Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 31)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 31)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
تم پاگل تو نہیں۔۔؟؟ کیوں لے کےآٸ یہ موباٸل؟
عزرا پھوپھو نے علیشا کو گھرک کے بولا۔
ہاں تو۔۔۔؟ ابرش کا ہے۔۔۔ کچھ نہ کچھ تو ملے گا ہی۔۔ چیک تو کریں۔ علیشا کی کم عقلی پے پھوپھو نے افسوس ہی کیا۔
اس پے تو پاسورڈ لگا ہے۔علیشا نے منہ بنایا۔
تم بھی حد کرتی ہو۔۔۔ تمہیں سمجھ نہیں آتی کیا؟ میں کیا کہہ رہی ہوں ؟ پھوپھو کو غصہ ہی آگیا۔
ایک منٹ مما ۔۔۔ میسج آیا ہے کوٸ۔۔۔۔! لیکن۔۔۔ بنا پاسورڈ کے اسے۔۔۔ کھولوں کیسے۔۔؟؟
موباٸل کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔
تم۔۔اسے فوراً واپس رکھ کے آٶ۔ سمجھ نہیں آرہی کیا میری بات؟ پھوپھو نے اٹھتے ہوۓ جارحانہ انداز میں کہا تو علیشا فوراً ڈر کے مارے اٹھتی موباٸل واپس رکھنے چلی گٸ۔ جو کہ اس کے کسی کام کا نہ تھا۔
ابرش موباٸل ڈھونڈتے کچن میں جا چکی تھی اور فاطمہ بی سے موباٸل کے لیے دریافت کررہی تھی۔ لیکن انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کر دیا۔
علیشا کو موقع اچھا ملا فوراً موباٸل صوفے کے پاس نیچے کارپٹ پے پھینکا اور وہاں سے غاٸب ہوٸ۔
ابرش فاطمہ بی کے ساتھ باہر آٸ۔ اور دونوں مل کے موباٸیل ڈھونڈنے لگیں۔
بیٹا۔۔۔ موباٸل تو یہ رہا۔
صوفے کے پاس کارپٹ پے ایک طرف کو پڑا موباٸل فاطمہ بی کو نظر آگیا ۔
ابرش نے موباٸل لیتے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اور اپنے روم کی جانب بڑھ گٸ۔ موباٸل پے واٸس میل کو چیک نہ کیا۔ اور نہ اسکا دھیان اس طرف گیا۔ ابھی وہ روم میں آٸ تھی۔ کہ ہاسپٹل سے کال آگٸ۔ مجیب صاحب کی حالت اچانک خراب ہوگٸ تھی۔
ابرش کو ہاسپٹل جانا پڑا۔ وہ بنا کسی سے کچھ کہے گاڑی اور گارڈز کے ساتھ ہاسپٹل کو ہولی۔
ہاسپٹل کے اندر جاتے اسکا دل آج عجیب انداز میں دھڑکا تھا۔ جیسے ہاتھ سے کچھ پھسل رہا ہو۔۔ ریت کی مانند۔
مجیب صاحب آٸ سی یو میں تھے۔
اچھا ہوا آپ آگٸیں۔ پلیز ان پیپرز پے جلدی سے ساٸن کردیں۔ انکی حالت بہت بگڑ گٸ ہے۔ آپریشن ابھی کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر رٶف نے عجلت بھرے انداز میں کہا۔
وہ تو بابا کو اچھا بھلا چھوڑ کے گٸ تھی۔ پھر اچانک۔۔۔؟؟
نم آنکھوں اور کانپتے ہاتھوں سے پیپرز پے ساٸن کرتے اسکا دل ہزار موت مرا تھا۔
یہ وہ سچویشن ہوتی ہے۔ جس میں انسان کسی اپنے کی زندگی کو کسی دوسرے کے ہاتھ سونپ دیتا ہے۔ زندگی کا سب سے کٹھن اور مشکل مرحلہ۔۔
وہ وہیں ایک بینچ پے تھکے انداز میں بیٹھ گٸ۔
کچھ پل میں اسسے محسوس ہوا۔ کہ ساتھ موہیں کوٸ آکے بیٹھا ہے۔ گردن موڑ کے دیکھا تو حبیب صاحب تھے۔ جن کی نظریں آٸ سی یو پے تھیں۔
میرے بابا کے پاس آپ تھے ناں۔۔ لاسٹ ٹاٸم؟ کیا ہوا انہیں اچانک۔۔۔؟ کیا کہا آپ نے انہیں۔۔؟؟
ابرش نے روتے ہوۓ اپنے اندر کے وبال کو دباتے پوچھا۔
حبیب صاحب نے خالی خالی نظروں سے ابرش کو دیکھا۔ ان کی آنکھیں بھی بھیگ رہی تھیں۔
وہ تو۔۔۔ بے قصور تھا۔۔۔ اس نے تو۔۔ کوٸ گناہ نہ کیا۔۔۔ وہ۔۔وہ تو۔۔۔ بے قصور نکلا۔۔۔ کہتے ہوۓ آواز دھیمی ہوگٸ۔
نظریں سامنے دیوار پے جا ٹہریں۔
سارے قصور تو میرے حصے میں آۓ۔۔۔ میں کتنا بڑا بدبخت ہوں۔۔۔ اپنے ہیرے جیسے بھاٸ کی قدر نہ کی۔۔اسے۔۔۔ کھو دیا۔۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دٸے۔
ابرش کے پاس ان کو تسلی ینے کے لیے کوٸ الفاظ نہ بچے تھے۔
منہ پھیر کے اپنی آنکھیں صاف کیں۔ اور اٹھ کے آٸ سی یو کیجانب بڑھ گٸ۔














جہاں کچھ یر پہلے موت کا رقص ہوا۔ وہاں اب مکمل سناٹا تھا۔ پانی کی لہروں کا شور اٹھتا اور پھر خاموش ہوجاتا۔ کوٸ نہیں جانتا تھا۔ کہ ان پانی کی لہروں میں کوٸ جیتا جاگتا انسان گرا تھا۔ وہ ملک کا رکھوالا تھا۔
زندہ تھا یا نہیں۔۔ کوٸ نہیں جانتا تھا۔ لوکیشن کے اندازے پے وہ دونوں یکے بعد دیگرے ایک گھنٹے کے اندر اس جگہ پہنچ چکے تھے۔ جہاں اب موت کا سا سناٹا تھا۔ دونوں ہی بھاگتے ہوۓ ابتسام کی گاڑی تک پہنچے۔ لیکن گاڑی خالی تھی۔ موباٸل بھی غاٸب تھا۔ گاڑی کے پاس خون کی کچھ بوندیں نظر آٸیں۔
تو دونوں کا دل دہل گیا۔ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا۔ دل سے ابتسام کی سلامتی کی دعا کی۔ خون کا رخ پُل کے نیچے کے آخری سرے پے تھا۔
ابتسام نے ۔۔۔؟ پانی میں چھلانگ۔۔۔؟؟ حمزہ کا دل بیٹھا۔۔۔
پُل کافی اونچاٸ پے تھا۔ اور پانی کی لہروں کا شور ایک عجیب سا خوف طاری کیے ہوۓ تھا۔
فہد نے حمزہ کے وجود میں حرکت نہ دیکھی تو۔ گھبرا گیا۔ اسکے کاندھے پے ہاتھ رکھا۔
ڈونٹ وی سر۔۔۔! وہ بہت بہادر ہیں۔۔ انہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میرا دل کہتا ہے ۔۔ وہ ملک دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارے بغیر نہیں مر سکتے۔
فہد نے پورے یقین سے کہا۔ لیکن حمزہ کی آنکھ کا کونہ نم ہوا جو اس نے منہ پیچھے کرتے چھپایا۔
مجھے ابتسام کو بچانا ہے۔۔۔وہ پانی میں ہی ہوگا۔
حمزہ نے پل سے نیچے دیکھتےکہا۔
سر۔۔۔۔! پانی بہت گہرا ہے۔۔ آپ ۔۔۔ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔؟إ میں اپنی ٹیم سےرابطہ میں ہوں۔ وہ غوطہ خوروں کا بندوبست کررہے ہیں ۔ پلیز۔۔۔ آپ کوٸ رسک نہیں لے سکتے۔
کہتے ہی فہد نے کال ملاٸ۔ کال پے بات کرتے وہ جیسےہی مڑا۔ پانی میں کچھ گرنے کی آواز آٸ۔ وہ بے اختیار دل کی دھڑکنوں کو روکتا پیچھے پلٹا۔ آگے ہو کے دیکھتا اسکا دل جیسے دھڑکنے سے انکاری ہوگیا ہو۔ حمزہ پانی میں چھلانگ لگا چکا تھا۔
فہد کا دل کیا ساری دنیا کو آگ لگا دے۔ فون کے دوسری جانب ساری ہدایات دیتا وہ نیچے دیکھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
سر۔۔۔۔۔؟؟ سر۔۔۔۔؟؟ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟ فہد نے اونچی آواز میں کہا ۔ لیکن جواب ندارد۔
فہد مٹھیاں بھینچتا رہ گیا۔ وہ جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے والوں میں سے تھا۔
کچھ ہی دیر میں وہاں انٹیلیجینس کی ٹیم پہنچ گٸ تھیں۔ اور اپنا کام شروع کر دیا تھا۔ کہیں ایک غوطہ خور پانی میں نیچے جا چکے تھے۔اندھیرا ہونے کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ لیکن ہمت کوٸ نہیں ہار رہا تھا۔ ایک گھنٹے بعد وہ حمزہ کو نکالنے میں کامیاب ہوگٸے تھے۔ جو پانی کی تیز لہروں میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال چکا تھا۔ اپنے دوست کو بچانے کی خاطر۔
اسے باہر نکالتے ہی وہ واپس جانے کے لیے پلٹا۔
سر۔۔پلیز۔۔۔؟؟ مت کریں ایسا۔۔۔ غوطہ خور موجود ہیں۔ انہیں اپنا کام کرنے دیں۔ پلیز۔۔۔ میرے اندر اتنی ہمت نہیں۔۔ کہ آپ کے بنا چل سکوں۔۔۔۔! فہد نے چھوٹے بھاٸیوں کی طرح حمزہ کو دیکھتے کہا۔
جو تھے تو آپس میں کزن۔ لیکن جان ایک دوسرے میں بستی تھی۔
وہ جو پانی کی لہروں میں گم ہوگیا ہے ناں۔۔۔؟؟ میں اس کے بنا نہیں چل سکتا۔
کتنےکرب سے گزرتے حمزہ یہ بولا تھا۔ وہی جانتا تھا۔
لیکن فہد نےاسے نہ جانے دیا ۔ ابھی دشمن کا قلع قمع کرنا باقی تھا۔ اس کے لیے ان کا زندہ رہنا بہت ضروری تھا۔ جذبات کی رو میں بہہ کے ایسا کوٸ کام نہیں کر سکتے تھے۔ جو ان کے فرض کے آڑے آتا۔
وہ فوجی تھے۔ اور فوجی کی سب سے بڑی خواہش اسکا سب سے بڑا عشق۔۔ شہید ہونا ہی ہوتا ہے۔
اس وقت وہ وہاں بیٹھے دل ہی دل میں ابتسام کے لیے دعاٸیں کر رہے تھے۔ نہیں جانتے تھے۔ کہ دعا قبول ہوگی۔۔ یا رد۔۔۔ ؟؟
لیکن وہ مانگ رہے تھے دعاٶں میں۔۔
اس ملک کے رکھوالے کو۔۔۔
اس ملک کے بہادر فوجی کو۔۔۔۔
اس ملک کے بیٹے میجرابتسام علی کو۔
جو ایک بہادر نڈر اور اپنے وطن پے اپنی جان نثار کرنے والا فوجی تھا۔
جو دشمن کو ایک موقع دینے کے بعد دوسرا موقع نہیں دیتا تھا ۔ سر دھڑ سے الگ کر دیتاتھا۔
جان کی بازی لگا کے آگے بڑھنے والا کوٸ او نہیں میجر ابتسام علی تھا۔
اسپیشل پاک انٹیلیجنس کا نڈر اور بے باک فوجی۔
سر۔۔۔ روشنی ہونے سےپہلے ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔۔۔۔!
صبح کے چار سے اوپر کا وقت ہورہا تھا۔ حمزہ بالکل خاموش تھا۔ فہد اپنی ٹیم سے کنٹیکٹ میں تھا ۔
غوطہ خور ہر بار ناکام لوٹ رہے تھے۔ اور ساتھ میں انکی امیدوں کو بھی توڑ رہے تھے۔
لیکن حمزہ کا دل نہیں مان رہا تھا۔ اسکا دل کہہ رہا تھا۔ ابتسام زندہ ہے۔
سورج کی پھوٹتی پہلی کرن نے انکی امیدوں پے مزید اوس ڈال دی۔
سر۔۔۔۔۔ ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا اب۔۔۔! فہد نے یہ کس دل سے کہا تھا۔ یہ وہی جانتا تھا۔
حمزہ نے دانت پیستے اسے دیکھا۔
کیا مطلب اس بات کا۔۔؟ابتسام کو چھوڑ کے چلا جاٶں۔۔۔؟؟ اس نے دکھتے دل س کہا۔
کرنل کا فون ہے۔۔۔! فہد نے موباٸل آگے بڑھایا۔
فون کی دوسری جانب کرنل شیخ زمان نے انہیں فوراً واپس آنے کا کہا۔
ناچاہتے ہوۓ بھی مجبوراً حزہنکو انکی بات ماننا پڑی۔ کرنل شیخ زمان کو وہ انکار کرہی نہیں سکتا تھا۔
دونوں اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں سے نکلے۔ جبکہ ابتسام کی گاڑی کو وہاں سے غاٸب کرنا نہ بھولے تھے۔
وہپولیس کیس نہیس بنوانا چاہتے تھے ۔ اور کرنل سے رابطے کے بعد ہی وہ ابتسام کے گھر والوں کو بھی صیغہ راز میں رکھتے انفارم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ایک مغموم امید اب بھی باقی تھی۔ کہ ابتسام لوٹ آۓ۔۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
اس وقت سبھی ڈیرے پے موجود تھے۔
جنید خان تو بالکل ایک مورت کی طرح چپ ببیٹھے تھے۔ انکا جوان جہان پوتا بلال خان اس وقت ان کے سامنے مردہ حالت میں پڑاتھا۔
سبھی اشک بار تھے۔ لیکن کوٸ کچھ بول نہیں رہا تھا۔
دس لوگ اور بھی تھے۔ جن کی لاشیں وہاں موجود تھیں۔ وہ سب وہی تھے جو بلال خان کے ساتھ تھے۔ وہ زندہ ان تک پہنچ ہی نہ سکے تھے۔
کس نے مارا کیسے مارا۔ کوٸ نہیں جانتا تھا۔ ان کےپوتے کو موت کے گھاٹ کس نے اتارا۔ ایک راز ہی بن گیا تھا۔ ان کا پوتا ان سے ہر بات شیر کرتا تھا لیکن کوٸ اسکی جان کا دشمن بن گیا تھا۔ یہ بات نہ بتاٸ۔ وہ تڑپے تھے۔ بلک بلک کے روۓ تھے۔ سبھی نے آنسو بہا کے ان کے غم میں انکا ساتھ دیا تھا۔
پشاور کےایک علاقہ کے سردار ہونے کے ناطے جنید خان کی حکومت کا ڈنکا خوب بجتا تھا۔ تین سے چار گاٶں انکے انڈر مں آتے تھے۔ اور وہ سب کے ساٸیں تھے۔
جنید ساٸیں ۔ سبھی انکی دہشت سے ڈرتے تھے۔ ظلم تو ان پے آکے ختم ہوا تھا۔ لیکن آج ان کے خود کے اوپر ظلم ہوا۔ تو چینخ پڑے۔ کتنوں کو انہوں نے بلا وجہ موت کےگھاٹ اتارا۔ لیکن آج انکا اپنا پوتا مردہ لاش بنا آنکھوں کے سامنے تھا۔ انکا اکلوتا وارث انکی جاٸیداد کااکیلا وارث آج ہمیشہ کےلیے ابدی نیند سو گیا تھا۔ اور سب سے بڑے دکھ کی بات کوٸ نہیں جانتا تھا۔ کہ یہ سب کیا کس نے۔۔؟












ڈاکٹر آٸ سی ی سے باہر نکلے۔ ابرش جو درود شریف پڑھ رہی تھی۔ فوراً ان کی طرف لپکی۔
ڈاکٹر۔۔۔۔میرے بابا۔۔۔؟؟ دل ڈوب رہا تھا۔
دیکھیں ہم نے اپنی طرف سے پوی کوشش کی ہے۔۔۔ آنے والے چوبیس گھنٹے انکے لیے کریٹیکل ہیں آپ اللہ سے دعا کریں۔
ڈاکٹر رٶف ابرش کو تسلی دیتے جا چکے تھے۔ آنسو تھے کہایک بار پھر سے بہہ نکلے۔
موباٸل پے گھر سے کال آتی دیکھ وہ ساٸیڈ پے ہوٸ۔ ابی جان کو ساری صورت حال بتاٸ۔ وہ بھی پریشان ہوگٸیں۔
اچھا آپ ابتسام سےہماری بات کروایں۔
ابی جان کے کہنے پے ابرش تو جیسے واپس ہوش نیں آٸ۔
ابی جان۔۔۔ ابتسام۔۔۔ ابتسام تو یہاں نہیں ہیں۔۔۔
ہکلاے ہوۓ کہا۔
آپ کے ساتھ نہیں۔۔؟ تو پھر وہ کہاں ہیں۔۔؟؟
ابھی ابی جان کے منہ میں الفاظ تھے۔ کہ
ابیجان دو لوگ آپ سے ملنے آۓ ہیں۔ کہہ رہے ہیں بہت ضروری ملنا ہے۔
Missing scene
ابھی ابی جان کے منہ میں الفاظ تھے۔ کہ
ابیجان دو لوگ آپ سے ملنے آۓ ہیں۔ کہہ رہے ہیں بہت ضروری ملنا ہے۔
ملازمہ نے آکے کہا۔ تو ابی جان ابرش کو الله حافظ کہتی کال بند کر گٸیں۔
ابتسام۔۔۔؟؟ کہاں ہیں آپ۔۔۔؟؟ ابرش کا دل بری طرح دھڑکا۔ ایک نظر جا کے مشینوں میں جکڑے باپ کو دیکھا۔ جو بے ہوش تھے۔ حبیب صاحب بھی رات سے وہیں تھے۔ ابرش خاموشی سے وہاں سے گھر کی طرف اللہ کا نام لے رخ کیا۔جہاں ایک بہت بڑی خبر اسکی منتظر تھی۔













بلال خان کی نمازہ جنازہ ہوگٸ تھی ۔ باقی دس لوگوں کی بھی۔نمزہ جنازہ ساتھ ہی پڑھا دی گٸ تھی۔ سبھی جنید خان سے اظہار افسوس کر رہے تھے لیکن وہ پتھر دل بنے کسی سے کچھ نہ کہہ رہے تھے۔
اپنے پاس کھڑے اپنے بھروسے مند آدمی کو بلایا۔
پتہ لگاٶ۔۔۔ کس نے کیا یہ سب۔۔۔! مجھے دو دن کے نادر وہ شخص چاہیے ورنہ پورا علاقہ میرے جاہ و جلال کو دیکھے گا۔
انکا سخت اور کرخت الفاظ پے سامنے والا بھی ایک لمحے کو ڈرا تھا ۔ لیکن ہمت کرتااثبات میں سرہلاتا آگے بڑھا۔ کیونکہ انکار کی تو کوٸ گنجاٸش ہی نہیں تھی













یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟
أبی جان کے ساتھ وہں موجود ارتسام اور ارحام بھی بری طرح چونکے۔
ایسا ہی ہے۔۔۔ ابتسام۔۔ علی پیرزادہ۔۔۔ صرف آپ کے پوتے نہیں تھے۔ وہ ایک بہادر فوجی تھے۔ انٹیلیجینس کے بندے تھے۔۔ وہ۔۔۔!
فہد دل پے پتھر رکھے بولا۔
تھے مطلب۔۔۔؟ ارحام نے بیچ میں ٹوکا۔
کل ۔۔ کل رات۔۔۔ وہ ہم میں نہیں۔۔۔ رہے۔۔۔ وہ۔۔ شہید۔۔ ہوگۓ۔۔۔! کہتے فہد رو دیا۔
ابی جان کرسی پے ڈھے سی گٸیں۔ انہیں لگا انکی سانسیں چھین لی ہوں کسی نے۔۔۔ارحام اور ارتسام کی بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔
دروازے سے اندر آتی ابرش نے بھی آخری الفاظ سن لیے تھے۔
اور وہ وہیں چکرا کے گری تھی ۔
ارتسام نے فوراً دروازے کا رخ کیا اور ابرش کو اٹھاتے روم میں لے گیا ۔
ایس انہیں ہو سکتا۔۔۔ میرا ۔۔۔ بھاٸ۔۔۔ ایسے نہیں جا سکتا۔۔ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔ ارحام چلاتے ہوۓ بولا۔
کاش۔۔ یہ جھوٹ ہوتا۔۔۔ !! حمزہ کے لب وا ہوۓ۔
وہاں موجود سب نفوس ہی جیسے اپنی سانس روکے بیٹھے تھے۔
ابتسام اب سے نہیں وہ کافی عرصہ پہلے سے آرمی کے ساتھ جڑ چکا تھا۔ یہ پہلا انکشاف تھا جو ان پے ہوا۔
وہ بی اس کے جانے کے بعد۔
سبھی دم سادھے حمزہ کو سن رہے تھے۔
ہم نے مل کے بہت سے دشمنان وطن کو موت کے گھاٹ اتارا۔ لیکن۔۔ اس بار کا مشن… ہمارے ابتسام کی ۔۔جان۔۔۔۔؟؟
نہیں۔ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ بھاٸ کو کچھ نہیں ہو سکتا۔ ارتسام نے آتے ہی اونچی آواز میں پرے یقین سے کہا۔
وہ ابرش کو اس کے روم میں چھوڑتا عروش کو اس کے پاس رہنے کا کہہ کہ خود نیچے آیا۔
ایسانہیں ہو سکتا۔۔۔ میرا ۔۔۔ بھاٸ۔۔۔ ایسے نہیں جا سکتا۔۔ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔ ارحام چلاتے ہوۓ بولا۔
کاش۔۔ یہ جھوٹ ہوتا۔۔۔ !! حمزہ کے لب وا ہوۓ۔
وہاں موجود سب نفوس ہی جیسے اپنی سانس روکے بیٹھے تھے۔
ابتسام اب سے نہیں وہ کافی عرصہ پہلے سے آرمی کے ساتھ جڑ چکا تھا۔ یہ پہلا انکشاف تھا جو ان پے ہوا۔
وہ بی اس کے جانے کے بعد۔
سبھی دم سادھے حمزہ کو سن رہے تھے۔
ہم نے مل کے بہت سے دشمنان وطن کو موت کے گھاٹ اتارا۔ لیکن۔۔ اس بار کا مشن… ہمارے ابتسام کی ۔۔جان۔۔۔۔؟؟
نہیں۔ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ بھاٸ کو کچھ نہیں ہو سکتا۔ ارتسام نے آتے ہی اونچی آواز میں پرے یقین سے کہا۔
وہ ابرش کو اس کے روم میں چھوڑتا عروش کو اس کے پاس رہنے کا کہہ کہ خود نیچے آیاتھا۔
حمزہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
ہم دوبارہ آٸیں گے۔ ہمیں۔۔ جانا ہوگا ابھی۔
موباٸل پے کرنل کی کال آرہی تھی۔ ۔
یہاں آنے کا مقصد صرف اتنا تھا۔ کہ آپ کو انفارم کر سکیں۔ اور۔۔۔ آپ سب چوکنا رہ سکیں۔ آپ سب کی حفاظت کے لیے چوبیس گھنٹے یہاں سیکیورٹی گارڈز سادہ کپڑوں میں موجود رہیں گے۔ ہر طرح کی سیکیورٹی آپ کو فراہم کی جاۓ گی۔ اور۔۔
ہمیں آپ کی کسی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں۔ بہترہوگا آپ یہاں سے چلے جاٸیں۔
ابی جان کی گرجدار آواز سناٸ دی تو وہ چپ سے ہوگۓ۔
ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا۔ فہد نے چلنے کا اشارہ کیا۔ مزید ان کو کوٸ انفارمیشن دینے کی اجازت نہ تھی کہ انہوں نے اوپسی کے لیے جانے کے لیے قدم بڑھاۓ۔
اورا یک بات سنتے جاٸیں۔
میرا ابتسام شیر ہے شیر۔۔۔ اور شیرکومارنے کے لیے ہزاروں گیدڑ بی پیدا ہوجاٸیں توشیر کبھی نہیں مرتا۔ شیر شیر ہی رہتا ہے۔ وہ آۓ گا۔۔۔ضرور آۓ گا۔۔۔ اور شیر کی طرح دھاڑے گا۔۔۔ اور کوٸ گیدڑ اس شیر سے بچ نہیں پاۓ گا۔
ابی جان کی للکار بھی کسی شیرنی سے کم نہ تھی۔
ایک لمحے کو سبھی کو ان کی للکار بہت کچھ باور کرا گٸ تھی۔ جیسے وہ پہلے سے ہی جانتی تھیں۔ کہ ابتسام آرمی سے ہے۔
ارتسام وہیں سر پکڑ کے بیٹھ گیا
نجانے اورکتنےراز کھلنا باقی تھے۔ لیکن سب یہ جانتے تھے۔ کہ ابتسام انہیں چھوڑ کے نہیں جا سکتا ۔ وہ جہاں بھی ہوگا۔ لوٹ کر آۓ گا۔













ابرش کو ہوش نہ آیا تھا۔ ایک طرف حبییب صاحب بے ہوش تھے تو دوسری طرف ابرش۔
اور اگر ان سب سے ہٹ کے اس جھونپڑی میں آٸیں تو یہاں بھی زخموں سے چور وہ نڈھال وجود کے ساتھ بے ہوش پڑا تھا۔
اللہ نے ان کے لیے بہت بڑی آزماٸش کھڑی کر دی تھی۔
ارحام بہت رو رہا تھا۔ اسے رہ رہ کے ابتسام یاد آرہا تھا۔ دل اسکا بھی نہیں مان رہا تھا۔ لیکن نجانے وہ کتنی تکلیف میں ہوگا۔۔۔کس حال میں ہوگا۔۔۔؟ کوٸ نہیں جانتا تھا۔
سبھی اس وقت بے بس تھے۔ اور اللہ سے دعا گو تھے۔















سر۔۔۔ اسے ہوش آگیا۔۔۔۔!
بالآخر آج اتنے دنوں بعد آخرکار شاہان کو ہوش آہی گیا تھا۔
لیکن وہ ایک ٹک چھت کو دیکھتا رہا۔
ہیلو۔۔۔۔ کیا تم۔مجھے سن سکتےہو۔۔۔؟؟
ڈکٹر نے اسکی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا۔ تو وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
آپ دیکھ رہے ہیں۔۔۔؟؟ آپ کو یاد ہے۔۔ آپ کون ہیں۔۔؟؟
شاہان سے کٸ ان گنت سوال کر ڈالے لیکن شاہان نے ایک چپ رکھی۔
ڈاکٹر سر پے ہاتھ مارتا وہاں سے باہر نکل گیا۔
جبکہ شاہان کے لبوں پے طنزیا مسکراہٹ ابھری۔














فاریہ دوست کے گھر تین دن سے رہ رہی تھی اسکا کوٸ پرسان حال نہ تھا ۔ الٹیاں کر کر کے اسکا برا حال تھا۔
ڈکٹر کو چیک اپ کروالو۔۔۔ دوست نے مشورہ دیا ۔
ہاں۔۔ ہاں۔۔ جاٶں گی جب ابتسام خود لے کے جاۓ گا۔۔ اور اس بچے کو اپنا نام دے گا۔۔۔
منہ صاف کرتی وہ باتھ روم سے باہر نکلی۔
ایک بات بتاٶ۔ جب یہ بچہ ابتسام کا ہے ہی نہیں۔۔ تو وہکیوں اسے نام دینے لگا۔۔۔؟؟ اور مجھے تم صاف صاف بتاٶ۔ یہ بچہ ہے کس کا۔۔۔؟؟ کس کے ساتھ نجاٸز تعلاقات بناۓ تم نے۔
اس نے پکڑ کے زور سے اپنی طرف کھینچا تو فاریہ کا ایک لمحے کے لیے دل بہت سخت دھڑکا۔













مجیب صاحب کو ہوش آگیاتھا۔ حبٕیب صاحب ان کے پاس تھے لیکن انکی حالت بہت خراب تھی۔ وہ بات نہیں کر پارہے تھے۔ ڈاکٹرز انکا چیک اپ کر رہے تھے۔کہ۔۔۔۔؟
