Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

چاندنی بیٹا صبح تک کا انتظار نہیں کرسکتی کیا ہم کچھ اور بنا لیں۔۔۔ موسم بہت خراب باہر کا اور دونوں ملازم بھی چھٹی پر ہیں۔۔۔”
“ابو مجھے جانے دیں میں جلدی واپس آجاؤ گی بس یہ قریب ہی تو ہے بیکری آپ کی دوائی بھی لے آؤں گی۔۔۔”
“نہیں بچے میرا دل نہیں مان رہا تم ابھی کے لیے یہ کھانے کی ضد چھوڑ دو۔۔۔”
“ابو آپ نے کہا تھا آپ کا پوتا یا پوتی ان کو کسی چیز سے ترسانا نہیں ہے اور میں وہی کررہی ۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا وہ تو ٹھیک ہے پر بیٹا کل سہی۔۔۔”
اتنے میں ڈور بیل بجی تھی
شاہ زیب صاحب نے وقت دیکھا اور چاندنی کو پیچھے رہنے کا کہا وہ ویل چیئر دروازے کے پاس لے گئے تھے دروازہ کھولنے پر سامنے بہروز کو پاکر وہ حیران نہیں ہوئے تھے یہ تو معمول بن گیا تھا بہروذ کسی نہ کسی بہانے سے وہاں آتا تھا کبھی چاندنی کا پوچھنے تو کبھی ان کا۔۔۔
“آج کیا بہانہ ہے مسٹر ۔۔۔؟”
کمر پر ہاتھ رکھے چاندنی نے بے رخی سے پوچھا تھا جس پر بہروز شاہ زیب صاحب کی طرف جھکا اور سرگوشی کی
“آج پھر کوئی موڈ سوئنگ ۔۔۔؟ آپ بیچارے تو پریشان ہو جاتے ہوں گے۔۔۔”
“ابو کی اتنی ہی فکر ہے تو ابو کی پریشانی کم کریں مجھے باہر لیکر جائیں۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟”
“کیا۔۔؟؟ خبر دار میں اسکی اجازت نہیں دے سکتا ۔۔”
“پر چاندنی تو پہلے ہی باہر جاچکی تھی اور شاہ زیب صاحب سر پکڑ کر بیٹھ چکے تھے
“بہروز۔۔۔”
“آپ فکر نہ کریں وہ جیسی جارہی ویسی ہی لیکر آؤں گا۔۔ چچا جان جو ذمہ داریاں پہلے نہیں نبھا سکا وہ اب نبھانے دیں پلیز۔۔۔”
“ہمم۔۔۔”
“اور ایک بات۔۔۔ ہوسکے تو اپنی بیوی سے رابطہ کرلیں۔۔۔ انہیں وہ سزا نہ دیں انکے لیے سٹینڈ لیں۔۔”
شاہ زیب ششدرہ دیکھتے رہ گئے تھے بہروز کو وہ اپنی بات مکمل کرکے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وقت کے پاس لطیفے بھی ہیں ، مرہم بھی ہے۔۔
کیا کروں میں کہ۔۔۔ میرے دل میں تیرا غم بھی ہے”
۔
“میری آئس کریم کو دیکھنے سے میں صلح نہیں مار لوں گی اس لیے نظر مت لگائیں۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔” چاندنی نے جیسے ہی آئس کریم چھپائی بہروز کھلکھلا کر ہنس دیا تھا
“میں نظر نہیں لگا رہا تھا۔۔۔ دیکھ رہا تھا چاند کی چاندنی میں یہ چاندنی اور بھی مہک اٹھی ہے۔۔”
بہروز نے آنکھ مارتے ہوئے انگلی سے چاندنی کے ہونٹ کے قریب سے لگی ہوئی آئس کریم صاف کی تھی اور وہی انگلی جیسے ہی منہ میں ڈالی چاندنی کی آنکھیں شاک سے بڑی ہوگئی تھی۔۔۔
“مجھے گھر چلنا ہے۔۔۔”
“یا شئیو میڈم غلام حاظر ہے۔۔۔”
جانے سے پہلے اس نے ائس کریم پیک کروا لی تھی۔۔۔
۔
“پریگننسی سوٹ یو ویری ویل۔۔۔”گاڑی کا دروازہ کھولتے ہی اس نے چاندنی کے کان میں سرگوشی کی تھی جس کا جواب دئیے بغیر چاندنی بیٹھ چکی تھی۔۔۔
گھر کا سفر بہت جلدی گزر گیا تھا بہروز بھی خاموش ہوا تھا۔۔۔اور اسکی فلرٹی سائیڈ نے چاندنی کو پہلے ہی چپ کروا دیا تھا۔۔
۔
“مسٹر بہروز۔۔۔”
“یو ویلکم۔۔۔”
“ایکسکئیوز مئ میں تھینکس نہیں کہنے والی تھی میں کہنے لگی تھی کہ آئندہ نظر مت آئیے گا۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ ڈینجریس موڈ سوئنگ ہیں بیگم۔۔۔”
وہ جیسے ہی آگے بڑھا چاندنی پیچھے ہوکر جانے لگی تھی جب بہروز نے بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا وہ گھومتے ہوئے بہروز کی بانہوں میں آگری تھی۔۔۔
“غصے میں اور اچھی لگتی ہو۔۔۔ پر غصہ بچے کے لیے اچھا نہیں۔۔۔ کوشش کرنا کم کرو میں نہیں چاہتا ہمارا بچہ بھی سڑیل ہو ماں جیسے۔۔۔”
“ہوگیا ہو تو ہاتھ چھوڑیں۔۔ تماشا نہ بنائیں۔۔”
“اچھا ہے لوگوں کو بھی معلوم ہو شوہر کتنی فکر کرتا ہے۔۔۔”
“مائی فٹ۔۔۔”
خود کو چھڑانے کے لیے چاندنی نے بہروز کے شوز پر جیسی ہی جوتی رکھی بہروز نے غصہ کرنے کے بجائے وہ فاصلہ ختم کردیا تھا۔۔۔
آہستہ سے چاندنی کے ہونٹوں پر بوسہ دے کر وہ پیچھے ہوگیا تھا۔۔ اور جلدی سے گاڑی کی بیک سیٹ سے کچھ نکال کرلایا تھا۔۔
“چاندنی۔۔۔اپنی نائلہ خالہ کو واپس بلا لو۔۔۔ جو تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی وہ تم اپنی خالہ کے ساتھ مت کرنا کیونکہ اب وہ بیوی بھی ہیں تمہارے ابو کی۔۔”
“کیا۔۔؟ میں نہیں مانتی ایک اور دھوکا۔۔۔میں۔۔”
“دھوکا سمجھ کر اندر جاؤ اور اپنے ابو سے بھی رشتہ ختم کردو جیسے خالہ کو نکال کر انکے ساتھ کیا۔۔؟؟
جانتی ہو شاہ زیب چچا کن حالات سے گزرے۔۔؟؟ انہیں پاکستان سے باہر بھجوا دیا گیا تھا۔۔
دو سال تک وہ چل پھر نہ سکا کون تھا انکے پاس۔۔؟؟ انکا وجود انکا نام انکی پہچان سب مٹا دیا گیا۔۔
اگر تمہاری خالہ نہ ہوتی تو آج تمہارے ابو بھی نہ ہوتے۔۔۔”
“اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ میری ماں کی جگہ لے لیں۔۔۔ انہوں نے امی کی جگہ لی ہے بہروز۔۔ شاد۔۔۔شادی کرلی۔۔”
چاندنی نے روتے ہوئے کہا تو بہروز کچھ پل کے لیے خاموش ہوا تھا۔۔
“یہ شاہزین چچی کا جرنل۔۔۔ انکو زندگی میں ایک پچھتاوا تھا وہ پڑھ لینا۔۔۔
تمہاری خالہ کیوں ساری زندگی شادی نہیں کرتی وہ بھی لکھا ہے۔۔
شاید یہ سب پڑھ کر تمہیں اپنی خالہ کا درد سمجھ آجائے۔۔”
اور چاندنی نے جلدی سے اپنی والدہ کی لکھی ہوئی ڈائری کھینچ لی تھی۔۔۔
اور اندر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ابا جی کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہے بہروز اندر چلو اب۔۔۔”
“ابو آپ کا غصہ کم نہیں ہوا مجھ سے بات کر بھی رہے ہیں تو منہ دوسری طرف کرکے۔۔
ہاتھوں کی مٹھی بھی غصے سے بند کی ہوئی آپ نے۔۔”
“میں زیادہ بحث کرنے نہیں آیا چلو اندر۔۔۔ یہ گرمیوں کے دن نہیں کہ گزارا ہوجائے۔۔”
“اندر تلخیوں نفرتوں میں جتنا دم گھٹتا ہے وہ یہاں کی سردی میں نہیں گھٹے گا۔۔۔”
۔
“جیسی مرضی۔۔ میں نے تمہاری ماں سے وعدہ کیا تھا۔۔۔”
وہ کہہ کر واپس حویلی کی طرف چل دئیے تھے
“اور مجھے کچھ پل کو لگا کہ آپ کو فکر ہے بابا۔۔۔”
بہروز کی بات انہیں سنائی دی تھی انہوں نے پیچھے مڑ کردیکھا بھی تھا پر بہروز نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اگر ہمارے مذہب میں اجازت ہوتی تو میں نائلہ باجی کی شادی بھی شاہ زیب کروا دیتی۔۔۔”
۔
اور جب وہ ڈائری بند کی چاندنی کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔
اس نے موبائل فون ملا کر ایک ہی نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔
اپنی خالہ کا۔۔۔
“خالہ آپ واپس آجائیں۔۔۔”
“اس کا مطلب آپ نہیں آئیں گی۔۔۔ بہن کی بیٹی کو سزا دینا چاہتی ہیں۔۔
پر ابو کا کیا قصور ہے۔۔؟؟ خود غرضی میں نے دیکھائی میرے ابو نے نہیں۔۔۔”
جذبات سے بھرا لہجہ جب بات نہ کرسکا تو اس نے فون بند کردیا۔۔
ڈائری کو اپنی کپبرڈ میں چھپائے وہ اپنے ابو کے کمرے میں چلی گئی تھی جہاں والد صاحب شاہزین کی فوٹو کو سینے سے لگائے سو رہے تھے
“اوووہ۔۔۔ ابو۔۔۔۔”
والد کے ہاتھ پر سر رکھے وہ زمین پر بیٹھ گئی تھی کب نیند آگئی اسے پتہ نہ چلا جب آنکھ کھلی تو خالہ کو صوفہ پر بیٹھے دیکھ اس نے پھر سے پلکیں جھپکی تھی
“آپ سچ میں ہیں خالہ۔۔؟؟ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔۔”
خالہ کرگلے لگ کر وہ بار بار ان سے معافی مانگ رہی تھی ان کا شکریہ ادا کررہی تھی اور بیڈ پر بیٹھے شاہ زیب حیران ہو رہے تھے
“چاندنی بیٹا کیا ہوا ہے۔۔؟ سب ٹھیک ہے نائلہ کیا بات ہے تم اتنی صبح صبح یہاں۔۔؟؟”
“ابو میں نے بلایا خالہ کو۔۔ خالہ آپ آئی واپس مجھے بہت خوشی ہوئی۔۔۔ میں کچھ سوال جواب نہیں کروں گی۔۔ آپ کی جگہ یہاں ہے ابو کے ساتھ۔۔ مجھے یا کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ میں کوئی فیصلہ کروں۔۔۔
میں آج ناشتہ بنا کر لاتی ہوں ۔۔۔”
وہ آنکھیں صاف کئیے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے بیٹا۔۔۔”
نائلہ بیگم نے اس بچی کو چاندنی کے سینے پر لٹا دیا تھا۔۔۔اور خود باہر جا کر شاہ زیب صاحب کی ویل چئیر کو سہارا دئیے اندر لے آئی تھی۔۔
“بہت بہت مبارک ہو میری بچی اللہ پاک نے نعمت سے نوازا ہے۔۔۔”
“الحمدللہ ابو۔۔۔”
بیٹی کا ماتھا چومے وہ اسے اپنے سینے سے لگائے آنکھیں بند کرچکی تھی
“چاندنی بیٹا۔۔ میں کسی کا حمایتی بن کر نہیں کہہ رہا۔۔ سائیڈ نہیں لے رہا۔۔ مگر بہروز کو پچھلے کچھ ماہ سے نوٹ کررہا ہوں۔۔ وہ جس طرح ہمہ وقت دروازے پر رہتا تھا تمہارے فکر میں ہر وقت وہ اس بچے کی ہم سب کی زندگیوں کا ایک اہم حصہ بن گیا۔۔ ہماری بے رخی کے بعد بھی اس نے کوشش کرنا نہیں چھوڑی۔۔۔
یہ کوشش انسان کو جھکنے نہیں دیتی ہارنے نہیں دیتی۔۔۔
میں جانتا ہوں تم آج اپنا فیصلہ سنا دو گی۔۔ اس سے طلاق کا۔۔۔”
“مگر میں چاہتا ہوں تم اسے ایک آخری موقع دو۔۔۔اپنے لیے اپنے بچوں کے لیے شایان کے لیے۔۔۔ اس بچی کے لیے چاندنی۔۔۔”
شاہ زبیب صاحب نے چاندنی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا جس پر نائلہ بیگم نے اپنا ہاتھ رکھا تھا
۔
“تمہارے ابو ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔ چاندنی۔۔ فیصلہ تمہارا ہے مگر اپنے بچوں کا سوچ لینا۔۔۔ اور۔۔۔”
چاندنی نے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھا تھا
“چاندنی تم دونوں کی صلح اس خاندان کو اور اس بیٹے کو پھر سے ایک کردے گی۔۔
بہروز نے جو کیا وہ غلط تھا برا تھا۔۔ مگر جو اسکے ساتھ ہورہا وہ بھی اچھا نہیں ہورہا۔۔
روز رات اسے چھپ چھپ کر کھانا دینے جانا اس پر کمبل اوڑھنے جانا کب تک چلے گا۔۔؟؟”
انہوں نے آخری باتیں اتنی آہستہ سے کہی کہ بس چاندنی کو سنائی دی تھی۔۔۔
“بیٹا وہ باہر انتظار کررہا ہے۔۔ میں اسے اندر بھیجتا ہوں جو فیصلہ کرو ہمیں منظور ہوگا۔۔
۔
وہ دونوں جیسے ہی باہر گئے تھے بہروز پریشانی کے عالم میں یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا جب ان دونوں کو باہر آتے دیکھا تو جلدی سے اس نے ایک ہی بات پوچھی
“چاندنی کیسی ہے اب وہ ٹھیک ہے۔۔؟؟ کچھ کمپلیکیشن تو نہیں۔۔؟؟ آپ”
“بیٹا اندر چلے جاؤ۔۔ پر ایک وعدہ کرکے جانا اگر چاندنی نے فیصلہ علیحدگی کا کیا تو تم خاموشی سے قبول کرلو گی اور دور چلے جاؤ گے میری بیٹی کی زندگی سے۔۔۔”
بہروز جو ابھی کچھ وقت پہلے اندر جانے کے لیے بےتاب تھا اب اسے گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔۔اس نے ایک نظرپیچھے گھما کر اپنی فیملی کو دیکھا اور پھر گہرا سانس بھرے اندر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چاندنی۔۔۔”
بہروز۔۔۔”
چاندنی نے آہستہ آواز میں کہا۔۔ بہروز سامنے کرسی پر بیٹھنے کے بجائے بیڈ پر چاندنی کے پاس بیٹھ گیا تھا وہ جیسے ہی بیٹھا چاندنی نے اس بچی کو بہروز کے آگے کیا تھا۔۔۔
“کیا نام رکھا۔۔؟؟”
بہروز نے پوچھا
“کیا نام سوچاہے۔۔۔؟؟”
چاندنی نے الٹا سوال پوچھ لیا جس پر بہروز حیرا ن ہوگیا تھا پر چہرے پر کوئی تاثر ظاہر نہیں کیا
“میں جانتا ہوں آج کا دن آخری دن ہے میرا تمہارے پاس اپنی بچی کے پاس۔۔
اور میں چاہتا ہوں آج کے دن میں کچھ کہوں اور تم چپ چاپ سنو۔۔۔”
چاندنی نے سر ہلا کر جھکا لیا تھا۔۔۔
کتنی دیر وہ دونوں اتنے پاس ایک دوسرے کی دھڑکنیں سنتے رہے کتنی دیر خاموشی چھائی رہی۔۔۔ اور بہروز نے گہرا سانس بھرا۔۔
“سوچا تھا بہت کچھ بولوں گا بہت کچھ کہوں گا۔۔۔ مگر کہنے کو کچھ نہیں چاندنی۔۔ بس اتنا جان لو تم اور ہمارے بچے ہمیشہ میرے دل میں میرے زندگی میں رہو گا۔۔ آور آج کے بعد میں اپنا چہرہ۔۔۔”
وہ بچی رونے لگ گئی تھی جسے بہت جلدی بہروز نے واپس چاندنی کو دینے کی کوشش کی پر چاندنی نے پکڑنے سے انکار کردیا تھا۔۔۔
“مسٹر بہروز حاکم اگر آپ سمجھتے ہیں مجھے آپ بچوں کی زمہ داری سونپ کر خود ایک کنوارے مرد والی زندگی گزاریں گے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔۔
چاہت کی شایان کی ذمہ داری آپ کی زمہ داری ہے۔۔۔ میں جم جوائن کرنا چاہتی ہوں موٹی ہوگئی ہوں۔۔ دن میں ایک وقت کا کھانا میں بنایا کروں گی۔۔۔ بس
باقی اگر آپ کو لگتا ہے میں آپ کو سنگل ہونے کا شرف بخشوں گی تو یہ آپ کی بھول۔۔۔”
بہروز نے چاندنی کی گردن پر ہاتھ رکھے وہ فاصلہ ایک جھٹکے میں ختم کردیا تھا
اسکے ہونٹوں کا وہ لمس اسکی محبت کی وہ شدت چاندنی کی سانسیں چرا گئی تھی۔۔۔
“تم نہیں جانتی تم نے مجھے کتنی خوشی دی ہے۔۔”
“خبر دار۔۔۔ مسٹر بہروز جو پھر کبھی بچوں کے سامنے اپنی یہ بےشرمی۔۔”
اس بار اپنی بیٹی کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے بہروز نے وہ فاصلہ ختم کیا تھا
“دیکھو زرا رونا بند کردیا تھا اس نے میری لاڈلی۔۔۔
بیٹی کو سینے سے لگائے اس نے بیوی کے غصے سے بھری نگاہوں کو مکمل اگنور کردیا تھا
“ظاہر ہے ٹیم بنا لی ہے ابھی سے اس نے۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ میری جان۔۔۔ تم نہیں جانتی تم نے مجھے کیا دہ دیا ہے آج۔۔۔
میں اپنے رب کا شکر ادا کیسے کروں چاندنی جس نے مجھے تم جیسی بیوی اور بچوں سے نوازا۔۔”
چاندنی کے ماتھے پر سر رکھے اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“شش بس کرجائیں۔۔۔بہروز۔۔رونے کے دن چلے گئے۔۔۔ اللہ اچھا وقت لے آیا ہے۔۔”
بہروز کی کمر ملتے ہوئے اس نے بہروز کو چپ کرووانے کی کوشش کی تھی۔۔۔
۔
اور اسکے بعد کتنے گھنٹے وہ ایسے ہی باتیں کرتے رہے شایان کو اپنے ساتھ بٹھا کر چاندنی نے اس وقت بہروز سے کوئی وعدہ لیا ہو یا نہ لیا ہوا مگر یہ وعدہ ضرور لیا تھا کہ اب وہ شایان کو کبھی اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا۔۔۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے۔۔۔
۔
اس دن کے بعد انکی زندگی نے ایک الگ رخ لے لیا تھا خوشیوں بھرا رخ جہاں غم کا سایہ نہیں تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭۔۔۔۔۔ختم شُد۔۔۔۔۔٭٭٭