Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

“تم۔۔۔بہروز حاکم۔۔۔بہت ظالم شخص ہو۔۔۔مگر میں اپنی بیٹی کو نشانہ بننے نہیں دوں گی۔۔ تمہارے ظلم کا۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ مگر فیصلہ ہوگیا ہے۔۔ تم میرے بیٹے کو مار کر تو یہاں آگئی اب یہاں سے کہاں بھاگو گی۔۔؟؟”
“میں نہ انصافی نہیں ہونے دوں گی۔۔ پانچ سال پہلے ایک بیوی نے سب کچھ چھوڑا تھا۔۔ مگر آج تمہارا سامنا ایک ماں سے ہے۔۔ اپنی آخری سانس تک اپنی بیٹی کو اپنی آغوش میں رکھوں گی۔۔۔”
“مس مہرما اپنی کلائنٹ کو بتائیں کہ اسے کیسے انصاف مل سکتا ہے۔۔؟؟”
وہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے بہت مغرور لہجے میں بولا تھا
“مہرما ہم اپیل کریں گے۔۔ ہم ہائر کورٹ میں اپیل۔۔۔”
“ہم اب کچھ نہیں کرسکتے۔۔جب تک۔۔ پاکستان سے اس کیس میں تم باعزت بری نہیں ہوجاتی جب تک اس عدالت میں بے قصور۔۔۔”
“اور یہ بھگوڑی۔۔۔ جائے گی واپس۔۔؟؟ یہ میرے بیٹے کو مار دینے کے بعد ایسے ڈر کر بھاگی وہاں سے۔۔؟؟ اب بھگتو۔۔۔”
وہ یہ کہتے ہی وہاں سے جانے لگا تھا جب چاندنی کی آواز نے اسے روک دیا تھا
“اگر وہاں جاکر یہاں عدالت کو یقین آئے گا تو میں ضرور واپس جاؤں گی۔۔
مہرما میں پاکستان واپس جاکر اپنا کیس لڑوں گی۔۔”
بیروز کے قدم رک گئے تھے چاندنی کی بات سن کر۔۔
“چاندنی آر یو میڈ۔۔؟؟ وہاں تم ایک مجرم سے زیادہ کچھ نہیں میں نے کیس دیکھا۔۔ تمہیں فرسٹ ہیرنگ پر ہی سزا سنا دی جائے گی۔۔۔ اور سزا بھی موت کی ہوگی۔۔
اس شخص نے کوئی کمی نہیں چھوڑی۔۔۔”
“میں بےقصور ہوں۔۔ میں ثابت کر آؤں گی۔۔۔ بس میری بیٹی کا خیال رکھنا مہرما۔۔
یہاں اپیل دائر کرکے رکھنا۔۔۔بہروز حاکم تم اپنی دولت ریسورس سب لگا دو مگر میرے سچ کو دبا نہیں پاؤ گے۔۔ اس بار بیوی نہیں ایک ماں کھڑی ہے سامنے۔۔۔”
۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں نفرت اور غصے سے دیکھ رہے تھے۔۔
چاندنی اپنی جس بیٹی کے لیے واپس اس ماضی میں جانے کو تیار ہوئی جس ماضی نے سوا دُکھ تکلیف کے کچھ نہ دیا صرف ایک ٹائیٹل ملا اسے “دوسری عورت” کا۔۔۔
وہ اب واپس جارہی تھی۔۔۔
مگر اسے معلوم نہ تھا کہ جب وہ اپنا سچ ثابت کرکے اپنی بیٹی کے لیے واپس آئے گی۔۔
وہ بیٹی آنکھیں بند کرچکی ہوگی اسکے جدائی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماما آپ خیال رکھیں گی نہ ہماری چاندنی کا۔۔؟”
“بیٹا۔۔۔ میں۔۔۔خیال رکھوں گی میں ہر روز جایا کروں گی میں۔۔۔ بس تم۔۔ چاندنی کو واپس لے آنا۔۔۔سلیمان بھی یہاں نہیں ہے ورنہ میں اسے۔۔۔”
“ڈیڈ کے پاس ہونا بھی ضروری ہے سلیمان کا۔۔۔ میں اسے واپس لے آؤں گی۔۔۔”
مہرما اٹھنے لگی تھی جب والدہ اپنی بیٹی کے گلے لگ کر رونا شروع ہوئی۔۔۔
“میں نے اس سے بہت نفرت کی ہے مہرما۔۔۔ وہ یہ سب ڈیزرو نہیں کرتی۔۔۔ ہمارا سلیمان مر جائے گا اگر چاندنی اور چاہت اسکی زندگی میں نہ آئی۔۔۔”
“موم آپ۔۔؟؟”
وہ شاک ہوکر پوچھتی ہے۔۔
“میں بھی رہ نہ سکی میں خوش ہوں تم سب کی خوشی میں۔۔۔بس ان دونوں کا کیس ایسے لڑنا کہ انصاف ہو۔۔۔”
“انشاللہ۔۔۔ میں واپس لیکر آؤں گی۔۔۔”
وہ گاڑی میں بیٹھ کر چاندنی کے گھر کے لیے روانہ ہوئی تھی۔۔۔
اب اس گھر میں پہلے جیسی رونق نہ تھی ہر طرف اندھیرا۔۔۔ اور چاہت کے روم سے چاندنی کے رونے کی آواز نے اسے اور پریشان کردیا تھا
“چاندنی۔۔۔”
چاندنی نے وہ فوٹو فریم بھی بیگ میں رکھ کر زپ بند کردی تھی
“مہرما۔۔ میں گئی تھی وہاں۔۔۔ انہوں نے شیشے کے اس پار سے ملوایا میں اپنی بچی کو چھو بھی نہ سکی۔۔۔مہرما مجھے میری بچی چاہیے۔۔”
مہرما گھٹنوں کے بل بیٹھے اسے اپنے گلے سے لگائے دلاسہ دے رہی تھی
“ہم پاکستان جارہے ہیں ہم کامیاب لوٹیں گے چاندنی۔۔۔”
کچھ دیر بعد بیگ پکڑے وہ جیسے ہی ہال تک آئے تھے سامنے مجتبا حاکم کھڑے تھے۔۔۔
چاندنی بیگ کو نہیں چھوڑے انکی طرف بڑھی تھی اسے امید تھی کہ اب اسے سہارا دیں گے اپنے۔۔۔ اب اسے سینے سے لگا کر تسلی دیں گے۔۔۔
پر دادا جی کی بات نے اس ماں کی آخری امید بھی ختم کردی تھی
۔
“تم نے ماضی میں جو گناہ کیا جو جرم کیا اس کی نتائج دیکھ رہی ہو۔۔؟؟ تم ہمارا خون ہو۔۔؟؟ ہمارے شاہ زیب کی اولاد۔۔؟ کتنی تڑپی ہوگی میرے بیٹے کی روح اپنی بیٹی کے گناہوں کو دیکھ کر کچھ اندازہ ہے۔۔۔”
چاندنی سر جھکا کر کھڑی ہوگئی تھی
“مسٹر۔۔۔ بول لیا تو چلے جائیں۔۔”
“نہیں جا سکتا۔۔ میں نہیں چاہتا ہمارے خاندان کی عزت اب عدالتوں میں خراب ہو۔۔ چلو میرے ساتھ میں بہروز سے بات کرتا ہوں۔۔۔ تمہیں اس سے معافی مانگنی ہوگی۔۔”
۔
“دادا۔۔۔”
“مت گالی مت دو۔۔۔ میں ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔۔”
دادا جی نے چھری پکڑے دونوں ہاتھ جوڑے تھے
“یہ مت سمجھنا میں تمہارے لیے آیا ہوں۔۔ میں اپنے خاندان کی عزت کے لیے آیا ہوں۔۔ گھر چلو۔۔وہاں جاکر معافی مانگو بہروز سے۔۔۔”
دادا جی ایک اور پل نہ رکے تھے۔۔
“چاندنی چلو فلائٹ مس ہوجائے گی۔۔۔”
“اگر اس شخص سے معافی مانگنے سے میری بچی مجھے واپس مل جائے گی تو یہی سہی۔۔”
مہرما نے اسے لاکھ روکنے کی کوشش کی مگر چاندنی صائمہ کے گھر چلی گئی تھی
“بہروز۔۔۔ یہاں آؤ۔۔۔”
“بہروز کرسی سے اٹھ گیا تھا اور جب دادا جی پیچھے ہوئے تو چاندنی پر سب کی نظر پڑی تھی
“یہ یہاں کیا کررہی ہے۔۔؟؟”
رابیعہ اونچی آواز میں بولی تھی
“بہروز وہ اپنے گناہ پر معافی مانگنے آئی ہے۔۔۔ گھر کا معاملہ گھر میں ختم کرو میں نہیں چاہتا خاندان کی عزت عدالتوں میں جائے۔۔۔”
“آپ اب بھی اسے اپنی عزت سمجھتے ہیں۔۔؟؟”
بہروز نے دادا جی سے پوچھا ۔۔۔
“میں اسکی نہیں تمہاری ہمارے خاندان کی عزت کی بات کررہا ہوں۔۔ اس نے اگر عزت کا پاس رکھا ہوتا تو آج یہ حالات نہ ہوتے۔۔۔”
“بابا سائیں بس کرجائیں۔۔۔”
معراج حاکم چاندنی کی طرف بڑھے تھے جب بہروز نے انکا بازو پکڑا تھا
“میرے بیٹے کے قاتل کو گلے لگانے والے کو بھی میں اپنے بچے کا قاتل سمجھوں گا بابا سائیں۔۔۔
اور دادا جی اس نے میرا نہیں میری بیوی کا گھر اجاڑ دیا۔۔۔
اسے کہیں رابیعہ کے پاؤں پکڑے پوچھے کیا وہ اپنے بیٹے کا قتل معاف کردے گی۔۔۔
کیوں رابیعہ بتاؤ معاف کردو گی۔۔؟؟”
رابیعہ کے کندھے پر ہاتھ رکھے بہروز نے اسے اپنے قریب کیا تھا جس پر چاندنی نے آنکھیں بند کرلی تھی
اور گہرا سانس بھرا تھا وہ جانتی تھی اسے چاہت کے لیے کچھ بھی کرنا تھا اسے گھر اپنے پاس لانے کے لیے۔۔۔
“میں تم سے تمہاری بیوی سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہوں۔۔ بس میری بچی کو واپس کردو۔۔ اپنا کیس واپس لے لو۔۔۔ میں تم دونوں کے پاؤں پکڑنے کو بھی تیار ہوں۔۔”
چاندنی آگے بڑھی تھی اس سے پہلے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھتی حسیب نے اسے کندھے سے پکڑ کر اٹھا لیا تھا۔۔۔
“کیوں تذلیل کروا رہی ہیں چاندنی باجی۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے معافی مل بھی جائے تو وہ کیس واپس لے لیں گے۔۔؟؟ جس بیٹی کو خودداری سے پالا پوسا تربیت کی محنت کی کمائی کھلائی اب اسے بچی کو لینے کے لیے ایسے ظالم لوگوں کے سامنے جھکے گی۔۔؟؟”
“حسیب۔۔ وہ چاہت کسی ادارے میں رات ہورہی ۔۔یہ لاسٹ آپشن ہے پاکستان جانے کی ضرورت۔۔۔”
“ضرورت تو ہوگی چاندنی۔۔۔ اپنی دوڑ لگا لو۔۔ میں تمہیں معاف نہیں کروں گا اپنے بیٹے کا خون۔۔۔چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔کچھ نہیں ہے تمہیں دینے کو۔۔۔ نہ میں معاف کروں گا نہ میری بیوی۔۔۔
اور دادا جی تو تم سے پہلے ہی تلاتعلقی کرچکے ہیں۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
“چلو چاندنی۔۔۔”
چاندنی کے گرے ہوئے کندھے پکڑے حسیب اور مہرما اسے سہارا دیتے ہوئے دروازے تک لے جارہے تھے جب وہ دادا جی کے پاس سے جاتے جاتے رکی تھی
“آپ نے کہا میں شاہ زیب کا خون ہوں۔۔ کاش میرے بابا زندہ ہوتے تو وہ آپ کو بتاتے کہ میں کس کا خون ہوں۔۔
چار سال پہلے خاموشی سے اس لیے نکلی تھی مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ میں اس بڑے خاندان میں ایک یتیم سے زیادہ کچھ نہیں۔۔
آج آپ نےمجھ پر واضح کردیا ہے کہ میں تب بھی یتیم تھی اور آج بھی۔۔۔
میرے بابا پاگل تھے جو آپ لوگوں کے پیچھے خود بھی شہید ہوگئے اور ماں کو بھی قربان کردیا۔۔۔
میں تب چپ ہوئی تھی آپ لوگوں کو خاموش دیکھ کر تب میں سب کچھ کھو چکی تھی۔۔۔
اب میں چپ نہیں رہوں گی۔۔۔
اب عدالتوں میں عزتیں خراب ہوتی ہیں تو ہوں میں اب شاہ زیب حاکم کی بیٹی اور پوتی کو انصاف دلاؤں گی۔۔۔
آپ دیکھ لیجئے گا مجتجا حاکم۔۔۔”
۔
چاندنی کی باتوں نے ان سب پر ایک خوف طاری کردیا تھا۔۔۔
شاہ زیب کا چہرہ نظروں میں گھوم رہا تھا اور دادا جی سینے پر ہاتھ رکھے نیچے گر گئے تھے۔۔۔
۔