Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 21)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 21)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
فجر کی نماز ادا کرتی ابرش روم سے باہر نکل آٸ۔اور چلتی ہوٸ باغیچے میں پہنچ گٸ ۔
جبکہ ابتسام اس وقت باتھ روم جا چکا تھا۔ اور ویسے بھی وہ ابتسام کا ابھی سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اسے صبح کی ٹھنڈی اور تازہ ہوا میں واک کرنا پسند تھا۔
ابھی وہ ٹہل رہی تھی کہ اسے بہت خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کی آواز آٸ۔ وہ وہیں میمراٸز ہوتی سننے لگی آنکھیں موندے وہ اس آواز کے سحر میں کھو سی گٸ۔
تھوڑی دیر بعد تلاوت کی آواز آنا بند ہو گٸ۔ تو وہ آگے بڑھتی اس آواز کے تعاقب میں گٸ جہاں سے آواز آرہی تھی۔
وہ ونڈو تھی۔ ابی جان کے روم کی ۔
مطلب وہ تلاوت ابی جان کررہی تھیں۔ کتنی پیاری اور سحر انگیز آواز تھی۔ اس کے دل کو لگی تھی۔
ابھی وہ واپس پلٹنے کا سوچ رہی تھی۔ کہ ابی جان باہر آگٸیں۔ وہ ونڈو سے ابرش کو دیکھ چکی تھیں۔
قرآن پاک لپیٹتے وہ اٹھیں۔ اور باہر۔صحن کا رخ کرتیں۔ وہ بھی باغیچے میں آگٸیں۔
کیسی ہو بیٹا۔۔؟؟ انہوں نے اسے پکارا تو وہ فوراً پلٹی۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ ! آپ کیسی ہیں۔۔؟ ابرش ان کے قریب آگٸ۔ جبکہ اندر ہی اندر ان سے شرمندہ تھی۔
الحَمْدُ ِلله بیٹا۔۔۔! آٶ ۔۔ یہاں بیٹھ کے بات کرتے ہیں۔۔
انہوں نے چیٸرز کی طرف اشارہ کرتے کہا۔ تو وہ انکے ساتھ ہولی۔
مجھے۔ ابتسام نے بتایا۔ کسطرح آپ نے انکی مدد کی۔۔۔ بہت نیک ہو بیٹا۔۔ آپ۔۔۔!
٠
ابی جان نے بات کا آغاز کیا ۔
ابی جان۔۔! وہ بے قصور تھے۔۔ اور ۔۔ مجھ سے نہیں دیکھا گیا کہ بے قصور ہوتے وہ سزا پاٸیں۔ جبکہ۔۔۔ وہ میری وجہ سے خاموش تھے۔۔۔
ابرش نے بھی صفاٸ دینی چاہی۔
ہممم۔۔۔۔ بیٹا۔۔! جو ہوا۔۔ سو ہوا۔۔۔ اب آپ سے میں یہی کہوں گی۔کہ آپ اس رشتےکو دل سے قبول کریں ۔ اور نبھاٸیں بھی ۔
کیونکہ اللہ کو بھی یہی منظور تھا۔
آپ میرے ابتسام کی تھی تو ۔۔کسی اور کے سنگ کیسے رخصت ہوسکتی تھی۔۔۔؟؟
ابیجان نے مسکراتے کہا۔ جبکہ انکی بات کی گہراٸ تک وہ نہ پہنچ سکی۔
آپ نے ڈریس کیوں نہیں چینج کیا؟
ابی جان نے اسکو انہی کپڑوں میں دیکھتے استفسار کیا۔
ابرش کی نظر بے اختیار اپنے ڈریس پے گٸ۔
جی۔۔ وہ۔۔ آج جاٶں گی گھر۔۔۔ تو لے آٶں گی۔
گھر سے کیوں۔۔؟ ابتسام کے ساتھ جا کے شاپنگ کر لیں۔ جو جو چاہیے لے آٸیں۔
نہیں۔۔ ابیجان۔۔۔! بہت سارے کپڑے موجود ہیں گھر میں۔۔ اور۔۔۔! بابا جان سے مل۔بھی لوں گی۔ اورکپڑے بھی لےآٶں گی۔۔۔
دھیمی آواز میں کہا۔
چلیں صحیح۔۔ ہے۔۔جیسے آپ کو صحیح لگے۔
ابی جان نے بحث نہیں کی۔ ابرش کو بابا کی یاد آنے لگی۔
چلیں ۔۔ آپ ریسٹ کریں۔ اور ابتسام جاگے۔۔؟؟
انہوں نے اٹھتے ہوۓ کہا۔
جی۔۔۔جی جاگ گۓ تھے۔۔۔! ابرش سٹپٹا گٸ ابتسام کے زکر پر۔
اب انکے بازو کے درد کا آرام ہے ناں۔۔؟؟
جی۔۔۔۔! سر جھکاۓ ہی کہا۔
خوش رہو۔۔۔! انہو ں نے اسکے سر پے ہاتھ رکھا۔ اور اندر بڑھ گٸیں۔
جبکہ ابرش وہیں بیٹھی رہ گٸ۔ زندگی نے ایک دم پلٹا کھایا تھا۔
اس نے یہ شادی ہمیشہ کے لیے قاٸم رکھنے کے لیے نہیں کی تھی۔ ۔۔ اور ابی جان اس سے کیا کیا امیدیں لگا بیٹھی تھیں۔۔۔؟؟













پلیز رونا بند کرو۔۔ ! کامی نے مسلسل روتی فاریہ کو اپنے ساتھ لگایا۔
مجھے وہ چاہیے۔۔ ہر حال میں ہر قیمت پے۔۔۔! وہ کل سے یونہی رو رہی تھی۔ اور کامی اسکے آنسو دیکھ دیکھ تھک چکا تھا۔
فاریہ۔۔۔! ایک بات بتاٶ۔۔؟؟ ایسا کیاہے اس میں۔؟؟ جو تم۔۔۔ اسکی اتنی دیوانی ہو؟۔
کامی کو آج بہت سخت جیلسی محسوس ہورہی تھی۔
تم۔نہییں۔ جانتے کامی۔۔۔ محبت۔۔ بہت بے رحم ہوتی ہے۔۔ دیوانوں کی طرح چاہتی ہوں اسے میں۔
جبکہ۔۔ اس نے تمہیں بہت بری طرح دھتکار دیا۔۔۔ کامی نے اسے آٸینہ دکھایا۔
تو کیا ہوا۔۔؟؟ مجھے وہ پھر بھی بس۔۔وہی وہ۔۔ چاہیے۔
وہ ضدی انداز میں بولی۔
اور مجھے تم۔۔! ڈیم اٹ ۔۔۔تم۔۔۔ ! سمجھتی کیوں نہیں۔۔؟ محبت کرتا ہوں تم سے۔۔ بے تحاشا۔۔۔ ! اور تم۔۔ میرے سامنے بر بار اس شخص کانام۔لے کے مجھے تکلیف دے رہی ہو۔۔
کامی نے بہت کرب سے گزرتے کہا۔
تو۔۔؟؟ جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا۔
میں نےکہا۔مجھ سے محبت کرو۔۔؟؟ تم۔۔۔؟؟ تم خود ہی میرے سر پے مسلط ہو رہے ہیں۔۔ صرف یہی نہیں۔۔ تم۔۔ نے۔۔ میرے ساتھ بہت غلط کیا۔ ۔
میں نے تمہیں وہ بھی معاف کر دیا۔ اب تم چاہتے ہو۔۔ کہ میں ابتسام کو بھول کے تمہیں اپنا لوں۔۔؟؟
تمہیں۔۔؟ تم۔ہو کیا۔۔؟؟ تمہار ےپاس ہے ہی کیا۔۔؟؟
ایک گھر تک تو ہے نہیں تمہارے پاس۔۔ اور میرے۔۔ خواب دیکھ رہے ہو۔۔۔
فاریہ نے اچھی خاصی اسکی بے عزتی کر دی۔
اسکا چہرہ شدتِ ہتک سے لال ہوگیا۔
جھٹکے سے اسےپکڑتے بیڈ پے پٹختا ایک بار وہ پھر اس پے حاوی ہوتا چلا گیا۔ وہ چیخنتی چلاتی رہ گٸ
لیکن وہ بھی ان سنی کرتا اپنی من مانیاں کرتا چلاگیا۔












صبح صبح دروازے پے ہوتی دستک پے مجیب صاحب نے دروازہ کھولا۔ تو سامنے ہی راجہ قمر موجود تھا۔
جسے دیکھ مجیب صاحب نے لب بھینچے۔
کیوں بھٸ۔۔۔ بھول گۓ۔۔؟؟ میرے پیسے کب دو گے۔۔؟؟
کمر پے ہاتھ باندھے ساتھ میں دو غنڈے لگاۓ وہ مجیب صاحب کو ہراساں کرنے پہنچا تھا۔
کل۔۔کل تک مل جاٸیں گے۔۔۔! کہتے دروازہ بند کرنا چاہا۔ کہ اس نے ہاتھ رکھ دروازہ بند ہونے روک دیا۔
وہ۔۔تیری ۔۔ بیٹی کہاں ہے۔۔؟ بہت۔۔۔ خوبصورت ہے وہ۔۔۔۔! راجہ قمر نے ہونٹوں پے زبان پھیرتے خبیث پن سے کہا۔
اپنی زبان کو لگام دو۔۔ راجہ۔۔۔! میری بیٹی کے بارے میں ایک لفظ غلط بولا۔ تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔
مجیب صاحب کو بھی غصہ آگیا۔
نانان۔۔۔۔۔ اتنا غصہ اچھا نہیں صحت کے لیے۔۔۔
چل ایک کام کر۔۔۔! اپنی بیٹی کی شادی میرے ساتھ کر دے۔۔ میں تیرا قرضہ معاف کر دیتا ہوں۔
مکاری سے کہا۔
بکواس بند کرو۔۔ اور دفع ہو جاٶ یہاں۔۔ سے۔۔! ایک دھکا دیا۔ تو وہ پیچھے لڑکھڑایا۔
اندر جا کے دیکھو۔لڑکی اند رہے تو لے کے آٶ۔ اسے۔۔
راجہ نے مجیب صاحب کو ایک طرف کرتے اندر کی جانب قدم بڑھاۓ۔ وہ روکتے رہ گۓ۔
ان غنڈوں نے پورا گھر چھان مارا۔ لیکن ابرش انہیں نہ ملی۔
اوۓ بڈھے !کہاں چھپایا ہے؟ بتا ۔۔؟؟ راجہ نے مجیب صاحب کا گریبان پکڑا۔ تو وہ مسکرا دیے۔۔۔
تم جیسے دو ٹکے کےبندے۔۔ میںری بیٹی کے بال تک کو چھو نہیں سکتے۔۔۔۔!
چٹاخ۔۔۔۔۔ راجہ نے انہیں زورکا تھپڑ مارا۔
اگر نہیں بتایا تو یا رکھنا۔۔جیسے ہی ملے گی۔۔ وہ حال۔کروں گا۔۔ کہ وہ موت کی دعا کرے گی۔ اپنے لیے۔۔۔
راجہ قمرجیب صاحب کے کان میں غراتے ہوۓ بولا۔
مجیب صاحب نے ہونٹ سے رستہ خون صاف کیا۔ اور آنکھوں میں طنزیہ مسکراہٹ لیے اسے دیکھا۔
وہ بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے۔۔ راجہ۔۔۔۔
ہمت ہے تو جاٶ۔۔۔ صر ف اسکو چھوکے گزرنے والی ہوا کو ہی چھو کے دکھاٶ۔۔ تمہارے ہاتھ دھڑ سے الگ نہ کردیٸے اسکے محافظ نے تو میرا نام بدل۔دینا۔
اتنے یقین سے کہتے وہ راجہ کو اندر سے ڈرا گۓ۔
کہ تبھی ایک زور دار تھپڑ اس راجہ کو پڑا۔
اوروہ زمین پے جا گرا۔
اسکے ساتھ آۓ غنڈےآگے بڑھے کہ انکو بھی دو اور آدمیوں نے اچھا خاصا دھو ڈالا۔
کون۔۔۔کون۔۔ہو تم۔۔۔؟؟؟ راجہ ڈرتے ہوۓ بولا۔
اس شخص نے راجہ کونظر انداز کرتے مجیب صاحب کی جانب مڑتے ان کے چہرے کو رومال سے صاف کیا۔
وہ دیکھتے رہ گٸے۔
تم جیسے گیدڑوں کو۔سبق سکھانے کے لیے۔۔ ماں ہم۔جیسے شیر پیدا کرتی ہے۔۔۔
اس شخص نے ایک۔مان اورغرور سے کہا۔
اس۔۔ اسنے پیسے دینے ہیں۔ میرے۔
اٹھتے ہوۓ راجہ ہکلا کے بولا۔
اس شخص نے اپنے ایک۔بندے کو اشارہ کیا۔
پیسوں سے بھرا بریف کیس کھول کے راجہ کو دکھایا ۔ اور پھر بند کرتا اسکے حوالے کرتے اسے انگلی کے اشارے سے دفع ہونےکو کہا۔
تو منہ پے ہاتھ رکھے بریف کو پکڑے وہاں سے پلٹا۔
میرے آدمی ساتھ جاٸیں گے۔۔تمہارے۔۔ ! گھر کے پیپرز واپس کرنے ہیں۔ سمجھے۔
اس شخص نے غرا کے کہا تو راجہ لب بھینچے نکلتا چلاگیا۔
انکل۔۔ آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔؟؟ اس نے بہت ادب سے پوچھا۔
ہاں۔۔ بیٹا۔۔ تم۔۔۔؟؟ مجیب صاحب الجھے۔
آپ کے داماد جی کا دوست ہوں۔۔ گہرا جگری دوست۔۔
حمزہ علی خان۔۔۔! اس شخص نے مسکرا کے کہا۔ تو مجیب صاحب مسکرا دٸیے۔
کیونکہ وہ جانتے تھے۔ ابتسام اپنا فرض ضرور پورا کرے گا۔ اورانہیں کسی حال۔میں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
ہاں وہ زبان کا تھوڑا کڑوا ضرور۔تھا۔ لیکن۔۔ دل کا اتنا ہی اچھا۔۔ اور یہ تو وہ بچپن سے جانتے تھے۔
اگرنہ جانتے ہوتے تو اپنی بیٹی کے لیے ابتسام کے ساتھ کی خواہش کبھی نہ کرتے۔
حمزہ علی خان آرمی آفیسر تھا ۔ لیکن ان دنوں چھٹی پے آایا ہوا تھا۔ اپنی شادی اٹینڈ کرنے۔ ابتسام نے اسکے ہوے کا فاٸدہ اٹھایا۔ اور اسے یہ کام سونپ دیا۔
جسے کرنا حمزہ نےاپنا فرض سمجھا۔














ناشتے کی ٹیبل پے سبھی موجود تھے۔
بیٹا۔۔ اب آپکی بازو کیسی ہے۔۔؟؟ ابی جان نے بہت پیار سے پوچھا۔
اب بہتر ہے۔۔ ابی جان ۔۔!فکر نہ کریں۔ ابتسام نے انکی کٸیر پے مسکرتے کہا۔
آپ آفس نہیں جاٸیں گے۔۔ اب کچھ دن۔۔۔! ریسٹ کریں
۔
اور ہاں۔۔ طبعیت ٹھیک ہو تو ابرش کوتھوڑی شاپنگ کروا دیں۔ اور ۔۔ اس کے بابا سے بھی ملوا لاٸیں۔
ابیجان نے کہتے ایک نظر ابرش کو دیکھا۔ تو اس نے تشکر۔سے آنکھیں موندیں۔
ابی جان جیسےآپ کہیں۔
ارتسام ! آپ کی شریک حیات کہاں ہیں۔۔؟؟
ابی جان اب ارتسام ے مخاطب ہوٸیں۔
ابی جان ۔۔! وہ ان کی طبعیت تھوڑی خراب ہے تو۔۔۔! ارتسام نے نظریں۔ چراٸیں۔
ابیجان نے اسکا انداز دیکھ کے اندازہ لگا لیا وہ جھوٹ بول رہا ہے۔۔
لیکن فی الحال چپ رہیں۔
ہم سوچ رہے تھے۔ کہ ۔۔ اب جبکہ ۔۔ آپ دونوں نے نکاح کر ہی لیا ہے تو۔۔۔ سب ریلیٹیوز میں اسے اوپن بھی کر دیں۔۔ یعنی۔۔ آپ دونوں کا ایک ساتھ ولیمہ کرنے کا سوچا ہے۔۔ہم نے۔۔! مزید گویا ہوٸیں۔
تو ارتسام اور ابتسام نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ وہیں ابرش کا دل بھی دھڑکا۔
جیسے آپ کومناسب لگے۔۔ ابی جان۔
ابتسام انکی بات سے کب انخراف کر سکتا تھا۔۔۔؟
ابیجان کے چہرے پے مسکان سج گٸ۔
بات اب آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ اور ابرش الجھتی جا رپی تھی۔
ایکسکیوز می۔۔۔! ابرش وہاں سے خاموشی سے اٹھ گٸ۔
ابتسام نے لب بھینچے۔
ارتسام ہاسپٹل کے لیے نکل چکا تھا۔ زیرو پریڈ کی وجہ سے آج ارحام بھی جلدی جا چکا تھا۔
ابی جان کے موباٸیل پے بیپ ہوٸ۔
کال تھی۔ انہوں نے فون کان سے لگایا۔
ٹھیک ہے۔۔ آپ انہیں اٸیر پورٹ سے رسیو کر لیں۔
مقابل۔کی ساری بات سنتے انہوں نے آرڈر لگایا ۔
کس کو رسیوکرنا ہے۔۔؟؟ ابتسام نے اٹھتے پوچھا۔۔
آپ کی عذارا پھپھو۔۔ آپ کے با با کی فرسٹ کزن۔۔! دبٸ سے آرہی ہیں۔ اپنی بیٹی کے ساتھ۔
ابی جان نے اطلاع دی تو ابتسام اثبات میں سر ہلاتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔ ایک دو دفعہ وہ پہلے بھی آچکی تھیں۔ لیکن ابتسام کو وہ کچھ خاص پسند نہ تھیں۔
مورننگ میں ارتسام نے اسکی بینڈیج چینج کر دی ۔تھی۔ اور چیک اپ وغیرہ کرتا وہ میڈیسن یاد سے لینے کی ہدایت کرچکا تھا۔۔
وہ روم میں آیا تو ابرش کے چہرے پے انتہا کی پریشانی تھی۔
ابتسام دھیرے سے چلتااسکے پاس آیا۔
یہ کیا بدتمیزی تھی۔۔۔؟؟ ایسے کیوں اٹھ کے آٸی۔ ٹیبل سے۔۔؟؟ تیکھے انداز سے پوچھا۔
یہ۔۔۔ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔۔؟؟ ابرش نے دانت پیستے کہا۔
جبکہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ نکاح کیوں ہوا۔
پھر ۔۔۔ آپ کیسے اسے سب کے سامنے اوپن کر سکتے ہیں۔۔؟؟
اوپن۔۔؟؟ ابتسام نے تمسخر اڑایا۔
تمہیں کیا لگتا ہے۔۔؟؟ ابتسام علی پیرزادہ کا نکاح ہو۔۔۔ اور وہ چھپا رہ سکتا ہے۔۔؟؟
کہتے رخ پھیرا۔
لیکن۔۔ باقاعدہ اعلان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔؟ ابرش اپنی بات پے قاٸم تھی۔
تو تمہیں۔۔ کیا پرابلم ہے۔۔۔؟؟ ابتسام کے ماتھے پے بل پڑے۔ ابرش کا جی چاہا اپنا سر پیٹ لے۔
مجھے پرابلم ہے۔۔ مسڑ پیرزادہ۔۔۔! کیونکہ میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ کہ یہ نکاح صرف کنٹریکٹ بیس پے ہوا ہے۔۔ او ایسے نکاح کی کوٸ حثیت نہیں ہوتی۔
ہر لظ پے زور دیتی وہ ابتسام کو کچھ پل کے لیے چپ کر اگٸ۔
مجھے۔۔۔ حیثیت بنانی آتی ہے۔۔۔! مسز۔۔۔ اسلیے اس بات کی فکر چھوڑ دیں۔
کہتے واپس پلٹا۔۔
آپ۔۔ چاہتے کیا ہیں۔۔؟؟ مجھےصاف صاف بتا دیں۔
ابرش دسری طرف سےیکدم اسکے سامنے آٸ۔
تمہیں۔۔ ! ہمیشہ کےلیے اپنے۔۔پاس رکھنا چاہتا ہوں۔ بے اختیار الفاظ خودبخود لبوں سے ادا ہوۓ ۔ کہ ابتسام خود بھی نہ سمجھ پایا۔ کہ وہ کیا بول گیا ہے۔۔؟؟
ابرش تو ہکا بکا رہ گٸ۔
آپ۔۔۔ ہوش میں تو ہیں۔۔؟ بمشکل یہی بول پاٸ۔
کیا کوٸ شک ہے۔ بہت آرام سے اسکی طرف پیش قدمی کی۔ اور وہ انہی قدموں پے پیچھے ہوٸ۔
آپ۔۔۔ ؟؟ اسکی بولتی نظروں کے سامنے ابرش کو بولنا مشکل لگ رہا تھا۔ اور وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھتا اسکی طرف بڑھتا جا رہا تھا۔
کہ وہ دیورا کے ساتھ جا لگی۔
دونوں کی نظریں۔ ملیں تو دل نے ایک ساتھ دھڑکنا شروع کیا۔
اسکی کاجل سے بھری کالی آنکھوں کے پاس تل کو چھونے کی خواہش پے وہ اپنے دل کو ڈپٹ رہا تھا۔ لیکن اسکا دل اسے اکسا رہا تھا۔
بے اختیار ہاتھ آگے بڑھا کے اسکی آنکھ کے پاس تل کو چھونا چاہا۔ کہ ابرش نے آنکھیں بند کر لیں۔
ابتسام مسکراتا اسکی یہ معصوم حرکت دیکھتا۔ پیچھےہٹ گیا۔
ابرش نے آنکھیں نیم وا کیں۔ تو ابتسام کو سامنے کھڑے دیکھا۔ اور گہرا سانس لیتی خود کو کمپوز کیا ۔
ایک بات پوچھوں۔۔ تم سے۔۔؟؟ اب کی بار اسکی کالی آنکھوں کو اپنی گرین آٸیز کے حصار میں لیتےکہا۔
میرے ساتھ رشتہ قاٸم رکھنے میں تمہیں کوٸ پرابلم ہے کیا۔۔۔؟
اسکی بات پے ابرش کو اپنا دل بہت زوروں سے دھڑکتا محسںوس ہوا۔ وہ یوں ڈاٸریکٹ پوچھ بیٹھے گا۔ اسے کیا خبر تھی۔
*میں کس امید پے وابسطہ اپنی خواہش کرلوں۔
تیرے مزاج کے موسم کا اعتبار نہیں۔
ابرش نے اسکی آنکھوں میں بمشکل دیکھتے شعر پڑھا۔ تو وہ زیرِ لب مسکرایا۔
ابرش کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں۔ وہ مسکرایا تھا۔۔؟؟
ابرش نے پہلی بار اسے مسکراتے دیکھا تھا۔ اور بلاشبہ وہ مسکراتے بہت خوبصورت لگتا تھا۔
آپ کی۔۔سماٸل۔۔۔؟؟ پیاری۔۔ہے۔۔! بے اختیارگی میں کہے الفاظ نے ابتسام کی مسکراہٹ کو بریک لگایا ۔ اور یکدم چہرے سے غاٸب ہوٸ۔
ابتسام نے رخ پلٹا۔
وہ انجانے میں ہی سہی ابرش کے قریب ہوتا جا رہا تھا۔ جبکہ۔۔۔ اسے ایسا نہیں کرنا تھا۔ وہ صرف مجیب صاحب کےکہنےپے کچھ عرصے کے لیے اسے اپنے ساتھ رکھنے کو تیار ہوا تھا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا۔ کہ انہیں بلڈ کینسر ہے۔ اور وہ بھی آخری اسٹیج پے۔۔۔!
وہ چاہ کے ابھی انکی بات کو رد نہ کر پایا ۔ وہ انکی پریشانی کو حل کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ ابرش نے اسکے لیے وہ کیا تھا جو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔
وہ احسان کا بدلہ چکا رہا تھا۔لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ احسان کا بدلہ اتارتےاتارتے وہ اس سے محبت میں اس حد تک آگے نکل جاۓ گا۔ کہ جب اسے چھوڑنے کا وقت آۓ گا۔ تو اپنی سانسیں بھی توڑ دے گا۔













حمزہ خان وہاں سے مجیب صحب کو تسلی دیتا اب اپنے گھر کی جانب گامزن تھا فون پے وہ ابتسام کو ساری معلومات دے چکا تھا ۔ اور ابتسام نے اسکا شکریہ ادا کیا۔۔
یار۔۔ دوستی میں نو تھینکس نو سوری۔۔۔۔۔! آخر دوستی کی ہے۔۔نبھانی تو ہگے۔۔ حمزہ کے نمبر پے کال آرہی تھی۔ حمزہ نے ابتسام کو اللہ حافظ کہا۔ اور کال اٹینڈ کی۔
کافی دیر آگے خاموشی رہی۔
ہیلو۔۔۔؟؟ اپنی گھمبیر آواز میں وہ مقابل سے ہمکلام ہوا۔
آپ کراچی آگۓ ۔۔ اور بتایا بھی نہیں۔۔؟؟ شکوہ بھری آواز کان سے ٹکراٸ تو ایک دلکش مسکراہٹ اس فوجی کے لبوں کو چھو گٸ۔ اور اسکے گال کے گڑھے کو واضح کر گٸ۔
مل۔گٸ خبر۔۔۔؟؟ تھوڑا شوخ ہوا
آپ بہت برے ہیں۔۔ آپ کو پتہ بھی ہے کوٸ کتنی بے صبری سے آپ کا انتظار کر رہاہے۔اور آپ۔۔۔؟؟ نروٹھے پن سے کہا۔
بس آرہا ہوں۔۔ اپنی جان کے پاس۔۔اسے دلہن کے روپ میں دیکھنے۔۔۔! کہتے وہ آگے کی طرف بڑھا۔
اپنی جان کہنے پے حلیمہ کے چہرے پے گلال سے کھل گۓ۔
دھوپ کی تمازت سے اسکے گال۔دھکنے لگے تھے۔ وہ اسے یہ بھی نہ بتا پاٸ کہ وہ اسکے پاس ہی ہے۔۔
اسکی داٸیں طرف کھڑی۔ وہ اپنے بھاٸ او بھابھی کے ساتھ آٸ تھی شاپنگ کرنے۔ وہ اندر شاپ پے تھے۔ کہ وہ دل گھبرنے پے باہر نکلی تھی۔ اور اسی لمحے اسکی نظر حمزہ پے پڑی۔ اور فوراً اسے کال۔ملاٸ۔
خان۔۔؟ لہجے میں محبت کوٹ کوٹ کے بھری تھی۔۔
جی۔۔جانِ خان۔؟ أسی کے انداز میں جواب دیتا وہ اسکی جانب پلٹا۔ تو دیکھتا رہ گیا۔
وہ ناک کی سیدھ میں ہی کھڑی تھی۔ ایک طرف دل اس دیکھ کے بے اختیار ہوا تھا تو وہیں ۔۔ دوسری طرف ایک گاڑ کو اسکی طرف بڑھتے دیکھ اسکا دل بری طح لرزا تھا۔
حلیمہ۔۔۔ موو۔۔۔۔۔! وہ موباٸیل پے ہی چلایا۔ حلیمہ کو سمجھ نہ آیا۔ کہ حمزہ کو اچانک ہوا کیا۔۔؟؟
آٸ برو اٹھاتی وہ اس سے اشارے سے پوچھنے لگی۔
وہ بھاری پڑتے قدوں سے اسکی جانب بھاگا۔ لیکن۔۔ جتنا بھاگنا چاہ رہا تھا۔۔ قدم اتنے ہی واپس پیچھے مڑ رہے تھے۔ حلیمہ اسے اپنی طرف بھاگتا دیکھ حیران تھی۔
کہ ایک دم سے گاڑی اس سے ٹکراٸ اور وہ اچھلتی ہوٸ دور جا گری۔ موباٸیل ہاتھ سے چھوٹ چکا تھا۔
حمزہ کے قدم ڈگمگاۓ۔
حلیمہ۔۔۔۔۔! ایک دل خراش چینخ پورے اٸیریا میں پھیل گٸ تھی۔
حلیمہ کی بد ہقتی آنکھوں نے آخری چہرہ اپنے خان کا دیکھا۔













پھوپھو عزراآچکی تھیں۔ جبکہ ابتسام خود کو لاٸبریری روم۔میں بند کر چکا تھا۔ اسے اپنے احساسات خود بھی سمجھ نہیں آرہے تھے۔ اور دوسری طرف ابرش بابا کے پاس جانے کے لیے تڑپ رہی تھی۔
اکیلے جانے کی اجازت نہ تھی۔ اور ابتسام ایسا غاٸب ہوا تھا ۔ کہ شام ہوگٸ۔ وہ دوبارہ اسے نظر نہ آیا ۔
اب دل مضبوط کرتی وہ روم سے باہرنکلی۔ تو سامنے دو نٸ ہستیوں کو دیکھ ٹھٹھکی۔
آٶ۔۔۔ ابرش۔۔! یہ ابتسام کی پھوپھو ہیں۔۔ اور یہ علیشا۔۔۔ ان کی بیٹی۔۔
حد درجے جدید ماڈرن ڈریسز میں انکا عریاں جسم۔۔۔ ایک لمحے کو ابرش کی نظریں بھی شرم سے جھک گٸیں۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم! نظریں جھکاۓ سلام کیا۔۔
ابیاجان !
She is ibtisaam ‘s wife?
علیشا نے انگلی کے اشارے سے پوچھا تو ابیجان نے ابرش کو دیکھتےا ثبات میں سر ہلایا۔
اس لڑکی نے ابرش کو سر سے پاٶں تک دیکھا۔
اے۔۔لڑکی۔۔۔ تمہاری ڈریسنگ کیسی ہے۔۔؟؟ تمہارے پاس کوٸ ڈھنگ کے کپڑے نہیں۔۔؟
ابیا جان۔! ابتسام کا ٹیسٹ کتنا خراب ہوگیا ہے۔۔۔۔!
اپنے لفظوں سے وہ ابرش کے دل کو اچھا خاصا تکلیف پہنچا گٸ تھی۔
اسکی ٠کان لو تک سرخ ہوگٸ تھی۔
ایکسکوز می۔۔۔ ماٸنڈ یور لینگویج۔۔۔!
میرا ڈریس بھلے ویسٹرن نہ ہو۔۔لیکن ۔۔ اس میں ایک خوبی ضرور ہے۔۔ یہ جسم کو ڈھکنے کے کام آتا ہے۔۔ نا کہ پہننے کے بعد بھی جسم ننگا نظر آۓ ۔۔
ایسی ڈریسنگ۔۔ ابرش۔۔ مجیب شمس ۔۔ مر کے بھی نہ کرے۔
دوبدو جواب دیتی وہ وہاں رکی نہیں۔ ایک قہر آلود نظرڈالتی وہاں سے واپس اپنے روم میں آگٸ
جبکہ اسی لمحے باہر آتے ابتسام نے دونوں کی بات سنی تھی۔
ہاٶ۔۔۔ ڈٸیر شی۔۔۔؟
دیکھا ابیاجان ! آپ نے۔۔۔؟؟ کتنی لمبی زبان ہے اسکی۔۔۔؟؟ علیشا جل بھن گٸ۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم پھوپھو۔۔۔! ابتسام کے آنے پے سب اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔
وَعَلَيْكُم السَّلَام! کیسے ہو بیٹا۔۔۔؟؟ ویسے بیوی بڑی چن کے لاٸے ہو۔۔کافی تیکھی زبان ہے۔۔۔! پھوپھو عزرا نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔
اسکی زبان کے جوہرآ پ نے ابھی دیکھے کہاں ہیں؟ رہیں یہاں۔۔ آہستہ آہستہ جان جاٸیں گیں ۔۔!
ان سے کہتے وہ تیکھے چتونوں سے اپنے روم۔کی جانب بڑھا۔
