Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 36
No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
“بہروز حاکم۔۔۔”
وہ اندھیرے میں دھیرے قدموں سے ٹیرس پر گئی تھی۔۔۔وہ شام سے انتظار کررہی تھی کہ کب سب سونے جائیں اور کب وہ یہاں بہروز حاکم کا دماغ ٹھکانے لگا سکے۔۔
ابھی اس نے بہروز کو پکارا تھا کہ زرا سی اٹج کر بہروز کے قدموں کے پاس جاکر گرنے لگی جب اس نے تھام لیا تھا
“چاندنی۔۔۔”
اس نے اسے پورا طرح اٹھا کر سرگوشی کی تھی۔۔۔ اسے یہ کسی خواب سے کم نہیں لگ رہا تھا یہ سب اس کو اپنے اتنا قریب پاکر۔۔۔
۔
“اور کتنے جھوٹ بولو گے بہروز حاکم۔۔؟ تھکتے نہیں ہو۔۔؟؟”
“میں کچھ سمجھا نہیں۔۔؟؟”
“دور رہو ہاتھ مت لگاؤ۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
بہروز منہ پھیر کر رئیلنگ پر ہاتھ رکھ چکا تھا۔۔۔
“یہاں دیکھو میری طرف بہروز حاکم۔۔۔ غریب ہو گئے ہو۔۔؟؟ سڑک پر آگئے ہو۔۔؟؟ جھوٹ بولتے ہو آپ کا پیسہ ختم ہوگیا۔۔ وہ باہر کے ملک کی کمائی کہاں گئی ہاں۔۔؟؟”
“رابیعہ نے سب ہتھیا لیا۔۔۔ سب پیپرز پر سائن کروا لئیے۔۔۔”بہروز چاندنی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا جو ایک دم سے خاموش ہوگئی تھی۔۔
“وہ تو محبت تھی نہ بہروز۔۔۔؟؟ پھر کیوں ایسے ناکام عاشق کے جیسے کھڑے ہو۔۔؟”
“یہ ناکامی چاہت کے نا رہنے پر ہے۔۔ تمہارے جانے پر ہے چاندنی۔۔ رابیعہ کے ہونے نہ ہونے۔۔”
“دنیا کے سامنے تو چلا رہے تھے۔۔۔ میرا بیٹا مار دیا میرا بیٹا قتل کردیا۔۔۔ اب جب اصل قاتل سامنے تھا تو کیوں اسے سزا نہیں۔۔۔ ہاتھ کانپ اٹھے۔۔؟؟
یاد ہے اسی ہاتھ نے گولیاں چلائی تھی بہروز۔۔۔”
چاندنی نے بہروز کے ہاتھ کو جیسے ہی اوپر اٹھایا بہروز کی آنکھیں بھر آئیں تھی۔۔۔
۔
“چاندنی۔۔۔کب تک ایسے ہی سزا دیتی رہو گی۔۔؟؟ اب باتیں برداشت نہیں ہوتی۔۔۔”
“طلاق دہ دو۔۔ میری زندگی سے دور چلے جاؤ میں خاموش ہوجاؤں گی۔۔۔”
“طلاق دہ دوں تاکہ تم اس سے شادی کرلو۔۔؟؟”
بہروز کی آنکھوں میں غصہ جھلکا تھا
“میری بیٹی چاہت بھی یہی کہتی تھی۔۔۔تم جانتے ہو وہ سلیمان کو بابا کہنے لگی تھی۔۔۔
تم نے سہی پہچانا میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں بہروز میں۔۔۔”
بہروز نے ایک جھٹکے سے اسے رئیلنگ کے ساتھ پن کردیا تھا۔۔۔
“بہر۔۔۔”
بہروز کے لبوں نے اسے پھر سے بولنے کا موقع نہیں دیا تھا۔۔ وہ غصے میں تھا شدید غصے میں۔۔۔ اسکی شدت میں نرمی نہیں تھی ۔۔۔
چاندنی نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھے جیسے اسے دھکا دہ کر خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کی بہروز نے اسکے دونوں بازو پیچھے کمر کے ساتھ پن کردئیےتھے۔۔۔
“نہیں دوں گا طلاق۔۔۔ ڈیم اِٹ۔۔۔ کہیں نہیں جانے دوں گا تمہیں۔۔۔ ہوگیا گناہ چاندنی۔۔۔ تم پر یقین نہیں کیا ہوگئی غلطی۔۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہیں کھو دیا۔۔۔
ان چار سالوں میں ایک بار بھی رابیعہ کے پاس نہیں گیا تھا۔۔
جس رات میں نشے میں تھا میری بےہوشی کا فائدہ اٹھایا۔۔۔ اب سب سمجھ آرہا ہے۔۔
جس ہاتھ سے اس دن ہسپتال میں تم پر گولی چلانے کی کوشش کی مجھے ایک منٹ نہیں لگے گا خود کو شوٹ کرنے میں۔۔۔”
بہروز کی بات ختم ہونے تک وہ ہلکا بند ہوگئی تھی اب اسکی آنکھیں بھی بھر چکی تھی
“جھوٹ۔۔۔سب جھوٹ بہروز۔۔۔ “
“اس نشے کی گناہ والی رات کے علاوہ میں اسکے قریب کبھی نہیں گیا چاندنی۔۔۔۔
مجھے وہ رات بھی یاد نہیں۔۔۔ مجھے وہ راتیں یاد رہی جو تمہاری آغوش میں گزاری۔۔۔تم۔۔۔”
چاندنی کے ہونٹ سے نکلتے خون کو دیکھ کر وہ پھر سے جھکا تھا۔۔۔ اسکے ہونٹوں نے جیسے ہی ان لبوں کو چھوا ب اسکی محبت میں بہت نرمی تھی۔۔۔ وہ ان لمحات میں اپنا سب یقین ساری چاہتیں اسے دینے کی کوشش میں تھا۔۔۔
پر ایک جھٹکے سے اس نے بہروز کو پیچھے دھکا دیا تھا اور ایک زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔۔
“بہروز حاکم جھوٹ بول کر سیڈیوس اس عورت کو کریں جو ترسی ہوئی ہے تمہارے چھونے کو۔۔۔ مجھے گھن آتی ہے تمہاری قربت سے بھی۔۔دور رہیں مجھ سے۔۔۔”
ہونٹوں کو حقارت سے صاف کئیے وہ وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔۔
۔
۔
“تم دعا کرنا میرے مرنے کی چاندنی۔۔۔ کیونکہ میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز بھائی میرے دوست کی انفارمیشن کے مطابق۔۔۔”
“موو بیک۔۔۔”
بہروز نے جنید کو پیچھے کرکے دروازے کو ایک کک سے کھول دیا تھا۔۔۔ اور سامنے ایک آدمی پہلے سے گن لئیے کھڑا تھا۔۔۔ جسے دیکھ کر جنید اور وہ ایک قدم پیچھے ہوئے۔۔۔
“بہروز بھائی سو سوری مجھے معلوم نہیں تھا یہاں خطرہ۔۔”
پر بہروز پہلے ہی گن نکال کر اس آدمی کے ہاتھ پر فائر کرچکا تھا اور پھر اسکی ٹانگ پر۔۔جنید کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔۔بہروز نے ان تین غنڈوں کو گھٹنوں کے بل بیٹھنے پر مجبور کردیا تھا ایک دم سے۔۔۔
“وٹ دا بہروز بھائی۔۔۔ یہ سب کیا ہے۔۔؟؟ توبہ۔۔۔ مار تو نہیں دیا۔۔”
“شٹ اپ اس لیے کہا تھا مت آؤ۔۔۔ ٹانگ زخمی ہوئی ہے مرے نہیں ہیں کمینے۔۔۔ جلدی سب رومز چیک کرو وہ یہیں چھپی ہوگی۔۔۔”
بہروز نے گن واپس رکھ لی تھی۔۔
جنید اور اس نے نے ہر کونا چھان مارا تھا۔۔۔ ایک لاسٹ کمرہ جس کا دروازہ کھولا تھا اس نے عین اندر جانے سے پہلے اس کا موبائل بجا اور اس نے فون ریسیو کرلیا۔۔
“ہیلو۔۔۔ ماں۔۔؟؟ چچا ٹھیک ہیں۔۔چاندنی ٹھیک ہے آپ نے اس وقت کال کیوں کی۔۔۔؟؟”
“بابا۔۔۔ میں ہوں شایان۔۔۔ میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔ آپ کی یاد آرہی اور نیند بھی نہیں آرہی۔۔۔”
“شایان میں نے کتنی بار منع کیا ہے کسی کا فون مت اٹھایا کرو۔۔۔ اتنے لوگ ہیں کسی کے ساتھ بھی جاکر سو جاؤ۔۔۔اب مجھے تنگ مت کرنا۔۔۔”
بہروز نے غصے سے فون بند کے موبائل آف کردیا تھا۔۔۔اور اسی وقت جنید کی چیخ سنائی دی تھی۔۔۔
“جنید۔۔۔جنید۔۔۔”
کمرے سے باہر جانے لگا تھا جب اسکے سر پر کسی نے بھاری چیز سے واار کیا تھا۔۔۔
“اووہ ہنی زیادہ زور سے تو نہیں لگا۔۔۔؟؟”
“رابیعہ۔۔۔یو۔۔۔”
رابیعہ کی گردن کو زور سے دبوچ لیا تو اس نے اب ماتھے پر وہی سٹیل کا گلدان مارا تھا
“شش۔۔۔ہنی۔۔۔ اتنے دن لگا دئیے مجھ تک پہنچنے میں۔۔۔؟؟ کم آن۔۔۔ بی آ مین۔۔۔”
بہروز نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا تھا اسکی گن جیسے ہی نیچے گری چاندنی نے ایک دھکے سے اسے بھی نیچے گرا دیا تھا اور خود جلدی سے اس کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔
“اافف۔۔۔ کتنی لگ گئی ہے میری زندگی۔۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔
کہاں مر گئے سب کے سب۔۔؟؟”
وہ جیسے ہی چلائی کچھ اور کرائے کے غنڈے اسکے سامنے آگئے تھے۔۔
“جنید کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالو اور وہیں لے جاؤ جہاں صائمہ اور اسکی فیملی کو بند کیا ہوا۔۔۔
اور بہروز کو ہسپتال چھوڑ آؤ۔۔۔”
“پر میڈم اگر ہسپتال چھوڑ دیا تو یہ سب کچھ پولیس کو بتا دے گا۔۔۔
ہم اسے بھی ساتھ رکھتے ہیں جائیداد پر سائن۔۔”
“یو ایڈیٹ۔۔۔ مجھے بہروز کی جائیداد نہیں وہ بھی چاہیے اور میرا بیٹا بھی چاہیے۔۔۔ جنید نے جو دھوکا مجھے دیا ہے اس کا بدلہ تو میں لوں گی پر بہروز کو اب میں اس عورت کے پاس نہیں جانے دوں گی۔۔۔”
وہ جھک کر بہروز کا خون اپنے رومال سے صاف کرتی ہے اور اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
“گیم آن بہرو ز حاکم۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کوئی مجھے پیار نہیں کرتا۔۔۔”
چاندنی کے قدم رک گئے تھے اس کمرے سے سامنے جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا اس بچے کی رونے کی آوازیں سن کر اس نے درگزر کیا مگر پھر واپس آگئی اور دروزہ کھول کر جیسے ہی اندھیرے میں اس بچے کو کھڑکی کے پاس بیٹھا دیکھ وہ آہستہ سے اندر داخل ہوئی تھی
“شایان۔۔۔؟؟”
مس چاندنی۔۔۔”
وہ اٹھا اور چاندنی کی طرف بھاگا چاندنی کی ٹانگوں سے لپٹ کر اسے نے زور سے اسے پکڑ لیا تھا۔۔
“مس چاندنی آپ آگئی۔۔۔مجھے بہت ڈرلگ رہا تھا۔۔۔”
“تو دادا جان کے ساتھ نہیں سوئے آج آپ۔۔؟؟”
شایان کو آہستہ سے گود میں اٹھائے اس نے بیڈ پر لٹا دیا تھا۔۔
“پلیز رک جائیں مت جائیں۔۔۔”
“میں کہیں نہیں جارہی۔۔بس تمہاری دادی کو بتا دوں وہ سو جائیں گی تمہارے ساتھ۔۔۔”
“تو آپ مجھے چھوڑ کر جانا چاہتی ہیں۔۔؟؟ سب مجھ سے دور بھاگ رہے ہیں کیوں۔۔؟؟
میں نے کیا کردیا مس چاندنی۔۔؟؟ بابا کو فون کیا تو ڈانٹ دیا۔۔دادا ابو نے ڈانٹ دیا کوئی مجھے پکڑتا نہیں ہے۔۔سب۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بتا رہا تھا۔۔۔ چاندنی کے دل میں ایک درد اٹھا تھا۔۔۔
یہ شایان کا چہرہ اسے چار سال پیچھے لے گیا تھا اس بھیانک رات کی جانب جب رابیعہ نے اس بچے کی جان لی تھی۔۔۔
اسکی آنکھیں بھر آئی تھی جب شایان اسکے سینے پر سر رکھے روتا ہوا اسے سب بتانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔
“سب تم سے پیار کرتے ہیں شایان۔۔”
“نہیں کرتے۔۔۔کوئی پیار نہیں کرتا۔۔۔میں نے بابا کو فون پر بات کرتے سنا تھا وہ مجھے کسی اورفینیج بھیج رہے ہیں۔۔۔وہ۔۔”
“ایسا نہیں ہے تمہارے بابا تم سے بہت پیار کرتے ہیں شایان۔۔۔”
پر شایان کا رونا بند نہ ہوا سسکیوں میں بدل گیا تھا
“آپ خود پوچھ لیجئے گا۔۔ وہ مجھے بھیج دیں گے۔۔۔پلیز آپ مجھے جانے مت دیجئے گا۔۔”
“ہممم۔۔”
“ہممم نہیں وعدہ کیجئے مس چاندنی۔۔۔”
“اوکے۔۔۔میں تمہیں جانے نہیں دوں گی۔۔۔”
چاندنی نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔ اور کچھ دیر میں وہ بچہ سو گیا تھا۔۔
۔
“کیا سچ میں بہروز اپنے ہی بیٹے کو۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ وہ شخص جتنی محبت اس عورت سے کرتا ہے وہ اپنے پیار کی نشانی کو ایسے کیسے جانے دے گا۔۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن کے بعد۔۔۔”
۔
۔
“تم اِسے تو نہ بچا سکی چاندنی کم سے کم اُسے بچا لو۔۔۔”
“کسے بچا لوں میں۔۔۔؟؟ ماں کون ہے جسے۔۔”
“شایان۔۔۔ اسے بچا لو۔۔۔ دیکھو بیٹا جانے والوں کے ساتھ زندگی رک نہیں جاتی۔۔”
“ماما اگر آپ نے اسے نہ بچایا تو میں بھی چلی جاؤں گی۔۔۔”
“چاہت میری بچی ابھی تو تم آئی ہو۔۔کم ہیر بیٹا میرے پاس آؤ۔۔۔”
اسکی آنکھیں بھیگ چکی تھی جب چاہت نے منہ پھیرا۔۔
“ماما اسے بچا لیں۔۔۔”
۔
۔
“شایان۔۔۔”
۔
“تم اب وہاں کھڑے رہو گے۔۔؟؟ چلو۔۔۔ وہ لوگ انتظار کررہے ہیں۔۔”
بہروز پہلی سیڑھی پر کھڑا جیسے ہی چلایا۔۔۔ چاندنی کی آنکھ کھل گئی تھی اور ایک دم سے آنکھیں ملتے ہوئے وہ باہر آئی تو کیا دیکھتی ہے بہروز جلدی جلدی میں سیڑھی چڑھ کر آیا اور شایان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے نیچے لے گیا۔۔۔
“مس چاندنی۔۔۔ مس چاندنی۔۔۔”
چاندنی بھی جلدی جلدی نیچے آئی۔۔۔
“بہروز۔۔۔آپ اسے کہاں لے کر جارہے ہیں۔۔”
“یہ بوڈنگ جارہا ہے۔۔۔”
“بہروز بھائی کیوں جھوٹ بول رہے ہیں وہ جو باہر گاڑی کھڑی ہے وہ کسی اورفینج کی ہے۔۔۔”
زرقان جیسے ہی بولا بہروز غصے سے اسکی طرف بڑھا تھا
“بہروز بس کرجائیں۔۔ شایان کہیں نہیں جارہا۔۔۔”
“اور تم ۔۔”
بہروز کہتے کہتے رکا تھا
“رک کیوں گئے۔۔؟؟ کہیں کہ میں کس حق سے روک رہی ہوں کیا لگتا ہے میرا۔۔۔ دہرا دیں وہ بات جو پانچ سال پہلے دہرائی تھی آپ نے۔۔۔”
چاندنی اونچی آواز میں کہتے ہی شایان کو اپنی اوڑھ کھینچ چکی تھی
“پلیز چاندنی اس بچے کی اب ہماری زندگیوں میں کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔”
“کیوں نہیں ہے یہ اس خاندان کا وارث ہے پوچھو اپنے دادا جی سے۔۔۔”
اور معراج صاحب خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے
“شمیم بیگم چائے روم میں بھجوا دیجئے گا۔۔۔”
چاندنی کا منہ کھل گیا تھا۔۔۔ مجال ہو جو کسی ایک نے بھی شایان کے جانے پر انگلی اٹھائی ہو چاندنی نے پہلی بار شاہنواز صاحب زینب بیگم اور پھر دادی کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“بہروز۔۔۔شایان کو یہیں میر ے پاس رہنے دیں۔۔”
“ہاں جیسے تم نے ساری زندگی رہنا ہے اسکے پاس۔۔؟؟ بس کرجاؤ چاندنی راستہ چھوڑو۔۔۔
میں وہ ہر جڑ کو ختم کردوں گا جس کی وجہ سے یہ سب ہوا۔۔۔ یہ بچہ اب اس خاندان میں نہیں رہے گا نہ ہی میری زندگی میں ۔۔”
بہروز نے جیسے ہی شایان کا ہاتھ کھینچ کر اسے دروزے کی طرف لے جانے کی کوشش کی چاندنی کے ہاتھ سے اسکا ہاتھ چھوٹ گیا تھا
“یہی سب سے تو لڑائی شروع ہوئی تھی پہلے رابیعہ اور شایان۔۔۔اورپھر چاہت۔۔
بہروز سہی کررہا تھا پر چاندنی کے دل میں کیوں تکلیف ہورہی تھی شایان کا رونا سن کر۔۔۔
وہ دل کو مضبوط کئیے پتھر رکھے ٹرن ہوچکی تھی پہلی سیڑھی پر ابھی قدم رکھا تھا کہ شایان نے وہ ایک لفظ بول کر چاندنی کی روح تک کو تڑپا دیا تھا۔۔۔
۔
“چاندنی ماں۔۔ مجھے جانے مت دیں آپ نے وعدہ کیا تھا۔۔ میں آپ کو بیٹا بن کر رہ لوں گا پلیز بابا سے کہیں۔۔۔پلیز۔۔۔میں یہاں سے گیا تو مر جاؤں گا۔۔ پھر میں بھی چاہت۔۔”
“نووو۔۔۔۔ نو۔۔۔ تم کہیں نہیں جاؤ گے شایان میرے بچے۔۔۔”
وہ بھاگتے ہوئے ان دونوں کی طرف آئی تھی بہروز کے ہاتھوں سے شایان کا ہاتھ چھڑا لیا تھا اس نے۔۔۔
“تم کہیں نہیں جاؤ گے۔۔۔”
گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس بچے کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔بہروز یہ دیکھتے ہی جلدی سے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
اور چاندنی۔۔۔وہ بار بار شایان کی آنکھیں صاف کرکے اسکا منہ چوم رہی تھی۔۔۔
“تم کہیں نہیں جاؤ گے۔۔”
ایک بار پھر سے نے اپنی ممتا کی آغوش میں چھپا لیا تھا شایان کو۔۔۔
“بس بیٹا۔۔۔ اب اسے روم میں لے جاؤ۔۔۔”
شاہ زیب صاحب نے چاندنی کے سر پر پیار دیتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
وہ ہاں میں سر ہلائے اپنی گود میں اٹھائے شایان کو اپنے ساتھ اوپر لے گئی تھی جو کندھے پر سر رکھے ابھی بھی رو رہا تھا
“آپ مجھے واپس تو نہیں بھیجیں گی ما۔۔ماں۔۔۔؟؟”
‘کہیں نہیں جاؤ گے تم میرے ساتھ میرے پاس رہو گے۔۔۔”
چاندنی اسے بیڈ پر لٹائے اسکے ساتھ لیٹ گئی تھی۔۔۔
آج کے واوقعے نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا تھا۔۔
“کیا سچ میں بہروز حاکم اپنے بیٹے کو قربان کرنے چلا تھا۔۔؟ کیا سچ میں بہروز حاکم وہ کرنے جارہا تھا جو بہت پہلے کرنا چاہیے تھا کیا بہروز اب وہ عزت دہ رہا تھا جو اس وقت دینی چاہیے تھی۔۔۔
اس کیا کو کوئی جواب نہیں تھا پر چاندنی نے خود پر دنیا پر رشتے داروں پر آج ایک بات واضح کردی تھی۔۔۔
“میں شایان کو اب کسی کے مطلب کی دشمنی کی بھینٹ چڑھنے نہیں دوں گی۔۔ اب میں اسے پھر سے اس مقام پر نہیں جانے دوں گی جب سزا صرف سانسوں کا رکنا ہو۔۔۔”
۔
