Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 10)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

اس نے غصے میں گھر آتے ہی ہر چیز کو تہس نہیس کر دیا تھا۔ کوٸ بھی اسکے آگے کچھ بھی بولنے کی پوزشن میں نہ تھا۔

ہر تھوڑی دیر بعد وہ کوٸ نہ کوٸ چیز اٹھا کے پٹختا۔

بس کر دے شان۔۔۔ بس کردے۔۔۔ اماں نے ہولتے ہوۓ اسے روکا۔ تو اس نے غصیلی نظر سے ما ں کو دیکھا۔

بس کردوں۔۔؟؟ آج بھری محفل میں اس ۔۔۔چھٹانک بھر ۔ لڑکی نے مجھے زلیل و خوار کیا آپ کہہ ر ہی ہیں۔۔۔ بس کردوں۔۔؟ وہ ہتھےسے ہی اکھڑ گیا۔

ہاں تو۔۔۔؟ وہاں تو تُو بول نہ سکا۔۔۔ اس کے آگے تیری ایک نہ چلی۔ اور اب۔۔ گھر آکے توڑ پھوڑ کر رہا ہے۔۔۔؟

انہوں نے بھی اسکی اچھی خاصی طبعیت صاف کی۔

مجھے طعنے نہ مار اماں۔۔۔ شاہان غضبناک ہوا ۔

جو اس نے میرے ساتھ کیا ہے ناں۔۔ سود سمت واپس لوٹا ٶں گا۔۔۔

بس رہنے دے۔۔۔ گاڑی تک تو واپس لا نہ سکا۔۔۔ اور کیا کرے گا۔۔۔؟ میں بھی یہیں اور تُو بھی یہیں ہے۔۔۔۔

دیکھنا۔۔۔ کل کو آکے وہ لڑکی اپنا جہیز بھی لے جاۓ گی۔

اماں کو جہیز کی فکر ستاٸ۔

ایسے کیسے لے جاۓ گی۔۔۔۔ ہاتھ توڑ دوں گا اسکے۔۔۔۔ کسی بھی چیز کو ہاتھ لگایا اس نے تو۔۔۔ شاہان اونچا اونچابولا۔

ہاٸے۔۔۔ کیا ہی ہو جاتا۔۔۔ اگر تو حق مہر لکھ دیتا جو وہ کہہ رہے تھے۔ سب کچھ اپنا ہوتا۔۔۔

ایک حسرت تھی لجے میں۔

ہو گا۔۔ سب اپنا ہی ہوگا۔۔۔ اب دیکھتی جا۔۔۔ سب کچھ یہیں نہ رہا تو میرا نام بھی انسپکٹر شاہان نہیں۔۔۔

اماں اسکی بات پےمنہ پھیر کے رہ گٸیں۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ابرش نے سہارا دے کے شمس صاحب کو اٹھایا۔

اور انہیں سوپ پلانے لگی۔ وہ چپ چپ سے تھے۔

ابرش نے بھی کوٸ بات دہرانا ضروری نہ سمجھا۔

ناراض ہو۔۔۔ میری بچی۔۔؟؟ شمس صاحب نے ابرش کو خاموش پایا تو بالآخر خود ہی بول۔دیے۔

ابرش کاسر جھکا۔ پھر نیپکن سے باپ کا منہ صاف کیا۔

ہو سکے تو بیٹا۔۔۔ معاف۔۔۔؟؟ شم صاحب کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔

بابا۔۔۔۔! پلیز کچھ مت سوچیں۔ مجھے آپ چأہیں۔ اور کچھ بھی نہیں۔۔

اسکا لہجہ دھیما لیکن محبت بھرا تھا۔

ہاں۔۔میں ناراض ہوں۔۔۔ آپ سے۔۔ مجھے ہمت اور حوصلہ دینے والے خود کیسے حوصلہ ہار گٸے۔۔؟؟

میرے بارےمیں ایک بار نہ سوچا۔۔۔؟؟ آپ کو کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا۔۔۔؟

اس نے بہتے آنسوٶں سے باپ کو دیکھتے کہا۔ اور باپ کی نم۔آنکھوں کو صاف کیا۔ تو مجیب صاحب نے آگے ہوتے ابرش کو۔گلے سے لگا لیا۔

بیٹا۔۔۔ میں نے تمہارا بھلاسوچا۔۔۔ لیکن۔۔۔ نجانے اللہ کوکیا منظور ہے۔۔؟ وہ بہت دکھی تھے۔

مجھے اپنے اللہ پے پورا بھروسہ ہے۔ وہ میرے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں ہونے دے گا۔۔ آپ بھی اللہ پے بھروسہ رکھیں۔

ابرش کا حوصلہ دیکھ مجیب صاحب پھر سے خود کو زندہ محسوس کرنے لگے۔ انکی بیٹی واقعی بہت بہادر تھی۔

دروازہ پے ناک ہوٸ ۔ اور ڈاکٹر ارتسام اندر داخل ہوٸٕے۔

السلام علیکم۔۔۔کیسی طبعیت ہے اب آپ کی؟

پہلے سے بہتر ہوں۔۔۔ دھیمے لہجے میں جواب دیا۔

ابرش اٹھ کے ایک ساٸیڈ پے ہوگٸ۔

شکر کریں زیادہ بڑا مٸسلہ نہیں ہوا۔ اور بروقت ہاسپٹل پہنچ گۓ۔ ارتسام نے فاٸل دیکھتے مسکرا کے کہا۔

مجیب صاحب نے آسودگی سے ارتسام کو دیکھا۔ اور پھر ایک نظر اپنی معصوم لیکن بہادر بیٹی کو۔

ویسے۔۔ انکل۔۔۔ آپ کی ببٹی بہت بہادر ہے۔۔۔ ایسی بیٹیاں ہوں تو۔۔ بیٹوں کی کمی بھی محسوس نہیں ہوتی۔

ارتسام نے مسکرا کے تعریف کی۔

آپ کا شکریہ ڈاکٹر۔ آپ نے رات بھر میرے بابا کا خیال رکھا۔

ابرش نے بھی مسکرا کے ارتسام سے کہا۔

آپ مجھے ۔۔۔ بھاٸ کہہ سکتی ہیں۔ مجیب انکل۔۔ میرے بابا کے لیے بالکل بھاٸیوں جیسے تھے۔ اور اس ناطے یہ میرے لیے بہت محترم ہیں۔ اور میں انکی بہت عزت کرتا ہوں۔ ارتسام نے دل سے کہا۔

کتنا فرق ہے۔۔دونوں بھاٸیوں میں۔ ۔۔ اس کا دل کتنا اچھا ہے۔۔ اور وہ۔۔۔ ابرش بس سوچ کے رہ گٸ۔۔ کڑوا کریلا۔

آج شام تک آپ کو ڈسچارج کر دیا جاۓ گا۔ آپ اپنا بہت خیال رکھیے گا۔

فون کال آتی دیکھ وہ ایکسکیوز کرتا باہر نکلا۔

کیسے ہیں اب۔۔ شمس صاحب۔۔؟

أبتسام کی کال پے ارتسام مسکرا دیا۔ رات بھر وہ گھر نہیں گیا تھا۔ مجیب صاحب کی خاطر ہاسپٹل رکا رہا۔

اللہ کا شکر ہے۔بہتر ہیں۔ ۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔ تم گھر چلے جاٶ۔۔ اور تھوڑا ریسٹ کر لو۔ ابتسام کو اسکی فکر ہوٸ۔

شام تک وہ ڈسچارج ہوجاٸیں گے۔تب تک میں یہیں رکنا چاہتا ہوں۔ پھر شام کو ہی انہیں گھر ڈراپ کر کے ہی لوٹوں گا۔

ارتسام نے اپنا ارادہ بتایا۔

ابتسام چپ سا ہوگیا۔

کیا وہ اکیلے ہیں؟ دل میں آیا سوال پوچھ لیا ۔

نہیں۔۔۔ انکی بیٹی بھی ان کے ساتھ ہے۔ صبح صبح ہی آگٸ تھی۔

ارتسام کا انداز سرسری تھا۔

اچھا بھاٸ ۔۔ میں پیشنٹس کو دیکھ لوں۔۔ آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں۔ آپ ابی جان کو بھی بتا دیجے گا۔

الله حافظ

ارتسام فون بند کر چکا تھا۔ لیکن ابتسام نے فون ابھی بھی کان سے لگایا ہوا تھا۔

اور گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔

ابرش مجیب شمس۔۔۔ ! سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاٸ۔

کچھ بات تو ہے۔۔ تم میں۔۔۔ ! ایک گہری مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا۔

