Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 30)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

کہاں تھیں۔۔۔آپ۔۔۔؟؟؟ ابتسام نےابرش کو روم میں آتےدیکھا تو خود پے ضبط کرتا وہ پوچھنےلگا۔

ہاسپٹل۔۔۔۔! آج بابا کی رپورٹس۔۔؟؟

آپ نے تو میرے ساتھ جانا تھا ناں؟ پھر۔۔۔۔؟؟ ماتھے پے تیوری چڑھی۔

ارحام کے ساتھ چلی گٸ تھی۔۔۔ ابی جان سے اجازت لی تھی۔

ابرش نے بھی سنجیدگی سے جواب دیا۔

اچھا۔۔۔ آپ ابی جان کی اجازت سے گٸیں۔ لیکن ۔۔ مجھے بتانا بیضروتی نہ سمجھا آپ نے۔۔؟؟ ابتسام اس کے پاس چلتا آیا۔

بتانا تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔ جلدی میں تھی تو۔۔۔؟؟ یاد نہیں رہا۔۔۔ ابر نے اسکے تیوت دیکھتے دھینے انداز میں کہا۔

یاد رہا نہیں۔ یا ضروی نہیں سمجھا۔۔؟؟

ابتسام اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہنے لگا۔

اب ایسی بھی کوٸ بات نہیں۔۔ اتنا ایشو کری ایٹ کیا جاۓ۔۔۔

ابر نے منہ بناتےکہا۔ جبکہ اندر ہی اندر وہ جانتی تھی۔کہ اس نے غلط کیا ہے۔

ایشو۔۔۔۔؟ صحیح کہا ۔۔۔ میں ہی برا ہوں۔ میں ہی ایشو بناتا ہوں۔۔

ابتسام نے غصے سے منہ پھیر لیا۔ ابی جان کی باتیں اسے دل پے لگیں تھیں۔ جن کا اسے دکھ تھا۔

ابتسام۔۔! آپ غلط نہیں۔۔ آپ ۔۔انتہا پسند ہیں۔۔۔ ہر چیز میں انتہا پسندی اچھی نہیں ہوتی۔

بس۔۔۔۔! ہاتھ اٹھاتے غصے سے بلا۔ کہ آواز تھوڑی اونچی ہوگٸ۔ ابرش یکدم سہم کے پیچھے ہوٸ۔

مجھے اپنی زات پے کسی کا سوالیہ نشان پسند نہیں ابرش۔۔ بہتر ہوگا۔۔ میری زات پے اپنی راۓ اپنے پاس ہی محفوظ رکھو۔

سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے وہ روم سے جا چکا تھا۔

ابرش کیآنکھ سے ایک آنسو بہہ نکلا۔

بھلا ایسے کوٸ بات کرتا ہے۔۔؟؟ بیوی ہوں۔۔ کوٸ غلام نہیں۔۔؟؟

منہ بناتی وہ وہیں بیٹھی۔

ایسے کریں گے تو میں نے ان سے بات ہی نہیں کرنی۔ ۔

وہ سخت دانت پیستی وہیں بیٹھی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ایسی بھی کیا بات ہوٸ جو خوف کو اس حل۔میں پہنچا لیا۔۔؟ ارتسام شاو لے کے اسکے پاس بیٹھتا بولا۔

عروش نے چہرہ موڑ کے اسے بہت میٹھی نگاہوں سے دیکھا۔

یہ شخص اسے دل و جان سے پیارا ہوگیا تھا۔ دل کے بہت ہی قریب ہوگیا تھا۔

آپ جب اگنور کرتے ہیں۔۔ تو برداشت نہیں ہوتا۔۔۔

ارتسام کا ہاتھ تھامے وہ اتنے جذب کے عالم میں بولی ۔ کہ ارتسام اندر تک سرشار ہوگیا۔

اور اسکے گرد بازو پھیلاۓ۔

کبھی نہیں کر سکتا اگنور۔۔۔ ! یہ جو دل ہے ناں۔۔ اس میں بستی ہو آپ۔۔۔! سانسوں میں دھڑکتی ہو آپ۔۔۔

بھلا کیسے اگنور کر سکتا ہوں۔ ؟

ہاں۔۔ بس۔۔۔ پیشہ ایسا ہے ۔۔کہ۔۔ دن دیکھو نہ رات دیکھو۔ بس۔۔ کام کام اور کام ۔۔۔ ڈاکٹر کا پیشہ آسان کام نہیں۔۔ میری جان۔۔۔ اور۔۔۔ ویسے بھی۔۔۔ ایسا۔۔ صرف آج نہیں۔۔ آگے بھی ہوسکتا ہے۔۔۔تو کیا آپ پھر سے بیمار پڑجاٶ گی۔۔؟؟

بہت محبت سے پوچھا۔

آپ ڈاکٹر ہیں ناں۔۔؟؟ اسکے کاندھے پے سر رکھے بہت حسرت سے پوچھا۔

ارتسام کو اسکی آواز میں ایک یاسیت سی بھری نظر آٸ۔

ایک حل ہے۔۔۔ اس سب کا۔۔۔! عروش کی آنکھیں چمکیں۔

وہ کیا۔۔؟ ارتسام اسکے چہرے پے پھیلے دھنک کے رنگ دیکھے گیا۔

مجھے بھی لیڈی ڈاکٹر بننا ہے۔۔۔ ! بچوں کی طرح کہا۔

کیا۔۔۔؟؟ ارتسام حیرت زدہ ہوا۔

حیران نہ ہوں۔۔ میڈیکل میں ٹاپ کیا تھا میں نے۔۔۔ اور بہت شوق ہے مجھے ڈاکٹر بننے کا۔۔۔ لیکن۔۔بابا نے۔۔ نہیں پڑھنے دیا آگے۔۔۔! منہ بناتے پھر سے ارتسام کے کاندھے پے سر ٹکایا۔

اچھھھھھا۔۔۔۔ تو ۔۔ پھر ایک کام کرتےہیں۔ میں آگے ایڈمیشن کروا دیتا ہوں۔۔ سپشلاٸزیشن کرلو۔۔۔

ڈاکومنٹس کہاں ہیں۔۔؟؟ ارتسام نے فوراً پلاننگ کی۔

وہ۔۔ وہ تو۔۔امی۔۔۔ کے گھر۔۔۔! کہتے ہوۓ تھوڑا ہچکچاٸ۔

ہممممم۔۔ چل۔۔کل چلیں گے لینے۔۔ اور ساتھ اپنی امی سے بی مل لینا۔۔۔

سچ میں۔۔ شام۔۔۔؟ چہکتے ہوۓ ارتسام کے ہاتھ تھامے۔

ارتسام اسکے انداز پے مسکرا دیا۔

ہاں۔۔ بھٸ۔۔ ! کل چلیں گے۔ اور یہ شام۔۔۔؟؟

ارتسام نے حیرت سے دیکھا۔

آپ میرے شام۔۔۔ ! شام۔۔۔ ہم۔۔۔ امی کے لیے۔۔۔ گفٹ لے کے جاٸیں گے۔۔۔ ! آگے کی پلاننگ کرتی وہ ارتسام کو بالکل بچی ہی لگ رہی تھی.

اسکی پلاننگ سنتے سنتے ارتسام کے فلمثس ہلچل سی ہوٸ۔ اور اسکی کمر پے اپنی انگلیاں پھیرتا عروش کی بولتی دھیرے دھیرے بند کرتا چلا گٕیا۔

پلکیں جھپک کے ارتسم کو دیکھا۔ آنکھو ں میں خماری لیے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ عروش بری طرح سٹپٹاٸ۔

وہ۔۔۔ وہ۔۔ مجھے۔۔ باتھ۔۔۔ رررو۔۔۔۔۔م۔۔۔۔ جا۔۔۔۔۔؟؟

انگلیو ں کا لمس دھیرے دھیرے اپنی حدیں پار کر رہا تھا۔ اور عروش کی دھڑکنو ںمیں ارتعاش برپا کر دیا۔

شی۔۔۔۔۔۔۔ ! اسکے چہرے کے قریب چہرہ لاتا۔۔ وہ اسکی چھوٹی سی ناک کے ساتھ ناک رب کر گیا۔

عروش نے اپنی سانسیں ہی روک لیں۔

کیا ہوا۔۔؟؟ ارتسام نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔ تو عروچ نے نفی میں سر ہلایا۔

آپ۔۔۔ تھک گۓ ہوں۔۔ گے۔۔۔ ناں۔۔ آپ کو نیند آٸ ہوگی۔۔۔ !

عروش نے اپنا دامن بچانا چاہا۔

ہاں تھک تو گیا ہوں۔۔ لیکن۔۔۔ یہ تھکن۔۔۔ ایسے نہیں دور ہوگی۔۔۔ اسکا علاج ۔۔ صرف میں عر کے پاس ہے۔۔۔!

گھمبیر لہجے میں کہتے وہ عروش کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گیا۔ دل ایک سو بیں کی رفتا سے دھڑک رہا تھا۔ ایسالگتا تھا۔ بس ابھی باہر آجاۓ گا۔

آپ۔۔۔؟؟

عروش کی بات بیچ میں ہی ہ گٸ۔ جب ارتسام اسکے ہونٹوں پے جھکا۔ اور وہ اپنی آنکھیں بند کر گٸ۔

فسوں خیز لمحات میں وہ اپنے دل کی اتھل پتھ ہوتی دھڑکنوں کو سنبھال رہی تھی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

تمہارا دماغ درست ہے۔۔؟ کیا کارنامے سر انجام دیے جا رہی ہو۔۔؟؟ جانتی بھی ہو۔۔کتنی بفنامی ہو رہی ہے ہماری۔۔؟؟

فاریہ کے بابا کا غصہ سے برا حال تھا۔ یو ٹیوب پے آج اسکی ویڈیو ان کے دوست کے ذریعے پہنچ چکی تھی۔ اور انہوں نے فاریہ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

بس کر دیں۔۔ بابا۔۔۔ میں ابتسام سے محبت کرتی ہوں اور وہ بھی۔۔ بس۔۔ حالات ایسے آگۓ۔۔۔ کہ وہ۔۔؟؟

چٹاخ۔۔۔! طند کرو اپنی یہ بکواس۔ میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔۔ ابتسام کو۔۔۔وہ ایسا انسان بالکل نہیں۔ میں نے پہلے بی تم پے بھروسہ کیا ۔ تم عدالت تک پہنچ گٸ۔ میرے ساتھ کی ساری ڈیلز صرف تمہاری وجہ سے۔۔ سب۔۔ ختم کر دیں ابتسام نے۔۔ ! کروڑوں کا نقصان سہا میں نے۔۔۔ اور پھر بھی تمہیں سکون نہیں۔

اب اور کیا کرنا چاہتی ہو۔۔؟؟

اختر مینگل کو بے انتہا غصہ تھا۔

بابا۔۔۔ آپ مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتے۔۔۔ بیہی ہوں۔ میں آپ کی۔ فاریہ پاگلوں کی طرح بپھر ہی گٸ۔

بیٹی۔۔؟؟ ایسی ہوتی ہیں بیٹیاں۔۔؟؟ کاش ایسی بیٹی سے میں بے اولاد ہی رہتا۔۔

فاریہ۔۔ میں آخری بار کہہ رہا ہوں۔ اپنی حرکتوں سے باز آجاٶ۔۔ ورنہ۔۔۔؟؟

اختر صاحب نے وان کرنے والاے انداز میں کہا۔

وتنہ۔۔؟؟ تنہ کیا کریں گے آپ۔۔۔؟؟ ماریں گے مجھے۔۔۔؟ جارحانہ انداز میں آگے بڑھی۔

اختر صاحب نے لب بھینچے اوت دل بڑا کرتے فاریہ کا بازو تھاما او اسے بازو سے گھسیٹتے گھر سے باہر نکال کرتے دروازہ اسکے منہ پے بندکر دیا ۔

بابا۔۔۔۔؟ بابا۔۔۔؟؟ دروازہ کھولیں۔۔۔ پلیز۔۔۔! یہ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟ آپ ۔۔؟؟ بیٹی ہوں میں آپ کی۔ دروازہ کھولیں۔۔

وہ دروازہ پیٹتی رہی۔ جبکہ اختر صاحب خود کو کوسے ہے ۔ نجانے کہاں انکی تربیت میں کمی رہ گٸ تھی۔۔؟؟

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

پہلے ابتسام گیا پھر۔۔ یہاں آۓ تو پتہ چلا۔۔ ارتسام بگی ہاتھ سے گیا۔ رہ گیا ارحام۔۔ اب وہ بھی ہاتھ سے جانے والا ہے۔۔ آپ یوں ہی چپ بیٹیھیں رہیں گیں۔ یا کچھ کریں گیں۔۔؟؟

علیشا نے قدرے چلا کے کہا۔

کوٸ موقع ملے بھی تو ناں۔۔؟؟ پھعپھو عذرا غصے سے پھنکاریں۔

بس آپ موقع تلاش کرتی رہیں۔ وہ ابرش۔۔۔ موقع دیکھ چوکا لگا دے گی۔ علیشا نفرت سے بولی۔

اتنا آسان نہیں۔۔ جو ہونا تھا میری غیر حاضری میں وہ ہوگیا۔ اب وہی ہوگا۔ جو میں چاہوں گی۔ تم نے سنا نہیں۔۔؟؟ ابتسام نے کیا کہا۔۔؟؟

پھوپھو کی آنکھیں چمکیں۔

ہاں۔۔ کہا تو ہے۔۔۔ لیکن۔۔ ابیجان اپنی ہی کر کے رہیں گیں۔ اور آپ کا اس ۔۔۔پیزاہ منشن میں راج کرنے کا خواب خاب ہی رہ جاۓ گا۔۔۔

علیشا نے سرد آہ بھری۔

منہ اچھا نہیں تو بات تو اچھی کر لو۔۔۔۔

پھوپھو نے طنزیہ کہا۔ تو رلیشا نے ناک سے مکھی اڑاٸ۔

جبکہ پھوپھو اب اپنے شاطر دماغ میں پلاننگ کرنے میں مصورف تھیں۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ہاۓ بہن بہت افسوس ہوا۔۔۔ بندہ مر جاۓ تو صبر آجاتا ہے۔۔۔ لیکن۔۔ جیتے جی غاٸب ہوجاۓ۔۔۔ تو پیچھے الے جیتے جی مر جاتے ہیں۔۔

افسوس کے لیے آٸ عورت اچھے خاصے زخم ادھیڑ رہی تھی۔

میرا بیٹا۔۔ زندہ ہے۔۔۔ مرا نہیں۔۔ سنا آپ نے۔

شاہان کی اماں نے چلا کے کہا جبکہ بہنیں بس منہ جھکاۓ رہ گٸیں۔

اچھا بہن۔۔ ہم چلتے ہیں۔ محلے والی گھبرا کے اٹھی۔ اور ساتھ آٸ ہوٸ عورت بھی اٹھ گٸ۔

امی۔۔۔ کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟ کیوں ایسے کرتی ہیں۔؟

بڑی بیٹی نے ماں کو سمجایا ۔

چپ کر جاٶ۔۔۔ ! اور جاٶ یہاں سے۔۔ اکیلا چھوڑ دو مجھے۔۔۔! سب۔۔۔ پاگل ہیں۔۔ میرا شاہان۔۔ زندہ ہے۔۔۔ وہ مر نہیں سکتا۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔۔! وہ ہزیانی اانداز میں چلاٸیں۔ تو دونوں بیٹیاں چپ ہوکے رہ گٸیں۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

آج اتنے دن گزر جانے کے بعد بھی شاہان کو ہوش نہ آیا تھا۔ پراٸیویٹ ہاسپٹل کے پراٸیویٹ روم میں وہ آکسیجن ماسک میں اب بھی بے حس و حرکت پڑا تھا۔

ڈاکٹرز اسکے ہوش میں آنے کا ویٹ کر رہے تھے۔ اسے دماغ پے گہری چوٹ لگی تھی۔ جس سے وہ گہری نیند میں چلا گیا تھا۔ اسے کب ہوش آۓ کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔ اور یہ بھی جب اسے ہوش آۓ تو اسکے دماغ پے لگی چوٹ نے اس پے کیا اثر ڈالا تھا۔ ہو سکتا تھا۔ وہ پاگل ہوجاۓ یا۔۔۔؟ یاداشت چلی جاۓ۔۔؟؟

لیکن یہ سب کہنا قبل از وقت تھا۔

جبکہ ابتسام تو دونوں صورتیں ہی نہیں چاہتا تھا۔ وہ اسے اپنے ہوش و حواس میں دیکھنا چاہتا تھا۔ تا کہ خود اسے سزا دے سکے۔

اسکے آدمی شاہان پے چوبیس گھنٹے نظر رکھے ہوۓ تھے۔ اور ہر وقت کی سیکیورٹی تھی۔

پھر بھی ابتسام خود بھی دن یں ایک چکر شاہان کی طرف ضرور لگاتا تھا۔

آج بھی وہ وہیں سے واپس لوٹ رہا تھا۔ کہ شام ہوگٸ۔ سیکیورٹی گارڈز اس کے ساتھ ہی تھے۔ کہ اچانک ایک گاڑی نے اسکی گاڑی پے ہٹ کیا۔

یہ کیا ہے۔۔۔؟ ابتسام نے اندھیرے میں گاڑی کو پہچاننے کی کوشش کی۔

سر۔۔ کسی نے حملہ کیا ہے۔۔۔! ڈراٸیور نے گاڑی کی سپیڈ تیز کی۔ جبکہ ابتسام نے اپنی گاڑی سے خفیہ جگہ پے رکھی گن کو نکالا۔ اور اسے چیک کیا۔ جبکہ اسکے سیکیورٹی گارڈز اسے پروٹیکٹ کر رہے تھے۔ اور دشمن کی گاڑی پے حملہ آور بھی ہوچکے تھے۔

تبھی دو گاڑیاں اور ابتسام کی گاڑی کو فالو کرنے لگیں۔ ابتسام کے گارڈز کی ایک گاڑی بری طرح برباد ہو چکی تھی۔ حملہ بہت سوچ سمجھ کے ہوا تھا۔ آگے پیچھے کی دونوں گاڑیاں اس وقت آنکھوں سے اوجھل تھیں۔

سر۔۔۔! وہ پاور فل ہیں۔ ہم انکا مقابلہ نہیں کر سکتے۔۔

ڈراٸیور نے گاڑی کی سپیڈ بڑھاتے کہا۔ ۔ جبکہ ابتسام کو بھی کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔ کہ ایک دم سے سیکیورٹی گارڈز کیسے غاٸب ہوسکتے تھے؟

گاڑی روکو۔۔۔۔! ابتسام نے غراتے ہوۓ ڈراٸیور سے کہا تو ڈراٸیور سٹپٹا گیا۔

سر۔۔۔ آپ کی جان کو خطرہ ہے۔۔ گاڑی فل سپیڈ پے چھوڑے ڈراٸیور نے بنا دیکھے ابتسام سے کہا۔

اسی لمحے ابتسام نے گن ڈراٸیور کی جانب کی۔

اگر ایک منٹ کے اندر گاڑی نہ روکی تو سیدھا اوپر پہنچا دوں گا۔

ابتسام کو ڈراٸیور پے بھی شک ہوا۔ کیونکہ جس راستے پے اس نے گاڑی ڈالی تھی۔ وہ انجانا راستہ تھا۔

ڈراٸیور خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا۔

ابتسام نے گولی چلاٸ جو اسکی بازو کے پار ہوٸ وہ درد سے بلبلا اٹھا۔

روکو گاڑی۔ ورنہ اگلی گولی تمہارے سر کے اندر ہوگی۔

سرد و سپاٹ انداز میں بنا کسی لحاظ کے کہا۔ تو ڈراٸیور نے ڈر کے گاڑی روک دی۔

گڈ۔۔۔! اب اترو گاڑی سے۔۔۔! اگلا حکم نامہ جاری ہوا ۔

سر۔۔ آپ۔۔ نہیں بچیں گے۔۔!درد سے تڑپتے ہوۓ وہ ڈراٸیور بولا۔ تو ابتسام نے ایک اور گولی اسکے دوسرے بازو میں پیوست کردی۔

میں اپنے اللہ پے بھروسہ کر کے جیتا ہوں۔ وہی ہے۔۔ جو زندہ بھی رکھتا ہے اور موت بھی دیتا ہے۔۔ انسان کے بس کی تو بات ہی نہیں۔ اب نکلو۔۔۔

کہتے ہی ابتسام نے اسے ایک لات ماری وہ گاڑی سے دور جا گرا۔ اتنے میں دو انجانی گاڑیاں اس تک پہنچیں ۔

کم ان لٹس پلے دا گیم۔۔۔ !کہتے ہی ابتسام نے گاڑی کو اسٹارٹ کرتے فل سپیڈ پے چھوڑا۔ ۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

اچانک سے ابرش کی آنکھ کھلی۔ دیکھا تو رات کے دس بج رہے تھے۔

میں اتنی دیر سوتی رہی۔۔۔۔؟؟ ابرش نے اٹھتے ٹاٸم دیکھا۔

ابتسام کے جانے کے بعد وہ غصہ سے لیٹی تو اسکی آنکھ لگ گٸ۔

اٹھ کے منہ ہاتھ دھویا۔ اور باہر نکل آٸ۔ باہر بھی مکمل خاموشی تھی۔ جسکا مطلب تھا سبھی اپنے روم میں آرام کر رہے ہیں ۔

لیکن ابتسام۔۔۔۔؟؟ وہ کہاں رہ گۓ۔۔۔؟ ابرش کو پریشانی ہوٸ۔

تو اپنی انا کو ایک طرف رکھتے ابتسام کے نمبر پے کال ملاٸ۔ جو مسلسل بزی تھا۔ بار بار کال کرنے پے بھی بزی کی ٹون بجتی رہی۔

ابرش کو بے انتہا غصہ آیا۔

حد ہے۔۔۔ ایسے بھی کوٸ کرتا ہے کیا بھلا۔۔۔؟؟ اب میں بھی نہیں کرتی بات۔۔۔ ! رہیں جہاں ہیں وہیں۔۔۔!منہ بنا کے کہتی وہ موباٸل وہیں صوفے پے چھوڑتی خود کچن کی جناب بڑھی۔ جبکہ تاک میں بیٹھی علیشا نے فوراً ابرش کا موباٸل اٹھایا۔ اور وہاں سے غاٸب ہوگٸ۔

کچن میں اپنے لیے فاطمہ بی کو کھانے کا کہا۔ وہ ابھی کچن کی صفاٸ کر رہی تھیں۔ ابرش وہیں ایک چیٸر گھسیٹ کے بیٹھ گٸ۔ لیکن خیال پھر ابتسام کی طرف چلا گیا۔ آخر اتنی دیر سے وہ ہوں گے کہاں۔۔ ؟

کہیں۔۔۔ وہ ۔۔فاریہ۔۔۔؟؟ ابرش کا دل بہت بری طرح دھڑکا۔

نہیں۔۔۔ ابتسام ایسے نہیں۔۔۔! فوراًکھانے سے ہاتھ کھینچا۔

کیا ہوا بیٹی۔۔۔؟؟ کھانا کیوں چھوڑ دیا۔

بس۔۔۔ اماں بی۔۔۔! بھوک نہیں۔۔ رہی۔۔۔ کہتے وہ دکھی دل سے واپس باہر آٸ۔

موباٸیل اٹھانا چاہا۔ لیکن وہاں موباٸل ہوتا تو ملتا ناں۔۔؟؟ سارا صوفہ چھان مارا۔ لیکن موباٸیل نہ ملا۔

کہاں جا سکتا ہے۔۔؟ ۔۔۔اب ۔۔۔ابتسام سے کیسے رابطہ کروں ؟ ابرش مزید پریشان ہوگٸ۔ ایک دل کیا ابی جان کو جگا کے انہیں اس بارے میں بتاۓ۔۔ لیکن پھر چپ کر گٸ۔ کہ اتنی رات کو سب کو پریشان کرنے کا کیا فاٸدہ؟

جبکہ وہ یہ نہیں جانتی تھی۔ اسکی اصل آزماٸش تو اب شروع ہوٸ تھی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

بلیو ٹوتھ سے ابتسام فہد اور حمزہ سے مسلسل رابطے میں تھا۔ انہیں اپنی لوکیشن بتاٸ۔ اس دوران ابرش کی کہیں ایک مسڈ کالز آٸیں۔ لیکن وہ نظر انداز کرگیا۔ وہ رابطہ نہیں توڑ سکتا تھا۔

وقت بہت کم ہے۔۔ حمزہ۔۔۔ فہد۔۔۔۔۔! وہ لوگ تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔۔۔ میں اکیلا ان پے حاوی نہیں ہوسکتا۔

ابتسام نے اپنی پوزیشن کلٸیر کی۔

نو وے۔۔۔۔ !تم ہمت نہیں ہارو گے۔۔۔۔!بس کچھ وقت۔۔ ہم پہنچ جاٸیں گے۔ حمزہ تڑپ کے بولا۔

بالکل پلیز۔۔۔ ابتسام بھاٸ۔۔ ہمت رکھیں۔ہم بس پہنچنے ہی والے ہیں۔

فہد نے گاڑی کا موڑ کاٹا۔ وہ دونوں جانتے تھے۔ وہ نہیں پہنچ سکتے تھے۔ ابتسام تک۔ پھر بھی اسے حوصلہ دے رے تھے۔

بہت مشکل ہے۔۔۔ وہ بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

ابتسام نے ابھی اتنا کہا تھا کہ گاڑی کا ٹاٸر پنکچر ہوا۔ انہوں نے گاڑی کے ٹاٸر کا نشانہ لیا تھا۔ کیونکہ باقی کی گاڑی تو بلیٹ پروف تھی۔

گاڑی ان بیلنس ہوٸ۔

میں آخری سانس تک لڑوں گا۔۔۔ یاد رکھنا۔۔ ایک بہادر سپاہی ابتسام علی پیرزادہ تھا۔۔۔ جو دشمن کا مقابلہ کرتے آخری سانس تک لڑا۔ اور۔۔۔۔شہید ہوگیا۔۔۔!

اتنا کہتےہی کال بند کر دی۔ اور بلیو ٹوتھ ساٸیڈ پے کر دی۔ ایک ہاتھ سے گاڑی کو بمشکل بیلنس کرتے وہ اپنے موباٸل کو واٸس میل میں ڈال چکا تھا۔ ابرش کے لیے اس نے پیغام چھوڑا تھا۔

وہ اس سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔

گاڑی کا دوسرا ٹاٸر بھی پنکچر ہوا۔

اب گاڑی کچے رستے سے ہوتی ہوٸ ایک پل پے جا رکی۔

آگے بھی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ اور پیچھے بھی۔

وہ بری طرح پھسا تھا۔

اب آر تھا یا پار۔ یہی سوچتے ابتسام نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔

سامنے بلیک مرسیڈیز سے وہ بھی باہر نکلا۔ کالا چشمہ لگاۓ وہ ایک خوبرو تیس سال کا جوان شخص تھا۔

ابتسام کے چہرے پے طنزیا مسکراہٹ ابھری۔

اس شخص کے چہرے پے بلا کی سختی تھی۔

منع کیا تھا۔۔۔ مت آٶ ہمارے راستے میں۔۔ میجر۔۔۔لیکن۔۔۔ تم نہیں مانے۔۔۔۔! اب بھگتو۔۔۔ !

کہتےہی اس شخص نے ایک فاٸر کیا جو ابتسام کی ٹانگ پے اپنا نشان چھوڑ گیا۔ گولی اندر ہی پیوست ہوکے رہ گٸ۔

ابتسام تڑپ گیا۔ لیکن اپنا درد سامنے والے پے ظاہر کردے۔۔۔؟؟ پھر وہ فوجی تو نہ ہوا۔ ۔۔۔

بہت ۔۔۔ غلط کیا۔۔۔! ابتسام نے مسکراتے کہا۔ ابتسام کی مسکراہٹ سامنے والے کو آگ لگا گٸ۔

میجر ابتسام علی۔۔۔۔ہمیشہ سامنے والے کو ایک موقع دیتا ہے۔۔اورتم نے وہ۔۔ موقع ضاٸع کر دیا۔

اب میری باری۔۔۔ کہتےہی گن کا رخ اس شخص پے تانا۔ دور ہونے کے باوجود بھی ابتسام کا نشانہ چوک نہیں سکتا تھا۔ یہ بات وہاں موجود سبھی جانتے تھے۔ اسلیے انکی گرفت بھی اپنی گنز پے مضبوط ہوٸیں۔ لیکن دیر ہوچکی تھی۔ ابتسام فاٸر کر چکا تھا۔ نشانہ اسکا دماغ تھا۔ سر پے گولی لگتے ہی سامنے والا ایک چُت ابتسام کو دیکھے پیچھے گرا۔ اس کے آدمیوں نےاسے سنبھالا۔ اور ابتسام پے فاٸر کھول دیا۔ ابتسام نے آٶ دیکھا نہ تاٶ۔ اور گہرے نیلے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ اسی پُل پے جہاں وہ کھڑا تھا۔

ان سب نے پُل کے اوپر سے پانی میں فاٸر کیے۔ لیکن انہیں ابتسام نظر نہ آیا۔

شاید ڈوب کے مرگیا ہے۔۔۔ ایک آدمی نفرت سے بولا۔

اسے چھوڑو۔۔ ہم بڑے ساٸیں کو کیا جواب دیں گے۔۔۔ جب وہ اپنے جوان جہان بیٹے کی لاش دیکھیں گے۔۔۔؟

اس بات سے وہاں موجود سبھی پریشنان ہواٹھے۔لیکن جواب کسی کے پاس نہ تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *