Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 02)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 02)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
یہ پیرزادہ فیملی تھی۔۔
اسد پیرزادہ کی فیملی۔ان کے دو بیٹے تھے۔
علی پیر زادہ اور عثمان پیر زادہ۔
دونوں ہی ان کی آنکھوں کا تارا تھے۔
کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ جدی پشتی رٸیسں تھے۔
بیٹوں کوانکی خواہش پے ایک ساتھ بیرونِ ملک بھیجا
اور دونوں ہی ڈاکٹری کا امتحان پاس کرکے پاکستان ایک ساتھ ہی لوٹے ۔
پورا اٸیر پورٹ دلہن کی طرح سجا دیا گیاتھا۔۔
کہ ہر کوٸی عش عش کر اٹھا تھا۔
سب کی نظریں دو ہوبرو نوجوانوں پے تھیں۔
انکے آنے کو ہر ایک نے سراہا تھا۔پورے اٸیرپورٹ پے مٹھاٸیاں اور تحفے بانٹےگٸے تھے۔
کہتےہیں ناں۔۔۔ جہاں اچھی نظرہوتی ہے۔۔ وہیں۔۔ بری اور حاسدکی بھی نظریں ہوتی ہیں۔۔
اور پھر کچھ ہی دن گزرے ہوں گے ۔۔ کہ چھوٹے بیٹے عثمان کو سر کادرد شروع ہو گیا۔
اور یہ درد اتنا جان لیوا ثابت ہوا کہ۔۔ چیک اپ کروانے پے پتہ چلا۔کہ عثمان کو برین ٹیومر ہے اور وہ بھی آخری سٹیج پے۔۔۔!!
کسی کو یقین نہ آیا۔۔۔کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔۔۔؟
بہت علاج کروایا۔ لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ اور انتیس سال کی عمر میں ہی خالقِ حقیقی سے جاملے۔
کسی کو بھی انکی موت کا یقین نہ آرہا تھا۔
جو بھی سنتا حیران رہ جاتا۔
لیکن یہ سب اللہ کی کرنی ہے۔ جس نے اس دنیامیں آناہے اس نے جانا ہے۔ آنے کی ترتیب ہے جانے کی۔ نہیں۔
گھر بھر میں سناٹا چھاگیا۔
اور اس خاموشی کوہی ختم کرنے کے لیے علی کی شادی کر دی گٸ۔۔ انکی بچپن کی منگیتر رخسار کےساتھ۔
دونوں ہی ایک دوسرےکی چاہت تھے۔ کچھ وقت گزرا سب آہیستہ آہیستہ نارمل ہونے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ ہاتھ رخسار کاہی تھا۔
اپنی چاہت اور محبت ٠٠٠٠سے اس نے پورے گھر کو پھر سے ہنسنامسکرانا سکھا دیا۔
ابتسام کی پیداٸش پے تو گھر بھر میں خوشیوں کی لہر دوڑ گٸ۔
سبھی کی آنکھو ں کا تارا۔
جس کے پاٶں بھی کوٸی زمین پے نہیں پڑے دیتاتھا۔
اور سال بعد ارتسام کی پیداٸش پے تو مانو سب ہی جی اٹھے۔ اور وہی رونق پھر سے گھر بھر میں ہوگٸی۔
خوشیوں نے راستہ دیکھا تو۔۔ غم بھی چور رستےسے گھر میں داخل ہونےلگے۔
ابھی رخسار پھر سے امید سے تھیں۔ آخری مہینہ تھا۔ کہ ایک دن انکا کار ایکسیڈینٹ ہوا۔
علی توموقع پے ہی دم توڑگٸے۔
لیکن ارحام نے اس دنیا میں آنا تھا۔ اللہ نے چند سانسیں انہیں اور دے دیں۔ اور ارحام کی پیداٸش پے وہ بھی دم توڑ گٸیں۔
دونوں کو اللہ نے اتنی مہلت نہ دی کہ اپنے بیٹے کو ایک نظر ہی دیکھ پاتے۔
پیرزادہ منشن میں کہرام مچ گیا۔
اسد صاحب کی تو آج کمر ہی ٹوٹ گٸ تھی۔
لیکن تین پوتوں کی دیکھ ریکھ میں کچھ عرصے میں وہ ان میں گھل مل گٸے۔
ابی جان نے ہر طرح سے انکا خیال رکھا۔ ایک ماں سے بھی بڑھ کر۔
ابتسام علی پیر زادہ بڑا بیٹا۔
اکھڑ مزاج ضدی انتہا کا غصے والا۔ صرف اپنی کرنے والا۔ بزنس ٹاٸیکون۔۔۔ سب یہی کہتے۔
ابتسام علی پیر زادہ مٹی کو بھی سونا کردے۔
دوسرے نمبر پے ارتسام علی پیر زادہ جو ضد کرکے ڈاکٹری کی تعلیم کےلیے باہر روانہ ہوگٸے۔
اور اپنے والد اور چچا کی طرح ڈاکٹر بن کے واپس لوٹ رہے تھے اب۔
تیسرے نمبر پے تھے سب کی جان گھر بھر کی آنکھوں کی ٹھنڈک۔ ارحام علی پیرزادہ۔
یونی ورسٹی میں اپنی پڑھاٸی مکمل کر رہے تھے۔ اور آرٹ سے بے انتہا لگاٶ تھا۔
تینوں ہی میں ابی جان کی جان اٹکی رہتی تھی۔
کچھ سال پہلے ہی اسد صاحب بھی داغِ مفارقت دے گٸے تو۔ان کی پوری توجہ اپنے پوتوں پے ہوگٸ۔
پوری پیرزادہ منشن میں وہی تین زندگیاں تھیں۔ جو انکی اپنی زندگی کو اجاگر کرتی تھیں۔











فاریہ کا آفس میں بے دھڑک آنا ابتسام کو ایک اکھ نہ بھایا تھا۔
وہ بہت آزاد خیال لڑکی تھی۔
اور ابتسام کو دل وجان سے چاہتی بھی تھی۔
پلیز چلو ناں۔۔۔! آج لنچ باہر کرتے ہیں۔
مس فاریہ۔۔!! پہلی اور آخری بار کہہ رہا ہوں۔میرے آفس میں بنا پرمیشن کے مت آیا کریں۔
دوسری بات۔۔ میرے ساتھ زیادہ فرینک ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ مجھے وہ لڑکیاں قطعی پسند نہیں۔ جو خود کو ہر وقت پلیٹ میں رکھ کر سامنے والے کو پیش کرتی پھیریں۔
Be in your limits.
سختی سے کہے الفاظ پے فاریہ کا خفت کے مارے چہرہ سرخ ہوگیا۔
Ibtasam…!! how could you do this….??
We are friends.
فاریہ نے غصہ ضبط کرتے نارمل انداز اپناتے کہا۔
No… miss faria. We are not friends…
You are only daughter of my project partner. Understood.
now…leave.
ابتسام نےبھی سارے لحاظ بالاۓ طاق رکھتے کھری کھری سنا دیں۔
تم۔۔۔ اچھا نہیں کر رہے۔۔۔۔!! ناک پھلا کے کہتی وہ ابتسام کے غصے کو ہوا دے گٸ۔
ابتسام غصے سے اپنی جگہ سے اٹھا۔
اور اسکے بہت قریب جا کے کھڑا ہوا۔ کہ وہ اسکی آنکھوں کاقہر دیکھ دہل کے رہ گٸ۔
اوکے۔۔۔!! ٹیل می۔۔۔ واٹ ڈو یو وانٹ۔۔۔؟؟
Love… romance …??? Or deep romance….???
اسکے مزید قریب جاتے وہ فاریہ کی بولتی بند کر گیا تھا۔
پلیز۔۔۔۔!! ابتسام۔۔۔۔!!
No no baby…. tell.me...??
کیسا رومینس چاہتی ہو۔۔۔۔؟؟ آج بتا ہی دو۔۔۔۔!! ابتسام نے اسکی اچھی خاصی بے عزتی کر دی تھی۔
کہ وہ کچھ بھی کہنے کے لاٸق نہ رہی تھی۔
اور باہر کی جانب قدم اٹھاٸے کہ ابتسام نے بازو سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچا۔
آٸیندہ۔۔۔ میرے آفس میں۔۔ بنا ناک کے مت آنا۔۔۔۔!!
اسی میں تمہاری بہتری ہے۔۔۔
You got it…!!
سرد لہجے میں کہتا وہ فاریہ کے کان میں جیسے صور پھونک گیا۔
اور بنا اسکی طرف دیکھے اپنا کوٹ سیٹ کی پشت سے جھٹکے سے اتارا۔ ۔اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیۓ۔
جبکہ فاریہ وہیں پیچ وتاب کھاتی رہ گٸ۔
کھڑوس۔۔۔ بد لحاظ۔۔۔ بے شرم۔۔۔ پتہ نہیں کس چیز کی اکڑ ہے۔۔ اسے۔۔۔!! میں نےبھی یہ اکڑ نہ توڑی ایک دن۔۔ تو میرا نام بھی فاریہ اختر نہیں۔۔۔
دل ہی دل میں مزید پلان بناۓ۔
***************
بنک میں فیس جمع کروا کے وہ باہر نکلی ۔ تو اس نے موباٸیل چیک کیا۔ کہ شاید جمال صاحب کی کوٸی کال آٸی ہو۔ لیکن۔۔۔ مایوسی ہوٸی۔
اور روڈ کے ایک طرف چلتے اس نے جمال صاحب کو خود ہی کال ملاٸی۔
جو دوسری کال پے ہی اٹھا لی گٸ۔
لیکن موباٸیل سے رونے دھونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ کچھ سمجھ نہ آیا۔کہ ہوا کیا ہے۔۔؟
ہیلو۔۔۔۔!! روتے ہوٸے آواز آٸی۔
انکل۔۔۔۔!! کیا ہوا۔۔۔؟؟ شور کیسا۔۔۔؟؟ ردا ملی؟؟
فوراً ہی چھوٹتے پوچھا۔
بیٹا۔۔ !! اسکی حالت بہت بری ہے۔۔۔۔ ہاسسسسپٹل۔۔۔ لاٸے ہیں۔۔ ڈاکٹر بھی کچھھھ نہیں بتا رہے۔۔۔۔!!
آپ۔۔۔۔ کون سے۔۔۔ ہاسپٹل میں ہیں۔۔؟؟
ابرش نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
ہاسپٹل کا نام سنتے وہ کب روڈ پے آگٸ۔ اسے احساس ہی نہ ہوا۔
اور فون کان سے لگاۓ۔ وہ ایک گاڑی کے آگے جا کھڑی ہوٸی۔ گاڑی والے نے فوراً ہی بریک لگاٸی۔
اور قہر کی نظر سے اس لڑکی کو دیکھا۔
جو بالکل روڈ کے بیچ موباٸیل کان سے لگاۓ آنکھیں بند کیے کھڑی تھی۔
وہ غصے سے باہر نکلا اور سیدھا اسکے سر پے جا پہنچا۔
بازو سے پکڑ کر اپنی طرف اس کا رخ کیا۔
آفتاب کی تیز روشنی نے اسکے چہرے کو سنہرا بنا دیا تھا۔
اسے یوں لگا کہ ساری خوبصورتی اسکے سامنے آکھڑی ہوٸی ہو۔۔
اسکے چہرے کا ہر نقش ابتسام عادت کے بر خلاف بڑے غور سے بے اختیار ہی دیکھے جا رہا تھا۔
ابرش نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں۔ اسے لگا شاید آج وہ اللہ کو پیاری ہوگٸ۔
میں۔۔۔ بچ گٸ۔۔۔۔!! اسکی آنکھوں میں پہلے ڈر تھا۔
لیکن اگلے ہی لمحے اسکی آنکھیں چمک گٸیں۔
جسے ابتسام نے بہت دل سے محسوس کیا۔
فوراً ابرش کی مقابل پے نظر پڑی۔ جس نے ابھی بھی اسکا بازو تھام رکھا تھا۔
جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا۔
ماتھے پے تیوری چڑھاٸے منہ بنا کے سامنے والے سوٹڈ بوٹڈ بندے کو دیکھا۔
کیا گھورے جا رہے ہیں۔۔۔؟؟
ابرش کواسکا دیکھنا ناگوار گزرا۔
ابتسام نے نظروں کا زاویہ بدلا۔
ایویں۔۔۔۔۔!! زیِرلب بولتی وہ آگے بڑھی۔کہ۔۔۔
اگر مرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو۔۔۔ کہیں اور جا کے اپنی یہ خواہش پوری کرو۔ میری گاڑی کے سامنے آنا ضروری تھا۔۔۔؟؟
کانوں سے سخت آواز ٹکراٸی۔ تو ابرش کے قدم بے اختیار رکے۔
سر اوپر اٹھایا اور گردن موڑ کے اب سامنے والےکامکمل جاٸزہ لیا۔
دیکھنے میں اچھا خاصا شریف اور امیر لگ رہا تھا۔
لیکن۔۔۔ زبان۔۔کا کڑوا پن تھا۔ابرش نے ایک لمحے میں اندازہ لگا لیا۔
اور منہ لگنا ضروری نہ سمجھا۔
ایک گھوری سے نوازا۔۔اور واپس مڑ گٸ۔
کیب کرواتی۔ اسے ہاسپٹل کاکہتی وہ یکسر ابتسام کو نظر انداز کرتی جا چکی تھی۔
اور یہی بات ابتسام کو چبھی تھی۔
پہلی بار کسی لڑکی نے اس سے امپریس ہو کے اسکے قریب آنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
ورنہ آجکل ہر لڑکی ہی ادھر امیر لڑکا دیکھا نہیں منہ میں رال ٹپکنے لگتی ہے۔۔۔
ایسا ابتسام سوچتاتھا۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا۔ ہرلڑکی ایک جیسی نہیں ہوتی۔
گہری سوچ سے نکلتے سر جھٹکتے وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔
اور گاڑی کا رخ گھر کیجانب موڑ دیا۔
**********************************
ہاسپٹل میں کہرام مچا ہوا تھا۔
اچھا خاصا شور شرابا تھا۔
ابرش نے ڈاکٹر سے بات کی جسے سن ابرش کے پیروں تلے سے زمیں نکل۔گٸ۔
وہ چھوٹی سی بچی زیادتی کا شکار ہوٸی تھی۔ اور اسکی حالت بھی تشویش ناک تھی۔سفیہ خالہ کا رو رو کے برا حال تھا۔
ابرش کے پاس تو دلاسے کے لیے کوٸی الفاظ ہی نہ بچے تھے۔
وہ خود کو بہت بےبس محسوس کر رہی تھی ۔۔
منہ پے ہاتھ رلھے وہ وہیں ایک بینچ پے بیٹھتی چلی گٸ۔
آپی۔۔۔! دیکھنا ایک دن جب میں بہت زیادہ پڑھ لوں گی تو اپنا ہاسپٹل کھولوں گی۔ اور وہاں ۔۔ غریبوں کا مفت علاج کرواٶں گی۔
ادھر ادھر خالی نظروں سے سب و بھاگتے آتے جاتے دکھتے وہ غاٸب دماغی سے ردا کو ہس سوچے جا رہی تھی۔
کہ تبھی ڈاکٹر نے باہر آتے ردا کی زندگی کی نوید سناٸ۔
جسے سن ابرش نے سکون کا سانس لیا۔
کاش۔۔۔ مر جاتی تو۔۔۔ اچھا ہوتا۔۔۔۔!
کمال صاحب ہارے ہوٸے انداز میں وہیں بیٹھ گٸے۔سفیہ خالہ بھی سکتے میں تھیں۔
ایسا۔۔۔ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں آپ ؟ ابرش نےفوراً آگے بڑھ کے کمال صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے بنا کسی ڈر کے کہا۔
تو اور کیا کروں۔۔۔؟؟ ہن تو جیتے جی مر گٸے ہیں۔
کمال صاحب وہیں بینچ پے ڈھے سے گٸے۔
سفیہ خالہ منہ پے دوپٹہ رکھے اپنے آنسوٶں کا گلا گھونٹے ہوٸیں تھیں۔
آپ۔۔ماں باپ ہیں۔۔ یا قصاٸ؟ ابرش کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں لہجہ نم تھا لیکن اتنا ہی مضبوط۔
ابر۔۔۔۔بیٹا۔۔۔! تمجاٶ یہاں سے۔۔۔! سفیہ خالہ نے اسے وہاں سے جانے کا کہا۔ وہ مزید وہاں رکتی تو نجانےکیا کیا بولتی۔
ہرگز نہیں۔۔ ! میں یہاں سے کہیں نہیں جاٶں گی۔
ردا سے ملے بغیر تو بالکل نہیں۔۔۔! مڑتے ہوۓ سخت لہجےمیں بولی۔
ایکسکیوز می۔ پیشنٹکو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ آپ ان سے۔۔۔؟؟
ایک منٹ۔۔۔! ابھی وہ ڈاکٹر بات مکمل کرتی کہ انسپکٹر شاہان کی آمد نے ان سب کو چونکا دیا۔
وکٹم سے پہلے پولیس ملی گی۔۔۔ بیان لے گی۔۔ اس کے بعد ہی کسی اور کو ملنے کی اجازت ہوگی۔ ڈنڈا گھوماتا وہ سب کو اپنی نظر میں رکھے ہوۓ تھا۔
ابرش نے رخ پھیرا۔
انسپکٹر صاحب۔۔ ! میں ۔۔ آپ کے ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔ آگے۔۔ اتنی عزت اچھل چکی ہے۔ مزید۔۔۔؟؟ ہمت نہیں۔۔۔کمال صاحب کہتے ہاتھ باندھے رو دیٸے۔
بالکل نہیں۔۔ پولیس کیس ہے بزرگو۔۔۔۔! تفتیش تو ہوگی۔ ایک گہری نظر ابرش پے ڈالتی وہ معنی خیزی سے بولا۔۔
تفتیش کم۔۔ بے غیرتی زیادہ۔۔۔۔! کافی اونچی آواز میں وہ بڑبڑاٸ۔ کہ شاان نے آسانی سے سن لیا۔ اور اسکے ماتھے پےتیوری چڑھی۔
یہ تو ابھی کچھ دیر میں ہی پتہ چل جاٸے گا۔ اسکے آگے آتے وہ غصے سے کہتا ردا کے وارڈ کی جانب بڑھ گیا۔
اب مزید جگ ہنساٸ ہوگی۔۔۔ یاللہ مجھے۔۔ موت دے دے۔۔۔۔! کمال صاحب ہمت ہار چکے تھے ٹوٹ گٸے تھے۔
ابرش نے آنسو صاف کیے۔ اور خود بی رداکی وارڈ کیجانب بڑھی۔
کتنے لوگ تھے وہ۔۔۔؟؟ جہنوں نے اپ کے ساتھ۔۔۔ یہ سب۔۔۔؟؟
انسپکٹر۔۔۔! ابرش کی کڑک دار آواز پے شاہان نے مڑکے دیکھا۔
مضبوط قدموں سے وہ آگے بڑھتی آٸ۔
اسے اندر کس نے آنے دیا۔۔۔؟ وہ غصے سے بولا۔
اوے۔۔ فیقے۔۔۔ اسے نکال باہر۔۔۔! دانت پیستے ہوٸے بولا۔
مجھے تم تو کیا کوٸی بھی باہر نہیں نکال سکتا۔ سمجھے تم۔۔۔ اور اپنے ان واہیات سوالات کو لے کے یہاں سے دفع ہوجاٶ۔۔۔ ورنہ۔۔۔؟؟
ابرش نے دھمکایا۔
آہا۔۔۔۔۔ دھمکی۔۔۔؟ وہ بھی پولیس والے کو۔۔۔؟؟ شاہان ردا کو چھوڑے ابرش کی جانب بڑھا۔
انٹرسٹنگ۔۔۔۔! چلو۔۔۔ بتاٶ۔کیا کرو گی۔۔۔؟ ابھی وہ مزید کچھ کہتا کہ اسے ایک فون کال آٸ۔
جسے سن کے وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
کال بند کرتا وہ ابرش کے قریب ہوتا دانت پیستا اسے گھورتے دیکھنےلگا۔
تمہیں تو میں دیکھ لوں گا۔۔۔۔ فیقے۔۔۔ لڑکی کا بیان لے کے پولیس اسٹیشن پہنچ۔۔۔۔! آرڈر دیتا وہ باہر نکل گیا۔
ابرش نے سکون کا سانس لیا۔
اس نے اپنے سینیر ایڈووکیٹ سے کال کرواٸ تھی۔ جن کی بہت اونچی پہنچ تھی۔ اور فی الحال کے لیے تو جان چھوٹی تھی۔
آپ ۔۔ پلیز باہر جاٸیں۔ میں ردا۔۔۔ سے بات کرلوں۔۔ آپ۔۔ بعد میں بیان لے لیجے گا۔۔ بہت مہذب انداز مثس اس نے اہلکار سے کہا تو اس کے انداز سے متاثر ہوتا اثبات میں سر ہلاتا باہر نکلا۔
ردا بس روۓ جا رہی تھی۔
آپپپی۔۔۔۔! آنسوٶں میں گھٹی آواز آٸ۔
شی۔۔۔۔! کچھ مت کہو۔۔۔! ابرش نا چاہتے بھی رو دی۔ آنسو پونچھے وہ اسے حواصلہ دینے لگی۔ جنوت کے منہ سے واپس آٸ تھی۔
میں۔۔۔ میں۔۔ نے۔۔ اپنے آپ۔۔ کو ہت۔۔۔۔؟؟ لیکن۔۔۔ وہ۔۔۔؟؟ ردا ضبط کے باوجود آنسو ٶں کو روک نہ پاٸ۔
کون تھے وہ۔۔۔؟؟ لہجے میں سخت نفرت تھی۔
وہ۔۔۔ تین۔۔۔۔ تھے۔۔۔ بہت۔۔۔ غلط۔۔کیا۔۔۔۔؟؟ وہ روتے ہوٸے ہچکیوں سے بولی۔
نام۔۔۔۔ نام بتاٶ۔۔۔؟؟
ردا نے ان تینوں کی ڈیٹل ابرش کو دے دی۔
ابرش نے اسے سمجھایا کہ اس نے کیا بیان دینا ہے۔ اسے اپنے ساتھ کا یقین دلاتی وہ باہر آٸ۔
اور اہلکار کو اندر جانے کا اشارہ کیا۔
خالہ۔۔۔ ! میں ردا کو آپ کے حوالے کر کے جا رہی ہوں۔۔ اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ ورنہ۔۔۔ سیدھا۔۔۔ حوالات میں بند کرواٶں گی۔
بنا کسی لحاظ کے ابرش انگلی اٹھاتی وارن کرتی وہاں سے باہر نکلی۔ کمال صاحب دانت پیستے رہ گٸے۔ کیونکہ وہ انکی سوچ سے بھی ایک قدم آگے چل رہی تھی۔












ابر۔۔۔! بیٹا۔۔۔ مجھے لگتا ہے۔۔ آپ ضرورت سے زیادہ اس مسٸلے میں پڑ رہی ہیں۔۔۔ ! ساری بات سنتے مجیب صاحب نے پر سوچ انداز میں کہا۔
بابا۔۔۔!میں ردا کو انصاف دلاٶں گی۔۔ہر صورت۔۔۔چاہے کچھ بھی ہوجاٸے۔۔۔ ابرش کے لہجے میں ایک پختگی تھی۔
آپ کی بات درست ہے۔۔۔ لیکن آپ نے تو ردا کو۔۔۔ بیان بدلنے کا کہہ دیا۔۔۔ تو انصاف کیسے ملے گا۔۔۔؟؟
بابا۔۔۔! بیان بدلنے کو اس لیے کہا۔ کہ مجھے قانون کے ان محافظوں پے یقین نہیں۔ وہ مدد کم اور بے عزت زیادہ کرتے۔۔۔ ابرش نے اٹھتے ہوٸے کہا۔
جبکہ۔۔۔ ردا کو انصاف میں خود دلاٶں گی۔۔ اپنی محنت سے ۔۔۔ بنا ان پولیس والوں کی مدد کے۔۔۔!
اللہ آپ کو اس نیک مقصد میں کامیاب کرے۔ مجیب صاحب نے اسکے سر پے دست شفقت رکھا۔
ابرش نے دل سے آمین کہا۔
بیٹا۔۔۔! ایک بات اور کرنی ہے آپ سے۔۔۔! مجیبصاحب نے الفاظ ترتیب دیٸے۔
ابرش نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
بیٹا۔۔۔! ہمنے آپ کا رشتہ طے کر دیا ہے۔۔۔ اس امی پے کہ۔۔ آپ ہمیں ۔۔ناں نہیں کریں گیں۔۔۔؟؟ ہمارا مان رکیں گیں۔۔۔
بابا۔۔۔۔ برش کے اندر کچھ ٹوٹا۔۔۔
آپ۔۔نے یوں اچانک۔۔۔؟؟ ابرش کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے۔۔۔؟؟
بیٹا۔۔۔؟؟ لڑکا بہت اچھا ہے۔۔ اور اسکی فیملی بھی۔۔۔ اپنے باپ پے بھروسہ رکھیں۔ کوٸی غلط فیصلہ نہیں یں گے آپ کے لیے۔۔۔! مزید پیار سے کہا۔
بابا آپ پے آنکھ بند کر کے یقین ہے۔۔۔ لیکن ۔۔۔ا تنی جلدی۔۔؟؟ ابرش کا لہجہ ڈگمگایا۔
بیٹا۔۔۔! زندگی کا کیا بھروسہ۔۔۔؟؟ کب۔۔بلاوا آجاۓ۔۔؟؟ میں آپ کو مضبوط ہاتھوں میں سونپنا چاہتا ہوں۔۔
بابا پلیز۔۔۔! ایسی باتیں نہ کیا کریں۔۔ ابرش نم لہجے سے کہتے مجیب صاحٕب کے گلے لگی۔
بیٹا۔۔۔! سچ کا سامنا کرنے کی ہمت رکھیں جو دنیا میں آیا ہے اسے جانا ہے۔۔! خود کو مضبوط کریں۔۔ تا کہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔۔! رسان سے سمجھایا۔
ابرش خاموش رہی۔ اس نے خود کے لیے باپ کے فیصلے کو تر جیح دی تھی۔
جبکہ۔۔ وکیل بننے کا خواب اندر ہی اندر دم توڑنے لگا تھا۔۔۔













پیرزادہ مینشن ایک بار پھر سے خوشیوں کی آماہ جگ بنا تھا۔
ارتسام ڈاکٹر کی ڈگری لیے پاکستان پہنچ چکا تھا۔
ایک غرور تھا ابی کے اندر۔۔ ان کا جانشین انکا نام روشن کرنے چلا تھا۔
صدقے دیٸے گٸے
دیگیں بانٹیں گٸیں۔
نوٹوں کو بارش کی طرح برسایا گیا۔ کوٸ کسر نہ چھوڑی خوشی کومنانے میں۔
سارے رشتہ دار جاننے والے ابی کا احترام کرنے والے اس وقت پیرزادہ منشن موجود تھے۔اور بہت خوش تھے۔
ابتسام اور ارحام۔نے کوٸ کسر نہ چھوڑی تھی۔ ارتسام کو ویلکم کرنے کے لیے۔
بھاٸ۔۔۔ بس۔۔۔ اب تو پورا منہ بھر گیا ہے۔۔۔
ارتسام نے مٹھاٸ کو پیچھے کرتے منہ صاف کرتے کہا۔
نہیں۔۔ ! ابھی تو جشن شروع ہوا ہے۔۔۔ دیکھنا۔۔۔ تمہارا یہ بھاٸ۔۔۔ کتنا بڑا جشن کرے گا۔۔ اپنے بھاٸ کے ڈاکٹر بننے پے۔۔۔ ابتسام نے فخر سے کہا۔ تو ارتسام دھیما سا مسکرا دیا۔
یہی فرق تھا ان دونوں بھا ٸیوں کے بیچ۔
ابتسام کو شو آف کرنا پسند تھا۔ وہ پیسہ پانی کی طرح بہاتا تھا۔ اور اکڑ بھی تھی۔
جبکہ ارتسام میں سادگی تھی۔ وہ خاموش طبع اور میانہ روی کا قاٸل تھا۔
اپنی راٸے الگ رکھنے کے باوود اس نے کبھی ابتسام کو غلط نہیں کہا تھا۔ نہ ہی کبھی بھاٸ کے خلاف گیا تھا۔
وہ خوش تھا کیونکہ اس کے اپنے خوش تھے۔
اس کی جان اسکے بھاٸیوں میں تھی۔ اور وہ تینوں ہی ایک دوسرے پے جان نثار کرتے تھے۔
لیکن کون جانتا ہے۔۔۔ کہ وقت تو بدلتا بھی ہے۔۔۔
چاہت جہاں ہو وہاں نفرت بی دبے پاٶں آہی جاتی ہے۔
اب وقت ہی بتاۓ گا۔۔ ان کا آپس کا پیار کتنا نضبوط ہے۔۔۔؟؟ کیونکہ آزماٸش تو شرط ہے۔۔۔ !
جاری ہے
