Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“کیوں کیا تم نے ایسا۔۔ بہروز آخر تم چاہتے کیا ہو۔۔؟؟”
بہروز جیسے ہی فریش ہوکر باہر آیا اسکے بیڈروم میں وہ چاروں لوگ موجود تھے
دادا دادی ماں بابا۔۔۔ جنہیں دیکھ کر وہ حیران نہیں ہوا تھا
“میں نے کچھ نہیں کیا تھا ماں اب تیز بارش میں اسے وہیں چھوڑ دیتا۔۔؟؟ اسکا دوپٹہ اڑ گیا تھا ۔۔۔ اب کیا کرتا۔۔؟؟”
وہ بال صاف کرن جیسے ہی شیشے کے سامنے گیا تھا شاہنواز صاحب اسکے سامنے تھے
“بنو مت بہروز۔۔ اگر تم چاندنی کی زندگی پھر سے خراب کرنا چاہتے ہو تو سوچ لو میں سامنے کھڑا ہوں۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔”
اور وہ تو چلے گئے تھے پر باقی تین لوگ اپنی اپنی سوچ میں گم تھے اور دادا جی کی اگلی بات نے دادی اور زینب دونوں کو ایک دم سے حیران کردیا۔۔
“بہروز اگر تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو تو بتا دو۔۔ میں کروا دوں گا۔۔ میں شاہ زیب کی خواہش پوری کرنے کے کوشش کروں گا۔۔۔ تم اپنا بتاؤ بس۔۔”
“ہاہاہا وٹ۔۔۔؟؟ ہاہاہاہاہاہا دادا جان یہ مذاق تھا۔۔۔؟؟ وہ لڑکی نہ میری پہلی پسند تھی نہ دوسری بنے گی۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ میں مرتا مر جاؤں پر کبھی اسے سے شادی۔۔۔؟؟
کبھی نہیں ۔۔۔”
وہ ہنستے ہنستے غصے میں آیا اورموبائل اٹھائے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
اور آنے والے دنوں میں ثاقت سے چاندنی کی منگنی کی تیاریاں زور و شور پر تھی حویلی میں شادی سے کچھ دن پہلے مہمان اور رشتے داروں نے آنا شروع کردیا تھا
اور بہروز حاکم ان دونوں وہ سب کررہا تھا جو اس نے پہلے نہیں کیا ہو۔۔۔
وہ چاندنی کی چھوٹی سے چھوٹی بات کو نوٹ کرنے لگا۔۔۔ اب وہ جگہ چھوڑ کر نہیں بھاگتا تھا۔۔
اب وہ چھپ چھپ کراسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔ پر وہ اکیلا نہیں تھا جو چاندنی کی توجہ حاصل کرنا چاہتا ہو۔۔۔ شایان بھی بہت اٹیچ ہوچکا تھا ان دنوں چاندنی کے ساتھ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ مت جائیں۔۔پلیز مس چاندنی۔۔۔”
“شایان بیٹا۔۔۔ پھر سے رونا شروع کردیا۔۔؟؟ ارے میں ملنے آتی رہوں گی۔۔۔”
“نہیں مجھے آپ کو اپنے ساتھ رکھنا ہے پلیز۔۔ مس چاندنی۔۔۔”
“ہاہاہاہا چاندنی کیا جادو کردیا ہے اس پر۔۔؟؟”
“ہاہاہا ماں مجھے تو خود معلوم نہیں ہوا کب شایان سے اتنی اٹیچمنٹ ہوگئی ۔۔۔”
زینب بیگم خاموش ہوگئی تھی جب چاندنی نے اپنی گود میں بٹھائے شایان کو خوب سارا پیار کرنا شروع کیا۔۔۔
“آپ رک جائیں۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا آپ میرے بابا سے شادی کرکے میرے ساتھ رہیں۔۔۔”
“شایان۔۔”
چاندنی کے بولنے سے پہلے بہروز غصے سے بولا تھا وہ ابھی ابھی روم میں اینٹر ہوا تھا اور اپنے بیٹے کی بات سن کر وہ جس طرح آگ بگولا ہوا تھا اس نے سب کو ایک واضح پیغام پہنچایا تھا کہ اس کا چاندنی کا رشتہ ناممکن بات ہے۔۔۔
جو کہ چاندنی سمجھ گئی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن اور گزر گئے تھے اس دن کے بعد چاندنی نے بہروز کو مکمل اگنور کرنا شروع کردیا تھا پوری طرح سے یا تو اس نے خود بہروز حاکم کی باتیں سن لی تھی یا کسی نے اسے اسکی اوقات بتا دی تھی بہروز کی زندگی میں۔۔
۔
۔
“دل لینے والے پہ زور نہیں چلتا۔۔پیار کا یہ سکہ کہیں اورر نہیں چلتا
یاد تیری آئی ہے۔۔ تو ہرجائی ہے۔۔ اتنا بھی کوئی ستائے نہ ربا۔۔”
۔
۔
“چاندنی بیٹا تیار ہوگئی ہو۔۔؟؟ سب آچکے ہیں نکاح کا وقت ہورہا ہے۔۔۔”
“جی ماں میں تیار ہوں۔۔”
اس بار کمرے میں کچھ نہیں تھا نہ پہلی بار کی طرح تیار کرنے والیاں نہ وہ بناؤ سنگھار چاندنی نے درخواست کی تھی سادگی کی۔۔اور وہی ہورہا تھا۔۔
اس بار اسے خوف نہیں تھا نہ کوئی خوشی نہ کوئی غم۔۔
اس بار وہ پوری طرح بلینک تھی۔۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا سب اتنی جلدی جو ہورہا ۔۔ ابھی کل کی بات تھی جب منگنی ہوئی۔۔
“امی ابو۔۔ ایک بہت بڑا فیصلہ ہوگیا ہے میری زندگی کا۔۔ آپ ہیں نہ میرے ساتھ۔۔؟؟”
فوٹو فریم اٹھا کر ایک ٹھنڈی آہ بھری تھی اس نے۔۔اور پھر دادی اور زینب بیگم اسے لینے آگئے تھے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز ابھی بھی وقت ہے چاندنی بہت اچھی لڑکی ہے۔۔”
“فرحین چچی پلیز۔۔۔ میں ریکوئسٹ کرتا ہوں آپ سے۔۔۔ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔”
۔
“میں آپ کو شادی نہیں کرنے دوں گا مس چاندنی۔۔۔”
شایان کی اونچی آواز نے سب کو خاموش کروا دیا تھا
“شایان۔۔ یہ کیسے یہاں آیا۔۔۔اسے تو بہت تیز بخار تھا۔۔”
فرحین چچی جلدی سے شایان کی طرف بڑھی تھی
“مس چاندنی۔۔۔ پلیز۔۔۔ میرے بابا سے شادی کرلیں۔۔۔آپ کہیں مت جائیں میں آپ کو کہیں نہیں جانے دوں گا پلیز۔۔۔آپ۔۔۔”
اور شایان بے ہوش ہوگیا تھا۔۔۔
سب سے پہلے چاندنی بھاگتے ہوئے اسکی طرف آئی تھی۔۔۔
“شایان۔۔۔شایان۔۔۔ بہروز۔۔۔ دیکھیں اسے کیا ہوا جلدی سے ڈاکٹر کو بلائیں۔۔۔”
چاندنی کی آواز سن کر بہروز صدمے سے باہر آیا تھا وہ ابھی بھی حیران تھا جس برح شایان نیچے گرا۔۔۔اسکے وجود سے جان نکل گئی تھی اپنے بیٹے کو نیچے گرتے دیکھ۔۔
وہ جلدی سے اسے اٹھا کر روم میں لے گیا تھا۔۔
۔
“جلدی سے ڈاکٹر کو بلائیں دادا جی جلدی سے۔۔”
چاندنی بھی چلاتے ہوئے اوپر چلی گئی تھی اور وہ دلہے والے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے تھے اس وقت۔۔
۔
“یہ سب کیا تماشہ ہے۔۔؟؟ ثاقب وہ تمہاری ہونے والی بیوی ایسے کیسے اسے نکاح سے زیادہ کسی اور کی فکر ہورہی۔۔؟ بھابھی یہ سب کیا ہے۔۔؟؟”
“کچھ بھی تھا دلہن کو ایسے سٹیج چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔۔”
“مجھے تو کوئی اور ہی چکر لگ رہا دیکھا نہیں کیسے اس کا نام لے رہی تھی۔۔
یہ وہی ہے نہ جس سے شادی ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔۔۔؟؟”
۔
“آپ کو کوئی حق نہیں ہماری بچی کے کردار پر انگلی اٹھانے کا۔۔”
“وجدان۔۔ غصہ نہ کریں۔۔۔چپ ہوجائیں۔۔۔”
“کیسے چپ ہوجاؤں۔۔؟؟ دیکھیں آپ لوگوں کو سمجھنا ہوگا وہ بچہ چاندنی سے بہت اٹیچ ہے۔۔ثاقب کم سے کم تم تو روکو اپنے گھر والوں کو۔۔”
“انکل میرے خیال سے میں اور ڈیفینڈ نہیں کرسکتا۔۔۔چاندنی کو نیچے بلائیں۔۔ میں اور میرے گھر والے اور انتظار نہیں کریں گے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وعدہ کرو اب ایسے نہیں رؤ گے بیٹا۔۔۔”
چاندنی جیسے ہی بیٹھی تھی شایان نے اسکے کندھے پر سر رکھ لیا تھا۔۔ ڈاکٹر ابھی ابھی گئے تھے اور انہوں نے یہی کہا تھا اس بچے کو سٹریس سے دور رکھا جائے۔۔
“ابا جی اب نیچے چلیں چاندنی چلو بیٹا نکاح کے لیے دیر ہورہی۔۔”
بہروز کی نظریں چاندنی سے ٹکرائی تھی
“جی۔۔۔”
شایان کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ جیسے ہی اٹھنے لگی تھی شایان روتے ہوئے اسکے گلے سے لگا تھا
“پلیز مس چاندنی۔۔۔ مجھے چھوڑ کر مت جائیں ماما بھی چلی گئی۔۔ اب آپ مت جائیں۔۔۔ بابا پلیز۔۔ مس چاندنی کو روک لیں۔۔۔”
شایان کے ہونکوں نے سب کو اشکبار کردیا تھا
“کہیں نہیں جارہی میں اب چپ ہوجاؤ یہیں ہوں۔۔۔”
سب سے پہلے بہروز شاک ہوا تھا اس نے ایک جھٹکے سے اسے دیکھا تھا پر چاندنی کی آنکھیں بس شایان پر تھی
وہ جتنے پیار سے اس بچے کی آنکھیں صاف کررہی تھی اسے پیار کررہی تھی
بہروز ہاتھوں کو زور سے بند کئیے کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
اور اس حال میں درمیان میں وہ چھوٹا بچہ بیٹھا تھا جو ہنس رہا تھا کھلکھلاکر
“دادا جان اب کہاں ہیں جنہوں نے پوچھنا ہے قبول ہے۔۔؟؟ جلدی سے لے کر آئیں۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔” معراج حاکم بےساختہ ہنسے تھے اور آنکھوں سے آنسو صاف کرکے ان دونوں کو دیکھا تھا۔۔۔ اور پھر کھلے آسمان کی طرف دیکھا تھا
“شاہ زیب۔۔۔ تمہاری خواہش پوری ہونے لگی ہے میرے بچے۔۔۔”
۔
۔
کچھ دیر میں قبول ہے کی آواز جیسے ہی گونجی تھی حویلی کا ہر فرد خوش تھا سوائے وجدان صاحب اور انکی بیٹی کے سوا۔۔ سب ہی خوش تھے چاندنی کے لیے۔۔۔
۔
“ایکسکئیوز می۔۔۔”
بہروز بنا کچھ کہے ہال سے چلا گیا تھا۔۔ چاندنی نے سرد آہ بھری تھی
“بہت بہت مبارک ہو۔۔۔مس چاندنی۔۔۔”
گلاب کا پھول چاندنی کو دیتے ہی شایان نے کہا تھا اور اسکے گال پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
“تھینک یو مسٹر شایان۔۔۔ اب خوش ہو۔۔۔؟؟”
اپنی گود میں بٹھا لیا تھا اسے اپنے مہنگے کپڑے خراب ہونے کی فکر نہ تھی اس وقت۔۔۔
شایان کو جیسے ہی اپنے سینے سے لگایا تھا چاندنی کی آنکھیں بھیگ گئی تھی۔۔۔
یہی ہال تھی یہ سجاوٹ یہی لوگ گھر بار تھا۔۔۔اور یہی شخص جو اسے ٹھکرا گیا تھا
پر آج اس معصوم بچے نے اسے وہ عزت واپس دلائی تھی اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا اس وقت شایان کے خوش چہرے نے جیسے چاندنی کے دماغ کو ماؤف کردیا ہو۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز بھائی۔۔۔”
“زرقان ابھی نہیں۔۔۔”
بہروز جیسے ہی گاڑی میں بیٹھا تھا زرقان بھی جلدی سے بیٹھ گیا تھا
“ڈیم اٹ۔۔۔ باہر نکلو۔۔”
“نہیں نکلو گا۔۔۔ جہاں آپ جائیں گے وہیں میں جاؤں گا دادا جان کا حکم ہے۔۔۔”
“وہ کبھی اپنا کنٹرول نہیں چھوڑیں گے نہ۔۔۔آخر ان کی خواہش جو پوری ہوگئی۔۔۔”
اس نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی تیز سپیڈ میں۔۔
“ہاں جیسے آپ کو زبردستی نکاح کروایا گیا نہ۔۔ آپ کے اندر تو لڈو پھوٹ رہے ہوں گے۔۔۔ مہندی والی رات آپ کو تصویر لیتے دیکھ لیا تھا۔۔۔
آہیں بھر رہے تھے چھپ چھپ کر۔۔۔”
زرقان نے جیسے ہی کہا جتنی تیز سپیڈ تھی اتنی ہی جلدی بریک لگائی تھی بہروز نے۔۔۔
کزن کا سر ڈیش بورڈ پر لگا تھا
“وٹ دا ہیل بہروز بھائی۔۔۔ مار دو گے۔۔۔”
اور وہ جلدی سے نکل گیا تھا۔۔سر ملتے ہوئے
“اگر آئندہ ایسی کوئی فالتو بات کی تو تھپڑ ماروں گا۔۔”
“نہیں کرتا آپ کو ٹھنڈی آہیں بھرنے کی ضرورت نہیں بیوی بن چکی ہیں ہائے اب تک تو آپ کے بیڈروم میں آپ کا انتظار کررہی ہوں گی۔۔”
زرقان کے بچے۔۔۔”
اور وہ واپس بھاگ گیا تھا۔۔۔
“بیوی۔۔۔ میں اسے بیوی کے روپ میں نہیں اپناؤں گا۔۔۔وجدان چچا نے اس کا سارا پلان بتا دیا تھا مجھے جیسے شاہ زیب چچا کرتے رہے ویسے یہ بھی عیش کرنا چاہتی ہے پر میں اسے کامیاب نہیں ہونے دوں گا میرے بیٹے کو مہرا بنا کر اس نے مجھے حاصل کیا اب میں اسے بتاؤں گا میں اسکا ہوکر بھی اسکا نہیں۔۔۔ وہ نکاح کے دو بول بولنے پر پچھتائے گی۔۔۔”
۔