Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 18)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 18)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
شوہر۔۔۔؟؟ علیم خان کی تو زبان ہی گنگ رہ گٸ۔
جی یس۔۔!جج صاحب۔۔ ابتسام علی پیرزادہ میرے شوہر ہیں۔ ہمارا نکاح ہوا ہے۔ اور نکاح نامہ ایڈووکیٹ احد میر کے پاس موجود ہے۔
ابرش کے کہنے پے احدنے نکاح نامہ فوراً جج صاحب کے سامنے پیش کیا۔
جسے جج صاحب چیک کرنے لگے۔
آپ بات جاری رکھیں۔ نکاح نامہ دیکھنے کے بعد ابرش سے کہا۔
جج صاحب۔۔ ! کچھ وقت پہلے کی بات ہے۔۔ میرے بابا۔۔۔ میرا رشتہ ٹوٹ جانے سے بہت پریشان ہوۓ تھے۔ ان کا بی پی شوٹ کر گیا۔
وہاں۔۔ مسٹر ابتسام سے انہوں نے انکی رضا مندی سے میرا نکاح کر دیا۔ لیکن۔۔۔یہ نکاح فی الحال اوپن نہیں کیا گیا تھا۔ ۔۔۔ پرسنل ریزن کی وجہ سے۔۔۔!
بہت اعتماد سے کہتی چلی گٸ۔
اور جس رات۔۔۔ یہ واقعہ ۔۔۔۔جو یہ میڈم بول رہی ہیں۔۔ بلکہ۔۔۔میرے شریف شوہر پے بے بنیاد الزام۔لگا رہی ہیں۔ سراسر غلط ہے۔
اس نے۔۔ میرے شوہر کو بلایا۔ اور اسے ٹریپ کیا۔ جان بوجھ کے ایسے حالات پیدا کیے اور تصویریں بناٸیں۔ اسی کے دوست نے۔۔
جو اس وقت یہاں عدالت میں بھی موجود ہے۔ ایک قہر آلود نظر کامی پے ڈالی تو وہ سٹپٹا گیا۔
لیکن۔۔جج صاحب اس لڑکی کو ایک تھپڑ کھا کے بھی سکون نہ آیا۔ اسے تھپڑ لگا کے۔۔۔ ابتسام علی وہاں سے نکل کے میری طرف آۓ۔
وہ اپ سیٹ تھے۔ انہیں بہت دکھ تھا۔ کہ کیسے کوٸ لڑکی اپنی عزت کی بھی پرواہ کیے بنا ان سے رشتہ بنانے کی خواں تھی۔
کیا بولے جا رہی ہو۔۔؟ الزام مت لگاٶ۔۔۔ ! ابتسام نے ہی۔۔کیا ہے سب۔۔ میرے ساتھ ۔۔؟؟
خبردار۔۔۔! فاریہ کے بیچ میں بات کاٹنے پے ابرش نے اسے للکارا۔ جس پے احد بھی حیرانی سے دیکھنے لگا۔
کیا جلال تھا اس لڑکی کا۔
خبردار جو ایک غلط لفظ بھی بولا۔میرے شوہر کے خلاف۔۔۔ گدی سے زبان کھینچ لوں گی۔
غصے سے آنکھیں پھیلا کے کہتی وہ ابتسام کو بھی حیرت میں مبتلا کر گٸ۔
جبکہ ارحام اور ارتسام۔کے چہرے پے ایک مسکراہٹ بکھر گٸ۔
بھاٸ نے تو آپ کانمبر بھی کراس کر دیا۔ چن کے اپنی جیسی ڈھونڈی ہے۔۔۔کمال کی ہیں بھابھی۔۔ میری طرف سے تو اوکے بلکہ۔۔۔ پکا یہی ہیں۔۔ ہماری بھابھی۔۔۔! دل خوش کر دیا۔
ارحام نے ارتسام کے کان میں گھس کےکہا ۔
تو ارتسام نے مسکراتے نفی میں سر ہلایا۔ کہ اسکا تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
ٹھیک ہے۔۔۔! مانا کہ یہ آپ کے شوہر ہیں لیکن۔۔ یہ کیسے ثابت کریں گیں کہ۔۔ یہ اس رات آپ کے ساتھ تھے۔ فاریہ کے ساتھ نہیں۔۔؟؟
علیم خان نے ایک اور پتہ پھینکا۔
ویسے تو میں بیوی کے طور پے گواہی دے رہی ہوں۔ لیکن۔۔ میں یہ بھی جانتی تھی۔۔ آپ مانیں گے نہیں۔۔
جج صاحب۔۔ یہ لیں۔۔ یہ یو ایس بی۔۔۔ اس میں۔۔ میرے گھر کے باہر کے لگے اسٹریٹ کیمرے کی ویڈیو ریکارڈنگ ہے۔ اور ٢١ اپریل کی رات کی ویڈیو بھی اس میں موجود ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔
کہ کب۔۔ ابتسام علی میرے گھر میں داخل۔ہوۓ اورکب واپس گۓ۔
یو ایس بی جج صاحب کو دے دی گٸ۔
ویڈیو۔۔ جج صاحب نے دیکھی۔ جس میں زیادہ تو نہیں لیکن اتنا کلیٸر تھا۔ کہ جج صاحب کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگٸ۔
فاریہ تڑپ رہی تھی۔ اس کے چہرے کے زاویے بگڑ رہے تھے۔
تمام ثبوتوں۔۔ اور ا س ویڈیو کو دیکھنے کے بعد جس میں تاریخ اور وقت دونوں کلیٸر ہیں۔ مدنظر رکھتے ہوۓ عدالت ابتسام علی پیرزادہ کو اس کیس سے باعزت بری کرتی ہے۔۔۔!
ابتسام نے آنکھیں موندتے بے اختیار التلتہتت شکر ادا کیا۔ وہیں پیچھے ارتسام اور ارحام بھی خوشی سے اٹھتے بھاٸ کے پاس پہنچے۔۔
فاریہ نے نفرت اور حقارت سے ابرش کو دیکھا۔۔
جھوٹا کیس داٸر کرنے پے اور عدالت کو گمراہ کرنے کے جرم میں عدالت مس فاریہ کو دو لاکھ روپے جرمانہ کرتی ہے۔ اور ابتسام علی پیرزادہ کو یہ حق دیتی ہے۔ کہ وہ ان کے خلاف مان ہانی کا کیس داٸر کرسکتے ہیں۔
دا کورٹ از ارجنٹ۔۔۔۔
جج صاحب اپنا فیصلہ سنا کے نکل گۓ۔
پہلی بار علیم خان کو بری طرح شکست ہوٸ تھی۔ وہ اپنی فاٸل۔اٹھاٸے خاموشی سے باہرنکل گۓ۔
جھوٹ۔۔۔ جھوٹ۔۔ سراسر ۔۔جھوٹ۔۔۔! ابتسام۔۔۔ ! فاریہ ہزیانی انداز میں ابتسام کیجانب بڑھی۔ جہاں وہ اپنے بھاٸیوں سے گلے مل رہا تھا۔۔
اور ابرش اسکے پاس ہی جار ہی تھی۔ کہ فاریہ چلاتی ہوٸ ابتسام تک پہنچی۔
تم۔۔۔ تم صرف میرے ہو۔۔۔۔ تمہیں۔۔ مجھ سے کوٸ۔۔ نہیں چھین سکتا۔۔۔ تم بھی نہیں۔۔۔ فاریہ پاگلوں کی طرح بولتی اس کے قریب آنا چاہا۔ کہ ابرش بیچ میں آگٸ۔
میرے شوہر سے دور رہو۔۔۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔ تمہاری صحت کے لیے۔
ابرش نے بہت دیدہ دلیری سے کہا۔
بھاٸ ! بھابھی تو چن کے لی ہے۔۔۔ کمال اور دھمال۔۔۔! ارحام مسکراتے ہوۓ بولا۔
تو ابتسام۔نے اسےگھورا۔
کامی نے فاریہ کو زبردستی پکڑ کے پیچھے کیا۔
کیا کمال کر دیا آپ نے۔۔۔! سچ میں۔۔! مجھے لگا ۔۔یہ کیس میں نہیں آپ لڑرہی تھیں۔۔ کیا خوب درگت بناٸ ہے۔۔ احد نے داد دی۔
تھینکس۔۔۔! ابرش مسکراٸ۔ اور تھوڑی سرگوشی میں بولی۔
باٸ دا وے۔۔ مستقبل۔قریب میں آپ مجھے ایڈووکیٹ ابرش مجیب کے نام سے ہی پہچانیں گے۔
ایک اعتماد تھا۔ احد تو شاکڈ ہی رہ گیا۔
ابرش اور ابتسام۔کی نظروں کا تصادم۔ہوا۔ تو ابرش کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوٸ۔ عجیب سا دیکھنے کا انداز۔۔۔ ابرش کی پلکیں بھاری سی ہوتی جھک گٸیں۔ ابتسام۔نے نظریں پھیرلیں۔
وہ ان لمحوں میں کہاں قید ہو سکتا تھا۔۔۔؟؟
وہ سبھی باہر کی جانب بڑھے جہاں میڈیا بے صبری سے ان۔کا اتنظار کررہا تھا۔
جبکہ فاریہ باہر۔نکل کے میڈیا کے سامنے اچھا خاصا زہراگل چکی تھی ۔
مس ابرش مجیب شمس۔۔۔! یہی نام۔ہے ناں۔۔ آپ کا۔۔۔؟؟ آپ نے بتایا کہ ابتسام علی پیرزادہ سے آپ کا نکاح ہوا ہے۔۔ لیکن۔۔ ان کو بچا کے آپ نے کیا صحیح کیا۔۔؟؟ کیا لگتا ہے آپ کو۔؟؟ کیا ایک بار پھر۔۔ عدالت میں لڑکیوں کوانصاف نہیں ملا۔؟
چینل رپورٹرنے بے باک انداز میں سوال کیا۔
جو سچ تھا وہ سامنے آگیا ہے۔ اوراسی بنا پے عدالت نے فیصلہ سنایا ہے۔ بہت ٹہرے ہوۓ انداز میں کہا۔
لیکن۔۔ آپ کا اتنا یقین۔۔۔؟؟ کیسے۔۔؟؟ وہ کیا کچھ غلط نہیں کر سکتے۔۔؟؟ جو آپ اتنا اندھا اعتبار کررہی ہیں۔۔؟ جبکہ ۔۔ یہ تو اچھے خاصے مغرور اور گھمنڈی ہیں ۔
اس لڑکی نے ابتسام کو ایک نظر دیکھتے کہا۔
تو سبھی مسکرا دیٸے۔
یہ تو آپ۔۔۔میرے ہسبینڈ کی تعریف کر رہی ہیں۔۔۔!
خیر۔۔ اگر آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو۔۔ سن لیں۔
مانا کہ میرا شوہر گھمنڈی ہے۔ ضدی ہے۔۔ مغرور ہے۔۔اور انا پرست بھی ہے۔۔۔ لیکن۔۔ ان سب باتوں کے باوجود۔۔ اتنا ہی یہ بھی سچ ہے۔۔۔کہ میرا شوہر ابتسام علی پیرزادہ کردار کا بے حد مضبوط ہے۔۔
کہتے ساتھ ہی ابتسام کو مسکراتے دیکھا۔ اسکی گہری مسکراہٹ ابتسام۔کے چہرے پے بھی ایک ہلکی سی مسکان لے آٸ۔
اسے سامنے والے کو جواب دینا آتا تھا۔
اسے اپنے حق کے لیے لڑنا آتا تھا۔۔
اسے حق اور سچ بات کے لیے آواز اٹھانا آتی تھی۔
وہ واقعی عام نہیں تھی۔۔
وہ خاص تھی۔۔ بہت خاص۔۔۔













فلیش بیک۔۔۔
وہیں جہاں۔۔ احد نے ان دونوں کو روکا اور اپنے نادر مشورہ سے نوازا۔
یہ کیا کہہ رہے ہو۔۔؟؟ تم۔۔۔ ہوش میں تو ہو۔۔؟؟
دیکھو یار۔۔ اس وقت انکا۔یہاں آنا کسی معجزے سے کم نہیں۔۔۔! اگر تمہیں سزا ہوگٸ ناں۔۔ تو یہ بدنامی پورے خاندان اور تمہاری آنے والی نسلوں کو بھی سہنی پڑے گی۔
احد نے سنجیدگی سے اسے سمجھایا۔
ابتسام گہری سوچ میں ڈوبتا ابرش کو دیکھنے لگا۔
آپ۔۔۔؟؟ کیا راضی ہیں۔۔؟؟ پیپر میرج کے لیے۔۔؟
احد نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
ابرش سوچ میں پڑگٸ۔
دیکھیں۔ آپ بھی چاہتی ہیں کہ حق اور سچ کی جیت ہو۔۔
اور ابتسام اس کیس سے باعزت بری ہو۔۔۔ لیکن۔۔ا سکے لیے بنا کسی جاٸز رشتے کے۔۔ہم آپ کو عدالت میں پیش نہیں کر سکتے۔۔
احٕد نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
لیکن۔۔۔۔! اگر پیپر میرج ابھی ۔۔مطلب۔۔۔؟؟یہ واقعہ تو اکیس اپریل کا ہے ناں۔۔؟ پھر۔۔ ؟؟ ابرش تھوڑا الجھی۔
اہوو۔۔۔ اس بات کی آپ بالکل فکرنہ کریں۔ نکاح نامے پے تاریخ آپ اپنی مرضی سے بھی لکھوا سکتی ہیں۔
کچھ تو میرا بھی فرض ہے ناں۔۔۔ اور جو آپ کہیں۔۔ لکھ دی جاۓ گی۔۔ وکیل ہوں۔۔ جانا مانا۔۔۔ کوٸ عام بندہ نہیں۔ ۔۔ چٹکیوں میں بن۔جاۓ گا۔
احد نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
ابرش نے ایک نظر سامنے بیٹھے ابتسام کو دیکھا جو احد کو مسلسل گھورے جا رہا تھا۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔! مجھے کوٸ اعتراض نہیں۔۔ لیکن ۔۔۔ بابا۔۔۔؟؟ کےبنا۔۔۔؟؟؟
اوہ میم۔۔۔ یہ کانٹریکٹ میرج ہے۔۔ ہاں کیس ختم۔۔۔ وہاں۔۔ شادی ختم۔۔۔ لیکن۔۔۔ نہیں۔۔ مطلب۔۔۔؟؟ کچھ وقت انتظار کرنا پڑے گا۔ جب تک یہ بات ختم نہ ہوجاۓ۔ ا سکے بعد آپ اپنے راستے ۔۔ یہ پیرزادہ صاحب اپنے راستے۔۔۔۔!
سانپ بھی مر جاۓ گا۔ اور لاٹھی بھی سلامت رہے گی۔
بنا لڑکی کے وکیل کے نکاح نہیں ہوتا۔۔۔۔! اور صرف کاغذ پے ساٸن کرنےسے نہ ہی نکاح ہوتا ہے۔ اور نہ ہی میں مانو گی۔ عدالت میں کیسے قبول کروں گی پھر۔۔۔؟؟؟
ابرش کا اپنا ہی ایک فنڈا تھا۔
ٹھیک ہے۔۔۔ ہمارا نکاح ہوگا۔۔۔ ابتسام نے فوراً فیصلہ کیا۔
تم۔۔ نکاح نامے اور مولوی صاحب کابندوبست کرو۔۔
او۔۔۔تم۔۔۔؟؟ احد سے کہتے وہ ابرش کی جانب مڑا۔ احد فوراً خوش ہوتا جا چکا تھا۔
یہ اتنا آسان نہیں ۔۔ جتنا سمجھ رہی ہو۔۔۔! عدالت میں کیا کیا سوال ہوں گے۔۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔
ابتسام۔نے اسے وارن کیا۔
ہممم۔۔۔ میں سوچ نہیں سکتی۔۔۔ لیکن۔۔ میں نے اپنی آنکھوں سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ہوتے کافی دفعہ دیکھ چکی ہوں۔اور جبکہ میری لصاٸ تو سچ کی ہے۔ تو ڈر کیسا؟
دونوں ہی کرسیوں پے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
کیوں کر رہی ہو یہ سب۔۔؟؟ کالی آنکھوں میں سبز آنکھیں گھستی ہوٸ محسوس ہوٸیں۔
حق اور سچ کا بیڑہ اٹھایا ہے۔۔۔ چاہے کتناہی نقصان ہو۔۔ پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔
اسکی آنکھو ں میں دیکھتے ہی جواب دیا۔
شاید۔۔۔ آگے جا کے۔۔۔۔ حالات بہت مشکل ہو جاٸیں گے۔۔ الریڈی۔۔۔ بارات واپس جا چکی ہے۔۔ اور۔۔۔؟؟
اور اسی دن بابا کو ہاسپٹل لے کے گٸے۔ اور وہیں ہمارا نکاح ہوا ہاسپٹل میں۔ ابرش نے مسکراتے آگے کی پلاننگ کی۔
تمہاری جان کو بھی خطرہ لاحق سکتا ھے۔۔
ابتسام نے اسے باز رکھنے کی ایک اور کوشش کی۔
مسٹر ابتسام علی۔۔۔ یو نو۔۔۔۔! اب تک اتنے پنگے لے چکی ہوں۔۔ کہ اب ڈر سے بھی ڈر نہیں لگتا۔۔۔
ابرش نے مسکرا کے اپنا دفاع کیا۔
ابتسام گہرا سانس خارج کرتا اٹھا۔
ہممم۔۔! مطلب۔۔۔ باز نہیں آٶ گی۔ چیٸر کے پیچھے کھڑے ہوتے گہری نظروں سے دیکھتے پوچھا۔
ابرش نے مسکرا کے نفی میں سر ہلایا۔
ٹھیک ہے۔۔۔ ! پھر تمہارے گھر چلتےہیں۔ ۔۔ تمہارے بابا کے پاس۔ ان کے سامنے یہ نکاح ہوتو زیادہ بہتر ہے۔۔
اینڈ سیکنڈلی۔۔۔ نکاح میں ہو گی جب تک۔۔۔؟؟ تب تک کوٸ کام۔بنا اجازت کے نہیں کرو گی۔۔ ابتسام۔نے ایک اور تیر پھینکا۔
ابرش کی مسکراہٹ سمٹی۔
نکاح کے بعد۔۔ شوہر مجازی خدا کے رتبے پے فاٸز ہو جاتا ہے۔۔ جب تک نکاح میں ہوں گی۔۔۔ اس بات کا خیال رکھوں گی۔
لیکن حق اور سچ کے لیے بولنے پے مجھے دنیا کی کوٸ طاقت نہیں روک سکتی۔
پختہ عزم سے کہتی وہ ابتسام کو کافی حد تک متاثر کر گٸ۔
ابرش کو لیے ابتسام اس کےگھر پہنچا۔ مجبیب صاحب گھر پے ہی تھے۔
یوں ابتسام کو اپنے گھر دیکھ حیران تو ہوۓ لیکن۔ ابرش کے تمام تفصیل بتانے پے وہ سوچ میں ڈوب گۓ۔ ۔
الف سے لے کے اینڈ تک ساری بات بتا تو دی۔
سواۓ اس کہ ۔۔۔کہ یہ نکاح۔۔ پیپزر میرج پے ہے۔۔ وہ بابا کی کنڈیشن کی وجہ سے انہیں نہ بتا پاٸ۔ ورنہ یقیناً اس بات کے لیے وہ کبھی نہ مانتے۔
لیکن ابتسام کے ساتھ اسکا رشتہ یوں جڑ جاۓ گا۔۔ انہوں نے سوچا نہ تھا۔
بے اختیار ہی آنکھیں بھر آٸیں۔ اور ابرش کے سر پے ہاتھ رکھا۔
ابرش باپ کے سینے سے لگی۔
بابا دعا کرنا۔۔ میں اپنے مقصد میں کامیاب لوٹوں۔ بہت مان دعوے سے کہا۔
تو مجیب صاحب نے آنسو صاف کرتے اثبات میں ہلایا۔
کچھ ہی دیر میں احد اپنی بیوی آمنہ کو لٸے اور ساتھ مولوی صاحب کولیے وپاں موجود تھا۔
نکاح کےوقت مولوی صاحب کی آواز آٸ۔
حق مہرکیالکھوں۔۔۔ ؟
مولوی صاحب حق مہر لڑکی کا حق ہوتا ہے۔ لہذا وہی فیصلہ کرے گی۔ اسے حق مہر کیا چاہیے۔
ابتسام کے الفاظ ۔۔۔ ابرش کے دل کے پار ہوتے دل میں اسکا ایک خاص مقام بنا گۓ۔
ایک تبسم انجانے میں ابرش کے چہرے پے پھیلا۔ گھونگھٹ اوڑھے وہ مسکاٸ۔
جو شرعی ہے۔۔ وہی لکھیں۔ الفاظ سنتےہی ابتسام نے ایک نظر اس کے گھونگھٹ پے ڈالی۔
اور شرعی حق مہر پے ان دونوں کا نکاح ہوگیا۔
احد نے مبارک باد دی ۔
مجیب صاحب کی آنکھیں با بار بھیگ رہی تھیں۔ ۔۔
وہ جو بات چھپا رہے تھے ۔ اسی وجہ سے ڈرے ہوۓ تھے۔ ابرش کو لے کے۔ اور بنا حقیقت جانے وہ بیٹی کورخصت بھی کرنا چاپتے تھے۔
لیکن ابرش نہیں مان رہی تھی۔ کہ وہ صرف نکاح تک ہے ابھی ایسا کوٸ پلان نہیں۔ ۔
ابتسام۔بھی ابرش کے ہم خیال۔تھا۔ لہذا رخصتی ڈ یلے ہوگٸ۔ اور ابی جان بھی تو نہیں تھیں۔ اسلیے مجیب صاحب بھی چپ ہوگۓ۔
احد سے ابرش نے باہر روڈ پے لگے کیمرے اور اس کی ریکارڈنگ کا زکر کیا۔ اور یوں وہ مل کے اس ریکارڈنگ تک پہنچ گۓ۔
جسے پھر عدالت میں ثبوت کے طور پے پیش کیا گیا۔
اور ابتسام علی پیر زادہ باعزت بری ہوگیا۔
عدالت سے باہر آتے وہ نہیں جانتے تھے۔ وہ ایک شوٹر کے نشانے پے تھے۔
شوٹر کانشانہ ابرش تھی۔
بھابھی جی۔۔۔ ! لگتا ہے بہت کوٸ جنونی قسم کا عشق ہو چلا ہے۔۔ بھاٸ سے۔۔۔ ارحام نے تنگ کیا ۔ تو ابرش مسکرا دی۔
عشق کاتو ابھی نہیں پتہ۔۔۔ لیکن۔۔ رشتہ جڑ گیا ہے۔۔ اور یہ رشتہ تو ہے ہی سب سے پیارا۔۔۔ اس رشتے کا تقاضا ہے کہ ایک دوسرے کا لباس بنو ایک دوسرے کی حفاظت کرو۔ بہت پیار سے کہتی وہ اپنے لفظوں سے ارتسام اور ارحام۔کو متاثر کرتی اس بات سے انجان تھی۔ کہ شوٹر نشانہ باندھ چکا تھا۔
سوچیں بھاٸ۔۔۔ ابھی
سرخ رنگ کانشان ۔۔ ابتسام۔کو ابرش کے دل کی طرف موو کرتا دکھاٸ دیا۔ تو اس کی چھٹی حس بے دار ہوٸ۔
گولی چلی ۔ اس سے پہلے کہ وہ ابرش کے دل کو چھوتی۔ ابتسام۔نے اسے جھٹکے سے پیچھے دھکا دیا۔وہ دور جا گری۔ اور گولی ابتسام۔کی بازو کو چھوتی ہوٸ گزر گٸ۔
یہ ایک لمحے میں ہوا تھا کہ کسی کو کچھ سمجھ نہ لگی۔
اچانک وہاں بھگدڑ مچ گٸ۔
ارحام اور ارتسام دونوں ابتسام کی جانب لپکے۔ اور زمین پے گرے ابتسام کو اٹھایا۔
بھاٸ۔۔۔؟؟ آپ۔۔ٹھیک ہیں۔۔؟؟ ارتسام گھبراۓ بولا۔
میں ٹھیک ہوں۔۔! ابرش۔۔۔ اسے۔۔ دیکھو۔۔
اپنی بازو پکڑتے درد برداشت کرتے وہ کھڑا ہوا۔
اسے اپنے درد کے باوجود ارش کا درد تکلیف دے رہا تھا اور اس بات سے انجان بھی تھا۔
جبکہ ابرش ابھی بھی حیرت کی مورت بنی زمین پے بیٹھی تھی۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا۔ کہ ایسا کچھ ہوا ہے۔
ارحام نے ابرش کو اٹھایا۔ جبکہ وہ بالکل ٹھیک تھی۔
لیکن ابتسام۔کا خون بہتا دیکھ اسکی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
اتنے میں سیکیورٹی گارڈذ نے داٸرہ بنالیا تھا۔ اور انکو پروٹیکٹ کرتے وہاں سے نکالا۔ گاڑی کی جانب بڑھے۔
اور گاڑ ی کو ارتسام۔نے اپنے ہاسپٹل کی جانب موڑ دیا۔
اس نے گاڑی سے فرسٹ أیڈ باکس نکال۔کے روٸ سے ہر۔ممکن حد تک خون روکنے کی کوشش کی تھی۔
ابرش کی آنکھیں مسلسل بہے جا ری تھیں۔
ایک اور احسان کر گیا تھا وہ شخص اس پے۔۔۔
اسکی جان بچا کے۔
ارحام ان سے کہو۔ میں زندہ ہوں۔۔ مرا نہیں جو آنسو بہاٸے جا رہے ہیں۔
اس کے آنسوٶں سے تنگ پڑتے ابتسام نے کہا۔
تو ابرش نے ایک گھوری سے ابتسام کو نوازا۔ اور باہر دیکھنے لگی۔
ارحام کو انکی جوڑی بہت دل چسپ لگی۔ بنا کچھ کہے نظریں نیچی کر گیا۔ وہ جانتا تھا اسکا بھاٸ بہت بہادر ہے۔
کچھ ہی دیر میں وہ سب ہاسپٹل تھے۔
ابتسام کو ایمرجنسی میں ارتسام ہی ٹریٹ کر رہا تھا۔
بھابھی! بس۔۔ کریں۔۔۔وہ ٹھیک ہیں۔۔! ارحام نے بہت احترام سے کہا۔
ابرش نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور نفی میں سرہلاتی وہاں سے ہٹ گٸ۔
وہ اب اسے کیا بتاتی۔۔؟ کہ وہ رو نہیں رہی تھی۔۔ بلکہ آنسو خود ہی بہہ رہے تھے۔












شٹ۔۔۔! یہ۔۔ ابتسام بھی ناں۔۔!
نشانہ چک گیا۔۔۔
لیکن کوٸ بات نہیں۔۔ اگلی بار سہی۔۔۔! ابھی مجھے یہاں سے نکلنا ہوگا۔
ماسک پہنے وہ شخص بلڈنگ سے چھپتا چھپاتا باہر نکلا۔
اور آج اسکی لک اچھی تھی۔ جو وہ کسی کی نظر میں نہ آیا۔














کچھ ہی دیر بعد ارتسام باہر نکلا۔
اب کیسے ہیں بھاٸ؟
ارحام نے فوراً پوچھا۔
ٹھیک ہیں۔ گولی چھو کے گزری ہے۔ پریشانی والی یہ بات نہیں۔
بلکہ۔۔۔ یہ ہے۔۔۔ کہ یہ کون تھا۔۔ ؟جس نے بھاٸ پے گولی چلاٸ۔ ارتسام سوچنے لگا۔
یہی فاریہ کاکوٸ بندہ ہوگا۔۔ اور کون ہوسکتا ہے۔۔؟ میں تو کہتا ہوں۔۔ الٹا کیس کریں اس پے بھاٸ۔ سیدھی ہوجاۓ گی۔
ارحام۔نے دانت پیستے کہا۔
گولی۔۔۔ ان پے نہیں۔۔ مجھ پے چلی ہے۔۔۔! ابرش انکی باتیں سنتی ان کے قریب آکے بولتی سر جھکاگٸ۔
اوہ۔۔۔ یس۔۔۔۔! آٸ فارگاٹ۔۔۔۔! گولی جب چلی تو۔۔ بھاٸ آپ کے سامنے آٸے۔ اور آپ کو بچاتے ہوۓ گولی انہیں لگی۔۔۔۔ ! ارتسام سوچتے ہوۓ سر ہلانے لگا۔
مطلب۔۔۔ کوٸ آپ کا دشمن ہے۔۔۔؟؟ جو۔۔۔ آپ کومارنا چاہتا ہے۔۔؟ ارحام بھی دھیرے سے بولا۔
ہمیں پولیس میں رپورٹ درج کرانی چاہیے۔۔۔
ارتسام مزید گویا ہوا۔
آپ کو کسی پے شک ہے کیا۔۔؟ ابھی وہ کچھ اور بولتا یا ابرش جواب دیتی۔ تیز تیز قدم اٹھاتا انسپکٹر شاہان وہاں انٹر ہوا۔
اسے دیکھ وہ تینوں ہی چپ کر گۓ۔
گولی کسےلگی ہے۔۔۔؟؟ پیشہ ورانہ انداز تھا۔
جبکہ ابرش کویکسر نظر انداز کیا۔
میرے بھاٸ کو۔ ! وہ یہاں اندر ہیں۔ ارتسام نے سیجیدگی سے جواب دیا۔
ہمیں انکابیان لینا ہے۔۔۔!
جی آٸے۔! ارتسام۔اسے لیے ابتسام کے وارڈ کی جانب لے گیا۔
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے ۔۔؟؟ اسے میں نے کہیں دیکھا ہوا ہے۔۔۔۔! ارحام۔تھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھے سوچتا ہوا بولا۔
ابرش نے ایک۔نظر اسے دیکھا ۔ اور مضبوط قدموں سے خود بھی وارڈ کیجانب بڑھی۔
