں کھڑی ابتسام کے سونے کا انتظار کرتی رہی۔۔۔اور پھردھیرے سے چلتی بیڈکے دوسری طرف آٸ۔
ابتسام کے سونے کا اچھے سے اطیمنان کرتی وہ آرام سے دوسری طرف سمٹ کے لیٹ گٸ۔
دل ایک بار بہت زور سے دھڑکا۔ ساتھ میں نظر پلٹ کے ابتسام کی چوڑی پشت کو دیکھا۔ تو دیکھتی رہ گٸ۔
وہ واقعی ایک خوبصورت مرد تھا۔ کسی بھی لڑکی کا آٸیڈیل۔ہو سکتا تھا۔ وہ۔۔
ابرش نے اسکے دوسری طرف کروٹ لی۔ اور اپنے دل۔کو ڈپٹا۔ جو آج بغاوت کرنے پے تلاہوا تھا۔
کچھ ہی دیر میں خود سے لڑتی وہ نیند کی وادیوں میں کھو گٸ۔ تھی









ارحام روم میں آیا تو اپنا موباٸل چیک کیا جہاں لمظ کا میسج اور ڈھیر ساری کالز تھیں۔
تم۔یونی آۓ تھے آج۔۔۔؟؟
ارحام۔کے چہرے پے مسکراہٹ بکھر گٸ۔
ہاں آیا تھا۔۔!
مجھ سے ملے۔نہیں۔۔؟ ایک شکوہ کیا ۔
ارحام کے چہرے پے مزید تبسم پھیلا۔
جلدی واپس آگیا تھا ۔ اساٸمنٹ سبمٹ کر واکے۔
گھر پے کچھ کام تھا۔۔۔! کیوں۔۔؟ تم۔نے مجھے مس کیا۔۔؟؟
ارخٕام تو کچھ زیادہ ہی فاسٹ نکلا۔ سیدھا پتے کی بات پے آیا۔
کچھ پل خاموش چھا گٸ۔
کہ میسج ٹون بجی۔ ارحام۔نے مسج اوپن کیا۔
ہاں۔۔۔! مختصر جواب ۔۔
ارحام کو اندر تک سرشار کر گیا۔
کل۔بات ہوگی۔۔۔ یونی میں۔۔! الله حافظ
ارحام۔نے میسج ٹاٸپ کرتے موباٸل ساٸیڈ پے رکھا اور خود شور لیے چلا گیا۔
دوسری طرف لمظ اپنا دھڑکتا دل ہی نہیں سنبھال پا رہی تھی۔
اسے کب ارحام۔اچھا لگنے لگا وہ خود بھی نہیں جاتنی تھی۔













صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی ابرش کی آنکھ کھلی۔ یہ اسکا روز کامعمول تھا۔ وہ ہرنماز اپنے وقت ادا کرتی تھی۔
مندی مندی آنکھوں سے سر اٹھا کے دیکھا تو کچھ پل تو ہوش و حواس اکٹھے کرتے لگ گیۓ۔
پھر ایک دم جھٹکے ے آنکھیں کھولیں۔ آنکھو ںکے امنے ہی ابتسام کا چہر ہ دکھاٸ دیا۔
وہ ابتسام کےسینے پے سر رکھے سو رہی تھی۔ جبکہ ابتسام نیند کی وادیوں میں کھویا ہوا تھا۔
ابرش نے فوراً سے پیچھے ہٹنا چاہا۔کہ اسکے بال ابتسام کی شرٹ کے بٹن میں پھس گۓ۔ وہ جتنا چھڑاتی وہ اتنے زیادہ بری طرح الجھ گۓ۔
اسی تگ و دو میں ابتسام کی آنکھ کھل گٸ۔ ابرش کو اپنے سینے پے سر رکھے دیکھ اسے بھی جھٹکا لگا۔
فوراً سے اسکا سر پیچھے کرنا چاہا کہ ابرش کی سسکی نکلی۔ اس کے بال لگتا تھا جڑ سے ٹوٹے تھے۔
کیا ہورہا ہے یہ سب۔۔۔؟؟ ابتسام شدید غصے سے غرایا
میرے بال۔۔۔؟؟ درد کی وجہ سےابرش کا لہجہ نم۔ہوا۔
ابتسام کا دھیان اسکے بالوں کی جانب گیا۔ جو واقعی اس کی شرٹ کے بٹن میں پھسے تھے۔۔۔
ابتسام نے خود کو۔نارمل کرنا چاہا۔ اور دھیان سے اسکے بال نکالنے کی کوشش کرنے گا۔
جو کہ لیٹے ہوۓ نکالنا تو ناممکن ہی لگ رہا تھا۔ دایاں ہاتھ وہ استعمال۔کر نہیں سکتا تھا۔ اور باٸیں ہاتھ سے وہ بنا دیکھے نکال نہیں پارہا تھا۔
اوپر سے ابرش کے چہرے کا رخ بھی اسکی طرف تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے۔
مت کریں۔۔ درد ہو رہا ہے۔ چہرہ تھوڑا کا تھوڑا اوپر کر کے کہتی وہ ابتسام کو میمراٸز کر گٸ۔
اسکی کالی آنکھوں میں نمی تھی۔ اور آنکھ کے پاس ایک سیاہ تل جو بہت قریب سے دیکھنے سے نظر آتا تھا۔ اورآ ج تو وہ قریب تھی۔ کیسے نظر نہ جاتی۔
ابتسام کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوٸ۔
نظروں کا دیکھنے کا زاویہ بدلا تو ابرش کا دل بھی زوروں سے دھڑکا۔ فوراً سے سرنیچے کرتے وہ پھر سے بالوں کے ساتھ الجھی تھی۔
اسے یوں اپنے بالوں کے ساتھ الجھتے دیکھ ابتسام نے چہرے پے ہاتھ پھیرتے خود کومکمل جگایا۔
اپنا بایاں ہاتھ اسکی کمر میں ڈال کے خود بھی اٹھا اوراسے کھینچتا اپنی گود میں بٹھایا۔
ابرش کا سر اسکے سینےکے ساتھ جڑا تھا۔ اس اچانک کی گٸ حرکت پے وہ اندر ہی اندر شرمسار ہوٸ تھی۔
اوراس وقت کو کوس رہی تھی۔ کہ کیوں بیڈ پے سوٸ۔
ابتسام نے بہت پیار سے اور آرام سے اسکے بال چھڑانا شروع کیے۔ ایک ایک کر کے اسکے بال چھڑاتا گیا۔
اور آخر میں کچھ بال رہ گۓ جو ایک جھٹکے میں ابرش نے سر پیچھے کرتے نکال لیے۔ ابتسام کی گرین آٸیز میں دیکھتے اسکےہاتھ پاٶں پھولنے لگے۔وہ بھی بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہا تھا۔
ابرش کو اپنی پوزیشن کا احساس ہوا۔ تو فوراً پیچھے ہوتی اسکی گود سے جمپ لگاتی بیڈ سے نیچے اتری۔
اور ادھر ادھر دیکھتی باتھ روم میں جاگھسی۔
جبکہ ایک دلفریب مسکراہٹ نے ابتسام کے لبوں کو بے اختیار چھوا۔
وہ اسکی بیوی تھی۔ اسکی محرم۔۔ اسکے پاس آتی تھی۔ لیکن اسے برا نہیں لگتا تھا۔ جسطرح فاریہ اسکے قریب آنے کی کوشش کرتی تھی۔تو ابتسام کو اس سے کراہیت آتی تھی۔
ایسا ابرش کے ساتھ نہیں تھا۔ وہ دل سے اسکا احترام کرتا تھا۔ اسکے قریب آنے پے اسکا دل معصوم بچوں کی طرح اچھلتا تھا۔ لیکن ۔۔ وہ اس جذے کو محبت کانام دینے سے ابھی قاصر تھا۔
اور جس دن یہ جذبہ اس پے آشکار ہوا۔ وہ کس حد تک جنونی ہوگا۔۔ خود بھی نہیں جانتا تھا۔
جاری ہے
