Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 34)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

ایک سیکنڈ کے اندر اندر یہاں سے چلیں جاٸیں۔۔۔ورنہ۔۔۔ جو آپ کے ساتھ ہوگا۔۔۔آپ پچھتاٸیں گےاس پے۔

میرے گھر کے ۔۔۔سبھی افراد سے دور رہنا۔۔۔۔ حلیمہ۔۔۔ ورنہ۔۔۔ مجھ سے برا کوٸ نہیں ہوگا۔

جنید خان جیسے للکارتا آیا تھا۔ ویسے ہی لوٹ گیا۔

امی جان۔۔۔۔! آپ نے۔۔۔ انہیں ایسے کیوں جانے دیا۔ مجھے کچھ بھی صحیح نہیں لگ رہا۔

علی پیرزادہ پریشانی سے بولے۔

ماں کی جان۔۔۔! اس جنید خان کی فطرت سے میں خوب واقف ہوں۔۔ سو شیطان مرے ہوں گے۔۔ تب یہ پیدا ہوا ہو گا۔۔۔ ! یہ اپنے مقصد کو پانے کے لیےکچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔ کچھ بھی۔۔۔۔ آنکھوں کے آگے ماں کا چہرہ لہرایا۔ جسے غصہ میں آکے جنید خان نے منہ پے تکیہ رکھ کے مار دیا تھا۔ اور یہ راز آج تک راز ہی تھا۔ جو ابی جان جانتی تھیں ۔ وہ اس وقت بہت چھوٹی تھیں۔ بہت طریقے سے جنید خان نے انہیں ہاتھوں میں لیا۔ اور اسے شہر سے دور بھیج دیا۔ وقت گزرتا رہا۔ لیکن حلیمہ کے دماغ سے یہ بات نہ نکلی۔

اور پھر بہت عرصے بعد جب وہ واپس لوٹیں۔ تو ان کے دماغ میں یہ بات جونک کی طرح چپک گٸ تھی۔

جس کا اظہار انہوں نے بول کے تو نہ کیا۔ لیکن اپنے انداز سے جتا دیا۔

پورے گاٶں میں جنید خان کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ ایسے میں کوٸ آکے انکے سردارکو کوٸ کچھ کہتا تو۔۔ کسی نے یقین نہیں کرنا تھا۔ وہ اپنی بہت عزت بنا چکا تھا۔ لوگوں کے دلوں میں اپنا ایک اونچا مقام بنا چکا تھا۔

بات بگڑی تب ۔ جب حلیمہ کے بچپن کے رشتے اسد پیرزاہ کو نہ کی گٸ۔۔ تو دونوں خاندانوں میں سخت ٹاکرا پڑ گیا۔

جنید خان بہن کا رشتہ اپنےدوست سے کرنا چاپتے تھے۔ لیکن وہ بچپن کی منگ تھیں۔ اسدپیرزادہ کی۔ جو کہ ان کے والداپنی زندگی میں اپنے دوست کے بیٹے سے طے کر چکے تھے۔

پیرزادہ فیملی میں ایک رواج تھا۔ وہ خاندان سے باہر سے بہو تو لے آتے تھے۔ لیکن بیٹی خاندان سے باہر نہیں دیتے تھے۔ جبکہ خان فیملی باہر سے نہلاتے تھے بہو نہ بیٹی دیتے تھے۔ صرد حلیمہ ہی خاندان ے باہر جارہی تھی۔ باپ کی خواہش پے۔ جو جنید خان کو ماں باپ کے مرنے بعد ناگورا گزرا۔تو اس کے خالف بول اٹھے۔

یوں جب اسد اور جنید خان میں ٹھنی تو حلیمہ بھی اپنے حق کے لیے کھڑی ہوگٸیں ۔ اور اسد کی ساٸڈ لی۔ یوں بہت زیادہ خرابی پیدا ہوگٸ۔ تو مجبوراً جنید خان کو ہارماننا پڑی۔ لیکن انہوں نے بہن سے قطع تعلق کر لیا۔

کہتےہیں ناں۔۔ گراتے ہیں اپنے ہی نشیمن پے بجلیاں۔۔

غیروں کو کیا پتہ دل کی جگہ کہاں ہے؟

اپنوں نے اتنا ورغلایا۔ کہ جنید خان بہن سے ہی دشمنی مول لے گۓ۔ اور اتنی نفرت ہوگٸ کہ وہ نفرت آگے نسل در نسل منتقل ہونے لگی۔

اور اسی نفرت کی بھینٹ چڑھے ابی جان یعنی حلیمہ پیرزادہ کے بیٹےعلی اور بہو رخسار۔۔۔ انکو کار ایکسیڈینٹ میں مروا دیا گیا۔ جنید خان اور اس کے بیٹے فیروز خان نے۔ کیونکہ ایک تو خاندانی دشمنی دوسرا علی نے ان سے جاٸیداد میں اپنی ماں کا حصہ عدالت سے کیس کر کے حاصل کیا تھا۔ جس سے جنید خان کی آدھی کمر ٹوٹ گٸ تھی۔

بدلہ تو بنتا تھا۔

اس وقت تو ابی جان اور اسد پیرزادہ کو اندازہ نہ ہوا۔ کہ اس سب کے پیچھے جنید خان ہو سکتا ہے۔ بعد میں جب انوسٹیگیشن ہوٸ تو انہیں پتہ چلا۔ انہوں نے جنید خان پے کیس کر دیا۔ جس پےمزید برہم ہوا۔

کیس ایک سال پہلے فاٸل ہوا تھا۔ اور سال بعداسکا فیصلہ تھا۔ جو ان کے حق میں تھا۔ عدالت نے فیصلہ سنانا محفوظ کیا ۔ جس دن فیصلہ سنانا تھا اس سے ایک دن پہلے ایک بار پھر وہ پیرزادہ منشن کا رخ کر چکا تھا۔

ابتسام اس وقت چھ سال کا تھا۔

جنید خان اپنے بیٹے فیروز خان کے ساتھ اور اپنے گارڈز لے کے وہاں پہنچا تھا۔

باز نہ آٸیں تم۔۔۔ منع کیا تھا۔۔۔ !کیس واپس لو۔۔۔ لیکن ۔۔۔نہیں مانی میری بات۔۔۔۔۔!

ہونہہ ۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ تم میرے بچوں کا قتل۔کردو۔۔۔ اور میں تمہیں معاف کردوں گی۔۔۔؟؟ کبھی نہیں۔۔۔! میرے علی کا خون اتنا سستا نہیں جنید خان۔۔۔ تمہیں تو پھانسی کی سزا ہوگی۔

ابیجان جتنا ہوسکا تھا غصے سے بولیں تھیں۔

جنید خان طنزیہ ہنسی ہنسا۔

اس دروران اسد پیرزادہ بھی ابیجان کے ساتھ آن کھڑے ہوۓ۔

لگتا ہے۔۔۔ تم اپنی نسل ہی ختم کروانا چاہتی ہو۔۔۔

ہنستے ہوۓ ایک اور دھمکی دی۔ ساتھ کھڑا بیٹا فیروز بھی مزاق اڑاتے انداز میں ہنسا۔

دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو دیکھا۔

جنید خان۔۔۔ تم خدا نہیں ہو۔۔۔ ! جتنا مرضی ظلم کرلو۔۔۔ ایک دن ۔۔۔ تمہاری نسل میری نسل کےہاتھوں ہی ختم ہوگی۔ یاد رکھنا۔

اسدپیرزادہ کی للکار پے جنید خان ایک لمحے کو ٹھٹھرا۔

بھول ہے تمہاری۔۔میری دہشت سےاچھے اچھے کانپ جاتے ہیں۔ تم اپنی اولاد کو نہیں بچا پاۓ تو ۔۔ اپنے پوتوں کو کیا بچا پاٶ گے۔۔۔ ؟

جنید خان نے پاس آتےچھ سالہ ابتسام کو یکھتے طنزیہ کہا ۔

حلیمہ بی نےلب بھینچے۔

بس۔۔۔۔۔! ٹھیک ہے۔۔۔ ہم کیس واپس لےلیتےہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔ تم۔۔میرے پوتوں سے دور رہو گے۔۔۔

حلیمہ اپنی آل اولاد کے لیےتڑپی تھیں ۔

حلیمہ۔۔۔؟؟ اسد کوانکا فیصلہ پسند نہ آیا۔

اسد۔۔۔ میں اپنےبچوں کوکھو چکی ہوں۔ اپنےپوتوں کونہیں کھو سکتی۔

شدید دردتھا ان کےلہجے میں اسد صاحب خاموش ہوگۓ۔

جبکہ جنید خان نے مسکراتے فخر اور غرور سےمونچھوں کو تاٶ دیا۔

سمجھدار ہے۔۔۔ہماری بہن۔۔۔۔!

اپنی بہن کہہ کےمجھے گالی مت دو جنید خان۔۔۔۔!

حلیمہ۔۔۔۔۔! جنید خان اونچی آواز میں چلاۓ۔

بات ختم۔۔۔ اب دفع ہوجاٶ یہاں سے۔۔۔ بخش دیا تمہیں اپنی اولاد کا خون۔۔۔

سخت نفرت بھرے لہجےمیں کہتیں وہ جنید خان کو کوٸ اور ہی حلیمہ لگی۔

انگلی اٹھا کے وارن کرتے وہ وہاں سے اپنے جاہ جلال کے ساتھ باہر نکل گۓ۔

ابیجان۔۔۔۔! چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ابتسام ابی جان کےپاس آیا۔

انہوں نے اسے پیار سے گود میں اٹھا لیا۔ آنسو پونچھنے لگیں۔ کہ ابتسام نے ان کے آنسو صاف کیے۔

آپ مت روٸیں۔۔ میں بڑا ہو کے ناں۔۔۔ فوجی بنوں گا۔۔ اور ان انکل کو ۔۔ گولی سے ماردوں گا۔۔۔

ابتسام کے انداز اور لہجے پے تو وہ دونوں ششدر رہ گۓ۔ اور اس کے الفاظ ۔ ۔۔؟ ابی جان کو ایک نٸ سوچ سے متعارف کرواگۓ۔

اس دن ابی جان نے فیصلہ کیا۔وہ ابتسام کوآرمی میں بھیجیں گیں۔ تاکہ وہ اپنے ماں باپ ک موت کا بدلہ لے سکے۔

وقت اور حالات نے پلٹا کھایا۔ ابتسام کا رجحان انٹیلجینس کی طرف تھا۔ وہ اس میں شامل ہوگیا۔

اسد صاحب کی فل سپورٹ تھی۔

وقت گزرتا گیا۔ اور یہ درد دل میں ہی رہ گیا۔ کہ جنید خان ابھی بھی زندہ ہے۔

اپنے کٸ ایک مشن سرانجام دینے کے بعد وہ جنید خان کے پیچھے پڑا تھا۔

ڈرگ مافیا سے اسکا گہرا تعلق تھا۔ اور سب سے دل۔دہلا دینے والا کام۔۔ بچوں کی اسمگلنگ کرتا تھا۔ اس کے اس کام میں اسکا پوتا بلال خان بھی برابر کا شریک تھا۔ان کے خلاف ثبوت اکھٹے کرتے وہ خود بھی ان کی سازش کا شکار ہوگیا ۔

اسی کے ڈراٸیور کو خرید کر پوری سیکیورٹی ٹیم کو بھی مار ڈالا۔

دھوکہ تو اچھے اچھوں کو لے ڈوبتا ہے۔ ابتسام کی ٹیم کو ٹریپ کر کے انکو مروادیا۔

اور پھر ابتسام کے روبر بھی آۓ۔

اور وہیں غلطی کر گۓ۔

کہتےہیں ناں۔۔۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔۔؟؟

ابتسام تو بچ گیا۔ لیکن بلال خان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اس سب کے بیچ وہ ڈراٸیور تو سب کے دماغ سے نکل گیا۔ لیکن ابتسام کے دماغ سے ایک لمحے کو ماٶف نہ ہوا۔ اسے زندہ چھوڑنے کے پیچھے بھی ابتسام کا مقصد ہی تھا۔ جو اب پورا ہونا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

کیاہوا۔۔؟؟ تھک گٸ۔۔۔؟؟أرتسام نے عروش کو اسکے کیبن میں آتے گہرا سانس لیتے بیٹھتے دیکھ کےکہا۔

نہیں تو۔۔۔ مجھے تو یہ سب۔۔ بہت۔۔۔ اچھا لگتا ہے۔۔۔ بیماروں کی دیکھ بھال کرنا۔۔ انہیں طبی امداد دینا۔۔ ان کے کام آنا۔۔ یہی تو میرا خواب تھا۔ جو آپ نے پورا کر دیا۔

ابھی وہ ٹریننگ میں تھی۔ اس لیے اسے کسی میجر کام کے لیےنہیں کہا جاتا تھا۔ ہاں البتہ نرسنگ کےکام میں وہ ماہر ہوگٸ تھی۔ اور سب سے بڑی بات۔۔ اس نے اپنے میل۔ملاپ اور اخلاق سے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ چاہے وہ ڈاکٹرز کا شعبہ ہو یا مریض کا۔۔۔

لیکن عروش کا زیادہ وقت پڑھاٸ کے علاوہ بچوں کے وارڈ میں گزرتا تھا۔

عروش۔۔۔ ! جہاں اتنا کچھ سیکھ رہی ہو۔۔ وہاں۔۔ آپ کو یہ بھی سیکھنا ہوگا۔۔ کہ اپنے اموشنز کو کیسے کنٹرول کرتےہیں۔۔

ارتسام نے سنجیدگی سے کہا۔ تو وہ سر جھکا کے چپ ہوگٸ۔ یہی تو بات تھی۔ وہ کسی کی بھی تکلیف دیکھتی بیٹھ کے رونے لگ جاتی۔ جو کہ ڈاکٹر کے پیشے میں نہیں ہونا چاہیے ۔

مجھ سے نہیں ہوپاتا کنٹرول۔۔۔ آنکھیں نم ہوٸیں ۔

جانتا ہوں۔۔ اس لیے کہہ رہا ہوں۔۔ اپنے اوپر قابو کرنا سیکھیں۔ آپ سب سے دل وابستگی کرتی جا رہی ہیں۔۔جو صحیح نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا۔۔ کل اس بچے کے ساتھ کیا ہوا۔۔۔؟؟

اگر بروقت ڈالٹر ملاٸکہہ نہ پہنچتیں تو۔۔۔؟؟

معلوم ہے۔۔ اس کے لیے سوری بھی بولا۔۔ اب آپ پھر سے ڈانٹیں گے۔۔؟؟ عروش نے منہ بنایا۔

نہیں۔۔۔ بالکل نہیں۔۔ لیکن۔۔ سمجھانا میرا فرض ہے۔۔ ایک لمٹ تک رکھیں۔ تاکہ کل کو جب الگ ہوں تو آپ کو رونا نہ پڑے۔

سنجیدگی ہنوز قاٸم تھی۔

آٸندہ خیال رکھوں گی۔

عروش کی یہی عادت ارتسام کو پسند تھی۔ کہ وہ بحث نہیں کرتی تھی۔ مان جاتی تھی۔

عروش کو دیکھتا وہ زیرلب مسکرایا۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

کیا مسٸلہ ہے ارحام۔۔۔؟؟ لمظ زچ آتے بولی۔

وہ جو مسلسل اسے دیکھے جا رہا تھا۔ مسکراتا اسکے پاس بیٹھا۔

کیا ہوا۔۔؟ انجان بنتے پوچھا۔

ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔؟؟ لمظ نے دانت پیستے کہا۔

اب تمہیں میرے دیکھنے سے بھی مسٸلہ ہے۔؟؟

ارحام نے منہ بنا کے کہا۔

نہیں۔۔ لیکن یوں مت دیکھو۔۔۔! ماتھے پے بل ڈالے وہ ارحام۔کو مزید شرارت پے اکسا رہی تھی۔

کہ تبھی مین گیٹ کے زوردار آواز سے کھلنے کی آواز آٸ۔ دونوں ہی بری طرح چونکے۔

جنید خان ایک بار پھر اپنے پوتے ببر کے اور گارڈز کے ساتھ وہاں آن موجود ہوا تھا۔

ارحام۔انہیں نہیں جانتا تھا۔ لیکن جسطرح وہ اندر آۓ تھے۔ ارحام کو انکا انداز ایک اکھ نہ بھایا۔ لمظ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸ۔

حلیمہ خان۔۔۔۔!اونچی آواز میں انہوں نے بہن کو للکارا۔

لمظ اور ارحام ایک دوسرے کو دیکھے گۓ۔

اس شخص کی آنکھیں لال انگارہ تھیں۔ گھنی مونچھیں اور داڑھی۔ ایک رعب دبدبہ تھا انکی شخصیت میں جو سامنے والے کو مرعوب کررہی تھی۔

ابیجان جو علی اور رخسار کی تصویر اٹھاۓ بیٹھیں تھیں۔

ملازمہ کے بلانے پے اٹھتی ہوٸیں کمرے سے نکلیں۔

تو جنید خان۔۔۔ آخر تمہاری دم پے پاٶں آہی گیا۔۔ میرے شیر کا۔۔ وہ مسکراتی ہوٸیں سیڑھیاں اتر رہی تھیں۔

جنید خان کا خون کھلا رہی تھیں۔

آٸیے۔۔ آٸیے۔۔ جنید خان۔۔۔ آج کیسے راستہ بھول گۓ۔۔؟؟

طنز سے بھرپور لہجہ ۔۔ جنید خان کو سلگا گیا ۔

ابی جان کی آنکھوں کی چمک سے جنید خان تلملاتا رہ گیا۔

بہت غلط کیا تم نے۔۔اپنے پوتے کو۔۔ ہمارے خلاف استعمال کر کے۔۔ بھول گٸ۔۔۔ ؟؟ پرانا وقت۔۔۔؟؟

کافی اونچی آواز میں دھمکایا۔

یہی تو مسٸلہ ہے۔۔ بھول ہی نہیں پارہے ہم۔۔۔ ورنہ۔۔ آج ۔۔؟؟ آپ یہاں اپنے پوتے کے ساتھ ہوتے۔۔۔

انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہتی وہ وہاں موجود سب کو چونکا رہی تھیں۔

اگر میرا پوتا۔۔ گیا ہے۔۔تو رہا تمہارا پوتا بھی نہیں۔۔۔

ابرش کو نیچے اترتے دیکھ وہ مزید پھنکارے۔ یہاں آنے سے پہلے وہ تمام معلومات اکھٹی کر کے آۓ تھے۔

ابرش خاموشی سے ابی جان کے پاس جا کھڑی ہوٸ۔

وہ بھی اس توپ نما چیز کو حیرانی سے دیکھنے لگی۔

اچھا۔۔۔۔ پھر۔۔ اتنی بوکھلاہٹ کیوں۔۔؟؟ ابی جان نے مذاق اڑاتے طنزیہ انداز میں کہا۔

لگتا ہے۔۔ ایک پوتا کھو کے تمہیں سکون نہیں آیا۔۔ حلیمہ خان۔۔ جو اب۔۔ باقی دو کی بھی قربانی دینا چاہتی ہو۔۔۔! ارحام کو نظر کے زاویے میں رکھتے مونچھوں کو تاٶ دیا۔

جبکہ اندر آتے ارتسام اور عروش بھی انہیں دیکھ کے وہیں ٹھٹھکے۔

ہمارے ہی گھر میں کھڑے ہو کے۔۔ ہمیں ہی دھمکی۔۔۔؟؟

کسی بھول میں مت رہیے گا جنید خان۔۔۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتےہیں ہم۔۔۔! اور ۔۔ ایک بات کان کھول کے سن لیں۔۔ موت کا جو کھیل آپ نے شروع کیا تھا۔۔ ناں۔۔۔ غراتے ہوۓ انگلی اٹھا کے وارن کرنے والے انداز میں بولیں۔

اب بس ختم۔۔۔ اسکے اختتام کا وقت آچکا ہے۔۔ تیار ہوجاٶ۔۔ جنید خان۔۔ تمہارے کرموں کا حساب ۔۔ اسی دنیا میں لے گا۔۔ ہمارا۔۔ پوتا۔۔۔ آواز گونجی۔

ہمارا شیر۔۔

ابتسام علی پیرزادہ۔۔۔

بہت فخراور غرور سے پوتے کانام لیا۔

ہونہہ ۔۔ کسے بے وقوف بنا رہی ہو۔۔؟؟ مر چکا ہے تمہارا پوتا۔۔ اور۔۔ یہ ہے ۔۔اسکی بیوہ۔۔۔! ابرش کی طرف تمسخرانہ انداز میں اشارہ کیا۔

ابرش نے لب بھینچے۔

چلو ایک کام کرتے ہیں۔۔ میں تمہیں اپنے پوتے بلال خان کا خون معاف کرتا ہوں۔۔ بدلے میں تم۔۔۔ مجھے یہ۔۔ ابتسام کی بیوہ۔۔ دے دو۔۔ میرے پوتے۔۔ ببر خان کے لیے۔۔۔

جنید۔۔۔۔۔! ابی جان سخت غصے میں اونچی آواز میں بولیں۔ ارتسام اور ارحام بھی غصے سے آگے بڑھتے ابرش کے آگے ڈھال بن کے کھڑے ہوگۓ۔

خبردار۔۔۔۔ جو ہمار ی بھابھی کے لیے ایک لفظ بھی غلط نکالا تو۔۔۔ منہ توڑ دوں گا۔۔

ارحام نے دانت پیستے جنید خان کی آنکھوں میں جھانکتے کہا۔

اوٸے۔۔۔۔ آواز نیچی رکھ۔۔۔ ادا جان سے۔۔۔! ببر بھی غرایا۔

کیااوۓ۔۔۔۔۔۔۔ تم۔ناں۔۔۔ اپنے ادا جان کو لو۔۔ او یہاں سےایک منٹ میں دفع ہوجاٶ۔۔۔ بہت سن لی تم۔لوگوں کی بکواس۔۔ اب۔۔ اور نہیں۔۔۔

ارتسام نے انہیں باہر کا راستہ دکھایا۔

بڑا جوش ۔۔ مار رہا ہے تیرا خون۔۔۔؟

جنید خان نےپھر سے حلیمہ کو تپایا۔

حلال کا ہے ناں۔۔۔! جوش تو مارے گا ناں۔۔۔!

حلیمہ؟؟ پھر سے غصے سے للکارتے آگے بڑھے کے ارتسام اور ارحام بیچ میں آگۓ۔

خبردار۔۔۔ ہماری ابی جان کی طرف ایک قدم بھی بڑھایا تو۔۔۔ واپس اپنے پاٶں پے چل کے نہ جا سکو گے؟؟

دونو ں کا خون جوش مارا۔ تو ببر خان بھی آگے آیا۔

چلیں ادا جان۔۔ انہیں پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی۔۔ انہیں صرف گولی کی زبان سمجھ آتی ہے۔۔ اب اسی میں بات کریں گے۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

سر۔۔۔ جنید خان اپنے پورے گارڈز کے ساتھ پیرزادہ منشن پہنچ چکا ہے۔

فہد نے اچانک آتے ہوۓ حمزہ اور ابتسام کو محو گفتگو دیکھا تو جھٹ سے بولا ۔

ابتسام مٹھیاں بھینچتا ہوا کھڑا ہوا۔

جلدی نکلو۔۔۔۔! آج یہ۔۔ مجھ سے بچ نہیں پاۓ گا۔

ابتسام کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔ ۔

ابتسام۔۔۔ جوش سے نہیں ہوش سے کام لو۔۔۔! حمزہ نے ٹھنذڈا کرنا چاہا۔

وہ تینوں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔

کیا مطلب ہے۔۔؟ ہاں۔۔ وہ قاتل اور سفاک آدمی میرے گھر پہنچ گیا ہے۔۔ اور تم کہہ رہے ہو۔ چپ کر جاٶں۔۔؟؟ ناں۔۔ کیا چوڑیاں پہن لوں۔۔؟؟

ابتسام کا غصہ سوا نیزے پے دیکھ حمزہ بھی چپ کر گیا۔ چھ لمحے کو توقف کے بعد اسے دیکھا۔ غصہ ضبط کرنے کی وجہ سے اسکا چہرہ لال ہوچکا تھا۔

اس وقت وہ پیرزادہ منشن میں ہے۔۔ اسے کچھ بھی ہوا۔۔۔۔پھسے گی تمہاری فیملی۔ کیونکہ۔۔ ابھی تم سب کے لیے زندہ نہیں ہو۔۔۔ اپنی فیملی کے لیے مشکل مت کری ایٹ کرنا۔

حمزہ نے ٹھنڈے لہجےمیں نارمل انداز میں سمجھایا۔ جبکہ فہد گاڑی ڈراٸیو کرتا ایک جھٹ گھڑی نظر ان پے ڈال لیتا۔

میں اسے چھوڑنے نہیں والا حمزہ۔۔۔ آج یا تو وہ نہیں۔۔ یا میں۔۔ نہیں۔۔

ابتسام کا پر اسرار انداز حمزہ کو بہت کچھ باور کروا گیا۔

پھر۔ کام ایسا کرو۔۔ کہ سانپ بھی مر جاٸے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔۔۔۔

حمزہ اسےنٸ راہ دکھانےلگا۔

ابتسام نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

تاریخ اگر خود کو ایک بار پھر دہراۓ تو۔۔۔؟؟ وہی جو ۔۔ برسوں پہلے۔۔ اس نےکیا۔۔ اس کے ساتھ ہوجاۓ تو۔۔۔؟؟

حمزہ اسے کیا اشارہ کر رہ تھا۔ ابتسام کو سمجھنے میں ایک منٹ نہ لگا۔ اسکا دماغ بہت تیزی سے چلنے لگا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

کیا ہوا۔۔۔؟؟ درد ہورہا ہے ڈاکٹر کو۔۔۔؟؟

احمرنے ان دونوں ڈاکٹرز کو الٹا لٹکایا ہوا تھا۔ جہنوں نے چند پیوں کی لالچ میں آتے شاہان کو بھگا دیا تھا۔ اچھی خاصی انکی درگت بنا چکا تھا۔ ابتسام کا دوسرا روپ تھا۔ نڈر۔۔ بہادر بے باک۔

اب ڈاکٹر خود اپنی دواٸ لینے ڈاکٹر کے پاس جاۓ گا۔

کہتے ایک اور لتر لگایا کہ وہ تڑپ گۓ۔

خدا کا واسطہ ہے۔۔ معاف کردو۔۔ غلطی ہوگٸ۔۔۔

انہوں نے الٹے لٹکے ہوۓ ہی زخموں سے چور ہاتھ جوڑتے معافی مانگی۔

معافی۔۔۔؟؟ احمر عمران کی لسٹ میں معافی نہیں۔۔!

انکو اتنا مارو کہ آج کےبعد یہ دغا بازی کرنےکا سوچیں بھی نہ۔۔!

احمر نے دو آدمیوں کو کہتے باہر کا رخ کیا ۔ اور ابتسام کو آخر کار کال۔ملا لی کیو نکہ اب اسکے علاوہ کوٸ چارہ نہ تھا۔ لیکن نمبر ہنوز بند جا رہا تھا۔

کیا ہوا۔۔؟ پریشان ہو۔۔؟؟ ساتھی افضل نے آکے پوچھا۔

نمبر بند ہے۔۔ اور ۔۔ ابتسام سر کا یہ نمبر تو وہ کبھی بند نہیں کرتے۔۔۔ احمر حقیقتاً پریشان ہوگیا۔

کب سے رابطہ نہیں ہوا۔۔؟؟ افضل بھی پریشان ہوا۔

کافی دنوں سے۔۔ سر نے منع کیا تھا۔ کہ وہ خود رابطہ کریں گے۔

بہت زیادہ ارجنٹ ہو تب ہی کال کروں ورنہ انکی کال کا انتظار کروں۔۔

اب کیا کریں پھر۔۔۔؟ أفضل احمر سے بڑا تھا۔ اور زیادہ تر سوچنے والاہی کام کرتا تھا۔

کرنا کیاہے۔۔۔؟ یہ شاہان کاگیدڑ کا بچہ۔۔۔ کہاں چھپ کے بیٹھا ہے۔۔ نہیں پتہ۔۔۔

اور موقع ملتے ہی یہ پھر سے بھابھی تک پہنچ کے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرےگا۔ ہمیں۔۔ بھابھی کو پروٹیکٹ کرنا ہے۔ ۔ کچھ بھی کر کے۔۔۔! اور ہاں۔۔ سرابتسام کے بارے مں معلومات لو۔ وہ کہاں ہیں۔۔

آرڈر دیتا وہ عجلت میں اپنے چند بھروسہ مند اور بہادر ساتھیوں کے ساتھ پیرزادہ منشن کا رخ کر چکا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

میں أسکے آفس بھی گٸ۔۔ہر جگہ جہاں وہ جاتا تھا۔ میں نے دیکھ لیا۔۔۔ لیکن ۔۔مجھے۔۔ وہ کہیں نظر نہیں آیا۔۔۔کیا کروں۔۔؟؟ اسے دیکھےبنا مجھےسکون نہیں آتا۔۔۔

فاریہ روتے ہوۓ اپنی دوست ادیبہ کے آگے اپنے دل کا حال۔بیان کر رہی تھی۔

اچھا۔۔۔ بہت یاد آرہا ہے۔۔؟ ادیبہ نے طنزیہ انداز میں اسے دیکھتےکہا۔

کیا بچے کا باپ نہیں یاد آرہا ؟؟

آٸ برو اچکاتے پوچھا۔ تو فاریہ لب بھینچ گٸ۔

اس دن ادیبہ کے سامنے وہ سارا سچ جو رکھ گٸ تھی۔ اور اب وہ کامی کا طعنہ دے رہی تھی اسے۔

بھاڑ نیں جاۓ وہ شخص۔ برباد کر گیا مجھے۔۔ میرا فاٸدہ اٹھایا اس نے ۔۔

غصے سے اٹھ کے دور جا کھڑی ہوٸ۔

ٹھیک اسی طرح جیسے تم۔۔ فاٸدہ اٹھا رہی ہو۔۔؟؟ ادیبہ نے آج اسے آڑے ہاتھوں لیا۔

لیکن یاد رکھنا۔۔ تم۔۔ بے بس تھی۔۔ وہ شخص ۔۔بے بس نہیں۔۔!تم اسکا اسیکنڈل بنانا چاہتی تھی۔ اسے بدنام کرکے اسکی زندگی میں جانا چاہتی تھی۔۔ کیا ہوا۔۔؟؟

ابتسام کی بیوی نے بھی تمہاری بھیجی ویڈیو پے یقین نہ کیا۔ جس میں تمپریگننسی کا رونا رو رہی ہو۔

بلکہ جو تھوڑی بہت عزت بچی تھی۔ وہ بھی گنوا دی۔

ہر جگہ تمہاری عزت کے ہی جھنڈے لگے ہیں۔۔ پولیس میں گٸ کیس لے کے دوبارہ۔۔ کیا ہوا۔۔؟ کیا کہا انہوں نے۔۔؟ کہ نہ وہ کس ابتسام کو جانتے ہیں۔۔ نہ ہی کیس فاٸل کریں گے۔۔۔! بلکہ الٹا تمہیں دھمکا کے واپس کر دیا گیا۔ اب بھی تمہیں عقل نہیں آٸ۔ اتنی بے عزتی کروا کے بھی تمہیں لگتا ہے وہ تمہیں اپنا لے گا۔۔؟ تو یہ تمہاری بھول ہے۔ فاریہ اختر۔۔ تو ان خوش فہمیوں سے نکل آٶ۔۔ اور کامی۔۔ جو کہ باپ ہے اس بچے کا۔۔ اسے ڈھونڈو۔ اس سے نکاح کرو۔ اور اس بچے کو اسکے اصل باپ کا نام دو۔

ایبہ نے اسے اچھا خاصا لیکچر دیا۔ وہ اسے دیکھتی رہ گٸ۔

ایک بات تو طے ہے۔۔ اگر ابتسام میرا نہیں۔۔ تو کسی کا نہیں۔۔۔! اسکے انداز میں جنونیت تھی۔

ادیبہ نے سر پے ہاتھ مارا۔ مطلب یہ نہیں سدھرنے والی۔

اچھا۔۔ کیا کرو گی تم۔۔؟؟ ماتھے پے بل ڈالے پوچھا۔

جو لڑکی اسے بہت پیاری ہے۔۔۔ ناں۔۔ جان سے بھی زیادہ۔۔۔وہی چھین لوں گی اس سے۔

جنونیانداز میں کہتی وہ ادیبہکو چپ کرا گٸ۔ اب اسے فاریہ سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا۔ ایک دوست ہونےکا ناطے اس نے اسکی مدد بھی کی۔ اور سمجھایا بھی۔ لیکن پانی اب سر سے گزر چکا تھا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *