Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 04)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 04)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
مارے غصے لمظ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
تم۔۔اب مجھے میری لمٹس بتاٶ گی۔۔۔؟؟ یو۔۔۔۔؟؟ ہو کیا تم۔۔۔؟؟ ارحام۔بھی غصے میں آگیا۔
جو بھی۔۔ ہوں۔۔ کم از کم۔۔ تم سے ہزار درجے بہتر ہوں۔۔لوفر۔۔۔!
لال ببھوکا چہرہ لیے کہتے وہ پلٹی۔کہ ارحام نے غصے سے اسکی بازو پکڑ کے اسے اپنی طرف موڑا۔
کیا بکواس کی ہے۔۔۔؟؟ لوفر۔۔۔ کسے بولا۔۔۔؟؟ کیا لوفر گری کی ہے۔۔۔؟؟ تم۔۔جیسی کو کبھی گھاس نہیں ڈالی اس لیے۔۔ آگ لگی ہے تمہیں۔۔۔؟؟
ارحام نے بنا کسی لحاظ کے کہتے اپنی انگلیاں اسکی نازک بازو میں پیوست کیں ۔ وہ اسے بری طرح ہرٹ کر گیا۔
میرا۔۔۔ بازو۔۔ چھوڑو۔۔۔! لہجہ نم ہوا تو آنکھیں بھی نم ہوٸیں۔
آٸندہ اپنے الفاظ کو سوچ سمجھ کے استعمال کرنا۔ سمجھی تم۔۔۔!
ماتھے پے تیوری چڑھاۓ ایک جھٹکے سے لمظ کا بازو چھوڑتے وہ گھورتےوہاں سے نکلتا چلا گیا۔
لمظ کی نظریں اپنے اردگر اٹھیں ۔ جہاں بہت سوں کی نظروں میں۔تمسخر تھا۔ تو بہت سوں کی نظروں میں افسوس۔
لمظ !چلویہاں سے۔ کنول نے اس کے کان کے پاس آتے کہا۔ اپنے آنسو ضبط کرتی وہ زویا کو لیے وہاں سے واک آٶٹ کر گٸ۔
یار۔۔۔۔ تم۔نے اچھا نہیں کیا۔۔۔ اسے ہرٹ کیا۔۔۔ عمیر نے ارحام۔کو دکھ سے کہا۔ تو وہ بپھر ہی گیا۔
تمہیں کیا پرابلم ہے۔۔۔؟ میں نے جو بھی کہا۔ وہ یہی ڈیسرو کرتی ہے۔۔۔ یو نو۔۔۔ کبھی بھی ارحام۔پیرزادہ نے اسے منہ نہیں لگایا۔ اسی کا اسے دکھ ہے۔۔۔ لیکن۔۔ کہاں۔۔ میں۔۔ اور کہاں۔۔ وہ چشمش۔۔۔!
نجانے وہ کیا سے کیا بولے جا رہا تھا۔ پاس سے گذرتی لمظ کے قدم ڈگمگاۓ۔ وہ اسکی زات پے سوالیہ نشان چھوڑ رہا تھا۔
حام۔۔۔ کسی بھی لڑکی کے بارے میں ایسے مت کہو۔۔ جو بھی ہے وہ بھی نازک سا دل رکھتی ہے۔
عمیر نے اسے پھر سے پیار سے سمجھایا۔
ماٸ فٹ۔۔۔ اسکا دل۔۔۔ ہے کیا وہ۔۔۔؟؟ ارحام کو عمیر کا اسکی ساٸیڈ لینا مزید غصہ دلا رہا تھا۔
چیپ گرل۔۔۔ ! ابھی باقی کے الفاظ اسکے منہ میں تھے۔ کہ لمظ ایک بار پھر اس کے سامنے آن کھڑی ہوٸ۔
تم ہو کیا۔۔۔؟؟ مجھے چیپ کہنے والے۔۔ تمہاری کیا اوقات ہے۔۔۔؟؟ بےانتہا غصہ میں اس کے سینے پے ہاتھ مارتے اسے پیچھے کی جانب دھکا دیا۔ وہ لمظ کی اتنی دیدہ دلیری پے حیران ہی رہ گیا۔
تمہاری نظر میں ہر لڑکی ایک جیسی ہے۔۔ جو تمہارے آگے پیچھے پھرتی ہے۔۔۔ لیکن لمظ حبیب شمس تم جیسوں کو دیکھنا بھی گوارا نہ کرے۔
غصے سے اپنا چشمہ درست کرتی لال چہرے کے ساتھ وہ ارحام کو ٹھٹھکا گٸ۔
لیکن اس کے خاموش ہوتے ہی دانت پیستا اسکے پاس ہوا۔
ہوگیا۔۔۔؟ یا مزید بکواس کرنی ہے۔۔۔؟؟ سینے پے ہاتھ باندھے وہ لمظ کو مزید تپا گیا۔
آج کے بعد مجھ سے یا۔۔۔ میری بہن سے پنگا مت لینا سمجھے۔ انگلی اٹھا کے بولتی اسکی آواز میں واضح کپکپاہٹ تھی۔
لمظ۔۔۔ چلو۔یہاں سے۔۔۔ کنول اسکی طبعیت کے پیشِ نظر بولی۔ اسکا سانس اکھڑنے لگا تھا۔ ایک دھوپ کی تمازت اوپر سے اسکا غصہ ۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔ سامنے کھڑے ارحام کو مار ڈالے۔
کنول اسے لے کے جا چکی تھی۔ ارحام نے اسکی خراب ہوتی طبعیت دیکھی تھی۔ اس لیے خاموش ہوگیا تھا۔
کوٸ نہیں جانتا تھا کہ اسے سانس کا مسٸلہ ہے۔ اس نے یہ بات یونی میں سب سے چھپا کے رکھی تھی۔ سواۓ کنول کے وہ کسی سے شیٸر نہ کر سکی۔ وہ کسی سے ہمدردی نہیں چاہتی تھی۔
تمہارا۔ ان ہیلر کہاں ہے۔۔۔؟؟ کنول اسے ایک کم گوشے کی جانب لاتی پرشانی سے بولی۔ آج پہلی بار یوں یونی میں اسکا سانس اکھڑا تھا۔ وہ ہمیشہ پرسکون رہنے والی انسان تھی۔
بی۔۔۔بیگ۔۔۔ میں۔۔۔! زویا اسکی پیٹھ تھپتھپا رہی تھی۔
جبکہ وہ لمبے اور گہرے سانس لے جا رہی تھی۔ کنول نے ان ہیلر اسکے منہ کے ساتھ لگایا۔ تو کچھ ہی دیر میں اسکا سانس بحال ہو گیا۔
کیا ضرورت تھی۔ اسکے منہ لگنے کی۔۔؟؟ پتہ بھی ہے وہ یونہی تپاتا ہے تمہیں۔۔ اور تم۔۔۔؟؟ کنول کو اسکی حالت سے دکھ ہوا۔
چلو۔۔۔! کنول کی بات کو نظر انداز کرتی وہ زویا کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گٸ۔
زویا۔ اسکی کزن تھی۔ حال ہی میں وہ ان کے گھر شفٹ ہوٸ تھی۔ ماں باپ کا سر پے سایہ نہ تھا۔ اپنے چچا کے ساتھ رہ رہی تھی۔ لیکن انہوں نے کبھی چاہت نہ کی تھی۔ خالہ کی بیٹی تھی۔ تو لمظ کی مما زارا اسے اپنے ساتھ لے آٸیں تھیں۔
اور آج یونی میں زویا مجید کا پہلا دن تھا۔ جو بہت ہی برا تھا۔














ابی جان ۔۔۔! میں نہیں چاہتا تھا کہ بات آپ تک پہنچے۔۔۔ لیکن حالات بہت کشیدہ ہو چکے ہیں۔
ابتسام بیٹا نے وہ فیکٹری بند کر دی ہے۔ اور تمام مزدور بے روزگار ہو گٸے ہیں۔ ان کے پاس جمع پونجی بھی خرچ ہنے لگی ہے۔ اور نوبت فاقوں پے پہنچ جاٸے گی۔
اب آپ سے ہی امید ہے کچھ۔۔۔ کہ ان غریبوں کا کچھ سوچیں ۔ مجیب شمس آج آخر دل بڑا کر کے ابی جان کے پاس پہنچ ہی گٸے تھے۔ ابی جان گہری سوچ میں ڈوبیں۔
آپ جاٸیں ۔۔ ہم۔۔دیکھتے ہیں۔۔ اس معاملے کو۔۔ ! ابی جان نے سوچتے ہوۓ کہا۔ تو مجیب شمس اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے باہر کیجانب بڑھ گۓ۔














ڈاکٹر ملکہ ! یہ ہیں ہمارے ہاسپٹل کے نیو ڈاکٹر۔ ڈاکٹر ارتسام پیرزادہ۔
ڈاکٹر اسد نے تعارف کروایا۔
اور یہ ہماری سینٸر ڈاکٹر ملکہ ہیں جو بہت زمے دار اور ٹیلنٹڈ ہیں۔ نہایت شگفتہ مزاج کی ہیں۔
ڈاکٹر اسد یہ کچھ زیادہ ہی نہیں ہوگیا۔۔؟؟ آنکھوں میں محبت کی چاشنی لیے انہوں نے اسد کی جانب دیکھا۔
چلیں۔۔ میں اپنے الفاظ واپس لے لیتا ہوں۔۔ اسد نے بھی محبت پاش نظروں سے دیکھا۔
ایک منٹ۔۔۔؟؟ یہ کیا سین ہے۔۔۔؟؟ ارتسام نے حیرت سے دونوں کو دیکھا۔
آپ انہیں سین سمجھاٸے۔ مجھے ایک پیشنٹ کو دیکھنا ہے۔ ڈاکٹر ملکہ ایک ادا سے کہتے آگے بڑھ گٸیں۔
یار۔۔۔! مسز ہیں میری۔۔! اس نے مسکراتے ہوۓ لب بھیننچتے کہا۔
واٶ۔۔۔۔! مطلب۔۔ ہسبینڈ اینڈ مسز۔۔ مل کے ڈاکٹری کرتے ہو۔۔؟؟ ارتسام کو خوشگوار حیرت ہوٸ۔
بس۔۔۔ یہی سمجھ لو۔۔۔ آٶ۔۔ تمہیں ۔۔تمہارا کیبن دکھاٶں۔
اسد نے فوراً سے کہا۔ وہ جانتا تھا ارتسام نے مزید اسکی ٹانگ کھینچنی ہے۔ کہ اسے بتایا کیوں نہیں۔ جب وہ باہر تھا تبھی اسکی شادی ہوٸ۔ اور ایک بیٹی بھی تھی۔ ضوفشاں۔۔ جس کا ابھی ارتسام کو بھی علم نہ تھا۔












کھانا کھا لے عروش۔۔ نہ تنگ کر ماں کو۔۔۔! زلیخا نے آنسو صاف کرتے نوالہ بنا کے عروش کے منہ میں ڈالتے کہا۔
نہیں کھانا مجھے۔۔۔ ! آپ کیسی ماں ہیں۔۔؟
وہ ۔۔شخص ۔۔مجھے۔۔ بیچ رہا ہے۔۔۔اور۔۔آپ چپ چاپ تماشا دکھ رہی ہیں۔۔۔؟؟ میں آپ کی سگھی بیٹی ہی ہوں ناں۔۔۔؟؟ سچ بتاٸیں۔۔؟؟
عروش نے ماں کا ہاتھ پکڑتے بہت مان اور درد بھرے لہجے میں پوچھا۔
عروش۔۔ زلیخا رو دیں۔
امی۔۔۔۔ ! امی۔۔۔ مجھے۔۔ یہ شادی نہیں کرنی۔۔۔آپ ۔۔ابو سے کہیں ناں۔۔۔ وہ نہ کریں یہ ظلم۔۔ مجھے پڑھنا ہے۔۔ڈاکٹر بننا ہے۔۔ آپ۔۔۔ کہیں ناں۔۔ ابو سے۔۔۔! عروش اب منت بھرے لہجے میں ماں سے کہنے لگی۔
عروش۔۔!ایک بار چوہدری جی جو فیصلہ کر لیں۔ پھر اس سے مرتے دم تک نہیں پھرتے۔۔۔ میری بیٹی صبر رکھ۔۔ اللہ پے بھروسہ رکھ۔۔ وہ کبھی تیرے ساتھ کچھ برا نہیں ہونے دے گا۔ عروش کے چہرے پے پیار کرتے کہا۔ تو عروش نے ماں کا ہاتھ جھٹک دیا۔
نہیں چاہیے آپ کی جھوٹی ہمدردی۔۔۔ آپ سب۔۔۔ اندر سے ایک ہیں۔۔ بیٹیوں کو بیچتے ہیں۔۔۔ گھن آرہی ہے۔۔مجھے آپ سے خود ۔۔سے۔۔ کہ میں نے اس گھر میں جنم لیا۔۔۔کاش۔۔ آپ نے مجھے پیدا ہوتے ہی مار دیا ہوتا۔۔۔۔ وہ ہیزیانی انداز میں چلاٸ۔
زلیخا منہ پے دوپٹہ رکھے بے بسی کی مورت بنے وہاں سے اٹھ آٸیں۔ وہ قابو نہ آرہی تھی۔ بس روۓ جا رہی تھی۔ گھٹنوں کے اردگرد بازو لپیٹے زمین پے بیٹھے وہ سوجھی آنکھوں سے ایک ٹک زمین کو گھورے جا رہی تھی۔
میں۔۔۔مر جاٶں گی۔۔۔ لیکن۔۔۔ بکوں گی نہیں۔۔ جاوید چوہدری۔۔۔ تمہارا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہونے دوں گی۔















اہوہو۔۔۔۔ تو خبر آپ تک پہنچا ہی دی گٸ۔۔؟ ابتسام کو مجیب صاحب پے بے انتہا غصہ آیا۔
بیٹا۔۔ ! یہ بات مجھ تک کیا نہیں پہنچنی چاہیے تھی۔۔۔؟
بیٹا۔۔ وہ غریب مزدور ہیں۔۔ اگر ان کے گھر کا چولہا ہماری فیکٹری سے جلتا ہے تو پیسے کا نقصان کوٸ معنی نہیں رکھتا۔ کسی غریب کی پردہ پوشی کرنے والے کو اللہ بہت پسند کرتا ہے۔۔
ابی جان نے بہت رسان اور پیار سے سمجھایا۔
ابی جان۔۔۔! آپ کیا چاہتی ہیں۔۔؟
ابتسام ان کے آگے کبھی بول ہی نہیں سکتا تھا۔ اس لیے گہری سانس خارج کرتے ان کے قدموں میں بیٹھا۔
بیٹا۔۔۔ مجیب شمس۔۔ مجھے علی کی طرح ہی عزیز ہیں۔ ان میں مجھے علی کی پرچھاٸ نظر آتی ہے۔۔ وہ جو کہیں۔ وہ سنا کرو۔ سمجھا کرو۔۔ ! انہوں نے اسے پیار کرتے کہا۔
جی۔۔۔۔۔۔! ابتسام نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
آپ نے میڈیسن لیں۔۔؟ انتسام نے بات بدلی۔
جی۔۔۔ بیٹا۔۔! اب کافی رات ہوگٸ۔۔ میں بھی سونے جارہی آپ بھی۔۔۔۔؟؟
چلیں میں آپ کوروم تک لے چلوں۔۔ ابتسام نے بات کاٹتے کہا۔ اور ابی جان کا ہاتھ تھامے وہ انہیں ان کے وم تک مسکراتا ہوا چھوڑتا۔ اپنے روم کی طرف بڑھا تھا۔ چہرے پے انتہا کی سختی تھی۔
مجیب شمس۔۔۔ یہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔۔۔!
گرین آنکھیں لال ہوچکی تھیں۔














یار۔۔ کوٸ نٸ بلبل نہیں پھساٸ۔۔۔؟؟ شیراز نے حماد سے کہا۔
ارے یار پہلے والی کے ساتھ جو وقت گزاراوہ بھول گیا۔۔ اتنی جلدی۔۔ ؟ ابھی صبر رکھ وہ معاملہ ابھی ٹھنڈا پڑنے دے۔۔ پھر کرتا ہوں کچھ بندوبست۔۔۔۔! حماد سوچتے ہوے بولا۔
یہ آج فادی کہاں رہ گیا ہے۔۔۔؟؟ ابھی تک آیا نہیں۔۔؟؟ شراز نے بات کو پلٹا۔ تبھی فادی بھی وہاں پہنچا۔
کہاں رہ گیا تھا۔۔؟ حماد نے فوراً پوچھا۔
یہ دیکھ۔ نٸ کلی۔۔۔ کھلتا گلاب۔۔۔! کیا چیز ہے۔۔۔؟؟ نٸ نٸ دوستی ہوٸ ہے۔۔۔ تیرے یار کی۔۔۔ اس سے۔۔فادی نے ایک تصویر موباٸل پے انہیں سامنے کرتے دکھاٸ۔
ارے ۔۔۔ یہ تو بہت چھوٹی ہے۔۔۔؟ تجھے کہاں مل گٸ؟
شیراز نے حیرانی سے کہا۔
ارے یار جیسے بھی ملی تو یہ چھوڑ۔۔ یہ بتا ۔۔۔ ہے ناں کمال کا پیس۔۔۔۔؟؟؟ فادی نے داد طلب کی۔
پھر۔۔۔ کب ملوا رہا ہے۔۔۔؟حماد کو اسے دیکھ ملنے کا دل چاہا۔
ارے یار پہلے بھاٸ کو تو مل لینے دے۔۔۔ پھر تم دونوں کو بھی عیاشی کرواٶں گا۔
کالر جھاڑتا وہ مزے سے کہتا ان کو بھی قہقہہ لگانے پے مجبور کر گیا۔
ابھی وہ مزید بات کرتے کہ ان تینوں کے منہ پے کسی نے کالا کپڑا ڈال دیا۔ اور پلک جھپکتے وہاں سے انہیں لیتے پرانی عمارت کے نیچے پہنچے۔
بادشاہ نے انہیں لاتے ہی سامنے دیوار کے ساتھ انکے سر کی بہت زور کی ٹکر ماری کوانکو دن کے وقت تارے نظر آنے لگے۔ اور پھر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کے ان کی بے تحاشا دھلاٸی کی۔ انکو سنبھلنے کا موقع دیۓ بغیر وہ انہیں پیٹتے رہے۔ اور وہ سب انکی اچھے سے دھلاٸ کر کے پیچھے ہٹے۔ تو ان تینوں کو زمین پے ایک دوسرے کے اوپر گرادیا۔وہ ادھ موۓ ہو چکے تھے۔
بوتل دے۔۔۔۔! بادشاہ بدمعاش نے کامی سے غصے سے کہا۔
بوتل ہاتھ میں لیتے ہی اسے ان تینوں پے باری باری چھڑکاٶ کرنے لگا۔ وہ تینوں چینخیں مارتے اپنے آپ کو بچانے لگے۔ لیکن اس زہریلے تیزاب نے انکی چمڑی تک ادھیڑ کے رکھ دی۔
بوتل ساٸیڈ پے پھینکتے وہ ان پے تھوکتا وہاں سے نکل گیا۔ جبکہ کامی وہ بوتل اٹھانا نہ بھولا۔ وہ پولیس کو کوٸ ثبوت نہیں فراہم کرنا چاہتے تھے۔
اور جو حالت ان تینوں کی تھی۔ کامی کو یہی لگا وہ بچ نہیں پاٸیں گے۔
ان پے وہ بس افسوس ہی کر سکتا تھا۔













ہمارے ہاں عدالتوں کا بھی یہی نظام ہے۔ غریب کے لیے قانون اور۔۔ اور امیر کے لیے اور۔۔۔!
ابرش جانتی تھی۔ کہ قانون کی گرفت میں آنے کے بعد اپنے اثر و رسوخ سے وہ پھر چھوٹ جاٸیں گے۔ اور پھر سے کسی لڑکی کی زندگی برباد کریں گے۔
اور ابرش کی ڈکشنری میں دوسرا چانس دینا لکھا ہی نہ تھا۔
اور بہت سوچ سمجھ کے اس نے ان کے لیے یہ سزا تجویز کی تھی۔











ارتسام۔کی ایک روٹین بن گٸ تھی۔ وہ ہاسپٹل جواٸن کر کے بہت خوش تھا۔ اور فی الحال ابتسام نے بھی اسے چھیڑنا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اس کے لیے سرپراٸز تیار کرنے لگا۔
ہاسپٹل کا نقشہ پاس کروا کے وہ ہاسپٹل پے کام شروع بھی کروا چکا تھا۔ ابتسام اپنے سرپراٸز دینے پے بھی اندر ہی اندر بے انتہا خوش تھا۔
ہاں۔۔ ابتسام نے فیکٹری دوبار بحال کر دی تھی۔ اور وہاں کا کرتا درتا سب مجیب شمس کو سونپ دیا تھا۔ وہ ا بی جان کی کسی بھی بات کے خلاف کبھی نہیں جا سکتا تھا۔یہ او بات تھی کہ مجیب صاحب پے غصہ اپنی جگہ برقرار تھا۔
لیکن ابی جان کی خاطر اس نے اپنے غصے کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ کیونکہ وہ خوش تھیں تو وہ بھی مطیٸن تھا۔
ہاسپٹل کے ساٸیٹ دیکھ وہاں پے ہوتا کام دیکھ وہ مطمیٸن ہوتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔ اور گاڑی کو اسٹارٹ کرتا روڈ پے ڈالی۔
وہ یہاں اپنے سیکیورٹی گارڈرذ کے بنا آتا تھا۔ وہ یہ سب راز رکھنا چاہتا تھا۔ اس لیے کسی کو بھی ساتھ نہ لاتا تھا۔
لیکن وہ نہیں جانتا تھا۔ آج وہ کتنی بڑی مصیبت میں پھسننے والا تھا۔۔۔














مسلسل فون کال آتی دیکھ اٹھاتے ہی بنی۔
حیریت بابا۔۔۔؟؟ ابرش نے پریشانی سے پوچھا۔
بیٹا۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔ کہ تم مصروف ہو۔ لیکن۔۔ میں نے ایک تصویر بھیجی ہے آپ کے نمبر پے اسے دیکھ لیں۔ کیونکہ کل آپ کی مہندی ہے۔ اور میں چاہتا ہوں۔ آپ ایک بار اپنے ہونے والے۔۔۔
بابا۔۔۔ ! میں نے آپ سے کہا تھا۔ مجھے نہیں فرق پڑتا۔
کیب کرواتی وہ اس میں بیٹھتی ساتھ فون پے بات بھی کر رہی تھی۔
جانتا ہوں بیٹا۔۔ یہ مان ہے مجھے آپ پے۔۔۔ ! جو آپ نے مجھے واپس لوٹایا ہے۔ لیکن میری خواہش ہے۔ کہ ایک بار آپ تصویر دیکھ لو۔۔۔
مجیب شمس کے لہجے میں پیار ہی پیار تھا۔
ابرش مسکرا دی۔
اوکے بابا جان۔۔۔ میں دیکھ لیتی ہوں۔۔۔ ابرش نے ہار مانتے مسکراتے کہا۔ کہ تبھی گاڑی رکی۔ ڈراٸیوور نے گاڑی چیک کی۔
میڈم۔۔۔ گاڑی میں مسٸلہ ہے۔۔ کچھ ٹاٸم لگے گا۔ مصروف انداز میں بولا۔
اف اتنی ویران جگہ پے گاڑی کا خراب ہونا۔۔۔؟؟ ابرش کو کچھ اچھا نہ لگا۔
باہر نکل کے سڑک پے نظر دوڑاٸی دور دور تک کوٸ نظر نہ آیا۔
یہ۔۔کونسا راستہ ہے جہاں سے تم مجھے لے کے جارہے تھے۔۔۔؟ ابرش نے مڑتے کڑے تیوروں سے کہا۔
میڈم ۔۔۔ یہ شارٹ کٹ ہے۔۔ جلدی پہنچ جاتے۔۔ بس گاڑی نے دھوکا دے دیا۔۔۔ وہ منہ بناتا بولا۔
اب کیا کروں۔۔؟؟ کس کو کال کروں۔۔؟ ابھی وہ سوچ رہی تھی کہ بادشاہ کی کال آگٸ۔ او اس نے مشن مکمل ہونے کی خوش خبری سناٸ۔
ابرش کے چہرے کی مسکان مزید بڑھ گٸ۔ وہ ساتھ ساتھ چلتی جارہی تھی۔ بنا سوچے سمجھے انجان راستے پے وہ آگے بڑھتی جارہی تھی۔ اور بادشاہ سے محو گفتگو تھی۔ اسے یہ تک احساس نہ ہوا کہ وہ کتنا دور نکل آٸ ہے۔
میڈم۔۔۔! کچھ اوزار لانے ہوں گے۔۔ میں۔۔۔؟؟ ڈراٸیور نےبونٹ سے سر باہر نکال کے کہا۔ لیکن اسے ابرش کہیں نظر نہ آٸی۔ اس نے ادھر ادھر تلاش کیا۔ لیکن وہ نہ ملی۔
یہ میڈم کہاں چلی گٸیں۔۔؟؟ وہ پریشان ہوگیا۔
بہت اچھا کیا بادشاہ۔۔ بھاٸ۔۔۔ ! میرا دل کتنا پرسکون ہوا ہے۔۔میں بتا نہیں سکتی۔ ایسی ہی عبرت ناک سزا کے حق دار ہیں یہ دھرتی کے بوجھ۔
بہت خوشی سے بات کرتی وہ چلتی ہوٸ سڑک کے بیچ میں آگٸ۔ اور بہت مزے سے بات کرتے وہ الله حافظ کہتی مڑی کہ پیچھے سے فل سپیڈ سے آتی گاڑی دیکھتے اس کے چودہ طبق روشن ہوگے۔
آنے والا بھی قریب پہنچتا سامنے دیکھ چکا تھا۔ لیکن بریک لگانے کا وقت ہی نہ تھا۔ اس نے گاڑی کو لیفٹ ساٸیڈ موڑا۔بدقسمتی کہ ابرش بھی خود کو بچانے کے لیے اسی طرف مڑی تھی۔
گاڑی بے قابو ہوٸ ۔ اور ابرش کو بچاتے بچاتے بھی ایک ساٸیڈ سے ٹکر لگ ہی گٸ۔ ابرش توازن برقرار نہ رکھ سکی۔ اور زمین بوس ہوٸ۔ گاڑی بے قابو ہوتی کھاٸ کی طرف بڑھتی چلی گٸ۔
ایک طرف لڑھکتی ہوٸ گاڑی ایک دم رکی اور کھاٸ میں گرنے سے بچ گٸ۔ لیکن۔۔۔ اندر بیٹھے شخص کو تو یوں لگا۔ اسکا آخری وقت آچکا ہے۔
اسکی گاڑی ایک پہاڑی کے اینڈ پے تھی۔ جہاں سے وہ ہل بھی نہیں سکتا تھا۔ وہ ہلتا تو گاڑی سیدھا نیچے کھاٸ میں جانی تھی۔
کچھ لمحے ابتسام کو ہوش و حواس قابو کرنے میں لگے۔اپنی پوزشن کو سمجھتے اس نے دماغ لڑایا۔ اسے جلد از جلد یہاں سے نکلنا تھا۔۔ وہ اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہلا تو گاڑی نے نیچے کی طرف جھولا کھایا۔
وہ وہیں رک گیا۔ دماغ کو پرسکون کرتا وہ کوٸ ترکیب سوچنے لگا۔
ہیلو۔۔۔ ہیلوو۔۔۔ کوٸ ہے۔۔۔؟ زندہ ہو یا اللہ کو پیارے ہوگٸے۔۔۔؟؟ اوپر سے اونچی آواز میں چلاتی ابرش کی آواز ابتسام کو اس وقت زندگی کی نوید لگی۔
لیکن الفاظ اتنے ہی برے لگے۔
میں۔۔۔ یہاں۔۔ گاڑی میں پھنسا ہوں۔۔ ابتسام نے لب بھینچتے ماتھے پے آٸ چوٹ سے رستے خون کو صاف کیا۔
پھسنا ہی تھا۔۔۔ گاڑی چلانی نہیں آتی کیا۔۔؟؟ بندہ دیکھ کے باہر نکلتا ہے۔۔۔!وہ اوپر سے ہی لیکچر دے رہی تھی۔ابتسام نے آنکھیں موندتے اپنا غصہ کنٹرول کیا۔
تم۔۔۔۔میری مدد کر سکتی ہو۔۔۔؟؟ خود پے ضبط کرتے ابتسام نے اس سے اونچی آواز میں پوچھا۔
ظاہری بات ہے۔۔ اب اتنی دیر سے یہاں کھڑی ہوں۔۔ تو مدد کے لیے کھڑی ہوں۔۔ لیکن۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کروں کیا۔۔۔۔؟؟ ابرش نے سوچتے ہوۓ کہا۔
ایک منٹ میں کسی کوفون کر کے مدد کے لیے بلاتی ہوں۔
فوراً سے بولی۔اسی اثنا میں گاڑی نے ایک بار پھر جھولا لیا۔ ابرش کا سانس رکا۔ وہیں ابتسام کے دل کی دھڑکن بڑھی۔
جاری ہے
