Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 28)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 28)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
وہ پانی میں ڈوبتی ہاتھ پیر ماررہی تھی ۔ جبکہ ابتسام وہیں کھڑا اپنے جھٹکے ہوۓ ہاتھ کو حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔
پہلی بار کسی نے ہاتھ جھٹکا۔۔۔ وہ بھی کوٸ اور نہیں۔۔۔اسکی اپنی بیوی جو اسکی سانسوں میں بس گٸ تھی۔ اسکی چاہت بن گٸ تھی۔ کیسے
۔۔۔۔۔کیسے کرسکتی تھی وہ۔۔۔؟؟
ساااا۔۔۔۔۔ممممم۔۔۔۔ پانی سے سر اونچا کرتی وہ بمشکل بولتی پھر سے پانی کے اندر چلی گٸ ۔ اسے لگا اسکا سانس بند ہوجاۓ گا۔
ابتسام کی نظر آواز پے پانی میں ڈوبتی ابرش پے اٹھی تو ایک لمحے کی دیری کیے بنا پانی میں چھلانگ لگاٸ۔ اور ابرش کو کمر سے پکڑ کے اپنی اَور کھینچا۔
پانی سے نکلتےہی ابرش نے ایک گہرا سانس بھرا۔
ابتسام کے کندھے پے بازو رکھے وہ اسکے چہرے کے بالکل قریب تھی۔ ابتسام اسکی اکھڑی سانسیں دیکھ پریشان ہوا۔
فوراً سے اسے لیے باہرنکلا۔
وہ ٹھنڈ سے کانپ رہی تھی۔ اور لمبے لمبے سانس بھر رہی تھی۔
ابر۔۔۔۔؟؟ ٹھیک ہو۔۔۔؟؟
خود بھی باہر نکلتے اسکے مقابل بیٹھتے ابتسام نے اسے پکارا۔ اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔
خود بھی گیلا ہوتا وہ ابرش کی پرواہ کر رہا تھا۔
ابرش نے اسکی طرف لرزتے ہوۓ گردن موڑی ۔
خود کے گرد بازو لپیٹے وہ بہت درزیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
ابتسام نے اٹھتے ہی اگلے لمحے اسے اپنی بانہوں میں بھرا۔ اور روم کی جانب قدم بڑھاۓ۔
روم میں آتےہی اس نے ہیٹر آن کیا ۔
ابرش۔۔ کپڑے چینج کر لو۔۔۔ ورنہ ٹھنڈ لگ جاۓ گی۔ دھیمےلہجے میں کہتے وہ اسکے پاس سے ہو کے گزرتا خود باتھ روم میں بند ہوگیا ۔
ابرش بمشکل چلتے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی۔ چینج کرتے وہ جب باہر آٸ تو روم کی لاٸیٹ آف تھی۔ روم ٹمپریچر بھی اب اچھا خاصا گرم تھا۔ وہ ایک ساٸیڈ پے ہوتی بستر۔ کی جانب بڑھی۔ اور لیٹ گٸ۔ آج سارا دن میں جو کچھ ہوا۔ وہ سوچتے اسکا دل دکھا۔
وہ کسیبھی وجہ سے اپنے اور ابتسام کے بیچ دوری نہیں لاسکتی تھی۔ ۔۔ فاریہ کی ویڈیو یاد آٸ تو ایک غصے کی لہر اسکے اندر دوڑی۔
کروٹ بدلی تو نظر ساتھ خالی بستر پے گٸ۔
ہاتھ پھیر کے چیک کیا۔ لیکن ابتسام وہاں نہ تھا ۔باتھ روم کی لاٸٹ بھی آف تھی ۔
یہ کہاں۔۔۔ چلے گۓ۔۔۔؟؟ کمفرٹر پیچھے کرتی وہ اٹھی۔ فیکھا تو وہ بالکنی میں ہی نظر آگیا۔
اسکی جانب بڑھتے ابرش کو احساس ہوگیا کہ وہ سگریٹ کےساتھ شغل فرما رہاہے۔ اور ابرش کو سگریٹ سے اتنی ہی الرجی تھی ۔
ناک کے آگے دوپٹہ رکھے وہ اس کےپاس آٸ۔ جبکہ ٹھنڈی ہوا سے ایک منٹ کے لیے وہ لرز کے رہ گٸ۔
آپ یہ کام بھی کرتے ہیں۔ ۔۔۔؟؟
طنز بھرے لہجے میں پوچھا۔ ابتسام نے گردن موڑ کے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔













ارحام۔۔۔ تم۔نے بہت غلط کیا۔۔۔ ایک تم۔۔۔ اتنی بڑی باتیں کر کے گۓ۔۔۔ اور اب تم۔۔۔ میری کالز بھی اگنور کر رہے ہو۔۔؟؟ میں اب تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔۔۔۔
روتےہوۓ وہ لیٹی تھی۔ اسے ارحام کے روۓ پےبہت دکھ ہوا تھا۔ وہ جانتی تھی ۔ ساری غلطی اسکے باپ کی ہے۔ وہاپنے باپ کی ساٸیڈنہیں لے رہی تھی لیکن ارحام کے لفظوں کا زہر اسکے اندر نفرت بھر گیا تھا
اپنی محبت کو کوٸ کیسے کہہ سکتا تھا۔۔۔
ہمیں آپ کی کوٸ ڈیمانڈز قبول نہیں۔۔ ! آپ اپنی بیٹی رکھیں اپنے پاس۔۔۔! اور کوٸ اچھا اور امیر گاہک ڈھونڈ کے بیچ دیجے گا۔۔۔ ہمیں نہیں کرنا یہ سودا ۔
لمظ پھر سے اٹھ کے بیٹھ گٸ۔۔۔ اسے کسی پل سکون نہیں آرہا تھا۔ وہ کیوں یہ سب بول گیا۔۔؟؟ اسکا دل کیسے کیا میرے لیے یہ الفاظ بولنے کا۔۔۔؟؟
لمظ کا دم گھٹنے لگا۔ تو اٹھ کے باہر آگٸ۔
باہر آنے پے بھی اسکو سانس لینا محال ہو رہاتھا۔ اسے اپنا سانس رکتا محسوس ہوا۔ وہ واپس اندر روم۔کیجانب بڑھی۔ اسے پھر سے استما کا اٹیک ہوا تھا ۔
اسے لگا باہر نکل کے اس نے غلطی کر دی ۔ کوٸ بھی باہر نہ تھا۔ وہ کس کو آواز دیتی رات کے اس پہر۔۔
سیڑھیاں واپس اوپر چڑھتے وہ سانس بمشکل لیتی بحال کر رہی تھی۔
ما۔۔۔۔ما۔۔۔۔؟؟م؟ بولنا چاہا لیکن آواز گلے میں ہی اٹک کے رہ گٸ۔
اور آنکھو ں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔
دو سیڑھیو ںکا فاصلہ رہتا تھا جو وہ مکمل نہ کر پاٸ۔
اور آنکھیں بند کرتی وہ واپس پیچھے کو سر گراتی سیڑھیوں سے نیچے لڑھکتی چلی گٸ۔۔
لمظ۔۔۔بی بی۔۔۔۔۔؟؟؟
اس لمحے ملازمہ جو پانی کے لیے باہر نکلی تھی۔ لمظ کو سیڑھیوں سے گرتے دیکھ چینخ مارتی اسکے پاس پہنچی۔
لمظ نیچے گری اس کے سر پے چوٹ لگی۔ وہ ہوش و حواس کھوتی بے ہوش ہوچکی تھی۔۔
آواز پے حبیب صاحب اور ان کی مسز بھاگتے باہر آۓ۔لمظ کو زخمی حلت میں زمین پے گرا دیکھ انکولگا ان کی جان نکل گٸ ہے۔















سگریٹ کو زمین پے پھینکتا اسے مسلتا وہ بنا ابرش کی کسی بات کا جواب دیٸے اندر کی جانب بڑھتا سونے کے لیے لیٹ گیا۔ ابرش کو اسکی ناراضگی کی وجہ سمجھ نہ آٸ۔
اسکے پاس بستر پے اسکے قریب ہوتے وہ اسکا رخ اپنی طرف موڑتی سکی بازو کھولتی اس پے اپنا سر رکھ گٸ۔
اس سب عمل کو کرتے ابرش کا دل کتنی بار دھڑکا۔ یہ وہی جانتی تھی۔ یا اسکا اللہ۔
ابتسام اسکا یوں قریب آنا دیکھ کے اندر تک سرشارہوا تھا۔ لین خاموش رہا۔ ۔
اسکے سینے پے بازو رکھے وہ آنکھیں موند گٸ۔
کہ گرم آنسو بہتا ابتسام کی شرٹ میں جذب ہوا۔
ابتسام نے ساری ناراضگی بالاۓ طاق رکھتے اسکی جانب رخ کرتے اسے اپنی بانہوں میں س شدت سے بھینچا۔ کہ ابرش کا سانس رکنے لگا۔
اب۔۔۔ابتسا۔۔۔م۔۔۔ ! سانس زور سے کھینچتی وہ سر اٹھا کے اسکی آنکھو ں میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ جہاں خماری اور ڈھیر سارا پیار نظر آیا۔
اسی خماری میں ابتسام نے اسکے امتھے پے اپنے دھکتے لب رکھے۔ ان دہکتے لبو ں کا لمس پاتے ہی ابرش کے دل کی دھڑکن میں انتشا پیدا ہوگیا ۔
ماتھےسے لبوں تک سفر وہ بہت آسانی سے طے کر گیا۔
سا۔۔۔م۔۔۔۔؟ اسکی شرٹ کو مٹھیمیں مضبوطی سے تھامے چھوٹا سا احتجاج کرنا چاہا۔
شیییییی۔۔۔۔ اسکے لبو ںپے ہاتھ رکھے اسکے مزید قریب ہوا۔
خود آٸ ہو میرے پاس۔۔ میرے جذبات کو ہوا دے کے اب کنارہکشی نہیں کرسکتی۔
وہ اس پے حاوی ہوتا خمار آللود لہجے میں بولا۔ اوت ابرش کی اتنے میں ہی بولتی بند ہوگٸ۔
واقعی اس نے سوۓ شیر کو جگا دیا۔ شیر بھی کونسا۔۔۔؟؟
زخمی شیر۔۔۔
جسے لفظوں کے زخم دیتی وہ اب خود ہی اسکے وجود سے اپنے ان زخموں پے مرہم لگا رہا تھا۔














اچھا اداس مت ہو۔۔ بس۔۔ا بھی نکلنے لگا ہوں۔۔ ٹھیک بیس منٹ میں اپنی جان کے پاس ہوں گا۔
ارتسام جو ایمرجنسی میں آیا تھا رات گۓ تک وہیں رہا۔
عہ یہ بھی بھول گیا کہ اسکی بیوی عروش آج بخار میں تپ رہی تھی۔ لیکن وہ اپنی ڈیوٹی نبھا رہا تھا ۔ اپنا ڈاکٹر ہونے کا فرض۔
کافی انتظار کے بعد بھی جب ارتسام کے گھر آنے کے کوٸ آثار نظر نہ آۓ تو مجبوراً اس نے فون کر دیا ۔
اسے الله حافظ کہتا جیسے ہی فون رکھ کے پلٹا۔
حبیب صاحب کو اندر کی جانب بھاگتے آتے ہوۓ دیکھا۔
انکل۔۔آپ۔۔۔ رات کے اس وقت اچانک۔۔؟؟ ارتسام پریشان ہوتا انکی جانب لپکا۔
آج ہی تو ملاقات ہوٸ تھی جو زیادہ خوش گوار تو نہ تھی لیکن۔۔ پہچان تو بہرحال گیاہی تھا۔
میری۔۔۔ میری بیٹی کو ۔۔دیکھو۔۔۔ پلیز۔۔۔ ؟؟ حبیب صاحب آنکھو ں میں آنسو تھے۔
وہ شخص جو دن کو فرعون بنا ہوا تھا۔ اب اس میں ایک بے بس باپ کی تصویر نظر آٸ۔
نرس اسٹیریچر۔۔۔۔؟؟؟ ارتسام نے اثبات میں سر ہلاتے پاس سے گزرتی نرس کو پکارا۔ نرس جو اسٹریچر لیے جا رہی تھی۔ فوراً پلٹی۔
لمظ کو اسٹریچر پے ڈالے آٸ سی یو کا رخ کیا ۔
حبیب صاحب بمعہ اپنی اہلیہ نگینہ ایک بینچ پے بیٹھتے چلےگٸے۔ انکے ہاتھوں پے لمظ کے سر سے بہتا خون لگا ہوا تھا اپنے ہا تھوں کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
دن کو گزرے لمحات آنکھو ں کے آگے ایک فلم کی طرح چلے تو لمظ کی روتی اور بے بس آنکھیں ان کو بے چین کر گٸیں۔
سختی سے اپنے آنسو ضبط کرتے وہ سر دیوار کے ساتھ لگاتے آنکھیں موند گۓ۔
مسز نگینہ نے لب بھینچے شوہر کو دیکھا۔ لیکن خاموش رہیں۔
لمظ کا کافی خون بہہ گیاتھا۔ اسے بلڈ لگا تھا ۔ کافی گھنٹے گزر گۓ اسے ہوش نہآرہا تھا ۔ ارتسام بھی وہاں سے ایک لمحے کو نہ ہلا۔ عروش کی پھر سے کال آٸیة لیکن وہ اگنور کر گیا۔
لمظ کو ماتھے پے گہری چوٹ آٸ تھی۔ اس پے اسٹیچز لگے تھے۔
اپنا کام مکمل کرتاجب وہ باہر نکلا۔ تو فجر کی ازان ہورہی تھی۔
حبیب صاحب بھاگے اسکی جانب لپکے ۔
کیسی ہے میری بچی۔۔؟؟
چوٹ کیسے لگی انہیں۔۔؟؟ سنجیدہ انداز میں پوچھا ۔
حبیب صاحب نے مڑ کے بیوی کو فیکھا جو نظریں چرا گٸیں ۔ ملازمہ نےانکو بتایاتھا۔ کہ لمظ کا سانس بگڑا تھا جس وجہ سے وہ توازن بر قرار نہ رکھ سکی۔ اور سیڑھیو ںسے نیچے گری تھی۔
وہی بات انہوں نے ارتسام کو بتا دی ۔
انہیں۔۔؟؟ کوٸ سانس کا مسٸلہ ہے۔۔؟
ارتسام کو شک گزرا ۔
جیاسے استما ہے۔۔۔۔! حبیب صاحب کا دل ہزاروں آنسو رویا تھا یہ الفاظ ادا کرتے۔ ارتسام نےافسوس سے سر نفی میں ہلایا۔
جب آپ انکی بیماری کے بارے میں جانتےہیں آپ کوچاہیے تھا آپ انکی کٸیر کریں۔ آپ کو انہیں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔
ارتسام نے بے دبے غصہ میں کہا۔
وہ کیسی ہے اب۔۔؟؟ انہوںسنے دکھتے فل سے سوال کیا ۔
خطرے سے باہر ہیں۔ شکر کریں زیاہ دیر نہیں ہوٸ۔ اور آپ بروقت ہاسپٹل لے آۓ ۔ ۔ اور وہ بچ گٸیں۔ ۔۔
میں مل لوں اپنی بیٹی سے۔۔۔؟؟ بے چین ہوتےکہا
تھوڑی دیر تک وارڈ میں شفٹ کرتےہیں۔ تو آپ مل لیجیے گا۔ اور آٸیندہ خیال رکھیے گا ۔
مزید پاس کھڑی نرشس کو گاٸیڈ کرتا خود مسجد کا رخ کرتا وہ فجر کی نماز ادا کرنے نکلا تھا۔













ساری رات عروش نے سوتے جاگتے گزار دی۔ کبھی روتی تو کبھی غصہ کرتی ۔ اٹھ بیٹھتی۔ ایک بار وہ پھر سے ارتسام سے بدگمان ہونے لگی۔
ایک رات وہ اپنا دل خوش کرتا اسے اپنا آپ سونپتا۔ آج اس سے لاتعلق ہو گیا تھا۔ اور یہی بات اسکے لیے زہنی ازیت کا باعث بن رہی تھی۔ جس سے بخار کم ہونے کی بجاۓ بڑھتا گیا اور صبح تک وہ بخار کی وجہ سے بے سدھ ہوتی بستر پے گری تھی۔
دماغ کے گوشے میں صرف ارتسام ہی تھا ۔












ابتسام جوفجر کی نماز ادا کرنے کے بعد مارننگ واک پے جا رہا تھا۔ ارتسام کو گھر نیں داخلہوتا دیکھ وہیں تھما۔
ارتسام۔۔۔۔؟ اتنی صبح۔؟ کہاں۔۔تھے۔۔۔؟؟
ہاسپٹل ۔۔۔! تھکے تھکے انداز میں کہتا۔ ایک نظر اوپر اپنے روم کے دروازے پے ڈالی ۔
مطلب۔۔۔ تم ساری رات ہاسپٹل میں تھے۔۔؟ جبکہ تم جانتے بی ہو عروش کی طبعیت بھی ٹھیک نہیں ۔
ابتسام نے سنجیدگی سے کہا
بھاٸ۔۔۔! لمظ آٸ سی یو میں تھی ساری رات۔
دھیمے لہجے میں کہتا وہ ابتسام کو بری طرح چونکا گیا ۔ اور پھر ختصراً ساری بات بتا دی ۔ جسے سننے ی دیر تھی۔ ابتسام کا غصہ ساتویں آسمان پے جا پہنچا۔
ارحام۔۔۔۔ارحام۔۔۔۔۔! اونچی آواز میں وہ نیچے کھڑا بھاٸ کو پکارنے لگا۔
ارحام جو ابگی ابھی اٹھا تھا مندی آنکھوں سے ابتسام کی پکار پے باہر کی طرف قدم بڑھاٸے۔
ناسمجھی سے ایک نظر ارتسا اور دوسری طرف ابتسام کے غصے بھرے چہرے کو دیکھتے آگے بڑھا
جی۔۔۔۔؟؟
کیا کہا تم نے لمظ کو۔۔۔؟؟ بنا کسی لگی لپٹی کے غصہ ضبط کرتے اسکے قریب ہوتے پوچھا ۔
ارحام کے ماتھےپے بل پڑے۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔! کہتے ارحام کو لمظ پے غصہ آیا۔ کہ اس نے ضرور ابتسام کو کوٸ شکایت لگاٸ ہوگی ۔
جھوٹ مت بولو۔۔۔ تمہی نے کچھ بولا ہوگا اسے۔۔۔ سچ سچ بتاٶ۔۔۔ کیا بات ہوٸ اس سے۔۔؟؟
ابتسام نے بنا لحاظ کرتے پوچھا۔ جبکہ آواز میں کمال کا ضبط تھا۔
بھاٸ سچ کہہ رہا ہوں۔۔ کچھ بھی نہیں کہا۔۔۔ بلکہ۔۔ رات کو وہ کالز کرتی رہی میں نے تو کال بھی پک نہ کی۔
زچ آتے ارحام نے لب بھینچے کہا ۔
ابتسام نے ایک نظر ارتسام کو دیکھا۔
شور کی آواز سنتے ابی جان اور ابرش بھی ہال میں آچکیں تھیں ۔
تم۔۔۔کیسی محبت کرتے ہو؟ ارحام۔۔؟؟ کہ تم نے اپنی محبت کو موت کے منہ میں پہنچا دیا ۔ جانتے بھی ہو۔۔ ساری رات وہ آٸ سی یو میں رہی۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں۔ اور تم۔۔مزے سے سوتے رہے۔۔؟؟
ابتسام نے اسے آٸینہ دکھایا تو اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں۔
صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔ صرف تمہاری وجہ سے وہ اس حال میں پہنچی۔ ۔ کیا سمجھتے ہو تم خود کو ہاں۔۔؟؟
میں نے تم سے بے انتہا پیار کیا ارحام ۔۔ اور یہ میرا پیار تھا کہ سب کے خلاف جا کے تمہارا رشتہ لمظ کے ساتھ جوڑا۔ دھن دولت کیا ہے۔۔ اپنی جان بھی گروی رکھنا پڑتی تو اپنے بھاٸ پے وار دیتا۔۔۔پہلی بار۔۔۔ میرے حام نے محبت کی۔۔ چاہت کی۔ اس چاہت پے سب قربان کردینے کو تیار ہوگیا ۔
اتنا درد تھا لہجہ میں کہ ابرش اس شخص کو دیکھےگٸ۔ اس کا یہ روپ آج وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی جبکہ ابی جان تو ابھی تک حیران تھیں۔ کہ ہو کیا رہا ہے۔۔؟؟ ان کے بچے آپس میں اسطرح آمنے سامنے ہوجاٸیں گے۔۔؟؟ ان کا دل دکھ رہا تھا۔
لیکن۔۔۔ میں غلط تھا۔۔۔۔۔ جسطرح تم نے کل اپنے لفظوں کا زہر اس معصوم پے اتارا ۔۔ میں نے اسے بھی بھلا دیا ۔ کہ کوٸ بات نہیں غصہ ہے ۔۔۔لیکن۔۔ محبت کرتا ہے۔۔ اس معصوم سے۔۔۔ غلط تھا میں۔۔۔!
کہتے اسکی آواز اونچی ہوگٸ ارحام حیرت کی مورت بنا کھڑا بھاٸ کو دیکھے جا رہا تھا ۔
محبت تو دور کی بات۔۔۔ تم تو محبت کے میم سے بھی واقف نہیں۔۔۔۔ محبت میں۔۔ اپنی ہستی کو فنا کر دیتے ہیں۔۔ ناکہ جس سے محبت کی جاۓ اسکی ہستی مٹا دیتے ہیں۔۔۔
کہتے وہ اب اسکے پاس آتے آواز دھیمی کرتا بولا۔
بھاٸ۔۔۔۔؟ ارحام نے کچھ کہناچاہا ۔
چپ۔۔۔۔ ارحام۔۔۔۔! ہونٹوں پے انگلی رکھتے خاموش کروادیا ۔ کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہے تم۔۔۔! اورتم۔۔۔۔ کیا کہا تھا۔۔۔؟کہ لمظ سے کوٸ تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔۔۔؟؟ نہیں کرنا چاہتے شادی؟
ایسا کہتے وہ سب کے سانس روک گیا ۔
تو ٹھیک ہے۔۔۔ اب میں ابتسام علی پیرزادہ تم سے یہ وعدہ کرتا ہوں۔۔ کہ میں تمہاری شادی لمظ سے نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ اس لیے نہیں ۔۔ کہ تم اس سے محبت نہیں کرتے۔۔۔ بلکہ اس لیے۔۔۔ کہ تم اسے ڈیزرو نہیں کرتے۔۔۔ ! غصے سے ابتسام کی ماتھے کی رگیں تن گٸیں تھیں۔
دور رہنا اب اس معصوم سے۔۔۔ اگر اب مزید اسے کوٸ تکلیف پہنچی تمہاری زات سے۔ تو میں بھول جاٶں گا۔۔۔ ہمارے بیچ کیا رشتہ ہے۔۔۔۔! انگلی اٹھاتے وارن کرتا وہ لمبے لمبے ڈانگ بھرتا باہر نکل گیا۔
سب کو ایک چپ لگ گٸ تھی۔ کوٸ کچھ کہنے کے قابل ہی کہاں رہا تھا۔۔۔؟؟
ابی جان کی آنکھ میں آنسو نے اپنی جگہ بناٸ۔ آج ان کے پوتوں کی محبت کو نظر لگ رہی تھی۔
ابرش نے ان کے کاندھے پے ہاتھ رکھا جبکہ عذرا پھپھو کا خوشی کے مارے برا حال تھا وہ جو واپس کا سوچے بیٹھیں تھیں۔ اب پھر سے ارحام اور علیشا کا راستہ صاف ہوتا نظر آرہا تھا۔
کیسی۔۔۔۔کیسی ہے وہ۔۔۔۔؟؟ روندھے لہجے میں ارتسام سے پوچھا ۔
کس حق سے پوچھ رہے ہو ارحام۔۔؟ وہ موت کے منہ سے واپس آٸ ہے۔۔۔ اس کے ماتھے پے چوٹ آٸ ہے۔ چار اسٹیچز لگے ہیں۔۔ وقت کے ساتھ زخم تو بھر جاۓ گا۔۔۔ لیکن داغ ۔۔۔ ؟داغ رہ جاۓ گا۔۔۔!
اسکے کاندھے پے تھپکتے وہ اوپر روم کی جانب بڑھ گیا۔
ارحام آج بہت زیادہ دکھی تھا۔ آج پہلی بار زندگی میں ابتسام کا رویہ اسکے ساتھ سخت ہوا تھا۔ ورنہ ہمیشہ محبت چاہت اورپیار ہی نچھاور کیا۔
تھکے قدموں سے وہ ابی جان کے پاس آیا۔
ابی جان!کیا آپ کو بھی میں ہی غلط لگتا ہوں؟ ٹوٹا انداز دیکھ کے ابی جان تو تڑپ ہی گٸیں۔
آگے بڑھ کے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
نہیں میری جان۔۔ میرا بچہ کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اسکے چہرے پے ہاتھ پھیرتے ہوۓ پیار سے کہا۔
تینوں بھاٸیوں کا پیا مثالی تھا۔ آج ا میں کہیں نہ کہیں دراڑ پڑ رہی تھی۔ جو ابیجان کو توڑ رہی تھی۔
میں۔۔ میں نے کبھی نہیں چاہا۔۔۔ کہ۔۔۔ لمظ کو میری طرف سے۔۔ کوٸ تکلیف ہو۔۔۔ بخدا۔۔۔ اس کو میں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔ میں نہیں جانتا۔۔ وہ کیسے۔۔؟؟ ہاسپٹل۔۔؟؟ اسکی آنکھیں پانی سے بھر گٸیں۔ وہ آج اپنوں کو صفاٸ دے رہا تھا۔ کہ وہ غلط نہیں۔
ارحام۔۔۔! نہ تم غلط ہو۔ نہ تمہارے بھاٸ۔۔ ! بس وقت اور حالات ایسے آگۓ۔۔ ہیں۔۔ کہ ؟؟ ہم چاہ کے بھی ۔۔ کچھ صحیح نہیں کر پارہے۔۔
ہاں۔۔ تم نے جو کیا ٹھیک کیا۔۔۔ لیکن۔۔ طریقہ صحیح نہیں تھا۔ مانا کہ ۔۔۔ حبیٰ صاحب نے کل ہم سب کے ساتھ برا رویہ اختیار کیا۔
لیکن۔۔۔ تم نے بھی تو کم نہیں کیا۔ لمظ کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے۔ خود سوچو۔۔کیا وہ تمہارے کہے الفاظ ڈیزرو کرتی تھی؟
ابرش نے اسے آٸینہ دکھایا۔ تو وہ اسے دیکھتا سر جھکا گیا۔ وہ واقعی کل غصے میں بہت کچھ بول گیا تھا۔
اس کے بعد تمنے لمظ سے بات کرنا بند کر دی۔ اس سب میں اس بیچاری کا کیا قصور؟ ساری زندگی اس کے بابا ماما اس پے سختی کرتے آۓ۔ ہم سے ملنے سے روکتے رہے۔۔۔ وہ تو بہت۔۔۔ معصوم ہے۔۔۔! اور تم نے۔۔کل بہت۔۔۔ ؟؟ ابرش بولتی کہ ابی جان نے اشارے سے منع کر دیا۔
ارحام۔۔!ساری باتیں ایک طرف۔۔ مجھے یہ بتاٸیں۔ آپ کیا چاہتے ہیں؟ ابی جان اپنے لاڈلے کو یوں تڑپتا نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
بھاٸ ۔۔۔ بھاٸ نے کہا۔۔۔ میں۔۔ محبت۔۔ نہیں کرتا۔۔۔ لمظ سے۔۔۔! ابی جان۔۔ وہ۔۔ وہ یہاسں رہتی ہے۔ اس دل میں۔۔۔!دل کے مقام پے ہاتھ رکھتے وہ دکھی انداز مثس بولا۔
بس ۔۔ پھر فکر نہ کرو۔ لمظ میرے ارحام کی ہی فلہن بنی گی۔ یہ عہد دیتی ہوں میں اپنے لاڈلے کو۔۔۔! اور وہ بھی جلد ہی۔ اپنے اصولوں پے۔ بناٶں گی اسے آپ کی دلہن۔
ابی جان نے اسے ایک مان بخشا۔ تو گہرا سانس لیتا وہ آسودہ ہوا ۔
ابی۔۔جان۔۔؟؟ بھاٸ؟ ارحام کو ابتسام کی فکر ہوٸ۔
مان جاٸیں گے وہ بھی۔۔۔ غصے میں ہیں۔ لیکن۔۔ تم سے بہت پیار کرتے ہیں۔
مسکراتے ہوۓ ابرش نے ارحام کے سر پے ہاتھ رکھا۔
آپ تو اس رشتے کے خلاف تھیں۔۔؟؟
نہیں ارحام۔۔۔!میں اپنی بہن کی خوشی میں میں کبھی رکاوٹ نہیں بنوں گی۔ بس۔۔ اس کےبابا کی شرطوں کی وجہ سے ۔۔ مجھے اس رشتے پے اعتراض تھا۔ لیکن اب ابی جان نے کہا ہے کہ۔۔ اپنے اصولوں پے وہ لمظ کو تمہای دلہن بناٸیں گیں۔ تو مجھےپورا یقین ہے۔ کہ جو وہ کہہ رہی ہیں۔ وہی ہوگا۔
ابرش نے مسکراتے ہوۓ کہا۔ تو ارحام بھی دھیرے سے سر نیچے کرتا تھوڑا سا پرسکون ہوا۔
ابی جان! میں۔۔ لمظ سے ملنے۔۔۔؟؟ کہتے ہوۓ اسکی زبان لڑکھڑاٸ۔
ابیجان اور ابرش نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔
ابی جان۔۔۔! وہ آج میں نے بابا سے ملنے جانا ہے ہاسپٹل۔۔! آج انکی تپورٹس بھی آنی ہیں۔ تو کیا میں ارحام کے ساتھ چلی جاٶں؟
ابرش نے معصومیت بھرے انداز میں کہا۔ تو ابی جان مسکا دیں۔
ٹھیک ہے جلدی آجانا۔۔!
تھینک یو ابی جان۔۔۔! ارحام نے ابی جان کو گلے سے لگایا۔
بھابھی پانچ منٹ۔۔۔ میں چینج کر کے آیا ۔
کہتے ساتھ ہی ارحام روم کی جانب تیزی سے بڑھا۔
ابی جان۔۔! پریشان نہ ہوں۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔
ابیجان کا ہاتھ تھامے ابرش نے انہیں حوصلہ دیا۔
ابی جان۔۔۔! ابی جان۔۔؟؟ اتنے میں ارتسام کی پریشان آوازکانوں میں پڑی۔ تو دونوں پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھتیں ارتسام کے روم کی جانب بڑھیں ۔
جاری ہے۔
