Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 29)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

کیا ہوا۔۔۔؟؟ ابی جان نے اندر آتےہی پوچھا۔

یہ دیکھیں۔۔۔! بلا رہا ہوں۔۔ آنکھیں نہیں کھول رہی؟؟

ارتسام نے عروش کیجانب اشارہ کرتے پریشانی سے کہا جبکہ اسکےگال پے مسلسل تھپکی دے کے اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔

ابرش نے آگے بڑھ کے چیک کیا۔

اسے تو بہت تیز بخار ہے۔ ابرش نے فوراً ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے تو اس نے ہڑبڑا کے آنکھیں کھولیں۔

آنکھیں حد درجے تک لال تھیں۔

ٹھیک ہو؟ ارتسام کے لہجے میں حد درجے پریشانی تھی۔ سب کو اپنے روم میں پریشان کھڑا دیکھ وہ شرمندہ ہوتی بمشکل ابرش کاسہارا لیتی بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹیک لگا گٸ۔

بیٹا۔۔ اتنی زیادہ طبعیت خراب ہوگٸ تھی۔ بتانا چاہیے تھا ناں؟

ابی جان نے فکر مندی سے کہا۔

ابی جان غلطی میری ہے۔ میں ہی ۔۔ لاپرواہی کر گیا۔ مجھے پتہ تھا اسے بخار ہے۔ پھربھی۔۔۔ رات بھر ۔گھر نہ آسکا۔ ارتسام شرمندہ ہوا ۔

آپ ۔۔عروش کا چیک اپ کریں۔اور۔۔۔ ابرش بیٹا۔۔ آپ عروش کے لیے ناشتہ لےکےآٸیں ۔

ابی جان وہیں پاس بیٹھیں ۔

ایم سوری۔۔ میری وجہ سے سب پریشان ہوگۓ۔

عروش نے سر جھکاتے نخیف آوازمیں کہا ۔

بیٹا ۔۔ اپنا خیال رکھا کریں ۔ اور کوٸ فکر نہ پالیں۔

ابرش ملازمہ کے ہاتھ سوپ بجھواتی خود بھی ساتھ آگٸ۔

بھابھی۔۔۔؟؟ کدھر ہیں؟ چلنا نہیں۔۔؟؟ ارحام نے باہرسے آواز دی۔

ابرش نے ابی جان کی طرف دیکھا۔

جاٸیں آپ۔۔! ؟میں یہیں ہوں۔۔ فکر نہ کریں۔

ابیجان نے ابرش کو تسلی دی۔

ارتسام عروش کا چیک اپ کرچکا تھا۔ اب اسے سوپ پلا رہا تھا۔ ابرش اجازت لیتی باہر نکل آٸ۔ اور ارحام کو عروش کی طبعیت کا بھی بتا دیا ۔

صد شکر تھا۔ کہ زیادہ مسٸلہ نہ ہوا تھا۔ اب دونوں گاڑی میں بیٹھے ہاسپٹل ج رہے تھے۔

دیور جی! زرا احتیاط سے۔ جلاد بھی وہیں ہیں ۔

ابرش نے مسکراہٹ چھپاتے ارحام کو تنگ کیا۔

بھابھی۔۔۔! مجھے انکی نہیں بھاٸ کی فکر ہے۔۔ انہوں نے منع کیا تھا۔ کہ لمظ کے قریب نہ جانا۔۔۔ منہ بناتا کہتا وہ ابرش کو بہت پیارا لگا۔

ہاں تو قریب نہ جانا۔ناں۔۔ دور سے ہی دیکھ لینا۔ ابرش نے تنگ کیا۔

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ ارحام نے اعتراض کیا۔

بیٹا جی۔۔۔! تھوڑا ٹھنڈا کر کے کھاٶ۔ یہ نہ ہو۔۔ تیزی میں منہ ہی جلا لو۔۔۔! ابرش نے سمجھایا۔

تھینک یو بھابھی۔۔۔!ارحام نے مسکرا کے اسےدیکھا۔

کس لیے؟ آٸ برو اچکاٸ۔

میرا ساتھ دینے کے لیے۔۔

ارحام۔۔ !میں نے خود سے عہد کیا ہے۔ کہ ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دوں گی۔ اور میں نے وہی کیا۔ کل جب غلط تھا تو غلط کو غلط کہا ۔

آج تم صحیح ہو۔۔ ابی جان صحیح ہیں۔ تو کیسے صحیح نہ کہوں آپ کو؟

آگے پیچھے سیکیورٹی کی گاڑیوں سمیت وہ ہاسپٹل میں داخل ہوۓ۔

ابتسام کا حکم تھا کہ ابرش جب بھی باہر نکلے بنا سیکیورٹی کے وہ باہر نہ نکلے۔ ۔

کیونکہ اسے اب فاریہ سے بھی ابرش کے لیے سخت خطرہ تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

کافی دیرادھر سے ادھر پارک میں چکر لگاتا اب وہ ایک بینچ پے بیٹھا۔ اسکا باڈی گارڈ اسکیجانب بڑھا۔ اور پانی کی بوتل اسکی جانب بڑھاٸ۔ جبکہ اسکے ہاتھ میں گن تھی۔ اور دو سیکیورٹی گارڈز پیچھے کھڑے تھے۔ اور چوکنا تھے ۔

ارحام کے ساتھ اپنا رویہ یاد آیا تواپنا ہی دل دکھا ۔

سر جھکاۓ بیٹھے ابھی اسے پانچ منٹ ہی گزرے تھے۔ کہ یو ٹیوبر حاشر کامی اس کے پاس کیمرہ لیے پہنچ گیا ۔

سر۔۔! مجھے آپ کے صرف پانچ منٹ چاہییں ۔ سیکیورہی گارڈ کو گن اپنی طرف کرتا دیکھ۔ کامی گھبراتے ہوۓ فوراً بولا۔

اسکے ساتھ کیمرہ مین بھی تھا۔

ابتسام نے سیکیورٹی گارڈ کو گردن کے اشارے سے اجازت دی۔ تو وہ سرہلاتا کامی کو گھورتا ساٸیڈ پے ہوا۔

سر۔۔! جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ میں حاشر کامی ہوں اور۔۔ ٕیوٹیوب۔۔۔۔؟؟

کام کی بات کرو ۔ ابتسام نے اسے بیچ میں سرد انداز میں ٹوکا ۔

تو وہ سٹپپٹا گیا۔

سر۔۔ مس فاریہ سے آپ کا کیا ریلیشن ہے؟

سوال پے ابتسام نے اسے اچھا خاصا گھوری سے نوازا۔ کہ وہ گھبرایا۔

کوٸ تعلق نہیں۔۔ اور کوٸ وقت ہوتا تو وہ اس جیسے کا منہ توڑ دیتا۔ لیکن ابھی وہ بہت سوچ سمجھ کے جواب دے رہا تھا۔کہ فاریہ کو اسی کے جال میں پھنسا دے۔

سر۔۔! وہ پریگننٹ ہیں۔ اور انکا کہنا ہے۔ وہ بچہ آپ کا ہے۔

ہونہہ۔۔۔!ابتسام طنزیا ہنسا۔

اپنی ہی ویڈیو میں وہ آپ کے جتنے قریب تھی۔ مجھےتو لگتا ہے وہ بچہ آپ کا ہے۔

ابتسام نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔ تو اسکی بولتی ہی بند ہوگٸ۔

لیکن سر۔۔۔! الزام آپ پے ہے۔۔۔! دھیمی آواز میں کمزور سااحتجاج کیا۔

کیا ثبوت ہے؟ دوبدو جواب آیا۔

سر وہ رپورٹ؟

اس میں صرف اتنا لکھا ہے وہ پریگننٹ ہے۔ کس کا بچہ ہے۔۔۔؟ یہ نہیں لکھا۔ ثبوت لے آٶ۔۔۔ کہ میرا بچہ ہے۔۔؟ میں مان جاٶں گا۔

سردو سپاٹ لہجے میں کہتا ابتسام اٹھتا ہواوہاں سے جا چکا تھا۔ ہاتھ کے اشارے سے گارڈ کو چلنے کا کہا۔ تو وہ پھر سے کامی کو ایک گھوری سے نوازتا۔ ابتسام کے ساتھ ہولیا۔

جبکہ کامی تو ابتسام کی پرسنلٹی اس کے انداز اور شخصیت کے سحر میں بری طرح جکڑا گیا تھا۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

جیسےہی وہ گاڑی سے اترا۔ ابرش کو ارحام کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا جاتادیکھ چکا تھا۔ سیدھا ابی جان کے پاس گیا۔

ابی جان۔۔! ابرش ارحام کے ساتھ کہاں گٸ ہے؟

ابی جان نے ایک نظر ابتسام پے ڈالی۔ اور واپس اپنے کام میں جت گٸیں۔ انہوں نے ابتسام کو جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔

ابی جان۔۔؟؟ آپ بتا کیوں نہیں رہیں؟ ابتسام کے لہجے کی پریشانی ابی جان نے باآسانی نوٹ کی۔

اپنے بابا سے ملنے گٸ ہے۔ کتاب کو ایک طرف ریک پے رکھتے وہ اٹھتے ہوۓ سپاٹ اندز میں بولیں۔

بابا سے ملنے؟ ارحام کے ساتھ؟ ابتسام کو کچھ ہضم نہ ہوا۔

مجھ سے اجازت لے کے گۓ ہیں۔ آپ کو کوٸ اعتراض ہے؟ ابی جان کے سرد انداز کو ابتسام نے اب محسوس کیا۔ اور نظریں اٹھاتے انہیں حیرت سے دیکھا۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

وہ رہے سامنے۔۔۔ ہٹلر۔۔۔ آپ کے سسر جی۔۔۔ بچ کے۔

ابرش نے دھیرے سے کہا۔

ڈونٹ یو وری بھابھی۔ ارتسام بھاٸ کی وجہ سے کافی یہاں جان پہچان ہے۔ میں کوٸ نہ کوٸ جگاڑ لگا لوں گا۔

آنکھ ونک کرتا وہ مسکرایا۔

ٹھیک ہے۔ آدھے گھنٹے بعد یہیں ملاقات ہوتی ہے۔ آپ کے بھاٸ محترم یہاں پہنچ کے کام خراب نہ کردیں۔ اس لیے صرف آدھا گھنٹہ ۔ او کے۔۔۔! وارن کرتی وہ مسکرا کے بولی۔ تو ارحام سر تسلیم خم کرتا نظر بچا کے وارڈ بواٸے کی جانب بڑھا۔ کچھ پیسے وغیرہ دے دلا کے ۔ اس نے حبیب صاحب کو وہاں سے ہٹایا۔ انکی بیوی وہاں نہیں تھی۔ بلکہ وہ تو یہاں کہیں بھی نہیں تھی۔

خیر ارحام کو کیا لینا دینا۔ اسے اپنی لمظ سے ملنا تھا۔ جن الفاظ سے اسے تکلیف پہنچاٸ ۔ اس پے مرہم رکھنا تھا۔

چپکے سے اندر داخل ہوا۔ وہ بستر پے آنکھیں موندے سوررہی تھی۔۔۔؟؟ یا یوں ہی آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔ ارحام سمجھ نہیں پایا۔

اسکے قریب جاتے اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔

جو ایک ہی دن میں مرجھا کے رہ گیا۔ سر پے پٹی بندھی تھی۔ وہ سیڑھیوں سے کیسے گری؟ ارتسام بھاٸ نے نہیں بتایا۔ لیکن وہ جاننا چاہتا تھا۔ اسکے قریب بیٹھتا اسکا ہاتھ تھام چکا تھا۔

وہ نرم و نازک ہاتھ۔ اس نے بے اختیار اپنے لبوں سے لگایا۔

محبت تو دور کی بات۔۔۔ تم تو محبت کے میم سے بھی واقف نہیں۔۔۔۔ محبت میں۔۔ اپنی ہستی کو فنا کر دیتے ہیں۔۔ ناکہ جس سے محبت کی جاۓ اسکی ہستی مٹا دیتے ہیں۔۔۔

ابتسام کے الفاظ یاد آۓ تو باوجود ضبط کےایک آنسو پھسلتا گال پے آن گرا۔

شاید بھاٸ نے صحیح کہا ہے۔۔۔ ساری رات لمظ تکلیف میں تھی۔ اور مجھے ۔۔۔ احساس تک نہ ہوا۔۔۔؟؟

آنکھیں کھولتے وہ سامنے سوٸ اس معصوم گڑیا کو دیکھتا رہا۔

مجھے معاف کردو۔۔ لمظ ۔۔۔؟؟ میں واقعی۔۔ تمہارے قابل نہیں۔۔۔ کہتے پھر سے آنسوٶں پے ضبط کیا۔

اسی اثنا میں لمظ نے اپنا ہاتھ ارحام کے ہاتھ سے کھینچا۔ ارحام نے حیرت سے اسکا چہرہ دیکھا۔ اسکی آنکھیں ابھی بھی بند تھیں۔ لیکن آنسو بہتے تکیے میں جذب ہوۓ تھے ۔

لمظ۔۔۔۔ ؟؟ تم ۔۔۔تم سن رہی ہوناں۔۔۔؟؟ پلیز ۔۔آنکھیں کھولو؟ ارحام بے چینی سے اسکے اوپر جھکتا بولا۔

لیکن لمظ نے آنکھیں نہ کھولیں۔ وہ اس بے وفا کو نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ جس نے ایک پل میں اس کی زات کو بے مول کر دیا۔

لمظ۔۔۔۔؟؟ اب کی بار اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کرتا وہ اس کے دل کی دھڑکنوں کو منتشر کر گیا۔

پلیز۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔؟ورنہ۔۔ میرا دل درد سے پھٹ جاۓ گا۔۔۔۔! ضبط کے باوجود وہ اپنے دلکا درد نہ چھپا سکا۔

لمظ نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ کیا کچھ نہ تھا ان آنکھوں میں۔؟

ارحام نے سکھ کا گہرا سانس خارج کیا۔

ایم سوری۔۔۔ پلیز معاف کردو۔۔۔۔ ! اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامے وہ بہت لجاجت سے بولا۔

لمظ نے لب بھینچتےرخ پھیر لیا۔ ارحم تڑپ ہی گیا۔

لمظ۔۔۔۔؟؟ مجھ دے لڑو جھگڑو۔۔۔ مجھے۔۔۔ مار لو۔۔۔ لیکن۔۔۔ یوں چپ نہ رہو۔۔۔ رخ نہ پھیرو۔۔۔؟؟ ارحام نے ضبط کا مضاہرہ کرتے منت بھرے لہجے میں کہا۔

ارحام۔۔۔! واپس لوٹ جاٶ۔۔۔! اب ہمارے بیچ کچھ نہیں۔۔ !!

بنا ارحام۔کو دیکھے وہ دھیمے لہجے میں بولی۔

نہیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ جان لے لوں گا تمہاری بھی۔۔ او اپنی بھی۔۔۔!جنونیت سے کہتا وہ لمظ کے دل کو ایک بار پھر سے دھڑکا گیا۔

مر جاٶں گا۔۔۔ اور تمہیں بھی مار دوں گا۔ اگر الگ ہونے کی بات کی تو۔۔۔! تم صرف میری ہو۔ صرف میری۔ کوٸ میں جدا نہیں کر سکتا۔۔۔ سواۓ موت کے۔۔۔! ایک پختہ عزم تھا۔ اس کے لہجےمیں۔

لنظ نے اسکی جانب دیکھا۔

کیسے یقین کرلوں۔۔؟؟ ہر بار تم بدل جاتے ہو۔۔۔ہر بار مجھے لگتا ہے۔۔ میرے سامنے کوٸ اور ارحام کھڑا ہے۔۔

جسے میں ۔۔۔ شاید جان ہی نہیں پاٸ۔

لمظ کے اندر دکھ بھرا تھا۔

اسکے آنسو صاف کرتا ارحام اسکے ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگاۓ خود میں حوصلہ پیدا کر رہا تھا۔ کہ وہ اپنی محبت کو یقین بخش سکے۔

آخری بار معاف کردو۔ آٸندہ کبھی دکھ نہیں دوں گا۔ وعدہ۔۔۔ !اسکے اندر کا یقین۔ لمظ کو سکون دے رہا تھا۔

اس نے سکون سے آنکھیں موندیں۔

آٸندہ اگنور کیا تو جان لے لوں گی۔۔۔۔! کہتے پورے حق سے اسکی جانب دیکھا۔ تو ارحام کے چہرے پے مسکراہٹ بکھر گٸ۔

میں حاضر ہوں۔۔ ابھی بھی لے سکتی ہو۔۔۔! سارے حق تمہارے ہیں۔ صرف میری لمظ کے۔

گھمبیر آواز میں کہتا وہ لمظ کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر گیا۔

کہ تبھی حبیب صاحب اندر داخل ہوۓ۔ ارحام کو سامنے فیکھ وہ بری طرح ٹھٹھکے تھے۔

تم یہاں۔۔۔؟؟ تم یہاں کیاکر رہے ہو۔۔۔۔۔؟ غصے سے آگے بڑھے۔

ملنے آیا تھا۔۔۔ اپنی ہونے والی بیوی سے۔ پر اتماد انداز میں جواب ہوا۔

ہونے والی ہے۔۔۔ ہوٸ نہیں۔۔ اور بہتر ہوگا۔۔۔ جب تک ہو نہ جاۓ دور رہو۔۔۔۔

انہوں نے بھی بنا لحاظ کے دنا کے رکھ دیا ۔

ارحام بس مسکراتا رہ گیا

اڑ لو سسر جی ۔۔۔ جتنا اڑنا ہے ہواٶں میں۔۔۔بہت جلد آپ کو زمین پے لاۓ گا یہ آپ کا داماد۔

ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔؟ انکو ارحام کا دیکھنا رجیب سا لگا۔

بہت پیارے لگ رہے ہو سسر جی۔۔۔ ! ایک سیلفی ہوجاۓ۔

کہتے ہی موباٸیل نکالا۔ او ان کے کاندھے پے ہاتھ رکھے انکے منہ بنانے کی پرواہ کیے بغیر تصویر بنانے لگا۔

پیچھے ہٹو۔ انہوں نے خود پے قابو کرتے اس پاگل کو دیکھا ۔ اس وقت وہ انہیں پاگل ہی لگ رہا تھا۔

Love you susar g.

پھر ملاقات ہوگی۔

فلاٸنگ کس پاس کرتے وہ ایک آنکھ ونک کرتا باہر نکلا۔

لاحولا قوتہ۔۔۔۔! کس قسم کا انسان ہے یہ۔۔۔؟؟ کیا اچھا لگا اس میں تمہیں۔۔؟؟

انہوں نے لمظ سے پوچھا۔ جس کے چہرے پے اب دھیمی مسکان تھی۔ جو حبیب صاحب کوسکون بخش رہی تھی۔

آپ کو نہیں اچھا لگتا کیا۔۔۔؟؟ بہت مان سے پوچھا۔

سوچ رہا ہوں۔۔۔ اس شخص کے کتنے روپ ہیں۔۔۔؟؟ کل کسطرح بول کے گیا۔۔۔۔ اور آج۔۔؟؟ کتنا بدلا بدلا سا لگ رپا ہے۔۔۔؟؟ کیسے کروگی اسکے ساتھ گزارا۔۔۔۔؟؟

انہوں نے ٹینشن ہی لے لی۔

بابا۔۔۔۔! وہ ۔۔۔بہت اچھا ہے۔۔۔۔!جب آپ ساتھ ریں گے ۔۔تو جنن جاٸیں گے۔ ان کا ہاتھ تھامے کہا۔

حبیب صاحب نے ایک نظر لمظ کو دیکھا۔

میں کیوں رہنے لگا اس پاگل اور سنکی کے ساتھ۔۔۔؟؟ تم ہی رہنا۔۔۔۔۔! کہتے ہوۓ اٹھے۔ جبکہ ایک تبسم تھا۔لمظ کے چہرے پے۔۔۔ کہ وہ دل ہی دل میں اس رشتے کے لیے راضی ہوگۓ تھے۔

لیکن ابھیبھی اسے اپنی ماں کا ڈر تھا۔ کیونکہ وہ یہی چاہتی تھیں۔ کہ لمظ اپنے ماموں کے گھر جاۓ۔ وہاں جہاں سب ان پڑھ تھے۔ اور عورت کو پاٶں کی جوتی سمجھتے تھے۔ سوتیلی ماں بھلا کب اچھا سوچ سکتی تھی۔

لمظ نے آنکھیں موند لیں۔ ۔

حبیب صاحب لمظ کو سوتا دیکھ باہر نکلے۔ لمظ کے ڈسچارج پیپرز بنانے تھے۔ اب وہ پہلے سے کافی بہتر تھی۔

لیکن رستے میں انہیں ابرش مجیب شمس کے ساتھ ایک وارڈ روم میں جاتی دکھاٸ دی۔ ان کا ل کسی انہونی پے دھڑکا۔

وہ آنکھوں سے اوجھل ہوگۓ تھے۔ حبیب صاحب نے اس وارڈ کا رخ کیا۔

دروازہ ادھ کھلا تھا۔ اندر جھانکا۔

بابا۔۔۔! اب آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔ چھوٹا سا آپریشن ہے۔ اوت مجھے یقین ہے۔ آپ ضرور ٹھک ہوجاٸیں گے۔ ابرش نے انہیں سہارا دے کے بٹھاتے کہا۔

بیٹیا۔۔۔! اب کیا جینا۔۔۔؟؟ اب تو بس۔۔۔ جی چاہتا ہے۔کہ خاموشی سے نیند کی چادر اوڑھوں اوت سوجاٶں۔۔۔

تکیے کے ساتھ ٹیک لگاتے گہرا سانس خارج کرتے تھکن بھرے لہجے میں کہا ۔

ایسے مت کہیں بابا۔۔۔! آپ میری ہمت ہیں۔ میرا حوصلہ۔۔۔! اور آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔

ابرش اندر ہی اندر ڈری ہوٸ تھی۔ لیکن ہمت نہیں ہار رہی تھی۔ اسے اپنے بابا چاہیے تھے۔

ڈاکٹرز نے صاف کہہ دیا تھا۔کہ آپریشن ضروری ہے۔ اس کے بعد ایک میجر آپریشن تھا۔ لیکن پہلا آپریشن رسکی تھا بہت۔ اس میں 40 پرسنٹ چانس تھے بچنے کے۔

لیکن رسک کے علاوہ اور کوٸ راستہ نہ تھا۔ جس اسٹیج پے اناک کینسر تھا۔ انہیں ہر روز موت کے منہ میں لے جا رہا تھا۔

بیٹا۔۔۔! یہ کوٸ چھوٹی بیماری نہیں۔۔ کینسر ہے۔ اور میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ اسکا علاج آخری اسٹیج پے ناممکن ہے۔ اس لیے نہ خود جھوٹی امید پے رہو۔ نہ مجھے جھوٹی امید دلاٶ۔

بلکہ میری بات مان جاٶ۔ مجھے گھر لے چلو۔ میں اپنی زندگی کے آخری دن اپنے گھر گزارنا چاہتا ہوں یہاں ہاسپٹل میں نہٕں مرنا چاہتا۔۔۔

بابا۔۔۔۔! ابرش ان کی بات پے تڑپ ہی گٸ۔ اپنے آنسوٶں پے ضبط مشکل لگا۔ تو وپاں سے اٹھتی دروازے کی جانب بھاگی۔ کہ دروازے میں ایستادہ بت بنے حبیب صاحب کو دیکھ کے ٹھٹھک کے رکی۔ لیکن پھر واپس باہر نکل گٸ۔

حبیب صاحب کے قم دروازے میں ہی پیوست ہو کے رہ گۓ۔ انہیں یقین نہ آیا کہ انکا سگھا بھاٸ کینسر جیسے مرض سے لڑرہا ہے۔ انکی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔ لرزتے وجد اور تھکے قدموں سے وہ بھاٸ کےپاس گۓ۔ مجیب صاحب کا ل انے بھاٸ کو دیکھتے ہی خوچی سے جھوم اٹھا۔ اک دلفریب مسکراہٹ ان کے لبوں پے سج گٸ۔

اب کیا رہا پاس۔۔۔۔ کہ لوٹا دوں تجھ پے میرے بھاٸ۔۔۔

مر رہا ہوں سسک سسک کے۔۔ اب تو لوٹ آٶ میرے بھاٸ۔۔۔!

بہت گہر ے درر سے انہوں نے کہا۔ تو حبیب صاحب ان کے قدموں میں بیٹھ گٸے۔ ان کے پاٶں پکڑ لیے۔ آنھوں سے آنسو رواں تھے۔ جبکہ زبان کچھ بولنے کے قابل ہینہ رہی تھی۔

کیا ہوا۔۔۔ حبیب۔۔۔ میرے یار۔۔۔؟؟ مت۔۔ رو۔۔۔!یہاں آ۔۔۔ میرے پاس۔۔ ! ا سینے سے لگ کہ۔۔۔ دل اداس بہت ہے۔۔ تڑپ رہا ہے برسوں سے۔۔۔ اپنے ماں جاۓ سے ملن کے لیے۔۔۔! کہتے ہوۓ انکی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ حبیب صاحب فوراً آگے بڑھتے بھاٸ کے سینے سے جا لگے۔

دونوں بھاٸ روتے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کررہے تھے۔ اور ابرش جو لمظ سے ملنے کے بعد واپس آرہی تھی۔ دروازے میں کھڑی ان دونوں بھاٸیوں کے پیار کو دیکھتےآسودگی سے مسکاٸ۔ اور آنسو پونچھے۔

کہ تبھی موباٸل پے ابتسام کی آتی کال دیکھ وہ تھوڑا سا گھبراٸ۔ ۔

اور واپسی کے لیے قدم بڑھاۓ۔ البتہ کال نہ پک کی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابی جان۔۔۔! آپ ناراض ہیں مجھ سے؟ ابتسام کو انکے انداش سے یہی لگا۔

جو آپ نے کیا ۔ کیا اس پے مجھے خوش ہونا چاہیے؟

ابی جان نے سنجیدہ انداز میں جواب دیا۔

ابی جان۔۔۔!ارحام نے غلط کیا۔ اسے احساس۔۔۔؟؟

ابتسام! اگر ارحام غلط ہٕیں۔ تو صحیح آپ بھی نہیں۔۔۔ وہآپ کی پرچھاٸ ہے۔ آپ نے تو اسے اپنا بیٹا مانا ہے ناں۔۔۔؟؟ پھر سوچیں کہاں بھول ہوگٸ آپ کی تربیت میں؟ ابی جان نے آٸینہ دیکھایا۔ تو وہ پ ہی کر گیا۔

آپ کو اپنی کی ہوٸ تربیت پے شک ہوگا۔ مجھے نہیں ہے۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔ میرا ارحام کبھی کچھ غلط نہییس کرے گا۔۔۔ اور۔۔ اکثر۔۔ جو دکھتا ہے۔وہ ہوتا نہیں۔۔۔! اس لیے آپ سے اتنا کہوں گی۔ اپنوں پے اعتبار کرنا سیکھیں۔ بنا اعتبار کے کوٸ رشتہ مضبوط نہیں ہوتا۔

ابی جان نے اسے سمجھاتے چشمہ آنکھوں پے لگاتے دوباتہکتاب کا مطالعہ شروع کیا۔

آپ کو لگتا ہے۔۔۔ میں غلط ہوں۔۔؟؟ ابتسام کو برا لگا ان کی بات پے۔

ارحام کو اسکی محبت سے الگ کرنے کی بات کی آپ نے۔ تو وہ غلط ہے۔۔۔! چشمہ کی اوٹ سے دیکھتے کہا۔ تو ابتسام لب بھینچے پاں سے نکل گیا۔

مطلب۔۔۔ اب ابی جان بھی اسے غلط سمکھ رہی تھیں۔

اسکے جانے کے بع ابی جان گہری سوچ میں ڈوب گیٸں۔

اللہ میرے گھر کو حاسد کی نظروں سے بچا کے رکھنا۔ میرے بچے ایک بار پھر سے نہ سی آزماٸش میں پڑ جاٸیں۔

ہ فل سے دعا کر رہی تھیں۔

ابتسام روم میں آتے ادھر سے ادھر چکر کاکاٹ رہا تھا۔ کہ اسے ابرش کا خیال آیا فوراً اسے کال ملاٸ۔ جو اس نے پک نہ کی۔ تو غصہ آتش فشاں بننے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *