Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar by Muntaha Chohan

 
ارحام۔۔۔۔ !!ارحام۔۔۔۔!!
پورے ہال میں صرف ایک ہی نام کی باز گشت تھی۔
اور وہ مہارت سے کینوس پے ربگ بکھیرے جا رہا تھا۔
آج آرٹ کمپیٹیشن تھا۔ اور دی بیسٹ ارحام علی پیرزادہ اس میں ہر بار کی طرح حصہ لے رہے تھے۔
ہر دلعزیز وہ ہوبرو نوجوان ہر لڑکی کی آنکھ کا تارا۔
اس وقت اپنی گرین آٸیز سے کینوس پے فوکس کیے ہوۓ تھا۔
گرین آٸیز اسکی اپنے بڑے بھاٸی سے مشابہت رکھتی تھیں۔
وہ گھر بھر میں سب سے چھوٹا ہونے کے ساتھ سبھی کا لاڈلا تھا۔
پڑھاٸی میں نمبر ون۔
تو آرٹ کا وہ شہزادہ تھا۔
کچھ بھی بول دو۔۔ وہ پلک جھپکتے بنا کے سامنے کر دیتا۔
سب یہی کہتے اسکے ہاتھ میں جادو ہے۔
اس وقت اسکی پینٹنگ آخری مراحل میں تھی۔
مخالف والی ایک لڑکی تھی۔ وہ بھی بہت مہارت سے رنگوں کو کینوس پے اتار رہی تھی۔ اور کچھ الجھی ہوٸی بھی تھی۔ نروس تھی۔
لیکن ارحام اتنا ہی مطمٸین انداز میں اپنا ورک مکمل کر رہا تھا۔
ٹاٸم از اپ۔۔۔!!
ایک آواز گونجی تو اسی لمحے ارحام کا ہاتھ رکا۔
دوسری جانب لڑکی جس کا نام سونیاتھا۔ وہ بھی سٹاپ کر گٸ۔
ہال میں خاموشی چھا گٸ۔
یکدم ارحام اپنی پینٹنگ کے آگے سے ہٹا۔
تو پورے ہال پے چھایا سناٹا تالیوں سے گونج اٹھا۔
سب نے ہی بے حد تعریف کی۔
اور ہمیشہ کی طرح پہلا انعام کا حقدار ٹھہرا۔
کوٸی ایسا شخص نہ تھا ۔ جس نے ارحام کے کام کی تعریف نہ کی ہو۔
ہر طرف ایک ہی شور تھا۔
ارحام دی بیسٹ۔۔۔!!
جہاں سب اس کے دیوانے تھے۔ وہیں ایک ہستی ماتھے پےتیوری چڑھاۓ مسلسل اسے گھورے جا رہی تھی۔
جی۔۔۔۔ وہ کوٸی اور نہیں۔۔۔ اس یونی کی سب سے ٹاپر لڑکی لمظ حبیب شمس تھی۔
جس نے ہمیشہ ہی سب سے ہاٸییسٹ نمبرز لیے تھے۔
اور شروع سے ہی اسکی اور ارحام کی نہیں بنتی تھی۔
پوری یونی میں انکی جوڑی کو ٹام اینڈ جیری کی جوڑی کہاجاتا تھا۔
ابھی بھی وہ سب کے ساتھ اپنی جیت سلیبریٹ کر رہا تھا کہ نظر بھٹکتی لمظ پے جا ٹکی۔
ایک آنکھ سے اسے ونک کیا۔ اور ساتھ میں طنزیہ سماٸیل پاس کی۔
لمظ کے تو پیروں لگی سر پے بجھی۔
لوفر۔۔۔۔!! زیرِلب دہرایا۔
کون۔؟؟ کس کو کہا۔۔۔؟؟ کنول کو حیرت ہوٸی ۔۔ وہ ہمکلامی میں کسے بول رہی تھی۔۔
وہی جسے لوفری کا انعام ملاہے۔۔۔
لمظ نے جلے دل سے کہا۔
ہاٸے۔۔۔۔۔!! کتنا ہینڈسم ہے یار۔۔۔۔۔!! اف۔۔۔۔ میرا تو کرش ہے۔۔۔۔!!
جی چاہتا ہے۔۔ بس سامنے ہو۔۔۔ اور میں اسے دیکھتی رہوں۔
کنول مسکراتے ہوٸے ارحام۔کودیکھے جا رہی تھی۔ جو اب پارٹی کے لیے کینٹین کا رخ کر چکے تھے۔
ایک کام کرو۔۔۔!! تصویر کھینچ کے روم۔میں لگا لو۔ اور صبح شام اسکی تصویر کے آگے دِیا جلانا۔۔۔۔!!
چِلا کٹنا۔۔ شاید مل۔جاٸے۔۔۔۔!!
طنز سے کہتی لمظ وہاں سے اٹھی ۔۔ کہ کچھ یاد آنےپے پھر سے پلٹی۔
اور ہاں۔۔۔!! تصویر پے ہار ڈالنا نہ بھولنا۔۔۔!!
اس سے تمہیں بھی افاقہ ہو گا ۔۔ اور اسے بھی۔۔۔!!
آٸی بڑی۔۔۔۔!! کرش ہےمیرا۔۔!!
منہ بگاڑ کے کہتی وہ کنول کو سکتے میں ڈال گٸ۔
جب ہوش آیا تو اسکے پیچھے بھاگی۔ جو لاٸبریری جا رہی تھی۔
یقین مان ایک بات بھی سمجھ نہیں آٸی۔
ماسوۓ تصویر بنانے کے۔۔۔!!
کنول نے ڈھیٹوں کیطرح موباٸیل۔بیگ کی پاکٹ سے نکالا۔
چل آ۔۔۔۔!! چلتےہیں۔۔۔!!
کہاں۔۔۔۔؟؟ لمظ نے حیرت سے اس سے پوچھا۔
یار۔۔۔!! خود ہی تو کہا۔۔ تصویر بنا لو۔۔۔۔! اب۔۔ خود ہی۔۔۔۔۔!!
کنول۔نے منہ بنایا۔
اور لمظ نے گہرا سانس کھنچتےہاتھ سر پے مارا۔
میں نہیں جا رہی۔۔۔۔!! تم نے جانا تو جاٶ۔۔!!
لمظ کو غصہ آگیا۔
تو کنول مسکینوں والا منہ بنانے لگی۔ لمظ نے نظرانداز کیا اور ایک بک اٹھا کے وہیں ساٸیڈ پے بیٹھ گٸ۔
اے۔۔۔پیاری۔۔۔ !! چل ناں۔۔۔۔!!
کنول نے منمناتےکہا۔
کنول۔۔ !! چپ کر کے بیٹھو۔۔۔!! اور خبردار ۔۔ جو گٸ تصویر بنانے۔۔۔۔!! اتنا ہی کوٸی۔۔۔ وہ سلیبرٹی۔۔۔۔۔!!
لمظ نے منہ بنایا۔
اب کنول کو بےچینی ہونےلگی۔
بس وہ کسی طرح ارحام کی تصویر بنانا چاہتی تھی۔
کچھ لمحے گزرے ہوں گے۔
کہ کنول اٹھی۔
مجھے۔۔۔۔ ناں۔۔ وہ واش روم جاناہے۔۔۔!!میں ابھی۔۔ آٸی۔
لمظ کی سوالیہ نظروں پے جھٹ سے جواب دیتی وہ وہاں سے نکل گٸ۔
لمظ نے نفی میں سر ہلایا۔
پوری یونی کا وہ کنگ تھا۔
اور ہر لڑکی ہی اس پے فدا تھی۔
لمظ دوبارہ سے کتاب کے مطالعہ میں مصروف ہوگٸ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *