Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

“چاندنی میری بات سن لو میں۔۔”
ایک زور دار تھپڑ پڑنے سے بہروز کا منہ دوسری طرف ہوگیا تھا
“میں کیا۔۔؟ کیا بات کرنا چاہیں گے۔۔؟؟ یہاں ہماری طلاق نزدیک ہے اور آپ نے یہ حرکت کرڈالی۔۔”
“تو کیا کرتا۔۔؟ ڈیم اِٹ مرجاتی تم اگر میں قدم نہ اٹھاتا تو”
“تو مرجانے دیا ہوتا۔۔ اب بھی تو زرہ زرہ موت مروں گی یہ سوچ کرکہ جس نے مجھے برباد کیا میری خوشیاں ختم کردی یہاں تک کہ میری بیٹی چھین لی وہی اسی کے ساتھ پوری رات۔۔”
دونوں کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا بہروز نے۔۔
“شوہر ہوں تمہارا۔۔۔ بیوی ہو تم میری کل رات جو ہوا وہ غلط نہیں تھا گناہ نہیں ہوا سنا تم نے۔۔”
“میرے لیے گناہ ہی ہے میں کسی اور کی ہونے جا رہی تھی سلیمان کا حق۔۔۔”
اب بہروز کا ہاتھ اٹھ گیا تھا پر اس نے تھپڑ مارا نہیں تھا۔۔۔
ہوا میں اسکا ہاتھ ریکھ کر بےیقینی سے دیکھا تھا چاندنی نے اسے۔۔
“مجھے مارنے سے سچائی بدل نہیں جائے گی بہروز۔۔ گھر واپس جاتے ہی عدالت سے رجوع کروں گی مجھے طلاق چاہیے۔۔۔”
بالوں پہ ہاتھ پھیرتے وہ منہ پھیر چکا تھا
“میں تمہیں طلاق نہیں دینا چاہتا چاندنی۔۔۔ میں تمہیں چھوڑ کر جی نہیں پاؤں گا۔۔
بہت برداشت کرلیا۔۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔ یہی چلتا رہا کبھی میں نے محبت کو ٹھکرا دیا تو کبھی محبت نے مجھے۔۔۔ ان سب میں کوئی مخلص ملا تو وہ تم تھی۔۔ اب تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔۔۔”
اسکی آہستہ آواز میں کہی گئی ہر بات چاندنی کو صاف سنائی دہ رہی تھی اور جب بہروز نے مڑ کر دیکھا تو وہ منہ موڑ چکی تھی۔۔
۔
“اب بہت دیر ہوچکی ہے بہروز حاکم۔۔ اس جھوٹے دیکھاوے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔۔۔ مان لیجئے کہ میں آپ کو ٹھکرا چکی ہوں۔۔ نہیں چاہیے ایک ایسے شخص کی محبت جس کا اعتبار اتنا کمزور ہو کہ وہ اپنی بیوی پر یقین نہ کرسکے۔۔ آپ نے اس چاندنی پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جب چاہا دل توڑ دیا پہلی بیوی کے آنے پر جب چاہا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔ تب آپ کو اسکے ساتھ آپ کی فیملی پرفیکٹ لگتی تھی تب چاندنی جائے بھاڑ میں۔۔۔
اور اب یہ چاندنی۔۔۔ یہ آپ جیسے کمزور شخص پر دوبارا یقین نہیں کرنا چاہتی۔۔”
۔
۔
اسکے بعد بہروزنے کوئی بات نہ کی تھی۔۔۔کیا تھا کہنے کو اسکے پاس سوائے پچھتاوے کے۔۔؟؟
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ ہفتے بعد۔۔۔”
۔
۔
بہروز بھائی وہ پکڑی گئی ہے پولیس اسے جیل منتقل کرنے جارہی ہے آپ۔۔”
بہروز نے فون بند کرکے گاڑی گھما دی تھی
اور ٹھیک اسی روڈ پر کھڑی کردی تھی جہاں سے پولیس وین نے گزرنا تھا۔۔۔
پولیس کی گاڑیاں جیسے ہی وہاں سے گزری ایک بلاسٹ ہوا۔۔۔ وہ گاڑیاں جیسے ہی رکی اس دھویں میں کب بہروز کے گارڈ اس وین سے رابیعہ کا منہ بند کرکے گاڑی میں ڈالے لے گئے تھے۔۔۔ گاڑی ایک سنسان جگہ رکی تھی دونوں بازؤں سے پکڑے وہ اسے اندر لے گئے تھے اور جب اسے وہاں سینٹر پر پھین کر اسکی آنکھوں سے پٹی اتاری تو بہروز کو کرسی پر بیٹھے دیکھ رابیعہ کے چہرے پر ایک خوشی کی لہر ڈوری تھی
“میں جانتی تھی بہروز تم مجھے بچا لو گے۔۔ نو سال کی سزا سنائی مجھے میں تو ایک دن میں جیل کی کال کوٹھری میں نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔ بہروز تم۔۔۔”
ایک پل وہ بہروز کے سامنے تھی اور اگلے ہی لمحے زمین پر گری ہوئی
“ہم سب کو امید تو عمر قید ہو یا پھانسی پھر بھی میرے بیٹے کی موت کابدلہ پورا نہ ہوتا۔۔
نو سال تو بہت کم تھے رابیعہ۔۔ اسی لیے تمہیں یہاں لے آئے۔۔
اب تم ساری زندگی اس کال کوٹھری میں جیو گی۔۔”
“بہروز۔۔۔ تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔۔”
“میں کرچکا ہوں دیکھو دنیا والوں کے سامنے تم مر چکی ہو۔۔”
اس نے اشارہ کیا تو اسکے گارڈ نے ٹی وی آن کیا۔۔ جس میں ایک ڈیڈ باڈی کو اسے سمجھ کر لے جایا جا رہا تھا
“نووو۔۔۔ میں ابھی جا کر بتا دوں گی سب کچھ بہروز حاکم۔۔۔ یو باسٹرڈ۔۔۔”
“شش۔۔۔ ابھی تو تمہاری سزا شروع بھی نہیں ہوئی اور ابھی سے چیخ و پکار۔۔؟؟ ویل چیخوں چیخوں۔۔۔ یہاں دور دور تک کوئی نہیں ہے۔۔۔
اب اسی کال کوٹھری میں رہنا ہے تمہیں۔۔۔ تمہاری زندگی موت سے بھی بدتر کردوں گا۔۔”
“وہ پھر بھی نہیں آئے گی بہروز حاکم۔۔۔۔ اور جاننا چاہتے ہو تمہاری بیٹی کا قاتل کون ہے۔۔؟؟ میں بتاؤں گی تمہیں اگر تم مجھے جانے دو گے تو۔۔”
۔
وہ ہزاروں باتیں کررہی تھی پر اسکی بات پر بہروز کے قدم رکے اور وہ خود بھی ہنس دی کہ آخر اسے نے توجہ حاصل کر لی۔۔
“کیا کہا تم نے۔۔۔ میری بیٹی۔۔ قدرتی م۔۔۔”
“وہ قدرتی موت نہیں تھی۔۔ اسے مارا گیا تھا۔۔میں تمہیں ثبوت کے ساتھ قاتل کا بتاؤں گی اگر تم مجھے جانے دو تو۔۔۔”
اور بہروز نے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا جنہوں نے پیروں سے زنجیر نکال دی تھی اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے بہروز کے پاس آئی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈیم اِٹ۔۔۔۔وہ میری بچی کے قاتل نکلے اور میں اس شخص کے آگے جھک کر اپنی محبت کی بھیک مانگتا رہا۔۔۔؟؟”
۔
گاڑی کا شیشہ وہ مکا مار کر پہلے ہی توڑ چکا تھا اسکے سامنے وہ منظر گھوم رہا اس نے ہاتھ پھیلائے تھے اس شخص کے آگے اپنی محبت کے لیے۔۔۔
چاندنی کے لیے۔۔۔ وہ ہمیشہ چاندنی کو دوسری عورت کہتا رہا اور کہتے کہتے کب وہ دوسرا مرد بن گیا اسے معلوم ہی نہ چل سکا اسے معلوم تب ہوا جب وہ اسکے سامنے تھا وہ شخص۔۔۔
سلیمان احمد۔۔۔ جس سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی اسکی بیوی نے جسے اس نے کبھی بیوی نہ سمجھا جسے وہ دھتکارتا رہا۔۔۔
۔
۔
فلیش بیک۔۔۔۔٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں یہاں لڑنے نہیں آیا۔۔ اس رشتے سے پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔”
“اور کیوں ہٹ جاؤں پیچھے۔۔؟؟ جس کو اتنی محبت کی جس کی اتنی چاہت کی جس کا اتنا انتظار کیا میں اسے بھول جاؤ۔۔؟؟ میں سانس لینا تو بھول سکتا ہوں پر چاندنی کو نہیں۔۔۔”
سلیمان اسکے سامنے کھڑا تھا اور بہروز حاکم آج اپنی حیثیت اور چاندنی کی قدر جان گیا تھا جب کوئی اور مرد اسکی بیوی سے محبت کے اتنے بڑے بڑے دعوے کررہا تھا
“میں۔۔ اس سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔ اسکے بغیر۔۔۔”
“محبت کہاں گئی تھی جب وہ روتی رہی۔۔ بلکتی رہی دہائیاں دیتی رہی۔۔؟ تب تمہیں محبت نہیں تھی۔۔۔ نہ سہی ترس تو ہونا چاہیے تھا نہ۔۔؟؟ وہ بھی ماں تھی شایان کی۔۔۔ تمہاری بیوی سے زیادہ محبت چاندنی کرتی تھی۔۔۔
وہ کتنے گھنٹے شایان کی قبر کے پاس بیٹھ کر معافیاں مانگتی تھی۔۔۔ کہتی تھی مجھے معاف کردو میں تمہیں بچا نہ سکی۔۔۔ اب بتاؤ۔۔۔ جتنے سال تم کھا گئے ہو اسکی زندگی کے وہ واپس آجائیں گے میرے پیچھے ہٹ جانے سے۔۔؟؟
بہروز حاکم تم اگر گھٹنوں کے بل جھک کر۔۔۔”
اور بہروز گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا
“میں ہاتھ جوڑ کر تم سے درخواست کرتا ہوں۔۔۔ تم پیچھے ہوجاؤ۔۔ مجھے ایک موقع چاہیے اسکے دل میں جگہ بنانے کے لیے۔۔۔
وہ بار بار تمہارا نام لیکر مجھے اذیت دہ رہی ہے۔۔۔ اور میں یہ اور برداشت نہیں کرسکتا۔۔
میں اسے طلاق نہیں دہ سکتا۔۔۔ میں مرجاؤں گا۔۔۔”
“تو مرجاؤ۔۔۔بہروز ویسے بھی تمہاری زندگی کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں رہی۔۔۔”
سلیمان وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔اور وہ ہارا ہوا شخص کتنے گھنٹے وہی بیٹھا رہا تھا۔۔۔
۔
“اب کون ہے جو مجھے تم سے ملوائے گا۔۔۔؟ میں کس کے پاس جاؤں کیا کروں۔۔۔؟؟”
تیز بارش اسے بھیگا چکی تھی آنکھوں سے بہتے آنسو اسے اور کمزور بنا گئے تھے۔۔۔ ان میں دور سے آزان کی آتی ہوئی آواز اسکے کانوں میں جیسے ہی پڑی جسم میں ایک کپکپی سی طاری ہوئی تھی۔۔۔
۔
۔
فلیش بیک اینڈ۔۔۔٭٭٭٭٭٭
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے ساری انفارمیشن چاہیے اس معاملے میں ہر ایک کی انفارمیشن چاہیے۔۔ میری بیٹی کی زندگی کو لیکر اس ادارے کی ہر ایک سی سی ٹی وی فوٹیج چاہیے۔۔”
“جی سر۔۔۔ میں خود رپورٹ آپ کو دوں گا۔۔۔ سر ڈاکٹر کے چلیں آپ کو چوٹ لگی ہے۔۔”
بہروز کی نظر ہاتھوں سے بہتے ہوئے خون پر پڑی تھی
“چوٹ بہت گہری آئی ہے۔۔۔”
بہروز کی آواز بھاری ہوگئی تھی۔۔۔
وہ گاڑی سٹارٹ کرکے سیدھا شاہ زیب صاحب کے گھر گیا تھا جسے وہ مکمل ٹھیک کروا چکا تھا۔۔۔
“ہم کچھ دیر میں جارہے ہیں یہاں سے واپس حویلی میں۔۔”
“پر بیٹا وہ تو حمدان کے پاس ہے اور ساری جائیداد۔۔۔”
“میں نے سب مینیج کرلیا ہے دادا جان صائمہ باجی کو چھڑانے تک میں انکی باتیں برداشت کررہا تھا۔۔ کچھ دیر میں وہ بھی گرفتار ہوں گے۔۔”
چاندنی بہروز کو دیکھتی رہ گئی تھی جب بہروز نظریں چراتے ہوئے اوپر کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔
اور وہ اسکے پیچھے پیچھے۔۔۔
“تو آپ نے یہ قبول کرلیا کہ آپ کا کوئی چانس نہیں ہے میں ماننے والی نہیں ہوں اس لیے آپ نے یہ ڈرامہ ڈراپ کردیا کہ حمدان چچا قبضہ نہیں چھوڑ رہے۔۔۔”
پر بہروذ خاموش تھا وہ بیڈ کے بالکل پاس کھڑا تھا خاموش چاندنی اسے سنا رہی تھی اور وہ سن رہا تھا۔۔۔
“”شکر ہے آپ سے اور اس فیملی سے پیچھا چھوٹ جائے گا ہمارا اور۔۔۔
اور بہروز سے رہا نہ گیا وہ بھی اتنی اونچی آواز میں بول اٹھا
“وہ سب میری وجہ سے مجرم بنے میں ڈانٹتا تھا غصہ کرتا تھا۔۔۔ وہ میرے جھوٹ پر یقین کرلیتے تھے چاندنی بس فرق اتنا ہے وہ تمہارے پاوں نہیں پکڑ سکتے
دادا جی کی آنکھوں میں بےبسی کی انتہا دیکھی ہے میں نے
انہوں نے کچھ تو اچھا کیا ہوگا نہ ۔۔۔؟ ساری زندگی تمہیں آنکھوں کا تارا بنا کر رکھا انہوں نے یہاں تک کہ چچا چچی کے جانے کے بعد بھی محبت کرتے رہے تم سے
میں جلتا تھا سب جلتے تھے”
ایک ایک کرکے بہروز کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔
۔
“چاندنی انہوں نے زیادتی ک غلطی کی تم پر یقین نہ کرکے انہیں جو دیکھایا گیا وہ اسے سچ مانتے رہے
وہ بھی اذیت میں تھے چاندنی۔۔۔
سزا دینی ہے۔۔ مجھے دو ماردو میں افف نہیں کروں گا بس گھر والوں کو معاف کردو۔۔۔”
“کتنا آسان ہے نہ یہ کہہ دینا کہ معاف کردو ۔۔۔؟ شایان کے جانےکے بعد آپ نے مجھے معاف کیوں نہیں کیا ۔۔۔؟ میں کسی کی بیٹی نہیں تھی جب مجھے ہسپتال میں سب کے سامنے ذلیل کرکے نکال دیا تب آپ نے مجھے معاف کیوں نہیں کیا تھا بہرو۔۔”
۔
“بہروز منہ پھیر چکا تھا
“بہروز حاکم وہ پتھر دل انسان تھا جس نے شادی سے پہلے نکاح والے دن ہر کسی کے سامنے تمہیں ٹھکڑا دیااور شادی کے بعد خاندان کے سامنے
چاندنی بتا رہا ہوں میں غلط ہوں گناہ گار ہوں میں تم نہیں ہوں تم تم ہو۔۔۔ میری صبر کرنے والی بیوی میری کزن میری خیر خواہ۔۔۔
بس اب کچھ نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔”
“آپ جیسوں سے اور امید بھی کیا کی جاسکتی ہے بہروز حاکم ۔۔۔۔”
وہ طنزیہ کہتے ہی کمرے سے باہر جانے کو تھی جب بہروز نے جلدی سے اس کا راستہ روکا۔۔۔۔
۔
“تم میری کسی بات پر یقین نہیں کرو گی جانتا ہوں
پر پھر بھی سلیمان سے شادی کرنے سے پہلے ایک بار سوچ لینا وہ لوگ ہماری چاہت کے قاتل ہیں۔۔۔
ہماری بچی میری وجہ سے نہیں گئی ان لوگوں نے ہماری بچی کو ہم سے دور کردیا چاندنی۔۔۔ سلیمان کی والدہ
قاتل ہیں ہماری بچی کی۔۔۔”
چاند کا جسم ایک دم سے ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔۔۔
“ہممم۔۔۔۔ آپ کو کب پتہ چلا ۔۔؟ “
“آج ہی ۔۔۔۔”
“اوکے ۔۔۔۔”
وہ پھر سے جانے لگی تھی جب بہروز نے پھر سے اپنی طرف کھینچا اور اس بار اسکی آنکھوں میں بے یقینی تھی چاندنی کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر۔۔۔۔
۔
“تمہیں یقین ہوگیا میری بات پر ۔۔۔؟ کوئی قسم وعدہ کوئی صفائی کوئی ثبوت نہیں مانگو گی مجھ سے ۔۔۔؟
مجھے الزام نہیں دو گی کہ یہ شادی رکوانے کے لیے میں یہ بول رہا کیا پتہ میں جھوٹ بول رہا ہوں چاندنی کیا پتہ۔۔۔۔”
بہروز کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا چاندنی نے
“کوئی اپنی اولاد کو لیکر ایسا جھوٹ نہیں بول سکتا بہروز۔۔۔۔مجھے یقین ہے آپ پر۔۔۔”
“تو پھر میں نے تم پر یقین کیوں نہیں کیا۔۔؟ میں کیوں جھٹلاتا رہا شایان کی بار”
“کیونکہ آپ مجھے اسکی ماں نہیں سمجھتے تھے بہروز۔۔۔ ابھی آپ نے کہا نہ وہ آپ تھے میں نہیں”
۔
بہروز سے رہا نہ گیا وہ چاندنی کو اپنے سینے سے لگائے جی بھر کے رو دیا تھا۔۔۔۔
اسکے آنسو چاندنی کے کندھے کو تر کرچکے تھے آج اسے شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی تھی یہ رونا بوجھ تھا اسکی روح پر۔۔۔ کتنی دیر وہ ایسے ہی کھڑے رہے تھے کتنی دیر وہ اس شخص کی سسکیاں سنتی رہی تھی۔۔۔
پر کیا وہ اسے معاف کرنے کے حق میں تھی۔۔۔؟
کیا وہ اذیت سے بھرے چار سال بھولنے کے حق میں تھی۔۔۔۔؟؟؟
نہیں۔۔۔ کیاوہ اس رشتے میں رہنے کے حق میں تھی۔۔۔؟؟؟
۔
اب کے چاندنی کا دل و دماغ دونوں جواب دینے سے قاصر تھے۔۔۔۔
۔