Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
“بس بھاگ رہے ہیں۔۔۔؟؟ بہروز حاکم ایک خاندان ٹوٹ گیا ایک ہنستا بستا خاندان اجاڑ دیا آپ نے اور آپ کی بیوی نے اب بھاگ رہے ہیں۔۔؟؟”
بہروز کے قدم رک گئے تھے
“شایان سن رہا ہے چپ کر جاؤ جنید۔۔۔”
“کیوں چپ کروں۔۔۔؟؟ سننے دیں چاندنی بھابھی کی بیٹی بھی تو انسلٹ سنتی تھی نہ آپ کی۔۔؟؟ آپ کا بیٹا سن لے گا تو قیامت آجائے گی۔۔۔؟؟”
“شایان بیٹا آپ زرقان چاچو کے پاس جاکر بیٹھ جاؤ گے۔۔؟؟”
ویٹنگ روم میں بیٹھے اپنے کزن کی طرف اشارہ کرکے بہروز نے اسے اسی طرف بھیج دیا تھا
اور خود منہ موڑ کر جنید کی طرف دیکھا جو غصے میں کھڑا تھا
“تم کیا چاہتے ہو مجھ سے۔۔۔؟؟ میں واپس جاؤں۔۔؟؟ جو بچی کچی زندگیاں رہ گئی ہیں ان کو بھی تباہ کردوں۔۔؟؟”
“آپ جیسے مرد اور کربھی کیا سکتے ہیں۔۔۔؟؟ وہ عورت سب کچھ برباد کرکے ہوٹل روم میں عیاشی کرتی پھر رہی ہے اسکا شوہر پورا خاندان برباد کرکے باہر بھاگ رہا ہے۔۔
شرم نہیں آتی۔۔۔؟؟ جو تباہ کیا ہے اسے ٹھیک کرو بہروز حاکم۔۔۔ جن رشتوں کو بگاڑ دیا نہیں واپس ویسا ہی کریں ورنہ میں آپ کو جان سے مار دوں گا مگر واپس نہیں جانے دوں گا۔۔۔
ہمارے ساتھ اسی حویلی میں رہو اور دیکھو جس آگ میں ہم جل رہے ہیں آپ بھی جلو اس میں۔۔۔”
“جنید میرا ہاتھ اٹھ جائے گا۔۔۔”
“اٹھ جائے مجھے پرواہ نہیں۔۔ اگر آپ اب واپس گئے تو میں سمجھ جاؤں گا یہ پری پلینڈ تھا۔۔
آپ کا اور آپ کی بیوی کا۔۔۔ واپسی بھی چاندنی باجی سے بدلا لینے کے لیے کی تھی۔۔۔؟؟ کیا سمجھوں میں۔۔۔؟؟ آپ ڈرپوک انسان ہیں۔۔؟؟
جس بہروز حاکم کو میں جانتا تھا وہ ایسا بزدل نہیں تھا”
بہروز بنچ پر بیٹھ گیا تھا اور کچھ لمحے میں جنید بھی ساتھ بیٹھ گیا تھا اسکے
“پچھلے چار سال اس سے نفرت میں گزار دئیے۔۔ اس دن ہسپتال میں اگر میرے ہاتھ سے اس پر گولی چل جاتی تو آج وہ منوں مٹی ہوتی۔۔۔ اور میں۔۔؟؟ میں اپنی سزا کا تعین نہیں کر پارہا۔۔ میں بھاگنا چاہتا ہوں اس حویلی سے سب سے۔۔۔ہر ایک سے بھاگنا چاہتا ہوں۔۔۔ بہت دور جانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں رک بھی گیا تو کچھ سہی نہیں ہوپائے گا۔۔۔ وہ تو واپس نہیں آنے والی میری بیٹی کی طرح۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک ماہ بعد۔۔۔۔۔”
۔
۔
“نیو یارک۔۔۔۔”
۔
۔
” میں پوچھ سکتی ہوں تم اس لائبریری کو کس سے پوچھ کر سیل کررہی ہو۔۔؟؟”
“مجھے اپنی ہی چیز بیچنے کے لیے کسی کی ضرورت ہے مہرما۔۔؟؟”
چاندنی وہاں سے اٹھ کر جانے لگی تھی جب مہرما نے اسے روکا۔۔۔
“چاندنی وہ لائبریری سیل مت کرو۔۔۔ تمہاری محنت ہے خواب ہے وہ۔۔ اس جگہ کو تم نے اتنے سال دئیے اب۔۔۔”
“غلط۔۔۔ وہ میرا خواب نہیں۔۔۔ میرا روزگار تھی ایک امید تھی کہ اس کے پیسوں سے میں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
حاکم حویلی۔۔۔ پچھلے ایک مہینے سے سوگ میں مبتلا تھی ایک دوسرے کے ساتھ بحث مباحثہ تو جیسے اولین ترجیح سمجھا جانے لگا تھا معراج حاکم کے بیٹے آپس میں ایسے لڑنے لگے تھے۔۔۔ ہر لڑائی شروع کسی اور بات پر ہوتی پر ختم چاندنی کے نام پر ہوتی تھی
۔
ایک دوسرے کو طنز و طعنے دے کر وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے پر غصہ اتار رہے تھے اپنی ناکامی اپنی غلطی چھپا کر وہ سمجھ رہے تھے کہ اپنے گناہ سے منہ پھیر لینے سے گناہ چھپ جائے گا۔۔۔
اب تو رشتے داروں اور دوست احباب نے گھر آ آ کر پوچھنا شروع کردیا تھا کورٹ ہیرنگ کے چرچے ہر جگہ مشہور ہوئے تھے چاہت کی موت نے ہر کسی کو مجبور کردیا تھا بہروز حاکم کو بددعائیں دینے پر۔۔۔
جو پچھلے ایک مہینے سے وہاں سے سب چھوڑ چھاڑ کر جا چکا تھا۔۔۔
۔
آج کی فضا ایسی تھی جیسے کچھ ہونے والا ہوں کچھ بہت بُرا۔۔۔ گہری خاموشی تھی ناشتے کی میز پر جیسے ہی سب بیٹھے تھے مین گیٹ کھلا تھا۔۔۔
آہستہ آہستہ ویل چئیر کی آواز اس فرنشڈ فلور پر گھڑی کی سوئی کی طرح تھی۔۔
شمیشم بیگم تو ویل چئیر سے پچھلے ہفتے ہی اٹھ گئی تھی اب وہ اپنے قدموں پر چل لیتی تھی پھر کون تھا۔۔۔ جس کی کرسی عین سینٹر پر رکی تھی۔۔۔اور اس ایک آواز نے معراج حاکم کی سانسیں جیسے روک دی ہوں۔۔۔
۔
“میری بیٹی کہاں ہے ابا جی۔۔۔؟”
وہ آہستہ آواز بھی کسی للکار سے کم نہ تھی۔۔۔
“شاہ زیب۔۔۔۔؟؟؟ یا اللہ۔۔۔۔”
“شاہ زیب بھائی۔۔۔؟؟؟”
شاہ زیب بیٹا۔۔۔”
سب اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر شاہ زیب کی طرف بڑھے تھے جنہوں نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو وہیں روک دیا تھا
“میری بیٹی کہاں ہے ابا جی۔۔۔”
۔
۔
“شاہ زیب میرے بچے۔۔ تم تو۔۔۔ یا خدا۔۔۔ اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرا بچہ زندہ سہی سلامت۔۔۔”
والدہ کے ہاتھ جھٹک کر شاہ زیب نے ویل چئیر کا رخ والد کی طرف کرلیا تھا
“ابا جی میری بیٹی کہاں ہے۔۔۔ آپ کی پوتی۔۔۔ میرے اور شاہزین کے جانے کے بعد آپ نے بہت اچھے سے خیال رکھا ہوگا میری بیٹی کا ۔۔؟؟ معراج حاکم۔۔۔ آپ نے بہو بنا کر میری بیٹی کو سر آنکھوں پر بٹھایا ہوگا۔۔۔اور وہ میرا بھانجا۔۔۔کہاں ہے وہ بہروز حاکم۔۔۔”
“چچا جان۔۔۔”
بہروز گیٹ پر کھڑا ملا تھا ان سب کو جو ابھی ابھی داخل ہوا تھا اس حویلی میں۔۔۔
۔
“بہروز میری بیٹی کہاں ہے۔۔؟؟ تم سے شادی ہوگئی تھی اس کی بہت خوش رکھی ہو گی نہ۔۔ بلاؤ میری بچی کو۔۔۔”
کسی کے پاس جواب نہیں تھا وہ سب تو حیران تھے شاہزیب کو زندہ دیکھ کر خوش تھے بہت زیادہ پر چاندنی کا نام آنے پر سب کی بولتی بند ہوگئی تھی
“مجھے یاد ہے۔۔ میں نے زمین آسمان ایک کردیا تھا۔۔اسکے اور اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے۔۔
میں اپنی بیوی سے لڑتا تھا۔۔۔ وہ کہتی تھی اسے میرے بھتیجے پر یقین نہیں ہے وہ آخر تک لڑتی رہی مجھ سے۔۔۔بہروز۔۔ میں اسے کہتا تھا تم بہت قابل ہو۔۔ میں تم پر خود سے زیادہ یقین کرتا ہوں۔۔ میں تمہیں بھائی کا نہیں اپنا بیٹا سمجھتا تھا۔۔
ابا جی۔۔۔میری بیٹی کہاں ہے۔۔؟؟”
اس بار شاہ زیب کی آواز بہت بھاری ہوگئی تھی۔۔۔
“ایک ایک بات پتہ چلی مجھے۔۔۔ مجھے پتہ چلا یہ میری بیٹی کو جاہل کہتا تھا۔۔۔
مجھے پتہ چلا اس نے ہزار لوگوں کے سامنے میری بچی لاوارث کہہ کر ٹھکرا دیا۔۔۔
کبھی جاننے کی کوشش کی وہ لاوارث کیوں ہوئی۔۔۔ تمہارے باپ تمہاری ماں کو ملنے والی موت مجھے اور میری بیوی کو ملی ۔۔۔ وہ دشمن میرے نہیں تمہارے باپ کے تھے۔۔ ۔۔
اس خاندان کے پیچھے قربان ہوئی میری بیوی۔۔ اور پھر میری بچی۔۔۔
یار لُٹ گیا میں تو۔۔۔ برباد ہوگیا۔۔۔ میں آپ کے خاندان کو بچاتا رہا آپ میری بیٹی نہ بچا سکے معراج حاکم کیسے باپ ہیں۔۔۔؟؟ لعنت ہو ایسے سامراج پر جس میں بن ماں باپ کے بچی کے ساتھ ایسے کرتے رہے۔۔۔”
معراج حاکم نے منہ پھیر لیا تھا انکا بیٹا ایک بار نہیں کئی بار انکا نام پکار چکا تھا جو کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھاوہ سوال جن کا کوئی جواب نہیں تھا ان کے پاس۔۔۔
۔
“بہروز حاکم۔۔۔ تمہاری یا تمہاری باپ کی اتنی اوقات نہیں ہوگی جتنی جائیداد میں کما کر چھوڑ گیا۔۔ میری بیٹی کو نہیں پالتے تھے یہ لوگ میرا چھوڑا ہوا کاروبار پال رہا تھا اس حویلی کو اس خاندان کو۔۔۔بات کرتا ہے ۔۔۔ تم تو ہوگئے تھے انجان۔۔۔
پر یہ لوگ۔۔۔ ماں۔۔۔؟ کیا مجھ سے کبھی محبت نہیں کی تھی۔۔؟؟ میں اٹھایا ہوا بچہ تھا۔۔؟؟ جائز نہیں تھا۔۔۔ میں ناجائز ۔۔۔”
شمیشم بیگم کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔
“بس کرجاؤ شاہ زیب۔۔۔بس کرجاؤ۔۔۔”
“آپ نے بس کیوں نہ کیا۔۔؟؟ میری بیٹی پر ظلم بس کیوں نہ کیا۔۔؟؟ کیا قصور تھا۔۔۔
وہ بچی جس کو اسکی ٹیچر نے ایک بار مارا تھا میں نے اسکی پڑھائی چھڑا دی۔۔ میری اسی بچی کو ذلیل و رسوا کرتے رہے۔۔؟؟ کیسے برداشت کرتی ہوگی وہ۔۔۔
اتنے بڑے خاندان میں جب سب نے اس غیر لڑکی کو اہمیت دی ہوگی تو میری بچی کی کیا کیفیت ہوگی۔۔۔؟؟ کہاں کس کے پاس رونے جاتی ہوگی وہ۔۔۔؟؟
کتنا بڑا جرم ہوگیا مجھ سے۔۔۔ جو اس بےغیرت پر بھروسہ کیا۔۔ اس بھائی پر بھروسہ کیا
ان اپنوں پر بھروسہ کیا۔۔۔ لوگوں کے خاندان والے تو مرنے والے کی بےجان نشانیاں بھی سنبھال کررکھتے ہیں اور آپ۔۔۔ میری بچی کی حفاظت نہ کرسکے۔۔۔”
کیسی قسمت ہوگئی تھی اس حویلی کی کچھ ہفتے پہلے ایک مرد رویا تھا اور آج ایک اور مرد رو رہا تھا ۔۔۔
“شاہزین مجھے بہت پہلے تم دونوں کو لے جانا چاہیے تھا ان جھوٹے لوگوں کے درمیان سے۔۔۔ یہ سفید خون۔۔۔ میری بچی کی خوشیاں کھا گیا کاش پہلے عقل آجاتی اور آپ کی اس بڑی حویلی کی چھوٹی اوقات پہلے نظر آجاتی مجھے۔۔۔”
“آپ مجھے مار یں۔۔۔مجھ پر ہاتھ اٹھائے چچا جان میں ہوں مجرم۔۔۔”
بہروز کرسی کا رخ اپنی طرف کرچکا تھا۔۔
“تمہیں ہی مارنے آیا ہوں بہروز شاہنواز حاکم تمہیں۔۔۔ آج مجھے تمہیں مارتے ہوئے افسوس نہیں ہوگا۔۔ “
شاہ زیب کی گود میں جو بلیک رنگ کی چادر تھی انہوں نے وہ اٹھا دی تھی اور نیچے سے ریوالور نکالا تھا۔۔۔ یہ دیکھنے کی دیر تھی کہ شاہنواز صاحب بہت قدم پیچھے ہوگئے تھے۔۔۔
۔
“مار دیجئے۔۔۔ ویسے بھی میں زندہ ہوکر مرا ہوا ہوں۔۔۔میں۔۔۔”
۔
“ہاں وہی کروں گا وہی کرنے والا ہوں۔۔۔”
انکے کانپتے ہوئے ہاتھوں نے آج ہر لحاظ بھلا دیا تھا۔۔۔
سب کو گماں تھا کہ وہ بس دھمکی دے رہے ہیں۔۔۔ پر انکی گن سے دو فائر ہوئے گولی لگتے ہی بہروز دور جا گرا تھا۔۔۔
“بابا۔۔۔بابا۔۔۔”
شایان وہ واحد تھا جو بہروز کی طرف بھاگا باقی سب تو اتنے شاک تھے کسی کو یقین نہیں آرہا تھا شاہ زیب صاحب نے آخر کرکیا دیا۔۔۔
۔
“شاہ زیب۔۔۔ یا اللہ یہ آپ نے کیا کردیا۔۔۔”
باہر سے وہ خاتون بھاگتے ہوئے اندر آئی تھی جو شاہ زیب کو یہاں تک لیکر آئی تھی۔۔۔
“میری بیٹی کہاں ہے ابا جی۔۔؟؟”
شاہ زیب کے سینے میں درد شروع ہوئی تو انہوں نے آنکھیں بند کرنے سے پہلے بس یہ بات بولی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماما۔۔۔ بابا سوری بول رہے ہیں۔۔۔”
“چاہت بیٹا کم ہیر۔۔۔”
“ماما بابا کو چوٹ آئی ہے پلیز ہیلپ ہم یہاں آئیں۔۔۔”
“وہ ہاتھ پکڑ کر چاندنی کو دور کہیں لے گئی تھی۔۔۔ جہاں سز ہریالی کے سوا کچھ نہ تھا۔۔۔
“چاہت بیٹا ہم بہت دور آگئے ہیں۔۔ چلو واپس۔۔۔”
“ماما بس آگئے وہ دیکھیں شایان بھیا کے ساتھ ہیں بابا۔۔۔جلدی چلیں۔۔۔”
وہ بھاگتے ہوئے اسے آگے تک لے گئی تھی۔۔۔
“ماما بابا وہاں ہیں۔۔”
اور وہ جیسے جیسے بہروز کے سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی دیکھتے ہی دیکھتے بہروز کی آنکھوں سے خون نکلنے لگا تھا اور پورا چہرہ خون سے بھر گیا تھا
“چاندنی۔۔۔۔”
خون سے بھرے ہاتھ اس نے جیسے ہی آگے کئیے تھے چاندنی ایک جھٹکے سے جاگ اٹھی تھی ۔۔
۔
“چاندنی۔۔۔”
مہرما کی والدہ سلیمان اور مہرما تینوں بیڈ کے پاس کھڑے تھے۔۔
“چاندنی تم ٹھیک ہو۔۔ کیا ہوا۔۔۔ تمہاری چیخ کی آواز باہر تک سنائی دی۔۔۔”
“کچھ نہیں۔۔۔میں۔۔۔”
۔
“چاندنی باجی۔۔۔۔سلیمان۔۔۔”
حسیب اور صائمہ بھاگتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔
“پلیز ان لوگوں کو اندر مت آنے دینا میں کسی سے ملنا نہیں چاہتی۔۔۔”
چاندنی نے جیسے ہی کہا تھا وہ بیڈروم کا دروازہ کھل چکا تھا۔۔
“چاندنی۔۔۔پلیز۔۔۔ وہاں چلو۔۔۔ تمہارا وہاں جانا بہت ضروری ہے۔۔۔”
“میں پاکستان مر کر بھی نہیں جاؤں گی۔۔۔”
“اپنے شوہر کے مرنے پر تو جاؤ گی نہ۔۔؟؟ یا باپ کی میت پر بھی نہیں جاؤ گی۔۔۔؟؟”
صائمہ نے غصے سے کہا تو ان چاروں نے حیرانگی سے دیکھا تھا ان دونوں کو اور اسی وقت حسیب نے موبائل پر سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھائی ۔۔۔
“شاہ زیب چچا زندہ ہیں چاندنی آج حویلی آئے۔۔۔ سب سے تمہارا پوچھا اور پھر۔۔۔ بہروز بھائی کو شوٹ کردیا۔۔۔اور بعد میں خود بھی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہاسپٹل ایڈمٹ ہیں۔۔۔
۔
وہ دونوں ہی کریٹیکل ہیں۔۔۔ چاندنی۔۔۔”
۔
“بابا۔۔۔ بابا زندہ ہیں۔۔۔ میں لاوارث نہیں ہوں۔۔۔ میرا کوئی ہے۔۔۔”
وہ جلدی سے بستر سے اٹھی تھی اور دروازے کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
۔
“ایک مہینے بعد اس نے ری ایکٹ کیا۔۔۔صائمہ۔۔۔ تمہیں نہیں لگتا یہ خبر اسکا نروس بریک ڈاؤن کرسکتی۔۔؟؟ وہ اکیلی جان کتنا کچھ برداشت کرے گی۔۔؟؟”
“بی لئیو مئ۔۔۔ یہ سب ایسے ختم نہیں ہوگا۔۔۔ جب تک چاندنی کو دیکھ نہیں لیتے شاہ زیب چچا۔۔۔”
۔
“چاندنی باجی کو ایک بار بھی بہروز بھائی کی فکر لاحق نہیں ہوئی صائمہ اب تمہیں سمجھ جانا چاہیے کہ علیحدگی بہتر ہے۔۔۔”
“اگر میرا بھائی بچ گیا تو وہ بھی کروا دینا آپ سب۔۔۔ ابھی تماشا دیکھیں۔۔”
صائمہ غصے سے اپنے شوہر کو کہتے ہوئے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