اتنے میں اسکےنمبر پے ایک مسیج آیا۔

مجھے آج ہی تم سے ملنا ہے۔۔ اگر تم نہ آۓ تو بہت پچھتاٶ گے۔۔ ایڈریس سینڈ کر رہی ہوں پہنچ جانا۔

ورنہ۔۔کسی اپنے کو کھونے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔۔۔ اسکا احساس بہت جلد ہوجاۓ گا۔

نیچے ایڈریس تھا۔

میسج پڑھ کے ابتسام کی دماغ کی رگیں تن گیٸں۔

موباٸل ساٸڈ پے پٹختا وہ یہ اگنور کر گیا۔ کہ میسج بھیجنے والے نے میسج ڈلیٹ کر دیا تھا۔

بہت غلط کیا تم نے مجھے دھمکی دے کے۔۔ وہ زیرِ لب بڑبڑایا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

یونی میں وہ آج کچھ چپ چپ سا تھا۔ کل۔جو ہوا۔ اور جو لمظ کے بابا نے کہا۔ اس کے بعد سے اسکا دماغ کام کرنا ہی چھوڑ چکا تھا۔ وہ اپ سیٹ تھا۔

اوہ۔۔۔کدھر گم ہو۔۔؟؟ عمیر نے اسکے آگے چٹکی بجاٸ۔

نہیں۔۔۔ کہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ ارحام نے ٹالا۔

وہ آج پروفیسر علی کی کلاس نہیں لینی کیا۔۔؟ جو یہاں بیٹھے ہو۔۔؟ عمیر نے یاد دلایا۔

اوہ ۔۔یاد نہیں رہا۔۔۔چلو۔۔۔۔ حام فوراً اٹھا۔

عمیر بھی اس کے پیچھے چل دیا۔

آگے سے آتی لمظ پے نظر پڑی۔ جو یونی کے ایک لڑکے کے ہمراہ تھی۔ لمظ نے ایک نظر حام کو دیکھا۔ اور اگلے لمحے رخ پھیر گٸ۔ اور یہی حرکت ارحام کو غصہ دلاگٸ۔

منہ بناتا اسکے پاس آیا۔

کیسی۔۔ہو۔۔۔؟ دھوکہ باز۔۔۔ جاتے ہی کہا۔

لمظ کو اسکا طرز تخاطب سخت برا لگا۔

کیا مسٸلہ ہے۔۔؟ وہ بھی اسی کے انداز میں بولی۔

اوہ۔۔۔۔ بھول گٸ۔۔؟؟ کل کیا کہا تھا۔۔۔؟؟ حام نے آگ بگولہ ہوتےکہا۔

کیا کہا تھا۔۔۔؟؟ لمظ نے سوچتے ہوۓ ایکٹنگ کی۔

تم ناں۔۔ بہت بڑی فراڈ ہو۔۔۔ آگے ہوتے کہتا اسکا غصہ لمظ محسوس کر سکتی تھی۔

جوخود جیسا ہوتا ہے اسے سب ویساہی نظر آتا ہے۔

لمظ نے ناک سے مکھی اڑاٸ۔

حام۔۔۔ تمہیں پروفیسر علی بلا رہے ہیں۔

کسی اسٹوڈنٹ نے آکے کہا۔ ارحام نے لب بھینچے۔

تمہیں تو میں بعد میں دیکھوں گا۔

شوق سے۔۔۔ بولو تو تصویر دے دوں گی۔ صبح شام دیکھتے رہنا۔

آج لمظ پوری فارم میں تھی لب بھینچے وہ اندر کی جانب بڑھ گیا ۔

جبکہ لمظ آج پہلی بار ارحام کو چڑا کر بہت خوش تھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ابرش کے ساتھ جو بھی ہوا۔۔۔ وہ نہیں ہونا چاہے تھا۔

بہت غلط ہوا ہے کاش ہم۔۔۔ کچھ کرپاتے اس بچی کے لہے۔۔۔۔

ابی جان کافی دیر سے ابرش کو ہی سوچ رہی تھیں۔ ۔

ارے۔۔ ابتسام بیٹا آپ۔۔۔؟؟ یوں اچانک ۔۔؟

ابتسام کو اندر آتا دہکھ وہ ٹھٹھکیں ۔

جی۔۔۔ اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

ابی جان۔۔۔۔ایک اہم میٹنگ ہے۔۔ اسی کے لہے تیار ہونا ہے۔

ابتسام نے ڈیٹل۔دیں ۔

تو ابی جان نے اثبات میں سر ہلاتے جواب دیا۔

آپ کی طبعیت ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ ابتسام وہیں ان کے پاس بیٹھتے پوچھا۔

بیٹا۔۔۔ کچھ خاص نہیں۔۔ بس۔۔ کل جو ہوا۔۔ اس نے۔۔ بہت دل برا کر دیا ۔ آج کے دور میں۔۔ جہیز کا لالچ بہت بڑھ گیا ہے۔۔ تو دوسری طرف لوگ حق مہر پے بھی اب عجیب عجیب شرطیں رکھنے لگے ہیں۔۔۔

کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔ ہمارا معاشرہ کہاں جا رہا ہے۔۔؟؟ نکاح جیسے مقدس فریضے کا مذاق بنا کے رکھ دیا ہے۔

ابی جان دکھ سے بولیں۔ ابتسام خاموشی سے سنتا رہا۔

ابرش نے بہت اچھا کیا۔ نکاح سے انکار کر کے۔۔ بہت لالچی لوگ تھے۔ وہ۔۔۔

ابی جان نے ابرش کے عمل۔کو سراہا۔

ابرش کے نام پے ابتسام کے کان چوکنا ہوۓ۔

ابی جان۔۔۔! انکار کی وجہ کچھ بھی ہو۔۔۔ لیکن۔۔ جب ایک لڑکی کی بارات واپس جاتی پے۔۔ تو لڑکی کی زندگی کو برباد کر جاتی تھی۔ ایک سوالیہ نشان چھوٹ جاتا ہے۔

ابتسام نے اٹھتے ہوۓ کہا۔

لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں۔ وہ لڑکی بہت بہادر ہے۔ اور بہت خاص۔۔۔ اور وہ کسی عام کو کبھی مل ہی نہیں سکتی۔ اللہ نے ضرور اسکے لیے ہت اچھا سوچا ہوگا۔ یقیناً۔

ابی جان کے یقین پے ابتسام انہیں صرف دیکھتا رہ گیا۔اور خاموشی سے اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔

کاش ۔۔۔ ابتسام۔۔۔آپ۔۔ نے سمجھا ہوتا۔۔۔کہ وہ بہت انمول ہے۔ اور آپ کو۔پتہ ہوتا کہ آپ کیا کھو رہے ہو۔۔۔!

ابی جان دل ہی دل میں ابتسام سے مخاطب ہوٸیں۔

روم میں آتے اس نے باتھ روم۔کا رخ کیا۔ شاورلے کے نکلا تو ٹاول سے بالوں کو خشک کرتا آٸینے کے سامنے کھڑا خود کودیکھنے لگا۔

بلاشبہ وہ ایک خوبصورت مرد تھا۔ کسی بھی لڑکی کا وہ آٸیڈیل ہو سکتا تھا۔

بے اختیار نظر اپنے مسلز پے گٸ۔ وہاں ایک نشان اب بھی باقی تھا۔ جب اس نے ابرش کو اوپر کی جانب کھینچا تھا۔ اسی لمحے ایک جھاڑی میں لگے کانٹے اسکے بازو میں چبھے تھے۔

خیر درد تو کیا ہونا۔۔۔۔لیکن نشان ابھی مدمل نہ ہوا تھا۔ اور ابتسام ان لمحوں میں پھر سے کھونے لگا۔

کیا واقعی وہ خاص ہے۔۔۔؟

میں ابتسام علی پیرزادہ۔۔۔ پیرزادہ فیملی۔۔۔ وہ ایک عام سی لڑکی۔۔۔ میں۔۔ا سے کیسے شامل کر سکتا ہوں۔۔ اپنی زندگی میں۔۔۔؟؟

لیکن۔۔۔ وہ خاص ہے۔۔ عام نہیں۔ دل نے دماغ کی نفی کی۔

دل اور دماغ کی مزید جنگ جاری رہتی کہ موباٸل پے آتی کال نے اسکا دھیان اپنی جانب کھینچا۔

آگے بڑھ کے موباٸل اٹھایا۔

دوسری طرف موجود ہستی کی بات سنتے اسکے ماتھے پے بے شمار بل پڑے تھے۔

کال ڈسکنکٹ کرتا وہ ڈریس اپ ہوتا باہر نکلا۔

ابتسام۔۔ بیٹا۔۔ ! میں کہہ رہی تھی۔ اگر میٹنگ سے جلدی فر ی ہوجاٶ تو۔۔ واپسی پے مجیب صاحب کو بھی دیکھتے آنا۔

ابی جان نے اسے جاتے ہوۓ دیکھا تو فوراً بول پڑیں۔

ابتسام کا جی چاہا انکار کر دے۔ وہاں جانے کا سوچتے اسے پھر سے ابرش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور وہ اس کا سامنا کرنا نہیں چاہتا تھا۔

اسکا دل اس سے بغاوت کر رہا تھا۔ اور یہی وہ نہیں چاہتا تھا۔

جی ٹھیک ہے۔۔ انہیں ہامی بھرتا وہ باہر نکلا۔

سیکیورٹی گارڈز ساتھ ہولیے۔

نہیں۔۔ کوٸ ساتھ نہیں جاۓ گا۔ مجھے پراٸیوسی چاہیے۔

ابتسام نے ان سب کو روک دیا۔ وہ حکم کے غلام بنا کچھ کہے سر جھکاۓ پیچھے ہٹ گٸے۔

ابتسام گاڑی میں بیٹھتا ڈیزی ہوٹل کی طرف موڑ چکا تھا۔ جہاں اسکا کوٸ بہت بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

پروفیسرفراز نے ارحام کو ایک سنیٸر پروفیسر فہد کی آمد کا بتایا۔ وہ پینٹنگ کے دلداہ تھے۔ اور اسپیشل ارحام کی پینٹگ کو دیکھنے وہ کافی دور سے آرہے تھے۔

ارحام۔۔! یاد رکھنا ۔۔کل یونی میں آرٹ ایگزبیشن ہے۔ اور پروفیسر فہد کو اسپیشلی انواٸیٹ کیا ہوا ہے۔

کیونکہ سبھی جانتے ہیں۔ کہ وہ پروفیسرہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے اور نامور پینٹر بھی ہیں۔

لیکن یہ گولڈن چانس مس نہیں کرنا۔ تمہیں !

۔ اگر انہیں۔ تمہاری پینٹنگ پسند آگٸ تو وہ اپنی آرٹ گیلری کی نیو ایگزبیشن میں تمہاری پینٹنگ بھی سجاٸیں گے۔ اور بہت اونچاٸ پے جاٶ گے۔۔ تم۔۔۔ !مجھے تم سے بہت امیدیں ہیں۔ ارحام۔۔۔

پروفیسر فراز نے اسے بہت پیار سے سمجھایا۔

نو پرابلم سر۔۔۔ ! سب آپ کی مرضی کے مطابق ہوگا۔

ارحام۔۔۔ میرے خیال سے لاسٹ ٹاٸم جو تم نے۔۔ پینٹگ بناٸ تھی۔۔ وہ جھرنے والی۔۔۔ کمال کی تھی۔۔ بس تم وہی پیش کرنا۔۔۔

اوکے سر۔۔۔

i will do my level.best.

ارحام مسکراتا ہو اٹھا۔

باہر آتے ہی بلال اور عمیر نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ اور ساری بات نکلوا لی۔

وہ دونوں اسکے لیے بے حد خوش تھے۔

اچھا ایک کام کرو۔۔۔ یار۔۔ یہ لاکر کی Key ہے۔۔ اسے لے جاٶ اورلاکرمیں پینٹگ رکھی ہے ایک نظر۔دیکھ آٶ۔ اور ہاں۔۔ اچھے سے احتیاط سے رکھنا۔ کل وہی شو کی جاۓ گی۔

مجھے ابھی کہیں جانا ہے ۔۔۔۔۔ ارجنٹ۔ تو کام احتیاط سے ہونا چاہیے۔ اوکے۔

ارحام تسلی کرتا وہاں سے باہرکی جانب بڑھا۔ یہ جانے بغیرکے اسکی دشمن أول نے اسکی ساری بات سن لی ہے۔ اور وہ کل کے لیے اچھی خاصی اکساٸٸیٹڈ تھی۔

تو مسٹر ارحام۔۔۔۔ کل کا دن تمہارے لیے یاد گار نہ بنا دیا تو میرا نام بھی لمظ حبیب شمس نہیں۔

وہ بھی پلاننگ بناتی بلال اور عمیرکے پیچھے دبے پاٶں چلتی گٸ تھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کیوں بلایا ہے۔۔یہاں مجھے؟

میٹنگ اٹینڈکرتا وہ اب ہوٹل میں انٹر۔ہوتا روم نمبر 103 کی جانب بڑھا۔

رات کے ساۓ دھیرے دھیرے گہرے ہو تے چلے جارہے تھے۔ بادلوں نےبھی آسمان کو پوری طرح گھیر لیا تھا۔ بس ایسے لگتا تھا کسی وقت بھی برس سکتے تھے۔

روم میں داخل۔ہوتے ہی اس نے کرخت لہجے میں سامنے کھڑی لڑکی سے پوچھا۔

جسکا لباس اسکا جسم ڈھکنے کے لیے آج کم لگ رہا تھا۔ وہ لال رنگ کے ناٸیٹ ڈریس ججس کا گلہآگے سےبھیڈیپ تھا پیچھے سے بھی۔

گہرے لال رنگ کی لیپ اسٹک لگاۓ کھلے بالوں کے ساتھ۔۔ اور ہوشربا وجود لیے کسی کا ایمان بھی ڈگمگا سکتی تھی۔

ابتسام ۔۔۔ تم۔آگۓ۔۔۔؟؟ فاریہ بے اختیار اسکی جانب بڑھی۔۔

سٹاپ۔۔۔۔! ابتسام۔نے ہاتھ اٹھاتےکہتےاسے اپنی جگہ پے وہیں روک دیا۔

میرے پاس وقت نہیں ۔۔ تمہاری فضول باتوں کے لیے۔۔ جو بات کرنی ہے فوراً کرو۔

سپاٹ لہجے میں کہتا وہ فار یہ کو چونکا گیا۔

وہ ابتسام تھا ۔۔

ابتسام علی پیرزادہ۔۔ جس کا ایمان ڈگماگا جاۓ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

ابتسام مجھے معاف کردو۔ میں غلط تھی۔ مانا کہ تمہیں دھمکی دے کے یہاں بلوایا ہے۔ لیکن۔۔ صرف تم سے معافی مانگنے کے لیے۔

دھیرے دھیرے کہتی وہ ابتسام کی جانب پیش قدمی بھی کرنے لگی۔

ابتسام کو اسکے آنسو جھوٹے لگے۔ لیکن وہ مزید اب اس کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔

ٹھیک ہے۔۔۔ ! ہوگٸ بات۔۔۔ کر دیا معاف۔۔آٸندہ مجھے دھمکی دینے کا سوچنا بھی مت۔ ورنہ۔۔۔۔۔

ابتسام نے انگلی اٹھاتے وارن کیا تو فاریہ اسکے قدموں میں گر گٸ۔

اور اسکے بوٹوں کو ہاتھ لگایا۔

بس۔۔تم اللہ کی خاطر میرے سارے قصور معاف کر دو۔ آج کے بعد تمہیں کوٸ شکایت نہیں ہوگی۔

ابتسام کو اسکا یوں پاٶں پکڑکے معافی مانگنا بہت برا لگا۔

ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔۔ بس پیچھے ہٹو۔ ابتسام کو ایرٹیشن ہوٸ۔

پہلے تم کہو۔۔ تم نے مجھے معاف کر دیا۔

وہ روتے ہوۓ اسکے قریب ہوٸ۔

ہمممم۔۔۔! ابتسام کی چھٹی حس اسے کچھ غلط ونے احساس دلا رہی تھی۔

ابتسام کے اوکے کرنے کی دیر تھی۔ فاریہ جھٹ سے اسکے گلے لگی۔ وہیں ابتسام کے صبرکا پیمانہ لبریز ہوا۔

اسے خود سے الگ کرتا۔ پیچھے کی طرف دھکا دیا۔ وہ بیڈ پے جاگری۔

تم ناں۔۔ کبھی نہیں سدھر سکتی۔۔

شدید غصے سے ابتسام کی شریانیں پھول گٸیں۔

ابتسام۔۔! میں تم ے کچھ نہیں مانگتی۔۔ بس آج کے کچھ پل میرے نام کردو۔۔۔ مجھے۔۔ تمہارے ساتھ وقت گزارنا ہے۔۔۔ پلیز۔۔۔ میرے پاس آجاٶ۔۔۔

فاریہ جسے اپنے ہوش وحواس میں نہ لگی۔ کہتے ساتھ وہ ابتسام کے قریب ہوٸ۔ اتنی ہی ے دردی سے اتسام نے اسے پکڑکر پیچھے دکھیلا۔ اور رکھ کے ایک تھپڑ اسے رسید کیا۔ وہ اوندھے منہ بستر پے جاگری۔

تم۔۔ انتہاٸ۔۔ بے ہودہ لڑکی ہو۔۔ جسکی کوٸ سیلف رسپکٹ نہیں۔۔ اب تم سے تمہاری ہی زبان میں بات کروں گا۔۔۔

گھٹیا پن دکھایا ہے ناں۔۔۔ اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں۔ ابتسام نے غصے سے پھنکارتے کہا ۔

لیکن فاریہ کہاں باز آنے والی تھی۔ پوری پلاننگ کر کے اس نے ابتسام کو بلایا تھا۔

ابتسام۔۔۔ پلیز۔۔۔ میری بات سنو۔۔ تم۔۔۔ بھلے مجھ سے شادی نہ کرو۔۔ لیکن۔۔ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔ شادی نہیں کرنی مت کرو۔۔ لیکن۔۔۔ میرے ساتھ وقت تو گزار سکتے ہوناں۔۔۔پلیز۔۔۔

اتنا کہتے اس نے ابتسام کو اپنی طرف پوری قوت سے کھینچا۔ اور وہ اس چال کو سمجھ نہ سکا۔

دانت پیستا خود ہی سنبھالتا وہ پیچھے ہٹا۔

اور ایک اور تھپڑ اسے جڑ دیا۔

تم۔۔۔۔۔؟؟ شدید غصہ کی وجہ سے وہ الفاظ بھی ادا نہ کرپایا۔

اور زور سے دروازہ کھولتا وہاں سے باہر نکلتا چلا گیا۔

جبکہ فاریہ مسکراتی مزے سے وہاں بیٹھی اپنا گال سہلاتی ادھ کھلے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔

تبھی پردے کی اوٹ سے کامی باہر۔نکلا۔

جسے دیکھ فاریہ کے چہرے پے خوشی ہی خوشی تھی۔

بہت کمال۔کر دیا۔ گریٹ۔۔۔

اس سے فون لے کے تصاویر دیکھتی وہ اکمی کا ایمان ڈگمگا چکی تھی۔ اب وہ فون پر کال کر رہی تھی۔

ہاں۔۔ کام ہوگیا۔۔؟؟ سپرے کر دیا۔۔۔؟؟

آگے سے جواب آنے پے وہ مسرور سی مسکراٸ۔

ہممم۔۔۔ آگے کیا کرنا۔۔ پتہ ہےناں۔۔؟ ؟مجھے۔۔ کوٸ بھول چوک نہں چاہیے سب پلان کے مطابق ہونا چاہیں۔

ہدایات دیتی وہ اس وقت شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ بستر پر براجمان تھی۔

بس۔۔ تھوڑی دیر اور۔۔۔ پھر تم میرے پاس ہوگے۔۔۔۔!

خیالوں خیالوں میں وہ ابتسام سے مخاطب ہوٸ۔

جبکہ یہ تک نہیں جانتی تھی۔ کہ شیطان کے روپ میں کامی اس کے پاس بیٹھا تھا۔ جو آج ادکا یہ حسن دیکھ خود پے قابو نہیں کر پاررہا تھا۔

یہ سچ ہی ہے۔۔۔ جو کسی کے لیے گھڑا کھودتا ہے۔ خود اسی میں گرتا ہے۔ اور اسوقت جس جیت کا وہ جشن منارہی تھی۔ ہ جیت اسے کتنی بھاری پڑنے والی تھی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابتسام غصہ ضبط کرتا ہوٹل سے نکلا۔ اور اپنی گاڑی کی جانب بڑھا ۔

یہاں وہ ایک غلطی کر بیٹھا تھا۔ گاڑی کولاک نہیں لگایا تھا۔ اور یہ اسکی بری عادت تھی۔ اسی بات کا فاٸدہ دشمن نے اٹھایا۔

اس نے گاڑی گھر کی جانب موڑی۔

لیکن پھر خود کو ریلکس کرتا ابی جان کی بات یاد آگٸ۔ اور گاڑی مجیب صاحب کے گھر کی روڈ پے ڈال دی۔ کیونکہ ارتسام نے کہا تھا۔ وہ آج گھر شفٹ ہوجاٸیں گے۔

اس فاریہ کا کچھ کرنا پڑے گا۔ اب پانی سر سے اوپر ہوچکا ہے۔

فاریہ کے متعلق سوچتے اسے ایک دم سے یوں لگا۔ جیسے اسے اونگھ آٸ ہو۔ پھر اپنا وہم سمجھ کے جھٹک دیا۔

لیکن یہ اسکی حام خیالی تھی۔ اسے مزید چکر آۓ۔

ایک دم سے بارش بھی شروع ہو چکی تھی۔ راستہ بھی زیاہ کلٸر نہ تھا۔ اور اسکی آنکھیں بھی بند ہورہی تھیں۔

لیکن وہ اپنے حواس پے قابو رکھے گاڑی شمس صاحب کے گھر کے باہر کھڑی کرچکا تھا۔

بارش ابھی بھی زور و شور سے برس رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔۔

وہ جتنا آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتا۔ اتنی ہی اسکی آنکھیں بند ہتی جاتیں۔

اس نے اپنا سر سیٹ کی پشت سے لگایا۔ وہ نیند کی طرف دھکیلا جا ہا تھا۔ اور اسے سونا نہیں تھا۔

فوراً وہ اپنے ہواس بحال کرتا گاڑی سے گیٹ تک

پہنچا۔ لیکن اسے اپنا دماغ سن ہوتا محسوس ہوا۔

وہ مضبوط اعصاب کامالک شخص تھا۔ اسلیے اب تک سرواٸیو کر گیا۔ ورنہ جو سپرے اسکی گاڑی میں ہوا تھا۔ صرف کچھ منٹ میں وہ بے ہوش ہو چکا ہوتا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ڈاکٹر ارتسام ۔۔ آپ پلیز بابا کاخیال۔رکھیے گا۔ جیسے ہی بارش رکتی ہے۔ میں فوراً آتی ہوں۔

آج مجیب صاحب کو ڈسچارج دینا تھا۔ لیکن شام۔کو انکا بی پی شوٹ کرگیا۔ جسکی وجہ سے ارتسام۔نے انہیں مزید ایک دن کے لیے روک لیا تھا۔ وہ گھر آٸ تھی ضروری سامان لینے۔

لیکن اس اچانک بارش نے اس کے کیے کراۓ پے پانی پھیر دیا۔ کب سے بیٹھی ویٹ کر رہی تھی۔ لیکن بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ مجبوراً اسے ارتسام کو کال۔کرنی پڑی۔

ڈونٹ۔ وری۔ میں ہوں۔۔ ان کے پاس۔۔ فکرمت کریں اور ویسے بھی بارش بہت تیز ہے۔ آپ گھر ہی رہیں۔

ابھی بات مزید جاری رہتی ۔ کہ باہر لگاتار جتی بیل پے وہ چوکنا ہوٸ۔

رات کے اس وقت۔۔۔؟؟ کون ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟

ارتسامنے اسکی بڑبڑاہٹ سن لی۔

کیا ہوا۔۔۔؟ کوٸ ڈور پے ہے کیا۔۔؟؟ دھیان سے دیکھ سن کے گیٹ کھولیے گا۔

نہیں کوٸ نہیں۔۔۔ ایسے ہی میرا وہم۔۔۔۔

ہیلو۔۔۔۔؟؟ کال کٹ گٸ تھی۔ سگنل جا چکے تھے ابرش نے موباٸل پے دونارہ کالملاٸ لیکن سگنل دھوکا ادے چکے تھے۔

لیکن ابکی بار بیل کی آواز کلیٸر آٸ تھی۔ اور شاید کوٸ ہاتھ رلھ کے ہٹانا بھول گیا تھا۔

اللہ کا نام لیتی۔۔۔وہ دروازے کی جانب بڑھی۔ اس دوران وہ بھی اچھی خاصی بھیگ چکی تھی۔

کون۔۔؟؟ بمشکل لرزتے ہوۓ پوچھا۔

جواب ندارد۔ لیکن بیل بجے جا رہی تھی۔

کون ہے۔۔۔؟ بتاٶ بھی۔۔۔؟؟ ابرش کو ایک دم سے خوف محسوس ہوا۔

رات کا پہر

اوپر سے بارش۔۔۔

اور وہ اکیلی۔۔

انجانا سا خوف محسوس ہونے لگا۔

دروا۔۔۔۔۔زہ۔۔۔۔ کھو۔۔۔لو۔۔۔۔

دھیمی آواز سماعت سے ٹکراٸ۔

تو ابرش کا دل اچھل کے حلق میں آگیا۔

مطلب باہرکوٸ تھا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *