Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 13)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

عروش مصطفیٰ بنت مصطفیٰ اعظم۔ آپ کا نکاح ارتسام علی پیر زادہ ولد علی عثمان پیرزادہ سے طے پایا ہے۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟

مولوی صاحب نے عروش سے سوال کیا۔ تو کچھ لمحے سکتے میں رہ گٸ۔

کیونکہ وہ جانتی تھی جس سے اسک انکاح ہونا طے پایا تھا وہ کوٸ سرفراز نام تھا اسکا۔

اور یہ کوٸ اور نام لے رہے ہیں ۔

گھونگھٹ میں ہی عروش نے ماں کو ڈھونڈنا چاہا۔ وہ تو نظر نہ آٸیں۔ لیکن انکا ہاتھ عروش کے ہاتھ میں آگیا۔ اور ہاتھ دبا کے انہوں نے اسے تسکی دی کہ وہ ہاں بول دے۔

عروش نے خود کو اللہ کے حوالے کیا۔ اورآنکھیں بند کرتے قبول ہے۔ بول دیا۔

تینوں بار یہی الفاظ دہراۓ۔

عروش سے قبول و ایجاب کے بعد اب وہ ارتسام کے پاس آۓ تھے۔ اور ا س سے بھی وہی الفاظ کہے تھے۔ البتہ حق مہر کا زکر نہیں کیا گیا ۔

مبارک ہو کا شور اٹھا تو جاوید چوہدری کھل ہی اٹھا ۔ کہاں وہ تیس لاکھ میں سودا کر رہا تھا۔ کہ ایک دم سے قسمت نے پلٹا کھایا۔ اور تیس کا ساٹھ ہوگیا۔

کیا سوچنے لگے۔۔؟؟ شاہد نے ارتسام کو خاموش پایا تو اس کے پاس چلا آیا۔

نہیں یار۔۔۔ اچانک سے یہ سب۔۔۔ اتنا بڑا فیصلہ ۔۔ پتہ نہیں ابی جان ۔۔۔کیا ری ایکٹ کریں گیں۔۔؟؟

ابی جان تو بعد میں کچھ بولیں گیں۔ یہ جو سرفراز انصر پاگلوں کی طرح نکل کے گیا ہے یہاں سے۔۔۔۔ یہ اپنی بے عزتی برداشت کرے گا کیا۔۔۔؟؟

عمر نے انکا دھیان سرفراز کی جانب گامزن گیا۔

ہمممم۔۔۔۔ وہ بھی چپ نہیں بیٹھے گا۔۔۔ اور نہ ہی اسکا کالو بھاٸ۔۔۔ بلکہ وہ تو پوا خاندان ہی بپھرا ہوا ہے۔۔۔

شاہد نے بھی مزید بات کو گوش گزارا۔

یہاں سے اب نکلنا کیسے ہے۔۔؟؟ ارتسام نے آگے کی پلاننگ پوچھی۔

چوہدری ساٹھ لاکھ کی رقم لے گا تو ہی جانے دے گا۔

شاہد نے سوچتے ہوۓ کہا۔

اب ساٹھ لاکھ کی اتنی بڑی رقم میں جیب میں لیے گھومتا ہوں۔۔ بھاٸ کو فون کیا ہے۔۔۔ وہ اپنے بندے کے ہاتھ ایک گھنٹے تک بھیج دیں گے۔

برے منہ بنا کے کہتا وہ آخر میں دھیرے سے بولا۔

اور بنا سیکیورٹی کے جانا ۔۔ خطرے سے خالی نہیں۔۔

ہمارے ہوتے سیکیورٹی کی کیا ضرورت ہے؟ عمر نے گن نکال کے سامنے کی۔

عمر نے بھی باتوں میں حصہ لیا۔

ارتسام اسکا منہ دیکھتا رہ گیا۔

ایسے نہ دیکھ میری جان۔۔۔۔ عمر خان ہوں۔۔ خان کا بیٹا۔۔۔ یہ کھلونےتو ہر وقت ہی پاس ہوتے ہیں۔۔ بچپن سے کھیلتے آۓ ہیں۔ عمر نے سرسری انداز اپنایا۔

لیکن۔۔۔ میں کوٸ خون خرابہ نہیں چاہتا۔۔ ارتسام نے سنجیدگی سے کہا۔

ہم بھی ایسا کچھ نہیں چاہتے۔۔۔ لیکن۔۔ اپنا دفاع لازمی کرنا جانتے ہیں۔۔۔ بات اپنے تک ہوتی تو ۔۔ پرواہ نہ تھی یار۔۔ لیکن ۔۔ اب بات بھابھی کی ہے۔۔ عزت کی ہے۔۔۔۔اور عزت کے لیے جان دے بھی سکتے ہیں۔ اور لے بھی سکتے ہیں۔

عمر اور شاہد کے ایک ساتھ کہنے پے ارتسام انہیں مسرور ہوتا دیکھنے لگا۔

وہ اتنے عرصے بعد ان سے ملا تھا۔ لیکن۔۔ دوستی نبھانا خوب جانتے تھے۔

تم یہ بتاٶ۔۔۔ کیا ابتسام بھاٸ کو تم نے نکاح کا بتا دیا۔۔؟؟

شاہد کچھ سوچتے ہوۓ بولا۔

نہیں۔۔۔ فی الحال نہیں۔۔۔! جا کے بتاٶں گا۔۔۔! ارتسام نے ماتھا مسلتے کہا۔

ڈونٹ وی سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔۔

شاہد اسے تسلی دیتا باہر کی جانب بڑھا۔

جبکہ ارتسأم آنے والے وقت کا سوچتا رہ گیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

یہ۔۔۔ یہ کیا۔۔۔؟؟ کس سے ۔۔۔نکاح کروایا آپ نے میرا۔۔؟؟

عروش نے ماں کو اپنے پاس آتا دیکھ اکیلے روم میں گھونگٹ الٹ کے تیزی سے پوچھا۔

عروش ۔۔اللہ نے سن لی ہے۔۔تیری۔۔ بہت اچھا اور نیک اور شریف بچہ ہے۔۔ اس نے ۔۔آج ۔۔ میری لاج رکھ لی۔۔۔ اور ۔۔۔اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاٸ۔

زلیخا کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو آگۓ ۔

بیٹا۔۔۔! تم۔۔۔ ان شاء اللہ خوش رہو گی۔۔۔ ایک جلاد سے جان چھوٹی ہے۔۔ اللہ کا شکر ادا کرو۔

وہ بولتے جا ری تھیں کہ چھیمی نے انہیں باہر بلایا ۔ اور وہ اسکا ماتھا چومتے باہر آگٸیں ۔۔

جی ۔۔ چوہدری صاحب۔۔۔؟؟ سر جھکاۓ بہت ادب سے بولیں ۔

بیٹی کو سمجھا دینا۔۔۔ اب جہاں جا رہی ہے۔۔وہیں رہے گی۔۔ ہم سے اب اسکا کوٸ تعلق نہیں ہو گا۔۔۔ ! اور۔۔۔

غراتے ہوٸے ان کے پاس آۓ ۔ تو وہ سہم گٸیں۔

بھول کے بھی۔۔ حق مہر کا کوٸٸ زکر نہ کرنا۔۔ بیٹی سے۔۔۔ ورنہ جان سے ماردوں گا۔۔۔

سخت تنبیہ انداز میں کہتے وہ زلیخا کا خون خشک کرگۓ۔

اب میرا منہ کیا تک رہی ہو۔۔ ؟ جاٶ۔۔ اور جا کے رخصتی کی تیاری کرو۔

ڈپٹ کے کہتے وہ زلیخا کو وہاں سے نکال چکے تھے۔

اچھی خاصی بڑی پارٹی ہاتھ لگی ہے۔۔۔ وارے نیارے ہوگۓ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ یہ انصر چپ نہیں بیٹھے گا۔۔۔ اس کا بھی بندوبست کرنا پڑے گا۔۔

کچھ سوچتے انہو ں نے اپنے مشٹنڈوں کو کال ملاٸ اور انصر پے نظر رکھنے کو کہا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ارحام۔۔! آج تمہاری وجہ سے مجھے کتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جانتے ہو تم۔۔۔۔؟؟؟ صرف تمہاری وجہ سے آج پہلی بار میرا سر جھکا۔۔

جو بھی ہوا۔۔ اچھا نہیں۔۔ہوا۔۔۔

میں تمہیں۔۔ یونی سے اک ہفتےکےلیے ریسٹیکیٹ کر رہا ہوں۔ جبتک تم ریزن نہ دو۔۔۔ یہ کیوں کیا۔۔ مجھے اپنی شکل مت دیکھانا۔۔

وہ چلتا جا رہا تھا۔۔ آفس میں جو بھی پروفیسر فراز نے کہا۔ اس کے بعد سے وہ چپ ہو گیا تھا۔

خاموشی سے یونی سے باہر نکل آیا۔

اور اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔

عمیر بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا۔

بلال بھی ساتھ تھا۔

کیا ہوا۔۔۔؟ کیاکہا پروفیسر نے۔۔؟؟ جلد باز ی میں پوچھا۔

ایک ویک کے لیے ریسٹ پے بھیج دیا ہے۔۔۔ سرسری انداز اپنایا۔

واٹ۔۔۔؟؟ دونوں نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا۔

تم۔۔جانتے ہو۔۔اس ویک کے لاسٹ پے اساٸمنٹ سبمٹ کروانی ہے۔۔ پروفیسر غفار اسی اساٸمنٹ کی بیس پے۔۔ ہمارے گریڈر لگاٸیں گے۔۔۔ اور اگر۔۔ تم نہ ہوۓ ۔۔

تو۔۔۔۔ ایڈمیشن بھی رک سکتا ہے۔۔۔ پیپرز نہیں دینے دیں گے۔۔۔ عمیر نے تفصیلاً کہا۔

جانتا ہوں۔۔ سب۔۔۔ ! خاموشی سےکہتا وہ گاڑی انلاک کرنے لگا۔

نہ۔۔ تمہیں۔۔کوٸ فرق نہیں۔۔ پڑ رہا۔۔۔؟؟ تیرا۔۔ سال ضاٸع ہوجاۓ گا۔۔ ساری محتت پے پانی پھر جاۓ گا۔۔۔

تو کیا کروں۔۔؟؟ جا کے معافی مانگوں۔۔؟؟ یا ہاتھ جوڑوں۔۔؟ أرحام۔کو بھی غصہ آگیا۔

تم۔۔ ۔ پروفیسر کو بتا دیتے۔۔ کہ۔۔۔ یہ سب۔۔ لم۔۔۔۔

ارحام۔کی سخت گھوری پے عمر کے الفاظ منہ میں ہی رہ گۓ۔

بنا کچھ کہے وہ گاڑی میں بیٹھتا جا چکا تھا۔

جبکہ عمر اور بلال وہیں افسردہ کھڑے رہ گۓ تھے۔

I will not tolerant with You lamz habbib shams.. just wait and watch…

Your turn is over.. and now.. its my turn…

گاڑی روڈ سے موڑ کاٹتے وہ اپنے ماٸنڈ میں پلاننگ کرتا رہا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟؟

ابتسام وہ ساری تصاویر اپنے دوست وکیل احد کو دیکھا چکا تھا۔

اس وقت وہ ابتسام کے آفس میں تھے۔ اور ابتسام نے سختی سے منع کیاتھا۔کہ کوٸ آفس روم میں نہ آۓ۔

مجھے خودسمجھ نہیں آرہا۔۔۔ فاریہ ۔یہ سب کیسے کر سکتی ہے۔۔؟؟ اتنی گری ہوٸ حرکت کیسے کر سکتی ہے وہ۔۔؟؟ ابتسام پریشان نظر آیا۔

احد بھی کافی پریشان تھا۔

یہ چاہتی کیا ہے۔۔۔۔؟ کیوں کر رہی ہے یہ سب۔۔۔؟؟ ابتسام نے ماتھا مسلا۔

ظاہری بات ہے۔۔۔ ! وہ تمہیں پانا چاہتی ہے۔۔ کچھ بھی کر کے۔۔ کسی بھی حد تک جا کے۔۔۔ چاہے پھر اس میں اسکی عزت ہی کیوں نہ چلی جاۓ۔۔۔

احد نے اسے صاف لفظوں میں وارن کیا۔

لیکن۔۔۔ میں اسے اس مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ دانت پیستے ابتسام اتنا ہی کہہ پایا۔ کہ اسکا فون بجا۔

کیا ہوا۔۔۔ ؟؟ تم۔کہاں ہو۔۔؟ ارتسام کی کالپک کرتا وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔

ساٹھ لاکھ۔۔۔؟؟ ارتسام۔۔۔ سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟

ابتسام کو بھاٸ کی فکر ہوٸ۔

اچھا۔۔ ٹھیک ہے۔۔ مجتبیٰ کے ہاتھ بھجواتا ہوں۔۔! ایڈریس سینڈکر دو۔۔۔

وہاں۔۔ پہنچتے تو۔۔ گھنٹہ دو گھنٹے لگ جاۓ گے۔۔۔

ابتسام نے کلاٸ پے بندھی گھڑی دیکھتے کہا۔

اوکے۔۔۔ مل جاٸیں گے۔۔۔ اور ۔۔ گھر پہنچتے ہی مجھ سے ملاقات کرو۔

ہدایات دیتا وہ واپس احد کے پاس آیا۔ جبکہ مجتبیٰ کو کال کر کے وہ ابتسام کےبتاۓ ہوۓ اہڈریس پے اسکی مطلوبہ رقم پہنچنے کا کہہ چکا تھا۔

میرا خیال ہے۔۔ تم اس سے مل کے ساری بات کلٸیر کرو۔۔ کیونکہ مجھے نہیں لگتا وہ یہیں تک رہے گی۔۔۔! یہ اسکا پہلا قدم ہے۔۔۔

احد کافی سوچ بچار کے بعد بولا۔ تو ابتسام سوچتا ہوا اثبات میں سر ہلاتا وہاں سے اٹھا۔

احد بھی ساتھ ہو لیا۔

وہ اس معاملے کو طول نہیں دے سکتا تھا۔ جو بعد میں اس کے لیے مسٸلہ پیدا کرے۔

اس لیے احد کو ساتھ لیے وہ فاریہ سے ملنے نکلا تھا۔ اس کے گھر کے باہر پہنچ کے ابتسام نے فون کال کی سے۔ جو ایک بیل کے بعد ہی اس نے اٹھا لی۔

کیسے ہو۔۔۔؟؟ بہت دل سے پوچھا۔

مجھے ابھی اسی وقت تم سے ملنا ہے۔۔ ابتسام نے بنا اسکی بات کا جواب دیے اپنا مدعا بیان کیا۔

موسٹ ویلکم۔۔۔ ڈٸیر۔۔ میرے گھر آجاٶ۔۔ ویسے بگی آج گھر پے کوٸ نہیں۔۔

فاریہ کچھ زیاہ ہی بے باک ہورہی تھی۔

ابتسام نے لب بھینچ کے کال بند کی۔ اور احد کو اشارہ کرتا خود بھی باہر نکلا۔

اگلے لمحے وہ فاریہ کے ڈراٸینگ روم میں موجود اس کا ویٹ کر رہے تھے۔ اور وہ سیڑھیاں اترتی دکھاٸ دی۔

جو لانگ شرٹ اور ٹراٶزر جو کے انتہاٸ فٹنگ میں تھا۔ کھلے بال اور گہرے میک اپ میں وہ ابتسام کی طرف دیکھ کے دلرباٸ سے مسکراٸ۔

کیسے ہو۔۔ ابتسام علی پیرزادہ۔۔ آج اس غریب خانے میں کیسے آنا ہوا۔۔۔؟؟ بہت ادا سے چلتی وہ اسکے پاس آٸ۔

اس کا بے ہودہ حلیہ دیکھ احد نے بھی نظرں چراٸیں ۔ اس وقت آمنہ اس کے ساتھ ہوتی تو یقیناً اسکی پٹاٸ لگا رہی ہوتی۔

زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور صاف صاف بتاٶ۔ یہ سب تصاویر کا کیا مطلب ہے؟

ابتسام نے خونخوار لہجے میں دریافت کیا۔

اوہ۔۔۔ ابھی تک تمہیں سمجھ نہیں آٸ۔۔؟؟ مزاق اڑایا۔

چلو۔میں سمجھاتی ہوں۔۔۔! ایک ادا سے بالوں کی لٹ کو پیچھے کیا اور صوفے پے ٹانگ پے ٹانگ جما کے ابتسام کو گہری نظروں سے دیکھا۔

شادی۔۔۔۔! شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔ تم سے ۔۔ اور ہمیشہ۔۔کے لیے اپنا بنانا چاہتی ہوں۔

صاف لفظوں میں کہتے وہ ابتسام کو سخت طیش دلا گٸ۔

تم۔۔۔ وہ کچھ کہتا کہ احد نے اسکے بازو پے دباٶ ڈال کے کچھ بھی کہنے سے باز رکھا۔

دیکھو۔۔ مس۔۔۔! یہ ناممکن ہے۔۔۔ بہتر ہے اپنے اس اقدام سے باز آجاٶ۔۔۔ ورنہ منہ کی کھانی پڑے گی۔

احد نے سختی سے کہا۔

اچھھھھھا۔۔۔۔۔۔ ! کیا کر لو گے تم۔۔۔؟؟ جبکہ۔۔ میرے پاس یہ ثبوت ہے۔۔ یہ فوٹو گرافس۔۔۔! سیدھا۔۔ زیادتی کے کیس میں اندر جاٶ گے۔۔۔ اور سات سال سے پہلے تو باہر نکل ہی نہیں پاٶ گے۔۔۔اور تمہاری۔۔ عزت کا جو جنازہ نکلے گا۔۔۔وہ پوری دنیا دیکھے گی۔

بہت مطمین انداز میں کہتی وہ ابتسام کے صبرکا پیمانہ لبریز کر چکی تھی۔ جارحانہ انداز میں آگے بڑھا اور اسکی گردن کو دبوچا۔

تم جیسی کو تو۔۔ میں اپنی جوتی کی نوک پے بھی نہ رکھوں۔۔ اور تم چاہتی ہو کہ تمہیں میں اپنے سر کا تاج بنا لوں۔۔ ؟

اس خوش فہمی سے باہر نکل آٶ۔۔ فاریہ اختر۔۔ ورنہ وہ حشر کروں گا۔۔ کہ کی کو منہ دیکھانے لاٸق نہیں رہو گی۔

جھٹکے سے اسکی گردن چھوڑتا وہ پیچھےہٹا۔

یار۔۔۔ ریلیکس۔۔۔ سنبھالو خود لو۔۔۔ ؟

احد نے اسے بمشکل قابو کرتے پیچھے کیا تھا۔

فاریہ گلے پے ہاتھ رکھے کھانسے جا رہی تھی۔

یو۔۔۔۔ با۔۔۔۔سٹر۔۔۔۔ ***** تم نے میرا گلہ دبایا۔۔۔ ! آٸ ول کل یو۔۔۔۔۔! گارڈز۔۔۔۔ گارڈز۔۔۔۔

فاریہ وہیں سے گلا پکڑے چلاٸ۔

تم دیکھنا ۔۔۔اب میں کیا کرتی ہوں۔۔ تمہارے ساتھ۔۔۔۔ ! فاریہ نے احد اور ابتسام کو باہر کی طرف جاتا دیکھا تو پیچھے سے ہانک لگاٸ۔

جبکہ وہ ان سنی کرتے باہر نکلے۔

ہیلو۔۔۔ کامی۔۔۔ مجھے پریس کانفرنس کرنی ہے۔۔۔ بندوبست کرو۔۔ اور ۔۔ سب سے اچھے لاٸر سے بھی ملاٶ ۔۔۔ ایک کیس داٸر کرنا ہے۔۔۔۔ پیرزادوں کے خلاف۔۔۔

زہر خند لہجے میں کہتی وہ اس وقت بکھرے بالوں کے ساتھ برا سا منہ بناۓ کسی چڑیل کا منظر ہی پیش کر رہی تھی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

وہ یونی سے سیدھا دوست کے جم پے گیا تھا۔ اور وہاں کسرت کرتا وہ لمظ کے بارے میں ہی سوچے جا رہا تھا۔

وہ گرہ جو اس کے لیے دل میں لگی تھی۔ شادی ہال۔میں اسے دیکھ وہ کھلتی چلی گٸ تھی۔ اور وہ اسے اچھی لگنے لگی تھی۔ لیکن۔۔ آج کی اسکی اس حرکت نے اس کے دل سے وہ ایک انجانا احساس بھی ختم کر ڈالا تھا۔ اب اسے صرف اور صرف نفرت محسوس ہورہی تھی لمظ سے۔

ویٹ اٹھاتا۔ بازو اوپر نیچے کرتا اپنے مسلز کو دیکھتا وہ پسینہ بہا رہا تھا۔ لیکن غصہ تھا کہ اتر ہی نہیں رہا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

مجتبیٰ ساٹھ لاکھ کی رقم لے کے ارتسام تک پہنچ چکا تھا۔ تمام رقم چوہدری کو دیتے وہ عروش کی رخصتی لے چکا تھا۔

بڑی سی چادر میں گھونگھٹ ڈالے منہ چھپاٸے وہ اپنی ماں کے ہمراہ باہر آٸ تھی۔

زلیخا نے اس کے پرسمیں کچھ پیسے ڈال دٸے تھے اور اچھے سے سمجھا بجھا کے وہ سے باہر لاٸیں تھیں۔

ارتسام تم اور بھابھی اس گاڑی میں آگے آگے چلو۔۔ ہماری گاڑی آپ کی گاڑی کو فالو کرے گی۔

عمر خان نے کان میں گھس کے کہا۔ تو ارتسام نے اثبات میں سر ہلایا۔

گاڑی کا فرنٹ ڈو اوپن کرتا ارتسام عروش کو گاڑی میں بٹھا چکا تھا۔

تم نے۔۔۔ اپنے وعدے کا پاس رکھا۔ اب ہماری باری ہے۔۔ میرے آدمی تمہیں اس گاٶں سے بحفاظت شہر پہنچا دیں گے۔ چوہدری نے اپنا فرض ادا کیا اور تین گاڑیاں ان کے ساتھ روانہ کی۔ جس میں اسلحہ سے لیس آدمی موجود تھے۔

ان سے اجازت لیتا ارتسام گاڑی کی جانب بڑھا۔ اور بنا ایک غلط نگاہ ساتھ بیٹھی اپنی اچانک والی شریک حیات پے ڈالے وہ گاڑی کو اسٹارٹ کر چکا تھا۔

سارے راستے ایک خاموشی تھی۔

ارتسام جلد از جلد اس گاٶں سے نکلنا چاہتا تھا۔ جبکہ رات کے ساۓ گہرے ہوتے چلے جا رہے تھے۔۔ راستہ کچا تھا۔ اور گاڑی چلانے میں بھی مسٸلہ ہو رہا تھا۔ دو بار عروش کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے بچا۔

ساتھ بیٹھے اپنے اچانک ہونے والے مجازی خدا کو گھورناتو اس نے چاہا لیکن گھونگھٹ آڑے آگیا ۔

سیٹ بیلٹ باندھ لیں۔

ارتسام نے دھیمے لہجے میں کہا۔ تو عروش کا جی چاہا اس بندے کا گلہ دبا دے۔ اتنا بھاری بھرکم لہنگا پہنے وہ بمشکل بیٹھی تھی۔ اب سیٹ بیلٹ باندھنا ۔۔۔۔جب کے وہ سیٹ بیلٹ باندھنا جانتی تک نہ تھی۔

ایک جھٹکا اور لگا۔

آٶچ۔۔۔!اب کی بار سر ٹکرا ہی گیا۔ ۔

وہ کافی آگے نکل آیا تھا۔ گاڑی کی سپیڈ سلو کرتا ۔ ساٸیڈپے لگاتا۔ آگے ہو کے ارتسام نے ایک منٹ کی دیر کیے بنا سیٹ بیلٹ باندھی۔

جینٹس پرفیوم کی خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکراٸ تو اسکا دل بہت بری طرح دھڑکا۔

گاڑی دوبارہ سے اسٹارٹ ہوتی اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔

یہ پہلی اچھاٸ تھی۔ جسے عروش نے متاثر کیا تھا۔

اور کچھ حد تک مطمین ہوٸ تھی۔ کہ اسکا مجازی خدا ایک اچھا انسان ہے۔۔

ورنہ تو اندر ہی اندر ڈر ڈر کے اسکا سانس خشک ہو چکا تھا۔ اور وہ بھاگنے کی پلاننگ بھی کر چکی تھی۔ اور ساتھ میں چھپا کے لاٸ ہوٸ چیز کو بیگ میں رکھےوہ مطمیٸن بھی تھی۔

لیکن اب اسکا ارادہ بدل گیاتھا۔ وہ اپنے شوہر کوایک چانس دینا چاہتی تھی۔

جی۔۔ عروش مصطفیٰ چانس دے رہی تھی۔ پیرزادہ ارتسام علی کو۔۔ بنا اسکی سچاٸ جانے۔۔

*****************************

بابا۔۔۔! یہ آپ کیا کررہے ہیں۔۔؟ اتنی رات گۓ۔۔؟؟

ابرش نے دو گھنٹے سے باپ کوایک فاٸل میں سر کھپاتے دیکھا تو رہا نہیں گیا تو پوچھ بیٹھی ۔

بیٹا۔۔۔ آپ جاگ رہی ہو۔۔۔؟؟ الٹا انہوں نے اس سے سوال کر ڈالا۔

آپ جاگ رہے ہیں تو مجھے نیند کیسے آسکتی ہے۔۔؟؟

پاس بیٹھتے پیار اور فکر سے کہا۔

بیٹا۔۔۔ سو جاٶ جا کے۔۔۔ کچھ اکاٶنٹس کا کام ہے۔۔ وہ مکمل کرنا ہے۔ اور کل یہ فاٸل آفس میں جمع کروانی ہے ہر حال میں۔ انہوں نے تفصیلی جواب دیا۔

آپ جانتےہیں نابابا ۔۔! ابھی ابھی آپ بستر سےاٹھے ہیں۔ اور پھر سے یہ ۔۔کام ۔۔! لاٸے میں آپ کی مدد کر دیتی ہوں۔

فاٸل ان کے ہاتھ سے لیتی وہ بنا انکی سنے اکاٶنٹس کا حساب کرنے لگی۔ جو کافی پیچیدہ تھا۔

لیکن بالآخر ایک گھنٹے کی سخت محنت کے بعد وہ فاٸل مکمل کر چکی تھی۔

لو جی۔۔ہو گیا آپ کا کام ۔۔۔اب آپ فوراً سونے کی تیاری کریں ۔

ابرش نے انکا چشمہ اتار کے ساٸیڈ پے رکھا۔ اور بنا انکی ایک بھی سنے انہیں بستر پے لٹا دیا اور خود لاٸیٹ آف کرتی اپنے روم میں آگٸ۔

عشا ٕ کی نماز ادا کرتی وہ اللہ کے حضور گڑگڑ کے اپنے ایمان کی حفاظت مانگ رہی تھی۔

باپ کا جھکا سر واپس اوپر اٹھنے کے لیے دعا کر رہی تھی۔

اور کل۔ایڈوکیٹ علیم سے ملنے کا سوچا تھا۔ جن کے انڈر میں اس نے اپنی پریکٹس شروع کرنی تھی۔

ابرش انہیں پہلے سے جانتی تھی۔ اور ان سے بہت متاثر بھی تھی۔ وہ اسکی بابا کی عمر کے تھے۔ اور بہت سلجھے اور شفقت بھرے انسان تھے۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

رات دیر گۓ وہ گھر لوٹا تھا۔ اس کے دوست گھر تک اسے چھوڑ کے گۓ تھے۔ او سیکیورٹی تو پہلے سے ہی الرٹ تھی۔

ارتسام اپنے دوستوں کا شکریہ ادا کرتا انہیں رخصت کرتا عروش کو لیے اندر داخل ہوا۔

صد شکر کے ابی جان گھر نہیں تھیں اور انہیں آنے میں کافی وقت لگنا تھا۔ ۔ لیکن ابتسام اس کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا.

اسے اندر آتا یکھ ابتسام جو صوفے سے اٹھا تھا۔ ایک دم ٹھٹھک کے رکا۔

بھاٸ۔۔۔؟؟ اَلسَلامُ عَلَيْكُم، ارتسام نے دھیمے لہجے میں کہا۔ جبکہ عروش وہیں اسکے ساتھ کھڑی تھی۔ گھونگھٹ اوڑھے۔

اسے تو کوٸ اندازہ بھی نہ تھا۔ وہ کہاں آگٸ ہے۔۔؟؟

یہ۔۔سب ۔۔کیا۔۔ہے؟؟ أابتسام بہت بری طرح الجھا۔

بھاٸ۔۔ ایک منٹ۔۔۔! ارتسام نے انگلی کے اشارہ سے تھوڑا وقت مانگا۔

بانو بی۔۔۔ بانو بی۔۔۔؟؟ آواز لگاٸ۔ تو وہ فوراً سے آگٸیں۔

بانو بی۔۔ انہیں۔ اوپر روم میں لے جاٸیں۔

بانو بی سے کہتا وہ تھوڑا دھیمے لہجے میں بولا۔

اچھا بیٹا۔۔۔! لیکن۔۔۔ کس روم میں۔۔؟؟ ان کے اچانک پوچھنے پے ارتسام نے سر کھجایا۔

میرے روم میں۔۔ اب کی بار بھی لہجہ دھیما تھا۔

لیکن ایک استحاق تھا۔ جسے عروش اور ابتسام دونوں نے محسوس کیا۔

بانو بی حیران تو بہت ہوٸیں۔ لیکن نوکر تھیں۔ بولنا یا کچھ پوچھنا ان کی کیا حیثیت تھی۔ وہ عروش کو تھامے اوپر کمرے میں لے گٸیں۔ ۔

ان کے جانے کے بعد ارتسام۔۔۔ابتسام بھاٸ کے پاس آیا۔ اور اسے شروع سے آخر تک ساری بات بتا دی۔

ارتسام کی ساری بار سن کے ابتسام چپ سا ہوگیا۔

ارتسام ۔۔! نیت تو تمہاری نیک تھی۔ لیکن۔۔۔ تم۔۔کیسے کسی بھی لڑکی کو ۔۔پیرزادہ منشن کی بہو بنا سکتے ہو۔۔؟؟

ابتسام کی اس بات پے ارتسام چپ ہی ہوگیا۔

بھاٸ۔۔۔؟؟ ہم کیا عرش سے اترے ہیں۔ ؟ یا اللہ نے ہماری تخلیق کچھ خاص مٹی سے کی ہے۔۔؟؟ کس بات پے ہمیں دوسروں پے فوقیت ہے۔۔؟؟ اس بات پے کہ ہم امیر ہیں۔۔ اور سامنے والا غریب۔۔؟؟ ہمارا اونچا خاندان ہے۔ اور سامنے والے کا کوٸ اسٹیٹس نہیں۔۔؟؟

ارتسام بولنے پے آیا تو بولتا چلا گیا۔ ابتسام نے لب بھینچے۔

ارتسام ہم۔۔۔ صبح بات کریں گے۔ ابھی تم جاٶ۔

ابتسام ابھی فاریہ کی وجہ سے بھی کافی پریشان تھا۔ اسلیے نظر اندا کردیا ۔

ارتسام نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا۔ لیکن ابتسام کے چہرے پے پریشانی دیکھ چپ کرتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ ابتسام وہیں صوفے پے بیٹھتا سوچتا چلا گیا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *