Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 26)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 26)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
گڈ مارننگ ۔۔۔میری جان۔۔۔۔؟؟
وہ جو کافی دیر سے آنکھوں ہی آنکھو ں میں اسے نہار رہا تھا۔ نظروں کی تپش تھی۔ کہ اسکی آنکھ کھل گٸ۔
لیکن۔۔ یوں اپنے چہرے کے پاس ابتسام کا چہرہ دیکھ اسکا دل زور سے دھڑکا۔
فوراً سے اپنی پوزیشن کا خیال آیا تو چہرہ کمفرٹر میں چھپا لیا۔۔
اسکی یہ حرکت ابتسام کے دل کو بھاٸ۔
کیا ہوا۔۔؟؟ ابرِجان۔۔۔ شرما رہی ہیں۔۔؟؟؟
آنکھوں میں شرارت لیے کمفرٹر ہٹانا چاہا
نہ۔۔کریں ناں۔۔۔ پلیز۔۔۔! اندر سے دبکے ہوٸے آواز آٸ۔
اس سے پہلے کے میرا موڈ پھر چینج ہو۔۔۔ اٹھ جاٶ۔۔۔ نماز کا وقت ہو رہا ہے۔۔۔
ابتسام نے اسے نماز ادا کرتے ہی دیکھا تھا۔ اس لیے فوراً سے اسے اٹھنے کا بولا۔
جس پے وہ جھٹ سے منہ باہر نکالی۔
سچ میں۔۔۔؟؟ دیر تو نہیں ہوگٸ۔۔۔؟؟
فوراً سے چھلانگ لگاتی وہ اٹھی۔ لیکن ایک دم نظر کپڑوں پے گٸ تو وہیں ٹھٹھکی۔
وہ ابتسام کی شرٹ اور ٹراٶزر میں تھی۔
منہ بناتے ابتسام کو دیکھا۔
یار۔۔۔ منہ نہ بناٶ۔۔۔ فریش ہوجاٶ۔۔ میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔
کمفرٹر پیچھے کرتے ابتسام بھی اٹھا۔
صرف ٹراٶزر پہنے وہ اسکے سامنے کھڑا تھا۔
ابرش نے ایک نظر دیکھتے فوراً سے نظریں پھیریں۔
ابتسام نے آگے ہوتے سلیو لیس شرٹ پہنتے ابرش کا شرمانا نوٹ کیا۔
کیا ہوا۔۔ یار۔۔ اب تو تمہارا ہی ہوں۔۔۔ اب کیوں شرما رہی ہو۔۔۔؟؟
ابتسام کے لہجےکی معنی خیزی ابرش کو چونکا گٸ۔
میں۔۔۔ میں فریش ہو جاٶں۔۔۔
فوراً سے باتھ روم میں گھس گٸ۔
جبکہ ابتسام باہر احد کو رسیو کرنے نکلا۔
حد ہے یار۔۔۔ صبح صبح یہ۔۔زنانہ شاپنگ۔۔۔؟ ہ تو شکر۔۔۔آمنہ ساتھ چل دی۔ ورنہ۔۔۔۔؟؟ اور۔۔۔زبردستی شاپ کھلوا کے یہ سب لےکےآیا۔۔۔
مجھے نہیں آٸیڈیا۔۔۔ بس جوسمجھ لگی۔۔۔ آمنہ نے ہی لیا۔۔۔ اب ہینڈل کر لو خود۔
احد اچھا خاصا تپا ہوا تھا۔
تھینک یو یار۔۔۔!
ابتسام نے سب باتوں کا ایک جواب دیا۔ احد سلگ ہی گیا۔
بندہ ناشتہ پوچھ لیتا ہے۔۔۔؟؟ جبکہ تم مجھے سادہ لفظوں میں گٹ آٶٹ کر رہے ہو۔۔۔
احد نے دانت پیستےکہا۔
اوہ ۔۔یہ وکیل کتنے سمجھدار ہوتے ہیں۔ آج پتہ چلا۔
ابتسام نے شرارت سے کہا۔
جی ان شاء اللہ عنقریب آپ کی بیوی کو بھی یہ عہدہ نصیب ہونے والا ہے۔
جل کےکہتے وہ باہر کے دروازے کیجانب بڑھا۔
جبکہ ابتسام وہ سارے ڈریسز اور چیزیں اندر روم کی جانب لے کے بڑھا۔
ابرِ جان۔۔۔۔؟؟ باتھ روم کےپاس کھڑے اسے بہت محبت سےپکارا۔
جی۔۔۔؟ وہ جو شاور لے کے کافی یر سے ویٹ کر رہی تھی۔ شکر کیا ابتسام کی آواز آٸ۔
یہ ڈریسز۔۔ وغیرہ آگۓ ہیں۔ میں جا رہا ہوں۔۔ تو جو بہتر لگے ۔۔۔ پہن لینا۔
بہت شرافت کا مظاہرہ کرتے وہ ابرش کو چونکا گیا ۔ خیر۔۔ کافی دیر کے بعد ٹاول لپیٹے وہ سر نکال کے باہر دیکھا۔ کوٸ نہ تھا۔
کپڑوں کا ڈھیر دیکھ کے اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں۔
ایک ڈریس کا انتخاب کرتے وہ واپس باتھ روم میں گھس گٸ ۔
دوسرے روم سے ابتسام فریش ہوتا واپس آیا تو ابرش کو اپنی پنک فراک کی بیک زپ کے ساتھ الجھا پایا۔ جو اس کے ہاتھ ہی نہیں لگ رہی تھی۔ آٸینے میں کھڑے وہ گیلے بالوں کے ساتھ۔ ایک بار پھر ابتسام کو بےخود کر گٸ۔
اور بے خود ی میں وہ اسکے قریب آیا۔
ابرش کی ایک نظر آٸینے سے ہی اس پے پڑی۔ تو ٹھٹھکی۔
وہ اسے پہلی بار سفید شلوار قمیض میں دیکھ رہی تھی۔
کتنا اجلا اور نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔ نظر لگ جانے کی حد تک پیارا۔
ابرش نے نظریں جھکا لیں۔ اور دل ہی میں اسکی نظر اتاری۔
ابتسام نے اسکی کمر پے لگی زپ کو بند کیا۔ تو ابتسام کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے وہ آنکھیں موند گٸ۔
ابتسام نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔
اور اسکے ماتھے پے بوسہ دیا۔
چلو نماز پڑھتےہیں۔
آج تم۔۔ میری امامت میں نماز پڑھو گی۔
کہتے ساتھ آگے پیچھے دو جاۓ نمازیں بچھاٸیں۔
اور نماز کی ابتدا کی ۔
ابرش کی زندگی کےیہ پل انمول تھے۔ جن کی قیمت وہ اپنی سانسیں دے کے بھی نہیں چکا سکتی تھی۔
وہ یہ پل جی رہی تھی۔
دعا کے لیے ہاتھ بلند ہوۓ تو آنسو رواں ہوگۓ۔
اپنے اور ابتسام کے داٸمی رشتے کی دعا کی۔ مجیب صاحب کی اد پے آنسوٶں میں روانی آگٸ۔
ابتسام نے اسکی جانب دیکھا۔ جو ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ فوراً سے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔
مجھھھے بابا۔۔۔ککی۔۔۔ یاد۔۔۔؟؟؟ روتے بمشکل۔کہا۔
تو رو کیوں رہی ہو۔۔۔؟ چلو۔۔ ابھی چلتے ہیں۔۔
ابتسام نے اسکے آنسو صاف کرتے بہت چاہت سے کہا۔
سچ میں۔۔؟ ابرش حیران ہوٸ۔
ہممممم۔۔ لیکن ۔۔مجھ سے ایک وعدہ کرو۔ وہاں جا کے تم بالکل نہیں روٶ گی۔
ابتسام مجیب صاحب کی حالت جانتا تھا اس لیے ابرش کو پہلے اعتماد میں لیا۔
وہ ۔۔۔وہ ٹھیک ہیں۔۔ ناں۔۔؟؟ ابرش کے دل کوکچھ ہوا۔
ہمممم۔۔۔ انکی خوشی تمہاری خوشی میں ہے ابرش۔۔۔! اور یہ تم پے ہے۔۔۔ کہ تم انہیں دکھی نہ کرو۔۔۔!
ابتسام چاہ کے بھی اسے نہیں بتا پایا کہ ڈاکٹرز نے ان کی بیماری کو لاعلاج کہہ دیا ہے۔کینسر لاسٹ اسٹیج پے تھا۔ اور وہ چاہ کے بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔
ابرش نے سر جھکا تے اثبات میں ہلایا ۔
وہ جانتی تو تھی باپ کی بیماری کا۔ لیکن۔۔ وہ اب موت کے منہ میں جا رہے تھے۔ یہ بات نہ جانتی تھی۔
ابتسام اسے لیے کچھ دیر کے باہر گارڈن میں آگیا۔
ابتسام۔۔۔ ! آپ جانتے ہیں۔۔ صبح کی ٹھنڈی اور تازہ ہوا۔۔ مجھے کس قدر پسند ہے۔۔۔؟؟
آنکھیں بند کے وہ پودوں کو چھوتی چلتے ہوۓ بولی۔
اچھا۔۔۔ اور کیا کیا پسند ہے۔۔۔؟؟ سنسنان جگہوں پے۔۔۔ آٶٹنگ کرنا۔۔۔؟ ابتسام نے شرارت سے کہا
نہیں تو۔۔۔۔؟؟ ابرش کے ماتھے پے بل پڑے۔
پہلی ملاقات یاد ہے۔۔۔؟؟ جب ۔۔۔ کھاٸ میں گرنے والے تھے۔۔۔؟؟
ابتسام نے مسکراتے کہتے اسکی آنکھو ں میں دیکھا۔
ہمممم وہ پہلی ملاقات نہیں تھی۔۔۔۔ پہلی ملاقات میں آپ کی گاڑی سے ٹکر ہوتے ہوتے بچی تھی۔۔۔
ابرش نے تصحیح کی۔
ہمممم۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری ملاقات میں بھی ٹکرہی ہوٸ تھی میر گاڑی سے۔۔۔۔
ابتسام نے اسکا ہاتھ تھاما۔ اور یونہی دونوں چلتے رہے۔
کیا معلوم تھا۔۔۔ اتنا اکھڑ ضدی۔۔۔ اور انا پرست شخص محبت کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا جاۓ گا۔
کیا ۔۔۔آپ کو یہ شکست بری لگی۔۔۔۔؟؟
ابرش نے مڑتے اسکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا۔
میں نے کبھی نہیں چاہا تھا۔ کہ میری زندگی میں کوٸ عام لڑکی شامل ہو۔۔۔ جبکہ میں جانتا تھا۔۔ جو بھی ہوگی بہت انمول ہوگی۔۔۔سب سے الگ۔۔۔۔
ایک ٹرانس کی کیفیت میں وہ بولے جا رہا تھا۔
اور جب۔۔۔ تم۔نے نکاح کے لیے ہامی بھری۔ مجھے بچانے کے لیے۔۔۔ تب لگا۔۔۔ یہ عام لڑکی نہیں ہو سکتی۔۔۔
لیکن۔۔۔۔پھر بھی دل پوری طرح مطمین نہ تھا۔
اور جب۔۔۔ نکاح کے وقت حق مہر کی بات ہوٸ۔ تم چاہتی تو کچھ بھی لکھوا سکتی تھی لیکن تم نے۔۔ شرعی۔۔ حق مہر لکھوایا۔
اس دن ۔۔میرا دل۔۔۔ تمہاری محبت سے بھر گیا۔
اسی لمحے میں نے فیصلہ کیا۔ یہ نکاح آخری سانس تک نبھاٶں گا۔۔! کیونکہ۔۔۔ وہ تمہی ہو۔۔۔ جس سے ابتسام علی پرزادہ۔۔ ہا رگیا۔۔۔ اور یہ۔۔ہار۔۔۔ مجھے دل وجان سے قبول ہے۔۔۔۔!
کہتے اسکے ناک کے ساتھ ناک رب کی۔ تو ایک بار پھر سے ابرش کے دل کے تار بجے۔
اور آپ۔۔۔نے بھی تو نکاح کے وقت میرے دل۔میں اپنا مقام بنا لیا۔۔۔
جب آپ نے یہ کہا۔۔۔کہ حق مہر لڑکی کی مرضی سے ہونا چاہیے۔۔۔ اسی ایک لمحے میں میں ابرش۔۔مجیب شمس کے لیےقید ہوگٸ۔
ابرش نے بھی اپنی فیلنگز بیان کیں تو ابتسام خوشی سے سرشار ہوگیا۔
دونو ں ہی ایک دوسرے کو پا کر آسودہ اور خوش تھے۔ کوٸ یہ نہیں جانتا تھا۔ کہ ایک بہت بڑی آزماٸش اب بھی باقی ہے۔














ارحام۔۔! آپ جانتے بھی ہیں۔۔ آپ کیاکہہ رہے ہیں۔۔؟؟
ابی جان ارحام کی لمظ کے گھر رشتہ لے کے جانے کی بات پے زیادہ خوش نہ تھیں۔
ارحام۔نے لب بھینچے۔ سیڑھیوں سے اترتے ارتسام اور عروش بھی ایک پل کو ٹھٹھکے۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم،،،،
عروش نے مشترکہ سلام کیا۔۔
وَعَلَيْكُم السَّلَام بیٹا ۔۔
آٶ۔۔۔! ابی جان نے اسے گلے سے لگایا ۔
اسکا نکھرا نکھرا روپ ابی جان کو بہت اچھا لگا۔
جبکہ عزرا پھوپھو اور علیشا کے منہ پے بارہ بجے تھے۔
ابی جان۔!آپ ایک بار مل تو لیں۔۔۔ ارحام۔نے دھیمے لہجے میں کہا۔
ارحم۔ملنے میں کوٸ براٸ نہیں۔۔۔ ہم کل ہی مل لیتے ہیں۔۔ یا آج مل لیتےہیں۔۔ لیکن۔۔ اصل مسٸلہ آپ کی پڑھاٸ کا ہے۔۔ آپ ابھی اسٹبلش نہیں ہوۓ۔۔ اور ہم چاہتےہیں۔۔ اپنے دونوں بھاٸیوں کی طرح آپ بھی کسی مقام پے پہنچ جاٸیں پھر ہی۔۔۔ کوٸ قدم اٹھاٸیں۔
ابی جان۔۔۔؟؟ اس کے پیرنٹس اسکا رشتہ کہیں اور کر دیں گے۔۔۔ آپ پلیز۔۔۔ صرف بات پکی کر دیں ۔
لہجے میں لجاجت تھی۔
ارتسام آگے بڑھا۔ ور ارحام کا کاندھا تھپکا۔
ابیجان۔۔۔! آپ۔۔ ارحام کی بات پے غور کریں۔ مجھے یقین ہے۔۔۔ یہ اپنا فیوچرضرور روشن کرے گا۔۔۔
ارتسام نے ارحام۔کی ساٸیڈ لی۔تو عذرا پھوپھو اور علیشا جل بھن گٸیں۔
ٹھیک ہے۔۔۔! ابتسام کو آلینے دیں۔ پھر ہی کوٸ بات کرتے ہیں۔
اور ۔۔۔ فاطمہ۔۔۔۔!
ارحام سے کہتے انہوں نے ملازمہ کو آواز دی۔
جی ابیجان۔۔۔! فوراً حاضر ہوٸ۔
بچوں کے لیے اچھا سا ناشتہ لگوایں۔ ۔فوراً۔
کہتے ساتھ انہیں لیے ڈاٸننگ ٹیبل کی جانب بڑھیں۔
علیشا نے ماں کو اشارہ کیا کہ وہ کچھ بولے۔ لیکن عذرا پھوپھو نے سختی سے آنکھوں کے اشارے سے منع کیا۔
ہلکی پھلکی باتوں میں فاطمہ بی نے دو اور ملازماٶں کے ساتھ مل کے فوراً ناشتہ لگایا۔













چلیں۔۔۔؟؟
مجیب صاحب سے مل کے وہ باہر آۓ تھے۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی ابرش کی آنکھوں میں آنسو بہتے چلے گٸے۔
ابرِ جان۔۔۔! میں نے کہاتھا رونا نہیں۔۔۔! ابتسام خود ڈراٸیونگ سیٹ پے تھا۔ جبکہ آگے پیچھے دو سیکیورٹی کی گاڑیاں تھیں۔ جن میں سیکیورٹی چاق و چوبند تھی۔
ایک منٹ۔۔۔؟؟ وہ موباٸل میں بابا کے پاس بھول آٸ۔
ابرش کو فوراً یاد آیا۔
اوکے۔۔ ؟میں۔۔۔؟؟
نہیں۔۔ میں لے آتی ہوں۔۔آپ ویٹ کریں۔ ۔بس ابھی گٸ ابھی آٸ۔
ابتسام کی بات کاٹتے وہ ہاسپٹل کے اندر بڑھی۔مجیب صاحب کے وارڈ روم سے موباٸیل اٹھایا۔ مجیب صاحب دواٸوں کے زیراثر سو رہے تھے۔
ابرش نے انکا ماتھا چوما۔ ایک آنسو پھر سے بے وفاٸ کرتا گال پے بہہ نکلا۔
اسی خاموشی سے وہ باہر نکل آٸ۔
ابھی وہ مجیب صاحب کے روم سے نکلتی آگے بڑھی تھی۔ کہ۔۔۔۔؟؟؟











کافی دیر لگا دی۔ ۔۔۔۔؟؟ ابتسام نے ابرش کے بیٹھتے پوچھا۔
جی۔۔بس۔۔۔؟؟ راستہ بھٹک گٸ تھی۔۔۔! ابتسام کو ابرش کا لہجہ عجیب سا لگا۔ لیکن نظر انداز کرتا وہ گاڑی آگے بڑھا چکا تھا۔ کیونکہ گھر سے ارحام کی کوٸ بیس کالز آچکی تھیں۔










صبح سے شام ہوگٸ شام سے رات۔۔۔ ساری رات انتظار کرتےکٹی۔
اور اب پھر سے وہی انتظار۔۔۔؟؟
سیدہ خاتون بیٹے کا انتظار کرتیں۔ رات سے رو رہی تھیں۔ وہ جو کہہ کےگیا تھا۔
کہ آج بہت بڑی خبر لاٸے گا۔ کہ ماں کو خوش کر دے گا۔ کیا پتہ تھا۔۔۔؟؟ اپنی خبر بھی ماں کو دینا بھول جاۓ گا۔
شوہر کو گھر کی دہلیز پے قدم رکھتے دیکھا تو فوراً بھاگی آٸیں۔
شاہان کے ابا۔۔۔! کچھ پتہ چلا۔۔۔؟؟ کہاں ہے میرا بیٹا۔۔۔؟؟
روتےہوۓ بے صبری سے پوچھا۔
دیکھ کے آیا ہوں۔۔۔ہر جگہ۔۔۔ تھانے بھی دیکھ آیا۔
سب کہتے ہیں۔ وہ تین دن سے تھانے پے بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔ پتہ نہیں کہاں۔۔دفع ہو گیا ہے۔۔۔؟؟ ایسی ناہنجار اولاد سے تو بہتر تھا۔۔ میں ے اولاد ہی رہتا۔۔
بلال صاحب کے کندھے ڈھے گۓ تھے۔ اکلوتا سپوت انکا ۔۔۔ لیکن۔۔۔ نجانےکن کاموں میں پڑگیاتھا۔۔
ایسے تو نہ کہیں۔۔کسی مصیبت میں نہ ہو۔۔۔؟؟ میرا بچہ پتہ نہیں کس حال میں ہوگا۔۔۔؟؟
وہ ماں تھی تڑپ ہی گٸ۔
تو اور کیا کہوں۔۔ ؟ دو بہنیں جوان گھر پے بیٹھی ہیں۔۔ ان کا اسے خیال نہیں۔ ۔۔ اور اپنی شادی رچانے چلا تھا۔ کیا ہوا۔۔۔؟؟ اس بیچاری کو بھی بارات والے دن چھوڑ آیا۔۔۔ اور اسکا سارا جہیز رکھ لیا۔۔۔ منع کیا تھا۔۔۔ سیدہ۔۔۔ خاتون۔۔۔ مت حق کھاٶ کسی کا۔۔۔! نہیں۔ سنی میری۔۔۔! دیکھ لو۔۔۔۔! اللہ نے کیسی سزا دی۔۔۔ بیٹے کا ہی پتہ نہیں کہاں چلا گیا وہ۔۔۔؟؟
سچ کڑوا ہوتا ہے۔ اور سیدہ خاتون کو بھی کڑوا لگا۔
لیکن صبرکے گھونٹ بھر کے رہ گٸیں۔
سیدہ۔۔۔۔ ! کمزور سی آواز آٸ۔
ابھی بھی وقت ہے۔۔۔ سنبھل جاٶ۔۔ اور اللہ سے اپنے کیے کی معافی مانگ لو۔۔۔! اور ا س بچی کا سب کچھ واپس کردو۔۔۔! ورنہ نجانے اور کیا کیا دکھ دیکھنے کو ملیں۔
کہتے ہوۓ وہ نڈھال ے اٹھ کے اندر چلے گۓ۔
جبکہ سیدہ خاتون لب بھینچ کے رہ گٸیں ۔
ہرگز نہییں۔ کچھ واپس نہیں کروں گی۔۔۔سب میرے بچے کا ہے۔۔۔ ! آۓ بڑے واپس کروانے والے۔۔۔
زیرِ لب بڑبڑاٸیں۔
جبکہ انکی بیٹیاں سارہ اور فزا۔ ان کا منہ دیکھتی رہ گٸیں۔ جو تھیں تو شاہان سے بڑی۔ لیکن ۔۔۔ شادی ایک کی بھی نہ ہوٸ تھی۔عمریں نکلی جا ری تھیں۔ جہیز کے لیے۔۔۔ جو اگر جہیز اکھٹا ہوا۔ تو حق مہر کی ڈیمانڈ رکھ دی۔ اب حق مہر اتنا مانگتے۔ کہ لڑکے والے انکار کر دیتے۔
کلیوگ نہیں کر جگ ہے یہ۔۔۔
یہاں دن کو لے اور رات کو دے۔
کیا سودا خوب نقد ہے۔۔
اس ہاتھ لے اس ہاتھ دے۔















اچھا۔۔۔پریشان نہ ہو۔۔ میں کرتا ہوں۔۔ ابی جان سے بات۔۔۔! پر مجھ سے ایک وعدہ کرو۔۔ کہ پہلے پڑھاٸ مکمل کرو گے۔۔ پھر ہی شادی ہوگی۔
ابتسام نے اسے پیار سے سینے سے لگاتے کہا۔ تو وہ خوشی سے مسکرا دیا ۔
گھر میں داخل ہوتےہی ارحام اسے کھینچ کھانچ کے اپنے روم میں لے گیا ۔ ابی جان سے پہلے نہ ملنے دیا۔ ابرش ان کا پیار دیکھ مسکراتی رہ گٸ۔
اب وہ روم میں تینوں بھاٸ گول۔میز لانفرنس کر رہے تھے۔
ابتسام نے ارحام کی بات مانی تو۔
ارتسام کے چہرے پے بھی ارحام کو خوش دیکھ کے مسکراہٹ بکھری۔
ابتسام ابیجان کے روم کی جانب بڑھا۔
جبکہ ابرش نے عروش کو پکڑا۔
دیورانی صاحبہ آج تو آپ کے رنگ روپ ہی نرالے ہیں۔۔۔
چھیڑتے ہوۓ کہا۔
تو وہ جھینپ گٸ۔
پیزادہ کے خاندان کے لڑکوں کو پھنسا کے خوش تو بہت ہوگی تم دونوں۔۔؟؟
زہر خند لہجہ۔۔۔ دونوں نے چونک کے پلٹ کے علیشا کو دیکھا۔
کیا کوٸ زہنی بیماری ہے تمہیں۔۔؟؟ ابرش نے سینے پے ہاتھ باندھتے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
زبان سنبھال کے بات کرو۔۔ لڑکی۔۔۔!علیشا کو غصہ آگیا۔
لڑکی نہیں۔۔۔ پیرزادہ منشن کی بڑی بہو ہوں۔۔ اس لیے مجھ سے زرا فاصلہ رکھ کے بات کرنا۔۔ تمہاری صحت کے لیے اچھا ہوگا۔۔۔
ابرش غراتے لہجے میں ںبولی تو علیشا نے دانت کچکچاۓ۔
بہت غرور ہے ناں۔۔۔ بہت جلد۔۔۔ یہ غرور چکنا چور ہوجاۓ گا۔۔۔ منہ کی کھاٶ گی تم دونوں۔۔۔! انگلی اٹھا کے وارن کیا۔
ایک کام کرتے ہیں۔۔ تمہاری اور تمہاری ماں کی کل کی ٹکٹ کرواتےہیں۔۔ بہت توڑ لیں مفت کی روٹیاں۔۔ اب واپسی کی راہ لو۔۔۔۔
ابرش نے ہاتھ جھاڑتے بات ختم کی۔
تمہاری۔۔۔ یہ جرات کہ۔۔۔ تم مجھے یہ۔۔۔ سب کہو۔۔۔!منہ تو ڑ دوں۔۔۔۔؟؟
کہتے ساتھ ہاتھ ااٹھایا۔ جسے ابرش نے ہوا میں ہی روک دیا۔
نہ نہ بھول کے بھی یہ غلطی مت کرنا۔۔۔ !ابرش نام ہے میرا۔۔۔ رحمت کی طرح برستی ہوں۔۔ اپنوں پے۔۔ لیکن۔۔ تم جیسوں پے صرف قہر کی صورت میں۔۔
جھٹکے سے ہاتھ چھوڑا۔ کہ وہ کراہ کے رہ گٸ۔
اب منہ کیا دیکھ رہی ہو۔۔؟؟ پیکنگ شروع کردو۔۔۔ کیونکہ۔۔ابرش جو کہتی ہے۔۔ وہ کرتی ہے۔۔۔ اور جو نہںیں۔۔ کہتی۔۔۔ وہ Defenetaly کرتی ہے۔۔۔!
ایک آنکھ ونک کرتے کہتی وہ عروش کا ہاتھ تھامے وہاں سے خود ہی ہٹ گٸ
واہ بھابھی۔۔۔کیا ڈاٸیلاگ مارا ہے۔۔۔ عروش نے تعریف کی۔
کچھ دن پہلے۔۔۔ ایک مووی میں سنا تھا۔۔۔ یاد رہ گیا۔
مسکرا کےکہتے وہ عروش کو حیران کر گٸ۔



























ڈاکٹر صاحبہ ۔۔!آپ بتا کیوں نہیں رہی۔۔۔؟؟ میری دوست کیوں بے ہوش ہوگٸ۔۔۔؟؟
ادیبہ نے ڈاکٹر کو فاٸل دیکھتے بے چینی سے پوچھا۔
تو ڈاکٹر نے نے چشمہ اتار کے ساٸیڈ پے رکھا۔
آپ کی دوست۔۔۔ پریگننٹ ہیں۔۔ تو وہ بے ہوش ہی ہوں گیں ناں۔۔ اپنی کٸیر کرنی چاہیے انہیں۔۔
ڈاکٹر نے تو ان پے ایٹم بم ہی گر ا دیا۔
ادیبہ نے مڑ کے حیرت سے فاریہ کو دیکھا۔ اسکی حالت بھی کم و بیش ایسی ہی تھی۔
آر یو شیو ڈاکٹر۔۔۔؟؟ ادیبہ نے بے یقینی سے پوچھا۔
کیوں۔۔؟؟ کیا مطلب اس بات کا۔۔۔؟؟ اور۔۔۔ ہسبینڈ کے ساتھ یہ نیکسٹ ٹاٸم آٸیں۔ تو زیادہ بہتر ہے۔
ڈاکٹر کچھ تلخی سے بولی انہیں یہ دونو ں لڑکیاں ہی حرکتوں سے مشکوک لگیں۔
آپ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں۔
اور مجھے پریگننسی کی رپورٹ بنا کے دیں۔
فاریہ نے اٹھتے منہ بنا کے کہا ۔
ڈاکٹر نے اسکی پریگننسی کی رپورٹ ٹیبل پے پٹخی۔
اٹھاٸیں اسے۔ اور جاٸیں یہاں سے۔۔۔ !
ڈاکٹر بھی سوا سیر نکلی ۔
فاٸل کو غصے سے اٹھاتی وہ باہر نکلی تو ادیبہ بھی اسکے پیچھے بھاگی ۔
کیا کر رہی ہو فاریہ۔۔۔؟؟ جانتی بھی ہو۔۔۔اسکا کتنا اثر پڑے گا تم پے۔۔۔؟؟ آگے انکل آنٹی نے تمہیں وہ کیس کے لیے معاف نہیں کیا جو تم۔نے ابتسام پے کیا۔ اور تم جھوٹی پڑ گٸ۔۔ اور اب ۔۔ پھر سے کیا چال طچلنے لگی ہو۔۔۔؟؟
ادیبہ نے پریشانی سے اسے روکا۔
تم دیکھتی جاٶ۔۔۔ سب نے مجھے غلط کہا تھا ناں۔۔؟؟ مجھے جھوٹا ثابت کیا۔۔۔ اب یہ رپورٹ۔۔۔ مجھے۔۔ انصاف دلاۓ گی۔۔۔اور اب سب کو مجھ پے یقین کرنا ہوگا۔۔۔
ایک پختہ عزم سے کہتی اس نے فاٸل سامنے کی۔
اس فاٸل۔میں صرف یہلکھا ہے کہ تم پریگننٹ ہو۔۔ یہ کہیں نہیں لکھا۔۔ کہ یہ بچہ ابتسام کا ہے۔۔۔
ادیبہ نے طنز سے کہا۔
یہ تم مجھ پے چھوڑ دو۔۔۔ کیسے۔۔۔ اپنا حق لینا ہے۔۔۔ یہ اب تم دیکھتی جاٶ۔
دماغ میں نیا پلان بناتی وہ مسکاٸ۔
دیکھ لینا پھر سے منہ کی نہ کھانی پڑے۔ پہلے تو ماں باپ نے بات کرنا بند کردی۔ اب یہ نہ ہو۔۔۔گھر سے ہی نکال دیں۔
ادیبہ نے آٸینہ دیکھایا۔
تم دوست ہو کے بددعا دے رہی ہو۔۔۔؟ فاریہ کو برا لگا۔
نہیں۔۔۔ حقیقت سے روشناس کرا رہی ہوں۔۔ پہلے جب کیس کیا تب تم۔نہیں جانتی تھی وہ نکاح کر چکا ہے۔ اب جب ۔۔۔ تم دوبارہ سے اس رپورٹ کو لے کے پھر س کوٸ چال کھیلو گی۔۔ تو یہ جان لو۔۔ اب وہ اکیلا نہیں۔۔ اسکی بیوی بھی اسکے ساتھ ہے۔
ادیبہ نے وارن کیا۔
جانتی ہوں۔۔۔ اور دیکھنا تم۔۔۔ اسکی بیوی ہی اب ۔۔خودمیری شادی۔۔ اپنے شوہر سے کرواۓ گی۔۔۔۔
بہت حق حق کی بات کرتی ہے ناں۔۔۔ ؟؟
دو قدم کا فاصلہ بنایا۔
اب یہی اس کے گلے کا طوق بنے گا۔ جب مجھے حق دینا پڑے گا۔
فاریہ کے لہجے میں سخت نفرت تھی۔
