Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
حاکم حویلی میں جس لڑکی کے چہکنے پر معلوم ہوتا تھا کہ صبح ہوگئی ہے اب وہ بہت خاموش رہنے لگی تھی خاص کر رابیعہ کے آنے گے بعد۔۔۔
جس رات بہروز سے لڑائی ہوئی اس نے فیصلہ کرلیا تھا اب وہ اپنی جگہ کا تعین کرے اور دیکھے بہروز کی زندگی میں اسکی حیثیت کیا ہے۔۔۔
۔
چنانچہ۔۔ اگلی صبح اس نے پہلی بار آزمایا تھا بہروز حاکم کو جب بہروز کے ساتھ والی کرسی پر رابیعہ کو بیٹھنے کا کہا سب کو تو شاک کیا پر بہروز کو طیش دلا دی تھی
“آپ یہاں بیٹھیں۔۔۔”
“ماں یہ تو آپ کی سیٹ ہے۔۔۔”
“بیٹا آج یہ۔۔۔۔”
“اگر تم ایک منٹ سے پہلے اپنی سیٹ پر نہ بیٹھی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔”
چاندنی کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا اس نے۔۔۔
“شاہدہ ناشتہ لے آؤ۔۔۔سنبل میڈم کو اپنے ساتھ والی چئیر دو۔۔۔”
۔
وہ نام سے پکار ہی نہیں رہا تھا یہ سب نے نوٹ کیا۔۔۔
“اب میرا منہ دیکھیں گے کہ ناشتہ شروع کریں گے۔۔؟؟”
اسکی گرج والی آواز پر دادا جی بھی ناشتہ کرنا شروع ہوگئے تھے
“بابا آج ہم جائیں گے باہر۔۔؟؟”
“بیٹا ماں سے پوچھو۔۔۔ زرا اتنا منہ پھلا کر بیٹھی ہوئی۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔آؤچ۔۔۔”
چاندنی نے بہروز کے شوز پر جیسے ہی پاؤں مارا تھا اسکی آواز پر چہروں پر مسکراہٹ آگئی تھی
اور اس مسکراہٹ نے رابیعہ کو ایک ایسی جلن میں مبتلا کردیا تھا کہ اب اس نے خود عہد کیا تھا وہ بہت جلدی ان سب کی ہنسی چھین لے گی اور اس لڑکی کو بہت جلدی نکال باہر کرے گی بہروز کی زندگی سے۔۔۔
۔
“دادا جان اپنی بیٹی کو یہ بھی سیکھا دیں جب شوہر آفس کے لیے جائے تو بیوی کا فرض ہے باہر دروازے تک چھوڑنے جائے۔۔۔”
وہ اپنا کوٹ اور آفس بیگ اٹھائے باہر تک چلا گیا تھا۔۔اور چاندنی وہ منہ دیکھتی رہ گئی تھی سب
“جاؤ بیٹا۔۔۔ “
دادی جان نے اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔۔۔
۔
اور وہ پاؤں پٹک کر باہر چلی گئی تھی جہاں بہروز کسی شیر کی طرح چکر کاٹ رہا تھا
اور چاندنی جیسے ہی باہر آئی اس نے وال کے ساتھ پن کردیا تھا۔۔۔
“بہروز۔۔۔”
“ششش۔۔۔”
منہ پر ہاتھ رکھے اس نے غصےسے دیکھا تھا اسے۔۔۔
“مسز بہروز حاکم۔۔ آج میں نے یہ گستاخی برداشت کرلی۔۔۔ مگر آج کے بعد اگر اس عورت کو میرے قریب بیٹھانے کی کوشش کی تو میں بھی ایک گستاخی کروں گا ساری فیملی کے سامنے کے تم سال تک کمرے سے باہر نہیں نکل سکو گی۔۔”
چاندنی کا منہ کھلا اور آنکھیں شاک سے بڑی ہوگئی تھی۔۔
“بہروز۔۔۔”
“بس۔۔۔ “
بہروز نے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اپنی اوڑھ کیا تھا
“تمہارے یہ گستاخ ہونٹ بہت زیادہ گستاخیاں کررہے ہیں۔۔ میرا کہنا نہ مان کر ایک غلطی تو کردی اور غلطی کی سزا تو ملے گی نہ۔۔؟؟”
“بہرو۔۔۔”
وہ شرما کر سر نیچے کرنے لگی تھی جب بہروز نے تھوڑی پر ہاتھ رکھے اسکا منہ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔ وہ فاصلہ ختم کرچکا تھا پر اس بار وہ پیار کا نہیں غصے کا ااظہار کررہا تھا اور سزا دہ رہا تھا۔۔۔
“آپ بہت برے ہیں۔۔۔”
درد کا احساس ہوا تھا اس نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا
“ہاہاہاہ وہ تو میں جانتا۔۔۔ ہوں میں کتنا برا ہوں یہ آکر بتاؤں گا۔۔۔”
ماتھ پر بوسہ لئیے وہ چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
اس سین کو دیکھتے ہوئے دور کھڑی رابیعہ کی آنکھیں بھر آئی تھی اور وہ واپس اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ عرصہ اور گزر گیا تھا۔۔۔ اور ان میں چاندنی معصومیت میں پیچھے ہٹتی جارہی تھی اور رابیعہ کی چالاکیاں اسے آگے لاتی جارہی تھی۔۔۔
چاندنی شایان کو خود سے دور جاتے دیکھ رہی تھی پر خاموش تھی وہ بہروز کو رابیعہ اور شایان کے ساتھ وقت گزارتے دیکھ رہی تھی پر خاموش تھی۔۔
وہ گھر والوں کو رابیعہ کے ناز نخرے اٹھاتے دیکھ رہی تھی پر خاموش تھی۔۔
وہ اپنی جگہ کو تبدیل ہوتے دیکھ رہی تھی پر خاموش تھی۔۔۔
وہ سارا وقت خاموش رہنے لگی۔۔
رابیعہ کے بڑھتے الزام زرا زرا سی بات پر چاندنی کو قصور وار ٹھہرانا اور اسکا خاموش رہنا اسے سب کی نظروں میں مشکوک بناتا جارہا تھا پر وہ پھر بھی خاموش تھی۔۔۔
وہ جانتی تھی حق سچ کی جیت ہوتی ہے اسکی ہار کیسے ہوسکتی۔۔؟؟
وہ اللہ پر سب فیصلے چھوڑ چکی تھی۔۔۔
اور جب دل بہت بھر جاتا تو وہ ماں باپ کی قبر پر چلی جاتی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چاندنی۔۔ وہ بچہ ہے۔۔۔تم اس طرح اسے نہیں ڈانٹ سکتی۔۔۔”
“وہ جھوٹ بول رہا ہے ہے۔۔۔”
“میں نہیں مان سکتا۔۔۔”
“تو میں جھوٹ بول رہی ہوں۔۔؟؟”
“رابیعہ کو نیچا دیکھانے کے لیے تم جھوٹ بھی بول سکتی ہو۔۔۔چلو شایان بیٹا۔۔۔”
وہ دونوں جیسے ہی روم سے جانے لگے تھے چاندنی کی اگلی بات نے بہروز کے قدم روک دئیے تھے
“اچھا ہوا جو آپ کی پہلی بیوی واپس آئی بہروز کم سے کم مجھے معلوم ہوا کہ آپ کو مجھ پر کتنا یقین ہے۔۔ ورنہ میں تو ساری زندگی اندھیرے میں رہتی نہ۔۔؟؟
اپنی زندگی اور بستر پر جگہ دہ دی دل میں نہ دے سکے۔۔اگر دیتے تو آج ہم دونوں کے درمیان یہ فیصلہ نہ ہوتا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
۔
“دادی میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ آپ وعدہ کریں کسی کو نہیں بتائیں گی۔۔۔”
“شایان بیٹا کیا بات ہے۔۔؟؟ کیا چاندنی نے پھر ڈانٹا تمہیں۔۔؟؟ ہاتھ جلایا کچھ کہا۔۔؟؟”
“وہ دادی۔۔۔”
شایان کہتے ہی دادی کے گلے لگ کر رونا شروع ہوگیا تھا
“چاندنی کو سمجھایا بھی تھا۔۔۔ وہ اپنا غصہ بچے پر نہ نکالے بہروز اگر اس کا ہے تو واپس ضرور آئے گا۔۔”
“دادی۔۔۔ چاندنی ماں نے کچھ نہیں کہا۔۔ کبھی کچھ نہیں کہا۔۔۔ میں نے جھوٹ بولا۔۔۔ میں جھوٹ بولتا رہا۔۔”
“کیا۔۔؟؟ شایان بیٹا کیا یہ سب چاندنی سے ڈر کر کہہ رہے ہو۔۔؟؟”
دادی کو شایان پر غصہ آرہا تھا۔۔پر وہ پھر بھی بار بار چاندنی کو برا بھلا کہہ رہی تھی تاکہ سچائی جان سکیں۔۔۔
مگر اس بچے نے جیسے جیسے سچ بتانا شروع کیا داداماں کے رونگتے کھڑے ہوگئے تھے
“انہوں نے مجھے کہا تھا اگر میں بابا کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں تومیں چاندنی ماں کو بابا سے دور کردوں۔۔۔
میں نے جھوٹ بولا تھا۔۔۔”
“اور اب سچ کیوں بول رہے ہو شایان۔۔؟؟”
“کیونکہ چاندنی ماں روتی ہیں۔۔۔”
“تو رونے دو اسے۔۔ تم خوش ہو تمہارے بابا خوش ہیں تمہاری موم خوش ہیں۔۔”
شایان نے روتے ہوئے منہ اوپر کرکے دادی کی طرف دیکھا تھا
“میں خوش نہیں ہوں۔۔ چاندنی ماں کے پاس جانا ہے مجھے۔۔یہ دیکھیں ماما کو کہا تو انہوں نے مارا مجھے۔۔۔”
بازو سے شرٹ کو ہٹا کر شایان نے نشان دیکھائے تھے رابیعہ کے ناخنوں کے۔۔
“یا اللہ۔۔۔تم اس بارے میں چپ رہنا میں بات کرتی ہوں۔۔۔ بس نزعت کو کمرے میں بھیج دو۔۔۔”
“آپ چاندنی ماں سے میری بات کروائیں گی نہ دادی۔۔؟؟”
“ہاں میرے بچے۔۔۔”
۔
کچھ دیر میں جب نزعت روم میں آئی تو دادی نے دروازہ اندر سے لاک کرلیا تھا۔۔۔
۔
“نزعت ۔۔ہمارا شک سچ ثابت ہوا۔۔ شایان کو ڈرایا جارہا تھا۔۔اسے تنگ کیا گیا خوفزدہ کیا گیا۔۔اور جانتی ہو وہ کون۔۔”
“رابیعہ ہے وہ ہے نہ۔۔؟؟ میں جانتی تھی پہلے دن سے۔۔ اسکا یہاں واپس آنا مجھے ایک آنکھ نہ بھایا تھا بڑی بی۔۔۔”
“ہماری چاندنی کے پچھلے تین ماہ سے بہت ظلم ہورہا سب اسے غلط سمجھ رہے۔۔ جو اس نے کیا بھی نہیں۔۔۔”
“بڑی بی۔۔۔ برا مت مانئیے گا اگر میں آپ کو عین وقت پر نہ روکتی تو آپ بھی چاندنی کو دھتکار دیتی جیسے دادا جی نے۔۔”
“بس نزعت۔۔۔ میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔۔۔”
“تو اس یتیم بچی کے دل پر کیا بیتی ہوگی آپ نے سوچا۔۔؟؟ پچھلے تین ماہ وہ اپنوں کے سامنے مجرم بن گئی تھی۔۔ ہر بات پر اسے ٹھکرایا جا رہا تھا۔۔ اور رابیعہ کو برتری دی جاتی رہی۔۔۔اور۔۔”
“میں اور برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔”
دادی ماں کی حالت دیکھ کر نزعت خاموش ہوگئی تھی
“بڑی بی۔۔۔ میں اپنے بیٹے کو بلاتی ہوں آپ جیسا کہیں گی ویسا کرلیں گے۔۔۔”
۔
وہ کچھ دیر میں شایان کو بھیج چکے تھے رابیعہ اور گھر سے باہر لے جانے کے لیے کسی بہانے سے۔۔۔ اور بہروز بھی ۔۔
اور جب رابیعہ کا کمرہ خالی تھا تو دادی خود سیڑھیوں میں کھڑی ہوگئی اور۔۔۔ ثبوت حاصل کرنے کے لیے کچھ ایسے اقدام کردئیے تھے جن کے ٹھوس شواہد ملنے پر وہ سب کو دیکھانا چاہتے تھے۔۔۔
۔
