Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 05)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

بے ختیار ابرش کے منہ سے پھسلا۔ گاڑی سرکنا رک گٸ تھی۔

فون کرنے کا وقت نہیں۔۔ تم خود میری مدد کر سکتی ہو۔۔۔ ابتسام نے چلاتے کہا۔

میں۔۔۔ میں کیا کروں۔۔۔؟؟ ابرش کو سمجھ نہ آیا۔

تم گاڑی پر پیچھے کی طرف دباٶ ڈالو۔ ابتسام نے فوراً کہا۔

یہ۔۔یہ پاگل ہے کیا۔۔۔؟؟ ابرش منہ ہی منہ میں بڑبڑاٸ۔۔؟؟ میں اتنی اوپر سے کیسے دباٶ ڈالوں۔۔؟ ابرش نے ماتھا مسلتے کہا۔

تو نیچے آٶ۔۔۔۔! ابتسام نے دانت پیستے کہا۔

اچھا اچھا۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔ آتی ہوں۔۔ ! موباٸل ہاتھ میں تھامے وہ بمشکل ایک طرف سے خود کو سنبھالتی نیچے کی طرف اتری۔ اور ایک دم سے گاڑی سے جا ٹکراٸ۔ گاڑی آگے کی طرف لڑھکی۔ فوراً سے ابرش نے اس پے اپنے ہاتھوں سے دباٶ ڈالنا چاہا۔

یہ۔۔مجھ سے نہیں ہو۔۔۔۔ رہا۔۔۔۔!ابرش دباٶ ڈالتی بمشکل الفاظ ادا کر پاٸ۔

اتنا ہی بہت ہے۔۔۔۔ دھیرے سے کہتا۔ وہ ایک منٹ کی دیری کیے بنا دروازہ کھولتا باہر کی جانب دیکھتا ایک طرف کو ہوا۔

جیسے ہی وہ ایک طرف ہوا۔ گاڑی نے نیچے کی طرف لڑھکنا شروع کر دیا۔

ابرش بھی گاڑی کو پکڑے اسی کے ساتھ آگے ہی پھسلتی چلی گٸ ۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا موباٸل بھی چھوٹ گیا۔جسے پکڑنے کے چکر میں وہ بھی گاڑی کے ساتھ لڑھکنے لگی۔

اسے لگا وہ نہیں بچ پاۓ گی۔ لیکن ابتسام نے آگے بڑھتے اسے کمر میں ہاتھ ڈالتے اپنی طرف کھینچا ۔۔

دونوں ہی توازن برقرارنہ رکھ سکے اور گرتے چلے گٸے۔ گاڑی کھاٸ میں گر چکی تھی۔ اور ایک زور کا بم بلاسٹ ہوا تھا۔

وہ دونوں لڑھکتے ہوٸے کافی نیچے آگٸے تھے۔ لیکن پتھروں کی مدد سے ابتسام نے خود کو بھی نیچے گرنے سے بچایا۔ اور ابرش کو بھی۔

تھینک گاڈ۔۔۔ بچ گٸے۔۔۔!ابرش نے بیٹھے بیٹھے گاڑی کا بلاسٹ سنتے شکر ادا کیا۔

ابتسام نے بھی کھڑے ہوتے اپنے کپڑے جھاڑے اور ایک قہر کی نظر ابرش پےڈالی۔

دونوں کو ہی چھوٹی موٹی چوٹیں اور خراشیں آٸیں تھیں۔

تم۔۔۔۔ پاگل ہو۔۔۔ ؟ ابتسام نے غصے سے اسے بازو سے پکڑتے اٹھایا۔

ابرش نے گھور کے اسے دیکھا اور جھٹکے سے بازو چھڑایا۔

اپنی حد میں رہو۔۔۔ مسٹر۔۔۔! ہاتھ لگایا ناں۔۔ تو ہاتھ توڑ دوں گی۔۔۔ سخت غضبناک ہوتے کہا۔

اور بجاۓ میرا شکریہ ادا کرنے کے مجھ پے چڑاٸ کر رہے ہو۔۔ ؟ میری وجہ سے آپ کی جان بچی سمجھے آپ۔۔۔! ابرش نے بھی بنا لحاظ کہ کپڑے جھاڑتے کہا۔

میری گاڑی کے آگے کیوں کھڑی تھی۔۔۔؟؟ اگر تم۔۔ گاڑی کے آگے نہ آتی تو یہ حادثہ نہ ہوتا۔

لہجہ اب کی بار تھوڑا دھیما تھا۔

ابرش نے نیچے دیکھا جہاں گاڑی کا بلاسٹ ہوا تھا۔ اور اب دھواں اور شعلے نکل رہے تھے۔

مسٹر۔۔۔!حادثے۔۔ اللہ کی طرف سےہی ہوتے ہیں۔ اور ہمارے نصیب میں یہ حادثہ لکھا جا چکا تھا۔ لیکن ۔۔ ہم نے اپنی عقل استعمال کرتے خود کو بچا لیا۔ یہی ہماری جیت ہے۔۔۔ ۔۔!

ابرش نے اب کی بار مسکرا کے کہا۔

ابتسام نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

ابتسام کو وہ پاگل ہی لگی۔

سر جھٹکتا وہ اوپر کی طرف دیکھتا اوپر جانے کا راستہ تلاشنے لگا۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ کبھی کوٸ پہاڑی نہیں چڑھے۔۔۔؟ أبرش نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے بہت مزے سے پوچھا۔

بہتر ہوگا۔ اب تم اپنے راستے جاٶ اور میں اپنے۔۔۔!ابتسام نے دانت پیستے کہا۔ اور اوپر کی جانب جانے کے لیے پہاڑی پے قدم جمانے شروع کیے۔

لیکن پھر سے لڑھکتا ہوا نیچے آگیا۔

ابرش وہیں کھڑی مزے سے دیکھتی رہی۔ ایک بار پھر کوشش کی۔ لیکن بے سود۔

اور لاسٹ ٹاٸم تو اچھا خاصا اوپر پہنچ کے وہ نیچے واپس آیا تھا اور گرا تھا۔ بے اختیار ہی ابرش کا قہقہ چھوٹ گیا۔

تو اس نے غصے سے ابرش کو گھورا۔

مجھے سمجھ نہیں آرہا ۔۔ کیا تمہارادماغ کام کرتا ہے؟۔؟جو بلا وجہ ہنسے جا رہی ہو۔۔؟ ابتسام نے سارا غصہ اس پے اتار دیا۔

نہیں۔۔۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا۔۔ جب اوپر جانے کا سیدھا راستہ ہے۔۔تو آپ اس راستے سے کیوں جا رہے ہیں۔۔؟؟ ہنسی پے قابو کرتے ابرش نے کہا۔

کیا۔۔۔کیا مطلب۔۔۔؟أابتسام کو اچھنبا ہوا۔

وہ دیکھیں۔۔۔!ابرش نے ایک راستے کی طرف اشارہ کیا۔ البتہ وہ تھا تو چھوٹا۔ اور خاردار لیکن۔۔ وہ واقع اوپر جانے کا راستہ تھا۔ ابتسام کو حیرت ہوٸ اسے یہ پہلے کیو ں نہ نظر آیا۔

ابرش کو نظر انداز کرتا وہ اسطرف بڑھا۔ کہ ابرش ایک دم سے سامنے آگٸ۔ دونوں کی ٹکر ہوتے ہوتے بچی۔

راستہ میں نے بتایا ہے اس لیے میں آگے چلوں گی۔ حق جتاتے کہا۔

ابتسام نے گہرا سانس خارج کرتے اسے آگے چلنے کا اشارہ کیا۔ شام کے ساٸے گہرے ہونے لگے تھے۔ اور وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔ اس لیے اس پاگل لڑکی سے مزید بحث کرنا فضول سمجھا۔

ایک بڑی سی جھاڑی کی ٹہنی نکالتے وہ اس ٹہنی سے راستہ صاف کرتی آگے بڑھ رہی تھی۔

ویسے۔۔۔ آپ کا گڈ۔نیم کیا ہے۔۔۔؟ خاموشی سے اکتا کے ابرش نے بنا پیچھے مڑے پوچھا۔

ابتسام جو اپنی چوٹ پے ہاتھ ملتا درد کا احساس کم کر رہا تھا اس کے سوال پے چونکا۔

تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ شک کی نگاہ سے اسے دیکھا۔

ایسے ہی ٹاٸم پاس۔۔ اب اتنا لمبا راستہ ہے۔۔ بات کیے بنا بندہ کیسے رہ سکتا ہے۔۔؟أوپر سے مخاطب کرنے کے لیے ایک نام تو پتہ ہونا چاہیے ناں۔۔!کافی لمبی تمہید باندھی۔

نجانے کیوں ۔۔ ابرش کو اسے چھیڑ کے مزہ آرہا تھا اور اپنی عادت کے برعکس وہ اس سے بہت آرام سے بات کر رہی تھی۔

خیر نہ بھی بتانا چاہیں تو آپ کی مرضی۔ پیچھے مڑ کے کہتے وہ واپس آگے دیکھتی بڑھتی جا رہی تھی۔

ابتسام۔۔ ! ابھی وہ اتنا ہی بولا تھا۔ کہ اسے ایک دم چپ لگ گٸ۔

اچھا نام ہے۔۔ میرا نام ابرش ہے۔۔ !

ڈونٹ موو۔۔۔۔! ابتسام نے اسے روکا۔ تو وہ جھٹکے سے رک گٸ۔

پیچھے پلٹنے لگی۔

آٸ سڈ ڈونٹ موو۔۔۔! ابتسام دبا دبا چلایا۔

کیی۔۔کیا۔۔ہوا۔۔۔؟؟ ابرش کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔

Scorpio… on your back….

ابتسام نے دھیرے سے کہا۔

تو ابرش کا سانس رک گیا۔ وہ لرزنے لگی۔

اسے بچھوٶں سے بہت ڈر لگتا تھا۔ اور اس وقت بچھو اسکی کمر پے تھا۔ یہ سوچ کے ہی اسکی آدھی جان نکل گٸ تھی۔

بچچچچھھھھھووو۔۔۔۔۔۔؟؟ ہکلاتے ہوٸےد ہرایا۔

شیییییی۔ ابتسام نے اسے چپ رہنے کا کہا۔

آگے بڑھ کے ابرش کے ہاتھ سے ہی ٹہنی لیتا وہ بچھو کو اس کے اوپر سے ہٹانے والا تھا۔ ابرش کے اتنی ٹھنڈ میں بھی پسینے چھوٹ رہے تھے۔

دل تھا کہ بس تھماہوا تھا۔ دھڑکن ساکن تھی۔

اور وہ ایک لمحہ جب ابتسام نے بچھو کو زور سے ٹہنی سے دور پھینکا۔ وہ گرتے ہی اٹھتا واپس پلٹا۔

آ۔۔۔۔۔ آہ۔۔کالابچھو۔۔۔۔۔! ابرش فوراً ابتسام کے پیچھے چھپی ۔ ابتسام نے بچھو کے قریب آتے ہی اپنے شوز کو اس کے اوپر رکھا۔ اور وہ وہیں دار فانی سے کوچ کر گیا۔

ابرش۔۔۔۔ ابرش۔۔۔۔! ابتسام نے پکارا۔ وہ ابھی بھی اسے پیچھے سے دبوچے آنکھیں موندھے کھڑی تھی۔

شاید ۔۔ میں نے غلط نام پکارا۔۔

اوہ۔۔ہیلو۔۔۔۔سنو۔۔۔۔!ابتسام نے مڑتے قدرے اونچی آواز میں کہا تو ابرش نے آنکھیں کھو ل دیں۔

مر گیا ہے وہ۔۔۔۔! ابتسام نے اسکا دھیان مرے ہوٸے بچھو کی طرف موڑا۔

چھی۔۔۔۔۔ گندا۔۔۔۔! رخ پیچھے موڑتی پھر سے ابتسام کی بازو کو جکڑے اسکے کمر کے ساتھ چپکی۔

ابتسام نے بنا کسی لحاظ کے اس سے اپنی بازو جھٹکے سے چھڑاٸ۔ اور سخت گھوری سے نوازا۔ جس پے وہ ہوش و حواس میں واپس لوٹی۔ اور شرمندہ سی ہوتی آگے بڑھنے لگی۔

اب کی بار دونوں نے خاموشی سے بقیہ راستہ طے کیا۔

اور کافی مشکل سے وہ واپس اوپر کی طرف بڑھے۔

یہ تو ۔۔ بہت اونچا ہے۔۔۔۔؟؟ ابرش نےلمبے سانس لیتے اونچی سی پہاڑی کو دیکھتے کہا۔ ابتسام نے آگے بڑھتے دیکھا۔ اور ہاتھ اس پہاڑی پر جماتا اوپر کی جانب بڑھنے لگا۔ ابرش اسے اوپر جاتا دیکھتی رہ گٸ۔

اتنی اونچی بھی نہیں۔۔۔! ابتسام نے نیچے جھکتے ابرش سے کہا۔

ابرش نے تھوک نگلا۔ اور ہاتھ پہاڑی کی اسی جگہ رکھا جہاں ابتسام نے رکھا تھا۔

لیکن وہ پھسل گٸ۔ اور نیچے گری۔ اسکی بازو پے خراشیں آٸیں۔ ابتسام نے نفی میں سر ہلایا۔

اور نیچے کی طرف جھکتا اپنا ہاتھ ابرش کی جانب بڑھایا۔ ابرش نے ایک ناراض نظر اس پے ڈالی۔ اور دوبارہ سے کھڑی ہوٸ۔ اور اوپر کی طرف جمپ لگا کے ابتسام کا ہاتھ تھاما۔

ہاتھ تھامتے ہی ابتسام نے اسے ایک ہی جست میں اوپرکی طرف کھینچ لیا۔ زمین پے لیٹے ابتسام نے گہرا سانس خارج کیا۔ آج کا دن وہ ساری زندگی یاد رکھنے والا تھا۔

ابرش کا سر اس کے سینے پے تھا۔ وہ بھی گہرےسانس لیتی شکرکا کلمہ پڑھتی پیچھے ہوٸ۔ اور اٹھ بیٹھی۔

مجھے لگا۔۔۔ آپ مجھے چھوڑ کے بھاگ جاٸیں گے۔

ابرش نے دل میں آٸ بات صاف الفاظ میں ابتسام سے کہہ دی۔

ابتسام نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اندھیرا کافی پھیل چکا تھا۔ ورنہ اسکے تاثرات دیکھ ابرش اپنے الفاظ ضرور واپس لیتی۔

ابتسام نے کلاٸ میں پہنی گھڑی میں لگا ٹریکر آن کیا۔ سگنل پہنچتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

یہ ایک ایمرجنسی ٹریکر تھا۔ جس کے سگلنز سیدھا اسکے خاص آدمیوں تک پہنچتے تھے۔ ابتسام نے اب تک بہت کم اسکا استعمال کیا تھا۔

وہ جانتا تھا کہ جیسے ہی یہ سگنل پہنچے گا۔ اس کے آدمی اسے ڈھونڈ لیں گے۔

میرا۔۔۔ بیگ۔۔۔۔۔؟؟ ابتسام کے جواب نہ دینے پر اسے اپنے بیگ کی یاد آٸ۔

کہاں۔۔ گرا تھا۔۔۔؟ٹکر ۔۔۔ یہاں لگی تھی۔۔۔ تو ۔۔بیگ۔۔۔ بھی یہیں۔۔ ہونا چاہیے۔۔۔۔!ہمکلامی میں کہتی وہ آگے بڑھی بنا یہ دیکھے کہ وہ پھر سے کھاٸ میں گرنے لگی تھی۔

اسٹاپ اٹ۔۔۔۔!ابتسام نے بازو سے پکڑ کے اسے اپنی طرف کھینچا۔ وہ جھٹکے سے اسکے سینے سے جا لگی۔

آر یو بلاٸنڈ۔۔۔؟؟ ابتسام نے غصہ ضبط کرتے اسے ڈانٹا۔

اس طرف کھاٸ ہے۔۔۔۔! مرنے کا بہت شوق ہے۔۔ تو براٸے مہربانی کہیں اور جا کے مرو۔۔۔۔

ابرش کی سوالیہ نظروں کے جواب میں ابتسام نے اچھا خاصا اسے سنا دیا۔

منہ بناتی وہ پیچھے ہٹی۔ کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہوگۓ۔

ہم۔۔۔۔۔یہاں سے کیسے نکلیں گے۔۔۔؟؟ ابرش کو بابا کی فکر ہوٸ۔

ابتسام نے دوبارہ ٹریکر دیکھا۔ سگنل تو جا چکا تھا۔ تو پھر اتنی دیر کیوں لگ رہی تھی۔۔۔؟؟؟

اس وقت وہ دونوں ہی سنسنان سڑک پے بیٹھے مدد کا انتظار کر رہے تھے۔

اندھیرے میں وہ سمجھ نہیں پارہا تھا۔ کہ واپسی کا راستہ کونسا ہے۔۔۔؟ اور وہ سگنل بھی بھیج چکا تھا۔ اس لیے وہاں سے ہٹنا بے وقوفی تھی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

ابی جان! کیا ہوا۔۔؟ اتنی رات گۓ یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔؟

أارتسام ڈیوٹی سے واپس آتا ابی جان کو لاٶنج میں بیٹھا دیکھ ان کے پاس چلا آیا۔۔

بیٹا۔۔۔ آجآنے میں کافی دیر کردی۔۔۔؟ ابی جان نے آنکھیں کھولتے ارتسام۔کودیکھا۔

وہ بس۔۔۔۔ ایک کیس آگیاتھا۔ تو رکنا پڑا۔ آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔؟ارتسام۔کو وہ چپ سی لگیں۔

ہاں۔ بیٹا۔۔ وہ بتسام۔بھی ابھی گھر نہیں آۓ۔۔۔؟ پتہ نہیں کہاں رہ گۓ ہیں۔؟ کبھی اتنی دیر کی نہیں۔ وہ پریشان ہوتی بولیں۔

ہو سکتا ہے۔۔ کوٸ ضروری کام آگیا ہو۔۔۔!میں پتہ کرتا ہوں۔۔ آپ اندر چلیں۔ ارتسام ابی جان کو اٹھاتا سہارا دیتا اندر کی جانب لے گیا۔

آپ ریسٹ کریں میں دیکھتا ہوں۔ اور پریشان نہیں ہونا۔۔ انکے ماتھ پے بوسہ دیتا وہ باہر نکلا۔ اور ابتسام۔کو کال۔کی۔ اسکی نمبر بند جا رہا تھا۔ کال کرتا وہ واپس ڈراٸنگ روم۔میں آیا۔ لیکن کال پک نہ کی گٸ۔

مجبوراً اسکے آفس کال کی۔ وہاں بھی کسی نے کال۔پک نہ کی۔ ارتسام بھی پرشان ہو اٹھا۔

کہاں جاسکتے ہیں بھاٸ۔۔؟؟ یوں اچانک سے۔۔؟اور نمبر بھی آف ہے۔۔۔؟؟ یہی سوچتے وہ باہرنکلا ۔

گاڑی نکالتا وہ ساتھ میں ابتسام کو کال۔بھی کر رہا تھا۔ اب اسکا رخ ابتسام کے آفس کی جانب تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

اتنی رات ہوگٸ ہے۔۔۔؟ابرش بیٹا۔۔ کہاں رہ گٸ ہو۔۔؟؟ دروازہ میں ایستادہ مجیب صاحب بار بار گھڑی دیکھتے اور ابرش کو کال کرتے۔ جس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔

اللہ خیر کرے۔۔ میری بچی کی۔۔ اللہ اسے اپنی حفظ و امان میں رکھنا آمین۔

وہ بہت بڑے دل والے تھے۔ کبھی ابرش کے لیے پریشان نہ ہوٸے تھے۔ وہ بہت سمجھدار اور ہمت والی لڑکی تھی۔

اور مجیب شمس اس پے اندھا اعتبار کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے اس وقت وہ گھر آجاتی تھی۔ اگر نہیں آٸ تھی تو وہ ضرور کسی مشکل میں ہوگی۔۔ یا کسی کی مشکل حل کر رہی ہوگی۔۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

مجھے لگتا ہے۔۔۔ ہمیں ناں۔۔ اسطرف جانا چاہیے۔۔۔! کچھ دیر بعد ابرش کو وہاں بیٹھنا بے کار لگا۔تو وہ بول پڑی۔

آپ کا کیا خیال ہے۔۔؟اسکی طرف آتی وہ اس سے پوچھ بیٹھی۔

تمہیں جہاں جانا ہے جاٶ۔۔۔ ! ابتسام نے احسان کرنے والے انداز میں اسے کہا۔ تو ابرش نے پھر سے منہ بنایا۔۔

کھڑوس۔۔۔!دھیرے سے کہتی وہ سڑک کے ایک طرف سے آگے بڑھی۔

پیچھے مڑ کے دیکھا تو۔ ابتسام مطمیٸن انداز میں کھڑا تھا اب بھی۔

اففففففف۔۔۔۔۔ کیا کروں میں۔۔۔؟ مجھے تو لگتا ہے۔۔ اس بندے کا یہیں رات گزارنے کا پلان ہے۔۔۔ ؟؟ ابرش خود ہی سوالوں کے جواب خود کو دے رہی تھی۔

لیکن مجھے یہاں سے جانا ہوگا ۔۔۔ کل میری مہندی ہے۔۔ اور میں یہاں پھسی ہوں۔۔ بابا کتنے پریشان ہوں گے۔۔ اللہ جی کوٸ مدد ہی بھیج دو۔۔۔؟؟

آسمان کی طرف نظریں اٹھا کے دیکھتی وہ چاند کی روشنی میں کوٸ الگ ہی دنیا کی لگی۔ بے اختیار ہی جو ابتسام کی نظریں اس پے اٹھیں تو پلک جھپکنا ہی بھول گٸیں۔

وہ وارفتگی۔۔۔

بے اختیاری۔۔۔

وہ سمجھ نہ پایا۔ اسی لمحے ایک باٸیک والا ابرش کے پاس سے گزرا۔ اور زن سے واپس پلٹا۔

اٸے بیوٹی فل۔۔۔؟؟ کہاں جانا ہے۔۔۔؟؟ میں چھوڑ دوں؟ ہیلمٹ ساٸیڈپے کرتا بہت ہی ادا سے بولا۔

دور کھڑے ابتسام کو وہ ابھی دیکھ نہیں پایا تھا۔

اوہ گاڈ۔۔۔! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔۔ !ہاں بھاٸ پلیز ہماری مدد کر دو۔۔۔ ابرش جھٹ سے بولی۔ جب کہ وہ بھاٸ کہنے پے لب بھینچے اس اپسرا کو دیکھنے لگا۔

اوہ ہیلو۔۔۔ بھاٸ نہیں ہوں میں تمہارا۔۔ سمجھی۔

بعد میں سمجھا لینا۔۔ ابھی مدد تو کرو۔۔ ہماری یہاں سے نکلنے میں ۔۔؟ ابرش نے بھی دوبدو جواب دیا۔

ہماری۔۔۔مطلب۔۔؟ وہ حیران ہوا۔

وہ۔۔۔ وہ جو دور کھڑے ہیں۔۔ وہ بھی۔۔میرے ساتھ ہیں۔ ابرش نے ابتسام کی طرف اشارہ کیا۔ تو اس نے مڑکے دیکھا۔ ایک لمحے کو اسے چپ ہی لگ گٸ۔ابتسام کی خونخوار نظریں وہ دور سے ہی بھانپ گیا تھا۔

ہیلمٹ پہنتا وہ جانے کے لیے مڑا۔

اوہ۔۔۔ہیلو۔۔۔ کہاں۔۔۔ ؟مدد۔۔۔؟؟ اوہ۔۔ہیلو۔۔۔ ایک فون کال۔۔؟ اوٸے۔۔۔۔؟ وہ باٸیک کو زن سے بھگا لے گیا۔ بنا ابرش کی کوٸ بات سنے۔ جبکہ ابرش کو ابتسام پے سخت غصہ آیا۔ اور اسی غصہ میں اسکی جانب بڑھی۔

سب آپ کی وجہ سے ہوا۔۔۔! اسکے سینے پے شہادت کی انگلی رکھتی وہ اسے ٹھٹھکنے پے مجبور کر گٸ۔

اتنی سخت گھوری سے اسے نوازا وہ ۔۔۔ بنا مدد کے ہی بھاگ گیا۔۔۔؟؟ ابرش کو اس میں بھی ابتسام کا ہی قصور نظر آیا۔

وہ مدد کے لیے نہیں آیا تھا۔ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا۔

اچھا۔۔۔۔ تو کس لیے آیا تھا۔۔۔؟ بازو باندھتے طنزیہ پوچھا۔

اتنی بے وقوف لگتی تو نہیں جتنی بننے کی کوشش کر رہی ہو۔ ابتسام نے اسے دیکھتے طنزاً کہا ۔

ابرش سٹپٹا گٸ۔

ہم۔۔۔ اس سے ہیلپ بھی تو لے سکتے تھے ناں۔۔۔؟؟ ابرش اپنی بات پے قاٸم رہی۔

اور میں نے کہا وہ مدد کے لیے نہیں آیا تھا۔۔ اب کی بار سرد لہجہ اور غصہ کی آمیزش بھی تھی۔

نہ۔۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے۔۔۔؟ کوٸ اسپیشل مدد آۓ گی ہمیں یہاں سے لینے۔۔۔؟ جبکہ کوٸ جانتا بھی نہیں کہ ہم کہاں ہیں۔۔؟۔ابرش بھی غصہ ضبط کرتے بولی۔

ابھی وہ کوٸ جواب دیتا۔ تین گاڑیاں یکے بعد دیگرے وہاں پہنچیں ۔ اور ابتسام کے پاس رکتے ہی اس میں سے ایک بلیک پیٹٹ کوٹ میں ملبوس گن سمیت ایک شخص باہر نکلا ۔ اور ابتسام کے لیے ڈور اوپن کیا۔

تمہارا تو پتہ نہیں البتہ مجھے لینے آگٸے ہیں۔ پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ مغرورانہ چال چلتا گاڑی کی جانب بڑھا۔ ابرش ایک دم ہوش میں آٸ۔

آپ مجھے یوں اکیلا چھوڑ کے نہیں جا سکتے۔۔۔! اسکے آگے راستہ روکے وہ کھڑی ہوگٸ۔

ہٹ جاٶ لڑکی۔ ورنہ۔۔؟

بلیک۔۔۔ مین۔۔۔! یہ لڑکی ساتھ جاۓ گی۔ ابتسام نے اسکی بات کاٹتے کہا۔ اور ایک سرسری سی نظر ابرش پے ڈالتا گاڑ ی میں بیٹھا اس کے بیٹھتے ہی ابرش بھی ساتھ ہی بیٹھی۔

اس وقت اس نے خاموش رہنا زیادہ مناسب سمجھا تھا۔ وہ بہت امیر تھا۔ یہ اسکی پہنچ سے ہی وہ اندازہ لگا چکی تھی۔

گاڑی میں بیٹھتے ہی اسے ایک اور موباٸل مل چکا تھا۔ جس پے وہ گھر والوں کو خیریت کی اطلاع دے چکا تھا۔

میڈم؟ یور ایڈرس۔۔؟؟ ڈراٸیور کے ساتھ بیٹھے گارڈ نے اس سے پوچھا۔ ابرش نے ایک نظر ابتسام کو دیکھا اور اپنے گھر کا ایڈریس سمجھایا۔

مجھے۔۔۔ ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔۔ اور۔۔ شادی پے بھی دعوت دے دیتی ہوں۔۔ کیا پتہ انہیں اچھا لگے۔۔۔؟

ابرش سوچتے ہوۓ کہنے کے لیے جیسے ہی منہ کھولا۔ ابتسام کی تیز نظروں نے اسے چپ کرا دیا۔

گھر آچکا تھا۔ یہ ایک اچھا علاقہ تھا۔ اور اچھے چھوٹے بڑے ہر طرز کے فلیٹ یہاں موجود تھے۔

تھینک یو۔۔! ناچاہتے ہوۓ بھی ابرش نے شکریہ ادا کر ہی دیا۔

یہ لاسٹ وارننگ ہے۔۔۔ اگلی بار میری گاڑی کے سامنے آٸ تو آٸ سویر۔۔۔ گاڑی نہیں روکوں گا۔۔ سیدھا کچلتا ہوا۔۔آگے نکل جاٶں گا۔۔۔ اچھے خاصے نپے تلے انداز میں کہتا وہ ابرش کو چپ کرا گیا۔

میں اپنا تھینک یو واپس لیتی ہوں۔۔ ایک چھوٹی سی گھوری سے نوازتی وہ گاڑی سے نیچے اترگٸ۔

اس کے اترتے ہی گاڑی زن سے آگے بڑھ گٸ۔

کھڑوس۔۔۔اکڑو۔۔۔۔! بد تمیز۔۔۔۔! ابرش منہ ہی منہ میں اسے مزید القابات سے نوازتی گھر کی دہلیز کے اندر داخل۔ہوٸ جہاں مجیب صاحب بے چینی سے اسکا انتظار کررہے تھے۔مجیب صاحب دوڑے ہوٸے اسکے پاس آٸے

بیٹا۔۔۔؟؟ کہاں۔۔ تھی۔۔؟اتنی دیر لگا دی۔۔ فون بھی بند تھا۔۔؟؟ ابرش کو دیکھتے انکی سانس میں سانس آٸ تھی۔

بابا۔۔۔ کچھ خاص نہیں بس ایک چھوٹا سا ایکسیڈینٹ۔۔۔۔!!

ایکسیڈینٹ۔؟؟ کیا۔۔۔؟ کیسے۔۔؟ کہیں چوٹ۔۔؟ یہ تمہارے سر پے۔۔۔؟انہوں نے اسکا چہرہ دیکھا۔ جہاں سے خون رسا ہوا تھا۔

بابا میں ٹھیک ہوں۔۔۔! پریشان نہ ہوں۔

ابرش کے مسکرا کے کہنے پے بھی مجیب صاحب کی تسلی نہ ہوٸ۔

ہلدی والا دودھ دے کے اسے میڈیسن دیں۔ اور خود اسکی مرہم پٹی کی۔ جبکہ وہ آج کے دن کو سوچتی گہری نیند کی وادیوں میں کھو گٸ۔

مجیب صاحب ابرش کے لیے آج پھر سے پریشان ہوگٸے تھے۔۔ وقت نے ان سے سب کچھ چھین لیا تھا۔

اب صرف ابرش ہی ان کے جینے کا واحد سہارا تھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ابھی وہ آدھے راستےہی پہنچا تھا۔ کہ ان ناٶن نمبر سے آتی کال دیکھ جھٹ سے فون اٹھایا۔ دوسری طرف ابتسا م کی آواز سن ارتسام نے سکون کا گہرا سانس خارج کیا۔ اور گاڑی واپس پیرزادہ مینشن کی روڈ پے ڈالدی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *