Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 11)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 11)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
ابرش نے اللہ کا نام۔لے کے دھیرے سے دروازہ کھولا۔ اسی لمحے اسکی نظر بارش میں مکمل طور پے بھیگے ابتسام پے جا ٹہری۔ جسکی آنکھیں بند تھیں۔ اور وہ دیوار کے سہارے بہت مشکل سے خود کو سنھبالے کھڑا تھا۔
دروازہ کھلا۔ اسے پتہ نہ چل سکا۔ بے اختیار آگے ہوتا وہ بیل۔بجانے لگا کہ۔۔ ابرش کے ساتھ جا لگا۔ ۔
ابرش نے بمشکل خود کو گرنے سے بچایا۔
وہ جو اسے اس وقت دوازے پے دیکھ سکتے میں آگٸ تھی۔ اس کے اپنے اوپر گرنے سے ہوش میں واپس آٸ۔
اوہ۔۔۔ ہیلو۔۔۔ پیچھے۔۔ ہٹو۔۔
وہ اس دراز قد و قامت کے انسان کو اپنی جگہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹا سکی۔
جبکہ وہ اپنے ہوش و حواس کھو رہا تھا۔ چاہ کے بھی آنکھیں نہیں کھول پا رہا تھا۔
اس کا دماغ اب سن پڑنے لگا تھا۔
جسم بھی اس نے ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔
ابرش کو اسکی حالت سمجھ نہیں آرہی تھی۔
اسکا جی چاہا کہ اسے باہر کی طرف دھکا دے کے دروازہ بند کر لے۔ لیکن۔۔ پھر انسانیت آڑے آگٸ۔ اور لب بھینچے برستی بارش میں اس نے مزید وہاں کھڑا رہنا مناسب نہ سمجھا۔
اور۔۔۔بمشکل دروازہ بند کرتی وہ ابتسام کو سہارا دیتی۔ اندر کی جانب لڑکھڑاتی ہوٸ بڑھی۔
ابتسام بھی اسکے ساتھ لگا لڑکھڑاتا گھسیٹتا چلا گیا۔
اندر آتے ہی ابرش نے اسے صوفے پے لٹانے والے انداز میں چھوڑا۔ اور لمبے سانس بھرے۔
اس لمحے اسکی بس ہوگٸ تھی۔
یہ اکڑو۔۔ اس وقت یہاں کیا کرنے آیا تھا۔۔۔؟؟
کہیں۔۔ یہ نشہ۔۔۔؟؟ اوہ میرے اللہ۔۔۔؟؟ ابرش کو عجیب عجیب وہم ہو رہے تھے۔
مجھے۔۔ انکے بھاٸ کو کال کر کے بتانا چاہیے۔
وہ فیصلہ کرتی موباٸل اٹھاتی کال کرنے لگی ۔ کہ بہت زور کی بجلی کڑکی ۔اور ساتھ ہی لاٸیٹ چلی گٸ۔
ایک لمحے کو ابرش سہم گٸ۔ اسے سمجھ نہ آیا اب کیا کرے۔ ۔۔ جبکہ باہر بارش ابھی بھی زور و شور سے برس رہی تھی۔
حلق تر کرتے اس نے ارتسام کو کال۔ملانی چاہیے۔
لیکن سگنل غاٸب دیکھ اسکا دماغ سچ میں گھوما تھا۔
جبکہ ابتسام مکمل ہوش کھو چکا تھا۔














کامی۔۔ یہ زولفقار ابھی تک کیوں نہیں آیا۔۔۔؟؟
فاریہ بے چینی سے ابتسام کا ویٹ کر رہی تھی۔ جسے زولفقار لانے والا تھا۔ بے ہوش کرکے۔ اور وہ اپنا باقی کاپلان مکمل۔کرنا چاہتی تھی۔
ہمممم۔۔۔ میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔۔ خیر آجاۓ گا۔
تب تک تم یہاں آٶ مریے پاس بیٹھو۔
کامی نے بہت پیار سے اسکا ہاتھا تھاما تھا ۔
فاریہ کو عجیب سا کرنٹ محسوس ہوا۔ ہاتھ کھینچا۔ لیکن کامی کی گرفت مضبوط تھی۔
یار ۔۔ اتنی دوری کیوں۔۔؟ آج تو تم۔۔ میرے ہوش اڑا رہی ہو۔۔۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔
کامی نے اسکے بالوں میں منہ چھپاتے کہا۔
کامی۔۔۔۔ پیچھے ہٹو۔۔۔۔ وہ برا منہ بنا کے بولی۔
اور یہی بات کامی کو سخت بری لگی اور کھینچ کے اسے اپنے ساتھ لگایا۔ اور اسکی گردن میں چھپایا۔
آٸیندہ۔۔۔ مجھ سے اسطرح کا سلوک مت کرنا۔۔ بہت چاہتا ہوں تمہیں۔ کندھے سے گردن تک کا فاصلہ طے کرتے وہ فاریہ کا سا نس بند کرنے کے در پے تھا۔
چھوڑو۔۔مجھے۔۔۔ کیا۔۔۔ کر رہے ہو۔۔۔؟؟
وہ تڑپ کے پیچھے ہٹی۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ تم تو ایسے بی ہیو کر رہی ہو۔۔ جیسے۔۔ کوٸ الگ بات کردی۔
وہ اٹھتا اسکے قریب جاتا اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا۔
کامی۔۔۔ لمٹس میں رہو اپنی ۔ وہ غصے سے بولی۔
پیار کی کوٸ لمٹس نہیں ہوتیں ۔
دوبدو جواب آیا۔ اور پھر سے اسکے گال سہلاۓ۔
فاریہ کا اس بار صبر کا پیمانہ چھلک پڑا۔ اور کھینچ کے ایک تھپڑ کامی کو رسید کیا
اور یہی غلطی وہ کرگٸ۔
کامی شدید غصے میں اسکی جانب بڑھا۔
وہ بہت روٸ ۔ معافی مانگی۔ لیکن۔۔کامی نے اسکی ایک نہ سنی۔
وہ جو ابتسام کو پانے کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہوگٸ تھی۔
یوں کامی سے اپنی عزت تار تار کرا لے گی۔ اس نے
سوچا تک نہ تھا۔















یاللہ اب کیا کروں۔۔؟؟
ابرش سوچ میں ڈوبی۔ لاٸیٹ بھی نہ تھی۔موباٸیل کی روشنی میں وہ اٹھی۔ کہ ٹھوکر کھا کے لڑکھڑاتے ہوۓ صوفے پے لیٹے ابتسام کے اوپر جا گری ۔
جھٹ سے پیچھے ہوتی وہ دوبارہ اٹھی۔
صد شکر۔۔ اسے ہوش نہ تھا۔ ورنہ۔۔۔ کیا سوچتا وہ میرے بارے میں۔۔؟
اس پے موباٸیل کی روشنی مارتے وہ شکرکر رہی تھی۔
لیکن۔۔ میں اس کے بارےمیں کیا سوچ رہی ہوں۔۔ کس قسم کا بندہ ہے یہ۔۔۔ ساری دنیا چھوڑ کے یہیں آکے بے ہوش ہوگیا۔۔
منہ ہی منہ میں وہ بڑبڑاۓ جا رہی تھی۔
سر جھٹک کے پلٹی۔ اس کےکپڑے گیلے ہو چکے تھے۔ اور اب اسے ٹھنڈ لگنےلگی تھی۔
اس نے فی الحال ابتسام کے بارے میں سوچنا چھوڑا۔ اور خود اپنے روم میں جاتے ڈریس چینج کیا۔
اور پھر کچن کا رخ کیا۔ اپنے لیے کافی بناتی وہ بھول گٸ کہ گھر میں ایک اجنبی بے ہوش پڑا ہے۔
کافی بنا کے وہیں اسٹول پے بیٹھے مگ منہ کو لگایا۔ تو موباٸل پے ٹون بجی۔
فوراً سے دیکھا۔ کہ شاید سگنل آگۓ ہوں۔
لیکن موباٸل کی بیٹری لو دیکھ کے ابرش کا منہ چڑھا۔
اللہ جی ایک لاٸیٹ نہیں ۔۔ اوپر سے موباٸل ساتھ چھوڑ گیا۔۔ تو۔۔۔ اور وہ جو ڈراٸینگ روم میں۔۔۔
کیا پتہ اسے ہوش آگیا ہو۔۔۔؟؟ دیکھتی ہوں جا کے۔
سوچتے اٹھی۔ اور موباٸل کی روشنی میں ڈراٸینگ روم کی طرف بڑھی۔
لیکن ابتسام کو اسی حالت میں صوفے پے چت لیٹے دیکھ اسکا مزید منہ بن گیا۔
اوہ۔۔ہیلو۔۔۔۔؟؟ اٹھو بھی۔۔۔ کدھر سے آگۓ ہو۔۔ ؟؟
ابرش نے ماتھے پے ہاتھ مارا۔
ابتسام تو ٹس سے مس نہ ہوا۔ ہاں ابرش کی نظر اس کے لرزنے پے جا ٹہری تھی۔
یہ۔۔۔ یہ تو لرز رہا ہے۔۔؟؟ اسے۔۔ کہیں۔۔ ٹھنڈ۔۔۔؟؟؟
اب کیا کروں۔۔۔؟؟ کسے بلاٶں مدد کے لیے۔۔ اس برستی بارش میں کون آۓ گا۔۔۔؟؟
وہ ازحد الجھی اور پریشان ہوٸ۔
ابرش نے سوچا پانی کے چھینٹے مارتی ہوں۔ شاید ہوش میں آجاۓ۔
یہی سوچتے وہ پانی کا گلاس لے آٸ اور اس کے چہرے پے تھوڑا تھوڑا کر کے پانی گرایا۔ لیکن اسکا لرزنا بڑھتا جارہا تھا۔
ابرش نے اسکے ماتھے کو چھوا۔ تو اس جسم ٹھنڈا پڑتا جارہا تھا۔ اب حقیقتاً وہ بہت پریشان ہو اٹھی۔
اسکا تو اب سارا جسم ہی ٹھنڈا پڑ رہا ہے۔۔۔
کیا کروں میرے مالک۔۔۔؟؟ تو ہی بتا ۔۔
لب بھینچے سوچتے ہوۓ اس نے اللہ کا نام لے کے آگے بڑھتے ابتسام کی شرٹ کے بٹن کھولے۔ ہاتھ اس کے لرز رہے تھے۔ کہ اچانک ہی ابتسام کا ہاتھ اسکے لرزتے ہاتھوں پے آن ٹھہرا۔ وہ سخت گھبرا گٸ۔
یہ۔۔یہ ہوش میں ہے کیا۔۔؟؟؟ ابرش نے اسے ہلایا جلایا۔ لیکن وہ پھر سے بے سود ہوگیا۔
بہت مشکل اور صبر آزما کام تھا۔ اسکی شرٹ کو اتارنا۔ اب لمبے سانس لیتی وہیں صوفے کے پاس زمین پے بیٹھ گٸ۔
اور پلٹ کے ابتسام کے چہرے کو غصے سے دیکھا۔
ایک بار ہوش میں آٶ۔۔ پھر پوچھوں گی تم سے۔۔۔
یہی سوچتے اور کڑھتے وہ اٹھی۔ اور ساری باتو ں کا ایک ہی حل سوچا۔ دوکمبل لا کے اس پے ڈال دیٸے۔ اور ہیٹر آن کر کے اسکے پاس رکھ دیا تا کہ اسے ٹھنڈ کا احساس کم ہو۔۔
اور خود ابھی ٹھنڈی کافی لیتی قریب ہی صوفے پے بیٹھی وہ ان حالات کو سوچنے لگی۔جن سے ابھی تک وہ گذری تھی۔
ایک دم سے ندگی نے کیسا پلٹا کھایا تھا۔
کلتک جد شخص کو سوچنا بھی وہ گناہ سمجھ رہی تھی۔ آج وہی سامنے تھا۔
اور جسکی زندگی میں شامل ہونے جا رہی تھی۔ وہ آج بھی کہیں نہیں تھا۔۔۔
سر جھٹکا۔
زندگی یہیں نہیں تھمے گی۔
اب آگے بڑھے گی۔
میں ابرش مجیب شمس قسم کھاتی ہوں۔۔ انسپکٹر شاہان تم سے اپنا سب کچھ واپس لوں گی۔
اور اس کے لیے میں مضبوط ہو کے تمہارے سامنے آٶں گی۔
اس نے سوچ لیا تھا۔ اب وہ اپنا سمسٹرمکمل کرے گی۔اور اپنی وکالت کی تعلیم کو آگے بڑھاۓ گی۔ اور ایک قدم بھی اب نہیں رکے گی۔
ایک طرف وہ شاہان تھا۔۔۔ انسپکٹر۔شاہان۔۔ اس سے اپنا جہیز واپس لینا تھا۔
تو وہیں دوسری طرف وہ راجہ بھی تھا۔ جس سے مجیب صاحب نے گھرکے پیپرز گروی رکھ کے ادھار لیا تھا۔وہ بھی لوٹا نا تھا۔
او تیسرا سامنے بے ہوچ پڑا یہ وجود۔۔۔!
اس کے لیے بہت بڑی آزماٸش لے آیا تھا۔
ان سبھی سوچوں کے زیرِ اثر کب اسکی آنکھ لگی۔ اسے پتہ ہی نہ چلا۔ اور وہیں بیٹھے بیٹھے وہ سو گٸ۔














صبح کے چھ بجے زولفقار جب ناکام ہوتا واپس ہوٹل پہنچا تو کامی اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا روم سے نکلا۔
کیا۔۔۔ ہے۔۔۔؟؟ کامی نے اسکی سوالیہ نظروں کو غصے سے دیکھا۔
میڈم۔۔ کدھر ہیں۔۔؟ زولفقار نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
وہ۔۔ آرام کر رہی ہے۔۔۔ ابھی ڈسٹرب نہ کرو۔۔ بلکہ اک کام کرو۔۔ یہ بتاٶ وہ ابتسام علی پیرزادہ کہاں ہے۔۔؟؟ اسے ہی تو لینے گۓ تھے تم۔۔۔؟؟
میں اسی کا پیچھا کرتا رہا۔ لیکن وہ گاڑی ڈراٸیو کرتا پتہ نہیں کہاں غاٸب ہو گیا۔۔۔؟ اور اتنی تیز بارش تھی۔۔۔ اسی لیے رات کونہ آسکا۔
اور بارش تو بلکہ ابھی بھی ہے۔۔۔ !لیکن ۔۔ ابھی تھوڑی کم ہے تو اب آیا۔ ساری رات بارش ہوتی رہی۔۔! اور وہ ابتسام علی پیرزادہ ہاتھ سے نکل گیا۔
ذولفقار کو بہت افسوس ہوا۔
چلوکوٸ نہیں۔۔ دیکھ لیں گے۔۔ تم اب جاٶ۔۔ آگے کیا کرنا ہے۔۔ تمہیں فون پے بتا دیا جاۓ گا۔
کامی نے اسے چلتا کیا۔ اور خود بھی ہوٹل سے باہرنکل آیا۔
کھلی فضا میں سانس لیتا وہ بہت مسرور تھا۔
میڈم فاریہ۔۔! اب سے تم صرف میری ہو۔۔۔ صرف میری۔۔۔ یہ لمحات۔۔ کبھی نہیں بھولو گی تم۔۔۔ ! اور میں تمہیں۔۔۔ کسی اور کا ہونے بھی نہیں دوں گا۔۔
بارش کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ لیکن ہلکی ہلکی بارش ابھی بھی جای تھی۔ ساتھ میں سرد ہواٸیں بھی۔
پوری پلاننگ کرتا وہ اپنی باٸیک کی جانب بڑھا۔














صبح آنکھ کھلی تو اسے اپنا سر بھاری بھاری لگا۔
بے اختیار ہاتھ سر کی طرف گیا۔ اور کنپٹی دباٸ
۔دھیرے سے آنکھیں وا کیں۔ کچھ لمحے تو وہ خو کو یہ باور کراتے رہ گیا کہ یہ اسکا گھر نہیں۔۔ اسکا روم نہیں۔۔
اٹھنے کی کوشش کی۔ تو اٹھا نہ گیا۔
بمشکل اٹھتے اردگرد نظر دوڑاٸ۔
اس پے دو کمبل ڈالےگۓ تھے۔ شرٹ اسکی غاٸب تھی۔
نظر بھٹکتی سامنے سنگل صوفے پے بیٹھے ہوٸے ہی سوتی ابرش پے جا ٹہری۔ اور پلٹنا بھول گٸ۔
اے وقت رک جا۔۔ ٹھہر جا۔۔
واپس زراموڑ پیچھے۔۔۔
میں چلی آٸ۔۔۔
ابتسام۔نے رخ بدلا۔اور کمبل پیچھے ہٹایا۔ تو پاس ٹیبل پے پڑا واس نیچے گرا۔اور ٹوٹ گیا ۔
ابتسام نے ایک نظر ابرش پے ڈالی۔ جس کی کھٹکے سے آنکھ کھل گٸ تھی۔ اور وہ ابتسام کا جاگتا دیکھ جھٹ سے اٹھ بیٹھی۔
آپ۔۔۔ آگٸے ہوش میں۔۔؟؟ آنکھیں ملتی وہ جاگ گٸ تھی۔
ابتسام نے بنا اسے جواب دیے کمبل ساٸیڈ پے کرتا کھڑا ہوا۔ چکر تو آٸے لیکن اب وہ خود کو سنبھال گیا تھا۔
دماغ پے زور دیتا ۔ وہ رات کو یہاں پہنچنے کے بارے میں سوچنے لگا۔
کیا ہوا؟؟ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟؟ ابرش اسکے پیچھے آٸ۔
میری شرٹ کہاں ہے۔۔؟؟ ابتسام نے اسکی بات کاٹتے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
ابرش نے مڑ کے پیچھے دیکھا ۔ ابتسام کی شرٹ کارپٹ پے پڑی تھی۔
ابرش نے آنکھیں بند کر کے کھولیں ۔ جیسے کوٸ غلطی ہوگٸ ہو۔
وہ۔۔رات کو اندھیرے میں۔۔ سمجھ نہیں آٸ۔۔۔! دھیرے سے منمناٸ۔۔
ابتسام اسے نظر انداز کرتا اپنی شرٹ اٹھاتا پہننے لگا۔ بٹن بند کرتا باہر کی طرف قدم بڑھاۓ۔
آپ ۔۔ رات کو یہاں۔۔ کیوں آۓ تھے۔۔؟؟ وہ بھی نشہ کرکے۔؟؟
ابرش نے اسے جاتے دیکھاتو تپ کے بولی۔
ابتسام کو اسکی بات پے شاک لگا ۔ جھٹکے ے واپس مڑا۔
کیا مطلب ہے تمہارا۔۔؟؟ میں تمہیں نشہ کرنے والالگتا ہوں۔۔؟؟ وہ و اپس اسکی طرف بڑھا ۔
لیکن۔۔۔رات کو۔۔تو۔۔۔؟؟؟ ابرش نے اسکے بڑھتے قدم دیکھتے بات ادھوری چھوڑ دی ۔
میں مجیب صاحب کا پتہ کرنے آیا تھا۔ ۔
لیکن بابا۔۔ تو گھر نہیں۔۔! ابرش کے ماتھے پے بل پڑے۔
مطلب۔۔؟؟ کہاں ہیں وہ۔۔؟؟ ابتسام کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
ہاسپٹل میں۔۔ ! انکا بی پی شوٹ کر گیاتھا۔ تو ڈاکٹر ارتسام نے انہیں ڈسچارج نہیں کیا۔
ابتسام کی سوچ بھٹک کر رات کو جو ہوا وہ سوچنے لگا۔
کیا ہوا تھا رات کو۔۔۔؟؟ ایک ڈر تھا لہجے میں۔۔؟؟
ابرش کو اسکااندااز عجیب لگا۔
میں گھر آٸ تھی کچھ سامان لینے ۔۔ لیکن۔۔ بارش۔۔ بہت تیز شروع ہوگٸ۔۔ میں نہ جاسکی۔۔ اتنے میں آپ نے بیل بجاٸ۔ دروازہ کھولا۔ تو آپ۔۔؟؟ ابرش کو رات کا سین یاد آیا تو زبان کو چپ لگ گٸ۔ ابتسام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
آپ بے ہوش ہوتے گرے تھے۔۔۔اور آپ کو اندر لے آٸ۔۔ تب سے آپ۔۔بے ہوش ہی تھے۔۔۔
ابرش کو لگا اسے سب بتانا چاہیے۔
مجھے جانا ہوگا۔۔۔!
ابتسام کو سب یاد آگیاتھا۔ وہ فاریہ سے مل کے گاڑی میں بیٹھا تھا۔ اسے محسوس ہوا تھا۔ کہ گاڑی میں کوٸ عجیب سی خوشبو ہے۔ لیکن وہ نظر انداز کرتا گاڑی ڈراٸیو کرتا رہا اور اسکا دماغ سن ہونے لگا۔
لیکن آپ کے ساتھ رات کو ہوا کیا۔۔؟؟
ابرش کو ابھی بھی کچھ سمجھ نہ آرہا تھا۔
ابتسام۔نے مڑ کے اسے دیکھا۔
میری مدد کرنے کا شکریہ۔۔
یہ وہ الفاظ تھے۔ جو آج تک کبھی ابتسام۔نے کسی سے نہیں کہے تھے۔ اور آج کہے بھی تو اس سے ۔۔۔ جس سے وہ بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔۔ ان الفاظ کا۔۔۔ جو اس نے بولے تھے۔
لیکن اب کیسا بدلہ؟
آج وہ اسکا قرض دار ہوگیا تھا۔ آج اس نے اسکی ایسی مدد کی تھی۔ کہ وہ چاہ کے بھی اسے فراموش نہیں کر سکتا تھا۔
ابتسام کی بات پے ابرش کچھ بول ہی نہ پاٸ۔ اور ابتسام باہر نکلتا چلا گیا۔
گاڑی کا درواہ کھولتا وہ گاڑی میں بیٹھا وہ خوشبو محسوس کرنے لگا۔ ۔۔لیکن وہ خوشبو اب نہیں تھی۔
گاڑی اسٹارٹ کی۔
مس فاریہ اختر۔۔ جو تم نے کیا۔۔۔ اسکا تو تمہیں خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا ۔
سخت سپاٹ چہرے کے ساتھ گاڑی گھر کی روڈ پے ڈال چکا تھا۔














آج پوری یونی میں افراتفری مچی ہوٸ تھی ۔
آج پروفیسر فہد نے آنا تھا۔ اور یونی کے بہت سے لڑکے اور لڑکیاں اپنی اپنی پینٹنگ کے ساتھ یونی میں موجو تھے۔ سبھی کو اپنی اپنی پینٹنگ سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں ۔۔
لیکن۔۔سب یہ بھی جانتے تھے ۔ ارحام کا کوٸ ثانی نہیں۔
صبح سے سب اسے اپنی پینٹنگ دیکھا کے اسکی راۓ لے رپے تھے ۔ اور وہ پرخلوص طریقے سے سب کو بتارہا تھا۔ا نہیں گاٸیڈ کر رہا تھا۔
جبکہ دور بیٹھی لمظ پے بھی وقتاً فوقتاً نظر ڈاللیتا تھا۔
آج اسکے چہر پے گہری چمک تھی۔ جسے وہ کافی دیر سےپڑھنا چاہ رہا تھا۔ سمجھنا چاہ رہا تھا۔ لیکن سمجھ نہیں پارہا تھا۔
پر اتنا جانتا تھا۔ کہ کوٸ نہ کوٸ گڑبڑ ضرورہے۔
اٹھتا ہوا اسکے پاس پہنچا۔
بات سنو۔۔! سرری لہجہ اپنایا۔
جی۔۔۔۔ آپ نے مجھ سے کچھ کہا۔۔۔؟؟ لمظ نے ایکٹنگ کرتے چشمہ درست کرتے پوچھا۔
ظاہری بات ہے یہاں تمہی موجود ہو تو تم سے ہی بات کر رہا ہوں۔۔۔
ارحا م نے تیکھےا نداز میں کہا۔
یس۔۔۔ کہیں۔۔! دراصل میں بزی ہوں بہت۔۔ کوٸ کام ہے آپ کو؟
ہاں ہے تو سہی۔۔۔ ایک وارننگ دینی ہے۔آج میری پینٹگ کی ایگزبیشن ہے۔ تو ۔۔ دور رہنا۔۔۔ سمجھی۔
سجھ گٸ۔۔۔!
ہاں۔۔سب۔۔۔۔ سمجھ گٸ۔۔۔ اب میں اپنا کام کر لوں۔۔؟؟
لمظ نے منہ بناتے اجازت طلب کی۔
ارحام اسے گھورتے اپنی کلاس کی جانب قدم بڑھاٸے۔
کچھ ہی دیر میں پروفسر فراز پروفیسر فہد کے ساتھ پہنچنے والے ہیں۔ سببی ایکساٸٹڈ بھی تو اور ڈرے ہو بھی۔
ایک بار اپنی پینٹگ سامنے تو کرنا۔۔ پھر دیکھیں گے سب۔۔۔! تمہاری رسواٸ کو۔۔۔
ٹھیک اسی طرح جسطرح اس دن تم۔نے میری زات پے وار کیا تھا۔ اب دیکھو۔ ۔ تمہارے ساتھ ۔۔۔۔کیا کیا ہوتا ہے۔۔۔
وہ دل ہی ل میں پرجوش ہوتی ۔ مسکراٸ تھی۔ کنول اسے مسکراتے دیکھ سمجھ نہ پاٸ کہ وہ مسکرا کیوں رہی ہے؟














ابتسام سیدھا پیرزادہ مینشن پہنچا تھا۔ اور گھر میں داخل ہوتا وہ احتیاط سے سب طرف دیکھتا اپنے روم کی جانب بڑھا تھا۔
جبکہ ابی جان کی دو تیز آنکھوں نے اسے دیکھ لیا تھا۔
شاور لیتا پرسکون ہوتا وہ کل کے واقعے پے غور کرنے لگا۔
فاریہ اتنی گھٹیا چال چل سکتی ہے۔۔۔یقین نہیں آرہا۔۔۔
یقیناً مجھے بے ہوش کرنے کے پیچھے بھی اسی کا ہاتھ ہوگا۔ ۔۔
لیکن اسکا مقصد کیا ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟ مجھے اسکی سوچ تک پہنچنا ہوگا۔۔ ورنہ۔۔۔ وہ کچھ بھی کر سکتی۔۔۔ ہے۔۔!
سوچتے ہوۓ اپنے خاص بندے کو کال ملاٸ۔ اس نے فوراًاٹھا لی۔ابتسام نے فاریہ کی پل پل کی رپورٹ مانگی۔
وہ اب اسے کوٸ موقع نہں دینا چاہتاتھا۔۔ کہ وہ پلٹ کے پھر سے وار کرے۔
فون بند کرتے دھیان میں وہ معصوم چہرہ پھر سے آگیا۔
معصوم چہرے کی۔۔۔ کیا بات یار۔۔۔
ہم کو تو ہونے لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیار۔۔۔۔














ارتسام ابی جان سے اجازت لیتا اپنے دوست کے بے حد اصرارپر اس کے ہمراہ اس کے گاٶں میں پہنچا ۔
جہاں اسکا پر تپاک استقبال کیا گیا ۔
ساتھ میں اسکے تین اور دودوست بھی ان کے ساتھ پہنچے تھے ایک میلے کا سا سماں بندھ گیا تھا۔
ارتسام اپنے دوست کے کزن کی شادی کو انجواۓ کرنے والے تھے۔
ان سب کے لیے بہت خوبصورت روم کا بندوبست کیا تھا۔ آج مہندی کا فنکشن تھا۔ لیکن وہ لڑکی والوں کی طرف تھا۔ خالص عورتوں کا مہندی کا فنکشن تھا۔
مرد حضرات نے بیٹھیک سجا لی تھی۔
ارتسام کافی انجواۓ کر رہا تھا ابھی تک اسے دلہا نظر نہیں آیا تھا۔ اور اس نے پوچھنا بھی ضروری نہ سمجھا تھا۔
