Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 32)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

آٸ سی یو میں اس وقت ایک موت کا سا سناٹا تھا۔ ان آخری لمحات میں جب ان کی بیٹی کوان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ ان کا بھاٸ ان کے ساتھ تھا۔

ڈاکٹرز نے ان کے بچنے کی امید کھو دی تھی ۔

وہ سرواٸیو نہیں کر پاۓ تھے۔

حبیب صاحب نے انکا ہاتھ تھاما۔ اور اپنی آنکھوں کے ساتھ لگایا۔ آنسو بہہ نکلے۔

مجیب صاحب مسکرا دیے۔

وہ خوش تھے۔ کہ انکا بھاٸ انہیں مل ہی گیا تھا۔

لیکن اس لمحے جب زندگی نے مہلت نہ دی۔

وہ آکسیجن ماسک میں گہرے گہرے سانس لینے لگے۔ ڈاکٹرز نے انہیں کافی بچانے کی کوشش کی۔ لیکن۔۔۔ ان کا وقت پورا ہوچکا تھا۔

ابرش کو حبیب صاحب نے بہت کالز کیں۔ لیکن اس نے فعن نہ اٹھایا۔

سوری۔۔۔ ہم انہیں نہیں بچا پاۓ۔

ڈاکٹر نے باہر نکل کے حبیب صاحب کے کندھے پے ہاتھ رکھا۔ تو وہ دیوار کا سہارا لے کے رہ گۓ۔ ان کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گۓ۔ اب کس منہ سے ابرش کو کہتے کہ تم۔۔ یتیم ہوگٸ ہو۔۔۔۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

جیسے ہی شاہان کو ہوش آیا۔اس نے یہی ظاہر کیا کہ اسے کچھ یاد نہیں۔ لیکن اسے سب یاد تھا۔ اب اسے یہاں سے نکلنا تھا۔ کیسے بھی کرکے۔

آٸ سویٸر۔۔۔ ابرش ۔۔ایک بار یہاں سے نکلوں تو تمہارا وہ حال کروں گا۔ کہ تم۔کسی کومنہ دکھانے کے لاٸق نہیں رہو گی۔

دل ہی دل وہ پلاننگ کرتا رہا۔ اپنے انجام سے بے خبر۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابرش کو ہوش آیا۔ لیکن وہ مکمل چپ تھی۔ ابی جان اسکے پاس ہی تھیں۔ ارحم بہت رویا تھا۔ اس کا ل نہیں مان رہا تھا۔ کہ اسکا بھاٸ یوں اسے چھوڑ کے جاسکتا ہے۔

اتنے میں ارتسام کو ہاسپٹل سے کال آٸ۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

کہتے ہوۓ ارتسام نے ارحام کی طرف دیکھا۔

کیا۔۔۔کیا ہوا۔۔۔بھاٸ۔۔؟؟ ارحام کا دل پھر سے دھڑکا۔

بھابھی کے۔۔۔ ابو کی ڈیتھ ہوگٸ ہے۔ دکھی دل سے کہا۔

اوہ۔۔۔۔۔۔إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

اچانک۔۔۔۔؟ لیکن کیسے۔۔۔؟؟ أرحام کو سمجھ نہ آیا۔

کل ہی تو بھابھی رپورٹس لے کے آٸیں تھیں۔۔۔

ہاں۔۔۔ لیکن رات کو انکا آپریشن ہوا۔ انکی کنڈیشن اچانک خراب ہوگٸ تھی۔

اب بھابھی کو بتانا ہے۔۔۔ایک طرف بھاٸ۔۔۔ ؟ دوسری طرف۔۔۔ یہ۔۔ اب۔۔ بھابھی کیسے سہیں گیں۔۔ یہ غم۔۔؟؟ ارتسام کو ابرش پے ترس سا آیا۔

بھاٸ۔۔۔ ابتسام۔۔بھاٸ زندہ ہیں۔۔ ہاں وہ ہم سے دور ہیں۔۔ مشکل میں بھی ہوں گے۔۔ لیکن۔۔ ہمت نہیں ہاریں گے۔۔ وہ واپس آٸیں گے۔

ارتسام۔۔۔بیٹا۔۔ ! ابرش کو ہوش آگیا ہے۔۔ لیکن۔۔ میں چاہتی ہوں۔۔ اسے ہاسپٹل لے جاٸیں ۔ تا کہ پراپر چیک اپ ہوسکے۔

ابی جان کے اچانک آنے وہ دونوں چونکے۔

ابی جان ۔۔ آپ جانتی تھیں۔۔ کہ ابتسام۔۔۔ بھاٸ۔۔ آرمی۔۔؟؟

ارتسام۔۔۔ یہ بات دوبارہ آپ کے منہ سے نہ نکلے۔ وہ اس وطن کا بیٹا ہے۔ اس وطن پے آنچ آنے سے پہلے اپنی جان قربان کرنے والوں میں سے ہے۔ اور وقت پڑنے پے سامنے والے کی گردن اڑانا بھی جانتا ہے۔

اور یہ ایک راز تھا ہے اور رہے گا۔۔ وطن کے راز قبر کی مٹی میں ساتھ جاتےہیں ارتسام۔۔۔!

ابی جان کا جاندار انداز دونوں کو جہاں ہمت دلا گیا۔ وہیں ان کو ان کے تمام سوالوں کا جواب بھی دے گیا۔

میرے اگر دس پوتے بھی ہوں۔ ناں۔۔ تو میں اپنا ہر پوتا اس وطن پے قربان کر دوں۔۔۔ انکا جہاندیدا انداز ارحام اور ارتسام کے دل کی دنیا ہلا گیا۔

صحیح ہی تو تھیں وہ۔۔ وطن سے عزیز تو کچھ بھی نہ تھا۔

اتحاد ایمان اور یقین۔۔۔ یہ تو ہے وطن پے جانثاری کا جذبہ۔ جو ابتسا م کو فوج میں لے گیا۔ اور ایسے عہدے پے فاٸز کیا۔ جو ہر ایک کو نہیں ملتا۔

کہنے کو وہایک بزنس مین تھا۔ لیکن درحقیقت وہ ایک انٹلجینس کا بندہ تھا۔ جو چھپ کے اپنے وطن کے لیے اپنی جان ہتھیلی پے لیے دشمنوں سے لڑتا تھا۔ اور یہ راز سواۓ ابی جان کے کوٸ نہیں جانتا تھا۔ جو پسِ پردہ اسکی جگہ بزنس سنبھالتی تھیں ۔ اور وہ خود ٹریننگ سے لیکر میجر تک کا سفر طے کر گیا۔

ہاں۔۔ ابی جان کی خواہش پے وہ آرمی میں گیا تھا۔ ان کے سپورٹ کے بنا وہ کچھ نہ کرسکتا تھا۔

اسے آرمیمیں بھیجنےکی وجہ بھی ان کے دشمن تھے۔ جو ان کے بچوںکے قاتل تھے۔ انکو موت کےگاھٹ اتارنے کی زمہ دای ابتسام کو ہی سونپی تھی ابی جان نے۔

جو ساری حقیقت جاننے کے بعد دشمنو ںکو مارنے اور حب الوطنی کے جذبے سے مزید سرشار ہوگیا ۔

ارحا اور ارتسام نہیں جانتے تھے۔ یہ راز۔ لیکن آج وہ جان گۓ تھے۔ اور وہ اداس تھے۔ پرشان تھے۔ جبکہ

انہیں تو اپنے بھاٸ پے رشک ہوناچاہیےتھا۔ جیسے ابیجان کو تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔

اورسر جھکا لیا۔ ابی جان جانے کے لیےپٹیں کہ۔۔

ابی جان۔۔۔!بھابھی کے۔۔۔فادر کی ڈیتھ ہوگٸ ہے۔ ارتسام نے انہیں بتایا تو وہ ان کا دل ایک دم ابرش کے لیے دکھا۔ ۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

کیسے؟ کب۔۔؟؟ انہو ںنے وہیں صوفےپے بیٹھے پوچھا۔

ارستامنے انہیں ساری ڈیٹیل دی۔ تو وہ سر ہلاتی اٹھیں۔

میں دیکھتی ہوں۔۔ ابرش کو۔۔ آپ ابرش کے بابا کی میت کو ہاسپٹل سے گھر لے جانے کا بندوبست کریں ۔

ابی جان کہتیں اندر کیجانب بڑھ گٸیں۔

بھاٸ۔۔۔؟؟ أابتسام۔۔۔ بھاٸ۔۔؟؟ ارحام کی سوٸ ابھی بھی وہیں اٹکی تھی۔

ڈونٹ وری۔۔۔ وہ واپس آٸیں گے۔ مجھےپورا یقین ہے اپنے رب پے۔۔۔

ارتسام نے بڑا بھاٸ ہونے کا فرض ادا کیا۔ اسے یہ سب مشکل لگ رہا تھا.

لیکن ابتسام کے آنے تک اسے سب سنبھالنا تھا۔

سب کو ایک یقین تھا۔ کہ ابتسام زندہ ہے۔

اور یہ یقین کتنا سچا تھا۔ یہ تو وقت نے ہی طے کرنا تھا۔

*******************************

ابرش۔۔۔ بیٹا۔۔؟؟ وہ جو کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ ایک ٹک خاموشی سے۔

ابی جان کی آواز پے پلٹی۔

آنکھوں میں ویرانی لیے اسے دیکھا تو ابی جان کا دل کٹ سا گیا۔

ابھی کچھ دیر پہلے وہ اسے سمجھا کے گٸ تھیں۔ انہیں یقین تھا ان کا شیر واپس آۓ گا۔ اور دشمن کو موت کے گھاٹ اتارے بغیر وہ کبھی مر ہی نہیں سکتا۔

اور ابرش۔۔۔ ایک لفظ تک نہ بولی۔ اپنے دکھ کا اظہار تک نہ کیا۔ اور یہی بات ابی جان کو اندر ہی اندر کاٹ رہی تھی۔ وہ بالکل خاموش ہوگٸ تھی۔

ابرش۔۔۔ آپ کے بابا۔۔۔؟؟ کہتے ہوۓ لہجہ ڈگمگایا۔

ایک پل میں ابرش کا دل لرزا۔اور وہ سانس روکے ابی جان کے پاس آٸ ۔ آنکھیں برسنے کو بے تاب تھیں۔ گھر آتے ہی وہ تو ابتسام کی شہید ہونے کی خبر پے باپ کو فراموش کرگٸ تھی۔ اور اب اچانک۔۔؟

ابی جا۔۔۔؟؟ کوٸ بری خبر۔۔۔ مت۔۔سناٸیے گا۔۔۔ ! وہ لڑکی بمشکل ہمت کرتے بولی۔

بیٹا۔۔۔ سنبھالو خود کو۔۔ وقت بہت کڑی آزماٸش لے کے آیا ہے آپ کے لیے۔ آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔ صبر سے کام لینا ہے۔۔ جتنی بڑی آزماٸش ہوگی۔۔۔ اجر بگی اتنا بڑا ملے گا۔

ابی جان نے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔ اور وہ ابی جان کے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔

ایک ہی ساتھ دو لوگ اسے چھوڑ کے چلے گۓ۔ اس سے صبر کرنا مشکل ہو رہا تھا۔

دل تھا کہ بس پھٹنے کو تھا۔ لیکن پھر بھی بے وفا دھڑک رہا تھا۔

سانس تھی کہ بے وفا چلے جا رہی تھی۔ اور وہ جینا ہی تو نہیں چاہ رہی تھی۔

کس لیے جیتی۔۔۔؟ اسکا حوصلہ اسکا باپ اسے چھوڑ گیا۔۔

اسکی دنیا اسکا شوہر اسے چھوڑ گیا۔ ۔۔

اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔؟؟؟

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

مجیب صاحب کی میت کوان کے گھر لے آۓ تھے۔ ابرش انکو دیکھ کے بہت رٶٸ تھی۔ لیکن دل میں ابتسام ویسے ہی موجود تھا۔

درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا۔ میت اٹھاٸ تو وہ حوصلہ مند لڑکی ایک بار پھر بے ہوش ہوگٸ۔ابی جان ارتسام کے ساتھ اسے ہاسپٹل لے گٸیں۔ ارتسام جنازے میں بھی شرکت نہ کرسکا۔

عزرا پھوپھو اور علیشا بھی وہیں موجود تھیں۔ صد شکر تھا۔ کہ ابتسام کے بارے میں جب حمزہ اور فہد خبر دینے آۓ تو وہ دونو ں ماں بیٹی گھر نہ تھے۔ اور ابتسام کے بارے میں انہیں کچھ نہ پتہ چل سکا تھا۔

ابرش کے گھر وہ بھی میت پے موجود تھیں۔ ابرش کا بے ہوش ہونا وہ دیکھ چکی تھیں۔

ابیجان کے ابرش کو ہاسپٹل لے جانے کے بعد دونوں سر جوڑ کے بیٹھ گٸ تھیں۔

لیڈی ڈاکٹر نے ابرش کا چیک اپ کیا۔ اور اس نے خوشخبری سناٸ تو ابی جان وہیں ایک چیٸر پے بیٹھے آنکھیں موندگٸیں۔ انکی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگۓ۔

جہاں اتنے دکھ مل رہے تھے۔ وہیں یہ خبر ان کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا تھی۔

انکا دل آسودہ ہوا۔

اب انہیں ابرش کا زیادہ خیال رکھنا تھا۔ تا کہ جب بھی ابتسام واپس آۓ۔ وہ اسے اسکی امانت سونپ سکیں۔

اور وہ جانتی تھیں۔ انکا شیر واپس آۓ گا۔ کیونکہ ان کا اور اس ملک کا دشمن جنید خان ابھی زندہ تھا۔ ہاں۔۔۔ بہت پرانی کہانی تھی۔ ماضی کاوہ داغ جو جنید خان نے انہیں دیا تھا۔ اسکا حساب ان کے شیر ان کے پوتے نے کرنا تھا۔

اس باب کا اب خاتمہ ہونا بہت ضروری تھا۔ جو آنے والے وقت میں انکی نسلوں تک پہنچ جاتا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

جنید خان بن پانی کے مگر مچھ کی طرح تڑپ رہا تھا

کون اسکا دشمن نکل آیا وہ نہیں جانتا تھا۔

اداجان۔۔۔۔؟؟

ببر خان کی آمد نے ان کو انکے خیالات سے چونکایا۔

ببر۔۔۔۔۔! وہ بے چین ہو کے پوتے کے گلے لگے۔ ہاں وہ انکا سوتیلا پوتا تھا۔ انکی پہلی بیوی کی اولاد میں تھا۔ لیکن انکو ویسے ہی عزیز تھا۔ جیسے بلال خان۔

ادا جان۔۔۔! کیسے ہوگیا یہ سب۔۔؟ ببر کی بی آنکھیں نم ہوگٸیں۔ وہ ملک سے باہر تھا۔ اسے جیسےہی بلال کی ڈیتھ کا پتہ چلا ۔ پہلی فلاٸٹ سے وہ آگیا۔

نہیں جانتا کیسے ہوا یہ سب۔۔۔؟؟ کس نے کیا میرے بچے کے ساتھ۔۔۔؟؟ ادا جان ٹوٹنے لگے تھے۔ ببر نے انہیں سہارا سے کے بٹھایا۔ اور پانی پلایا۔

ادا جان۔۔۔! آپ فکر نہ کریں۔ میں آگیاہوں ناں۔۔ ڈھونڈلوں گا۔ اس انسان کو۔۔۔جس نے میرے بھاٸ کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اسی طرح اسے بھی مرنا ہوگا۔

مار ڈالوں۔۔ گا۔۔۔ یہ وعدہ ہے میرا۔

ببر کی آنکھیں لال انگاہ ہورہی تھیں۔ وہ دکھ میں تھا۔ بلال اسے دل وجان سے عزیز تھا۔ اسکا سایہ اس سے جدا ہوگیا تھا۔ وہ تکلیف میں تھا۔ اور جس قدر وہ غصیلا تھا نجانے کس کس پے وہ قہر برسانے والا تھا۔؟؟

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

سر۔۔ وہ بھاگ گیا۔۔۔! ایک ڈاکٹر باہربھاگتے آیااور سیکیورٹی گارڈ سے بولا۔

بھاگ گیا۔۔۔؟؟ لیکن کیسے۔۔؟ یہاں سے بھاگنے کا کوٸ راستہ نہیں۔۔۔ تو وہ یہاں سے نہیں بھاگ سکتا۔۔۔

احمر نے اندر کی جنب کا رخ کیا۔ سارا ایریا چھان مارا۔ لیکن وہ کہیں نہیں ملا۔

وہ ایسے نہیں بھاگ سکتا۔۔۔ یقیناً اسکی کسی نے مدد کی ہے۔۔۔! احمر کو بے انتہا غصہ آیا تھا ۔

بھاگ کے کہاں بجاۓ گا۔۔۔؟؟ بچ نہیں پاۓ گا۔

اسکے گھر کے گرد پہرہ سخت کروادو۔ اپنی ماں سے منلے تو جاۓ گا ہی۔۔۔

احمر نے مسکاتےہوۓ کہا۔

سر ابتسا م کو اطلاع کرنی چاہیے۔

دوسرے گارڈ نے کہا۔

نہیں ابھی نہیں۔۔ ابھی اسے ڈھونڈو۔ سر کو ابی نہیں بتا سکتے۔ مملوم نہیں ان کے غصے کا۔۔؟؟ اور جس نے بھی غداری کی ہے۔۔ وہ زیافہ دیر بچ نہیں پاۓ گا۔۔۔

احمر نے سرد و سپاٹ انداز میں کہا۔ تو وہاں موجود دونوں ڈاکٹرز کا رنگ فق ہوا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ایک ہفتہ سے زیادہ ہو چلا تھا۔ زندگی جیسے رک سی گٸ تھی۔

ابی جان ابرش کو لاکھ منع کرنےکے باوجود واپس پیر زادہ منشن لے آٸیں تھیں۔ اور ہر طرح سے اسکا خیال رکھتیں تھیں۔ عروش بھی ساۓ کی طرح اسکے ساتھ رہتی تھی لیکن وہ نہ خوشی کا اظہار کرتی تھی نہ غم کا۔ بس ایک چپ تھی اسکی جو ٹوٹ نہ رہی تھی۔ اپنے امید سے ہونے کی خبر بھی اسے اس غم سے باہر نہ لاپاٸ تھی۔

کٸ ایک راتیں اس نے جاگ کے گزاریں۔ایک طرف باپ یاد آتا تو دوسری طرف وہ کمرہ اسے ابتسام کے بنا کاٹ کھانے کو دوڑتا۔

وہ بستر پے نہ جاتی۔ اسے ابتسام کی بانہوں میں سونے کی عادت تھی۔ اب جب کہ وہ نہ تھا۔ تو بس آنسو تھے۔

تکیہ میں چھپاۓ وہ روتی چلی گٸ۔

کہاں ہو ابتسام۔۔۔؟ کیوں۔۔؟ کیوں کر دی بے وفاٸ۔۔۔؟

دیکھو تو آ کے۔۔۔ کیا حال ہے۔۔ میرا۔۔۔؟؟ بابا بھی چلے گۓ۔۔۔ آپ بھی۔۔ نہیں ہو۔۔۔؟؟ میں۔۔ اکیلی رہ گٸ۔۔۔ پلیز۔۔ جہاں بی ہو لوٹ آٶ۔۔۔نہیں جی سکتی۔۔۔ ایسے میں۔۔

اپنی ہچکیوں کو تکیہ میں ہی دبا دیا۔ ۔۔

تیرے جانے کا غم

اور نہ آنے کا غم ۔۔

پھر زمانے کا غم۔۔۔

کیا کریں۔۔؟؟

راہ دیکھے نظر۔۔۔

رات بھر جاگ کر۔۔۔

پر تیری تو خبر نہ ملے۔۔۔

بہت آٸیں گٸیں یادیں۔۔۔

مگر اس بار ۔۔۔

تمہی آنا۔۔۔

تم آٶ گے۔۔مجھے ملنے۔۔۔

خبر یہ بھی تمہی لانا۔۔۔

میں جانتی۔۔۔ آپ زندہ ہیں۔۔

اگر ایسانہ ہوتا تو میری سانسیں کیسے چل رہی ہوتیں۔۔۔؟؟ ان سانسوں کا چلنا۔۔۔ اس بات کی گواہی ہے۔۔ کہ آپ زندہ ہیں۔۔

وہ خو ہی اپنے سوولوں کے جواب خوف و دے رہی تھی۔

بس ۔۔ اس وقت کاناتظار ہے جب آپ لوٹ کے آٶ گے۔۔۔!

بس۔۔ دیر نہ کر دینا۔۔۔لوٹ آنا۔۔۔! آنکھیں بند کرتی وہ ابتسام کی شبیہہ سجاۓ آنسو ضب کرتی بے بس ہوٸ تھی۔

میری نیندوں کو چھو کرتم

جو سپنے یوں سجاتے ہو

ابرش کو لگا ابتسام اس کے پاس چلا آیا ہے۔ اسکے آنسو پونچھنے۔ اسے وہ دل سے محسوس کر رہی تھی۔

ان آنکھوں کے کناروں سے

یہ آنسو کیوں ہٹاتے ہو؟

وفا سے پوچھ لو جا کے۔۔۔

بنا وعدے۔۔۔ تجھے چاہا۔

بہت آٸیں گٸیں یادیں۔

مگر ا س بار تمہی آنا۔۔۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

کوٸ تو راہ وہ ہو گی۔۔۔

جو میرے گھر کو جاتی ہے

کرو ناں صداٶں کا پیچھا

سنو کیا کہنا چاہتی ہے۔۔۔

مانگو گے پھرتم مجھے۔۔

خبر یہ بھی تمہی لانا۔۔۔

بہت ۔۔۔آٸیں۔۔۔؟؟؟

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

اس ایک پل وہ ہزاروں موت مر کے پھر سے زندہ کھڑا تھا۔ ہاں وہ زندہ تھا۔۔۔

اسے ابھی اپنا بدلہ لینا تھا۔ اپنے ملک کے غداروں کو موت کے گھاٹ اتارنا تھا۔ ہاں وہ لوٹنےوالا تھا۔ ایک نٸے جذبے کے ساتھ۔ ملک دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے۔ جنید خان کا نام صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے۔ اپنے ماں باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لیے۔

وہ دھیرے سے چلتا واپس اسی جھونپڑی میں آگیا۔ جہاں وہ ایک ہفتے سے بھی اوپر ہو گیا تھا۔ رہ رہا تھا۔

اس نے اپنیجان بچا تو لی تھی۔ پانی میں گہراٸ میں جاکے سانس روک کے۔ لیکن اسکی ٹانگ میں لگی گولی نے کافی تکلیف دی اسے۔

اس جھونپڑی میں رہنے والے بیٹی اوت باپ نے ابتسام کی بہت مدد کی۔ وہ شخص رمضان اسنے گولی نکالی۔اور دیسی جڑی بوٹیوں کے زریعے ابتسام زخم بھرتا رہا۔ جس میں اسے ٹھیک ہونے میں وقت تو لگا ۔ لیکن وہ مکمل ٹھیک ہو گیا تھا۔

وہ واپس نہیں جا سکتا تھا۔ وہ جانتا تھا۔ بنا دشمن کو مارے اسکا واپس جانا اسکی فیملی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

بابو۔۔۔۔! کیا سوچنے لگ جاتے ہو تم۔۔۔؟ رمضان کی بیٹی جو انتہاکی خوبصورت تھی۔ اتنے ہی خوبصورت دل کی مالک بھی تھی۔ اور بے وقوف نے ابتسام کو اپنے دل میں بٹھا دیا تھا۔

ابتسام نے اسے ایک نظر بھی نہ دیکھا۔ اپنی گن کو چیک کرنے لگا۔ جو اس دن سے اب تک وہ سو بار دیکھ چکا تھا۔اب اسےپلاننگ کرنی تھی۔

لگتا ہے۔۔ کوٸ ہے جو ل میں بستی ہے۔۔۔ ورنہ آنکھ اٹھا کے کوٸ مجھے نہ دیکھے۔۔۔۔ ہو نہی سکتا۔۔۔۔

اس لڑکی جسکا نام سوہنی تھا۔ بڑے فخر سے کہا۔

ابتسام کا ہاتھ تھما۔ خیالوں میں برش کا چہرہ لہرایا۔ تو دل اسکی طرف ہمکنے لگا۔ سخت بے چین ہوا۔ اس سے ملنے کو۔ لیکن۔۔۔ اسے دل سے نہیں دماغ سے کام لینا تھا۔

تمہارے ابا کب آٸیں گے۔۔؟؟ ابتسام نے اٹھتے سپاٹ لہجے میں کہا۔

وہ تو صبح کو آٸیں گے۔ بابو۔۔۔ تم کہاں چل دٸے۔؟ ونی اسکے سامنے راستہ روکے کھڑی ہوگٸ۔

ابتسام نے دانت پیسے۔

میں جا رہا ہوں۔۔ خواہش تھی کہ تمہارے بابا سے ملکے جاتا۔ لیکن۔۔۔ جسطرح کے حالات ہیں۔ مجھےنہیں لگتا۔۔ مجھے اب مزید یہاں رکنا چاہیے۔

اچھا خاصا اس کی عزت کا فالودہ کرتا ابتسام ساٸیڈ سے نکلا۔

میں نہیں جانے دوں گی۔۔۔ ایسے تو بالکل نہیں۔

بانہیں پھیلا کے اب کی بار ضد سے روکا۔

اپنی بکواس بند کرو۔ اور ہٹو۔ میرے راستے سے۔

غصے کو قابو کرتا وہ پھر سے دوسری طرف ہوا۔

تم۔۔ بابو۔۔۔ مجھے پسند ہو۔۔۔ میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔

اس کے قریب ہوی سونی نے سرگوشیانہ انداز میں اسکے کالر کو پکڑ کے اپنی طرف جھٹکا دیتے کہا۔

اور اس ایک لمحے ابتسام کا دماغ گھوما۔ اور بنا لحاظ کے زور دار تھپڑ اسکے گال پے اپنی پانچ انگلیوں کی چھاپ چھوڑ گیا۔

وہ منہ پے ہاتھ ہق دق دیکھے گٸ۔

تم جیسی گری ہوٸ لڑکی کو کوٸ پسند کرے۔۔ ہو نہیں سکتا۔۔۔ اور ابتسام علی پیرزادہ۔۔پسند کر لے۔۔۔؟؟ ناممکن ہے یہ۔۔۔ تم جیسی لڑکیاں جو پلیٹ میں سجا کے خود کو پیش کرتی ہوناں۔۔ ان کو سراہنے والے گاہک تو مل جاتےہیں۔ لیکن پلکوں پے بٹھا کے عزت سے بیاہنے لےجانے والا کوٸ نہیں ملتا۔

ابتسام نے کہتےہی جھٹکے سے اسے بازو سے پکڑ کے دور پھینکا۔ وہ لڑکھڑاتی دیوار کا سہارا لیتی کھڑی ہوٸ۔ اور پلٹ کے اسکیپشت کودیکھتے آنکھو ں میں آسو آگۓ۔ وہ جا چکا تھا۔ لیکن سونی کو اسکی اصلیت دکھا کے گیا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

تم دونو ں سے مجھے یہ امید نہ تھی۔

کرنل شیخ زمان بہت فکھی اور غصے میں تھے۔

سر۔۔۔ ہم نے کیا کیا۔۔۔؟؟ فہد نے منہ بنایا۔

جیسا آپ نے کہا۔ ویسا ہی جا کے ان کے گھر بولا۔

فہد کی زبان پے کھجلی ہوٸ۔

جی بالکل۔۔۔ لیکن یہ دو ہفتے سے تم دونو ں جس طرح منہ لٹکا کے بیٹھے ہو۔ اسکا کیا مطلب ہے۔۔؟إ

انہوں نے بھی سخت غصہ میں آتے طیش کے عالم میں کہا۔

سر۔۔۔ ہمارا پاٹنر تھا وہ۔۔۔ جان تھی ہماری۔۔ ایک دوسرے میں اور۔۔۔آپ؟؟

حمزہ نے جان بوجھ کے بات ادھوری چھوڑ دی۔

میجر حمزہ اینڈکیپٹن فہد۔۔ مجھےیہ کیس ایک ہفتے میں حل ہوا چاہیے۔۔۔ سمجھے تم دونوں۔۔

فہد۔۔۔ !ابتسام کا موباٸل غاٸب ہے۔ تم وہ تلاش کرو گے۔

اور حمزہ۔۔۔ تم مجھے جنید خان اور اسکی فیملی کے متعلق پل پل کی رپورٹ کرو گے۔

do u understand both?

یس سر۔۔۔۔! یک زبان بولے۔

اوکے گو ناٶ۔۔۔ !

کرنل صاحب نے انکو سخت لہجے میں کہا۔ تو وہ جو مزید منہ کھولنے والے تھے۔ چپ ہوگۓ۔

لیکن حمزہ بولے بنا نہ رہ سکا۔

سر۔۔۔ یہ کیس ابتسام علی کا ہے۔ اسکے بناکیسے۔۔؟؟ حمزہ کو اس کیس پے بنا ابتسام کے کام کرنا بہت کھٹک رہا تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *