Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 06)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

چٹاخ۔۔۔!

اتنے زور کا تھپڑ اسے پڑا تھا۔ کہ وہ لڑکھڑا کے دور جا گری۔ حیرت کی مورت بنے وہ کبھی ماں اور کبھی سوتیلے باپ کو دیکھتی۔

خبردار۔۔۔! جو ہمارے فیصلے کے خلاف جانے کی کوشش بھی کی تو۔۔۔ جان سے مارڈالوں گا۔

جاوید چوہدری بے انتہا غصے سے عروش سے مخاطب ہوا۔

دو دن سے اس نے کھانا پینا چھوڑا تھا۔ آج انہوں نے عروش سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اسکا انکار اور بدتمیزی پے وہ سیخ پا ہوگٸے ۔

تو پھر آپ مجھے جان سے مار ہی ڈالیں۔ کیونکہ۔۔ میں نکاح کے وقت انکار۔۔۔۔!

گال پے ہاتھ رکھے وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی بولی کہ جاوید چوہدری نے بات مکمل ہونے سے پہلے اسے بالوں سے پکڑکے جکڑا۔ وہ تڑپ کے رہ گٸ۔

تجھے نہیں۔۔ تیری ماں کو۔۔۔! جس نے تجھ جیسی نافرمان اولاد پیدا کی۔ دونوں کو ہی زندہ گاڑ دوں گا زمین میں۔

کہتے ساتھ ہی زمین پے دھکا دیا۔ ہاتھ میں پہنی چوڑیاں ٹوٹی تھیں اور کتنی ہی اسکی کلاٸ میں چبھی تھیں۔

لیکن دل کے درد کی شدت بے انتہا تھی۔

وار ہی ایسی جگہ پے ہوا تھا کہ وہ سن ہی ہوگٸ تھی۔

اپنی جان کی قربانی تو دے ہی سکتی تھی۔ لیکن ماں۔۔۔ ؟

عروش نے بے اختیار ماں کو دیکھا۔ وہ روتی ہوٸیں اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔

اگر عروش دو دن سے بھوکی تھی تو انہوں نے بھی کچھ نہ کھایا تھا۔ انکی حالت بھی بہت خراب تھی۔

میڈیسن لیے بنا انکی طبعیت بھی خراب ہوجاتی تھی۔ عروش اس بات کی بھی پرواہ نہ کر رہی تھی۔

جاوید چوہدری کے جانے کے بعد زلیخا نے آگے بڑھ کے اسکے نڈھال وجود کو اٹھایا۔

بیٹا۔۔۔ ! مجھے معاف کردو۔۔ میں۔۔۔ کچھ نہیں کر پارہی۔۔۔ تمہارے لیے۔۔ آج تمہاری ماں کتنی بے بس ہے۔۔۔ وہ منہ پے دوپٹہ رکھے رو دیں۔

امی۔۔۔۔! میں نکاح کے لیے تیار ہوں۔۔۔! سپاٹ لہجے میں کہتی وہ بنا ماں کو دیکھے بستر پے جا بیٹھی۔

وہ ہار گٸ تھی۔ اور بہت بری طرح ہاری تھی۔

اسکا دل ڈوب سا رہا تھا۔ اور اسے اس حال میں دیکھ زلیخا بھی ہزار۔موت مر رہی تھیں۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

بھاٸ۔۔۔ اسطرح اچانک ایکسیڈینٹ۔۔۔؟؟

ناشتے سے فارغ ہوتے ہی ارتسام نے ابتسام سے پوچھنا ضروری سمجھا۔ رات کو بھی ابتسام نے ٹال دیا تھا۔ لیکن وہ جاننا چاہتا تھا۔

بس یار۔۔۔! وہ لڑکی سامنے آگٸ تو۔۔۔؟؟ ابتسام نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ اسکی آنکھوں میں پھر سے ابرش کا چہرہ آن ٹھہرا۔۔ اور دل نے عجیب سی کیفیت محسوس کی۔

کونسی لڑکی۔۔۔؟ ارتسام کے کان کھڑے ہوٸے۔

پتہ نہیں تھی کوٸ۔۔ خیر جانے دو۔۔۔ تم۔۔ بتاٶ کیسی چل رہی ہے۔۔ پریکٹس؟ ابتسام نے بات پلٹی۔

الحَمْدُ ِلله بہت اچھی۔۔۔! آپ بھی آٸیے گا ناں۔۔ کبھی آپ کو ملواٶں گا سب سے۔۔

ارتسام نے خوش ہوتے کہا۔

ضرور۔۔۔! دونوں باہر اپنی اپنی گاڑی کی جانب بڑھے۔ اتنے میں ارحامبھی پیچھے ہی آیا۔

میرے شیر اور دلیر آج ایک ساتھ؟

ارحام نے دونوں کے بیچ آتے دونوں کے کاندھے پےداٸیں باٸیں ہاتھ رکھا۔

جی۔۔! بس آپ ہی کی کمی تھی۔ ارتسام نے مسکراتے کہا

جب آپ دونوں ایک ساتھ ہوں۔۔ اور بیچ میں میں نہ ہوں۔ ؟ ایسا کوٸ دن آہی نہیں سکتا۔

بہت مان اور دعوے سے کہتا وہ دونوں بھاٸیوں کے چہرے پے مسکراہٹ بکھیر گیا۔

آپ کا بھی لاسٹ اٸیر ہے۔۔ سٹیڈیز کمپلیٹ کرنے کے بعد آگے کے کیا پلان ہیں۔۔؟؟

ابتسام نے لگے ہاتھ اس سے بھی پوچھا۔

پہلے پیپرز تو دے لینے دیں۔ باقی سوچ بہت پہنچی ہوٸ ہے۔۔۔ اپنے دماغ پے انگلی رکھتے وہ مسکراتا بولا۔

چلو۔۔۔ صحیح مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔ چلتا ہوں۔۔

ابتسام نے گاڑی میں بیٹھتے کہا۔ تو دونوں بھاٸیوں نے ہمیشہ کی طرح ہاتھ تھام لیا۔

ابتسام مسکراتا پلٹا۔

ہم۔۔ ہمیشہ ایک ساتھ رہیں گے۔۔ ابتسام نے کہا۔

کبھی ایک دوجے کا ہاتھ نہ چھوڑیں گے۔

ارتسام نے بھی مسکراتے اپنا فقرہ ادا کیا۔

چاہے کیسے بھی ہوں حالات۔۔

کریں گے ہر مشکل کا سامنا۔

ایک جان ہو کے۔۔۔! ارحا م نے فقرہ مکمل کیا۔ اور تینوں ایک دوسرے کے گلے لگ گٸے۔

دور اوپر ونڈو میں کھڑی ابی جان ان کے پیار پے صدقے واری ہو رہی تھیں۔ اور نظر ہی نظر میں نظر اتار رہی تھیں ۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

آپ بس سٹریس تھوڑا کم لیا کریں۔ بی پی ہاٸ تھا آپ کا۔

ارتسام نے سامنے بیٹھے ادھیڑ عمر شخص کا بی پی چیک کرتے مسکرا کے کہا.

ارے ڈاکٹر بھا کو کوٸ اچھی سی دواٸ لکھ دو۔ بھا کی شادی ہے۔۔ کچھ دنوں میں۔۔

پاس کھڑے گہرے سیاہ رنگ کے آدمی نے مونچھوں کو تاٶ دیتے کہا۔

ارتسام۔نے حیرت سے دیکھا۔

اف۔۔ ایک تو اس موۓ کے پیٹ میں کوٸ گل نہیں ٹکتی۔ اس بوڑھے شخص کو شدید غصہ آیا۔

یہ ایسے لگا ہے ڈاکٹر۔! ۔۔۔ بس۔۔۔ وہ اولاد نہیں ناں۔۔ تو اسلیے۔۔۔! سر کھجاتے شرما کے بولا۔

ارتسام نے بھنوٸیں اچکاٸیں۔ جیسے آپ کی لاٸف آپکی مرضی۔

ایکسکیوزمی۔۔۔۔! موباٸل پے کال آتی دیکھ وہ باہر نکلا۔

کیا جرورت تھی تجھے بولنے کی۔۔۔؟ تیرے منہ کو لگام نہیں؟ اس بڑی عمر کے شخص نے اسے کالے کولتاڑا۔

یہ۔۔۔ میرے کو لگتا ہے بھا،،،! آپ بے ایمانی کرو گے۔۔۔ آپ جانتے ہو ناں۔۔ وہ میری پسند ہے۔ میرا رشتہ لے کے گٸے وہاں اور اپنا پکا کر آۓ۔۔۔۔؟؟ بت زیادتی کی۔۔۔وہ بھی منہ پھلا کے بولا۔

ارے۔۔۔ بولا تو ہے۔۔۔ جتنی وہ میری اتنی ہی تیری۔۔۔! شادی مجھ سے کرے گی۔ لیکن بیوی وہ تیری بھی ہوگی۔

اس شخص نے محبت سے اپنے چھوٹے بھاٸی کوکہا۔

اے دیکھ بھا۔۔! مکر نہ جانا۔۔۔۔! ورنہ میں نے جان دے دینی ہے۔ لاڈ سے کہتا وہ اس شخص کو مسکرانے پے مجبور کر گیا۔

جبکہ باہر سے اندر آتا ارتسام تو زلزلے کی زدمیں آگیا تھا۔

اس نے انکی باتیں سن لیں تھیں۔ اور جو انکی پلاننگ تھی۔ اس نے تو ارتسام کی ٹانگوں کے نیچے سے زمین نکال کھینچ لی تھی۔

چہرہ غصے سے لال ہوگیا ۔ باوجود ضبط کے وہ پلٹ نہ سکا۔ ایسے لوگوں کو تو جینے کا حق بھی نہیں دہنا چاہیے جو عورت کوکھلونا سمجھتے ہیں۔

یہی سوچتے وہ جارحانہ انداز میں اندر کی جانب بڑھنے لگا۔ کہ

سر۔۔۔! پلیز جلدی چلیں ایمرجنسی کیس آیا ہے۔۔۔ اسی اثنا میں نرس بھاگتی ہوٸ آٸ تو ارتسام کے قدم تھم سے گۓ۔ فیصلہ مشکل ہو گیا کہ اندر جاۓ کہ ؟ پھر خود پے ضبط کرتا وہ نرس کے ساتھ چلا گیا۔ جبکہ وہ اندر دونوں بھاٸ آنے والے وقت کی پلاننگ کرتے گھر کی راہ لی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

بابا ! آپ آج بھی آفس۔۔۔؟ طبعیت ٹھیک نہ ہونے اور بخار کی وجہ سے ابرش کی آنکھ لیٹ کھلی۔ اور مجیب صاحب کو آفس کے لیے تیار کھڑا دیکھ وہ نارض ہوٸ۔

بیٹا جی۔۔۔! جلدی آجاٶں گا۔۔۔ اور کل کے لیے چھٹی بھی لے آٶں گا۔ میری بیٹی کی رخصتی ہے۔۔۔ اللہ کے فضل و کرم سے۔۔۔۔! مسکراتے ہوۓ سر پے ہاتھ پھیرتے کہا۔

بابا۔۔۔ ! ابرش کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔ اور ان کے گلے سے لگی۔

میرا دل نہیں چاہ رہا آپ کو چھوڑ کے جانے کا۔۔۔۔! چہرہ اٹھا کے بولتی وہ مجیب صاحب کو چھوٹی سی بچی ہی لگی۔

بیٹا۔۔۔ ! جانا کہاں۔۔؟؟ آپ تو اپنے گھر کی ہورہی ہیں۔

ماشاءاللہ سے شان بیٹا بھی بہت اچھا اور سلجھا ہوا ہے۔ بہت ایماندار ہے۔ آپ کو ان شاء اللہ خوش رکھے گاا انکا لہجہ بھی نم ہو گیا۔

چلو۔۔! آج اپنے لیے کچھ بھی لینا ہو تو۔۔ اپنی دوست کے ساتھ چلی جانا یا خالہ سفیہ کے ساتھ چلی جانا ۔۔۔

اچھی خاصی رقم انہوں نے ابرش کو تھامٸ جبکہ ضرورت کی ہر چیز وہ لے چکے تھے۔ اور دلہے کے گھر بھجوا چکے تھے۔

اب صرف گاڑی رہتی تھی۔ جس کا انہوں نے بندوبست کر نا تھا آج۔ اور اس کے لیے انہوں نے گھر کے پیپرز گروی رکھنے تھے آج۔ بنا ابرش کو بتاٸے۔ وہ یہ سب کر رہے تھے۔

بابا۔۔۔! مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔ صرف آپ کی دعاٸیں چاہیں۔۔۔ ! ابرش نے نم لہجے میں کہا۔

بیٹا وہ تو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گیں۔ ایک۔۔کام کرو۔۔۔ یہ موباٸل رکھو۔۔۔! اس پے آپ سے بات ہوجاۓ گی۔

بابا۔۔۔! آپ رکھیں۔۔ میں کرلوں گی کچھ نہ کچھ۔۔! ابرش نے واپس دینا چاہا۔

جب آپ کا آجاٸے تو پھر واپس کر دینا۔۔۔ ابھی رکھو میرا بیٹا۔ اور اپنا خیال رکھنا میں جلدی گھر واپس آٶں گا۔ ماتھے پے بھوسہ دیتے ہوٸے انہوں نے باہر کی راہ لی۔

ابرش کی نظر موباٸل پے پڑی تو کل کا واقعہ یاد آگیا۔

واقعہ سے وہ شخص یاد آگیا۔ آنھیں موندےان لمحوں کویاد کرتی وہ مسکرا دی۔

کھڑوس کہیں کا۔۔۔ مسکراتے موباٸل اٹھاتی وہ کچن کی جانب ٰبڑھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

دو دن سے لمظ یونی نہیں آرہی تھی۔ اس دن کے واقعے کے بعد سے وہ ارحام کو نظر بھی نہیں آٸ تھی۔

لیکن وہ یونی ہی نہیں آٸ تھی۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا۔

لیکن اسکی کمی کو وہ محسوس کر رہا تھا۔

بلال ابھی اسکے پاس آیا۔ اسکا منہ تھوڑا سوجھا ہوا تھا۔

کیا ہوا۔۔؟ بارہ کیوں بجے ہیں؟

وہ ناں۔۔۔۔۔ چشمہ درست کیا۔ کنول نے یہ نوٹس دٸے ہیں۔ کہ ۔۔ لمظ کے گھر دے آٶ۔۔۔ وہ بیمار ہے اور یونی نہیں آسکی تو۔۔۔۔!!

تو کیا۔۔؟؟ خود چلی جاۓ ناں۔۔؟؟ تمہیں کیوں دیے۔۔؟؟

نجانے کیوں ارحام کو بلال کی بات اچھی نہ لگی۔

وہ جاتی۔۔ لیکن آج۔۔ اسے مما کے ساتھ کہیں جانا ہے۔

تو۔۔ وہ مجھے بول گٸ ہے۔۔۔! بلال نے صفاٸ دی۔

ہممممم۔۔۔ تو جاٶ۔۔۔ مجھے کیوں بتا رہے ہو۔۔؟؟ ارحام نے منہ بناتے کہا۔

وہ۔۔۔ ناں۔۔ تم۔بھی چلو ناں۔۔ میرے ساتھ۔مجھے اکیلے جانا اچھا نہیں لگ رہا۔

بلال نے اصل مدعا بیان کیا۔

تو یہ بول ناں۔۔ ! لیکن میں کیوں جاٶں اس جیری کے گھر۔۔؟ اس چڑیل کا پتہ ہے ناں۔۔ گھر جاتے ہی دھاوا بول دیا تو۔۔؟ ارحام نے منہ بنایا اور انکار کر دیا۔

مطلب۔۔۔۔؟ تم۔۔ ڈر گٸے۔۔۔؟؟؟ بلال نے تیر پھینکا جو نشانے پے لگا۔

اوہ ہیلو۔۔۔۔! ارحام علی پیرزاہ کسی سے نہیں ڈرتا سمجھے۔۔۔! چلو۔۔۔ آٶ۔۔۔ کیا یاد کرو گے۔۔ کس سخی سے پالا پڑا ہے۔۔

ارحام۔نے شاہانہ انداز میں کہا ۔ اور بلال کے ہاتھ سے نوٹس لیتا آگے بڑھا۔ بلال بھی چشمہ درست کرتا پیچھے لپکا۔ یہی تو وہ چاہتا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

وہ فاٸل نہیں مل رہی ۔۔۔؟؟ اب کیا کریں۔۔؟؟

کبیر گھبرایا ہوا بولا۔

ٹھیک سے چیک کرو۔ مجیب صاحب یہی بول کے گٸے تھے۔ کہ یہاں رکھی ہے۔۔

سفیان صاحب نے بھی گھبراۓ کہا۔

ایک کام کرتا ہوں۔ مجیب صاحب کو فون کرتا ہوں۔ اور پوچھتا ہوں۔۔ کبیر نے حل تلاشا۔

لیکن یار وہ چھٹی پے ہیں۔ زندگی میں پہلی بار انہوں نے چھٹی لی۔ انکی بیٹی کی شادی ہے۔ اور اب آج ہی انہیں تنگ کریں۔ اچھا نہیں لگتا۔ ہمدردی بھرے لہجے میں کہا۔

سر۔۔۔ ! آپ کو ابتسام سر اندر بلا رہے ہیں۔

پیون نے آکے انکے مزید پسینے چھڑا دیے۔

اب بتاٸیں کیا کروں۔۔؟؟ مزید فاٸل کو ڈھونڈنے کے باوجود فاٸل۔نہ ملی۔ تو کبیرنے مجبوراً مجیب صاحب کو کال ملاٸ۔

کال جا رہی تھی۔ لیکن کوٸ اٹھا نہیں رہا تھا۔۔

وہ جو مزے سے بیٹھی پڑوسن اور سہیلی ماریہ سے مہندی لگوا رہی تھی۔ موباٸل پے آتی کال دیکھ منہ بناتی ایک ہاتھ سے موباٸل کان کو لگاۓ وہ دوسرے ہاتھ پے مہندی لگواتی رہی۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

لڑکی کی آواز سن کے کبیر چونکا۔ اور دوبارہ سے نمبر دیکھا کہ غلط نمبر پے تو کال نہیں چلی گٸ۔۔۔۔؟

وَعَلَيْكُم السَّلَام

میم۔۔۔ یہ۔۔ مجیب صاحب کا نمبر ہے ناں۔۔؟؟ تصدیق کی۔

جی جی۔۔ بابا کا نمبر ہے۔۔ آپ کون۔۔۔؟؟ بہت تہذیب سے پوچھا۔

جی ۔۔ میں کبیر بات کر رہا ہوں آفس سے۔ آپ پلیز جلدی سے مجیب صاحب سے بات کروا دیں۔۔

ایمرجینسی ہے۔ جھٹ سے مدعے پے آیا۔

لیکن۔۔۔ بابا تو گھر نہیں۔۔۔؟؟؟ ابرش کا دل دھڑکا۔ کیونکہ مجیب صاحب تو گھر سے آفس کا بول کے نکلے تھے۔

Whats your problem…?Mr kabeer

کتنی دیر سے آپ کو آفس میں بلایا ہے فاٸل کے ساتھ ؟ اور آپ ۔۔۔ یہاں مزے سے فون پے باتیں کررہے ہیں؟

ابتسام نے غصے سے کیبن کا درواازہ کھول کے اندر آتے کہا۔ تو کبیر کے ساتھ ساتھ سفیان صاحب بھی بری طرح گڑبڑا گٸے۔

جججججییی۔۔! سر۔۔ بس ۔۔ آرہا تھا۔۔ وہ فاٸل۔۔۔ مجیب صاحب نے رکھی ہے۔۔۔اور وہ۔۔ مل نہیں رہی۔۔۔ تو۔۔۔؟؟ گڑبڑاتے ہوۓ صفاٸ دی۔

جبکہ دوسری طرف کال پے ابرش ساری باتیں سن رہی تھی۔ ابتسام کی آواز پے وہ چونکی ضرور ۔۔لیکن پہچان نہ پاٸ۔

سو واٹ۔۔۔؟پو چھیں ان سے اور کیبن میں پہنچیں لے کے فوراً۔ ابتسام آج بخشنے کے موڈ میں نہ تھا۔

سر۔۔۔! وہ آج چھٹی پے ہیں۔۔۔ سفیان نے ابتسام کے جاتے قدموں کو روک دیا وہیں دوسری طرف ابرش بھی حیرت زدہ رہ گٸ۔

کس سے پوچھ کے چھٹی کی ہے انہوں نے۔۔۔؟؟ ابتسام نے غصے سے لب بھینچتے کہا۔ اسکا انداز ابرش کو بہت برا لگا۔

سر۔۔! انکی بیٹی کی شادی ہے۔۔ اس لیے۔۔۔۔؟

اپنا وکالت نامہ بند کرو۔۔۔کام کرنا نہیں کوٸ اور بس چھٹیاں۔۔۔!! اکال کرو انہیں کہ آفس پہنچیں۔ مجھے وہ فاٸل ابھی چاہیے اسی وقت۔ سمجھے۔

کبیر کے بتانے پے ابتسام نے اسکی بات کاٹتے قدرے اونچی آواز میں کہا۔ کہ دوسری طرف ابرش نے باآسانی سن لیا۔

جی۔۔۔سر۔۔۔! کہتے دوبارہ ابرش سے فون کی طرف متوجہ ہوا۔

میم۔۔! سر مجیب جیسے ہی آٸیں انہیں آفس بھیج دیں۔ پلیز۔۔ کبیر نے منمناتے کہا۔

سن لیا ہے۔ اب آپ ایک کام کریں ۔ کال اسپیکر پے ڈالیں۔ بہت پرسکون ہو کے کہتی وہ کبیر کو چونکا گٸ۔ کبیر نے سوچتے ہوۓ کال اسپیکر پے ڈالی۔

جی۔۔۔ میم۔۔۔؟؟ ساتھ ہی وہ گھبراتے بولا۔

میرے بابا نے آج تک کبھی آفس سے چھٹی نہیں کی۔ آندھی آۓ یا طوفان۔۔۔ انہوں نے ہمیشہ کام کو فوقیت دی ہے۔ اور آج ان کے ایک دن آفس نہ آنے پے آپ کے آفس کاکام رک جاۓ گا۔۔۔ ویری سیڈ۔۔ بہت افسوس ہوا۔۔۔

مجھے نہیں تھا پتہ۔۔میرے بابا کے بنا آپ کا آفس چل ہی نہیں سکتا۔۔۔ طنز سے بھرے تیر چلا کے وہ ابتسام کو سکتےمیں ڈال گٸ۔

آپ کے بوس۔۔۔ جو بھی ہیں۔۔ ان سے کہہ دیں۔ کہ میرے بابا ان کے ہاں ملازمت کرتے ہیں۔ خریدا نہیں ہے انہیں آپ نے۔۔ جو یوں حکم بازیاں چلا رہے ہیں۔

کچھ توقف کے بعد وہ دوبارہ سے مخاطب ہوٸ کبیر نے تو سانس روک ہوا تھا۔

اور ہاں ایک آخری بات۔۔ اپنے بوس سے یہ ضرور کہیے گا۔۔ کہ میرے بابا کے بار ے میں جب بھی بات کریں احترام سے کریں۔ کیونکہ ہمارا لب و لہجہ ہمارے خاندان کا پتہ دیتا ہے۔ اور میرے بابا آپ سب کی بہت عزت کرتے ہیں۔ بدلے میں آپ بھی انکو عزت نہ دیں لیکن بے عزت مت کریں ۔

ضبط کے باوجود بولتے ہوۓ ابرش کی آواز میں لرذہ محسوس ہوا۔ آنکھیں اسکی نم تھیں۔

کال بند ہو چکی تھی۔ کبیر نے ڈرتے ڈرتے ابتسام کی طرف دیکھا۔ جس کا سپاٹ چہرہ اسے اچھا خاصا ڈرا چک تھا۔

فاٸل اگر پندرہ منٹ میں میرے ٹیبل پے نہ پہنچی۔ تو آپ تینوں کو کل سے آفس آنے کی ضرورت نہیں۔

بے تاثر لیکن سرد لہجے میں کہتا وہ ان پے صور ہی پھونک گیا۔

اب کیا ہوگا۔۔؟؟ کبیر سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔

سفیان صاحب کا بھی یہی حال تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

آپ کے بوس۔۔۔ جو بھی ہیں۔۔ ان سے کہہ دیں۔ کہ میرے بابا ان کے ہاں ملازمت کرتے ہیں۔ خریدا نہیں ہے انہیں آپ نے۔۔ جو یوں حکم بازیاں چلا رہے ہیں۔

لفظوں کی بازگشت نے ابتسام کی سبز آنکھوں کو لال کر دیا تھا۔ چہرہ پے بلا کی سختی تھی۔

پیپر ویٹ گھوماتا وہ بس وہی الفاظ سوچے جا رہا تھا۔

اور ہاں ایک آخری بات۔۔ اپنے بوس سے یہ ضرور کہیے گا۔۔ کہ میرے بابا کے بار ے میں جب بھی بات کریں احترام سے کریں۔ کیونکہ ہمارا لب و لہجہ ہمارے خاندان کا پتہ دیتا ہے۔ اور میرے بابا آپ سب کی بہت عزت کرتے ہیں۔ بدلے میں آپ بھی انکو عزت نہ دیں لیکن بے عزت مت کریں ۔

گھوما کے پیپر ویٹ سانے دیوا پے مارا۔ اور اٹھتا ہوا گلاس ونڈو کے پاس آیا ۔

لب و لہجہ۔۔ ؟؟ خاندان۔۔۔۔؟؟ ٹاٸ کی ناٹ ڈھیلی کی۔

ابتسام علی پیرزادہ کے اندر سوۓ شیر کو جگایا ہے تم۔۔۔نے حساب تو دینا پڑے گا۔۔۔

who ever you aree

دانت پیستا وہ ونڈو سے باہر دیکھتا دماغ کو پرسکون کرنے لگا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

جی صاحب آپ بیٹھیں میں ابھی بلاکے لاتا ہوں۔

سرونٹ نے بلال اور ارتسام کی بات سنتے اہیں ڈراٸینگ روم میں بٹھایا۔

ارتسام بالوں میں ہاتھ پھیرتا ڈراٸینگ روم کا جاٸزہ لینے لگا۔ جبکہ بلال کو کسی کی کال آٸ اور وہ ارتسام۔کو وہیں چھوڑے باہر نکلتا کال اٹینڈ کرتا خاموشی سے گھر سے ہی نکل گیا۔

اسے ویسے بھی لمظ سے بات کرنے میں جھجک ہوتی تھی اور اسے بھی کہیں جانا تھا۔ موقع غنیمت جانے وہ نکل گیا ۔ جبکہ یہ جانتا تھا کہ ارتسام سنبھال لے گا۔

جبکہ سامنے دیوار پے لگی ایک پینٹگ کو دیکھتا وہ اردگرد سے بیگانہ ہوا۔

میم۔۔۔! آپ کی یونی سے کوٸ۔۔۔۔۔؟؟

نوٹس آگۓ۔۔۔؟؟ رحمان بابا۔۔ ! آپ انہیں بٹھاٸیں میں ابھی آتی ہوں۔

بنا انکی پوری بات سنے لمظ نے فوراً سے کہا۔ تو وہ اثبات میں سر ہلاتے باہر نکلے۔

یقیناً بلال ہوگا۔ چلو۔۔۔ خود نہ آٸ کنول ۔۔لیکن نوٹس آگٸے۔۔ تھینکس گاڈ۔۔۔۔۔!

وہ شکرادا کرتی دوپٹہ لیتے کھلے گیلے بالوں کو دوپٹے سے ڈھانپتی چشمہ پہنے نکھری نکھری سی ڈراٸینگ روم کی جأنب بڑھی۔ سامنے پیٹھ موڑے کھڑے ارحام کو دیکھ وہ شش و پنج میں پڑگٸ۔ یہ۔۔۔ بلال نہیں۔۔۔! اسکے ماتھے پے بل پڑے۔

خاموش قدم اٹھاتی وہ ارحام کے قریب پہنچی۔۔ اسی اثنا میں ارحام پیچھے مڑا۔

اور دونوں کی ہی بے اختیار ٹکر ہوٸ۔ لمظ کو گرنے سے پہلے ہی ارحام نے اپنی بانہوں میں تھام لیا۔

دوپٹہ سر سے سرکا۔کھلے بالوں کی آبشار ارحام کو میمراٸز کر گٸ۔

اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے وہ اسے گرنے سے تو بچا چکا تھا لیکن اپنا دل ہار گیا تھا۔

ایک لمحے کو وقت ہی جیسے تھم گیا ۔

دونوں کے دل کی دھڑکن بھی ایک ہی لے پے دھڑکنے لگی۔ لمظ نے اپنی ایک ہارٹ بیٹ مس کی۔

ارحام اسے آج پہلی بار اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا۔

اس کے چہرے کا گلابی پن۔۔ اور سرخ وسپید گال اسے اٹریکٹ کر رہے تھے۔ اس پے اسکے پنک لب۔۔۔ جہنیں دیکھتا وہ اردگرد سے ہوش کھو بیٹھا۔

لمظ نے اس سے الگ ہونا چاہا لیکن ارحام سکتے میں ہی اسے تھامے ہوۓ تھا۔

ارحام کا دل چاہا اسکی بھوری آنکھوں میں اپنا عکس دیکھنے کا۔ لیکن اسکا چشمہ راہ میں رکاوٹ بن رہا تھا۔

دھیرے سے ایک ہاتھ سے اسے تھامے دوسرے ہاتھ سے اسکا چشمہ اتارا۔ لمظ اسکی حرکت پے دنگ رہ گٸ۔

چشمہ اتارتے ہی اسکی بھوری آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتا وہ مسکرایا۔

یہیں لمظ کی بس ہوٸ اور اس نے ارحام کو پوری قوت سے پیچھے کی طرف دھکا دیا اور وہ ایک دم لڑکھڑاتا ہوش میں آیا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *