Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 03)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

بابا۔۔۔ مت کرو۔۔۔۔! اللہ کا واسطہ ہے۔۔۔ میرے ساتھ یہ ظلم نہ کرو۔۔۔ امی۔۔۔۔ امی۔۔۔ باباکو روکو ناں۔۔!

عروش روۓ جا رہی تھی۔ اور دروازہ پیٹے جا رہی تھی۔لیکن اسکی فریاد سننے والا کوٸ نہ تھا۔

زلیخا بھی من مار کے آنسو روکے بیٹی کا تڑپنا دیکھ رہی تھیں لیکن جاوید چوہدری سے متھا کیسے لگاتیں۔۔؟؟

کوٸ ہے۔۔۔ اللہ کا واسطہ ہے دروازہ کھولو۔۔۔ بابا ۔۔یہ ظلم مت کرو۔۔۔ بابا۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔! اب کی بار درد ناک آواز تھی۔ زلیخا نے کان ہی بند کر لیے۔

چھیمی۔۔۔۔ ! مجھے۔۔ یہاں سے کہیں دور لے جاٶ۔۔ نہیں تو۔۔ میں اپنی بیٹی کی پکار سن سن مر جاٶں گی۔

انہوں نے اپنی دیورانی سے کہا۔ وہ بھی روتے ہوٸے ان کے دکھ میں برابر کی شریک تھیں۔

ہاں۔۔ ایک بار پھر سے اماں حوا کی بیٹی بک رہی تھی۔

بیچنے والا کوٸ اور نہیں۔۔ باپ تھا۔۔ ہاں وہ سوتیلا باپ تھا۔۔۔ لیکن۔۔تھا تو باپ۔۔۔ بچپن سے اسے پالا۔ ایک باپ کی طرح سر پے شفقت کا ہاتھ رکھا۔

اس دن کے لیے ۔۔ کہ کب کوٸ آکے اسکی بیٹی کا مول لگاٸے اور وہ اسے بیچ دے۔۔۔؟؟؟

ہاں۔۔ وہ مول لگانے والا مل گیا تھا۔

پچاس سال کا بوڑھا سرفراز انسر۔۔۔!وہ کر رہا تھا نکاح عروش سے۔۔۔ اور بدلے میں دے رہا تھا۔ حق مہر کے نام پے اس کے باپ کو تیس لاکھ۔

وہ اس سے پہلے بھی تین شادیاں کر چکا تھا۔ وہ اولاد چاہتا تھا۔ اور عروش کے حسن کی تعریفیں ہر کسی سے گاٶں میں وہ سن چکا تھا۔

زات کا وہ قصاٸ تھا۔ لیکن وقت نے پلٹا کھایا تھا اور دو نمبرکاموں اور ڈرگز کی ہیر پھیر اور بھی بہت سے غلط کاموں میں پڑ کے وہ اچھا خاصا امیر ہو چکا تھا۔

اولاد نہ تھی۔

اولاد کے لیے وہ اب چوتھی شای کرنے جا رہا تھا۔ جبکہ درحقیقت وہ عروش کے حسن کو زیر کرنا چاہتا تھا۔

اور جاوید چوہدری کو من چاہا بیٹی کا گاہک مل ہی گیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا۔ لیکن عروش نے ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔ اسے کہیں سے پتہ چل گیا تھا کہ وہ شخص نہ صرف عمر میں بہت بڑا ہے بلکہ پہلے سے تین شایاں کر چکا ہے۔

آوازیں آنا بند ہو گٸ تھیں۔ شاید وہ تھک ہار گٸ تھی اپنی قسمت سے۔۔۔؟؟ ماں کا یوں چپ ہو جانا بھی اسے صدمے میں ڈال گیا۔ باپ سوتیلا تھا لیکن ماں تو سوتیلی نہ تھی۔

وہ۔۔۔ وہ چپ ہوگٸ۔۔۔؟؟ وہ۔۔ ٹھیک تو ہوگی ناں۔۔؟؟

زلیخا کا دل کانپا۔

چھیمی نے اثبات میں سر ہلایا۔ جبکہ جانتی وہ بھی نہ تھی۔

دروازے کے ساتھ ٹیک لگاۓ وہ اپنے خوابوں کو چکنا چور ہوتا دیکھ رہی تھی۔

ہاں۔۔ اسے ڈاکٹر بننا تھا۔۔ ڈاکٹر عروش۔۔ ابھی تو اس نے آگے پڑھنا تھا۔۔ اس نے میڈیکل میں ٹاپ کیا تھا۔ اس کے لیے تمام راستے ہموار تھے۔ لیکن۔۔۔ ہاۓ رے قسمت۔۔۔؟؟

باپ کا سر پے نہ ہونا۔۔ اور سوتیلے باپ کا سر پے ہونا۔۔۔ بیٹیوں کو رول ہی تو یتا ہے۔۔

کہیں جہیز کے نام پے۔۔۔ بیٹی رلتی ہے تو کہیں۔۔ حق مہر کے نام پے۔۔ جہاں۔۔ باپ اپنی ہی بیٹیوں کا سودا کر دیتے ہیں۔۔۔! ان کے لیے تو بیٹیا ں پراٸز بانڈ ہوتی ہیں۔۔۔جو ان کے بڑے ہونے پے وہ کیش کرتے ہیں۔۔

جبکہ بیٹی

اللہ کے نبی کا فرمان ہے۔۔

کہ جو ایک بیٹی کی اچھی پرورش کرے گا۔ قیامت کے دن وہ میرے ساتھ ایسے کھڑا ہوگا۔جیسے دو انگلیاں ایک دوسرے کے برابر ہوتی ہیں۔

لیکن افسوس

صد افسوس ۔۔۔کہ آج کے دور میں بیٹی کسی کو نہیں چاہیے۔ ۔۔ لیکن وہ یہ بھول جاتےہیں کہ انہیں پیدا کرنے والی بھی ایک عورت ہے۔۔۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

یہ منظر پیر زادہ منشن کا تھا۔

جہاں اس وقت سبھی ناشتے کی ٹیبل پے موجوف تھے۔ خاموشی سے ناشتہ کرتے کچھ پل بعد کانٹے اور چمچ کی آواز خاموشی میں ایک ارتعاش پیدا کر دیتی۔

سربراہی سیٹ پے ابی جان تھیں جن کے چہرے کی رونق اپنے تینوں پوتو ں کو ایک ساتھ دیکھتے مزید بڑھ گٸ تھی۔

ارتسام۔۔۔! آگے کی کیا پلاننگ ہے۔۔۔ ؟ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ابتسام نے سامنے بیٹھے بھاٸ سے پوچھا۔

وہ دھیما سا مسکرایا۔

ناشتہ وہ بھی کر چکا تھا۔

بھاٸ۔۔۔! میں اپنا ہاسپٹل بنانا چاہتا ہوں۔۔۔ایک جذب کا عالم اور پختہ یقین سے کہا۔

گڈ تو دیر کس بات کی ہے۔۔؟؟ بہت جلد۔۔۔۔؟

بھاٸ۔۔۔! میں اپنے بل بوتے پے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔۔ میں۔۔ خود ۔۔ بنانا چا ہتا ہوں۔۔ اپنی محنت سے۔

ارتسامنے بات کاٹی۔ ایک لمحے کے لیے تو ابتسام کو چپ لگ گٸ۔ ابی جان کی بھی نظریں دونوں کی طرف باری باری اٹھیں۔

ارتسام۔۔۔! ہم۔۔الگ ہیں کیا۔۔۔؟؟ یہ سب کچھ ہمارا ہی ہے۔۔۔! ہم سب کا ۔۔۔ اور تمہاراہاسپٹل بنے گا۔۔ یہ میرا بھی خواب ہے۔۔ ابتسامنے بہت جذب کے عالم میں کہا۔

آپ کی بات صحیح ہے بھاٸ لیکن۔۔ فی الحال تو میں پریکٹس کرنا چا ہتا ہوں۔ دوست کے ابو ہیں۔۔ ان کا اپنا ہاسپٹل۔۔۔۔!

ارتسام۔۔۔ ! بھولو۔۔ مت۔۔ تم۔پیرزادہ ہو۔۔۔ ارتسام۔پیرزاہ۔۔۔ کوٸ عام۔انسان نہیں۔۔ جو لوگوں کے ہاسپٹل۔میں اب جاب کرو گے۔۔۔؟ ابتسام نے فخر اور تنبیہہ انداز میں کہا۔

ارتسام دیکھتا رہ گیا۔

پھر لمبا سانس خارج کرتا اٹھا۔

بھاٸ میں ایک عام انسان ہوں۔۔ یا نہیں ۔۔۔؟ نہیں۔۔۔ جانتا۔۔ لیکن اتنا جانتا ہوں۔۔ کہ اس دنیا میں خالی ہاتھ آیا تھا۔۔۔ اور خالی ہاتھ ہی جاٶں گا۔۔

یہ دولت یہ نسب سب کچھ یہیں چھوڑ کے جاٶں گا۔۔۔

صرف اعمال ساتھ جاٸیں گے۔۔۔

کہنا کیا چاہتے ہو تم۔۔۔؟کیا مطلب تمہاری اس بات کا۔۔۔؟؟ ابتسام کو برا لگا اس کی بات سے۔

کوٸ مطلب نہیں بھاٸ۔۔۔! ابھی دیر ہورہی ہے ۔۔شام کو بات ہوگی۔۔۔! ٹیک کیٸر۔۔۔! سب کو ایک ہی بار میں کہتا وہ مسکراتا باہر نکلا۔

اوکے ۔۔۔ مجھے بھی دیری ہورہی ہے۔۔ آج اسپیشل۔کلاس ہے۔۔۔ تو شام کو ملتےہیں۔

ارحام بھی مسکراتے اٹھا۔ ابی جان کے گلے لگا انہوں نے پیار سے مسکرا کے اسے الوداع کیا۔ جبکہ ابتسام وہیں چپ سا بیٹھا رہ گیا۔

ابی جان نے ناشتہ ختم کرتے نیپکن سے منہ صاف کیا۔

ابتسام بیٹا۔۔۔! ہر بات کو بہت زادہ گہراٸ میں مت لے کے جایا کریں۔ کچھ باتیں وقت پے چھوڑ دیا کریں۔

کیونکہ توکل بہت بڑی چیز ہے۔ اللہ پے بھروسہ رکھیں۔

بہت پیار اور دھیمے لہجے میں سمجھایا۔

اس نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ انہیں اللہ حافظ کہا۔

جبکہ اس کا دماغ ارتسام کو لے کے تھوڑا بھٹکا ہوا تھا۔

💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚

اماں۔۔۔ کیا ہے۔۔۔ اتنی جلدی نہیں کرنی شادی مجھے۔۔۔ اور وہ بھی لڑکی دیکھے بنا۔۔؟

شاہان نے منہ بنایا۔

ارے بیٹا۔۔ تو دیکھ لو کس نے منع کی ہے۔۔؟؟ یہ لے تصویر۔ اور جہیز کا تو پوچھ ہی نہ۔۔ کتنا زیادہ دے رہے ہیں۔۔۔! پان منہ میں ڈالتے مزہ لیتے کہا۔

اچھا۔۔۔ دیکھاتو۔۔۔؟؟ تصویر دیکھتے شاہان تو ہکا بکا ہی رہ گیا۔

اور پھر اگلے ہی لمحے یک دلفرب مسکراہٹ نے لبوں کو چھوا۔

اماں۔۔۔تیرے قربان جاٶں۔۔۔ دل خوش کر دیا۔۔۔ شاہان تو ابرش کی تصویر پے ہی اپنے دماغ بہت سارے پلان بنا چکا تھا۔

ہاۓ۔۔۔ سچی کہا تھا ناں۔۔ تجھے پسند آۓ گی۔ اوپر سے جہیز۔۔۔ پوچھ نہ۔۔۔۔ گاڑی دیں گے سلامی میں ۔۔۔ اور۔۔۔!! اماں شروع ہوچکی تھیں۔ انکی سنتے شاہان کے چہرے پے مسکراہٹ مزید گہری ہوتی گٸ۔

اماں۔۔ تو جو کہے سر آنکھوں پے۔۔۔ بس اب جلدی سے شادی کروا ہی دو۔ پیار سے کہا۔

ہاں۔۔۔ بس۔۔۔ ایک ۔۔ مسٸلہ ہے۔۔۔! کن اکھیوں سے بیٹے کو دیکھا۔ کیسا مسٸلہ؟ وہ چونکا۔

انہوں نے حق مہر میں دس لاکھ کا۔۔۔ مطالبہ کیا ہے۔۔۔! کچھ سچ کچھ جھوٹ بول کے انہوں نے شاہان کا غصے بھرا چہرہ دیکھا۔

دماغ خراب ہوگیا ہے کیا ان کا۔۔؟؟ میں کیوں دوں گا اتنا حق مہر۔۔؟؟ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

بیٹا۔۔۔! تحمل سے۔۔۔۔! اب اگر ہاتھ اونچا مارنا ہے تو۔۔۔ کچھ انکی بھی ماننی پڑیں گیں۔ اور ویسے بھی کونسا وہ اپنے گھر اپنے باپ کودے گی۔ یہیں لاۓ گی۔ واپس لے لینا سب۔۔۔!آگے کی پلاننگ بتاٸ۔

اماں۔۔ میں نے آج تک اپنے پیسوں کی چاۓ تک تو پی نہیں۔۔۔ کجا کہ حق مہر میں دس لاکھ دوں۔۔؟؟ ناممکن۔۔ ! شاہان نہ مانا۔

پھر بھول جا ۔۔۔ یہاں۔ شادی نہ ہوٸ تیری۔۔ اما ں نے بھی لتاڑ کے رکھ دیا۔

شادی تو یہیں۔۔ ہوگی۔۔اسی سے ہوگی۔۔۔ تم دیکھتی جاٶ۔ ۔۔ اماں۔۔ میں کرتا کیا ہوں۔۔ چہرے پے ایک پر اسرار مسکراہٹ سجاۓ وہ باہر نکلا۔

اماں اسکی باتوں پے سر جھٹک کے رہ گٸیں۔

💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚
💚

ایک شانِ بے نیای سے چلتی وہ باہر کی جانب بڑھی۔ چہرے پےانتہا کی سختی تھی۔

ایسا حال ہو گا کہ ان کی سات پشتیں یاد رکھیں گیں۔۔۔

ابرش اس ہوٹل سے باہر نکلی تھی۔

ہاں۔۔ ان تینوں کے لیے سزا تجویز کر کے وہ اب مطمین تھی۔

تو نے ہامی کیسے بھری بادشاہ۔۔۔؟؟ کامی نے بادشاہ کی طرف دیکھتے پوچھا۔

کامی۔۔ یہ ۔میری بہن ہے۔۔ مجھے بہن سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اس نے میری عزت میری بہن کی حفاظت کی ہے۔ اور یہ احسان میں ساری زندگی نہیں اتار سکتا۔۔۔

اور۔۔۔ آج ہی تو موقع ملا ہے۔۔ کیسے انکار کرتا۔۔۔؟؟ اور جانتے ہو کامی۔۔میرا بس چلے تو۔۔ ایسے مردوں کو چوراہے پے کھڑا کرکے گولیوں سے چھلنی کر دوں۔

بادشاہ بدمعاش بے انتہا غصے سے بولا۔ کہ کامی چپ ہی کر گیا۔ وہ بھی بادشاہ کے غصے سے ڈرتا تھا۔

چل آ۔۔۔۔ بندوبست کریں ان تینوں کو زندہ لاش بنانے کا۔ بادشاہ بدمعاش دانت پیستا آگے بڑھا تو کامی بھی اس کے پیچھے ہولیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

سر۔۔! سب نے گھیراٶ کیا ہوا ہے۔۔ فیکٹری کا۔۔۔

ابتسام کے پوچھنے پے ولی نے دھیرے سے جواب دیا۔ ابتسام کے ماتھے پے بل۔پڑے۔

یہ۔۔۔ شاید اپنی اوقات بھول گٸے ہیں۔۔۔؟ جو اس حد تک پہنچ گٸے ہیں۔ ابتسام نے غصہ ضبط کرتے کہا۔اتنے میں مجیب شمس اندر داخل ہوٸے ابتسام نے ایک کڑی نظر ان۔پے ڈالی ۔

بیٹا۔۔۔ میں۔نے تو پہلے کہا تھا۔۔۔ آپ سوچ بچار کرلیتے تو۔۔ بات اتنی نہ بگڑتی۔۔۔!

مطلب۔۔۔؟ اب۔۔۔ آپ مجھے دھمکیاں دیں گے۔۔؟ ابتسام آگے ہوتا ٹیبل پے ہاتھ رکھتے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا۔ مجیب صاحب منہ دیکھتے ہی رہ گٸے۔ پھر ہڑا گہرا سانس خارج کیا۔

بیٹا۔۔! ہرعمل کا ردعمل ہوتا ہے۔۔ یہ ان کا ردعمل ہے۔۔۔ فیکٹری بند ہونے سے وہ۔۔ سب بے روز گار ہوگٸے ہیں۔ انکے گھر کا چولہا نہیں جلے گا۔۔ ان کے بچوں کو روٹی نہیں ملے گی۔۔۔ وہ ۔۔ باغی ہوجاٸیں گے۔۔۔! پھر سے سمجھایا۔

عمل کا ردعمل۔۔۔؟ ہمممممم۔۔۔۔ ابتسام نے انکی بات اچکی۔

اور ہاتھ فون کی جانب بڑھایا۔

ہیلو۔۔۔ فاروق۔۔۔! پولیس کو انفارم کرو۔ اور جو جو باغی ہے۔۔ اور پیچھے نہیں ہٹتا ۔۔ اسے جیل کی ہوا کھلاٶ۔۔۔۔! ایک اچٹتی نظر مجیب شمس پے ڈالی۔ انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔

آپ ایک بار پھر غلط کر رہے ہیں۔۔

آپ سے مشورہ نہیں مانگا۔ دوبدو جواب دیا۔ تو وہ خاموش ہوگۓ۔ اور تھکے قدموں سے باہر نکل گٸے۔

علی۔۔۔ یار۔۔۔ آج احساس ہو رہا ہے۔۔۔ تم چلے گٸے ہو۔۔۔ ؟؟ اور اپنے دوست کو اکیلا چھوڑ گٸے ہو۔۔۔ ! انکی آنکھوں میں نمی آگٸ۔

لیکن وہ آج بھی بے بس تھے۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

ردا۔۔۔ ردا دروازہ کھولو۔۔ میری بیٹی۔۔ میری جان۔۔۔ دروازہ کھولو۔۔ سفیہ خالہ کا رورو کے برا حال تھا۔ ردا آج تھک گٸ تھی اپنے نصیبوں اور لوگوں کی باتیں سن سن کے خاص کر اپنے ہی گھر میں اپنے باپ کی خود پے اٹھتی بے بس نظریں ۔ اس نے خود کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

کچن میں چپکے سے گھس کے دروازہ لاک کر دیا۔ اور مٹی کے تیل کا پوارا گیلن خود پے خالی کر دیا۔ ماں باہر تڑپ رہی تھی۔ لیکن بس وہ خود کو ختم کرنے کے در پے تھی۔

ردا۔۔۔ ردا۔۔ رک جا میری بچی۔۔۔ مت کر۔۔۔ مر جاۓ گی تیری ماں۔۔۔ تقریباً شور شربے سے سبھی محلے والے اکھٹے ہو چکے تھے۔

ابرش بھی وہاں پہنچی۔ وہاں کا منظر دیکھ اسکا دل دہل گیا ۔

رد۔۔۔۔ردا۔۔۔ کیا۔۔۔ کیا کر رہی ہو۔۔۔؟ ردا دروازہ کھولو۔۔۔۔

! ابرش کی گھبراٸ آواز پے ردا نے مڑ کے دیکھا۔

ایک درد تھا اسکی آنکھوں میں ایک شکوہ اور کہیں۔۔۔

سوال۔۔۔ آخر میں ہی کیوں۔۔۔؟ ابرش نے نفی میں سہلایا۔

مت۔۔۔۔کرنا۔ردا۔۔۔۔۔! دھیرے سے لب ہلے۔ لیکن شاید دیر ہو چکی تھی۔ ردا نے ماچس کی تیلی جلا لی تھی۔ اور وہ پھینکنے والای تھی کہ۔۔

دروازہ کھلا۔ اور اسکا باپ بھاگ کے اسکے پاس پہنچا۔ اور کھینچ کے اس کے گال پے ایک تھپڑ رسید کیا۔

وہ منہ پے ہاتھ رکھے ہچکیوں سے رو دی۔

کمال انکل نے آگے بڑھ کے اسکے وجود کو اپنی بانہوں میں بھرا۔ اور سینے سے لگایا۔ او سکون سے آنکھیں بند کر لیں۔ ابرش نے بی گونا سکون محسوس کیا بالآخر۔۔ باپ نے بیٹی کو اپنا لیا تھا۔

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے جب بھی اماں خوا کی بیٹی بے ابرو ہوٸ باقی سب مل کے اس کے پورے خاندان کو بے آبرو کر دیتے ہیں۔۔۔اور یہ تکلیف سب تکلیفوں پے بھاری پڑ جاتی تھی۔

اپنے گھر والے ہی اس لڑکی کو اپنانے سے انکار کر دیتے۔۔ اسکا اس معاشرے میں جینا دوبھر کردیتے۔ کہ اسے ردا کی طرح موت کو گلے لگانا پڑ جاتا ہے۔

بس میری بچی۔۔۔ ! ابھی تیرا باپ زندہ ہے۔۔۔! کبھی ایسا مت سوچنا۔۔۔۔ کچھ بھی۔۔۔۔!وہ روتے جا رہے تھے اپنے اور بیٹی کے آنسو صاف کیے جا رہے تھے۔

پاس کھڑی ابرش نے رخ پھیرا۔ ایک آسودہ مسکراہٹ اسکے لبوں پے بکھری۔ اوپرآسمان کی جانب رخ کیا۔

شکر تیرا اللہ۔ کہ تو نے ایک بچی کو حرام موت سے بچا لیا۔۔۔ ایک نظر پلٹ کے ردا کو دیکھا جو باپ کے سینے سے لگی آنکھیں موندے کھڑی تھی۔ ایک سکون تھا۔

باپ ہی ہوتا ہے جو تپتی دھوپ میں اولاد کے لیے ساٸبان ہوتا ہے۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

آج پروفیسر علی نہیں آۓ تھے اس لیے وہ بہت بور ہو رہے تھے۔

یار نیو کلاسز ہیں نیو اسٹوڈنٹس۔۔۔ نیو ڈیز۔۔۔ ان دنوں کونسی پڑھاٸ ہوتی ہے۔۔۔؟

عمیر نے گلاسز ٹھیک کرتے ارحام کی جانب دیکھا جس کا رخ سامنے تھا۔

چل پھر ریگنگ کرتے ہیں۔۔۔ دن تو گذرے گا ناں۔۔۔! ارحام نے سامنے سے ایک۔چشمہ پہنے لڑکی کو آتے دیکھا تو دماغ نے شرارت پے آمادہ کیا۔

حام۔۔۔۔ رکو۔۔۔ یار۔۔۔ اسے۔۔ کچھ نہ۔۔۔۔ کہنا۔۔۔! بلال پیچھے سے ہانکا۔ تو ارحام کے قدم رکے۔

کیوں۔۔ ؟ ماموں کی بیٹی ہے تمہاری؟ بڑے انداز سے پوچھا تو عمیر کے چہرے پس مسکراہٹ رینگ گٸ۔

ننن۔نہیں۔۔۔ وہ۔۔۔ بہت چھھھوٹی اور۔۔ معصوم لگ رہی ہے۔۔۔! بلال نے چشمہ ٹھیک کرتے ہکلاے کہا۔

اچھاااا۔۔۔۔ معصوممم۔۔۔۔۔۔۔! حام نے ہوٹنگ کی تو۔ بلال سٹپٹا گیا۔

اتنے میں لڑکی وہاں تک پہنچ چکی تھی۔

۔۔۔ رکو۔۔لڑکی۔۔۔! ارحام۔نے اسے سخت آواز میں روکا۔ وہ ماتھے پے تیوری چڑھاٸے حام کو دیکھتی اپنا چشمہ درست کرنے لگی۔

جی۔۔۔۔۔۔۔! آواز میں کپکپاہٹ تھی۔

نیو ہو۔۔۔؟؟ بہت ایٹیٹیوڈ سے پوچھا۔

جی۔۔ وہ ۔۔میں ناں۔۔ آپی کو ڈھونڈ رہی ہوں۔۔ انہوں نے کہا تھا یہیں ملیں گیں۔۔ لیکن وہ نہیں ملیں۔ بہت معصومیت سے کہا۔

کیا۔۔۔۔۔ کیا نام ہے آپ کی ۔۔۔آپپی کا۔۔۔؟؟ بلال نے آگے بڑھ کے بہت نرم لہجے میں پچھا۔ حامنے گردن ٹیڑھی کرتے بلال کو سر سے پاٶں تک گھورا۔

جی ۔۔وہ ۔۔۔

ایک منٹ۔۔۔۔؟؟ آپی سے ملنا ہے۔۔ تو پہلے دس بار اٹھک بیٹھک کرنا ہوگی۔۔ چلو شروع ہو جاٶ۔۔۔!

ارحام نے اسکی بات کاٹی۔

بلال نے حیرت سے ارحام۔کو دیکھا ۔ اور آنکھوں سے اس سے درخواست کی۔ کہ وہ اسے کچھ نہ کہے۔

جی۔۔۔؟؟ میں کیوں۔؟؟ وہ لڑکی تذبذب کا شکار ہوٸ۔

بیس دفعہ کرنی ہوگی۔اب۔۔ ! مجھے ناں۔۔ ارگیو کرنے والے بہت برے لگتے ہیں۔۔ اب اگر نہیں چاہتی کہ سزا بڑھے تو شروع کرو۔

حام نے اسکے ہاتھ سے اسکی بک اچک لی۔ وہ دانت پیستی منہ بناتی رہ گٸ۔

میری بک واپس کریں۔۔۔ منہ بناتے کہا۔

جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔ واپس مل جاٸے گی۔

بنا اسکی طرف دیکھے کہا۔ اس لڑکی نے بلال کو مدد طلب نظروں سے دیکھا۔ تو وہ بھی سر جھکا گیا۔ ارحام کے آگے تو وہ بھی بے بس تھا۔

ناچار اس لڑکی کو اٹھک بیٹھک کرنی پڑی۔

کان بھی پکڑو۔ بنا دیکھے ایک اور آرڈر کیا۔ کافی سارے اسٹوڈنٹس وہاں جمع ہوتے تما شا انجواۓ کرنے لگے۔ اس لڑکی کی آنکھوں کے آنسو بلال سے چھپے نہ رہ سکے۔ کان پکڑے وہ اٹھک بیٹھک کر رہی تھی۔

زویا۔۔۔۔۔! کسی کی آواز پے وہ لڑکی رکی۔ اور پلٹ کے دیکھا۔ تو اسکی جان میں جان آٸ۔

آپی۔۔۔!! زویا نے روتے ہوٸے اسے پکارا۔ لمظ سخت گھوری سے سامنے کھڑے اس ڈھیٹ انسان کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔

آپی۔۔۔! میں۔۔ نے آپ کو۔۔۔ ڈھونڈا۔۔ آپ۔۔نہیں۔۔۔ ملیں۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔ ارحام تو سامنے لمظ کو دیکھتا چہرے پے مسکراہٹ خود بخود آگٸ تھی۔

تمہاری جرات کیسے ہوٸ۔۔میری بہن کو تنگ کرنے کی۔۔۔؟؟ غصے سے وہ ارحام کے سامنے جا کھڑی ہوٸ۔

سبھی یونی والے اب کی بار بہت دلچسپی سے ٹام اینڈ جیری کی لڑاٸ دیکھنے پہنچ چکے تھے۔

اچھا۔۔۔۔۔ یہ۔۔ تمہاری بہن ہے۔۔۔؟ لیکن مجھے ۔۔۔کیسے ۔۔پتہ چلتا۔۔۔؟؟ کوٸ ٹیگ نہیں لگا تھا ناں۔۔۔۔! کہتے ساتھ ہی وہ ہنسا۔ جبکہ وہاں مجود باقیوں کے چہرے پے بھی تبسم بکھیر گیا۔

لمظ کے تو سر لگی پیر بجھی۔

اپنی حد میں رہو۔۔ ٹام۔۔۔۔ اور خبردار جو میری بہن کے نزدیک بھی بھٹکے۔۔۔ منہ توڑ دوں گی تمہارا۔۔۔ انگلی اٹھا کے وارن کرتی وہ ارحام کو اس چیلنجنگ انداز میں بہت بھاٸ۔ایک کتاب تو اٹھا سکتی نہیں۔۔۔ منہ توڑو گی۔۔۔؟؟ ارحام نے اسے تپایا۔

اچھ۔۔۔ااا کیسے۔۔توڑو۔۔گی۔۔۔؟؟ ارحام نے آگے ہوتے اس کا مذاق اڑاتے پوچھا۔

ٹام۔۔۔۔ تم۔۔۔ دور رہنا۔۔۔ ورنہ ڈین کو شکایت لگا دوں گی۔۔ آخر وہی پرانی دھمکی دی۔ ارحام نے نفی میں سر ہلایا۔

چھی چھی۔۔۔۔ بس۔۔ وہی گھسے پٹے الفاظ۔۔۔ !ویسے مجھے چیلنج نہ ہی کرو تو بہتر۔۔۔ ہے۔۔ تمہارے لیے۔۔۔ کیوں کہ ۔۔دور رہنے کا کہہ کے تممجھے پاس آنے پے اکسا رہی ہو۔۔۔۔ ! کہتے ساتھ ہی دو قدم لیتا اس کے بالکل نزدیک جا کھڑا ہوا۔ اور وہ ایک جھٹکے سے کرنٹ کھاتی پیچھے ہٹی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *