Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 08)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

ناشتہ کی ٹیبل پے سبھی موجود تھے۔ ابی جان نے گھڑی دیکھی۔ اور سب پے ایک نظر ڈالتے ناشتہ مکمل کرتیں پیچھے ہٹیں۔

رضیہ۔۔ میرے کپڑے نکال دو۔ تھوڑی دیر تک نکلنا ہے۔

انکی بات پے وہ تینوں ہی چونکے۔

کہاں جا رہی ہیں۔۔ابی جان؟ ابتسام نے جھٹ سے پوچھا۔

آج۔۔ مجیب صاحب کی بیٹی کی رخصتی ہے۔ وہیں جانا ہے۔۔ آپ تیموں تو بہت بزی ہوگے۔۔ اس لیے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔

مجیب صاحب کی بیٹی کی شادی۔۔۔۔؟؟ ابتسام نے زیر لب دہرایا۔

ایک غصے کی شدید لہردوڑی پورے تن بدن میں۔ ابھی کچھ کہتا کہ ارحام کی آواز کانوں میں پڑی۔

ابی جان۔۔۔ میں جاٶں گا آپ کے ساتھ۔۔ بتاٸیے کتنے بجے جانا ہے۔۔؟؟ بہت پیار سے پوچھا۔

تو وہ مسکرا دیں۔

جبکہ ابتسام وہاں سے اٹھتا باہر نکتا چلا گیا۔ اسکا دل بہت برا ہو رہا تھا۔ اسے کچھ بھی اچھا نہ لگ رہ تھا۔ اپنی اس بے چینی کو وہ خود بھی نہ سمجھ پا رہا تھا۔یہ سب اس کے ساتھ کیا ہو رہا تھا۔

اس نے زور سے اسٹیٸرنگ پے ہاتھ مارا۔ اور گاڑی کو آفس کی جانب موڑا۔ اس کے نکلتے ہی دو سیکیورٹی گاڑیاں آگے پیچھے اس کے ساتھ ہولیں۔ وہ اپنی گاڑی خود ڈراٸیو کرتا تھا۔ اسے ڈراٸیور رکھنا پسند نہ تھا۔ بہت شازو نادر ہی کوٸ موقع آیا جب ڈراٸیور ساتھ ہوتا۔

ماتھے پے ڈھیروں بل ڈالے وہ آفس میں انٹر ہوتا سب کو ہمیشہ کی طرح ٹھٹھکا گیا۔ وہ ایسا ہی تھا۔

جہاں جاتا اپنا سحر قاٸم کر دیتا۔ اور یہ تو اسکا آفس تھا۔ جہاں سبھی اسکی پرسنلٹی سے مرعوب تھے۔

اپنی سیٹ پے بیٹھتا وہ اپنے آج کے شیڈیول میں بزی ہوچکا تھا۔ لیکن دھیان میں بس وہی تھی۔

یہ اس دل کو کیا ہوا ہے۔۔؟؟

وہ اپنی حالت سمجھ نہ پارہا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

لمظ ۔۔! تمہیں یہاں ایسے نہیں آنا چاہیے تھا۔

وہ جو براٸیڈل روم میں بیٹھی اپنے حسن کے جلوے بکھیر رہی تھی۔ لمظ کود یکھ کے خوش تو بہت ہوٸ لیکن ساتھ میں اس کے لیے پریشان بھی۔

کیسی ہیں۔۔؟؟ اور ماشاءاللہ روپ تو بہت آیا ہے۔۔۔! لمظ نے ابرش کی بات کو نظر انداز کرتے پیار سے پاس بیٹھتے کہا۔

یہ میرے سوال کا جواب نہیں لمظ۔۔۔! ابرش نے سنجیدگی سے کہا۔

آپ آج بھی مجھ معصوم پے غصہ کریں گیں۔۔؟؟ لمظ نے معصومیت سے پوچھا۔

چچا جان کو بتا کر آٸ ہو۔۔؟؟ ابرش نے گہرا سانس خارج کرتے پوچھا۔

آپ کو کیا لگتا ہے۔۔؟؟ انہیں بتاتی تو وہ آنے دیتے۔۔۔؟؟ ویسے ہی بڑوں کی لڑاٸ میں چھوٹے تو پس کے ہی رہ جاتے ہیں۔۔۔؟؟ وہ زیرِ لب بڑبڑاٸ۔ لیکن ابرش نے سن لیا۔

چھوڑیں ایسے بھی اتنا اہم موقع میں مس کرنے والی نہ تھی۔۔ پھر چاہے انجام کچھ بھی ہو۔

ابرش کا دوپٹہ پیار سے درست کرتی وہ ابرش کی ٹھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھ کے بولی۔

تو ابرش کے چہرے پے مسکان سج گٸ۔ وہ اس سے تین سال چھوٹی تھی۔ لیکن بہت محبت کرتی تھی۔ اور چچا جان اتنی ہی نفرت۔

چچی جان کو پتہ ہے۔۔۔۔؟؟ کسیامی کے تحت پوچھا۔

مما یہاں نہیں۔۔ وہ۔۔۔ ماموں کے گھر گٸیں ہیں۔ زویا کو لے کے۔۔ کچھ مٸسلے مساٸل ہوگۓ ہیں۔

نظریں جھکاۓ وہ بولتی اابرش کو اپنے دل کے بہت قریب لگی۔

اچھا یہ بتاٸیں دلہا میاں۔۔ کیسے ہیں۔۔؟؟ سنا ہے۔۔ انسپکٹر ہیں ۔۔وہ بھی بہت ۔۔۔ایماندار۔۔۔؟؟ کیا نام ہے انکا۔۔۔ ؟؟ شرارت سے کہتے وہ سوچنے لگی۔

ابرش کا دل دھڑکا۔نام تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ لمظ کو کیا بتاتی۔۔؟؟

ہاں۔۔۔ انسپکٹر شاہ۔۔۔۔

بارات آگٸ۔۔۔ بارات آگٸ۔۔۔۔

ابھی اسکے الفاظ منہ میں تھے کہ شور ہوا سبھی لڑکیاں اٹھ کے مسکراتی بارات کا استقبال کرنے چل دیں۔

ہممم۔ آپ تھوڑا اور ویٹ کریں۔ ہم دلہا جی سے مل کے آتے ہیں۔۔ ! لمظ پیار سے کہتی باہر نکلی۔

اتنے میں ابی جان وہاں داخل ہوٸیں۔ لمظ ان سے ٹکرا گٸ۔

اوہ۔۔سو سوری۔۔۔ میں جلدی میں تھی۔۔۔۔ لمظ شرمندہ ہوٸ۔

کوٸ بات نہیں۔۔۔ ابی جان نے مسکرا کے کہا اور اندر بڑھ گٸیں۔

کتنی سوبر خاتون تھیں۔ کتنی پیاری پرسنلٹی۔۔۔واہ۔۔۔۔

ابی جان کے ساتھ انکی دو ملازماٸیں بھی تھیں۔

لمظ مسکراتے ہوۓ آگے بڑھ رہی تھی۔ کہ ایک بار پھر سے سامنے والے سے ٹکرا گٸ۔

اس کا تو کچھ نہیں گیا۔ البتہ لمظ کا سر گھوم کے رہ گیا۔

اف اللہ جی۔۔۔! آج ٹکراٶ ڈے ہے کیا۔۔۔؟ ماتھےپے بل۔ڈالے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔ تو آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گٸیں۔

تم۔۔۔یہاں۔۔۔؟ تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔ ؟

بمشکل لفظوں کو چباتے وہ بولی۔

یہی میں تم سےبھی پوچھ سکتا ہوں۔ تم یہاں۔۔ مجھے فالو کرتی پہنچی ہونا۔۔۔؟؟ ارحام نے بھی تیوری چڑھاٸ ۔

جبکہ اسکے سراپے کو آنکھوں کے رستے دل میں اتار رہا تھا۔

میری بہن کی شادی ہے۔۔۔ تم پوچھنے والے کون۔۔۔؟ لمظ کے الفاظ منہ میں رہ گۓ۔سامنے ہی نظر اپنے باپ پے پڑی ۔

وہ ان سے چھپ کے یہاں آٸ تھی۔ انہوں نے مجیب شمس کے ساتھ تمام تعلقات ختم کیےہوٸے تھے۔

یہ یہاں۔۔ کیسے آگٸے۔۔۔؟ لمظ نے رخ پھیرا۔ اور سر نیچے کر لیا۔ ارحام اسکے انداز کو سمجھ نہ پایا۔

کیاہوا۔۔۔؟ کوٸ جن دیکھ لیا ہے۔۔؟

منہ بند کرو اپنا۔۔۔۔! لمظ کو اسکی بات پے شدید غصہ آیا۔ جو انجانے میں اسکے بابا کو جن کہہ رہا تھا۔

یقیناً انہیں خبر ملی ہوگی کہ میں یہاں ہوں۔۔ ورنہ یہ۔۔کبھی نہ آتے۔۔۔منہ ہ منہ میں بڑ بڑاتے باپ کو کن اکھیوں سے دیکھا۔

ارحام نے اسکی نظروں کا تعاقب کیا۔

اوہ انکل بھی آٸے ہیں۔۔۔ ایک ملاقات تو بنتی ہے۔۔۔ ارحام مسکراتے حبیب شمس کی جانب بڑھنے لگا۔

نن۔ننہیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ نہیں۔۔۔ ! لمظ نے اسکا بازو پکڑ کے ایک دم سے روکا۔ ارحام۔اسکےہاتھ پے نظر ڈالے حیران ہوکے رکتا مڑ کے اسے دیکھنے لگا۔

لمظ نے فوراً اسکا بازو چھوڑ دیا۔

حبیب صاحب اسی طرف آرہے تھے۔

ایک۔۔۔ایک کام ۔۔کردو۔۔۔ پلیز۔۔۔! لمظ منمناٸ۔

کیاکام؟ ارحام۔نے آٸ برو چڑھاٸ۔

مجھے ناں۔۔ یہاں سے چھپا کے نکالو۔۔۔ بابا کو پتہ نہیں چلنا چاہیے میں یہاں ہوں۔۔۔پلیز۔۔۔۔

لمظ نے کبھی سوچا نہ تھا کہ کبھی دشمن سے بھی مدد لینی پڑ جاۓ گی۔

لیکن ابھی وہ مجبور تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی وجہ سے شادی میں کو ٸ بد مزگی ہو۔

اوہ۔۔۔۔ تو چھپن چھپاٸ۔۔۔۔؟؟ أرحام۔نے مڑ کے حبیب صاحب کو دیکھا۔ جو شاید لمظ کو ہی ڈھونڈ رہے تھے۔

پلیز۔۔۔ ہیلپ می۔۔۔۔ لمظ پھر منمناٸ۔

ہمممم۔۔۔ ہیلپ کر تو دوں۔۔ لیکن مجھے کیا فاٸدہ۔۔۔؟؟ تھوڈی کو چھوتے سوچنے والے انداز میں پوچھا۔

کیا مطلب۔۔۔؟؟؟ لمظ کے ماتھ پے تیوری پڑی۔

مطلب سمجھانے کا وقت نہیں میرے پاس۔۔۔ باٸ۔

ننہیں۔۔۔ پلیز مت جاٶ۔ لمظ نے بے اختیار ہی اسکا ہاتھ تھام لیا۔

ارحام کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوٸ۔

تم جو کہو گے میں مانو گی۔۔۔۔ ابھی پلیز ۔۔ یہاں سے نکال دو۔۔۔! اب کی بار منت سے کہا۔

حبیب صاحب بالکل سامنے نہ ہوتے تو وہ خود ہی نکل جاتی ۔ لیکن یہاں ارحام کے ہٹتے ہی وہ حبیب صاحب کی نظروں میں آجاتی۔ اور پھر جو تماشا ہوتا۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔ آٶ۔۔ میرے ساتھ۔ ارحام۔نے اسکا ہاتھ تھاما اور پیچھے کیجانب لے گیا۔ کسی سے بہت چالاکی سے راستہ پوچھتا وہ اسے شای ہال سے باہر لے آیا تھا۔

باہر آتےہی لمظ نے شکر کا کلمہ پڑھا۔ اب اسے جلد از جلد گھر پہنچنا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

کیسی ہو بیٹا۔۔؟؟ ابی جان آج دوسری بار ابرش سے مل رہی تھیں۔

پہلی بار تب ملیں جب وہ بہت چھوٹی تھی۔ اور مجیب صاحب کے ساتھ ایک ہی دفعہ گھر آنا ہوا تھا۔

اور علی کی وفات کے بعد وہ اسے کبھی نہ لاٸے۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم ۔۔ الحَمْدُ ِلله۔۔۔ آپ۔۔۔؟

ابرش انہیں پہچانتی نہ تھی۔

میں مرحوم علی پیر زادہ کی والدہ ہوں۔۔ ! تعارف کرواتے وہ آبدیدہ ہوگٸیں ۔ ابرش انکی پہچان کروانےپے انہیں پہچان گٸ۔

کیسی ہیں آپ۔۔۔؟؟ ابرش نے آداب میزبانی نبھایا۔

اللہ کا شکر ہے بیٹا۔۔۔ شادی بہت مبارک ہو۔۔۔! ملازماٶں سے تحاٸف لے کے اسکے پاس رکھتے دھیرے سے کہا۔

جزاك اللهُ‎ ! ابرش دھیمے سے مسکراٸی۔

اللہ پاک آپ کے نصیب اچھے کرے۔ آمین۔

دل سے کہتیں وہ اٹھیں تھیں کہ ماریہ بھاگتی ہوٸ اندر آٸ۔ اسکا سانس پھولا ہوا تھا۔اور بہت گھبراٸ ہوٸ تھی۔

ابرش نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

ماریہ نے ایک نظر ابی جان کو دیکھا۔ اور باہر ونے والے تمام حالات سے آگاہ کیا۔

ماریہ مبارک کے والد مسٹر مبارک مجیب صاحب کے بہت قریبی دوست تھے۔ اور ہر لمحہ ساتھ ساتھ رہے۔۔۔سب جو بھی ہوا۔ وہ جانتے تھے۔ کہ کیسے انہوں نے جہیز دیا کیسے گاڑی دی۔

ماریہ کو مبارک صاحب نے منع کیا ہوا تھا کہ وہ یہ ابرش کا نہ بتاٸے۔ لیکن اب جو حالات وہ باہر دیکھ کے آٸ اس نے دوستی کا فرض ادا کرنا زیادہ ضروری سمجھا۔ اورسب باتیں آج ابرش کو بتا دیں۔

کیونکہ باہر جو طوفان آیا تھا۔ اس میں اسے یہی صحیح لگا کہ ابرش کوسب بتا دے۔

ابرش کے لیے یہ سب سننا کسی بہت بڑے دھچکے سے کم نہ تھا۔ باہر اچھا خاصا شور شروع ہو چکا تھا۔ ابی جان بھی پریشان ہوٸیں۔

ابرش اٹھتی دروازے تک آٸ۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

نکاح نامہ فل ہو رہا تھا۔

جی حق مہر کیا لکھوں۔۔؟؟ مولوی صاحب نے پوچھا۔

جی۔۔ دس لاکھ۔۔۔۔؟؟ مجیب صاحب دھیرے سے بولے۔

ایک۔منٹ۔۔۔! دس لاکھ۔۔نہیں۔۔۔ جو اس وقت شرعی حق مہر ہے وہی لکھیں۔

شاہان کا۔اندازِ بے نیازی مجیب صاحب کو بہت کھلا۔

لیکن۔۔۔ حق مہر تو۔۔ دس۔۔لاکھ۔۔ہی۔۔۔؟؟

دیکھیں بزرگو۔! حق مہر شرعی ہی ہو گا۔ پانچ ہزاربنتا ہے ناں۔۔ مولوی صاحب۔۔۔؟؟ آپ ۔۔۔ دس ہزار لکھ لیں۔ اب خوش۔۔؟؟ چلیں نکاح شروع کریں۔

شاہان نے مسکراتے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہا۔

یہ۔۔۔۔تو۔۔ دھوکہ ہے۔۔۔! شمس صاحب کا دل بری طرح ڈوب کر ابھرا۔

بھاٸ صاحب! آپ لڑکی والے ہیں۔ تھوڑا لحاظ رکھیں ہونے والے داماد کا۔ اس لیے جو کہہ رہا ہے وہی کریں۔

شاہان کی ماں نے دھیرے سے کہا ۔ لیکن شمس صحب کو غصہ آگیا۔

ناممکن ۔۔۔ یہ غلط ہے۔۔! میں ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔

شمس صاحب کا لہجہ لڑکھڑایا۔ لیک وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔اپنی بیٹی اپنے پاس رکھیں۔

سخت لہجے میں دھیمی آواز میں غراتا وہ شمس صاحب کو سکتے میں ڈال گیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

یہ بارات اب۔۔۔۔ واپس جاۓ گی۔۔۔۔

شاہان نے اونچی آواز میں کہا۔ تو ہال میں سناٹا چھا گیا۔۔

یہ۔۔۔۔یہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔؟؟ آپ۔۔۔۔بیٹا۔۔۔ جی۔۔۔؟؟

شمس صاحب کے کندھےمزید جھک گۓ۔

یہ تو آپ کو حق مہر لکھوانے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔۔۔۔

کون لکھ کے دیتا ہے اتنا۔۔۔ حق مہر۔۔۔۔؟؟

شاہان نے شاہانہ انداز میں کہا۔

بیٹا۔۔۔۔۔۔!! طے تو یہی ہوا تھا۔۔۔۔

کمزور اور نخیف آواز میں کہا۔

طے کیاہوا تھا وہ مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔!!

لیکن میں حق مہر میں دس لاکھ اور اور اتنا زیادہ گولڈ نہیں دے سکتا۔۔۔۔

اور۔۔۔۔ فیصلہ ہو گیا ہے۔۔۔۔!!

آپ رکھیں اپنی بیٹی اپنےپاس۔۔۔۔!!

ہاتھ جھاڑتا وہ اٹھا۔

چہ مگوٸیاں شروع ہو چکی تھیں۔

شمس صاحب نے ادھار لے کے۔۔ اور گھر گروی رکھاکے۔۔ جہیز کی ہر چیز ۔۔ لڑکے والوں کی ڈیمانڈ کے مطابق پوری کی۔

اور ساتھ میں انہوں نے حق مہر کی خود آفر کی۔ کہ وہ دس لاکھ لکھیں گے۔۔۔

جہیز جا چکا تھا۔۔۔۔ آج نکاح تھا۔۔ اور انہوں نے حق مہر کی رقم لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔

بیٹا۔۔۔۔۔!! میری ۔۔۔ بیٹی۔۔۔۔کی زندگی۔۔۔۔۔؟؟

تو آپ سوچیں ناں۔۔۔۔ بزرگو۔۔۔۔۔!!

شاہان نے ناک سے مکھی اڑاٸی۔

شمس صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔

واقعی بیٹیوں کے ماں باپ کتنے مجبور ہوتےہیں۔

سبھی ترحم بھری نگاہوں دے دیکھ رہے تھے۔

سب کوایک تماشا مل گیا تھا وقت گزاری کا۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔! اگر۔۔۔۔۔آپ کی یہی مرضی۔۔۔۔ہے تو۔۔۔!!

شمس صاحب نے باپ بن کے بیٹی کے مسقبل کا فیصلہ لینا چاہا۔

ایک منٹ۔۔۔۔!! دلہن بنی وہ سامنے تھی۔

آنکھیں اس کی بھی نم تھی۔

لیکن وہ کمزور نہیں تھی۔

سب کی نظریں اس پے اٹھیں۔

دلہے کے مقابل جا کھڑی ہوٸی۔

مجھے۔۔۔۔تم سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔!!

اونچی آواز میں بولتی انگلی اٹھا کے کہتی وہ سب کی بولتی بند کر گٸ۔

ابرش بیٹا۔۔۔۔۔!! کیا۔۔۔۔ کہہ رہی ہو۔۔۔؟؟شمس صاحب نے گھبراتے ہوۓ بیٹی سے کہا۔

ٹھیک کہہ رہی ہوں۔۔۔!!آپ سب نے ناں۔۔۔ مل کے۔۔۔ بیٹیوں کا سودا کرنا شروع کر دیا ہے۔۔۔۔؟؟

بیٹی بھی دو۔۔۔۔اور۔۔۔ جہیز بھی دو۔۔۔۔!!

اور بدلےمیں حق مہر۔۔۔ لو۔۔۔۔!!

یہ کونسا نکاح ہے۔۔۔۔؟؟ کونسی سنت ہے۔۔۔؟؟

ایک مقدس فریضے کا مذاق بنا کے رکھ دیا ہے آپ سب نے۔۔۔۔۔!!

آنسو ناچاہتے ہوۓ بھی گالوں پے بہہ نکلے۔

نہیں۔۔۔ بابا ۔۔۔۔!!

اب اور نہیں۔۔۔۔ !!

ہم غریب ضرور ہیں۔۔۔۔!! لیکن بے غیرت نہیں۔۔۔۔۔

شمس صاحب کو وہ حوصلہ دیتی شاہان کی طرف دیکھتے آگے بڑھی۔

نکلو۔۔۔۔ یہاں سے۔۔۔۔!!

شاہان نے بھی حیرت سے اسے دیکھا۔

اپنی منہوس شکل لے کے ۔۔۔۔ یہاں سے دفعہ ہو جاٶ۔۔۔۔

غصے کی آخری حد کو چھوتی وہ شاہان سمیت سب کو سکتے میں ڈال گٸ۔

😧
😧
😧
😧
😧
😧
😧
😧
😧

کہاں۔۔؟؟ ؟ لمظ جو فون پے کیب منگوا رہی تھی۔ ارحام نے ہاتھ پکڑکر واپس اپنی طرف موڑا۔

اس اچانک افتاد پے وہ ایک دم سے اسکے سینے سے آلگی۔ اور ماتھے پے تیوری چڑھاٸ۔

یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔؟ اسے پیچھے دھکیلتے وہ منہ بنا کے بولی

بدتمیزی۔۔۔؟؟ وعدہ خلاف۔۔۔؟؟ ارحام نے بھی اسے نہ چھوڑا۔

کوٸ وعدہ خلاف نہیں۔۔ مجھے گھر پہنچنا ہے۔۔بابا کے پہنچنے سے پہلے۔۔ پلیز۔۔۔ جانے دو۔۔۔

لمظ فی لحال اس سے کوٸ پنگا لینا افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔ اس لیے مصلحت کا راستہ اپنایا۔

ہمممم۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔ چلو۔۔۔ میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔

ارحام۔نے کہتے ہی اپنی گاڑی کی طرف پیش قدمی کی۔

لیکن تم تو شادی۔۔۔۔ اٹینڈ۔۔۔؟؟؟؟ باقی کے الفاظ منہ میں رہ گۓ۔۔وہ اسے ہاتھ سے پکڑتا کھینچتا ساتھ لے گیا۔

اب بیٹھو گی۔۔۔ یا۔۔ وہ بھی میں بٹھاٶں؟؟ ایک آٸ برو اچکاتے پوچھا۔

لمظ لب بھینچے اسکے ساتھ بیٹھ گٸ۔ اسے بس جلد از جلد گھر پہنچنا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

تم اپنی حد میں رہو۔۔۔۔۔ شاہان غرایا۔

حد۔۔۔؟؟ ابھی تم نے میری حد دیکھی کہاں ہے۔۔؟؟ انسپکٹر شاہان۔۔۔؟؟ ابرش نے اسے اسکی پہچان سے پکارا۔

شاہان کو اسکا انداز بہت چبھا۔

بارات واپس چلی گٸ۔۔ تو ساری زندگی بیٹھی رہو گی باپ کے در پے۔۔ کوٸ نہیں آۓ گا بیہانے۔۔

شاہان نے آٸینہ دکھایا۔

تم جیسے نامرد سے شادی کرنے سے بہتر ہے۔۔ کہ میں باپ کے در پےہی بیٹھی رہوں۔

اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔! شاہان نے آگے بڑھ کے ہاتھ اٹھایا تو اسکی ماں نے اسے روکا۔ ۔ لیکن ابرش ایک لمحے کو نہ ڈگمگاٸ۔

اٹھاٶ۔۔۔ہاتھ۔۔۔ ! مار کے دکھاٶ۔۔۔ ؟؟ ابرش نے آگے بڑھ کے اسے للکارا۔ وہ آنکھیں پھیلاۓ اسکی ہمت دیکھتا رہ گیا۔

میں آخری بار کہہ رہی ہوں۔ عزت سے یہاں سے خود دفعہ ہو جاٶ۔۔ ورنہ دھکے دے کے نکالوں گی۔

انگلی اٹھاتی وہ وارن کر رہی تھی۔ آنکھوں میں سخت غصہ تھا۔ لیکن ایک بار بھی اسکا قدم ڈگمگایا نہ تھا۔

شمس صاحب دل پے پتھر رکھے کھڑے سارا تماشا دیکھ رہے تھے۔

شاہان نے سر سے سہرا اتارا۔ اور زمین پے زور سے پٹخا۔ کہ پاس کھڑی ماں بھی سہم کے منہ پے ہاتھ رکھ لیا۔ وہاں موجود سبھی لوگوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔

بہت پچھتاٶ گی۔۔۔ ! گردن داٸیں باٸیں ہلاتا وہ غراتے بولا۔

یہ تو وقت بتاۓ گا۔۔۔ ! لیکن تم۔۔۔ یہ گاڑی یہیں چھوڑ کے جانا۔ سمجھے۔

اسے باہر کی جانب بڑھتا دیکھ وہ اونچی آواز میں بولی۔

تو اسکے جاتے قدم رکھے۔ وہ پلٹا۔

یہ گاڑی میری ہے۔۔۔ سمجھی تم۔ اس بار وہ سخت غصے سے بولا

حق مہر دس لاکھ تو تم۔لکھ کے دے نہیں سکے۔ تمہاری اتنی اوقات ہے۔۔ کہ تم بارہ لاکھ کی گاڑی یہاں سے لے جا سکو۔۔؟؟

زہر میں بجھا تیر شاہان کے تو دل و دماغ کے پار ہوا۔

دیکھتا ہوں میں کیسے کوٸ روکتا ہے مجھے۔۔؟؟ شاہان نے بھی چیلنج کیا۔

روکنے کے لیے میں ایک اکیلی ہی کافی ہوں۔۔۔

بیٹا۔۔۔! لے جانے دو۔۔۔ مجیب صاحب ٹوٹے لہجے میں بولے انہیں شاہان کے ارادے ٹھیک نہ لگ رہے تھے۔ اور وہ ابرش کے لیے کوٸ پریشانی نہیں کھڑی کرنا چاہتے تھے۔

نہیں بابا۔۔۔! ہرگز نہیں۔۔ آج۔۔ اگر میں اپنے حق کے لیے نہیں بولوں گی۔۔ تو کل کو ایڈووکیٹ ابرش مجیب شمس لوگوں کو کیا انصاف دلاۓ گی۔۔۔؟؟ ان کے حق کے لیے کیا بولے گی۔۔۔؟؟

ابرش نے دکھی لیکن مضبوط انداز میں کہا۔

مجیب صاحب اپنی مضبوط بیٹی کو دیکھتے رہ گۓ۔

اور تم۔۔۔ انسپکٹر شاہان۔۔۔ ! ویسے انسپکٹر کہنا۔۔۔ اس پیشے کی توہین ہے۔۔۔

آگے بڑھتی اس کے پاس آٸ۔ ہال میں چہ مگوٸیاں شروع ہوگٸ تھیں۔ لیکن ابرش کو پرواہ کہاں تھی۔۔؟

تم جیسے ضمیر فروش لوگوں کو تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔۔

ابرش ہاتھ اٹھا کے حقارت سے بولی۔

اپنی زبان کولگام دو۔۔۔اور اتنا ہی بولو جتنا کل کو سہہ سکو۔۔

تم ناں۔۔ یہ کھوکھلی دھمکیاں کسی اور کو دینا۔۔۔ ابرش مجیب شمس تمہاری ان دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں۔

اسی کے لہجے میں جواب دیا۔

میں گاڑی لے کے جا رہاہوں۔۔ روک سکتی ہو تو روک کے دیکھاٶ۔

تم گاڑی کو ہاتھ لگا کے کھاٶ۔۔۔ پھر دیکھو میں کیا کرتی ہوں۔

اسی کے انداز میں جواب دیتی وہ وہاں موجود سبھی لوگوں کے چہروں پے ایک مسکراہٹ بکھیر گٸ تھی

ہاں آج پہلی بار کوٸ لڑکی بولی تھی اپنے حق کے لیے۔۔

ہاں بیٹیوں کو ایسے ہی تو مضبوط ہونا چاہیے۔

اچھا۔۔۔ کیا کرلو گی تم۔۔۔؟؟ ماتھے پے تیوری چڑھاٸ۔

میں۔۔۔ ؟؟؟آہستہزایہ انداز میں ہنسی۔

یا تو تمہاری حالت اتنی خراب کروں گی کہ تم گاڑی لے کے نہیں جا سکو گے۔ یا گاڑی کی حالت اتنی بگاڑ دوں گی۔ کہ تم اسے خود ہی چھوڑ جاٶ گے۔

اس کے الفاظ پے شاہان تو سکتے میں ہی آگیا۔

ابرش بیٹا۔۔ ڈرنا نہیں۔۔ تم قدم بڑھاٶ۔۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔۔ مجید صاحب جارحانہ انداز میں آگے بڑھے تو مبارک اور جمال صاحب بھی پیش پیش ہوٸے۔ وہیں دوسری طرف ابی جان ابرش کا یہ روپ دیکھ کے زیر لب مسکرا رہیں تھیں۔

بہت پچھتاٶ گی۔۔۔۔! وہ آنکھیں اس پے گاڑے پھر سے غرایا۔

اگر اپنی اور اپنی فیملی کی عزت پیاری ہے تو۔۔۔ ابھی اسی وقت یہاں سے نکل جاٶ۔ ورنہ وہ ویڈیو اب بھی میرے پاس موجود ہے۔۔

دھیرے سے لیکن سخت لہجے سے کہتی وہ شاہان کو چونکا گٸ۔

پاس پڑی میز کو ٹھوکر مارتا وہ باہر نکلتا چلا گیا۔

ساتھ ہی سارے باراتی بھی ایک ایک کر کے نکلنے لگے۔

پچھے رہ گیا صرف اک باپ ۔۔ ایک بیٹی کا باپ۔۔۔

دل سے ہارا وہ باپ۔

آج اپنی بیٹی کے نصیبوں سے بھی ہار گیا۔

ایک ٹھیسں سی اٹھی تھی دل میں۔

اور داٸیں ہاتھ دل والی ساٸیڈ پے گیا تھا۔

اور یہی وہ لمحہ تھا۔ جب وہ لڑکھڑاۓ۔ اور گرتے چلے گۓ ۔

ابرش انہیں گرتا دیکھ بے اختیار ان کی جانب بھاگی۔ سبھی ان کے پاس پہنچے۔

بابا۔۔۔۔۔؟؟؟ ابرش انہیں سنبھالتی بس یہی بول پاٸ۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *