Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 02
No Download Link
Rate this Novel
Episode 02
“آج سے تمہاری بیٹی ہماری ہوئی شاہ زیب۔۔ اب میں پیچھے نہیں ہونے دوں گا تمہیں۔۔”
“کبھی نہیں بھائی۔۔۔ میں سکون سے مر سکتا ہوں۔۔”
“بکواس مت کیا کرو۔۔۔”
والد نے شاہ زیب کو ڈانٹا اور وہ اٹھ کر دونوں بیٹو ں کو سینے سے لگا لیتے ہیں۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو امی۔۔۔ شاہزین۔۔ چاندنی کو بہو کے روپ میں پاکر میری تو ہر مراد پوری ہوگئی۔۔۔ سچ کہوں تو میرے دل کی بات معراج نے آج پوری کردی۔۔۔”
زینب بیگم نے شمیم بیگم کے گلے لگ کر خوشی کا اظہار کیا اور اسی محبت سے انہوں نے شاہزین کو بھی گلے سے لگایا اور ایسے ہی گلے سے لگا کر رکھا۔۔
“بہت بہت شکریہ شاہزین بہت بہت شکریہ۔۔۔تم دیکھنا پلکوں پر بٹھاکر رکھوں گی میں چاندنی کو۔۔”
“وہ تینوں خواتین آبدیدہ ہوگئی تھی
“ان خواتین کا یہی رولا ہوتا اچھی بات پر بھی آنسو بہا بہا ستیاناس کردیتی۔۔”
“اباجی۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ جیتے رہو میرے بچوں سدا سہاگن رہو۔۔میں چاندنی اور بہروز کے رشتے کو آج پکا کرتا ہوں۔۔ بہروز اس بار آئے گا تو دونوں کی شادی کروا دیں گے ہم۔۔
کسی کو کوئی اعتراض۔۔؟؟”
“نہیں ابا جی۔۔ اگر آپ حمدان اور وجدان سے بھی پوچھ لیں۔۔”
“وہ تم دونوں مجھ پر چھوڑ دو کل ہی بات کریں گے سب سے۔۔۔”
۔
۔
“چاندنی۔۔۔۔ چاندنی۔۔۔ تمہیں یقین نہیں آئے گا کیا سن کرآرہی۔۔۔”
“نالہ باجی کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟”
“چاندنی۔۔۔ دادا جان کے کمرے سے آرہی۔۔۔ وہ لوگوں نے بہروز کا رشتہ پکا کردیا ہے۔۔۔”
چاندنی کے ہاتھ سے اسکا موبائل نیچے گرگیا تھا۔۔۔
“وٹ۔۔۔۔ کیا۔۔۔”
وہ ایک دم سے بیڈ کر گری تھی
“افففو ایسے مرنے سے پہلے نام تو سنتی جاؤ۔۔۔”
“میری بلا سے۔۔ مجھے کیا غرض کس سے کیا ہے۔۔؟ میری محبت تو ادھوری ۔۔۔”
“ہاہاہا ارے پگلی۔۔۔ بہروز اور تمہارے رشتے کی بات چل رہی ہے۔۔۔ سمجھی۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔ کیا سچ میں۔۔۔؟؟”
“ہاں میری جان سچ میں۔۔۔”
چاندنی کے آنسو صاف کرتے ہوئے انہوں نے ماتھے پر بوسہ دیا تھا
“اب تم بہروز کا نام چھپ چھپا کر نہیں کھل کر سب کے سامنے لے سکتی ہو۔۔۔ اب تمہارا حق ہوگا تمہاری محبت پر۔۔۔
چاندنی ایم سووووو ہیپی فور یو۔۔۔۔ تم بہروز جیسے قابل اور ہینڈسم ینگ مین کو ڈیزرو کرتی تھی۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔۔۔”
“ہاہاہاہ مجھے بھی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں اب جارہا ہوں۔۔”
“مجھے چھوڑ کر مت جاؤ بہروز۔۔ میں مرجاؤں گی تمہارے بغیر۔۔۔ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔۔۔”
اس نے بہروز کا بازو پکڑ کر واپس بیڈ پر کھینچ لیا تھا۔۔
“رابیعہ ابھی تم ہوش میں نہیں ہو۔۔ ہم کل صبح بات کریں گے۔۔”
“تم صبح بات نہیں کرو گے مجھ سے۔۔ بہروز میں جانتی ہوں۔۔ تم مجھ سے شادی بھی نہیں کرنا چاہتے۔۔”
“ایسی بات نہیں ہے۔۔ میں۔۔۔ ہمیں ابھی وقت ہی کتنا ہوا ہے ساتھ ۔۔؟؟ رابیعہ شادی ایک بہت بڑا فیصلہ ہے اور میں اپنی فیملی۔۔۔”
“تو ایسا کرو مجھے زہر دہ دو۔۔ مجھے جان سے مار دو۔۔ کیونکہ میں تمہارے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتی بہروز۔۔۔”
بہروز کی گود میں سر رکھے اس نے آنکھیں بند کرلی تھی اسے لاجواب چھوڑ کر۔۔
“رابیعہ مجھے وقت چاہیے۔۔”
“تو پھر میرا مرا ہوا منہ۔۔”
شٹ اپ۔۔۔”
“”نہیں بہروز۔۔ اب میں تنگ آگئی ہوں اکیلے رہ رہ کر۔۔ اس دنیا میں کوئی میرا نہیں۔۔کوئی بھی۔۔۔ اور اب تم۔۔۔میں خود کشی کرلوں گی۔۔۔”
“شش۔۔۔ میں ۔۔۔ ہم جلدی شادی کریں گے۔۔اوکے۔۔؟؟ اب ریلیکس ہو جاؤ مرنے کی بات مت کیا کرو رابیعہ مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔”
۔
کچھ دیر بعد رابیعہ کو سلا کر بہروز اس کے گھر سے جیسے ہی چلا گیا رابیعہ نے ہارون کے نمبر پر کال ملائی۔۔۔
۔
“پلان کامیاب ہوگیا۔۔۔ بہروز شادی کے لیے مان گیا ہے۔۔۔ تھینکس ٹو یو ہارون۔۔۔ تم نے مجھے بہروز دیا ہے مجھے دنیا دہ دی۔۔۔”
“میرا انعام مجھے کب ملے گا رابیعہ۔۔؟؟ ڈیل کے مطابق بہروز کی کمپنی میں مجھے شئیرز چاہیے مجھے۔۔۔”
“شئیرز کیا پوری کمپنی نام لگوا دوں گی تمہارے۔۔۔”
“وااووو اور بہروز کردے گا ایسا۔۔؟؟”
“وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے ۔۔۔بس ایک بار اسکی بیوی بن جاؤ۔۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ ہوگئی تھی۔۔۔
۔
“ڈونٹ ورری مجھے پہلے بھی یقین نہیں تھا کہ تمہیں بہروز سے محبت ہوگی میں جانتا ہوں تم یہ سب اسکی دولت اور اس لائف سٹائل کے لیے کررہی ہو یہ سب۔۔۔”
“ایسی بات نہیں ہارون میں بہروز سے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہ۔۔۔۔کہا نہ ڈونٹ ورری۔۔۔”
“ہارون۔۔۔”
ہارون قہقہ لگاتے ہوئے فون بند کرچکا تھا۔۔۔
“محبت اور یہ کرے گی بہروز سے۔۔۔؟؟ بچ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یا اللہ بہروز حاکم۔۔۔ وااووو۔۔۔جسٹ وااااو۔۔۔ اللہ جی آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ اسے میرے نصیبوں میں لکھنے کے لیے۔۔۔”
بیڈ پر پڑے ٹیڈی بئیر کو گلے سے لگائے وہ لیٹ گئی تھی اور ساتھ ہی روم ڈور اوپن ہوا تھا
“چاندنی بیٹا جاگ رہی ہو۔۔۔؟؟”
“آپ کے گلے لگے بغیر نیند نہیں آتا ماما۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ اتنی بڑی ہوگئی ہو کہ۔۔۔”
“کہ۔۔۔؟؟”
“کہ کچھ نہیں یہاں میرے پاس بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔”
وہ سنجیدہ ہوگئی تھی ۔۔۔چاندنی جو والدہ کے لہجے کو جانچ گئی تھی وہ ایک دم سے خاموش ہوئی۔۔ اسے اب ڈر لگ رہا تھا کہ رشتے کی بات ہونے سے پہلے ہی ختم نہ ہوگئی ہو۔۔
وہ دل ہی دل میں دعا کررہی تھی اس رشتے کے لیے۔۔
“چاندنی بیٹا کیا تمہیں بہروز اچھا لگتا ہے۔۔؟؟”
“ماما آپ یہ کیوں پوچھ رہی۔۔؟؟ آفکورس اچھے لگتے ہیں بچپن سے ساتھ رہے کھیلے ہیں۔۔”
“چاندنی اگر تمہارے بابا بہروز سے تمہاری شادی کرنا چاہیں تو تم ہاں کردوں گی۔۔؟
کیا تم تیار ہو۔۔؟؟”
“ماما۔۔۔ بابا جو کہیں گے جو کریں گے مجھے منظور ہوگا۔۔۔”
“پر میرا دل نہیں مان رہا۔۔”
اب کے شاہزین اری ٹیٹ ہوگئی تھی۔۔
“کیا مطلب ماما۔۔؟؟ کیا آپ کو بہروز میرے لیے پسند نہیں۔۔؟؟”
“پسند میں اور زندگی گزارنے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔۔۔ میرا دل نہیں مان رہا ۔۔ پتہ نہیں کیوں۔۔۔ ایسا لگ رہا ہے کہ شاہ زیب جلدی کررہے ہیں۔۔۔ پچھلے کچھ سال سے وہ باہر کے ملک میں ہے کیسے رہا کیا کیا کچھ علم نہیں اور شاہ زیب۔۔۔”
“ماما۔۔۔ پلیز ریلیکس۔۔۔ پلیز۔۔۔ کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟ وہ معراج تایا کا بیٹا ہے بہروز کی بات کررہی ہیں آپ کسی ایرے غیرے کے نہیں۔۔۔ مجھے پسند ہیں۔۔۔”
“میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ تمہیں پسند ہے تم کسی زبردستی میں یا اپنے بابا کی محبت میں نہیں کہہ رہی۔۔۔”
چاندنی کا ہاتھ جیسے ہی اپنے سر پر رکھا تھا چاندنی کا وجود کانپ گیا تھا۔۔
“ماما۔۔۔”
“میری قسم کھا کر کہو کہ تم خوش ہو۔۔۔؟؟ کہ تم اسے پسند کرتی ہو۔۔ بیٹا بابا کے لیے تمہیں اپنی زندگی خراب نہیں کرنی تم نہیں جانتی تم ہماری لاڈلی ہو۔۔ ہماری کل کائنات۔۔اگر تمہیں کوئی بھی۔۔”
“ماما۔۔۔ مجھے تب سے بہروز پسند ہیں جب سے پسند کرنے کی سمجھ آئی۔۔۔”
“اوووہ۔۔۔۔”
شاہزین کی چاندنی کو سمجھانے کی ایک سو ایک تراکیب دہری کی دہری رہ گئی تھی۔۔
جب انکی بیٹی نے اپنی پسند کا اظہار کیا۔۔۔اور وہ الٹے پاؤں اپنے بیڈروم میں واپس چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“معراج آپ نے مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوشی دہ دی ہے۔۔”
اپنے شوہر کے ہاتھوں کو ماتھے سے لگائے زینب بیگم نے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
“زینب میری بھی بہت خواہش تھی چاندنی اور بہروز کے رشتے کی بات کرنے کی۔۔۔اس سے پہلے۔۔۔”
“اس سے پہلے کیا معراج۔۔؟؟”
وہ بیڈ پر بیٹھ گئے تھے
“اس سے پہلے کہ وجدان ابا جی سے صفوان اور چاندنی کے رشتے کی بات کرتا۔۔”
“کیا۔۔۔؟ صفوان۔۔؟؟ یہ کب ہوا۔۔؟؟ فرحین نے تو کبھی ایسی بات نہیں کی تھی معراج۔۔۔”
“چاندنی بیٹی ہے ہی ایسی۔۔تمہیں یاد ہوگا پچھلے ماہ کلثوم خالہ نے ہمارے یہاں آنے کی بات کی تھی۔۔؟؟ عید پر انہوں نے زمر د کے بیٹے کا رشتہ لیکر آنا تھا۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔”
“میں وجدان یا حمدان کو پیچھے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔ پر چاندنی جیسی صاف دل لڑکی پھر ہمارے بیٹے کو نہیں ملے گی۔۔ وہ ہیرا ہے بیگم۔۔۔”
“میں جانتی ہوں معراج۔۔ میں بہت خوش ہوں آپ نے مجھے سچ میں بہت خوش کردیا ہے ۔۔۔”
“بس بہروز سے صبح ہی فون پر بات۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔ آپ نے شادی کی بات نہیں کرنی جب واپس آئے گا تب کریں گے۔۔”
“پر بیگم۔۔۔”
“مہربانی کیجئے ابھی بہروز سے شادی کا مت کہیے گا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شاہزین۔۔۔ کیا ہوا آپ ایسے کیوں روئے جارہی ہیں۔۔؟؟ خوش نہیں ہیں۔۔؟”
“مجھے آپ ایک بات بتائیں۔۔؟؟ کیا عمر ہے ابھی چاندنی کی اکیس سال۔۔ بس۔۔ کیا بوجھ ہے ہماری بیٹی آپ پر جو آپ اسکی شادی اتنی جلدی کررہے ہیں۔۔؟؟”
“ہاہاہا۔۔۔ بس اتنی بات۔۔؟؟ ہاہاہاہا۔۔۔ ارے میری بیوٹی وائف۔۔ میں نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔۔۔ اب ہماری بچی ساری عمر ہماری آنکھوں کے سامنے رہے گی۔۔”
وہ ہنس دئیے تھے
“میرا دل نہیں مان رہا شاہ زیب۔۔ پتہ نہیں کیوں بہروز کے نام پر میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔پلیز آپ اس رشتے کو یہیں روک دیں۔۔
“شاہزین میرا بھتیجا اتنا گیا گزرا بھی نہیں ہے اپنا کاروبار سیٹ ہے خوبصورت ہے پڑھا لکھا ہے اور۔۔”
“اور ہماری چاندنی کی تعلیم اتنی ہے کہ وہ کل کو طعنہ نہیں دے گا۔۔؟؟”
“کیا ہماری بیٹی ان پڑھ ہے۔۔؟ اچھے برے سہی بھلے کی تمیز ہے۔۔ آپ بھی جانتی ہیں کیوں انٹر کے بعد کالج چھوڑنا پڑا اسے۔۔”
“آپ کیوں اب اسکی بیماری کا تذکرہ چھیڑ کر بیٹھ گئے ہیں شاہزیب۔۔؟ میں بہروز کی خوبصورتی اور کاروبار کو دیکھ کر کردار جیسی اہم چیز کو نظر انداز نہیں کرسکتی ۔۔”
“کیا کہا۔۔؟؟ پھر سے کہو کردار۔۔۔؟؟ کیا لگتا ہے کہ وہ بدکردار ہوگا۔۔؟؟”
“اتنے سال باہر کے ملک رہنا آزاد خیالات گرل فرینڈ بوائے فرینڈ والے ماحول میں کردار مشکوک ہو ہی جاتے ہیں شاہ زیب۔۔”
“اننف از اننف۔۔ شاہزین۔۔۔ بس کر جائیں۔۔ آپ کو ایک دم سے بہروز کرپٹ لگنے لگا۔۔؟؟”
“کیونکہ ایک دم سے ہی میری بیٹی اسکے ساتھ جوڑ دی گئی۔۔۔”
“آپ کے سامنے سب باتیں ہوئی۔۔”
“آپ نے پوچھا ایک بار۔۔؟؟ سب کے سامنے بھائی صاحب کو تو گرین سگنل دی دیا تھا
بیوی سے پوچھنا تو دور کی بات آپ نے کسی کے سامنے چاندنی سے پوچھنے تک کی بات نہ کی۔۔”
“شاہزین میری جان پلیز یہاں بیٹھو۔۔ اور میری بات سنو۔۔۔”
“آپ میری بات۔۔۔”
چہرے پر انگلی رکھے شاہ زیب نے اپنی بیوی کو کچھ پل کے لیے خاموش کروا کر بیڈ پر بٹھا دیا تھا
“شاہزین آپ کا خوف گھبراہٹ جائز ہے۔۔ پر وہ میرا بھتیجا ہے۔۔ بہروز میرا لاڈلا ہے اس لیے نہیں۔۔ بلکہ میں نے اسکی پرورش کی ہے۔۔ وہ میرا خون ہے۔۔ میرا بیٹا ہے۔۔ اس لیے میں آنکھیں بند کرکے اس پر اپنے بھائی اور بھاوج پر یقین کررہاہوں۔۔ میں گارنٹی لیتا ہوں بھروسہ رکھو مجھ پر۔۔۔”
“ہمم۔۔۔ اگر کل کو ہماری بیٹی کے ساتھ غلط ہوا تو میرے مجرم آپ ہوں گے شاہ زیب۔۔”
“اللہ نہ کرے۔۔۔ اگر کبھی کچھ غلط ہوا تو بہروز کے کان میں پکڑو ں گا وعدہ رہا۔۔۔”
۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
“اب مجھے چائے چاہیے۔۔۔اور فریج میں جو چاکلیٹ پڑی تھی وہ بھی لے آنا۔۔۔ ہم آج اپنی بیٹی کے کمرے میں اسے تنگ کرکے وہیں سوئیں گے۔۔۔”
اور وہ تکیہ اور کمفرٹ اٹھا کرچلے گئے تھے۔۔۔پیچھے ہنستی ہوئی شاہزین کو چھوڑ کر۔۔
وہ اپنے شوہر کے لیے چپ ہوئی تھی پر تسلی ان کو ابھی بھی نہیں آئی تھی اس رشتے پر۔۔
اور وہ اپنی پوری تسلی کرنا چاہتی تھی۔۔۔
۔
