Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 23)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 23)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
ارتسام روم میں آیا تو عروش کو ایک الگ روپ میں ہی دیکھا۔
وہ جو پورا پلان بنا کے بیٹھی تھی۔ اس پے عمل درآمد کا وقت آگیا تھا۔
جیسے ہی وہ آگے بڑھا۔ اسے نظر انداز کرتا بیڈ پے جا بیٹھا۔
اسے صبح سے اس کی باتوں پے غصہ تھا۔
جسکا اثر اب بھی تھا۔
بیڈ پے بیٹھا وہ اپنی گھڑی اتار رہا تھا۔۔ جب وہ اسکے قدموں میں بیٹھی اسکے جوتے اتارنے لگی ۔۔۔
یہ۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔ کیاکر رہی ہو۔۔۔؟
اٹھو۔۔۔یہاں سے۔۔۔۔
ارتسام نے اسے اپنے قدموں میں بیٹھنے سے منع کرتے اٹھایا۔ اور خود بھی کھڑا ہوا۔
نہیں۔۔۔۔ پہلے آپ ۔۔۔ کہیں۔۔۔ کہ آپ۔۔۔۔ نے مجھے معاف کردیا۔۔۔!!
وہ یونہی اسکے پاٶں پکڑے بیٹھی تھی۔
ارتسام اس کایا پلٹ پے حیران تھا۔
تم۔۔۔۔۔ نیچے سے تو اٹھو۔۔۔۔!! ارتسام نے اسے زبر دستی اٹھایا۔اور اپنے مقابل کھڑاکیا۔
کیا ہے۔۔یہ۔۔۔سب۔۔۔؟؟ دھیمے لہجے میں پوچھا۔
ابی۔۔۔۔ نے کہا ہے۔۔۔ شوہر کی ۔۔۔ خدمت کرنی چاہیے۔۔۔!!
شوہر کو ہمیشہ۔۔۔۔۔ سب سے اوپررکھنا چاہیے۔
جو وہ کہے۔۔ اس پے کبھی۔۔۔ انکار نہیں کرنا چاہیے۔۔۔۔!!
ورنہ اللہ تعالیٰ ناراض بھی ہوتے ہیں۔ اور ۔۔۔۔ جہنم میں بھی ڈال دیتے ہیں۔۔۔!
ارتسام اسکی باتیں سن غش کھا کے گرنے والا ہو گیا تھا۔
وہ پٹخاخہ اس قدر سلجھی گفتگو کر سکتی ہے۔۔۔ اسے یقین نہ آیا۔
اچھھھااااا۔۔۔۔۔۔اور کیا کہا ابی جان نے۔۔۔۔؟؟ ارتسام نے مسکراہٹ ضبط کرتے کہا۔
اور۔۔۔۔۔!! یہی ۔۔۔ کہ شوہر۔۔۔ تھکا۔۔۔ ہارا گھر آۓ۔۔ تو اسے پانی کا پوچھو۔۔۔!! اسکا دکھ سکھ بانٹو۔۔۔۔!!
تنگ۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔کرو۔۔۔اور۔۔۔ ڈھیر۔۔۔۔۔ سارا۔۔ پیار کرو۔۔۔۔۔!!
بانہیں۔۔ پھیلا کے کہتی وہ کوٸی معصوم بچی ہی لگی۔ ارتسام کو۔۔۔
اسکی آخری بات پے اسکو زور کا کھانسی کا جھٹکا لگا۔
کیا۔۔۔ ہوا۔۔۔۔؟؟ آپ ۔۔۔۔ ٹھیک ۔۔۔ ہیں ناں۔۔۔؟؟
وہ پریشان ہوٸی۔۔ اور پیٹھ تھپتھپانے لگی۔
ہاں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ ٹھیک۔۔۔۔۔۔ہوں۔۔۔!!
You cary on……
ارتسام نے اسے کہتے خود کبرڈ کی جانب قدم بڑھاۓ۔
کچھ پل کی خاموشی چھا گٸ۔
ابی۔۔۔۔ نے کہا۔۔۔کہ۔۔ آپ۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ خرید کے لاۓ
ہیں۔۔۔!! لیکن یہ نہیں ۔۔۔۔ بتایا۔۔۔کتنے میں خریدا۔
اس کے الفاظ ارتسام کو جیسے تیر کی طرح دل میں پیوست ہوۓ۔
کبرڈ کو کھولتے ایک لمحے کو اس کے ہاتھ لرزے۔
وہ وہیں ساکت ہو گیا۔
جیسے وقت رک گیا ہو۔۔ آنکھیں میچے وہ کبرڈ بند کرتا ۔۔۔جھٹکے سے وہ اسکی جانب پلٹا۔
جبکہ وہ سنجیدہ چہرہ لیے کھڑی ارتسام کے جواب کی منتظر تھی۔
بتاٸیں۔۔۔ ناں۔۔۔؟؟ کتنے میں خریدا آپ۔۔۔ نے۔۔۔مجھے۔۔۔؟؟
وہ اصرار کرتی اس کے پاس آٸی۔
وہ اس قابل ہی کہاں رہا تھا کہ کچھ بولتا۔۔۔!!
سارے الفاظ لب پے آنے سے پہلے ہی دم توڑ گۓ تھے۔
درد ہزاروں سہی۔۔۔
محبت کا درد سب سے الگ۔۔۔
جان لیوا۔۔۔!!
کوٸی مرہم نہیں۔۔۔
کوٸی دوا نہیں۔۔۔
کوٸی طبیب نہیں۔۔
کوٸی دعا۔۔۔نہیں۔۔۔
صرف درد۔۔۔ درد۔۔اور۔۔ درد۔۔
اور یہ درد آج۔۔ ارتسام کو ہو رہا تھا۔۔۔
جس لمحے سے وہ ڈرتا تھا۔
وہ لمحہ آہی گیا۔
ٹھیک ہے۔۔۔ اگر۔۔ آپ ۔۔ نہیں بتاٸیں۔۔ گے۔۔ تو ۔۔میں۔۔ ابی جان سے۔۔۔!!
ایسا کچھ نہیں۔۔ عروش۔۔۔!!
ارتسام نے اسکی بات کاٹی۔
جانتی ہوں۔۔۔۔!! میرے حق مہر کی رقم آپ نے انہیں ادا کی ہے۔۔۔!!
مجھے۔۔ بتاٸیں۔۔۔ !! کیا رقم دی آپ ۔۔۔نے۔۔۔؟؟ کیا حق مہر آپ نے۔۔۔ انہیں۔۔۔ ادا کیا۔۔۔۔؟؟
عروش کے ماتھے پے بل پڑے۔ وہ واپس پہلے والی ہی عروش بن گٸ۔
ارتسام اسے دیکھتا رہ گیا۔










کیسی ہو اب۔۔۔!
اسکے چہرے پے جھکے اسکے ماتھے پے بوسہ دیتا اسکی آنکھیں اسے اس حالت میں دیکھ کے نم ہوگٸیں۔
حلیمہ نے مسکراتے اسپنے ڈریپ لگے ہاتھ سے اسکا بیٸڈ والا چہرہ چھوا۔
ایک آنسو بہہ کے تکیہ میں جذب ہوا۔
حمزہ نے ماتھے کے ساتھ ماتھا جوڑا۔
آنکھیں موند لیں۔
بہت پاگل ہو تم۔۔۔ میری جان نکال دی تھی تم نے۔۔۔ ایک لمحے کو ایسا لگا۔۔ میری سانسیں چھین لی ہوں۔۔۔
آنکھیں کھولتے وہ جنونی انداز میں حلیمہ کو دیکھتے بولا تھا۔
اسکا یہ جنونی روپ دیکھ حلیمہ آسودگی سے مسکرا دی۔
آپ کے ہوتے۔۔ مجھے کچھ ہو سکتا ہے کیا بھلا۔۔۔!
ایک یقین کے ساتھ اس نے حمزہ کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔
بس اب اور کوٸ دکھ نہیں آۓ گا۔۔ اور نہ ہی کوٸ آنسو۔۔
تمہارا یہ دامن ۔۔ خوشیوں سے بھر دے گا۔۔ تمہارا خان۔ اسکا مخملی ہاتھ تھامے وہ اسے اپنے ہونے کا شرف بخش گیا ۔











کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔
کس نے کہہ دیا یہ سب آپ سے۔۔۔
ارتسام کو اپنی آواز کھاٸ سے آتی محسوس ہوٸ۔
جب عزت دے نہیں سکتے تھے۔ تو لے کے کیوں آۓ گھر اپنے ۔۔۔۔
تیکھے چتونوں سے پوچھا۔
نکاح سے پہلے میرے خاندان کا تو پتہ کر لیتے۔۔۔ یہ جانتے ہوۓ کہ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند نہیں لگتا۔۔۔ آپ بنا سوچے سمجھے مجھ سے نکاح کر کے یہاں لے آۓ۔
ارتسام کو اسکی باتوں سے یہ ضرور پتہ چل گیا تھا۔ کہ کسی نے اسے ضرور کچھ بہت برا کہا ہے۔
ایسا کچھ نہیں ہے عروش۔۔۔ اور اب مزید کوٸ فضول گوٸ نہ سنوں میں۔۔۔۔۔
ارتسام کو بھی غصہ آگیا۔اسکی باتوں پے۔
آپ مجھ پے غصہ کر کے مجھے یوں چپ نہیں کر واسکتے۔
غصہ اور بخار کی تمازت سے اسکا چہرہ سرخی ماٸل ہوگیا تھا۔ آنکھیں بھی لال ہوٸ جا رہی تھیں۔
ارتسام کو اسکی آنکھیں روٸ روٸ لگیں۔
عروش۔۔۔ تنگ مت کرو۔۔۔ پلیز۔۔۔۔
ابکی بار زچ آتے کہا۔ ایک بار اسکا جی چاہا اسکی غلط فہمی دور کردے۔ لیکن ۔۔ پھر یہ سوچ کہ۔۔ پہلے پتہ کر لے اسکو یہ سب کس نے کہاں تک بتایا ہے۔
اسے نظر انداز کرتا وہ باتھ روم کی جانب بڑھا کہ عروش نے روک لیا۔
اب بس ۔۔۔ اور نہیں۔۔۔ آپ کی جو بھی پلاننگ ہے۔۔ اس میں میں کہیں بھی نہیں۔۔ اور نہ ہی اسکا حصہ بننا چاہتی ہوں۔ ۔۔لہذا مجھے میری امی کے پاس واپس چھوڑ کے آٸیں۔
اس نٸے مطالبے پے تو ارتسام کے سر لگی پاٶں بجھی۔
پاگل ہوگٸ ہو کیا۔۔۔۔۔
کیا بولے جا رہی ہو۔۔۔۔ غصہ میں آپ سے تم کا مرحلہ باآسانی طے کر گیا۔
جانتی ہو۔۔ انہوں نے سارے تعلق توڑ لیے ہیں۔۔ وہاں کیسے جا سکتی ہو۔۔۔
پھر بتاٸیں کیا قیمت دی ہے آپ نے انہیں میری۔۔۔ کتنے میں بیچا انہوں نے مجھے آپ کو۔۔۔۔
عروش نے اس کے منہ سے سچ نکلوانا چاہا۔
کوٸ قیمت نہیں دی۔۔ نہیں خریدا۔۔۔۔ حق مہر کی رقم دی ۔۔۔۔۔
غصہ سے اسکے منہ سے نکلا۔ کہ یکدم چپ ہو گیا۔
کتنا حق مہر۔۔۔۔
عروش کو اپنی آواز میں ہلکا پن محسوس ہوا۔
ان باتوں میں نہ پڑو۔۔۔ اور ہٹو آگے سے۔۔۔
اسے بازو سے پکڑکے ساٸیڈ پے کرنا چاہا کہ ہاتھ اسکی کلاٸ سے ٹکرایا۔ ارتسام کو ایسا لگا۔ جیسے اس نے کسی گرم شے ک پکڑ لیا ہو۔ فراً رکتا اسکی جانب پلٹا۔
آپ۔۔ غلط کر رہے ہیں۔۔ یہ جانتے ہوۓ کہ حق مہر بیوی کا حق ہوتا ہے۔۔ آپ نے گناہ کیا۔۔۔۔
وہ اسے غصے اور دکھ سے دیکھتی بمشکل دانت پیستے بولی۔
ارتسام نے بے اختیار اسکے ماتھے کو چھوا ۔
آپ کو بخار ہے۔۔۔ ایک دم سے لہجہ نرم ہوا۔
عروش نے ناگواری سے ارتسام کا بازو جھٹکا۔
مجھے میری بات کا جواب دیں۔
آپ کیسے گناہ کرسکتے ہیں۔ اتنا پڑھے لکھے ہوکے۔۔ آپ نے کیسے کر لیا گناہ۔۔۔
وہ ابھی بھی اپنی بات سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹی تھی۔ ارتسام نے لمبا سانس خارج کرتے اپنا غصہ کنٹرول کیا۔ وہ ہمیشہ کول رہنے والا بندہ تھا۔ بہت کم وہ غصہ میں آتا تھا۔
اب بھی وہ واپس اپنی نارملکنڈیشن میں ہی تھا۔
پیار سے اسکا ہاتھ تھاما ۔ اور اسکی مزاحمت پے زبردستی اسے لیے بیڈ پے آیا۔
پہلے ریلیکس ہوجاٸیں۔۔ آپ کو آپ کی ساری باتوں کا جواب دے دوں گا۔۔۔ بس ۔۔ ریلکیس۔۔۔۔۔
عروش نے پھر کچھ بولنا چاہا۔ کہ آنسوٶں کا گولہ حلق میں پھس گیا۔ اور آنسو لڑھکتے گالوں پے بہہ نکلے۔
ارتسام نے اسکے قریب بیٹھتے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔ اسکے سینے سے لگتی وہ بری طرح رو دی ۔ کتنی چاہ تھی اس وقت اسے ایک سہارے کی۔۔ کتنی اکیلی پڑگٸ تھی وہ آج۔۔ سب کے ہوتے ہوۓ۔۔ ایک اپنے کا خاص اپنے کا احساس اسے نہیں مل رہا تھا۔ اور اب ارتسام نے جیسے ہی اسے پیار سے سنبھالا۔ وہ فوراً بچوں کی طرح بہلتی اسکے سینے سے لگی آنسو بہاتی رہی۔
ارتسام نے اسکے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلاٸیں۔ جس سے آہیستہ آہیستہ وہ پرسکون ہوتی چلی گٸ۔
یہاں دیکھیں میری طرف۔۔۔
اتسام نے اسے سامنے کیا۔۔ اس نے سر نہ اٹھایا۔
جس سے جھگڑا تھا اسی کے سینے میں منہ چھپاۓ روتی وہ اب شرمندہ ہورہی تھی۔
جہاں اتنا صبر کیا ۔۔ وہاں صرف ایک دن اور۔۔۔ کل آپ کو سب سوالوں کا جواب دے دوں گا۔ یہ ارتسام پیرزادہ کا وعدہ ہے۔ بہت محبت اور پیار سے دھیمے لہجے میں کہتا وہ عروش کو سر اٹھانے پے مجبور کر گیا ۔
لیکن اسکی بولتی آنکھوں میں وہ زیادہ دیر نہ دیکھ سکی۔
اور سر جھکا لیا۔
بخار کی میڈیسن دوں ۔۔ لیکن۔۔ آپ نے یقیناً کھانا بھی نہیں کھایا ہوگا۔۔
ایک۔۔ منٹ میں ابھی آیا۔۔۔
کہتے وہ اٹھ کے باہر چلا گیا۔ کچن سے فاطمہ بی سے کہتے کھانا نکلوا کے خود اسکے لیے ٹرے لیتا واپس پلٹا۔ جبکہ ارحام جو وہاں باہرکھڑا لمظ کے بارے میں سوچے جا رہا تھا۔ اپنے بھاٸ کو یہ سب کرتے ددیکھ زیرٍلب مسکرایا۔
روم میں آتے ہی اس نے نڈھال سے بیٹھی عروش کو خود کھانا کھلایا۔ تھوڑا سا کھانے کے بعد اس نے منع کر دیا۔ اسے اب چکر آنے لگے تھے۔ صبح سے بھوک سے وہ نڈھال ہو چکی تھی۔ لیکن اب اسے نیند سی آرہی تھی۔
ارتسام نے اسکا بخار چیک کرتے اسے میڈیسن دی۔ جسے اس نے بلا چوں چرا نگلنے والا کام کیا۔
ارتسام نے اسے وہیں بستر پے لٹا دیا۔ خود اٹھتا چینج کرتا واپس آیا تو وہ نیند کی غنودگی میں تھی۔
بخار ایک بار پھر چیک کیا۔ ہنوز ویسا ہی تھا۔
ایم سوری۔۔ عروش۔۔ میری وجہ سے آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ میں جانتا ہوں۔۔ آپ کو تکلیف پہنچانے والا کون ہے۔۔ لیکن۔۔۔ کل انشااللہ میں سب ٹھیک کر دوں گا۔۔ وعدہ ہے میرا۔۔۔
مطمئن انداز میں سوچتا وo وہاں سے اٹھتا صوفے پے جا بیٹھا ۔ شاید ا ب ساری رات اسکی جاگ کے ہی کٹنے والی تھی۔













آج کی صبح اپنے اندر کٸ راز لے کے آٸ تھی۔
کیونکہ یہ صبح جتنی حسین تھی۔کوٸ نہیں جانتا تھا۔ اسکی شام اتنی ہی بری ہوسکتی ہے۔
آج ان شام انکا ولیمہ تھا۔
پارلر والی نے ابرش اورعروش کو پیرزادہ منشن میں ہی آکے تیار کیا تھا۔ دونوں کو تیار کرتے وہ یہ فیصلہ نہ کر پاٸ دونوں میں سے زیادہ خوب صورت کون ہے۔
دونوں ہی اپنی جگہ سامنے والے کو چاروں شانے چت کرنے والا حسن لیے بیٹھیں تھیں۔
ابرش راٸل بلیو کلر کی ہیوی میکسی پہنے جس پے گولڈن او سلور کلر کا کام ہوا تھا۔ بہت خوبصورتی سے کیے گٸے میک اپ میں وہ آسمان سے اتری پری محسوس ہر رہی تھی۔
وہیس اسکے ہم رنگ ٹیکسیڈو میں مردانہ وجاہت کا بھرپور شاہکار ماتھے پے دو بل ڈالے سلکی بالوں کو ماتھے پے گراٸے ۔ گرین آٸیز سے سامنے والے پے اپنا سحر چھوڑنے والا وہ کوٸ اور نہیں ابتسام علی پیرزادہ تھا۔ جو ابرش کے ساتھ اسٹیج پے پورے اعتماد کے ساتھ کھڑا تھا۔ جبکہ ابرش کا لرزتا وجود اسکی نظروں سے چھپا نہ رہ سکا۔
لیکن کیمرہ مین مسلسل انکی پکس بنا رہے تھے۔ وہ مجبوراً ابتسام کے ساتھ کھڑی خود کو بمشکل سنبھالے سامنے مسکراتے دیکھ رہی تھی۔
ابتسام اسکی حالت کو سمجھتے ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالتا اسے اپنے قریب کر گیا۔ اسی ایک لمحے ابرش نے اسکی جانب دیکھا۔ اور ابتسام نے اسکی آنکھوں میں۔ اور وہیں کیمرہ مین نے کلک کیا۔
دوسری جانب ارتسام اور عروش کھڑے چاند سورج کی جوڑی لگ رہے تھے۔
وہ کول ہینڈسم بواۓ اور وہ چھوٸ موٸ سی دوشیزہ جسے میک اپ سے زیادہ رات کے بخار نے اس پے دلہن والا روپ چڑھا دیا تھا۔ گال تھے کہ دھکتے انگارے۔
ارتسم چپکے سے کٸ ایک بار اسے دیکھ چکا تھا۔
اورزیرِ لب مسکرا بھی چکا تھا۔ آج وہ اپنی ازدواجی زندگی کا باقاعدہ آغاز کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ عروش کے جو ڈر اور خدشات تھے۔ وہ ان سب کو دور کردینا چاہتا تھا۔وہ آج اس سے اپنی پاکیزہ محبت کا اظہار کرنے والا تھا۔
تو دوسری طرف بنا کسی تاثر کے ارتسام کے سہارے کھڑی ابرش کے جیسی ہی میکسی پہنے وہ ارتسام کے دل کے تار چھیڑ رہی تھی۔
کیا ہوا۔۔۔عروش۔۔۔ طبعیت ٹھیک ہے۔۔۔?
اسے بالکل خود کو ڈھیلا چھوڑتے وہ فوراً اسکی جانب مڑا۔
مجھے۔۔ چکر آرہے ہیں۔۔۔ مجھ سے۔۔مزید کھڑا۔۔۔۔ وہ بول بھی نہ پاٸ کہ لڑکھڑا کے ارتسام کی بانہوں میں جھول گٸ۔
ابی جان جو صدقے کے بکرے ذبح کروانے کے لیے مونشی جی کو بول رہی تھیں عروش کے بے ہوش ہونے پے پریشان ہوگٸیں
کیا ہوا۔۔۔۔?
,ابی جان۔۔۔ پریشان نہ ہوں۔ ہلکا سا فیور ہے۔۔ عروش کو گود میں اٹھاۓ وہ دھیرے سے بولا۔ سبھی کی نظریں اسٹیج پے تھیں
آپ عروش کو گھر لے جاٸیں۔ اور انکا خیال رکھیں ۔
ابی جان نے ارتسام کو فوراًسے کہا تو وہ نیچے اترتا چلا گیا۔
جبکہ باقی کا فنکشن اپنے عروج پے تھا۔
علیشا اور عذرا پوپھو بھی ہکا بکا سارا فنکشن دیکھے جا رہی تھیں۔
ایک کو تو خوب مزہ چکھایا۔ اب یہ رہتی ہے بہت جلد اسے بھی ٹھکانے لگا دوں گی۔
خود ہی سوچتے وہ زیر لب مسکاٸ۔ انجام سے بےخبر۔۔۔














ارحام کے دوستو نے بھی آج کے فنکشن میں شرکت کی تھی۔
کنول بلال اور عمیر لمظ سمیت سبھی آج انواٸیٹڈ تھے۔
اٹیج پے کھڑا پکس بنواتا اب وہ لمظ اور ان باقی سب کی جانب بڑھا۔ لمظ جو اسے کافی دیر سے اسٹیج پے خوشی مناتے دیکھ رہی تھی اسکے پاس آنے پے رخ پھیر لیا۔
کیا ہوا۔۔۔ ?
ارحام کو اسکا منہ پھیرنا ناگوار گزرا ۔
کچھ نہیں سوچ رہی تھی ایک ماہ بعد اسی طرح میری شادی پے آٶ گے۔۔ اور ۔۔میں اپنے دلہے کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔ اورتم ایسے ہی تصویریں بنواٶ گے۔
جان بوجھ کے یا انجانے میں لمظ نے ارحام کی دکھتی رگ پے ہات رکھ دیا
غصے سے لب بھینچے۔
کس دل سے لمظ نے یہ ب کہا تھا یہ وہی جانتی تھی۔ اور اتنے ہی کرب سے ارحام گزرا تھا۔ جھٹکے سے اسے بازو سے پکڑتے کھژا کرتا وہ بینکوٸیٹ باہر نکلتا چلا گیا۔
جبکہ بلال عمیر اور کنول کی نظروں نے دور تک انکا پیچھا کیا تھا۔ ایسے میں عمیر اور کنول کی نظروں کا تصدم ہوا۔ تو کنول نے جھٹ سے شور کرتے دل کے ساتھ نظریں جھکا لی۔س جبکہ عمیر نے رخ بدل کے اب اسٹیج کی جانب دیکھنا شروع کر دیا تھا۔












ابرش اسٹیج پے اکیلی ہی بیٹھی تھی۔ابتسام ارتسام کے جانے کے بعد سیکیورٹی کے انتظامات چیک کرنے کی غرض سے نیچے اتر چکا تھا۔
جبکہ کھانے پینے کا تمام انتظام فیضی اور حیدر نے سنبھالا ہوا تھا۔
ابرش کے کلچ میں پڑے موباٸیل پے بیپ ہوٸ ۔
میسج ٹون بجی۔ تو لرزتے ہاتھوں سے کلچ کھولتی وہ ابتسام کی نظروں کا ہی مرکز تھی۔
اگر باپ کی سلامتی چاہتی ہو تو۔۔ ٹھیک ایک گھنٹے تک اس ایڈریس پر پہنچ جاٶ۔ ورنہ باپ کی لاش بھی ڈھونڈتی رہ جاٶ گی۔
نیچے ایڈریس لکھا تھا۔
ابرش کے ماتھے پے پسینے کے قطرے نمودار ہوۓ۔ جو ابتسام کی زیرک آنکھوں سے چھپے نہ رہ سکے۔
دوست سے ایکسکیوز کرتا وہ ابرش کے پاس پہنچا۔
کیا ہوا۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔?
ابرش نے دیرے سے سر اٹھا کے اسے دیکھا۔
کیا تھا وہ شخص بن کہے اسکی کیفیت سمجھ جاتا تھا۔ لیکن۔۔ اس وقت وہ اس سے بری طرح بدظن ہورہی تھی۔
بابا۔۔۔ کی یاد آرہی تھی۔۔۔ وہ نہیں آۓ۔۔۔۔۔
بمشکل لب بھینچے وہ سر جھکا کے اتنا ہی بول پاٸ۔ ابتسام اس کے پاس بیٹھا۔
ان کو ضروری کام سے جانا پڑا۔ ورنہ وہ ضرور آتے۔
پرشان نہ ہو۔۔ جیسے آتے ہیں۔ میں ملوانے لے جاٶں گا۔
ابرش نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
ابتسام کو اسکی آنکھیں آج اور ہی کہانی سنا رہی تھیں۔
وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ یہ بات وہ بھی جانتا اور ابرش بھی۔ یہی وہ دونوں غلطی کر گٸے۔
ابتسام نے مجیب صاحب کو ہاسپٹل میں ایڈمٹ کروا دیا تھا۔انکی حالت آج صبح سے بہت زیادہ خراب ہوچکی تھی۔ انہیں خون کی الٹیاں شروع ہوگٸیں تھیں۔
ابتسام ساۓ کی طرح انکے ساتھ تھا۔اور اسکے خاص آدمی بھی۔ لیکن انہوں نے سختی سے منع کیا تھا۔ کہ ابرش کو کچھ نہ بتایا جاۓ۔ ورنہ وہ اپنا ولیمہ چھوڑ بھاگتی ان تک پہنچ جاتی۔ اور وہ ایسا ہرگز نہیں چاہتے تھے۔
جبکہ دوسری طرف دھمکی بھرا میسج پڑھ کے ابرش ابتسام پےچاہ کر بھی یقین نہیں کرپار ہی تھی۔ اسے آج ابتسام جھوٹا لگ رہا تھا۔اور وہ میسج والا سچا۔
ابرش نے نظریں جھکا لیں۔
اب اسے کیسے بھی کر کے یہاں سے نکلنا تھا۔ اور مطلوبہ جگہ پہنچنا تھا۔
جبکہ وہ یہ نہیں جانتی تھی۔ کہ وہ کتنی ہی بہادر کیوں نہ بن جاۓ تھی۔ وہ وہی صنف نازک۔۔
اور ابتسام جو قدم بہ قدم اسکے ساتھ تھا۔اس سے چھپا کے وہ کتنی بڑی غلطی کرنے جارہی تھی۔












ارتسام نے اسکا چیک اپ کیا لیکن وہ گھر آتے ہی ٹھیک ہوگٸ تھی۔
اور ایک دم سے اسکا ٹھیک ہونا ارتسام کو ہضم نہ ہوا
یہ سب کیا تھا عروش۔۔۔?
ارتسام نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔
مجھے۔۔ گیدرنگ ۔۔ سے خوف محسوس ہوتا ہے۔۔ سوری۔۔ میری وجہ سے آپ کو۔۔سب کے سامنے شرمندگی۔۔۔۔
چھوڑیں کہ سب۔ جاٸیں چنج کر لیں۔ اور کمفرٹیبل ڈریس پہن لیں۔
اسکی بات کو سرسری انداز میں لیتا وہ خود بی ڈریس اپ ہونے ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔
تو وہ منہ بناتی اٹھتی ایک ڈریس نکالتی باتھ روم میں گھسی۔
کچھ لمحات بعد واپس آٸ تو بیڈ پے سر کے پیچھے دونوں ہاتھ ٹکاۓ ارسام کو اپنا منتظر پایا۔
عروش کا دل بہت زور سے دھڑکا۔ اسکے قدم وہیں تھم گۓ۔
عروش ۔۔۔! یہاں آٸیں۔
سیدھا ہوکے بیٹھتے عروش کو پاس بلایا
وہ تھوک نگلتی مرے قدموں سے اسکے پاس پہنچی۔
یہ۔۔آپ کا منہ دکھاٸ کا گفٹ۔
ایک مخملی سی ڈبیہ اسکی جانب کرتے وہ بہت پیار سے اس سے مخاطب ہوا۔
کیا ہوا۔۔کھولیں گیں نہیں۔۔۔۔?
روش نے ڈبی ساٸیڈ پے رکھی۔
ارتسام علی پیرزادہ۔۔۔ اگر مجھے کچھ دینا ہے تو ۔۔ مجھے حق مہر دو میرا۔ جو میرا حق ہے۔۔۔
ایک ایک لفظ پے زور دیتی وہ ارتسام کو چپ ہی لگا گٸ۔
جاری ہے۔
