Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 16)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

کیایہ سچ ہے۔۔؟ کہ مسٹر ابتسام علی پیرزادہ نےآپ کے ساتھ غلط حرکت کرنے کی کوشش کی ہے۔۔؟؟

ایک اینکر نے فاریہ سے سوال داغا ۔

کوشش۔۔؟؟ اس نے غلط حرکت کی ہے۔ اور اسکا ثبوت یہ۔۔۔ آپ کے سامنے ہے۔۔۔!

تصویریں سامنے ٹیبل پے پھینکیں آنکھوں میں آنسو تھے۔

یہ۔۔تصویریں کس نےکھینچیں۔۔؟؟؟

اگلا سوال داغا گیا۔

کھینچنی کس نے تھیں۔۔؟؟ وہ ہوٹل روم تھا۔۔وہاں۔۔کیمرے نصب ہیں۔۔

فاریہ منہ بنا کے جواب دیا۔

اورکامی کو اشارہ کر کے اپنے پاس بلایا۔

ان کو پیسےنہیں دٸیے تھے کیا۔۔؟؟

سرگوشی کی۔

دٸیے تھے۔۔ کامی کے ماتےپے بل پڑے۔

پھر یہ مجھ سے اسطرح کےسوال کیوں کر رہے ہیں۔۔؟؟

میم۔۔۔ کیا آپ سے انہو ں نے پہلے بھی کبھی کوٸ تعلق بنانے کی کوشش کی۔۔؟؟

اینکر کے اگلے سوال پے آنسو اسکی آنکھو ں میں بن بادل کے برسات کی طرح بہے ۔۔

بہت دفعہ۔۔۔ میرے بابا۔۔ ان کےبزنس پارٹنر ہیں۔۔ انہی کی وجہ سے ابتسام پیرزاہ سے اکثر ملاقات ہوجاتی تھی ۔ وہ ایک انتہاٸ ہوس پرست انسان ہے۔۔ کٸ ایک بار اس نے مجھے حیرس کرنے کی کوشش کی۔۔ لیکن ۔۔ وہ ناکام رہا۔۔۔

اور اس رات۔۔۔ بزنس کے سلسلے میں اس نے بابا کو کال۔کی۔ وہ نہ جا سکے۔ تو اس نے بہانے سے مجھے۔۔ ہوٹل۔میں بلا لیا۔

کہتے آنسو بند توڑ کے باہر نکل رہےتھے۔ سبھیکینظروں میں ترحم تھا۔

اور پھر ۔۔ مجھے۔۔بےبس کر دیا۔۔۔

فاریہ کی آنکھوں میں کامی کے ساتھ گزرے لمحات آن ٹھہرے تو لفظوں میں درد واضح اور حقیقیمحسوس ہونے لگا۔

میں نے بہت منت کی۔۔ بہت ہاتھ جوڑے ۔۔ لیکن۔۔ وہ نشے میں تھا ۔۔ااور ا۔س۔۔ نے۔۔ مجھے۔۔۔ ؟؟؟

وہ اب رو دی۔ ۔۔ الفاظ ساتھ چھوڑ گۓ

ناظرین۔۔ ! جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔۔ کہ ایک اور لڑکی آج اپنی عزت کا ماتم۔کر رہی ہے۔۔ آخر ۔۔ کیوں ہمارے معاشرے میں یہ سب اتنی تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔۔؟؟

عورت کو عزت دو۔۔۔ یہ صرف زبان تک کیوں محدود ہو کے رہ گیا ہے۔۔۔

ہمارے گھر میں بھی ماں بہن بیٹی ہے۔۔ کیوں ہم یہ بھول۔جاتےہیں۔۔ اور گھنوٶنے کام کرتے ہیں۔۔

اور امیرلوگ دولت کی آڑ میں یہ کام کر کے سمجھتےہیں۔ کہ وہ اپنی دولت کے زریعےبچ جاٸیں گے۔۔؟؟

ہرگز نہیں۔۔ اب ۔۔ بس۔۔۔ ! اب صرف سزا۔۔۔

ہم۔۔ کہتے ہیں۔۔ عدالت سے۔۔ درخواست کرتے ہیں۔۔ کہ ابتسام علی پیر زادہ کو اس کے کیے کی سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔۔ تا کہ پھر سے کوٸ۔۔یہ گھنوٶنا کام کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے۔۔۔!!!*****

کتنی بڑی ڈرامے باز ہےیہ عورت۔۔۔!

احد نے ٹی وی بند کرتے غصے سے کہا جبکہ ابتسام خاموی سے اسکی ساری بکواس سنتا رہا اور ابھی بھی چپ تھا۔

ابتسام۔۔۔ کل۔کیس کی سنواٸ ہے۔۔ میرے پاس کوٸ ثبوت نہیں۔۔ جس سے میں تمہیں۔۔ بے گناہ ثابت کر سکوں۔۔ سواۓ اس کے ۔۔۔کہ۔۔ میں کی کو آگے بڑھاتا جاٶں۔۔ ! حالات کشیدہ سے کشیدہ ہوتے جارہےہیں۔۔

احد نے پاس بیٹھے دھیمی آواز میں کہا۔

اسکیبات سن کےبھی ابتسام خاموش رہا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

یہ۔۔۔ یہ۔۔۔۔کیاکہہ رہےہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟ بابا کو۔۔۔ کینسرہے۔؟

آخ۔۔آخری اسٹیج۔۔۔؟؟؟ ابرش دکھ کے مارے کچھ بولہی نہ پاٸ۔

کل وہ ان کے ضروری ٹسٹ کروا کے گھر آگٸ تھی۔ آج انکی رپورٹ لینےآٸ تھی۔ اور اس پے ایک بہت بڑادھماکا ہوا تھا۔

اسکو اپنی سماعت پے یقین نہ آیا۔

تھکے قدموں سے وہ باہر نکلی ۔

بابا کی رات کی ساری باتیں اسکی سماعت میں گردش کرنے لگیں ۔

بیٹا۔۔۔ شادی کرلو۔۔۔ میری آخری خواہش سمجھ کے۔۔۔!

بابا۔۔۔ پلیز ایسے نہ کہیں۔۔ آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں۔۔۔

بس بیٹا۔۔ میرا دل۔پریشان ہے۔۔۔ میں اپنی زندگی میں آپ کو اپنے گھر کا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔

بابا۔۔۔ آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں شادی کر لو۔۔۔جیسے۔۔ رشتوں کی لاٸن لگی ہے۔۔۔۔

ابرش نے مزاق میں بات ختم کرنا چاہی۔

بیٹا۔۔۔ آپ راضی ہوجاٶ۔۔ رشتہ ابھی بھی ہے۔۔۔

بابا۔۔سیدھے ہو کے بیٹھے۔۔

کون۔۔۔؟؟ بارش کا دل۔دھڑکا۔

میرے آفس میں ہے۔۔۔ سفیان۔۔ ہیں۔۔ ناں۔۔ ان کا بھاٸ ۔۔! باہر سے آیا ہے۔۔ اپنی تعلیم مکمل کر کے۔۔ اچھے رشتےکی تلاش میں ہیں۔ اگر آپ ہامی بھرلو۔۔تو میں آج ہی بات کر لیتا ہوں۔ وہ بہت خوش ہوۓ تھے۔

بابا۔۔۔ مجھے۔۔سوچنے کا تھوڑا وقت تو دیں۔

ابرش کا دلنہیں مان رہا تھا یوں اتنی جلدی پھر کسی پے اعتبار کرلینا۔

بیٹا۔۔۔ لےلووقت۔۔۔ لیکن زیادہ وقت نہیں۔۔ دے سکتا۔۔۔

انکی یہ بات اسوقت تو وہ سمجھ نہ پاٸ۔ لیکن اب اسے سمجھ آرہی تھی۔

ہاں۔۔ اسکا مطلب تھا وہ جانتے تھے۔ کہ انہیں کینسر ہے۔۔۔

کیب کرواتی وہ گھر کیجانب رخ کرتی کہ ایڈووکیٹ علیمم کی کال آگٸ۔ تو ڈراٸیور سے کہتے گاڑی رخ ان کے آفس کی طرف موڑ لیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

کیا وہ۔۔۔وہ۔۔۔ میں۔۔ ؟؟ کیاپلان کر کے آٸ ہو اب۔۔؟؟ ارحام نے لمظ کو آڑے ہاتھوں لیا۔

پلان۔۔۔؟؟ لمظ کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔۔

ہاں۔۔ پلان۔۔۔! میرے گھر میں آنے کا کیا مقصد ہے۔۔تمہارا۔۔؟؟ ارحام نے اسکی انسلٹ ہی کرکے رکھ دی۔

اسکیآنکھوں میں پانی اتر آیا۔

میں۔۔ یہ۔۔ اساٸمنٹ۔۔۔؟؟

لمظ نے سر جھکاۓ کہا۔

ارحام نے وہ اساٸمنٹ لے کے اسکے چہرے کے سامنے کرتے ٹکڑے ٹکڑے کر دٸیے۔

ارحام کی نظروں میں صرف نفرت تھی۔

یہ۔۔۔یہ کیاکیا۔۔۔؟؟ پاگل ہو گۓ ہو کیا۔۔۔؟؟

لمظ کو اپنی دن بھر کی محنت خاک میں ملتے دیکھ کرنٹ ہی لگا۔

زیادہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں۔۔ جو تم نے کیا ہے ناں۔۔ اسکے بعد۔۔ تمہیں۔۔ میرے سمنے آنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے تھا۔

اسے بازو سے دبوچے غصے لیکن دھیمے پہجے میں کہا۔

ایک بے وفاآنسو ٹوٹ کے اس کے گال پے گرا۔

چھوڑو۔۔۔ میرا ہاتھ۔۔۔!وہ لب بھینچے دھیرے سے بولی۔

ہاہاہا۔۔۔۔ یہاں۔۔ آنے کے بعد تمہیں کیالگتا ہے۔۔؟ کہ میں تمہارا ہاتھ چھوڑ دوں گا۔۔۔؟؟ یا تمہیں۔۔ چھوڑ دوں گا۔۔جبکہ۔۔ تم۔۔۔ پوری پلاننگ کے ساتھ یہاں آٸ ہو۔۔ اپنے باپ کے ساتھ مل کے تم۔۔۔ مجھے ٹریپ کرنا چاہتی ہوناں۔۔۔۔؟؟؟

ارحام کا لہجہ اسکے الفاظ۔۔۔لمظ کا دل چیر گۓ۔

کیا۔۔۔کیا بکواس کر رہے ہو۔۔؟؟ میرے بابا کو کیوں بیچ میں لا رے ہو۔۔؟نا چاہتے ہوۓ بھی لہجہ سخت ہوگیا۔

وہ توپہلے دن سے ہی بیچ میں ہیں۔۔ انہی کے کہنے پے یہ سب ڈرامہ کرنے آٸ ہو ناں۔۔ یہاں۔۔ بولو۔۔۔ جواب دو۔۔۔۔!ارحام نے اسے بری طرح جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔

چھوڑو۔۔۔ مجھے۔۔۔۔! میری غلطی تھی۔۔ جو تم سے معافی مانگنے چلی آٸ۔۔۔ جبکہ تمہارے ساتھ جو ہو رہا ہے ناں۔۔ تم۔یہی ڈیسرو کرتے ہو۔

وہ بھی غصے سے ہاتھ چھڑاتی پھنکاری۔

مجھے الو سمجھ رکھا ہے۔۔۔؟؟ پہلے زخم دیتی ہو۔۔۔ پھر مرہم رکھنے آتی ہو۔۔۔ اور اپنے بابا کو بتا کے آٸ ہو۔۔۔ یا چھپ کے۔۔۔؟؟

بٹ مجھے لگتا ہے۔۔۔ انہی کے کہنے پے تم یہاں آٸ ہو۔۔۔ امیر لڑکا پھنسانے۔۔۔۔ ہیں ناں۔۔؟؟؟

معصومیت کی ایکٹنگ کی۔

شٹ اپ۔۔۔۔ کیا بولے جا رہے۔۔۔؟؟ کچھ اندازہ بھی ہے تمہیں۔۔۔؟؟؟

لمظ کو اب اپنا یہاں آنا غلط لگا۔

یو نو۔۔۔ تم۔اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمہارے ساتھ ہمدردی کی جاۓ۔۔۔ !

گو ٹو ہیل۔۔۔! غصے سے کہتے وہ واپس پلٹی۔

کہ ارحام نے اسکے الفاظ پے اس سے بھی زیادہ شدید غصے میں آتے اسے زور کا دھکا دیا وہ جو جانے کے لیے مڑی تھی۔ منہ کے بل زمین پے جا گری۔ اور منہ اور ناک پے سخت چوٹ لگی۔

ناک سے خون بہہ نکلا۔ ہاتھ ناک پے رکھے وہ حیرت سے ارحام کو دیکھے گٸ۔ اسے یقین نہ آیا کہ ارحام اسے یوں چوٹ پہنچا سکتا ہے۔

بے اختیار اسکی آنکھیں آنسوٶں سے بھرتی چلی گٸیں۔ سارے الفاظ سارا غصہ یہاں آکے دم توڑ گیا تھا۔ اب کہنے سننے کو کچھ نہ بچا تھا۔

خون کی لکیر بہتی اسکے ہونٹوں تک پہنچی۔

اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔

بمشکل خود کو خود ہی سہار دے کے اٹھتی وہ بنا ایک غلط نظر ارحام پے ڈالے دیورا کا سہارا لیتی باہر کی جانب بڑھنے لگی۔

لیکن۔۔ اسے بہت سخت استمہ کا اٹیک ہوا تھا۔ اکا سانس اکھڑنے لگا۔ اس نے اپنا سینہ پکڑ لیا۔ اور وہیں دیوار کا سہارا لیتی کھڑی سانس بحال کرنے لگی۔ بیگ سے انخیلر نکالنا اسے دشوار لگ رہا تھا۔

اور وہ جو کھڑا حیرت سے یہ سب دیکھ رہ تھا۔ پل میں اسکا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا تھا۔ لمظ کو اس حالت میں دیکھتے وہ ساکت ہوگیا تھا۔

بیگ سے انخیلر نکالتے بیگ اس کے ہاتھ سے چھوٹا اور وہ خود چکرا کے گرنے لگی کہ ارحامنے اسے اپنی بانہوں میں تھام لیا۔

اس کی ناک سے ابھی بھی خون بہہ رہا تھا۔

ارحام سخت گھبرا گیا۔

اسکا ارادہ اسے چوٹ پہنچانے کا ہرگز نہ تھا۔ اس نے تو یونہی غصے میں اسے دھکا دیا تھا ۔ وہ یوں گر جاٸے گی۔۔ اسے کیا پتہ تھا۔۔

ایممم۔۔۔ساری۔۔۔ لمظ۔۔۔ میں نے جان بوجھ۔۔۔کے۔۔۔؟؟ وہ گھبرایا ہوا بولا۔

وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔ ب۔۔بے۔۔۔ بیگ۔۔۔؟؟؟ لمظ کی آنکھیں پانی سے بھرنے لگیں۔

اسے اس وقت صرف سانس کی ضرورت تھی۔

جو وہ لینا چاہتی تھی۔

لمظ۔۔۔؟لمظ۔۔۔؟؟ کیا۔۔ہوا۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔؟؟

بے اختیار وہ لمظ کو سینے سے لگا گیا۔ لیکن اسکا اکھڑتا سانس اسکے ہاتھ پاٶں پھلا رہا تھا۔

آگے بڑھ کے اسکا بیگ چیک کیا تو سامنے ہی اسے انخیلر نظر آگیا۔

جسے دیکھتے وہ مزید شرمندگی کی اتھاہ گہراٸیوں میں ڈوب گیا۔

انخیلر فوراً اسکے منہ کے ساتھ لگایا۔ ۔

لمظ نے گہرا سانس بھرا۔ ایک دو۔۔ تین ۔۔وہ گہرے سانس لیتی اپنا سانس بحال کر رہی تھی۔

ناک سے خون بہنا بند ہوگیا تھا۔ ارحام نے اسکا سر اپنے سینے کے ساتھ لگایا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ سے اسکی کمر سے اسے تھاما ہوا تھا تو دوسرا ہاتھ اسکے منہ کے ساتھ انخیلر لگایا ہوا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

اپنا دکھ پس پشت ڈالتی وہ ایڈوکیٹ علم خان کے آفس میں انٹر ہوٸ۔

سر۔۔۔ آپ نے بلایا۔۔۔؟؟ سب خیریت ہے ناں۔۔ ؟

ہاں۔۔ ہاں۔۔ بالکل۔۔۔ کل میں ایک کیس لڑنے جا رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں۔۔ تم۔مجھے اس میں اسسٹ کرو۔

انہوں نے ایک فاٸل اسکے سامنے رکھی۔

کیسا کیس ہے سر۔۔؟؟

فاٸل ان سے لے ابھی وہ بیٹھی تھی۔ کھولنے لگی کہ ۔۔

ابتسام علی پیرزادہ کا کیس ہے۔۔۔ ریپ کیس میں کل اسے سزا ہوگی۔

بہت نڈر اور بے باک انداز میں وہ بولے۔

ابرش کا تو ہاتھ رکا لیکن ساتھ کانپا بھی۔

ری۔۔۔۔پ۔۔۔۔ وہ یہ الفاظ بھی نہ ہا پا رہی تھی۔

سر۔۔۔۔ ویکٹم کون ہے۔۔۔؟؟ اندر جیسے چھناکے سے ٹوٹا۔

فاریہ اختر۔۔ اختر مینگل کی اکلوتی بیٹی۔

وہ تو میڈیا پے بھی آچکی ہے۔ کس بہت مضبوط بنا اسکے خلاف بچ نہیں پاۓ گا۔

ایڈووکیٹ علیم بہت یقین بھرے لہجے میں بولے۔

ابرش کا انکی ابت بہت ناگوار گزری لیکن۔۔ وہ چپ رہی۔ کیونکہ وہ حقیقت سے نا بلد تھی۔

فاٸل کھولی ۔ او ڈیٹیل پڑھنے لگی ۔

ایک کام کرو۔ تمیہ فاٸل۔پڑھو۔ میں کچھ یر میں آتا ہوں اتنا کہتے وہ آفس سے باہر نکلے۔

ابرش نے گہرا سانس خارج کیا۔

وہ شخص۔۔کیسے۔۔۔کر سکتا ہے۔۔ یہ گندا کام۔۔؟؟ میرا دل نہیں مان رہا۔۔ ضرور کوٸ گڑبڑ ہے۔۔۔ لیکن۔۔ یہ فاٸل سارے ثبوت اسکے خلاف ہیں۔۔؟؟؟ تو وہ۔۔ کیسے بے قصور ہوا۔۔؟؟؟

یہی سوچتے اس نے فاٸل پے نظر دوڑا ٸ۔ کی جیسے جیسے وہ ریڈ کرتی جارہی تھی۔ اسکے اوسان خطا ہورہے تھے۔

٢١ اپریل کی رات۔۔۔یہ واقعہ۔۔۔؟؟ جبکہ۔۔۔ اکیس اپریل کی رات و۔ہ۔۔ ابرش کے گھر میں تھا۔

مطلب صاف تھا وہ فاریہ جھوٹ بول رہی تھی ۔

ابرش کو ساری ابت سمجھ میں آگٸ۔ لیکن یہ سمجھ نہ آیا۔ کہ ابتسام علی پیرزادہ۔۔ نے کیوں نہ بتایا کہ وہ اس رات۔۔ کہاں تھا۔۔؟؟

یعنی۔۔۔ مجھ پے۔۔کوٸ الزام نہ آۓ۔۔۔ وہ یہ چھپا رہا تھا۔۔؟؟ لیکن کیوں۔۔؟؟

ہاں۔۔پڑھ لی فاٸل۔۔۔ ؟؟ عیلم خان اندر داخل ہوتے پوچھا۔

سر۔۔۔ ابتسام علی بے قصور ہے۔

ابرش نے اچانک اٹھتے کہا تو علیم خان کے ماتھےپے بل۔پڑے

کیا مطلب اس بات کا۔۔؟؟

مطلب۔۔۔؟؟ وہ بے قصور ہے سر۔۔۔ آپ یہ کس یہیں ختم کر دیں۔ اپنی بات پے زور دے کے بولی۔

تم۔۔۔ پاگل تو نہیں ہوگٸ۔۔؟؟ یہ کیس کل۔اینڈ ہوجاۓ گا۔ میں یہ کیس ١٠٠ پرسنٹ جیت جاٶں گا۔ تم یہ سب باتیں اپنے دماغ سے نکال دو۔

ہرگز نہیں ۔۔۔سر۔۔ وہ بے قصور ہے۔۔ اور ابرش کسی بے قصور کو کیسے سزا دلوا سکتی ہے۔۔؟؟ نو وے۔۔۔

اچھا۔۔۔ توبنا ثبوت کے عدالت میں کیسے ثابت کرو گی۔۔؟؟

انہو ں نے بھنوٶیں اچکاٸیں۔

ابرش ایک دم چپ ہوگٸ ۔ وہ انہیں کوٸ بھی جواب بغیر وہاں سے نکل آٸ۔۔

کہیں۔ یہ لڑکی میرے لیے کوٸ مسٸلہ نے بنا دے۔۔؟؟ لیکن ۔۔کیا کر لے گی۔۔؟ جب سارے ثبوت ہی اسکے خلاف ہیں۔

وہ دھیرے سے خود ہی سوال کا جواب دیتے مطمیٸن ہوتے دوبارہ فاٸل کھول گٸۓ۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابتسام علی پیرازدہ تم کیا ہو۔۔۔؟؟ وہ روڈ کراس کرتی اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

مجھ پے کوٸ الزام نہ آۓ میری عزت پے کوٸ حرف نہآٸے۔۔۔یہ شخص۔۔۔خود پے کتنا ٹرچر سہہ رہا ہے۔۔؟؟

چاہتے تو۔۔ بتا سکتے تھے۔۔۔ میں گواہی بھی دیتی۔۔۔ لیکن۔۔ ایک چپ رکھی ہے۔۔۔۔؟؟ وہ سوچتی چلی جا رہی تھی۔

ایک فیصلہ لینا تھا اسے۔۔ ہاں۔۔ اسے اس شخص کی مدد کرنی تھی جو اسکی عزت کی حفاظت کر رہا تھا۔

لیکن کیسے۔۔؟؟

وہ وہیں فٹ پاتھ پے ایک بینچ پے بیٹھ گٸ۔ اور آتی جاتی رواں دواں ٹریفک کو دیکھنے لگی ۔

اور پھر اللہ سے مدد مانگنے پے ہی اللہ نے اسے ایک راہ سجھاٸ۔ جسے سمجھنے کے بعد اس پے عمل۔پیراں ہونے کے لیے وہ اٹھی ۔

اے اللہ۔۔۔ میری مدد فرما۔۔ میں کسی بے گناہ کو سزا ہوتے نہیں دیکھ سکتی ۔ ایک عہد کیا ہے خود سے میں نے۔۔ اور آج وہ عہد مجھے نبھانا ہے۔۔۔ اور مجھے۔۔۔ اپنے اس فیصلہ پے عمل دراآمد کرنے کی توفیق عطا فرما۔۔۔

آمین۔

کیب کرواتی اب اسکا رخ ابتسام کے آفس کی جانب تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابی جان کا فون آیا تھا۔ ایک دو دن تک انکی واپسی تھی۔

ارتسام سوچ میں ڈوب گیا۔ اس دن کے بعد سے عروش سے اسکی کوٸ بات نہ ہوٸ تھی۔

ایک اجنبیت کی دیوار تھی جو دونو ںکے بیچ حاٸل ہوگٸ تھی۔

ارتسام خود بھی نہیں چاہتا تھا۔ کہ وہ عروش سے ابی کوٸ بھی کسی قسم کا تعلق بناٸے چاہے پھر وہ دوستی کا ہی کیوں نہ ہو۔۔وہ سب سے پہلے ابی جان کو اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔

لیکن۔۔ عروش اسکی بیوی ہے۔ اس بات سے ایک دن میں لاتعلق نہ ہوا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

ارحام اسکا سانس بحال ہوتے ہی اسے بانہوں میں اٹھاٸے جم کے ساتھ منسلک اپنے روم میں لے آیا۔ اور بستر پے لٹایا۔

فرسٹ ایڈ باکس کھولا۔ اور اس کے ماتھے کے زخم اور ناک سے خون کا صاف کرنے لگا۔

لمظ کی آنکھیں فوراً سے وا ہوٸیں۔

اور جھٹ سے ارحام کا اتھ جھٹکا۔

دور رہو مجھ سے۔۔۔ خبردار جو میرے پاس آکے یہ جھوٹی ہمدردیاں کرنے کی کوشش بھی کیں تو۔۔۔! لمظ اٹھ بیٹھی۔ جبکہ ارحام کو اسکی پوزیشن کا اچھے سے اندازہ تھا۔

لمظ۔۔۔ ایم سوری۔۔۔ وہ جان بوجھ کے نہیں کیا۔۔ غلطی سے جلد بازی میں۔۔۔ ارحام۔کا لہجہ دھیما تھا۔

غلطی۔۔۔ سے۔۔۔ جلد بازی سے۔۔! ارحام۔کالہجہ دھیما تھا۔

پیچھے ہٹو۔۔۔ ! ہمدردی نہیں چاہیے۔۔! ارحام کو پیچھے ہٹاتی وہ غصے سے بستر سے اٹھی۔

لمظ۔۔۔ ! لسن۔۔۔۔! میں مانگ رہا ہوں ناں۔۔ معافی۔۔؟؟؟ ارحام نے لب بھینچے۔

میں بھی تو آٸ تھی ناں۔۔معافی مانگنے۔۔۔ کیاکیا۔۔۔؟؟؟ مجھ پے الزام لگا دیا۔۔۔ ؟؟ میرے بابا کو بھی۔۔۔؟؟

لمظ نے منہ پھیرا۔

اب تک تم شدید غصہ میں تھے۔۔ میری بگڑتی حالت دیکھ کے اب تمہیں مجھ پے رحم آرہا ہوگا۔۔۔ ہیں ناں۔۔؟؟ اس کے پاس آتے نم آنکھوں سے پوچھا۔ ارحام۔نے نفی میں سر ہلایا۔

لمظ نے سر جھٹکا۔

میں نے اتنی محنت سے سارا دن بیٹھ کے تمہاری اساٸمنٹ لکھی۔۔اور تم نے۔۔۔ایک منٹ لگایا اور اسے پھاڑ دیا۔

لمظ دکھ سے بولی۔

سوری۔۔۔! ارحام نے ایک بار پھر سے کہا۔

پلیز۔۔۔ ایک احسان کر دینا مجھ پے۔۔۔ ! لمظ اسکی بات کاٹتی بولی۔

میری بیماری کا کسی سے کچھ نہ کہنا۔۔۔میں کسی کی بھی سمپیتھی حاصل۔نہیں کرنا چاہتی۔۔۔

اب کی بار لہجے التجا تھی انداز میں۔

کہتے ہی وہ جانے کے لیے مڑی۔

لمظ ۔۔۔ رکو۔۔ میں چھوڑ دیتا ہوں۔ ارحام۔پیچھے لپکا۔

نو۔۔۔ مجھے نہیں چاہیے تمہاری ہیلپ۔۔۔! باٸ۔

اتنا کہتی وہ روم سے باہر نکل گٸ۔ او اندازے سے آگے بڑھی ۔ دروازے تک پہنچی کہ اسے ایک لڑکی نظر آٸ۔

لمظ حیرت سے وہیں رک گٸ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *