Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

“پوری حویلی پورا مہینہ ایسے ہی سجی دھجی رہے گی۔۔ کسی مہمان کو رشتے دار کو جانے مت جانا سب کو یہیں رکھنا رونق شونق لگنی چاہیے مزہ آجائے۔۔”
دادا جی نے حکم دیا تھا۔۔۔ بہت سے کمرے خالی کروا لئیے گے ہر طرف خوشیوں کا سماء تھا۔۔
چاندنی کو سب لاڈ پیار دہ رہے تھے
خاص کر اسکے مامو ممانی اور نانی۔۔ ان سب میں ایک بار بھی چاندنی نے شایان کو خود سے جدا نہیں ہونے دیا تھا۔۔
“مس چاندنی ایم سو ہیپی۔۔۔ تھینک یو سووو مچ۔۔۔”
“ارے بس بس مسٹر شایان اتنے تھینک یو ختم نہیں ہورہے۔۔؟؟”
“نہیں ماسی ابھی چار اور ہیں۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔”
چاندنی کی سب کزنز اسکے ساتھ بیٹھ گئی
“بیٹا چاندنی کو بہروز کے روم میں لے جاؤ۔۔۔”
“اووووہ۔۔۔۔۔ چلیں چاندنی۔۔۔ اووپس چاندنی بھابھی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہ۔۔۔۔”
بہروز بھائی کے بیڈروم میں چلیں پھر۔۔۔؟؟”
ہوٹنگ اور ٹیزنگ سے وہ پہنے کپڑوں کی طرح سرخ ہوگئی تھی۔۔۔
اور کچھ دیر میں چاندنی کو روم میں لے گئے تھے
۔
“بیڈ پر بٹھا۔۔۔”
“صائمہ باجی میں دیکھ لوں گی آپ پلیز شایان کو کھانا کھلا دیں۔۔۔”
“اووہ ہو۔۔۔ہاہاہاہا۔۔ اچھا تمہارا ڈنر بھی بھیج۔۔”
“میں بہروز کے ساتھ کھا لوں گی۔۔۔”
“اوووہ۔۔۔۔ چاندنی۔۔۔ اتنی رومینٹک بھی نہیں ہونا یار۔۔ شایان کے بہن بھائی اتنی جلدی۔۔۔”
“توبہ۔۔ آپ سب تو۔۔۔”
اس نے جلدی سے دروازہ بند کرلیا تھا ہنسنے کی آوازیں اسے اند ر تک سنائی دہ رہی تھی۔۔۔
۔
“چاندنی بہروز حاکم۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی ایک نظر روم کو دیکھنے کے بعد۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز۔۔۔”
“جی دادا جان۔۔۔”
بہروز دبے پاؤں کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا وہ بیک یارڈ سے اندر داخل ہوا تھا کیونکہ وہ ابھی بھی مہمانوں کا رش دیکھ کر حیران رہ گیا تھا
“بہروز تمہاری نئی نویلی دلہن انتظار کررہی ہے اندر تمہارا دو بج رہے ہیں جان بوجھ کر دیر سے آئے ہو۔۔؟؟”
“دادا جان میرا دوست آیا تھا لندن سے اسے ملنے گیا تھا”
“نکاح تھا سب لوگ پوچھ رہے تھے۔۔۔نکاح مرضی سے ہوا ہم نے زبردستی نہیں کی تم پر اس لیے اس بچی کی عزت پر کوئی حرف نہ آئے۔۔۔”
“جی۔۔۔”
۔
دادا جی چلے گئے تو شاہنواز صاحب سامنے آگئے وہ گئے تھے والدہ نے راستہ روک لیا اور پھر دادی۔۔۔
بہروز جب روم میں پہنچا تو اسکے کانوں سے بھی دھواں نکل رہا تھا سب لوگ اسے وارننگ دے رہے تھے اسے سمجھا رہے تھے
اب وہ کیا بتاتا کہ یہ نکاح اسے زبردستی سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔۔۔”
“نہ وہ شایان کے قریب ہوتی نہ یہ سب ہوتا۔۔۔ اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا۔۔۔”
بہروز نے غصے سے دروازہ کھولا۔۔۔
۔
اور اندر چاندنی کو بیڈ پر بیٹھے دیکھ اس نے بےساختہ اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
اتنی خوبصورت دلہن بنے اس نے آج سے پہلے کسی کو نہیں دیکھا اپنی پہلی بیوی کو بھی نہیں۔۔۔
بہروز حاکم کا وجود جیسے کانپ اٹھا ہو جب چاندنی نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔۔
کتنی دیر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے تھے
دھک دھک دھک۔۔۔۔
چاندنی کو اپنی دل کی تیز دھڑکنیں کانوں میں سنائی دی۔۔ اور جیسے ہی اس نے منہ نیچے کیا تھا بہروز اسکے جادوئی حصار سے باہر ہو اور اندر داخل ہوتے ہی اس نے غصے میں ایک ہی بات بولی تھی جو وہ خود کو تسلی دہ رہا تھا۔۔۔
۔
۔
“تمہیں کیا لگا تھا۔۔؟ میری بیوی کے چلے جانے کے بعد تمہیں موقع مل جائے گا مجھے پانے کا۔۔؟”
“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔؟؟”
“کیا کہہ رہا ہوں۔۔؟ انجان بن رہی ہو۔۔؟ میرے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسا کر تم نے مجھ سے شادی کی ہے۔۔
اسکی ماں تو بن گئی اب میری بیوی نہیں بنو گی۔۔؟؟ وائفی۔۔؟؟”
وہ پھولوں سے سجے بیڈ سے جلدی سے اٹھ گئی تھی مگر وہ اس سے بھی زیادہ جلدی میں آگے بڑھا تھا
کندھے سے پکڑ کر اس نے جیسے ہی اپنی نئی نویلی دلہن کو بیڈ پر پھینکا تھا وہ ڈر کر پھر سے اٹھی تھی۔۔
“کیا ہوا گھبرا گئی ہو۔۔؟؟ ابھی تو ہماری ویڈنگ نائٹ شروع ہوئی ہے۔۔۔”
دونوں ہاتھوں کو سر کے ساتھ پن کئیے وہ اسکی طرف جھکا تھا۔۔
اسکے لب اس لڑکی کی گردن پر جیسے ہی لگے تھے وہ پنز لگے دوپٹے کو اس نے کھینچ کر نیچے پھینک دیا تھا جس کی پن چبھ جانے سے انکی گردن پر زخم ہوا تھا۔۔۔
“تم دوسری عورت ہی رہو گی۔۔۔ میں تمہیں کبھی اپنی بیوی تسلیم نہیں کروں گا۔۔۔
اس رات کے بعد۔۔۔”
وہ اسکے چہرے کی طرف جھکا تھا کہ اپنا آپ چھڑاتی اس لڑکی نے ایک زور دار تھپڑ اس شخص کو دے مارا تھا۔۔۔
“بہروز حاکم۔۔۔ سنا تھا ظالم ہو مگر اتنے ظالم۔۔؟؟’
اپنے ہونٹوں کو کسی حقارت کی طرح صاف کر کے وہ پیچھے ہٹی تھی۔۔۔
“منہ توڑ دوں گی۔۔۔ یہ ہاتھ توڑ دوں گی تمہارے اگر میری مرضی کے بغیر مجھے چھونے کی کوشش کی تو۔۔۔”
بہروز اسکے چیخنے کی آواز سے شاکڈ ہوکر کھڑا ہوگیا تھا
“تمہاری جرات کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔میں تمہارا وہ حال۔۔”
“کیا کرو گے۔۔؟ تم اپنی مردانگی مجھے ابھی دیکھا چکے ہو۔۔ تھپڑ مارنے کے بعد کیا کرو گے۔۔۔؟؟”
بہروز نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا اور اس لڑکی نے اس کے گریبان کو زور سے پکڑ ا تھا اس وقت
“میں ۔۔ تمہیں۔۔ برباد کردوں گا۔۔۔ “
“کیسے۔۔؟؟ میرے عزت خراب کر کے۔۔؟؟ یا مجھے مار پیٹ کر۔۔؟؟ میں نے تو سوچا تھا کسی مرد سے نکاح ہوا ہے تم۔۔۔”
“بس۔۔۔۔”
بہروز کا ہاتھ اٹھ گیا تھا
“بس۔۔؟؟ کیا بس۔۔؟؟ ابھی مجھے اپنی طاقت دیکھاتے ہوئے آپ کو شرم نہ آئی اور میرے کہنے پر غصہ آگیا۔۔؟؟
بہروز حاکم۔۔ میری عزت میرے وجود میں چھپی نہیں ہوئی جسے تم داغدار کرکے مجھے برباد کردو گے۔۔۔
یہ لڑکی بیوی ہے تمہاری اسے بستر تک کھینچ کرلے جاؤ گے تو مرد نہیں کہلاؤ گے۔۔۔
میں تمہیں برباد کردوں گی اگر دوبارہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی۔۔۔”
پیچھے دھکیل دیا تھا اس نے بہروز کو جو اس قدر ششدر رہ گیا تھا اس پدی سی لڑکی کی باتیں سن کر۔۔۔
“یو۔۔۔”
“کیا میں اندر آجاؤں بابا سائیں۔۔؟؟”
اس چھوٹے بچے نے دروازے سے اندر سر ڈال کر کہا تھا
“شایان بیٹا۔۔۔”
“کیا میں مس چاندی اور آپ کے ساتھ سو سکتا ہوں بابا۔۔۔؟؟ پلیز۔۔۔
مس چاندنی۔۔؟؟”
چاندنی جھک کر اپنا دوپٹہ اوڑھا تھا اور آگے بڑھ کر شایان کو اپنی گود میں اٹھا لیا تھا
“ایک شرط پر آج کہانی آپ سنائیں گے۔۔۔”
“اوکے ڈن۔۔۔ پھر اسکے بعد آپ سنائیں گی۔۔”
چاندنی بہروز کے کندھے کو ٹکر مار کر شایان کو بیڈ پر لے گئی تھی۔۔۔
“بابا آپ بھی آئیں نہ۔۔”
“بیٹا آپ کے بابا سائیں نے آج صوفہ پر سونا ہے۔۔۔ بیڈ پر لیٹے نے انکی کمر میں درد ہوتا ہے۔۔۔”
بہروز پر نظریں نکالے آنکھوں سے صوفہ پر سونے کی وارننگ دئیے وہ خود اس بچے کو اپنے ساتھ لئیے بیڈ پر لیٹ گئی تھی
۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔؟؟؟”
۔
“ہاہاہاہاہ چبھ رہا ہوگا میں بس ابھی چینج کرکے آئی۔۔۔”
شایان کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ جیسے ہی اٹھی بہروز نے اس جی بھر کر دیکھنا چاہا اسے ایک دم سے ایک خالی پن کا احساس ہوا۔۔۔ چاندنی جیسے جیسے اپنے بیگ سے کپڑے نکال رہی تھی
بہروز کا دل چاہا وہ اسے روکے اور کہے کہ آج رات وہ ایسے ہی تیار سجی سنوری رہی پر وہ کہہ نہ پایا تھا۔۔۔اسکی خواہش ایک الگ غصے میں بدلی جب اس نے اپنے گال پر ہاتھ رکھا جس پر ابھی اس نے ہاتھ اٹھایا تھا پہلی بار کسی لڑکی۔۔۔ نہیں عورت۔۔۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے لیٹ گیا تھا
“بابا کچھ دیر کو تو آجائیں میرے پاس۔۔۔”
اور بہروز جلدی سے بیڈ پر چلا گیا۔۔۔
“اب بابا کی بہت یاد آرہی صبح سے تو مس چاندنی مس چاندنی کررہے تھے جاؤ میں خفا ہو۔۔۔”
“ہاہاہاہا آپ کتنے کیوٹ لگ رہے ہیں بابا۔۔۔”
شایان زبردستی بہروز پر بیٹھ گیا تھا وہ کبھی اسے گدگدی کرنے کی کوشش کررہا تھا تو کبھی گال پکڑ کر کھینچنے کی۔۔
“آئی لو یو بابا۔۔۔”
شایان ہنستے ہوئے جیسے ہی بہروز کے سینے پر سر رکھتا ہے بہروز نے اسے اپنے گلے سے لگا کر آنکھیں بند کرلی تھی
“آئی لوو یو ٹو۔۔۔”
۔
چاندنی جیسے ہی باتھروم سے باہر آئی تھی یہ سین دیکھ کر رک گئی تھی۔۔
اس نے صوفے پر جانا چاہا پر شایان پہلے ہی اسے بیڈ کی طرف کھینچ چکا تھا
“مس چاندنی بیڈ پر بہت جگہ ہے کم۔۔۔”
وہ ہیسیٹیٹ ہوتے جیسے ہی لیٹی تھی اب کی شایان اسکے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ چکا تھا
“ٹریٹر۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ بٹ یو لوو مئ بابا۔۔۔”
وہ چاندنی کے گلے لگ کر انکھیں بند کرچکا تھا
“اور میں۔۔؟؟ مجھ سے کوئی پیار نہیں کرتا۔۔۔”
چاندنی نے مذاق میں مسکراتے ہوئے کہا پر بہروز کی آنکھوں کو خود پر محسوس کرتے ہوئے اسکی مسکراہٹ چلی گئی تھی آنکھوں میں بلا کی اداسی تھی۔۔۔
شایان کو گلے لگائے اس نے جیسے ہی آنکھیں بند کی اپنے ہاتھ پر اسے وہ ہاتھ محسوس ہوا تھا۔۔۔
۔
اتنے سالوں کے بعد آج چاندنی پرسکون نیند سوئی تھی بنا کسی برے خواب کسی کے خوف۔۔۔
۔
۔
“پل دو پل کی کیوں ہے زندگی۔۔اس پیار کو ہے صدیاں کافی نہیں۔۔
تو خدا سے مانگ لوں۔۔۔ مہلت میں اک نئی۔۔ رہنا ہے بس یہاں
اب دور تجھ سے جانا نہیں۔۔۔ جو تو میرا ہمدرد ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اللہ میری زندگی کے یہ انمول لوگوں کی حفاظت کرنا یہ میرا سرمایا ہے۔۔”
جائے نماز پر سجدہ ریز ہوکر وہ ایک ہی دعا بار بار مانگ رہی تھی
“بہروز حاکم۔۔۔مجھے نہیں معلوم ہمارا رشتہ کس موڑ جائے۔۔۔پر میں شایان کو ایک ماں سے بڑھ کر پیار دوں گی۔۔۔”
۔
“امی ابو۔۔ آپ دونوں دیکھ رہے ہیں۔۔؟؟ اللہ نے آپ کی دعا سن لی۔۔۔
پر میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔ بہروز حاکم کی مجھ سے نفرت میری سمجھ سے باہر ہے۔۔۔
بہروز کے نکاح میں آنے کے بعد اب میں کزن نہیں رہی انکی بیوی بن گئی ہوں۔۔۔
اور اب میں پوری کوشش کروں گی بہروز کی نفرت کو محبت میں بدلنے کی۔۔۔”
۔
ہونٹ مسکرا رہے تھے اور اسکی آنکھیں رو رہی تھی
“میں نے بہروز پر ہاتھ اٹھایا امی۔۔ میں اس سفر کے پہلے لمحات ایسے نہیں چاہتی تھی۔۔۔
بہت تکلیف ہورہی ہے۔۔ آپ سن رہی ہیں ماں۔۔؟؟”
۔
وہ رونے لگی تھی پر اتنی خاموشی سے کہ سامنے بستر پر سوئے ان دولوگوں تک آواز نہ جائے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ شاہنواز کا چہرہ اسکی بیوی سے زیادہ لال ہوگیا تھا اس رات۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔”
فہمیدہ بیگم نے شمیم بیگم کے ساتھ ہنستے بچوں کو اور شرمندہ کیا تھا ماضی کی خوبصورت یادیں یاد دلا کر۔۔۔
صبح سے ایسے ہی چل رہا تھا سب لوگ ہنس رہے تھے مسکرا رہے تھے
“ارے اوپر کا بھی حال احوال جان لو۔۔۔”
ابھی وہ بات کررہے تھے جب چاندنی کی چیخ سنائی دی۔۔۔
“چاندنی باجی صبح صبح۔۔۔”
کزنز سرگوشی کرتے ہوئے ہنسی تھی۔۔۔
اابھی سب حیران ہورہے تھے جب چاندنی شایان کے پیچھے روم سے باہر نکلی تھی
“شایان ک بچے۔۔۔ کتنا ڈر گئی تھی میں۔۔”
“شایان تمہارے ساتھ تھا۔۔؟؟”
“جی میں ماں بابا کے ساتھ سویا تھا۔۔۔”
ایک نظر بڑے بزرگوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر سب کھلکھلا کر ہنسے تھے
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔بس آج کے لیے اتنا کافی ہے۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ بیچارا بہروز۔۔۔”
شاہنواز صاحب جیسے کہتے ہوئے اٹھے تھے سب اور ہنس دئیے تھے
“آپ سب کو کیا ہوا۔۔؟؟”
چاندنی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔جب پاس بہروز آکر کھڑا ہوا۔۔۔
“وہ سب حیران ہورہے کہ شایان روم میں تھا تو ہماری ویڈنگ نائٹ کا کیا بنا۔۔۔؟”
بہروز اسکے کان میں سرگوشی کرکے سب گھر والوں سے ملنے لگاچاندنی کا سرخ ہوتا چہرہ اسکی اور ٹیزنگ کی وجہ بنا۔۔۔
اور پورا دن وہ دونوں ایسے ہی کسی نہ کسی بات پر ٹیز ہوتے رہے۔۔۔
۔
ان سب میں جہاں چاندنی بہت خوش تھی وہیں بہروز بہت زیادہ طیش میں آیا تھا جب وجدان چچا نے پھر ماضی کی کوئی بات اسے بتائی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کھیر تو بہت مزیدار ہے چاندنی بیٹا۔۔۔”
مامو نے چاندنی کے ہاتھ میں ایک اینولو پکڑایا تھا ۔۔۔ اور سب بڑے بزرگوں نے اس کی بنائی گئی کھیر کی تعریف کرنا شروع کردی اور جب دادی نے گلہ صاف کرتے ہوئے چاندنی کو اشارہ کیا تو وہ گھبراتے ہوئے بہروز حاکم کی کرسی کے سامنے کھڑی تھی
سفید کلائی میں سرخ چوڑیاں اور وہ مہندی لگے ہاتھ جب بہروز کے سامنے وہ کھیر رکھتے ہیں بہروز کچھ پل کو کھو گیاتھا اس مہک میں۔۔۔
۔
سب کو انتظار تھا بہروز کے منہ سے نکلنے والے چند الفاظ کا،،،پر جو بہروز نے بولا اسکی توقع نہیں تھی کسی کو۔۔۔
۔
“یہ کھیر بنائی ہے۔۔؟؟ اس سے بہتر سڑک پر ڈھابے والا بنا لیتا ہوگا۔۔۔اور آپ لوگ کیا اسکا دل رکھنے کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔”
“پر بابا کھیر تو بہت یممی ہے۔۔بہت مزے کی۔۔۔”
بہروز نے شایان کو ایک نظر دیکھا تھا وہ پلیٹ پیچھے کرکے وہ اٹھ گیا تھا
“ایکسکئیوزمئ۔۔۔مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔۔”
وہ چاندنی کے مامو ممانی یہاں تک کے نانی سے بھی ملے بغیر حویلی سے چلا گیا تھا جبکہ اسے معلوم تھا ان لوگوں نے آج چلےجانا ہے۔۔۔
۔
“بہروز۔۔۔”
دادا جان کی اونچی آواز کو ان سنا کرکے وہ تو وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔ اور کچھ سیکنڈ بعد چاندنی بھی واپس کچن میں چلی گئی تھی آنسو چھپاتے ہوئے۔۔۔
۔
۔
اس لیے میں نے حامی نہیں بھری تھی شاہنواز بھائی۔۔۔”
“ابراہیم میری بات سنو۔۔۔”
“نہیں آپ میری بات سنیں۔۔ میں نے آپ سے کیا وعدہ مانگا تھا
زبان دی تھی آپ لوگوں نے۔۔۔”
“بس ابراہیم بیٹا بس۔۔ چاندنی کو ہم سب نے سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھا ہمیشہ۔۔ اب یہ اسکی آزمائش ہے یہ اسکا امتحان ہے۔۔ مجھے شاہزین کی تربیت پر پورا یقین ہے۔۔ اس شادی کو کامیاب بنا کر دیکھائے گی میری بچی۔۔۔”
۔
ابراہیم صاحب نے پھر بھی بہت بحث چھیڑی تھی اور کچھ دیر بعد وہ لوگ شام کی فلائٹ سے واپس چلے گئے تھے
۔
اور چاندنی شایان نے پورا دن شادی کے تحائف کھولنے اور روم سیٹنگ میں گزار دیا۔
شایان کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دہ رہا تھا چاندنی کے چہرے پر ہنسی لے آتی تھی اسکی ہر معصوم بات۔۔۔
اور جیسے جیسے رات قریب آتی گئی چاندنی نے سب گھر والوں سے ایک ہی وعدہ لیا تھا
“بہروز کے آنے پر کوئی سوال جواب نہ کیا جائے گا نہ ہی انہیں ڈانٹا جائے گا۔۔”
“پر چاندنی بیٹا اس نے غلط کیا ہمارے گھر کے مرد گھر کی عزت کو ایسے چار لوگوں میں ذلیل نہیں کرتے اس نے بہت غلط کیا۔۔”
“دادا جان پلیز۔۔۔ اب مجھے ٹھیک کرنے دیں۔۔ بہروز کا غصہ ایک دن تو کم ہوگا نہ۔۔۔؟؟”
۔
پر اس ایک دن کو آتے آتے بھی کتنا وقت لگ جانا تھا یہ چاندنی کو معلوم نہ تھا۔۔۔
۔