Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Episode 24)

Haq Mehar by Muntaha Chohan

کیا ہواابرش۔۔۔۔؟

ابتسام ابرش کی بے چین ہوتی حالت کو دیکھتا اس کے قریب ہوتا پوچھنے لگا۔

وہ۔۔۔ وہ۔۔ مجھے۔۔۔ واش روم۔۔۔ جانا ہے۔۔۔۔!

نظریں جھکاتی اٹھاتی آج وہ ابتسام کو کانچ کی گڑیا ہی لگ رہی تھی۔

اوکے۔۔ ایک منٹ۔۔!

اتنے میں وہ ایک سیکیورٹی لیڈی کو بلواتا ان کے ساتھ ابرش کو واش روم بھیج چکا تھا۔

واش روم میں بند وہ اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔

اتنے بھاری ڈریس کے ساتھ یہاں سے کیسے نکلوں۔۔؟

اور یہ۔۔ جو باہر کھڑی پہرہ دے رہی ہے۔۔ اسکا کیا کروں۔۔۔

سوچ ابرش سوچ۔ کیسے بھی کر کے یہاں سے نکلے گی تو بابا کو بچا پاۓ گی ناں۔۔۔

ابرش کی آنکھیں بھیگنے لگی۔

ہاتھ میں تھاما کلچ کھولا۔ موباٸیل نکالا۔

اور کال ملاٸ۔

مقابل کی آواز پے ابرش نے ایک لمحے کو لب بھینچے۔

میرے بابا کو کچھ بھی ہوا۔۔ میں تمہیں جان سے مار دوں گی۔۔۔۔

ابرش آہیستہ لیکن سخت آواز میں بولی کہ مقابل کا قہقہہ گونجا۔

تمہارے پاس صرف تیس منٹ بچے ہیں۔۔ بچا سکتی ہو تو بچا لو۔۔۔۔

کہتے ساتھ ہی موباٸل بند ہو گیا۔

ابرش نے کلچ وہیں پھینکا۔ ہیلز اتارے تمام زیور وہ پہلے ہی اتار چکی تھی۔ اپنے حلیے سے مطمین ہوتی وہ اب واش روم سے سر نکال کے باہر دیکھنے لگی۔ وہ لیڈی باہر ہی کھڑی تھی۔

بات سنیں۔۔۔۔۔!

ابرش نے بہت شیریں آواز میں بولا۔

جی۔۔۔ وہ مسکراٸ۔

وہ آپ۔۔ ابتسام جی کو بلوا دیں۔۔ پلیز۔۔۔۔!

بہت میٹھے انداز میں کہا۔

سب ۔۔۔ ٹھیک ہے ناں۔۔۔؟؟

وہ گھبراٸ۔

ہاں۔۔ بس آپ انہیں بلا لاٸیں۔۔ ابھی ۔۔ جاٸیں۔۔ میرا منہ کیا دیکھ رہی ہیں۔۔

اب کی بار ابرش نے ڈپٹ کر کہا۔

جی اچھا۔۔۔۔ وہ کچھ سوچتی ہوٸ واپس اندر گٸ۔ اسکے جاتے ہی ابرش فوراً باہر نکلی۔

اور اندازے سے چھپتی چھپاتی ہال سے باہر نکل گٸ۔ ہر طرف گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔ گارڈرز سے چھپتی بامشکل وہ وہاں سے نکلی۔ اور ایک طرف چلنے لگی۔

روشنیوں کا شہر کراچی۔۔ اس وقت بھی گہما گہمی عروج پے تھی۔

اتنے میں ایک آٹو پاس سے گزرا۔ تو اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔ اور ایک ایڈرس بتاتی اس میں بیٹھ گٸ۔

بادلوں کی گرج سناٸ دی تو ابرش کا دل دہل گیا۔

یا اللہ۔۔ خیر۔۔۔ میری مدد کر۔۔۔ ممجھے ہمت دے کہ میں اپنے بابا کو بچا سکوں۔۔ اس ظالم انسان سے۔۔۔ اور اسے۔۔۔ ایسی سزا دوں کہ۔۔ اسکی آنے والی پشتیں بھی یاد کریں۔

ابرش دل ہی دل میں پلان بناتی اچانک ابتسام کا سوچنے لگی۔

جب مجھے وہاں نہ پایا ہوگا۔۔ تو کیا کریں گے وہ۔۔۔؟؟

کیا سوچیں گے میرے بارے میں۔۔۔؟؟

ابتسام کا سوچ کے اسکا دل ڈوبا تھا۔

لیکن انہوں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔ بابا کنڈنیپ ہوگۓ۔۔ اورمجھے بتایا تک نہ۔۔۔۔! پھر سے بدگمانی چھانے لگی۔ تو آنسو پونچھے۔

بی بی جی۔۔۔ یہی جگہ ہے۔۔۔؟؟

ایک پرانی سی بلڈنگ کے پاس آٹو روکتے ڈراٸیور نے پوچھا۔

جی جی یہی ہے۔۔۔ وہ آٹو سے اتری۔

بی بی جی۔۔۔ یہاں تو کوٸ بھی نہیں۔۔ اور سنسنان جگہ ہے۔۔ آپ غلط جگہ تو نہیں آگیں۔۔؟؟

آٹو والے کو کچھ صحیح نہ لگا۔

نہیں بھاٸ صاحب۔۔ یہی جگہ ہے۔۔ یہ۔۔۔ آپ انگوٹھی لے لیں۔۔ میرے پاس ابھی پیسے نہیں ہیں۔۔

اپنےہاتھ سے سونے کی ایک رنگ نکال کے آٹو والے کو دی ۔

یہ تو بہت مہنگی ہے۔۔بی بی جی۔۔۔

وہ تھوڑا گھبرایا۔

ہمممم۔۔۔ رکھ لو۔۔اور میرے لیے دعا بھی کر دینا۔۔۔

کہتے وہ وہاں سے آگے بڑھ گٸ۔

آٹو والا شش وپنج میں پڑ گیا۔

لیکن گھگور گھٹاٸیں اور کالے بادل۔۔ دیکھتے اس نے واپس کی راہ لی۔ جہاں اسکے بوی بچے اسکی راہ دیکھ رہے تھے۔

ابرش چلتے ہوٸے کافی آگے نکل آٸ تھی۔ لیکن اسے کوٸ بھی دکھاٸ نہ دے رہا تھا۔ رات کی پھیلتی تاریکی میں وہ وہاں کھڑی کوٸ آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی۔

لیکن اس وقت اسے صرف اپنے بابا کو بچانا تھا۔

ویلکم ویلکم۔۔۔ ویلکم۔۔۔ جانِ من۔۔۔ آج تو گھاٸل کر دینے والے روپ میں ہو۔۔ اف۔۔۔ یہ تمہارا ہوشربا وجود۔۔۔

اچانک سے وہ سامنے آتا پل بھرمیں ابرش کو چونکا گیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

سر۔۔سر۔۔۔ وہ لیڈی ابتسام کو کافی دیر سے ڈھونڈتی اس تک پہنچی۔ آواز پے وہ پلٹا۔

سر۔۔ میم آپ کو بلا رہی ہیں۔۔ فوراً سے کہا۔

مجھے۔۔۔؟ ابتسام حیران ہوا۔۔۔

کہاں ہیں وہ۔۔؟؟

سر۔۔۔وہیں۔۔ واش روم میں۔۔۔ کہتے ہوٸے سر جھکا تھا۔

ابتسام فوراً آگے بڑھا تو وہ بھی پیچھے ہولی۔

براٸیڈل روم کے لیڈیز واش روم کی طرف جاتے وہ تھوڑا ہچکچایا۔

لیکن۔۔ پھر بھی اندر چلا آیا۔

ابرش۔۔۔ ابرش۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔؟؟ ابتسام نے پکارا۔

لیکن جواب ندارد۔۔۔

ابتسام نے اس لیڈی کی طرف دیکھا۔ اس نے لاعلمی سے سر ہلایا۔

ابرش۔۔۔ ! کہتے ہی دروازے پے ہاتھ رکھا اور وہ کھلتا چلا گیا۔

ابتسام کے دل کو دھڑکا لگا۔ کچھ غلط ہونے کا احساس جاگا۔

دروازہ کھل چکا تھا۔ ابتسام اور وہ لیڈی اندر داخل ہوۓ۔

ابرش۔۔۔ ابرش۔۔ ابتسام نے پکارا۔ لیکن۔۔وہ وہاں ہوتی تو جواب یتی ناں۔۔۔

سر۔۔۔۔! یہ دیکھیں۔۔

ابرش کی جیولری ، ہیلز۔۔ اور کلچ کو دیکھتے وہ لیڈی بولی۔

ایک لمحے کو ابتسام کو لگا اسا سب کچھ چھن گیا ہو۔۔ ایک ٹھیس سی اٹھی دل میں۔۔

کہاں۔۔ جا سکتی ہے۔۔۔؟؟

خود سے سوال کرتا وہ باہر نکلا۔

کہ ان ناٶن نمبر سے کال آتی دیکھ وہیں ٹھٹھکا۔

او فون کان سے لگایا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

کچھ لمحے کے لیے تو وہ سہمی لیکن اگلے ہی پل اپنا اعتماد واپس بحال کر چکی تھی۔

بکواس بند کرو اپنی۔۔۔۔ اور بتاٶ۔۔ میرے بابا کہاں ہیں۔۔؟؟

ابرش نے غصے سے کہا۔

اف۔۔۔ تیری یہ دھمکیاں۔۔ میری جان۔۔۔ کہیں۔۔ میں ڈر ہی نہ جاٶں۔۔۔ ابرش کا مذاق بنایا۔

ابرش نے اسے سخت گھوری سے نوازا۔

ویسے وقت بھی کیا ستم ظریفی ہے۔۔۔

ٹھیک دو ماہ۔۔صرف دو ماہ۔۔بعد ہی تمہیں واپس دلہن کے روپ میں لاکھڑا کیا۔۔ وہی رنگ روپ وہی لب وہ لہجہ۔۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔۔۔ویسی ہی اکڑ اور انا ہے تم میں۔۔

کہتے ہوۓ نفرت سے آگے بڑھا. کہ ابرش کو اس کےارادے نیک نہ لگے۔

فوراً ایک قدم پیچھے لیا۔

آہا۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔؟ ڈر لگ رہا ہے۔۔۔؟؟ آٸ برو اٹھاتے پوچھا۔

میرے بابا کہاں ہیں۔۔؟ شاہان۔۔۔؟؟

وہ غصے سے پھنکاری۔

بابا۔۔۔۔ ! چلو۔۔۔ بتا دیتا ہوں۔۔ تمہارے بابا۔۔۔ میرے پاس نہیں۔۔۔ وہ تمہارے نام نہاد شوہر کے پاس ہیں۔۔ تمہیں یہاں۔۔ میں نے دھوکے سے بلوایا ہے۔۔۔

شاہان دانت پیستا آگے بڑھا۔

اوراسی ایک لمحے ابرش کو اپنی غلطی کا احساس جاگا۔ وہ غصے میں بہت بڑی غلطی کر گٸ تھی۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ اب بولتی بند ہو گٸ۔۔؟؟

تیز ہوا کےجھونکوں نے ابرش کے وجود کو بری طرح ہلاکے رکھ دیا۔

کیوں کیا تم نے یہ سب۔۔۔؟

سب جانتی ہو۔۔پھر بھی پوچھ رہی ہو۔۔۔؟؟

یاد نہیں۔۔ کس طرح بھری محفل میں سب کے سامنے میری عزت کا جنازہ نکالا تم نے۔۔۔ کسی کو منہ دکھانے لاٸق نہ چھوڑا۔

تب ہی۔۔۔تب ہی میں نے خود سے وعدہ کیا۔ کہ نہیں بخشوں گا تمہیں۔۔

روندھ دوں گا تمہیں ۔۔۔ تمہاری عزت سمیت۔۔۔۔ نہیں بچا پاٶ گی خود کو۔۔۔ کہتے ساتھ وہ آگے بڑھا۔

خبردار ۔۔۔ خبردار۔۔ جو ایک قدم بی آگے بڑھایا۔۔۔منہ توڑ دوں گی۔۔میں تمہارا۔۔۔

ایک کھوکھلی دھمکی۔۔۔وہ بہت زور سے قہقہے لگاتا ہنسنے لگا۔

سنسان جگہ۔۔۔ اکیلا پن۔۔۔ ویرانی۔۔۔ اور یہ اندھیرا۔۔ تم۔۔ میرے آسرے ہو۔۔۔ صرف۔۔میرے۔۔ چلو۔۔ بخش دوں گا۔۔ سب۔۔ !

جھکو گھٹنوں کے بل۔۔معافی مانگو۔۔۔ چھوڑ دوں گا۔۔۔ ورنہ آج تمہیں۔۔ مجھ سے کوٸ نہیں بچا پاۓ گا۔۔۔ تم خود بھی نہیں۔۔

میرا اللہ۔۔۔ میرا اللہ مجھے بچاۓ گا۔۔ میرے اللہ پے مجھے پورا بھروسہ ہے۔۔ وہ مجھے تہی داماں نہیں کرے گا۔۔ اور تم۔۔۔ جیسا بھیڑیا۔۔ منہ کی کھاۓ گا۔۔۔

ابرش نے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔ اور پلٹی۔ واں سے بھاگی کہ شاہان نے اسکا بھاری کامدار آنچل

کھینچا۔ جو اسکے بالوں میں پن اپ ہوا تھا۔ بالوں سے الگ ہوا تو ابرش کے چینخ نکل گٸ۔ آنچل ہوا کی دوش پے اڑتا نجانے کہاں غاٸب ہوگیا۔

شاہان آج۔۔ مکمل اسانی بھیڑیا بنا اسکی طرف پیش قدمی کرتا جا رہا تھا۔

شاہان۔۔ دور رہو مجھ سے۔۔ ورنہ۔۔۔جان لے لوں گی میں تمہاری۔۔۔

ابرش نے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔

جانتی ہو۔۔ مجھ سے بچ نہیں پاٶ گی۔۔ پھر بھی دھمکی۔۔۔۔؟

شاہان نے اسے پکڑکے زمین پے دھکا دیا۔ بازو کے سہارے گرتی وہ تڑپ کے رہ گٸ۔ اسکی چوڑیوں کیاور زمین پے گرنے سے رگڑ اسکی کلاٸیوں کو چھیل گٸیں۔

بارش کی بوچھاڑ ایک دم سے اسکے چہرے پے پڑی تو بے اختیار اللہ یاد کیا۔

شاہان اسکے اوپر آتا کندھے سے اسکے شرٹ کے بازو کھینچ کے پھاڑ چکا تھا۔ اسکے ناخن ابرش کی بازو پے خراشیں ڈال گۓ تھے۔ وہ تڑپ کے اللہ کو پکاری۔

شاہان نے اسکے دونوں ہاتھوں کو زمین کے ساتھ پن کیا۔

اور اپنا چہرہ اسکے چہرے کے پاس لایا۔

اب بولو۔۔۔ ! کتنی بے بس ہوناں۔۔ آج۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔ صرف ایک صنف نازک۔۔۔ ۔ شاہان ملک کے آگے ۔۔ بے بس۔۔۔!

وہ ہنستا ہوا پاگل ہی لگا۔ ابرش نے اسے ہنستے دیکھا تو فاٸدہ اٹھایا۔ ٹانگ اٹھا کے اسے زور سے کک کی۔ کہ وہ ایک لمحے کو لڑکھڑایا۔ لیکن اپنی جگہ سے نہ ہلا۔

ہاتھوں کی گرفت کمزور پڑی تو ابرش کا ہاتھ پاس ہی پڑی ایک راڈ سے ٹکرایا۔ اور ایک پل کی دیری کیے بنا وہ راڈ اٹھاتی گھما کے شاہان کے سر پے دے مارٕی۔

وہ جو اس پے جھکنے والا تھا۔ اپنے سر پے لگنے والی راڈ سے چکرا کے رہ گیا۔ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑتا وہ پیچھے ہوا۔ خون کا ایک فوراہ چھوٹا تھا۔

ابرش نے اسے زور کا دھکا دیا۔ کہ وہ لڑکھڑاتا ہوا بمشکل کھڑا ہونے کی کوشش کرنےلگا۔

ابرش نے فورً خود کو سنبھالتےکھڑے ہوتے ایک اور دفعہ گھما کے راڈ زور سے اسکے سر پے مارا کہ وہ تڑپ کے رہ گیا۔

کانوں میں ابتسام کے الفاظ گونجنے لگے۔

جب اسنے ابرش کے یہاں پہنچ جانے پے ابتسام کو کال کی تھی۔

تمہاری بیوی اس وقت ۔۔ تم سے چھپ کے مجھ سے ملنے آٸ ہے۔۔۔ اور میں۔۔ اسکی آج بہت سیوا کرنے والا ہوں۔۔

انسپکٹر شاہان۔۔۔ میری بیوی سے دور رہنا ۔۔۔۔ ابتسام باہر نکلتا غصے سے پھنکارا۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔ اب اتنی سج سنور کے مجھ سے ملنے آٸ ہے۔۔ تو کچھ تو اسکا حق بنتا ہے ناں۔۔

ہاں۔۔ تمہیں۔۔ اس لیے بتا رہا ہوں۔۔کہ اسے بچا سکتے ہو تو بچا لو۔۔۔ ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں۔

یا تو بچا لو۔۔۔ یا۔۔ آکے اسکی لوٹی ہوٸ عزت پے ماتم کر لو۔۔۔۔

شاہان کے الفاظ ابتسام کو برچھی کی طرح دل میں پیوست ہوۓ۔

انسپکٹر شاہان۔۔ وہ ابرش ہے۔۔ ابرش۔۔ اسے عام سمجھنے کی بھول مت کرنا وہ ۔۔ عزت کے لیے جان دینا نہیں۔۔ جان لینا جانتی ہے۔۔ اور یاد رکھنا اگرتم میرے ہاتھ لگے ۔۔۔۔تو تمہیں ۔۔میں نہ زندوں میں چھوڑوں گا نہ مردوں میں۔۔۔

ابتسام کے آخری الفاظ اس نے سخت غراتے کہے جسی سنتے شاہان نے کال کاٹ دی۔ جبکہ اسکے کہے الفاظ اب ابرش کے آگے اپنی بری ہوتی حالت دیکھتے وو حقیقت لگے۔

مجھےمارو۔۔گے۔۔۔ میری عزت سے کھیلو گے۔۔۔؟

آٶ۔۔ کھیل کے دکھاٶ۔۔۔؟؟ کہتے ہی ابرش نے گھما کے وہ راڈ اسکے ہاتھوں پے ماری۔ کہ وہ ابھی سر سے نکلتا خود نہیں رو ک پایا تھا کہ ہاتھوں کی انگلیوں کے چٹخنے کی آواز آٸ اور درد سے چیخنے لگا۔ بارش بھی پورے زور وہ شور سے برس رہی تھی۔

بہت بڑی بھول کر دی تم نے۔۔۔ مجھے یہاں بلا کے۔۔مجھے نہیں۔۔ تم نے اپنی موت کو بلایا ہے۔

ابرش کی آوازکانپ رہی تھی لیکن قدرے اونچی تھی۔

وہ لرز رہی تھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

بھاٸ۔۔۔ ! وہ بھابھی۔۔۔؟؟؟ارحام جو لمظ کے ساتھ باہر نکلا تھا۔ ابھی کوٸ بات نہ کر پایا ۔ کہ ابرش کو باہر جاتا دیکھا۔ اور پھر آٹو میں بیٹھتا ۔۔ لمظ کو وہ واپس اندر چھوڑتا ابتسام کے پاس آیا۔

ججنتا ہوں۔۔ وہ کہاں۔۔ ہے۔۔فکر مند مت ہو۔۔۔ تم ہاں سنبھالو۔۔ میں لے کے آتا ہوں۔۔اسے۔۔۔

ابتسام جو اندر سے ٹوٹ رہا تھا۔ لیکن بظاہر ارحامکو حوصلہ دیتا سیکیورٹی گارڈرز کے ساتھ باہرنکلا

تین سیکیورٹی گاڑیاں اسکے ہمراہ تھیں ۔

لیکن ابتسام نے انہیں خود سے کافی فاصلہ رکھ کے آنےکوکہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا ابرش کس حال میں ہوگی۔ لیکن۔۔ وہ اسکی عزت تھی۔۔ اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوٸ بھی اسے دیکھے۔

ابرش ابتسام پیرزادہ۔۔۔! آٸ سوٸیر۔۔۔ اگر تمہیں ایک کھروچ بھی آٸ تو تمہاری جان میں اپنےہاتھوں سے لوں گا۔۔۔

گاڑی رش ڈراٸیونگ کرتا وہ مطلوبہ جگہ پہنچ چکا تھا۔ بہت تیز بارش تھی اندھیرے کے باعث دیکھنا مشکل لگ رہا تھا۔ لیکن۔۔ گاڑی کی ہیڈلاٸٹس اور تیز بجلی کی کڑک میں وہ سامنے کھڑی بارش میں بھیگتی ابرش کو دیکھ چکا تھا۔

ابتسام نے بلیو ٹوتھ سے اپنے سیکیورٹی گارڈز کو وہیں پیچھے رنے کا حکم دیا۔

اور خود جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولتا بنا اسے بند کیے برستی تیز بارش میں وہ ابرش کی طرف لپکا۔

اور وہ جو راڈہاتھ میں لیےکھڑی تھی۔ اچانک گاڑی کی ہیڈ لاٸیٹس کی تیز روشنی آنکھوں میں پڑی۔ تو بے اختیار آنکھوں۔کے آگے ہاتھ رکھے۔

ابر۔۔۔۔۔؟؟ ابتسام۔نے پکارا تو اسکے وجود میں جنبش ہوٸ۔

نہیں۔۔ قریب مت آنا۔۔۔! میرے۔۔پاس نہیں۔۔ آنا۔۔۔ مت۔۔۔۔ مت چھونا مجھے۔۔۔!!

وہ ڈرتےہوۓ بولی ۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

حق مہر۔۔۔۔؟؟ ارتسام زیرِ لب ہراتےاسے گنگ نظروں سے دیکھنے لگا۔

جی۔۔۔ بنا حق مہر کے۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے۔۔میں آپ کو اپنا شوہر مان لوں گی۔۔۔؟؟

عروش ایسی باتیں کرے گی۔ ارتسام کو توقع نہ تھی

ایک گہری سانس خارج کرتا دراز میں سے چیک بک نکالی۔ اور ساٹھ لاکھ کا چیک کاٹ کے اسے حوالے کیا۔

یہ رہا آپ کا حق مہر۔۔۔! لہجہ ابکی بار سرد تھا۔

عروش نے ایک نظر یک پے ڈالی۔ اور ارتسام کو دیکھا

یہ نہیں۔۔ وہ رقم ۔۔۔ جو آپ نے ۔۔ میرے سوتیلے باپ کو دی۔۔ مجھے وہ چاییے۔۔

ہر لفظ پے زور دیتے اس نے کہا۔

تم۔۔۔۔ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔۔ جانتی بھی۔۔ہو۔۔ کہ یہ ناممکن ہے۔۔ پھر بھی فضول کی ضد۔۔۔؟؟ ارتسام زچ آتا کھڑا ہوا۔

فضول۔۔۔؟؟ یہ آپ کو فضول لگ رہا ہے۔۔؟؟ وہ بھی دوبدو ہوٸ۔۔

عروش۔۔۔۔ لب بھینچے وہ خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے باز رھے ہوۓ تھا۔

آپ کو حق مہر سے مطلب ہونا چاہیے۔۔ بس۔۔ وہ آپ کو مل گیا۔ باقی انکا اور میرا معاملہ ہے۔۔ میں نے انہیں کیا دیا کیا نہیں دیا۔۔ اس میں آ پ کو قطعی بولنے کی ضرورت نہیں۔۔

کیوں ضرورت نہیں۔۔۔؟؟ وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گٸ۔

ڈرتے ہیں۔۔ آپ ان سے۔۔۔؟؟ بتاٸیں۔۔؟؟

ایک تو آپ نے گناہ کیا ۔۔ اور اوپر سے آپ اسے ڈیفنڈ کر ہے ہیں۔۔ میں نہیں مانتی ۔یہ نکاح۔۔۔مجھے وہی۔۔۔حق مہر چاہیے۔۔ورنہ مجھے طلا۔۔۔۔۔۔؟؟

عروش۔۔۔؟؟ ارتسام کا ہاتھ اٹھا۔ لیکن ہوا۔۔میں ہی بلند رہ گیا۔ عروش ہم کے ایک قدم پیچھے ہٹی۔

ہاتھ کی مٹھی بناتے وہ اسے گھور کے رہ گیا۔

کیا ہو آپ۔۔۔؟ مجھے نہیں تھا پتہ۔۔۔ جس لڑکی سے میں نے نکاح کیا ہے۔۔ وہ اتنی چھوٹی سوچ کی ہوگی۔۔۔

کفرانہ باتیں کرتے زرا شرم نہیں آٸ آپ کو۔۔۔؟؟

بازو سے زور سے جکڑا کے ہاتھ کی انگلیاں عروش کو باز میں پیوست ہوتی محسوس ہوٸیں۔

میں کسی سے نہیں ڈرتا۔۔۔ سمجھی۔۔ آپ۔۔۔؟؟

اگر کچھ کہہ نہیں رہا۔۔۔ تو ۔۔ مطلب یہ نہیں۔کہ جو منہ میں آۓ بولتی چلی جاٸیں۔۔۔

جس شخص سے آپ اپنا حق مہر واپس لینے کی بات کر رہی ہیں۔۔ وہ آپ کی امی کا شوہر ہے۔۔ اور اس بات کو آپ بھول رہی ہیں۔۔ میں نہیں بھول سکتا۔۔

میرااکوٸ بھی عمل ۔۔ انکی تکلیف کا باعث بنے۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔

جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑا۔ وہ بیڈ پے جا گری ۔

انتہاٸ خود غرض لڑکی ہیں آپ۔۔۔! صرف اپنے بارے میں ہی سوچنا آتا ہے آپکو۔۔۔

ٹھیک ہے سوچتی رہیں۔۔ جو سوچنا ہے۔۔۔ مجھے بھی کوٸ فرق نہیں پڑتا۔۔۔ لیکن۔۔ اب میرے سامنے آنے کی بھول مت کیجیے گا۔۔ ورنہ میں خود بھی نہیں جانتا کیاکر بیٹھوں۔۔۔

انگلی اٹھاتا وہ غصہ کو بمشکل ضبط کرتا باتھ روم کی جانب بڑھا۔ جبکہ وہ روتی اپنا بازو سہلاتی ری۔ آنسو بار بار بہتے چلے جا رہے تھے۔

ابی جان نے علیشا نے کل جو اسکے ساتھ کیا اسا بدلہ وہ ارتسام سے لے رہی تھی۔ ۔ اور بہت غلط کیا۔

وہ صحیح ہی تو کہہ رہے تھے۔۔ کتنی خود غرض تھی۔ وہ۔۔ امی کے بارے میں سوچا ہی نہ۔۔۔

آنسو گالوں پے بہتے جا رہے تھے

اپنے لفظوں سے وہ ارتسام کو بہت سخت دکھی کر گٸ تھی۔ وہ جانتی تھی۔

باتھ روم سے شاور سے پانی گرنے کی آوازآرہی تھی۔ وہ شاور کے نیچے کھڑا اپنا غصہ ٹھنڈا کر رہا تھا۔ لیکن عروش کے الفاظ اسے بار بار ہتھوڑے کی طرح لگ رے تھے۔

کافی دیر بعد وہ باہر نکلا۔ ایک غلط نگاہ بی عروش پے ڈالے بنا وہ صوفے پے جا بیٹھا۔ موباٸیل چیک کیا ۔ اٹھتا لاٸیٹ آف کرتا۔ واپس صوفے پے آتا آنکھوں پے بازو رکھے آنکھیں موند گیا۔

جبکہ عروش کی نیندیں اڑا گیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

فنکشن اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا۔

سبھی گھروں کی جانب گامزن تھے۔ ارحام فوراً گھر پہنچ کے ارتسام کو سب بتانا چاہتا تھا۔ لیکن راستے میں ہی اسے ابتسام کا فون آیا کہ وہ کسی سے کچھ نہ کہے۔ بلکہ اگر کوٸ پوچھے تو یہ کہہ دے کہ ابتسام اور ابرش فارم ہاٶس ہیں۔ اور وہیں رکیں گے۔

دل پے پتھر رکھے وہ گھر داخل ہوا ابی جان ڈراٸینگ روممیں ویٹ کرتی دکھاٸ دیں۔ انہوں نے آتے ہی عروش کا پوچھا تھا ۔

کل جو انہوں نے غصے میں عروش کو سنا ڈالا۔ اس پے وہ اندر ہی اندر شرمندہ تھیں۔ لین اس وقت حالات ہی اہسے تھے۔ وہ قصور وار نظر آٸ۔ لیکن۔ عذرا اور علیشا کی اچانک سے کان میں پڑی باتیں سن کے ان احساس ہوا۔ انہں نے عروش کے ساتھ غلط کیا۔ اسکے بعد تو وہ بیچاری سامنے ہی نہیں آٸ۔

ارحام ۔۔۔! بیٹا۔۔ ابتسام اور ابرش ابھی تک گھر نہیں آۓ۔۔؟؟ وہ پریشان سی بولیں۔

ابی جان۔۔ وہ۔۔ آج فارم ہاٶس رکیں گے۔۔ بھاٸ کا فون آیا تھا۔۔۔

کہتے نظریں چراٸیں۔ اور فٹ سے روم کی جانب بڑھا۔

روم میں آتے ہی اس نے لمظ کو کال ملاٸ۔ وہ جو روتے ہوۓ گٸ تھی اسکی آنکھو ں کے آنسو اسے بے چین کیے ہوۓ تھے۔ لیکن وہ تھی کہ کال ہی نہیں اٹھا رہی تھی ۔ اور ارحام کا غصہ ابتسام کے غصہ کی طرح سوا نیزے پے پہنچ رہا تھا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *