Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 14)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 14)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
جیسے ہی ارتسام روم میں داخل ہوا۔ سامنے وہ رخ موڑے کھڑی تھی۔ دلہن کے لباس میں ایک دوشیزہ کو اپنے روم میں اپنی بیوی کے روپ میں دیکھتے ارتسام کے چہرے پے یونہی مسکراہٹ بکھر گٸ یہ جانے بنا کے سامنے کھڑی لڑکی کے اندر کیا چل رہا ہے۔۔۔۔
دروازہ کھل کے دوبارہ بند ہونے کی آواز پے عروش کا دل بہت زور سے دھڑکا۔ وہ چاہ کے بھی نہیں مڑ پا رہی تھی۔ اسے لگا وہ مڑی تو شاید پتھر کی ہو جاۓ۔
کیاہوا۔۔۔ مسز عروش ارتسام۔۔۔؟؟ کوٸ پریشانی ہے کیا؟
ارتسام نے اس کے پاس آتے پیچھے سے ا سکے کان میں دھیمی آواز میں کہا۔ تو اسکا دل دھک سے رہ گیا۔
فوراً جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔ اور ہاتھ میں پکڑی چھری کا رخ ارتسام کی طرف کیا۔
آنکھوں میں وحشت لیے ۔ چہرے پے سختی۔ دلہن کا گھاٸل کر دینے والا روپ۔ ایک لمحے کے لیے تو ارتسام اسکے روپ میں ہی کھو گیا۔
یہ بھول ہی گیاکہ اس وقت وہ آتش فشاں بنی ہوٸ ہے۔
خبر دار۔۔۔! وہیں رک جاٶ ۔۔ میرے قریب مت آنا۔۔۔
بولتے ہوۓ لہجے میں کپکپاہٹ تھی۔ جسے ارتسام نےباآسانی محسوس کر لیا۔
یہ۔۔۔یہ ۔۔کہاں سے آٸ۔۔ آپ کے پاس۔۔۔؟؟ لہجے میں تھوڑی سختی کی آمیزش تھی۔
جہاں سے بھی آٸ۔ ۔۔ اپنے قدم میری طرف نہ بڑھانا۔۔۔ ورنہ۔۔۔ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔
بنا کوٸ لحاظ رکھے وہ بھوری آنکھوں سے اسے گھورتی ٹھٹھکنے پے مجبور کر گٸ۔
ٹھیک ہے۔۔ اسے نیچے کرلیں۔ میں نہیں آرہا ۔۔آپ کے پاس۔۔۔!
ارتسام نے فوراً ہتھیار ڈال دیٸے۔ اور خاموشی سے پلٹ کے بیڈ پے آبیٹھا۔ اور اپنی گھڑی اتارنے لگا۔
عروش کو اسکا یوں بات ماننا ۔۔ سوچنے پے مجبور کر گیا۔
کیایہ واقعی پیچھے ہٹ گیا ہے۔۔۔یا۔۔۔؟؟ کوٸ چال ہے۔۔۔؟ ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی۔ کہ ارتسام اپنی جگہ سے اٹھا۔ عروش نے چوکنا ہتے چھری کا رخ پھر اسکی جانب موڑا۔
ارتسام اسے نظر انداز کرتا کبرڈ کیجانب بڑھا۔ اپنا ڈریس لیا اور عروش سےے تھوڑا فاصلہ رکھتا باتھ روم میں گھس گیا۔
یہ ۔۔یہ تو چپ ہوگیا۔۔۔ کیا کیا۔۔۔ پلان ہے اسکا۔۔۔؟؟ میں ۔۔ اس پے اعتبار نہیں کر سکتی۔۔۔ اتنا بڑا گھر۔۔۔ اتنا امیر زادہ۔۔ مجھ سے کیسے نکاح کر سکتا ہے۔۔؟؟ بنا کی غرض کے۔۔؟؟
مجھے لگا۔۔ مجھے اسے ایک چانس دینا چاہیے۔۔ لیکن۔۔ میں نہیں اعتابر کر سکتی اس پے۔۔
اس دور میں جہاں اپنے سانپ بن کے ڈستے ہیں۔ کوٸ غیر کیسے کسی کی مدد کر سکتا ہے۔۔ ضرور۔۔ اس کے پیچھے کوٸ راز ہے۔۔۔
کہیں۔۔ یہ مجھے ۔۔۔ بیچنے کے۔۔ چکر۔۔ میں تو نہیں۔۔؟؟ عروش سر پکڑ کے وہیں بیٹھ گٸ۔۔
مجھے یہاں سے نکلنا ہو گا۔۔۔ یہاں سے نکل کے کہاں جاٶں گی۔۔ یہ بعد میں سوچوں گی۔۔ لیکن۔۔ ایک دلدل سے نکل کے دوسری دلدل میں نہیں پھنس سکتی۔
وہ سر جھکاۓ پریشان حال آنے والے وقت کی پلاننگ کر رہی تھی۔ اس کا دھیان ہی نہ تھا۔ کہ کب ارتسام باتھ روم سے باہر نکلا۔
اوت اس کے پاس آتا اسکے ہاتھ سے فوراً چھری لے چکا تھا۔ وہ ہڑبڑا کے فوراً اپنی جگہ سے اٹھی۔
یہ۔۔۔ واپپسسس۔۔۔کریں مجھے۔۔۔!عروش کے رگ وپے میں ایک سنسنی سی دوڑ گٸ۔
اچھا۔۔۔۔ کیا ارادہ ہے آ پکا۔۔۔؟؟ ماتھے پے بل پڑے۔
سادہ شلوار قمیض میں وہ حد درجے ہینڈسم لگ رہا تھا۔ کہ ایک لمحے کو عروش کا دل بری طرح دھڑکا۔
دیکھو۔۔ میں۔۔ تمہیں۔۔ اپنے ساتھ کچھ بھی غلط کرنے نہیں دوں گی۔
عروش نے انگلی اٹھاتے وارن کیا۔ جبکہ اس بار لہجہ میں تھرتھراہٹ واضح تھی۔
ارتسام نے ایک ہاتھ سے چھری پکڑے دوسرے ہاتھ سے کھینچ کے عروش کو اپنے ساتھ لگایا۔
دونوں کی نظروں کا پل بھر کو تصادم ہوا۔
عروش کے ماتھے پے پسینے کے قطرے نمودار ہوۓ۔
بنا لحاظ کے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ارتسام نے چھری کا رخ اسکی گردن کی جانب موڑا۔ اور تھوڑا سا دباٶ ڈالا۔
ڈر کے مارے عوش نے آنکھیں بند کر لیں۔
اسکی اس حرکت پے ارتسام اسے دم بخود دیکھے گیا۔
جب کچھ پل یونہی خاموشی کی نظر ہوگۓ تو عروش نے دھیرے سے آنکھیں کھول کے سامنے دیکھا۔
اپنے دماغ سے یہ سب خرافات نکال دیں۔۔ کچھ کرنا ہوتا ناں۔۔ تو عزت سے گھر نہ لاتا۔۔۔ اور بھی بہت سی جگہیں ہیں۔۔ جہاں لے جا کے بہت کچھ کر سکتا تھا۔ ۔
اس کے دماغ میں کیا پل رہا تھا۔۔ اتنی آسانی سے وہ کیے جان گیا۔۔؟ عروش پے تو گھڑوں پانی گر گیا۔
اچھا خاصا وہ اسے شرمندہ کر گیا تھا۔
آرام سے اسے خود سے الگ کیا ۔ اور چھری واپس اسکے ہاتھ میں تھماٸ وہ حیرت کی مورت بنی یکھتی رہی۔
رکھ لیں۔۔ سیفٹی کے لیے۔۔۔! طنز سے مگر دھیمے لہجے میں کہتا وہ واپس بستر کی جانب مڑا۔
کمفرٹر درست کرتا وہ ساٸیڈ بورڈ سے لاٸیٹ آف کرتا اور لیمپ آن کرتا اب سونے کی تیاری میں تھا۔
جبکہ عروش دانت پیستی وہیں قریب صوفے پے بیٹھ گٸ۔ چھری ہاتھ میں پکڑے وہ یونہی بیٹھی رہی۔ کافی دیر گزر گٸ۔
جب اسے یقین ہوگیا کہ ارتسام سو گیا ہے وہ دھیرے سے اٹھ کے اسکے قریب آٸ۔ وہ بازو آنکھوں پے رکھے ہوۓ سو رہا تھا۔ ۔
اسکے چل کے پاس آنے پے اسکی چوڑیوں کی کھنک اور پاٸل کی آواز سے وہ جو دھیرے دھیرے نیند کی وادی میں کھو رہا تھا۔ پھر سے حواص جاگ گۓ۔
پاس پڑا تکیہ دھیرے سے اٹھایا۔
جی تو چاہتا ہے ۔ اسی تکیہ سے اسکی سانسیں روک دوں۔۔ لیکن۔۔ پھر مجھے جیل جانا پڑے گا۔۔ اور میرا ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا رہ جاۓ گا۔
فی الفور ارادہ ملتوی کرتی وہ واپس صوفےکیجانب مڑی۔
چاہیں تو وارڈ روب سے میرا کوٸ بھی ڈریس لے کے چینج کر لیں۔ کل آپ کے کپڑے وغیرہ لے آٶں گا۔
بنا بازو آنلھوں سے ہٹاۓ ارتسام کی آوا پے وہ بے ساختہ پلٹ تھی۔
یہ۔۔یہ جاگ رہا ہے۔۔۔؟؟ خود سے ہی سوال کیا۔
ووارڈروب اس طرف ہے۔۔۔!
کروٹ بدلتا وہ بس اتنا ہی بول پایا۔
عروش منہ بناتی صوفے پے جا بیٹھی۔
کچھ پل مزید سرایت سے گزر گۓ۔ اب عروش کو بھی نیند آنے لگی تھی۔ کب تک جاگ کے اپنا پہرہ دیتی۔
اور بھاری بھرکم لہنگے میں سونا۔۔ اسکے لیے انتہاٸ مشکل کام تھا۔
اس لیے جی مار کے خاموشی سے اٹھی۔ اور وارڈ روب کی جانب بڑھی۔ ہاتھ کے سامنے جو بھی ڈریس آیا۔ نکالا اور باتھ روم میں گھس گٸ۔
اسکے جانے کے بعد ارتسام کے چہرے پے ایک دلفریب مسکان سج گٸ۔
جھلی سی ہے۔۔
لیکن۔۔۔ میٹھی سی ہے۔۔۔
ارتسام کے ل پے محبت نے دستک دے د ی تھی۔ اور وہ اس بات سے کبھی انکار کر ہی نہیں سکتا تھا کہ اسے محبت جس لڑکی سے ہوٸ وہ اسکی پہلی اکلوتی بیوی ہے۔
اب یہ دیکھنا تھا ۔ بیوی کب محبت کرتی ہے۔۔؟؟
تھوڑی یر بعد وہ باتھ سے شاور لے کے ارتسام کے ٹراٶزر اور ٹی شرٹ پہنے باہر نکلی ۔
اف اتنے لمبے ہیں یہ۔۔۔ بندہ پوچھے۔۔ اتنا لمبا قد نکالنے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟؟
بار بار ٹراٶزر فولڈ کرتی وہ پھر نیچے کھل جاتا۔ اور شرٹ تو اسے اچھی خاصی کھلی تھی۔
تیز روشنی ہوتی تو ارتسام ضرور اس لمحے سے حظ اٹھاتا۔ لیکن ابھی کن اکھیوں سے دیکھ کے ہی گزارا کر رہا تھا۔ وہیں صوفے پے خود کے گردبازو لپیٹے وہ سونے کی کوشش کرنے لگی۔
لیکن روم ٹمپریچر کافی سرد ہونے کی وجہ سے اسے ٹھنڈ لگنے لگی تھی۔
اللہ جی۔۔ اس اے سی کو ہی بند کردے۔۔ یا خراب کردے۔۔۔ یا دھماکے سے اڑا دے۔۔ نہیںستو صبح تک میری قلفی بن جانی ہے۔
ہمکلامی میں کہتی وہ ارتسام کو ایک بار پھر مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔ ریموٹ سے اے سی کی سپیڈ کم کرتا وہ اٹھ کے کبرڈ سے ایک اور کمفرٹر نکال آدھی سوٸ آدھی جاگی عروش پے ڈال چکا تھا۔
اس نے مندی مندی آنکھیں کھول کے دیکھا۔ لیکن گرم کمفرٹر ملنے سے اسے سکون محسوس ہوا۔ اور وہ آنکھیں بند کرتی سو گٸ۔
ارتسام بھی اسکے پاس سے اٹھتا بیڈ پے آگیا۔
وہ جانتا تھا ۔ یہ نازک سی لڑکی بہت ڈری ہوٸ ہے۔ اور اعتبار نہیں کر پا رہی۔
ارتسام۔۔۔ ایک اور آزماٸش۔۔
لیٹتے ہوۓ وہ عروش کے متعلق ہی سوچے جا رہا تھا۔













آج کی سنسی خیز خبر۔ مشہور بزنس مین ابتسام علی پیرزادہ کا مسٹر اختر مینگل کی بیٹی فاریہ اختر کے ساتھ افیٸر۔۔۔
دونوں کی نزدیکیاں بے انتہا بڑھ چکی ہیں۔۔
ناظرین ۔۔ یہ وہ تصویریں۔ ہیں جو ان کے ایک ساتھ ہونے کا ثبوت پیش کر رہی ہیں۔
لیکن۔۔ ان تصویروں میں کتنی سچاٸ ہے۔۔ یہ تو ان سے ملنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ ۔۔۔
ٹرن۔۔۔۔ ٹرن۔۔۔۔۔
موباٸیل کی مسلسل بجتی ٹون سے بمشکل ابتسام کی آنکھ کھلی۔ رات دیر تک جاگنے سے آج وہ صبح اٹھ نہ سکا ۔
ہیلو۔۔۔۔! کان سے لگاٸے وہ بند آنکھوں سے بولا۔
مسٹر۔۔ابتسام۔۔ جاگ جاٸیں۔۔ فاریہ اپنی چال چکی ہے۔۔
دوسری طرف احد تھا۔ جو سخت پریشان تھا۔
کیا مطلب۔۔؟؟ ابتسام کی آنکھ فورا ًسے کھلی۔
ٹی وی آن کرو۔۔۔
احد کے کہتے ہی اس نے اٹھتے بنا جوتے پہنے ٹی وی لاٶنج کا رخ کیا۔ اور فوراً ایل ای ڈی آن کی ۔ ۔
سامنے چلتی خبر نے حقیقتاً ابتسام کے ہوش اڑا دیٸے۔
سیڑھیاں اترتا ارتسام بھی وہیں ٹھٹھک کے رک گیا۔
خبر مرچ مصالحے کے ساتھ لگا کے نیوز والے چلا رہے تھے۔ تصویروں کو مکمل واصح نہیںں کیا جارہا تھا۔
لیکن ابتسام جانتا تھا۔ کہ یہ وہی تصویریں ہیں۔ جو فاریہ نے اسے بھیجیں تھیں۔
بھاٸی۔۔۔یہ سب۔۔۔؟؟ أرتسام اس کے قریب آیا۔
جھوٹ ہے یہ سب۔۔۔! بس وہ اتنا ہی کہہ پایا۔ لہجہ گھمبیر تھا۔ ارتسام کی نظر واپس ایل ای ڈی پے گٸ۔
یہ تو۔۔ آپ کو پھسانے کی پوری ساش کی گٸ ہے۔۔
ارتسام کے کہنے پے ابتسام نے اسکی جانب د۔یکھا۔
منہ پے ہاتھ پھیرتا ۔ وہ واپس روم کی جانب بڑھا۔
اور موباٸیل پے احد کو کال کی۔
میرے آفس پہنچو ابھی۔۔۔ ! اسے آرڈر لگاتا خود باتھ روممیں گھس گیا۔
ارتسام نے ریموٹ سے ٹی وی آف کر دیا ۔
حقیقتاً وہ بھی پریشان ہوگیا تھا۔ لیکن اسے اپنے بھاٸ پے پورا بھروسہ تھا۔ وہ اسطرح کا کوٸ کام نہیں کر سکتا تھا۔ اور وہ یہ بھی جانتا تھا۔ کہ وہا س مسٸلے سے کیسے بھیکر کے نکل آۓ گا۔
جبکہ خود ڈاٸینگ پے بیٹھتا ناشتے کا ویٹ کرنے لگا۔ بانو بی نے فوراً ارتسام کیپسند کا ناشتہ سرو کیا۔
بیٹا۔۔۔وہ ۔۔ بہو۔۔ رانی۔۔ نہیں آٸیں۔۔؟؟؟ ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
عروش کے زکر پر ارتسام کے چہرے پے دھیمی سی مسکان آگٸ۔
وہ سو رہی ہیں۔۔۔ جب اٹھیں تو یاد سے ناشتہ دے دیجیے گا۔۔
کہتے ہوۓ ارتسام کی آنکھو ں میں عروش کے سونے کامنظر پھر سے آدھمکا۔
جب وہ اٹھا تو عروش صوفے پے بے ہنگم طریقے سے سو رہی تھی۔
ایک بازو نچے لٹکا ہوا تھا۔ جبکہ دوسرے ہاتھ میں چھری پکڑی ہوٸے تھی۔ اور بے سدھ سوۓ ہوۓ تھی۔
اسکی اس معصومانہ حرکت پے ارتسام اسے دیکھے گیا۔
اسی کے کپڑوں میں وہ اسے کوٸ جل پری ہی لگی۔
بیٹا۔۔۔! جوس لے آٶں۔ ؟؟
بانو بی نے پوچھا۔
نہیں۔۔ بانو۔۔ بی۔۔ آج رہنے دیں۔ دیر ہورہی ہے۔ آپ ۔۔ اپنی بہو رانی کا اچھے سے خیال رکھیے گا۔ ۔ جو انہیں چاہیے ہوا۔ دے دیجے گا۔
اور۔۔ہاں۔۔ پیرزادہ منشن میں وہ کہیں بھی گھوم پھر سکتی ہے۔۔ لیکن۔۔پیرزادہ منشن سے وہ باہر نہیں جاسکتی۔۔ سمجھ گٸیں آپ۔۔؟؟
انہیں اچھے سے سمجھا کے وہ باہر کی جانب بڑھا۔
بانو بی تو اسی میں خوش تھیں۔ کہ عرصے بعد گھر یں کوٸ عورت دیکھیں گٸیں۔
ورنہ جب سے اس گھر یں آٸیں۔ ان لذکوں کو ہی جوان ہوتا دیکھا یا ابی جان کو۔۔
فوراً سے برتن سمیٹے وہ اب عروش کے اٹھنے کا انتظار کرنے لگیں۔













ہاں۔۔ بولو۔۔۔کام ہوگیا۔۔؟؟
فاریہ نے کامی سے کال پے بات کی ۔
تم کہو اور کامی کام نہ کرے۔۔۔ ایسااہو سکتا ہے کیا بھلا۔۔۔۔؟؟
کامی نے محبت سے کہا۔
کامی یاد رکھنا۔۔ سب کچھ میرے حق میں جانا چاہیے۔
فاریہ نے باور کروایا۔
بس ڈارلنگ تم۔۔۔ انٹرویو کی تیاری کرو۔۔۔ جیسااکہا ہے۔۔ بالکل۔۔ویسے۔۔ دیکھنا۔۔۔ ابتسام پیر زادہ۔۔۔ اب نہیں بچ پاۓ گا۔۔
مکاری سے کہتا وہ فاریہ کو خوش ہی کرگیا تھا۔











اَلسَلامُ عَلَيْكُم ! مجھے۔۔ مسٹر ابتسام سے ملنا ہے۔۔۔
ابرش آج آفس آٸ تھی۔
مجیب شمس صاحب کی طبعیت صبح سے ہی خراب ہوگٸ تھی۔ تو ابرش نے انہیں آفس نہ آنے دیا۔ اور وہ خاص فاٸل جو آفس پہنچانی تھی۔ خود لے آفس پہنچ گٸ۔
جی وَعَلَيْكُم السَّلَام،،، ! سر تو ابھی نہیں آۓ۔
ریسپشنسٹ نے فورا جواب دیا۔
ابرش سوچ میں پڑگٸ۔
اوکے۔۔۔ میں ویٹ کر لیتی ہوں۔۔
ابرش کہتے وہیں ایک بینچ پے بیٹھ گٸ۔
پاس پڑی نیوز پیپر دیکھنے لگی۔ ابھی وہ مین ہیڈلاٸن یکھتی کہ اسکے نمبر پے کال آنے لگی۔
اسکی پریکٹس کا آج پہلا دن تھا۔ اور اسے ایڈوکیٹ علیم خان کی کال آٸ تھی۔
اوکے سر۔۔۔ آٸ ایم جسٹ کمنگ۔۔۔
کہتے کال بند کی۔ ۔
پلیز ۔۔۔ آپ مجھے۔۔ آفس کے کسی زمہ دار بندے سے ملوا دیں۔مجھے بہت ضروری کام ہے۔
ابرش نے وپپس رسپشنسٹ کے پاس جاتے کہا۔
ابھی وہ جواب دیتی کہ آفس کا مین ڈور اوپن ہوا۔ اور وہ کسی طوفان کی طرح آفس میں داخل ہو۔ا ۔
چہار سو سناٹا چھا گیا۔
سب اپنی سیٹس پے ایک دم سے کھڑے ہوگۓ۔
بہت جاہ و جلال سے وہ ابرش کے پاس سے گزرتا ایک اچٹتی نگاہ اس پے ڈالتا نظر انداز کرتا آگے بڑھ گیا۔
ابرش وہیں لب بھینچے کھڑی رہ گٸ۔
توبہ اللہ معافی۔۔۔ اتنی اکڑ۔۔۔۔! زیرلب وہ بڑبڑاٸ۔
میم پلیز آپ ویٹ کریں۔ میں سر سے پچھ کے آپ کو بتاتی ہوں۔۔
یور گڈ نیم پلیز۔۔؟؟ انٹر کام پے پوچھنے پے وہ ابرش کی جانب مڑتی اس سے نام پوچھنے لگی۔
ابرش مجیب شمس۔۔۔ ! بہت فخر سے جواب دیا۔
میم۔۔! آپ اندر جا سکتی ہیں۔
تھوڑی دیر بعد ہی ریسپشنسٹ نے اسے کہا۔ تو وہ اثبات میں سر ہلاتی اندر کیجانب بڑھی۔
جہاں وہ فون کے ساتھ بزی تھا۔
میں پانچ منٹ بعد تمہیں یہاں آفس میں دیکھوں۔۔ سمجھے۔۔۔! احد کو ڈانٹتا وہ بنا اسکی سنے کہتا فون بندکر گیا۔
اقر ابرش کی جانب مڑا۔ اور سوالٕہ نظروں سے اسے دیکھا۔ جبکہ چہرےپے انتہا سنجیدگی تھی۔
یہ۔۔۔ فاٸل۔۔۔ بابا نے۔۔ بھیجی ہے۔۔۔! فوراً سے فاٸل آگے کی۔
ابتسام نے وہ فاٸل لے کے ٹیبل پے پٹخ دی۔
اور واپس موباٸل پے کال ملانے لگا۔ جبکہ چہرے پے اب کے پریشانی بھی رقم تھی۔
آپ۔۔ ایک بار ۔۔فاٸل دیکھ لیتے۔۔کوٸی مسٹیک۔۔۔؟؟ ابرش نے کہنا چاہا۔ آج وہ اسکی پرسنلٹی سے تھوڑی مرعوب سی ہوگٸ تھی۔
موباٸل کان سے ہٹاتا وہ ابرش کی طرف مڑا۔
جب دیکھنی ہوٸ دیکھ لوں گا۔۔ اب۔۔۔؟؟؟
یہ۔۔۔آپ اپنا ایٹی ٹیوڈ۔۔ ایک طرف رکھ کے مجھ سے بات کیا کریں۔
ابرش کے ماتھے پے بل پڑے نجانے کیوں لیکن اسکا یوں مخاطب کیے جانا۔ ابرش کو بہت سخت چبھ رہا تھا۔اور اسکی بات کاٹتے کاٹ دار لہجے میں بولی۔
ایکسکیوز می۔۔۔؟؟ میرے آفس میں کھڑے ہو کے۔۔ مجھے ایٹی ٹیوڈ پے لیکچر دو گی۔۔؟؟
آگے وہ غصے میں بھرا بیٹھا تھا۔ وہ اسے چھیڑ بیٹھی۔
موباٸل ساٸیڈ پے کرتا وہ اسکی طرف پیش قدمی کرنے لگا۔
دے۔۔۔ دے سکتی ہوں۔۔ اگر کوٸ آپ کو۔۔عزت دے کے بات کرے۔۔ تو بدلے میں عزت کے ساتھ جواب دیں۔ اتنے نخرے کس بات کے ہیں۔۔؟
پیچھے کی طرف قدم لیتی وہ زبان کے جوہر بی دیکھا رہی تھی۔
تم۔۔۔ سے کس نے کہا ۔۔۔؟؟ مجھ سے آکے بات کرو۔۔؟؟
وہ دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔ اور وہ گہر سبز آنکھوں سے ان کالی آنکھوں میں گھورے جا رہا تھا۔
مجھ سے۔۔۔؟؟؟
ابھی بات ادھوری تھی کی احد آفس میں انٹر ہوا۔
یار وہی ہوا۔۔۔ جس کا ڈر تھا۔۔۔ وہ کیس فاٸل کر چکی ہے۔۔۔۔!
احد نے آتے ہی بریکنگ نیوز سناٸ۔
ابرش ابتسام کی چوڑی پشت کے پیچھے چھپ سی گٸ تھی۔ اور احد اسے دیکھ نہ پایا۔ اس لیے بول دیا۔
ابتسام نے رخ پلٹا ۔
تو اسکی نظر ابتسام کے پاس کھڑی لڑکی پے گٸ۔
وہ بے اختیار ٹھٹھکا۔
یہ۔۔۔یہ کون۔۔؟؟؟ اسکے باقی کے الفاظ منہ میں رہ گۓ۔جب ابرش ایک ساٸیڈ سے نکلتی احرد کے پاس آکے کی۔
یہ آپ کے دوست ہیں۔؟ بہت منہ بنا کے پوچھا۔
جی۔۔۔جی۔۔۔! سر کھجاتے ناسجمھی سے ابتسام کو دیکھ جس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔
تو انہیں کہیں تھوڑا ایٹی ٹیوڈ سے باہر۔نکل کے بات کیا کریں۔
ایک ایک لفظ پے زور دے کے کہتی تیکھے انداز میں ابتسام کو دیکھتی باہر نکل گٸ۔
یہ۔۔۔یہ کون تھی۔۔۔تیکھی۔۔۔۔مرچی۔۔۔؟؟ احد نے ابتسام کےپاس آتے دھیرے سے پوچھا۔
ابتسام نے ایک سخت گھوری سے اسے نوازا۔
اسے چھوڑو۔۔ تم کیا کہہ رہے تھے وہ بتاٶ۔۔۔! بات کو ٹالا۔
یار۔۔ ۔! وہ عدالت میں کیس فاٸل کر چکی ہے۔۔
احد حقیقتاً پریشان ہوا۔
کیسا کیس۔۔۔؟ مطلب۔۔۔؟ ان تصویروں کو لے کے کیا کیس فاٸل کیا جا سکتا ہے۔۔؟
ابتسام کو سمجھ نہ آیا۔
یہی کہ۔۔ تم نے اسکے ساتھ۔۔۔ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔
احد کی بات پے ابتسام تو سُن ہی ہو کے رہ گیا۔












ارتسام کے جانے کے کافی دیر بعد عروش کی آنکھ کھلی تھی۔
خود کو اودنھا ترچھا لیٹا دیکھ فوراً اٹھ بیٹھی۔
یہ۔۔۔ کہاں۔۔گیا۔۔؟؟ سوچتے ادھر ادھر دیکھا۔ لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا۔
اٹھتی صوفے پے بیٹھی۔ تو بے اختیار ماں یاد آگٸ۔
آنکھیں پانیوں سے بھر گٸیں۔
کیا ماٸیں ایسی بھی ہوتی ہیں۔۔کہ تعلق ہی توڑ دیں۔۔۔؟
رخصتی کے لمحے زلیخا کے الفاظ یاد کتے وہ بری طرح رو دی۔
آنسو پونچھتی باتھ میں جانے لگی۔ کہ دروازے پے ناک ہوٸ ۔
چھری کو ڈھونڈنا چاہا۔ وہ نیچے گری نظر آگٸ۔ فوراً اٹھاتی دروازے کی جانب بڑھی۔
کون۔۔۔؟؟
بی بی جی۔۔۔ آپ جاگ گٸیں۔ ہیں۔۔؟؟ تو میں اندر آجاٶں۔۔؟؟
بانو ی نے بے صبری سے پوچھا۔
عروش سوچتے ہوٸے ہامی بھر لی تو فوراًاندر آگٸ۔
عروش کو ارتسام کے کپڑوں میں دیکھ وہ زیرلب مسکراٸ۔
جبکہ اسکے ہاتھ میں ڈھیروں بوتیک سٹاٸیل کے کپپڑے تھے۔
یہ۔۔یہ کیا ہے۔۔۔؟؟؟ عروش حیران ہوٸ۔
ارتسام بیٹے کا فون آیا تھا۔ انہوں نے بجھواۓ ہیں۔ کہہ رہے تھے۔ آپ کے اٹھنے پے آپ کو پہنچادوں۔
فوراً سے جواب دتی وہ باہر نکلی۔ اور مزید چیزیں لاتی وہ پورا بیڈ پے پھیلا چکی تھیں۔
جن میں اسکی ضرورت کی ہر چیز تھی۔
آپ تیار ہوجاٸیں۔ پھر میں آپ کے لیے ناشتہ لگا دیتی ہوں۔
جو آپ کو کھانے میں پسند ہو بتا دیں۔
بہت مودبانہ انداز عروش تو ششدر رہ گٸ۔
