Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 09
No Download Link
Rate this Novel
Episode 09
“بابا۔۔۔”
بہروز کو اندر سے آواز آئی تو وہ اس لڑکی کے جادوئی حصار سے باہر آیا تھا۔۔ اس نے ایک نظر نیچے خالی جگہ کو دیکھا اور پھر بالکونی کا دروازہ بند کرکے واپس اندر روم میں چلا گیا
۔
“بابا۔۔۔کب سے آواز دہ رہا تھا آجائیں مجھے نیند آرہی۔۔”
“اچھا جب میں بلا رہا تھا تب تو نیچے بھاگ گئے تھے۔۔۔ تب میں سو رہا تھا مسٹر۔۔”
“ہاہاہاہا اگر نیچے نہ بھاگتا تو مس چاندنی سے بات نہ ہو پاتی پورا دن تو وہ ملتی نہیں۔۔۔
اب میں نے سوچ لیا ہے اس وقت ان سے ملنے جایا کروں گا۔۔”
وہ اچھلتے ہوئے بستر پر بیٹھ گیا تھا۔۔ بہروز کو حیران چھوڑ کر۔۔۔
بہروز جیسے ہی بستر پر لیٹا شایان اسکے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گیا تھا
“بابا۔۔۔”
“ہممم۔۔۔”
سائڈ لیمپ آن کرکے شایان کے ماتھے پر بوسہ دئیے وہ آنکھیں بند کرچکا تھا۔
شایان کی عادت تھی سونے سے پہلے ایسے ہی ہزار طرح کی سوال پوچھتا تھا۔۔
اس لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی وہ ہنس کرجواب دیتا تھا ان دونوں میں رشتہ دوستوں جیسا بن چکا تھا۔۔۔
“بابا مس چاندنی تو آپ کی کزن ہے آپ نے ان سے شادی کیوں نہیں کی۔۔؟ وہ ہمارے پاس تو ہوتی نہ۔۔۔ ماما پاس نہیں۔۔”
بہروز کی انگلیاں رک گئی تھی شایان کے بالوں پر۔۔۔ آنکھیں کھول کر اس نے ایک دم سے دیکھا تو شایان اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔
“شایان سو جاؤ۔۔۔”
“بابا مس چاندنی کی باتیں سب کرتے ہیں۔۔ دادا دادی۔۔ چاچو سب وہ اتنی اچھی کیوں ہیں۔۔؟؟”
“میں نے کہا نہ سو جاؤ۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
اور وہ اٹھ کر دوسری طرف سو گیا تھا۔۔۔ پچھلے چار سال میں اس کا بیٹا پہلی بار منہ پھیر کر سویا تھا اس سے۔۔
۔
“تم سب کو تو حاصل کرچکی ہوں چاندنی پر میرا بیٹا نہیں لے سکتی۔۔
میں کل ہی امی سے کہوں گا ہماری واپسی کا۔۔۔”
وہ ڈر گیا تھا۔۔ اسکے پاس کیا رہ گیا تھا سوائے شایان کے۔۔؟؟
پچھلے ایک ہفتے سے جس طرح اسکے ساتھ سلوک ہورہا تھا۔۔ سب بلاتے بھی تو محض کھانے کے لیے کسی چیز کا پوچھنے کے لیے دادی اور اسکی ماں کے علاوہ سب ہی ضرورت کی بات کرتے تھے وجدان چچا کی فیملی کی چکنی چوپڑی باتیں بھی اسے قائل نہیں کر پا رہی تھی۔۔
اور اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ کل بات کرنے کے بعد واپس چلاجائے گا۔۔ پر اسے معلوم نہیں تھا اس بار اسکی ایک نہیں چلنی تھی۔۔۔
۔
اس بار وقسمت نے اپنا آپ منوانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شمیم بیگم۔۔۔”
“پلیز معراج بہروز اگر اس بار واپس چلا گیا تو زینب بھی مر جائے گی۔۔۔ اگر بہو کا نہیں سوچنا تو شاہ زیب کی آخری خواہش کا ہی پاس رکھ لیں۔۔ چاندنی کی شادی بہروز سے کروا کر۔۔”
“بیگم دماغ تو ٹھیک ہے۔۔؟؟ وہ شادی شدہ ہے ایک بچے کا باپ ہے۔۔ ہماری بیٹی کنواری ہے ہم کیوں کسی شادی شدہ سے کروائیں۔۔؟؟ کبھی نہیں چاندنی کو کل لڑکے والے دیکھنے آرہے ہیں۔۔”
“کیا۔۔۔ کچھ دن پہلے تو صفوان کی بات کررہے تھے آپ۔۔”
“صفوان نےمنع کردیا۔۔ آسے لگتا ہے کہ چاندنی۔۔۔ کبھی بھی بہروز کو بھلا نہیں پائی۔۔۔اور وہ بوجھ نہیں بننا چاہتا چاندنی پر۔۔”
“یا اللہ۔۔۔ اگر یہ سچ ہے اگر چاندنی کو بہروز سے محبت رہی تو یہ اور بھی اچھا ہے معراج ہم چاندنی کی شادی۔۔”
“بس بیگم ایک اور لفظ نہیں۔۔۔”
“وہ لڑکا جس نے ہم سب کو ٹھکرا دیا تھاایک لڑکی کے لیے۔۔ جس نے اس سے شادی کی ہمیں چھوڑا۔۔۔ اب جب واپس آیا تو ایک بار بھی اپنی بیوی سے علیحدگی کی وجہ بتائی۔۔؟؟”
اور کوئی جواب نہیں تھا شوہر کی باتوں کا شمیم بیگم کے پاس وہ خاموش ہوکر بستر پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد۔۔ جیسے ہی معراج صاحب سوئے تو وہ دبے پاؤں کمرے سے باہر نکل گئی اور۔۔
کچن کی طرف بڑھی۔۔ جہاں انکی دونوں بہوں زینب اور فرحین پہلے ہی انتظار کررہی تھی انکا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا بات ہے ماں اتنی تیاریاں کس بات کی ہورہی ہیں۔۔؟؟”
باہر جاتے جاتے وہ کچن میں داخل ہوا تھا
“کچھ نہیں بس کچھ مہمان آرہے۔۔۔”
“بہروز بیٹا تم باقی سب کو تو شاپنگ پر لے جارہے چاندنی کو بھی لے جاؤ اسکا دل بھی بہل جائے گا”
“فرحین چچی گاڑی فل ہوگئی ہے۔۔ بیک سیٹ پر مشعل سندس اور رانیہ ہیں فرنٹ پر شایان تو پھر سہی۔۔۔”
وہ جلدی سے ایکسکئیوز کرکے جانے لگا تھا جب دادی کچن میں آئی تھی
“وہ لوگ آگئے ہیں بس جلدی سے چاندنی کو تیار کرکے لے آنا۔۔ لڑکا بہت اچھا ہے ہماری چاندنی کو بہت پسند آئے گا۔۔”
دادی بہروز کو چہرے پر پیار دئیے چلی گئی تھی
“مجھے بھی وہ لڑکا بہت پسند آیا صفوان کی ہونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا اس نے خوبصورت بھی ہے۔۔”
فرحین اور زینب بیگم باتیں کرنے لگی تو بہروز وہاں سے باہر آگیا تھا
کچھ دیر میں جب وہ جانے لگے تو سیڑھیوں سے اتر کر آنے والی وہ لڑکی کسی اور کے لیے سجی سنوری تھی یہ بات بہروز کو بہت ناگریز گزری اور وہ اسے دیکھتا رہ گیا۔۔
اسے اچھا نہیں لگا تھا چاندنی کا یوں سج کر سامنے آنا کچن سے ٹرے لیکر وہ جیسے ہی گیسٹ کے سامنے جھکی بہروز طیش میں گھر سے باہر نکلا تھا
“بابا جلدی سے چلیں نہ۔۔ ہم لیٹ ہورہے۔۔”
“بہروز چلیں اب۔۔”
مشعل نے بہت پیار سے کہا تو بہروز شایان کے سامنے جھکا تھا
“تم تو بیسٹ فرینڈ مانتے ہو مس چاندنی کو اب شاپنگ پر جانے کا جانے کا نہیں کہو گے۔۔؟؟”
بہروز کی آواز بس شایان کو سنائی دی تھی۔۔
“پر بابا آپ نے کہا تھا ہم۔۔۔”
“تمہیں ڈیسائیڈ کرنا ہے چیمپ جلدی سے۔۔”
اور وہ تیز سپیڈ سے اندر بھاگا تھا
“مس چاندنی۔۔۔ مس چاندنی چلیں ہمارے ساتھ شاپنگ پر۔۔”
“پر بیٹا ابھی گیسٹ۔۔۔”
“پلیز مس چاندنی۔۔۔”
شایان نے جیسے ہی اسکے ہاتھ پکڑ کر کھینچنا شروع کیا چاندنی معذرت کرکے لیونگ روم سے باہر آگئی اور شایان اسے گاڑی تک لے گیا۔۔
“شایان بیٹا چاندنی کی جگہ نہیں ہے۔۔ جگہ فل ہے۔۔”
مشعل نے غصے سے کہا تھا
“بابا آپ تو سٹارٹ کریں اور آپ بیٹھیں یہاں مس چاندنی۔۔۔”
“پر شایان بیٹا اندر مہمان ہیں۔۔”
“میرے بیٹے سے زیادہ اہم کوئی نہیں۔۔”
بہروز نے اونچی آواز میں کہا تو شایان نے بھی معصوم سا منہ بنا لیا تھا
“اٹس اوکے بابا شاید وہ زیادہ امپورٹنٹ ہیں۔۔۔”
“افف اللہ ۔۔۔۔”
چاندنی یہ کہتے ہیں بیٹھی تھی فرنٹ سیٹ پر۔۔۔
“اور اب آپ کہاں بیٹھے گے مسٹر شایان۔۔۔۔؟؟ میں بول رہی۔۔۔”
شایان چاندنی کی گود میں بیٹھ گیا تھا اور دروازہ بند کرلیا تھا اس نے۔۔
“چلیں بابا۔۔۔”
“پیچھے بیٹھی تینوں کزنز کے منہ کھلے رہ گئے تھے
باغیچے کے مالی سے لیکر ڈرائیور تک سب کے منہ کھلے رہ گئے تھے۔۔۔
اور بہروز حاکم۔۔۔ کچھ منٹ تو وہ پتھر بن کر رہ گیا تھا شایان کو چاندنی ک گود میں بیٹھے دیکھ۔۔۔ یہ سین۔۔ یہ خواب یہ خواہش اسکی بھی تھی پر اپنی بیوی کو لیکر۔۔۔ جو کبھی پوری نہ ہوسکی۔۔
اور اب۔۔ جب پوری ہوئی تو وہ لڑکی کسی اور کی ہونے جارہی تھی۔۔
شایان خوشی سے کبھی چاندنی کے سینے پر سر رکھ لیتا تو کبھی اسکے گال پر بوسہ دیتا۔۔۔
۔
“چلیں بابا۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔”
اور اس نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہمیں اچھا نہیں لگا چاندنی جس طرح سے اٹھ کر چلی گئی۔۔۔”
“مسز توحید نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تو دادا جی نے اپنی بیوی اور باقی خاتون خانہ کو ایک نظر دیکھا وہ ایک نظر کافی تھی ۔۔۔
“دیکھیں بہن جی۔۔ وہ بچہ چاندنی کو بہت پیار کرتا ہے اگر چاندنی نہ بات مانتی تو اس نے اداس ہوجانا تھا۔۔”
شاہنواز صاحب کو تو ایکسکئیوز دینا بھی نہیں آرہا تھا اور اس وقت تھے بھی وہ بزرگ گھر کے بڑے وہاں موجود مہمانوں میں۔۔۔
۔
“اٹس اوکے شاہنواز میں سمجھ سکتا ہوں شازیہ بھی بس ایسے ہی کہہ رہی کیوں شازیہ۔۔؟؟”
توحید صاحب نے وائف کو ایک اشارہ ہی کیا تھا جو گھبرا گئی تھی۔۔۔
او ر پھر اگلے دو گھنٹے وہ لوگ گپ شپ چاندنی کی باتوں میں مصروف رہے یا پھر اپنے بیٹے ثاقب کی۔۔۔
۔
ثاقب کبھی کبھی گفتگو میں حصہ لیتا تو کبھی کبھی روم سے باہر دیکھتا۔۔وہ پھر سے چاندنی کی ایک نظر دیکھنے کو بےقرار تھا۔۔۔
“موسم اچاک خراب ہوگیا۔۔ہمیں اب چلنا۔۔۔”
“ایسے کیسے ہماری بہوں بہت مزےدار پکوڑۓے بناتی ہیں چائے پئیے بغیر آپ کو جانے نہیں دیں گے۔۔ تب تک چاندنی بھی آجائے گی۔۔۔”
دادی جان کی کہنے کی دیر تھی وہ سب بہوں وہاں سے باہر چلی گئی تھی کچن میں۔۔۔
اور جب کچھ دیر میں بارش شروع ہوئی ۔۔۔ تو ثاقب کال کے بہانے سے باہر آگیا تھا۔۔۔
وہ جیسے جیسے قدم بڑھا رہا تھا اسی وقت بہروز کی گاڑی اندر داخل ہوئی۔۔۔
“بابا۔۔۔۔ تھینک یو۔۔ میں دادی کو اپنی چیزیں دیکھا دوں۔۔۔”
“تھینک یو بہروز بھائی بہت مزہ آیا۔۔۔”
پچھلی سیٹ بھی خالی ہوگئی تھی شایان بھی اندر بھاگ گیا تھا۔۔۔
اور جب چاندنی نے باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا تو بہروز کی نظر اس انجان لڑکے پر گئی جو انکی طرف ہی دیکھ رہا تھا
“آپ کے یہاں شکریہ ادا کرنے کا رواج نہیں ہے مس چاندنی۔۔”
“آپ نے جن پر فیور کیا تھا وہ شکریہ ادا کر گئے ہیں مسٹر بہروز۔۔۔”اور وہ جلدی سے اتری تھی دروازہ بند کئیے جیسے ہی جانے لگی پیچھے سے کسی نے اس کا دوپٹہ کھینچا اور غصے میں اسکی مٹھی بند ہوگئی تھی
۔
“بہروز چھوڑیں مجھے۔۔۔”
“میں نے پکڑا کب تھا۔۔۔؟؟”
بہروز سامنے کھڑا تھا اور چاندنی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو گاڑی کے دروازے میں دوپٹے کا پلو اٹک گیا تھا
“اففو۔۔۔ اسے بھی ابھی اٹکنا تھا۔۔۔”
وہ غصہ کرتے کہتی ہے۔۔۔ بہروز اندر جانے کے بجائے اسکی طرف بڑھا تھا وہ دونوں مکمل بھیگ چلے تھے اور جب بہروز کے بازو اسکے بازو سے ٹکراٹے ہوئے اسکے ہاتھوں تک پہنچا تھا اس نے کپڑے کو کھینچنے کی کوشش کی تھی۔۔
وہ اتنی شاک ہوئی تھی ایک تو بارش نے اسے بھگو دیا تھا اوپر سے بہروز کا وجود اسکی بیک سے جیسے ہی ٹکرایا وہ سیدھی کھڑی ہوئی تھی اس نے مڑ کر جیسے ہی دیکھا بہروز کی نظر اس پر تھی اور ہاتھ ابھی بھی کوشش کررہے تھے دوپٹہ کھینچنے کی۔۔
۔
“یوں ہی برس برس کالی گھٹا برسے۔۔۔
ہم یار بھیگ جائیں اس چاہت کی بارش میں۔۔”
۔
“ہوگیا۔۔۔خود کو کور کرو اور آج کے بعد اس طرح کے ٹرانسپیرنٹ کپڑۓ پہن کر باہر جاتے نہ دیکھوں۔۔۔”
۔
بہروز نے غصے سے کہا تھا اور دوپٹے کو اسکے سر پر رکھ دیا تھا۔۔۔
“جیسے مجھے تو الہام ہوا ہو نہ بارش ہوگی۔۔۔”
اس نے اور غصے سے کہا تھا
بہروز نے خود کو اسکے سامنے کھڑا کرلیا تھا۔۔۔ اور ایک دم سے اپنا کوٹ اتار کر اسکے کندھے پر رکھ دیا تھا۔۔۔
“جاؤ اندر۔۔۔سیدھا کمرے میں جانا۔۔۔ “
رعب ڈالتے ہوئے اس نے جیسے ہی کہا چاندنی پاؤں پٹک کر اندر جانے لگی تھی جب بہروز نے بازو سے پکڑ کر واپس پیچھے کھینچا تھا اور گاڑی کے ساتھ پن کردیا تھا۔۔۔
۔
“بہروز۔۔۔۔”
“شش۔۔۔” چاندنی کو تو شاک پر شاک مل رہے تھے وہ جو شخص اسے دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا اب وہ اسے بار بار ایسے کھینچ رہا تھا رعب ڈال رہا تھا جیسے وہ اسکی ملکیت ہو۔۔
۔
“میری کھلی کھلی لٹوں کو سلجھائے تو اپنی انگلیوں سے۔۔
میں تو ہوں اسی۔۔۔ خواہش میں۔۔۔”
۔
“ابھی کوٹ کے بٹن بند کرو۔۔اور پھر اندر جاؤ۔۔۔”
“آپ ایک سین بنا کر پیش کررہے ہیں سب دیکھ رہے ہیں مالی چاچا ڈرائیور انکل سب۔۔ اور اب تو کچن کی کھڑکی بھی کھلی نظر آرہی۔۔۔”
وہ خود میں بڑبڑائی جا رہی تھی
“اوکے میں ہی بند کردیتا ہوں۔۔۔”
اور مڈ بٹن بند کرکے وہ پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔
۔
اس وقت صرف چاندنی کا ہی منہ شاک سے کھلا نہیں تھا وہ جو گھر کی خاتون چھپ چھپ کردیکھ رہی تھی سب شاکڈ کھڑی رہ گئی تھی۔۔۔
۔
“اگر انکی شادی ہوجاتی تو پورے خاندان کا ہوٹ کپل یہی ہوتا دادی۔۔۔”
“اووہ شٹ۔۔۔۔ سوری۔۔۔”
اور دونوں کزنز بھاگ گئی تھی وہاں سے۔۔۔
۔
بہروز اندر چلا گیا تھا پر ثاقب کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک الگ ہی مسکراہٹ سجا لی تھی اس نے چہرے پر اور ثاقب ایک نظر چاندنی کو دیکھ کر واپس اندر چلا گیا تھا
۔
“چلے موم ڈیڈ۔۔۔”
“پر بیٹا ابھی رشتے کی بات۔۔۔”
“جب وہ دونوں اتنے قریب ہیں تو ان دونوں کی شادی کروائیں پلیز کسی کی زندگی خراب مت کیجئے۔۔۔چلیں۔۔۔”
ثاقب دادا جی کو کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
“مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی چاندنی۔۔ وہ شخص جس نے آپ کو خاندان معاشرے میں بدنام کردیا جس کی وجہ سے آپ کا کردار مشکوک ہوا آپ نے اسے اپنے اتنا قریب آنے دیا جو آپ کے قابل نہ تھا۔۔۔”
ثاقب اتنی اونچی آواز میں چاندنی کو کہتے ہوئے چلا گیا تھا بہروز حاکم جو کچھ سیڑھیاں ہی چڑھا تھا وہ غصے سے واپس جانے لگا تھا اس لڑکے کے پاس جب زنیب نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
“آج کے دن بہت تماشا کرلیا بہروز اب کمرے میں جاؤ۔۔۔”
“پر ماں میں نے کیا کیا۔۔۔؟؟”
کمرے میں جاؤ۔۔۔ابھی۔۔”
اور بہروز ایک نظر چاندنی کو دیکھ کر اوپر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“ہمیں نہیں معلوم ثاقب کیا بات کررہا دادا جی اسکی بدتمیزی کی میں معافی مانگتا ہوں۔۔ ہم رشتے کے لیے پھر آئیں گے ہمیں تھوڑا وقت دیجئے۔۔۔”
ثاقب کے ماں باپ چلے گئے تھے اور کسی کی نظروں کی تپش برداشت کرنے کی ہمت نہ تھی چاندنی میں وہ بھی آنکھیں صاف کرتی روم کی طرف بھاگ گئی تھی
کسی انجان کے منہ سے وہ باتیں سن کر پچھلے چار سال کی وہ کہانی منظر پر آگئی تھی۔۔۔
۔
۔
