Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 36)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

تمہاری دوست ہوں۔۔۔ کہتےہیں۔ ناں۔۔ دشمن کا دشمن دوست۔۔۔ تو میں وہی دوست ہوں۔۔۔

فاریہ مسکرا کے بولی۔ اور شاہان کو سب کچھ بتانے لگی۔ شاہان نے اسکی ساری بات بہت آرام سے سنی۔

اچھا۔۔ اب مجھ سے کیا چاہتی ہو؟

شاہان نے ماتھےپے تیوی چڑھاٸ۔

تمہاری دشمن ابرش۔۔ میری بھی ابرش۔۔ تم بھی اسے مارنا چاہتے ہو۔ میں بھی اسے مارنا چاہتی ہوں۔۔ تا کہ۔۔ ابتسام میرا ہوجاۓ۔۔۔

ہم دونوں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔فاریہ نے مشورہ دیا۔

ہممممم۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔ ۔۔۔ ڈن۔۔ لیکن ابرش بچنی نہیں چاہیے۔سخت غصیلے انداز میں کہا۔

نہیں بچے گی۔۔۔ کیونکہ اسکا رکھوالا تو اسے چھوڑ گیاہے۔۔۔

فاریہ مسکراٸ۔

دونوں نے پلاننگ ڈسکس کی۔جس میں ابرش کو شوٹ کرنے کی بات پے متفق ہوتے اپنے اپنے راستے ہولیے۔

اب آۓ گا مزہ۔۔ابرش۔۔۔ بہت اڑ لیا ہواٶں میں تم نے۔۔۔ اب۔۔ بس۔۔۔! جو میرا نہیں۔۔ میں اسے کسی کا ہونے نہیں دیتی۔

🔥
💗
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

عروش۔۔۔ !دیکھ کے۔۔۔۔؟؟

عروش جو کچن میں ارتسام کے لیے اسپیشل بریانی بنا رہی تھی۔ ابرش نے کچن میں آتے ہی عروش کا دوپٹہ آگ پکڑتے دیکھا تو چلاٸ۔ اور ساتھ ہی دوپٹہ اتار کے دور پھینکا۔ جس میں ابرش کا ہاتھ جل گیا۔

عروش نے گھبراتے ہوۓ مڑ کے دیکھا۔

تم ٹھیک ہو۔۔؟؟ اپنے سے زیادہ ابرش کو عروش کی فکر ہوٸ۔

جی۔۔جی ۔۔۔ بھابھی۔۔۔! عروش نے دہلتے دل کے ساتھ جواب دیا۔

ایک لمحےکے لیے عروش کو لگا۔ کہ وہ جل گٸ ہے۔ اگر ابرش نہ آتی تو آگ اسکے کپڑوں سے فوراً بالوں تک پہنچ جاتی اور ۔۔۔؟؟

آگے کا سوچ کے ہی عروش کو جھرجھری آٸ۔

بھابھی۔۔۔ آپ کا ہاتھ۔۔؟؟ عروش کی نظر پڑی۔

تو ابرش نے اپنا ہاتھ دیکھا۔ جو انگلیوں اور بیک ساٸیڈ سے جلا تھا۔ دوپٹہ اس نے اپنے ہاتھ میں لپیٹ کے اتارا تھا۔ جسکی وجہ سے اسکا ہاتھ زیادہ جل گیا۔

اتنے میں ابرش کی نظر علیشا پے پڑی جو فریج کے پیچھے چھپی ہوٸ تھی۔

ابرش نے دانت پیستے اسے وہاں سے باہر نکالا۔

کیا کر رہی تھی تم یہاں۔۔۔؟؟ قہر کی نظر سے دیکھتے پوچھا۔

می۔۔۔میییییں۔۔ کیا۔۔۔۔؟؟ کچچھ بھھھی نہیں۔۔۔

وہ ہکلاتے بولی۔

تمہاری جرات کیسے ہوٸ۔۔ یہ سب کرنے کی۔۔؟ ہاں۔۔؟؟ کیا سمجھ رکھا ہے تم۔نے خود کو۔۔ کوٸ بہت ہی توپ چیز ہو تم۔۔؟؟

ابرش نے اسے اچھا خاصا سنا ڈالا۔

افففف۔۔۔ پیچھے ہٹو۔۔ اور فضول کے الزام نہ لگاٶ۔۔۔ علیشا پہلے تو گھبراٸ لیکن فوراً ہی اپنی ٹون میں واپس آٸ۔

الزام۔۔؟؟ تم یہاں۔۔چھپی ہو۔۔ اور ۔۔ عروش کے دوپٹے نے آگ پکڑی۔۔ کیا مطلب ہے اس بات کا۔۔؟؟ میں نہ آتی تو۔۔؟؟

تو۔۔۔ تو کیا۔۔۔؟؟ ویسے ناں۔۔ تمہیں اب۔۔ ناں۔۔ نہیں آنا چاپیے۔۔ جیسے تم۔۔ اس گھر میں مہا رانیوں کی طرح پھرتی ہوناں۔۔تو۔۔ اب یہ سب ختم کردو۔۔ اب تمہارا یہاں۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔ ابتسام کی ڈیتھ کے بعد۔۔۔۔؟؟

چٹاخ۔۔۔۔! ایک زور دار تھپڑ اسے ابرش سے پڑا تھا۔

اپنی زبان کو لگام دو۔۔۔ میرے ابتسام کے بارے میں ایک غلط لفظ بھی بولا۔ تو منہ توڑ دوں گی تمہارا۔

انگلی اٹھاتے وارن کیا۔ آنکھیں لال ہوٸیں تھیں۔ لہجہ انتہاٸ سرد تھا۔

علیشا حیرانی سے منہ دیکھتی رہ گٸ۔

اور ۔۔۔ تمہیں کیا لگا۔۔؟ابتسام کے بنا ابرش کمزور پڑگٸ۔۔؟؟ بھول ہے تمہاری۔۔ تم نے ابھی دیکھا ہی کیا ابرش کو۔۔۔؟؟ تم جیسوں کو بہت اچھی طرح سیدھا کر چکی ہے ابرش۔۔ اس لیے کسی بھول میں مت رہنا۔۔ ورنہ۔۔ کیا حال۔کروں گی تمہارا۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔

ابرش واپس پہلے والے روپ میں لوٹ آٸ تھی۔ وہی جو ازل سے اسکا تھا۔ ہاں۔۔ وقت نے اتنے گہرے زخم دیٸے کہ بھرنے میں ٹاٸم لگا۔لیکن۔۔ وہ سنبھل چکی تھی۔

کیا ہورہا ہے یہاں۔۔؟؟ ابی جان کی گرجدار آواز پے ان تینوں نے پلٹ کے دیکھا۔

دروازے کی اوٹ سے ارتسام بھی دیکھتا اندر آیا۔ وہ ابھی آفس سے لوٹا تھا۔ عروش کو بنا دوپٹے کے دیکھ اسکے ماتھے پے بل پڑے۔

اچھا ہوا۔۔ ابیجان آپ آگیں۔ آپ کی یہ بہو۔۔ اتنا بے عزت کیا مجھے۔۔ اور ہاتھ بھی اٹھایا۔۔

وہ روتے ہوۓ ابی جان کے پاس گٸ۔

وہی لمحہ۔۔ پھر سے دہرایا جا رہا تھا۔ لیکن فرق صرف اتنا تھا پہلے عروش پے الزام لگا تھا۔ اور اس نے معافی مانگی تھی ۔ اور آج مقابل میں ابرش تھی۔ جبکہ تھپڑ بھی اصلی کا پڑا تھا۔

تم۔۔ تو اس قابل بھی نہیں کہ تم پے ہاتھ اٹھایا جاۓ۔۔ ہاتھ گندے نہیں کرنے مجھے۔

ابرش نے ہاتھ کو دیکھا جہاں اسے اب جلن ہو رہی تھی۔

یہ ہاتھ پےکیا ہوا۔۔؟؟ أبی جان بے چینی سے آگے بڑھیں۔ علیشا نے رخ پھیرا۔

ابرش نے دانت پیسے۔ عروش کی آنکھوں کے آنسو ارتسام سے چھپےنہ رہ سکے۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ ٹھیک ہو۔۔؟؟ ارتسام۔نے بہت پیار سے عروش کے پاس جاتےپوچھا۔

تو وہ روتےہوۓ اس کے سینے سے جا لگی۔

اس نے۔۔ جلانےکی۔۔ کوشش کی۔۔۔ اگر۔۔۔ بھابھی۔۔ نہ آتیں۔۔۔ تو۔۔۔؟؟ کہتے کہتے وہ پھر روتےہوۓ ارتسام کے سینےسے لگی۔ ارتسام نے لب بھینچ کے علیشا کو دیکھا۔اور آگ سے جلا دوپٹہ بھی۔

ابی جان علیشا کو قہر کی نظروں سے دیکھتی ابرش کو باہر لےآٸیں۔ رضیہ سے فرسٹ ایڈباکس منگوایا۔

فی الحال انہیں علیشا سے زیادہ ابرش کی فکر تھی۔

لاٸیے ۔۔بھابھی ۔۔میں کر دیتاہوں۔۔ ارتسام فوراً آگے بڑھتا۔ ٹریٹمنٹ کرنےلگا۔

سی۔۔۔۔۔۔ ! ہلکی سے آواز پے ابرش نے آنکھیں موندیں تو ابتسام کا چہرہ آنکھوں کے سامنےلہرایا۔

اور دل بے اختیار دکھا۔

آپ کو شرم نہیں آٸ یہ سب کرتے۔۔؟؟ ابی جان نے سختی سے علیشا سے کہا۔ جو پہلو بدل گٸ۔

ابیجان۔۔۔۔! مجھےآپ سے کچھ بات کرنی ہے۔

ابرش نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ ابی جان ایک نظر علیشا کو دیکھ ابرش کی طرف مڑیں۔

ابیجان۔۔ اس گھر کی بڑی بہو ہونےکے ناطے میری ایک خواہش ہے۔۔ ؟ کیا میں کہہ سکتی ہوں۔۔؟؟

ابرش کا سنجیدہ انداز ابیجان کو کھٹکا۔

ابرش۔۔ ! آپ کو کچھ بھی کہنےکے لیے اجازت کی ضرورت نہیں۔

ابیجان۔۔ پھر۔۔ آپ لمظ اور ارحام کا نکاح کردیں ۔

فوراً سے کہہ دیا۔ کہ سبھی حیران رہ گۓ۔

بیٹا۔۔۔؟؟ یوں اچانک؟ ابیجان کے ماتھے پےپریشانی کی لکیریں نمودار ہوٸیں۔

اچانک نہیں۔۔ ابی جان۔۔ جسطرح کے حالات ہیں۔ یہ فیصلہ ناگزیر ہوگیا ہے۔۔ باہر کے لوگ نقب لگا کے پیرزادہ منشن کی خوشیوں کو نگلنا چاہتےہیں ۔

ابرش کہتے ہوۓ اٹھی ۔ اور پراسرار سی چال چلتی علیشا کے پاس آٸ۔ جو ابرش کے تیور دیکھ سخت گھبراٸ ہوٸ تھی۔ ماں بھی آج گھر نہیں تھی ورنہ حوصلہ ہی ہوجاتا کچھ۔

اب ان نقالوں سے ہوشیار تو رہنا پڑے گا ناں۔۔؟؟ ابرش نے پلٹ کے ابی جان سے تاٸید چاہی۔

لیکن بیٹا۔۔؟ ابتسام کے بنا۔۔۔؟ کیسے۔۔؟ ابیجان کا دل نہ مانا۔۔۔۔

ابیجان ۔۔۔! ان کے ہاتھ تھامے۔

یہ نکاح وقت کی ضرورت ہے۔ ابتسام ۔۔۔ جب واپس لوٹیں گے۔۔ تو ۔۔۔ ؟ ابرش کی آنکھیں نم ہوٸیں۔

تو ۔۔رخصتی کر لیں گے۔

اب بہت دھیمے اور پیار بھرے لہجےمیں بہت مان سے کہا۔

ابی جان نے ایک نظر علیشا پے ڈالی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد انہوں نے نکاح کی اجازت دے دی ۔

تھینک یو۔۔ سو مچ ابی جان۔۔۔! اتنے نوں بعد ابرش کے چہرےپے سماٸل آٸ تھی۔ جسے دیکھ ابی جان نے سکھ کا سانس لیا تھا۔

علیشا دانت پیستی ابرش کو دیکھنےلگی۔

اور علیشا میڈم۔۔۔بھاٸ کے نکاح کی تیاری کرو۔۔ اب تیسرے بھاٸ کو سہرا سجاتے دیکھنا۔ نکاح کے بعد۔۔ واپسی کی ٹکٹ تمہیں اور تمہاری اماں جان کو میں خود کٹا کے دوں گی ۔

وہی دبنگ انداز۔ ابیجان کی جان میں جان آٸ۔

ابرش کو واپس پہلے جیسا دیکھ کے۔ وہ انہیں اسی روپ میں ہی تو پسند تھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ہیڈ کوارٹر سے واپسی پے تینوں اپنی اپنی راہ ہولیے۔

حمزہ ان سے بغل گیر ہوتا اپنےگھر کی جانب گامزن تھا۔ وہ جانتا تھا۔ ببر ضرور کوٸ نہ کوٸ گڑبڑ کرے گا۔ لیکن اس نے اپنےآدمیوں کو ببر کےپیچھے لگا دیا تھا۔ جو اسےاسکی پل پل کی پورٹ دے رے تھے۔ کہنے کو ببر تو باہر سے آیا تھا۔ جبکہ وہ حقیقتاً پاکستان سے لڑکیوں کی خرید و فروخت کرتا تھا۔ اور انہیں باہر ملک بیچتا تھا۔ جس میں جنید خان اسکا پورا پورا ساتھ دیتا تھا۔ بہت منجھا ہوا کھلاڑی تھا۔ اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آنے والا تھا۔

ابتسام فون پے احمر سے بات کررہا تھا۔اتنے دنوں بعد اس نے نمبر آن کیا۔ تو احمر کی مسڈ کالز تھیں۔ جبکہ ابرش کی ایک بھی نہیں تھی اسکا دل برا ہوا۔ لیکن۔۔ وہ بھی کیا گلہ کرتا۔۔؟ جبکہ اسے مردہ قرار دیا جا چکا تھا۔

لیکن۔۔۔ بنا میری لاش دیکھے۔۔؟؟ ابرش نے یقین کر لیا۔۔؟؟ یہ وہ سوال تھا جسکا جواب اسے ابرش سے ملنےکے بعد ہی پتہ چلنا تھا۔

اوکے۔۔۔ ! سیکیورٹی سخت کردو میں لوٹ آیا ہوں۔ ابرش کو کچھ نہیں ہوگا۔

لہجے میں۔ ایک پختہ یقین تھا۔

کیوں سر۔۔۔؟؟ آپ کہاں گۓ تھے۔۔۔؟؟ جہاں سے لوٹ کےآۓ؟

احمر ابتسام کے بھاٸیوں جیسا تھا۔ اور اسے ہی صرف اتنا حق تھا کہ وہ ابتسام سے سوال جواب کر سکے۔

ابتسام کے لبوں نے مسکراہٹ کو چھوا۔

کہیں نہیں ۔۔۔مل کے بات کرتا ہوں۔۔

ابتسام نےکہتےکال کاٹی۔۔ اپنی گاڑی میں بیٹھا۔ اور خود ہی ڈراٸیو کرنے لگا۔ گھر واپسی کا سوچ کے۔۔ گھر والوں کا ری ایکشن سوچ کے اسکے چہرے پے خود بخود مسکراٹٹ بکھر گٸ۔

گاڑی اسٹارٹ کی۔ یہ جانے بنا ۔۔ کہ اسکی زندگی کی ٹک ٹک شروع ہوچکی تھی۔ اسکی گاڑ ی میں اسی کے ٹیم کےایک گارڈ کو کڈنیپ کر کے اسکی جگہ ببر کا آدمی لے چکا تھا۔ اور بہت مہارت سے اسکی گاڑی میں بم لگا چکا تھا۔ جس سے ابتسام مکمل انجان تھا۔

گاڑی کے آگے بڑھتے ہی اس شخص نے کال۔ملاٸ۔

سر۔۔ آپ کا کام ہوگیا۔

سنجیدگی سے کہا۔

گڈ۔۔ ویری گڈ۔۔۔ اب ابتسام کو کوٸ نہیں بچا سکتا۔۔ میرے ادا جان کو مار کے۔۔ بہت بڑی غلطی کر گیا۔۔ اور اس سے بھی بڑی غلطی کی۔۔۔ مجھےزندہ چھوڑ کے۔۔۔ ہاہاہاہاہ۔۔۔ اب۔۔ آۓ گا۔۔مزہ۔۔۔ جب ہوگا۔۔بوم۔۔۔۔۔

ببر زور سے قہقہے مار کے ہنسا۔

اپنے ماں باپ کی طرح تم بھی سیدھااااا۔۔۔۔ا وپر جاٶ گے۔۔

ببر جیسے خوشی میں پاگل ہوگیا تھا۔

🔥
💗
💗
💗
💗
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
💗
🔥
🔥
🔥
🔥

کہنا کیا چاہتی ہو تم۔۔؟؟ سرفراز انسر کے ماتھے پے بل پڑے۔

کہنا کیا ہے۔۔؟ اگر اپنے بھاٸ کالو کی منگ چاہیے۔ تو آج ہی پہنچ جاٶ یہاں۔۔ ورنہ اسکا باپ اسکی شادی کہیں اور کردے گا۔

موباٸل۔میں منہ گھسا کے کہا۔ مسز نگینہ سرفراز انسر کی بہن تھی۔ سگھی بہن ۔ لیکن۔۔دولت اور جاٸیداد کے لیے حبیب صاحب سے شادی کی۔ تو بھاٸ نے قطع تقلق کر لیا۔ وقت گزرا۔ بھاٸ کو راہ راست پے لے آٸیں۔ اور پھر زیادہ تر موباٸل پے رابطہ رہنے لگا۔

ایک دن خبر ملی۔ سرفراز انسر دوسری شادی کر رہا ہے۔ لیکن وہ نہ جاسکیں۔ وہ بہت مصروف تھیں۔

اور وقت آگے گزرا تو جب زویا مجید آٸ۔ بہن کی بیٹی۔۔ ان کے پاس۔۔ تو جا کے بھاٸ کے حوالے کر آٸیں۔ وہ وہاں جا کے قید ہی ہوگٸ تھی۔

اور پھر وہیں بھاٸ سے صلح نامہ ہوا۔ بدلے میں زویا کا رشتہ سرفراز کےبھانجے سے کر دیا۔ اور لمظ کا رشتہ کالو سے پکا کر دیا۔ جو کہ انکا زہنی مریض بھاٸ تھا۔

واپس آکے شوہر کو بتایا۔ لیکن یہ نہ بتایا کہ وہ کالو ہے۔ بس یہ بتایا کہ بہت اچھی جگہ رشتہ طے کیا ہے۔ ان دنوں حبیب صاحب مکمل نگینہ کے اشاروں پے ناچتے تھے۔ اس لیے بیوی کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے بنا حقیقت جانے۔ لیکن۔۔ بیوی کی حقیقت بھی کھلنی تھی ایک دن۔۔۔۔ جس دن بھاٸ مجیب شمس سے ہاسپٹل میں ملاقات ہوٸ۔

اس دن حقیقت سامنے آٸ۔ کہ مجیب صاحب پے نگینہ نے جھوٹا الزام لگایا تھا۔

ہاں۔۔اس دن۔۔۔؟؟؟

کیاکر رہی ہیں یہ آپ بھابھی۔۔؟؟ شرم کریں۔۔

مجیب صاحب نے نگینہ کو دور دھکا دیا ۔

کیا مسٸلہ ہے تمہارا مجیب۔۔؟؟ جب ۔۔ میں خود تم سے تعلق بنانا چاہتی ہوں۔۔ تو تم۔۔ مجھ سے کیوں دور جا رے ہو۔۔؟؟ تمہاری تو بیوی بھی نہیں رہی۔۔اور حبیب بھی گھر پے نہیں۔۔ ہوتے۔۔ ایسے میں ہم ۔۔۔؟؟

چٹاخ۔۔۔! ایک ضبط تھا جو ٹوٹا تھا۔۔ اور وہ جہنوں نے ہمیشہ مرد زات سے بھی دھیمےلہجےمیں بات کی۔ آج عورت پے ہاتھ اٹھا گۓ۔

افسوس ہوتا ہے مجھے۔۔حبیب پے۔۔ کہ انہوں نے آپ جیسی گھٹیا اور نیچ عورت کا اتنخاب کیا۔ جو۔۔ انتہاٸ گندگی کا ڈھیر ہے۔

مجیب صاحب کے الفاظ نگینہ کو برچھی کی طرح لگے۔ اتنے میں مین گیٹ سے حبیب صاحب کو اندر آتا دیکھ نگینہ کا رنگ فق ہوا۔ اسے خودکو بچانا تھا۔ اپنی شرٹ کے بازو پھاڑے وہ مجیب صاحب کو کھینچ کے اپنے اوپر گرا چکی تھی۔

اور شور مچانے لگی۔

چھوڑدیں مجھے۔۔۔! اللہ کا واسطہ ہے چھوڑ دیں۔۔ میں بیوی ہوں آپ کے بھاٸ کی۔۔ مت کریں یہ سب۔۔! اونچی آواز میں چلاتے کہا۔ حبیب صاحب اندر بڑھے۔ اور جس حالت میں انہوں نے ان دونوں کودیکھا۔ وہ پتھر کے بن گۓ۔

مجیب صاحب زبردستی پیچھےہٹے۔ لیکن نگینہ اپنا کام کر چکی تھی۔ فوراً سے بھاگتی حبیب کے سینے سےجالگی۔

اچچچھھھاا۔۔۔ ہوا آپ آگۓ۔۔۔ یہ دیکھیں۔۔ کیا حالت۔۔۔؟ کر دی آپکے بھاٸ نے میری۔۔۔؟؟

نگینہ روتے ہوۓ اپنی حالت زار بیان کر رہی تھی مجیب صاحب حبیب کو دیکھے جا رہے تھے۔ آج پہلی بار بھاٸ کی آنکھوں میں اپنے لیے بے اعتباری دیکھی۔ جو انہیں اندر ہی اندر مار گٸ۔

اس دن پھر دو بھاٸ جدا ہوۓ۔ وجہ کچھ اور سامنے آٸ۔ لیکن اصل وجہ وہ خود ہی جانتے تھے ۔

نگینہ نے چال کھیلی۔ یہ بات مجیب صاحب سے ہاسپٹل میں ان کے آخری لمحات میں حبیب صاحب کو پتہ چلی۔ جبکہ اس دن وہ بنا ایک لفظ کہے وہاں سے چلے گٸے تھے۔ جس سے حبیب صاحب نے اپنے بھاٸ کو ہی غلط سمجھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے دل میں بھاٸ کےلیے بدگمانی مزید بڑھتی چلی گٸ۔ جس کی وجہ سے انہوں نے لمظ کو بھی ان سے دور کر دیا۔ وہ انکا سایہ بھی نہیں پڑنے دینا چاہتے تھے اپنی اولاد پے۔ جبکہ یہ نہیں جانتےتھے۔ فساد کی جڑ ان کے اپنے گھر ہی ہے۔ جو ہر وقت انکی بیٹی کے سر پے منڈلاتی ہے۔ لمظ کی سوتیلی ماں۔ نگینہ ۔

اوراس وقت بھی وہ اپنے بھاٸ سے راز و نیاز کر رہی تھیں۔ کہ حبیب صاحب کی آمد سے بے خبر ۔

فون پے لگیں بھاٸ کے ساتھ پلاننگ کر تی نگینہ اپنے انجام سےبےخبر لگی تھیں۔

بس۔۔ تم اپنی بیٹی کو تیار رکھو۔ میں جلد ہی پہنچتا ہوں۔۔ سرفرازانسر نے سوچتے ہوۓ کہا۔۔

تمہیں کیالگتا ہے۔۔؟؟ لڑکی آسانی سے مان جاۓ گی۔۔؟؟ سخت لہجےمیں طنز کیا۔

آکے زبردستی لےکےجاٶ۔۔ مولوی کو ساتھ لانا۔ اور نکاح کر کے لے جاٶ اسے۔۔۔

ہر لفظ چباتےکہا۔ یہ سب سنتےہی حبیب صاحب کا خون کھول اٹھا۔

جو بھی کرنا ہے جلدی کرو۔۔ ورنہ لڑکی ہاتھ سے نکل جاۓ گی۔۔۔ کہتے فون بند کر کے جیسے وہ پلٹیں۔ سکتےمیں آگٸیں۔

آپپپپ۔۔۔۔۔۔ انہیں سمجھ نہ آیا کہ کیاکہے۔

برسوں پہلے۔۔۔ میرے بھاٸ پے گندا الزام لگا کے۔۔ انہیں ۔۔اس گھر سے جانے کے لیے مجبور کر دیا۔۔ اور آج۔۔۔؟ پراسرا انداز میں کہتے وہ اسکی طرف بڑھے۔ وہ اتنے قدم دور ہٹیں۔

میری بیٹی کو بھی نہ بخشا۔۔۔؟ انہوں نے اسے بالوں سے جکڑا۔ اور خونخوار آنکھیں ان پے گاڑیں۔

حبیب۔۔۔۔۔۔ مجھھھھے معااااففف۔۔۔ کر دیں۔۔۔۔۔! آخری حربہ آزمایا۔

معاف۔۔۔؟ وہ پھنکارے۔

اس سے پہلے کہ وہ غصے میںکچھ غلط کرتے۔ اس عورت کو لے جا کے اسٹور میں بندکر دیا۔ وہ چلاتی رہیں۔ لیکن حبیب صاحب ملازموں کو سمجھا کے لمظ کو لے کے پیرزادہ منشن کی طرف کا رخ کیا۔ وہ اب اپنی بیٹی کو بچانا چاہتے تھے۔ وہ جانتےتھے۔ ارحام بہت چاہتا ہے انکی بیٹی کو۔ اور وہ جو سوچ رہے تھے۔ کہجا کے یہ کہیں گے وہ کہیں گے۔۔بس۔۔۔ سوچ رہے تھے۔ نہیں جانتے تھے کہ وہ مانیں گے یا نہیں۔۔؟ انکی ابی جان کیا فیصلہ کریں گیں۔۔؟ جبکہ ارحام کو وہ کل ہی ساری سچاٸ بتا چکے تھے۔

ہو سکتا ہے ارحام نے اپنی ابیجان سے بات کی ہو۔۔۔؟؟ انہوں نے خود کو تسلی دی جبکہ لمظ باپ کے بدلتے روے کو سمجھ ہی نہیں پارہی تھی۔ خاموشی سے دیکھے جا رہی تھی۔

🔥
🔥
💗
💗
💗
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کیاہوا۔۔۔؟ ابتسام جو واپس کے راستےپے تھا۔ فہد کو آگے ایک راستے پے کھڑے گاڑی سے الجھتے دیکھ کے اپنی گاڑی سے نیچے اترا ۔

ارے آپ۔۔۔؟؟ اچھا ہوا آگۓ۔۔ گاڑی دھوکا دے گٸ۔ ادھر اماں حضورکی کالز پے کالز آرہی ہیں کہ گھر جلدی پہنچو۔ ادھر گاڑی بند پڑگٸ ہے۔ اب بتاٸیں کیاکروں۔

فہد کی ہات پے ابتسام۔زیرلب مسکرایا۔

ایک کام کرو۔ تم میری گاڑی لے جاٶ۔۔ میں کچھ نہ کچھ مینج کر لوں گا۔

ابتسام نے آفر کی۔ تو وہ خوش ہو اٹھا۔ آر یو شیور۔۔۔؟؟ پیار سے پوچھا۔

یس۔۔۔! اتنے ہی پیار بھرے انداز میں جواب دیا۔

یو آر ٹو گڈ۔۔۔ بھاٸ ہوتو ایسا۔۔ ابتسام کے گلے لگا۔ تو ابتسام کے دل کو نجانے کیا ہوا۔

آپ ناں۔۔ بہت لکی ہیں۔۔ میرے جیسا دوست آپ کو ملا۔ اپنی گاڑی سے اپنا سامان نکالتا وہ ساتھ بولے بھی جا رہا تھا۔ اور ابتسام کی گاڑی میں اپنا سامان کا بیگ رکھتا واپس اسکی جانب پلٹا۔ اسکا ایک چھوٹا سا بیگ تھا۔ جس میں چند ایک ضرورت کی چیزیں ہی تھیں۔

کیا یاد کریں گے۔۔ کس سخی سے پالا پڑا تھا۔ مسکراتے ہوۓ ابتسام کو بیگ ددیتے کہا۔ ابتسام کا دل عجیب انداز میں دھڑکا۔

اوہ۔۔۔ا چھا۔۔۔ میری شادی پے پہنچ جانا۔۔۔ ورنہ۔۔ بخشنا نہیں آپ کو میں نے۔۔۔ جاتے جاتے پلٹ کےابتسام کے گلے لگا۔ اور پیار سے کہا۔

ابتسام۔نے مسکراتے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ ڈراٸیونگ سیٹ پے جا بیٹھا۔ اور ایک پیاری سی سماٸل ابتسام کو دی۔ گاڑی اسٹارٹ کرتا اسکے پاس آکے روکی۔

آٸیں آپ کو گھر تک لفٹ دے دیتا ہوں۔۔ کیا یاد کریں گے۔

وہ بر بار ایک ہی جملہ دہرا رہا تھا۔ ابتسام مسکرایا ۔

نہیں تم۔۔ جاٶ۔۔ تمہیں دیر ہورہی ہوگی۔ میں پہنچ جاٶں گا۔ میری فکرنہ کرو۔۔

ابتسام نے اسے پیار سے دیکھتے کہا۔

دیکھ لیں بعد میں نہ کہتے رہنا۔۔ میری گاڑی لے اڑا۔ آپ نے خود دی ہے۔ فہد نے ایکٹنگ کی۔

اس سے پہلے کے میرا ارادہ بدلے۔۔۔ نکلو یہا ں سے۔۔

ابتسام نے اسے گھرکا تو وہ مسکراتے ہوۓ گاڑی آگے بڑھا گیا۔ ابتسام احمر کو فون کر چکا تھا۔ اتنی سنسنان جگہ پے کوٸ لفٹ ملنا ناممکن تھی۔ اور احمر تو اسکے بلاوۓ پے آنکھوں کے بل چل کے آتا۔ وہ اسی کا ویٹ کرنے لگا۔ ایک دل کیا ابرش کو فون کرے ۔

اس دن بھی اس نے فون کیا۔ لیکن ۔۔ ہمت نہ ہوٸ بات کرنے کی۔ اور بند کر دیا۔ تب وہ نمبر ان ناٶن تھا۔ وہ پتہ نہیں پہچان پاٸ کہ نہیں۔۔؟؟ یہی سوچتے ٹاٸم پر لگا کے اڑا۔ احمر پہنچ گیا تھا۔ اب وہ احمر کے ساتھ پیرزادہ منشن کی جانب گامزن تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

حبیب صاحب نے پیرزادہ منشن پہنچ کے ساری بات ابی جان کے سامنے رکھ دی۔ جبکہ ارحام سب کچھ پہلے ہی ابرش کو بتا چکا تھا۔ اور اسی کی خواہش پے ابرش نے ابی جان سے نکاح کی بات کی تھی۔ اب حبیب صاحب کا آنا۔ اور نکاح کے لیے بولنا۔ ان سب کو سوچنے پے مجبور کر گیا۔

ہم۔۔تو کل آہی رہے تھے۔۔ آپ کی طرف۔۔؟؟ نکاح کے لیے۔۔۔ ابی جان نے دھیمی آواز میں کہا۔

آپ سے درخواست ہی کر سکتا ہوں۔ اپنی گزشتہ غلطیوں کی معافی مانگ کے۔ حبٕیب صاحب کے کندھے جھکے ہوۓ تھے۔ آج وہ ایک بیٹی کے کمزور باپ ہی لگ رہے تھے۔

اور۔۔ وہ آپ کی ڈیمانڈ۔۔ حق مہر کی۔۔؟؟ ابیجان نے یاد کروایا۔ تو حبیب صاحب استہزاٸیہ انداز میں ہنسے۔

وہ فتور بھی کسی کا میرے دماغ میں ڈالا گیا تھا۔

حق مہر تو بیٹیوں کا حق ہوتا ہے۔ ہم۔۔ اس پے لین دین شروع کر دیتےہیں۔۔ اپنے بچوں کی زندگیاں خراب کر دیتے ہیں۔۔ جبکہ ہم سمجھتےبیں کہ حق مہر میں زیاہ سے زیاہ لکھوا کے ہم اپنی بیٹی کو محفوظ کرتے ہیں۔ یہ ضمانت ہے کہ ہماری بیٹی کو سسرال۔میں کوٸ تکلیف نہیں ہوگی۔۔۔ پھر سے سر جھکاۓ وہ خود پے ہنسے۔

لیکن۔۔ہم۔۔ بھی تو کم عقل ہیں ناں۔۔۔! اپنی آنتیں نکال کے دے رہے ہوتےہیں۔ اور بدلہ میں چند روپے لکھوا لیتے ہیں۔۔۔کہ ہم نے بیٹی کو محفوظ کر لیا ؟؟

ایک۔نظر موجود وہاں سب کو دیکھا۔ ابرش پے نظر اٹھی تو دل نے شرمندہ کیا۔ وہ بھی تو انکی بچی تھی۔ کتنی زیادتی کر گۓ تھے اسکے ساتھ۔۔

بیٹیوں کا بہت درجہ ہے ہمارے اسلام میں۔

ان کےلب وا ہوۓ تو وہ بے حد شرمندہ تھے۔

اسلام نے عورتوں کو بہت سے حقوق دیئے ہیں۔ ہم اسلام میں داخل تو ہوگئے ہیں لیکن ہماری تربیت اس طور نہ ہوسکی کہ ہم اپنی عورتوں کے حقوق جان سکیں ۔

انکا سر جھکاہوا تھا۔ لہجہ روندھا ہوا تھا۔ لمظ آج باپ کو پہلی بار اس روپ میں دیکھ رہی تھی ۔

اسلام نے عورتوں کو بہت سے حقوق سے نوازا ہے۔

اور ایک باپ ہوکے بیٹی کا رتبہ ۔۔۔ہی نہ سمجھ سکا۔

اٹھ کے ابرش کے پاس آۓ اور ہاتھ جوڑ دیٸے۔ وہ تو تڑپ ہی گٸ۔ اس نے فوراً ان کے ہاتھوں پے اپنےہاتھ جمادٸے۔ آنسو اسکےبھی رواں تھے۔ حبیب صاحب کے سینے سے لگی۔ تو باپ کی خوشبو آٸ۔ اور حبیب صاحب کو یوں لگا۔ ان کےبھاٸ ان کے پاس ہیں۔

گلے شکوے مٹے تو مطلع صاف ہوا۔

کچھ ہی دیر میں ابی جان کے کہنے پے مولوی صاحب وہاں موجود تھے۔

لمظ کو تھوڑا بہت زبردستی تیار کرایا گیا۔ ابرش نے اسے گلے سے لگایا۔

یہ سب کچھ بہت جلدی میں ہوا تھا۔ کہ لمظ کو سوچنے کا موقع ہی نہ ملا۔

پیرزادہ تھے۔ آخر۔۔ ہر کام۔منٹوں میں کرنے والے۔

سارے انتظامات مکمل کرتے وہ سب حال میں جمع ہوچکے تھے۔

پھوپھو اور علیشا بھی منہ بناتی وہاں آن موجود ہوٸیں۔ دونوں ہی جلے دل کے ساتھ وہاں بیٹھیں تھیں۔

مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا۔ حق مہر پوچھا۔

سبھی خاموش رہے ۔۔

حق مہر لمظ طے کرے گی۔

اچانک سے ابتسام کی آمد نے وہاں موجو د سبھی کو حیرت میں ڈال دیا۔

وہ نکاح بھول کے آنے والی ہستی کو دیکھ رہے تھے۔ اور بس ایک ٹک دیکھے جا رہے تھے۔ جو سامنے کھڑا آنکھوں میں گہری چمک لیے اپنے گھر والوں کو دیکھ رہا تھا۔ جو اسکی آمد پے بت بن گۓ تھے۔

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

خأص بات۔

اگر عورت کو اسلام کے مطابق حقوق مل جائیں تو ہمارا معاشرہ ایک اصلاحی معاشرہ بن جائے اور عورتوں کو اپنے حقوق کے لئے گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے۔

جو رب نے عورت کے حقوق قرآن پاک میں بتائے ہیں اگر ہم ان پر عمل شروع کردیں تو ہر عورت متوازن زندگی گزار سکے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے” تم میں بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہیں”۔ ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے، دلجوئی کی جائے۔ دین اور شریعت کے معاملے میں ڈٹ جائیں۔ دونوں کی رضامندی سے شادی ہو تو برابری جائز ہے۔ عورت کے جو فرائض ہیں وہی حقوق بھی ہیں۔ دونوں میں برابری ہے۔

1) حق مہر عورت کا حق ہے وہ اس کو طے بھی کر سکتی ہے اور شوہر کو دینا چاہیے۔ یہ عورت کا حق ہے۔

2) حق نان ونفقہ۔ یہ بھی عورت کا حق ہے۔ اس کے رہن سہن اور اخراجات کی ذمہ داری شوہر کے ذمہ ہے۔ اگر وہ کماتی ہے تب بھی وہ اپنی مرضی سے گھر پر لگا سکتی ہے۔ لیکن گھر کو چلانا مرد کی ذمہ داری ہے۔

3) حق ملکیت۔ عورت کو جو بھی جہیز وراثت میں ملے وہ اس کی ملکیت ہے اور وہ اس سے کوئ بھی نہیں لے سکتا۔

4) حق حسن سلوک۔ بیٹی ہے تو بھی، بیوی ہو ، ماں ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس کا حق ہے۔ اگر کوئ نہیں کرتا تو یہ بہت ہی غلط ہے۔ اسلام میں عورتوں کے بہت حقوق ہیں۔

اسلام ایک بہت ہی متوازن دین ہے۔ سب کے لیے یکساں۔ کسی پر کوئی زیادتی نہیں، جبر نہیں اور زبردستی نہیں۔

دین کی تعلیم کی کمی ہے بس ۔

خود کے حقوق پہچاننے کے لیے سب سے پہلے دین کا مطالعہ ضروری ہے ۔ دین سمجھیں اور اپنے حقوق پہچانیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *