Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“بابا سائیں کہاں ہیں۔۔؟؟ مس چاندنی۔۔ کب گھر آئیں گی۔۔۔”
زینب بیگم نے کھانے کی میز پر بیٹھے سب کی طرف دیکھا تھا مناسب جواب کے لیے۔۔
مگر سب کے سب چپ۔۔۔
“آج ہم سب چاندنی کو واپس لے آئیں گے بیٹا۔۔۔”
کیا سچ میں۔۔۔؟؟وااووو۔۔ میں بھی ساتھ چلوں گا میں ابھی نئے والا ڈریس پہن کر آیا۔۔۔”
وہ اچھلتے ہوئے کرسی سے اترا اور اوپر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گیا تھا۔۔۔
“کیا سچ می چاندنی باجی واپس آرہی ہے۔۔؟؟”
“ہاں بچوں۔۔۔ آج ڈاکٹر ڈسچارج کردیں گے۔۔۔ہماری بچی واپس آجائے گی۔۔”
“اور بہروز بھائی۔۔؟؟ کیا وہ اب واپس آئیں گے۔۔۔؟؟”
جنید کی بات سن کر سب پھر خاموش ہوگئے تھے
یہی سوال سب کو اندر ہی اندر کھائے جار ہا تھا۔۔۔ایک ایک کرکے سب ناشتہ کرکے جانے لگے۔۔۔ شمیشم بیگم نے معراج صاحب کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھا تو انہوں نے گہرا سانس بھر کر اپنی گہری سوچ کو اپی بیوی اور شاہنواز پر ظاہر کیا جو وہیں موجود تھے
“بہروز کے سامنے فیصلہ تو رکھ دیا۔۔۔ اب جب اس نے یہ واضح کردیا ہے نہ آکر۔۔۔
کہ وہ ہماری بچی کو چھوڑ دے گا۔۔۔ شاید اس نے وکیل سے خلا کے پیپرز بھی بنوانے کا کہہ دیا ہو۔۔۔ اب جب ہم نے خود اسے آسان رستہ دیا۔۔۔
پتہ نہیں کیوں۔۔۔ مجھے بہت اذیت مل رہی۔۔۔ پچھلے ایک ہفتے سے بہروز نہ ہسپتال آیا نہ ہی گھر۔۔۔ اب چاندنی کا سامنا کیسے کریں گے۔۔؟؟ شادی کو وقت ہی کتنا ہوا ہے۔۔۔اور طلاق۔۔۔”
“وہ بار بار رکے تھے بات کرتے ہوئے۔۔ معراج حاکم گزرتے وقت کے ساتھ گھراہٹ کا شکار ہوتے جارہے تھے۔۔
“ابا جان ہم ابھی زندہ ہیں۔۔۔ بہروز ایک واحد نہیں تھا۔۔ اگر اسکا ساتھ چاندنی کو ہسپتال کے ایمرجنسی تک لے گیا تو ہمیں علیحدگی کی تلخی کو ہنسی خوشی برداشت کرلینا چاہیے۔۔۔
چاندنی کی حالت دیکھی تھی آپ نے۔۔۔؟؟ کیا کردیا اس نے۔۔ اب مجھے اپنے ہی بیٹے پر یقین نہیں رہا۔۔۔ اچھا ہوا اس نے خود سے چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔۔
اگر ہم کرتے تو اسے حویلی سے بھی جانے کا کہہ دیتے۔۔۔”
شاہنواز بات مکمل کرکے اٹھ کر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ویل چئیر کو گاڑی کے پاس رکھ دو صفوان بیٹا تم اور ۔۔۔”
شاہنواز صاحب ابھی بات کررہے تھے جب پیچھے سے وہ شخص آگے بڑھا تھا صفوان کا ہاتھ جھٹک دیا تھا اس نے۔۔۔
“میں ابھی زندہ ہوں میرے ہوتے ہوئے کوئی غیر میرے بیوی کو چھوئے گا۔۔ ہاتھ نہ توڑ دوں اس کا۔۔۔”
“بہروز۔۔۔”
دادا جی کے ساتھ ساتھ اس نے سب کو شاک کردیا۔۔ وہ جھکا اور جھک کر چاندنی کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا تھا اس نے۔۔۔
“میں اپنی گاڑی میں اپنی بیوی کو حویلی لے جاؤں گا۔۔۔”
وہ سب کے پاس سے گزر گیا تھا۔۔۔
“منہ بند کر لیں بیگم۔۔ مکھی چلی جائے گی۔۔۔”
اور چاندنی نے جلدی سے منہ بند کرکے منہ نیچے کرلیا تھا۔۔۔
“ویسے اتنا شرمانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ لالی اچھی لگتی ہے ان گورے گالوں پر۔۔۔”
اور اب کے اسکے سرخ چہرے کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی حیرانگی سے بڑی ہوگئی۔۔۔
“آپ۔۔۔ نیچے اتار دیں مجھے میں اتنی بھی بیمار۔۔۔”
“شش ہم پہنچ گئے۔۔۔” اس نے فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر سیٹ بلٹ لگا دی تھی۔۔۔ اور ایک نظر پیچھے دیکھا تھا۔۔۔ کسی کو بھی یقین نہیں آرہا تھا بہروز کو یہاں دیکھ کر اور اسکی چاندنی کے لیے اس طرح فکر۔۔۔
“بہروز آپ۔۔۔”
چاندنی کے ماتھے پر بوسہ دے کر گاڑی کا دروازہ بند کردیا تھا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
“یہ سب کیا تھا۔۔؟؟”
جنید جو پارک گاڑی کو فرنٹ پرلایا تھا وہ بھی بہروز کا اوپن رومینس دیکھ کر دنگ رہ گیا ۔۔۔
“گاڑی کا پیچھا کرو مجھے یقین نہیں اس پر چاندنی کو لیکر۔۔۔”
شاہنواز نے جیسے ہی کہا تو تینوں گاڑیاں آگے پیچھے بہروز کی گاڑی کو فالو کرنا شروع ہوئی۔۔
بقول بہروز کے انہیں سیدھا حویلی جانا تھا پر گاڑی ایک آئس کریم شاپ کے سامنے رکی۔۔۔
“ایک منٹ میں ابھی آیا۔۔۔”
وہ نکلے لگا تھا جب چاندنی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
“مجھے کچھ نہیں کھانا مسٹر بہروز۔۔اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب کرنے سے آپ ہمارے درمیان سب ٹھیک کرلیں گے تو آپ کی غلط فہمی ہے۔۔۔”
“میں کون ہوتا ہوں سب ٹھیک کرنے والا۔۔؟؟ میں تو شایان کے لیے لینا چاہتا تھا۔۔۔”
بہروز نے ایک دم سے جھوٹ بولا تو چاندنی کے چہرے پر مایوسی چھلکی۔۔ پر وہ منہ پھیر چکی تھی
اور وہ جلدی سے نکلا تھا پیچھے کھڑی تینوں گاڑیوں پر نظر پڑی تو اس نے سر پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔
“یہ گاڑی والوں سے چینج لے لیجئے گا میری فیملی ہے۔۔ اور پلیز یہ آئس کریم آپ سب کو میری طرف سے ٹریٹ۔۔۔”
شاپ والے کے سامنے اس نے دادا جی کی طرف اشارہ کیا حویلی جانے کا جنہوں نے ہاں میں سر ہلایا اور شاپ والے کو تصدیق ہوگئی تھی
اور جب بہروز کی گاڑی کے جانے کے بعد۔۔۔ پیچھے والی گاڑی سٹارٹ ہوئی تو سامنے شاپ والا کھڑا ہوگیا تھا پیسوں کا مطالبہ کرتے ہوئے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔او گوڈ۔۔۔”
بہروز نے پیچھے دیکھا تھا اور بےساختہ قہقہ لگایا۔۔۔۔ پہلی بار اتنا کھل کر ہنستے ہوئے دیکھا تھا چاندنی نے اسے۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔”
“اب یہ پاگل بھی ہوگئے ہیں۔۔۔”
“ہیے۔۔۔ سنا میں نے۔۔۔”
“اچھی بات ہے۔۔مسٹر۔۔ پر یہ راستہ گھر کا نہیں۔۔۔”
“کیونکہ ہم ہمارے گھر جارہے ہیں۔۔”
اور اسی رستے چہر سے دور ان جنگلات میں بنے گھر کی جانب لے گیا تھا بہروز
“مجھے کہیں نہیں جانا بہروز گھر جانا ہے۔۔۔”
“چلے جائیں گے۔۔۔”
“دادا جان پیچھے ہی ہیں۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔”
اور وہ ہنس دیا تھا گاڑی کو اس گھر کے سامنے روک کر وہ اترا تو چاندنی کو لگا تھا وہ گھرکی جانب جائے گا مگر بہروز نے اسکی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور اسکے سامنے اپنا ہاتھ رکھا
“میں تمہیں اپنی بانہوں میں اٹھا کر بھی اندر لے جا سکتا ہوں۔۔ پر میں چاہتا ہوں تم میرا ہاتھ پکڑ کر اس گھر میں پہلے قدم رکھو۔۔۔”
“تمہیں ہوا کیا ہے۔۔۔؟؟”
“تمہیں۔۔؟؟ابھی تو بڑا آپ جناب کرکے عزت دے رہی تھی شوہر کو لڑکی۔۔”
اس نے جیسے ہی ٹیز کیا وہ شرما گئی پر کچھ دیر سوچنے کے بعد بہروز کے ہاتھوں میں ہاتھ رکھ کر اس نے پہلا قدم باہر رکھا تھا دونوں ٹانگوں پر وزن پڑتے ہی اسے تکلیف ہوئی پر جیسے ہی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے بہروز نے اسے سہارا دیا وہ چلنے لگی تھی۔۔
اس گھر میں جیسے ہی داخل ہوئی ہر جگہ پھول پھول ہی بکھرے ہوئے تھے۔۔۔ بہروز نے پورے گھر کو سجا دیا تھا۔۔۔ اس گھر میں اب واالز پر ان تینوں کی تصاویر تھی جس میں وہ شایان اور بہروز ہی تھے۔۔۔
۔
“ہم بہت جلدی شایان کو بھی یہاں لائیں گے۔۔۔”
۔
چاندنی اس کا منہ تکتی رہ گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نالائق بدتمیز۔۔۔ پوری شاپ کی چیزیں ایسے خریدی جیسے اس کا باپ کوئی لینڈ لارڈ ہو۔۔۔”
شاہنواز حویلی داخل ہوتے ہی بولتے ہوئے اپنے بیڈروم میں چلے گئے تھے
“انہیں کیا ہوا۔۔؟؟ چاندنی کہاں ہے۔۔۔؟؟”
زینب نے جیسے ہی پوچھا دادی جی نے اپنے دونوں پوتوں کی طرف دیکھا تھا۔۔
“انکی جیب سے صبح صبح اتنے ہزار جو نکل گئے انہیں غصہ ہی آنا تھا بڑی ماں۔۔۔”
جنید نے ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش کی پر دادا جی کے قہقے کے بعد وہ تینوں ہنس دئیے تھے
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ ویسے مزہ آیا۔۔۔ شاہنواز کا منہ دیکھنے والا تھا جب اس شاپ والے نے پیسے مانگے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا اور پھر کہتا یہ پیک کرنے کا کہا تھا صاحب نے۔۔۔”
“ارے بتاؤ بھی ہوا کیا۔۔۔”
اور جب بیٹھنے کے بعد انہوں نے بتایا تو گھر کی خواتین کا بھی وہی حال ہوا تھا ہنس ہنس کر۔۔۔
“پر بہروز واپس آگیا۔۔؟؟”
“ہاں بیگم۔۔۔ اور اس نے یہ ثابت کردیا کہ وہ فیصلہ لے چکا ہے۔۔ اب چاندنی کے آنے پر معلوم ہوگا۔۔”
“کیا ہم اس بار بہروز پر بھروسہ کرسکتے ہیں معراج صاحب۔۔؟”
“ہاں کرسکتے ہیں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چاندنی میں۔۔۔”
مجھے ابھی گھر جانا ہے۔۔۔”
“پر چاندنی۔۔۔”
چاندنی نے ٹیبل پر پڑی ہوئی وہ کینڈلز اٹھا کر پھینک دی تھی۔۔ وہ گلاب کے پھول زمین پر بکھر گئے تھے۔۔۔
اور وہ ایک دم سے کرسی سے اٹھ گئی تھی
“آپ کو کیا لگتا ہے۔۔؟؟ جو تکالیف آپ نے مجھے دی ایک کینڈل لائٹ ڈنر سے سب حل ہوجائے گی۔۔۔؟”
“نہیں ہوگی میں جانتا ہوں ڈیم اِٹ۔۔۔ پر میں کوشش کررہا ہوں۔۔ “
“کوشش۔۔؟؟ مجھے اب آپ کے ساتھ اس رشتے۔۔۔”
بہروز نے غصے سے چاندنی کو اس ٹیبل کے ساتھ پن کردیا تھا۔۔۔
“طلاق۔۔۔؟؟ کبھی نہیں دوں گا۔۔۔ لڑکی اپنے دماغ سے نکال دو کہ اب تم بہروز حاکم کی دسترس سے کہیں نہیں جانے دوں گا میں۔۔۔”
“بہروز حاکم تم پاگل۔۔۔”
بہروز اسکے اور قریب ہوا تھا۔۔۔ ان دونوں کے درمیان فاصلہ بہت کم ہوگیا تھا
بہروز نے اس سے پہلے بھی چاندنی کے قریب آکر اسے ڈرانے کی کوشش کی مگر آج اسکے دیکھنا میں کچھ الگ ہی بات تھی کچھ خاص بات۔۔۔ چاندنی کی سانسیں رک گئی تھی
دماغ کچھ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔ چلتی گھڑی ٹھنڈی ہوائیں اسے کے حواس اور باختہ کررہی تھی اور جب وہ بہروز کے دیکھنے کی تاب نہ لا سکی تھی بہروز نے ان کے لبوں کے درمیان وہ کچھ سینٹی میٹر کا فاصلہ بھی ختم کردیا تھا
چاندنی کے تن بدن میں ایک کرنٹ کی لہر ڈوری تھی زندگی میں پہلی بار کوئی مرد اسکے اتنا پاس آیا تھا۔۔ اپنے شوہر کی یہ نزدیکی اسے ایک الگ دنیا میں لے گئی ۔۔۔دماغ ایسے جیسے کام کرنا بند کرگیا۔۔۔
بہروز کی محبت میں جیسے شدت آئی چاندنی کی انگلیوں کی گرفت اسکے کالر پر اور مظبوط ہوئی تھی۔۔۔
وہ لمحات ان دونوں کے لیے بہت الگ تھے۔۔۔ بہروز وہ جذبات محسوس کررہا تھا جو کبھی رابیعہ کے بھی محسوس نہ ہوئے تھے۔۔۔
وہ اس لمحے خود کومکمل سمجھ رہا تھا۔۔۔
“اسکے بعد بھی تمہارے دل میں شک ہے مجھے اور اس رشتے کو لیکر تو بے شک حویلی جاتے ہی سب سے مطالبہ کرنا۔۔ مگر مجھ سے نہیں تمہیں کورٹ جانا پڑ جائے گا کیونکہ میں کہیں سائن نہیں کروں گا چاندنی۔۔۔”
چاندنی کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ اسے اسکی سوچوں میں تنہا چھوڑ گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چاندنی باجی کیا ہوا ہے جب سے آئی ہیں کھوئی کھوئی رہتی ہیں۔۔۔”
“ایسی کوئی بات نہیں سنبل۔۔”
“ایسی ہی بات ہے۔۔ اچھا چاندنی۔۔۔ اس رات جب واپس آئی تو تمہارا چہرہ ٹماٹر کی طرح لال کیوں تھا تم نے کچھ بتایا بھی نہیں۔۔۔”
“توبہ توبہ شرم کریں آپ تینوں۔۔۔”
وہ کہتے ہی بیڈ سے اٹھ گئی تھی اور نظریں چراتے ہوئے دوسری طرف منہ کرلیا۔۔۔
“اچھا تمہیں کرتے ہوئے نہیں آئی ہمیں بتاتے ہوئے آرہی۔۔؟؟”
“میں نے کچھ نہیں کیا جو کیا آپ کے بھائ۔۔۔”
اور وہ کہتے کہتے چپ ہوئی منہ پر ہاتھ رکھ لیا فورا سے۔۔۔
“اچھا کیا کردیا بہروز بھائی نے۔۔؟ وہی تو پوچھ رہے۔۔”
“تو انسے جاکر پوچھیں نہ۔۔۔”
“ماما۔۔۔ ماما۔۔۔۔۔۔ماں۔۔۔۔”
اور شایان بھاگتے ہوئے اندر آیا تھا۔۔۔
“شایان۔۔۔ شایان۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔؟؟؟”
“ماما وہ میرے پیچھے ہے۔۔۔ وہ یہیں آرہا۔۔۔”
“کون بیٹا۔۔۔؟؟”
“ماما شیرو۔۔۔”
چاندنی نے شایان کو پنی گود میں اٹھا لیا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا اوے ڈر پوک کہیں کے۔۔۔”
“پھوپھو۔۔۔ وہ یہیں آرہا آپ بھی چھپ جائیں۔۔۔”
“میں تمہارے شیرو۔۔۔”
خاؤں۔۔۔۔۔”
ایک غراتی ہوئی آواز کے بعد وہ شیر کا بچہ جیسے ہی اندر آیا ان تینوں نے چیختے ہوئے کمرے سے باہر ڈور لگا دی۔۔۔۔۔۔
“آ۔۔۔۔بچاؤو۔۔۔۔”
اور چاندنی بھی شایان کو اٹھا کر باہر بھاگی۔۔۔۔
اس وقت پوری حویلی۔۔۔ جنگل کی مانند تھی۔۔۔
وہاں چار شیر کے بچے ایسے ان لڑکیوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔۔۔
۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔”
“آپ ہنس رہے ہیں دادا جی ان کو باہر پھینکوا دے پلیز۔۔۔”
۔
“ارے ایسے کیسے۔۔؟؟ لاکھوں روپے خرچ کردئیے میں نے۔۔۔”
“پر کیوں۔۔؟؟ ؟”
“کس لیے۔۔۔؟؟”
چاندنی کے ساتھ ساتھ باقی سب نے بھی ایک ساتھ پوچھا۔۔۔
“وہ۔۔۔ دراصل ۔۔۔ چاندنی ناراض تھی اور سب ہی کہہ رہے تھے وہ ان جانوروں سے بہت پیار کرتی۔۔۔ اور۔۔۔ سب تو اس نے پالے ہوئے اب یہی رہ گیا تھا۔۔۔
ویسے اور بھی آپشن تھے ۔۔۔”
“وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے آگے بڑھا۔۔۔
“واااوووو بہروز بھائی۔۔۔ پر ہاؤ رومینٹک بھی نہیں کہہ سکتی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔”
سب نے قہقہ لگایا ۔۔
“اور آپشن جیسے کہ۔۔۔؟؟”
چاندنی ایکسائیٹڈ ہوچکی تھی اسے اب خوشی محسوس ہورہی تھی شایان کو صوفہ پر بٹھا کر اس نے ایک شیر کا بچہ پکڑ لیا تھا
“جیسے کہ۔۔ کروکوڈائل۔۔۔ اینا کونڈا۔۔ ٹآئگر۔۔۔اور۔۔۔”
“بس بہروز۔۔۔ میں اس میں راضی ہوں۔۔۔”
وہ کہتے ہی کھڑی ہوئی تھی۔۔
“کیا معاف کردیا مجھے۔۔۔؟؟”
اس نے سرگوشی کی وہ دونوں شاید بھول گئے تھے کہ باقی خاندان والے سارے کھلے منہ سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے
“ہممم۔۔۔ جی کردیا۔۔۔”
اس نے جیسے ہی شرما کر سر نیچے کیا بہروز نے اسکی تھوڑی پر انگلی رکھ کر اس کا چہرہ اپنی جانب کیا۔۔۔
“تھینک یو سو مچ۔۔۔ میں۔۔۔”
وہ اور قریب ہوا تو دروازے پر کھڑے شاہنواز نے اونچی آواز میں بہروز کا نام پکارا۔۔۔
“گھر میں جوان بچیاں بھی ہے کچھ شرم کرو بہروز۔۔۔اور آپ سب گھر والے۔۔؟؟ کیا میسنے بن کر دیکھ رہے روک نہیں سکتے تھے۔۔۔”
“بڑے ابو۔۔ ایسا کچھ نہیں ہورہا تھا۔۔۔”
چاندنی پاؤں پٹک کر ہنستی ہوئی دادی کے گلے لگی تھی۔۔۔
“دادو آپ بھی تو دادی کو کس کررہے تھے۔۔۔ آپ بھی شرم کریں۔۔۔چلو بابا آپ بھی کریں۔۔۔”
شاہنواز صاحب کا منہ کھلا رہ گیا۔۔۔وہ اور زینب اتنی شاک ہوئے۔۔۔
کہ انہیں تب ہوش آئی جب پوری حویلی میں ہنسی کی آوازیں گونجی۔۔۔۔
۔
اور پھر یہ شروعات تھی ان کی خوشیاں کی۔۔۔
خاص کر بہروز اور چاندنی کی خوشیوں کی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اوکے ماں۔۔۔”
بہروز یہ ماں لفظ چاندنی کے لیے سن کر شایان کے کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔۔
اور شایان کو سلا کر چاندنی بھی اپنے بیڈروم میں چلی گئی تھی۔۔
بستر خالی دیکھا تو وہ بہروز کی تلاش میں بالکونی پر چلی گئی۔۔۔
“ایم سو سوری۔۔۔بہروز میں جانتی ہوں تمہیں۔۔۔ شایان کا مجھ ماں کہنا پسند نہیں آیا۔۔۔میں خود بہت حیران تھی۔۔۔ پر فکر نہ کریں میں اسے منع کردوں گی۔۔”
۔
“ششش۔۔۔۔۔بہت بولتی ہو یار۔۔۔تم جاننا چاہوں گی اسکے منہ سے تمہارے لیے لفظ ماں سن کر کتنی خوشی ہوئی۔۔۔؟؟”
چاندنی نے جتنی معصومیت سے بچوں کی طرح ہاں میں سر ہلایا تو بہروز خود پر اور قابو نہ رکھ سکا۔۔۔
چاندنی کو رئیلنگ کے ساتھ پن کرکے اس نے اپنے لب اسکے ہونٹوں پر رکھ دئیے تھے۔۔۔
۔
وہ اس لمحے خود کو اپنے شوہر کے آگے سرنڈر کرچکی تھی۔۔۔ جب جب وہ بہروز کے قریب جاتی اسکے سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیت جیسے ختم ہوجاتی ۔۔۔
کہی کہی گھنٹوں وہ نظر انداز کرتی رہتی بہروز کو کمرے میں چھپ جاتی شرم کے مارے۔۔
بہروز کی نزدیکی اسے جتنی سمٹنے پر مجبور کرتی اس سے دوری اور اذیت میں مبتلا کردیتی۔۔۔
“چاندنی۔۔۔”
اسکی گردن پر بوسہ دیتے ہوئے اس نے جیسے سرگوشی کی وہ بہروز کے سینے میں منہ چھپا چکی تھی۔۔
“بہروز۔۔۔ میں ۔۔۔ ابھی تیار نہیں ہوں۔۔”
“تیار کس لیے میری جان۔۔۔؟؟”
جان لفظ نے اور اسے سمٹنے پر مجبور کی اسکی گرفت بہروز کے کی کمر پر اور مظبوط ہوئی۔۔
“یہی۔۔۔یو۔۔۔آؤچ۔۔۔۔ بہروز۔۔۔۔”
گردن پر تکلیف ہوئی تو اس نے غصے سےس اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔
وہ جو کہنا چاہتی تھی جس چیز کا ٹائم مانگنا چاہتی تھی اسے اتنی ہی مشکل پیش آرہی تھی کہتے ہوئے
“ہممم۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے میں تمہیں جاننے خود کو سمجھنے کا موقع نہیں دوں گا ہم دونوں کو۔۔۔؟ میں تمہارا انتظار کروں گا۔۔۔میرا وعدہ ہے تم سے چاندنی۔۔۔”
چاندنی کے ماتھے پر بوسہ دئیے وہ واپس اندر چلا گیا تھا اور وہ اسے تکتی رہ گئیتھی
“یہ آخر ہوا کیا ہے۔۔؟؟ اتنی سادگی۔۔؟ اتنی نرمی اتنی عزت آنکھوں میں۔۔۔”
اور محبت۔’
جیسے اسکے دل نے وہ بات کہی تھی۔۔
“محبت۔۔؟؟ بہروز حاکم کو اور مجھ سے۔۔۔
جاؤ جاؤ دل کچھ کام کرو ۔۔۔یہ خوش فہمیاں نہ پالو۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک سال بعد۔۔۔۔۔”
۔
۔
“ارے بس کر جاؤ تم تینوں۔۔۔ ابھی کل ہی تو ٹریپ سے واپس آئے ہو۔۔ خدا کا خوف کھاؤ بہروز۔۔۔ میری بچی کو دیکھے ہفتے گزر جاتے ہیں خبردار اب کوئی باہر گیا تو۔۔”
زینب بیگم نے کھانے کی پلیٹ شایان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا
“پر دادی مجھے جلدی جلدی بہن بھائی چاہیے۔۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
چاندنی نے جلدی سے شایان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا کہ کوئی سن نہ لے۔۔۔
“پر ماں چپ کرکے کھانا کھاؤ۔۔۔۔”
اس نے جیسے ہی شایان کو ڈانٹا اس نے منہ بنا لیا اور پلیٹ بھی پیچھے کردی۔۔
“پر بابا نے وعدہ کیا تھا۔۔۔”
“ہاں میرے بچے میں نے وعدہ کیا تھا۔۔۔ بس تھوڑا اور انتظار کرلو۔۔ تمہاری ماں۔۔۔”
چاندنی کو اتنی زبردست کھانسی آنے لگی تھی۔۔۔
“میں ابھی آئی۔۔۔”
اور وہ کھانسی کرتے ہوئے منہ چھپا کر بھاگ گئی کچن میں۔۔۔
“میں زرا پانی دے آؤں لاپروائی کرتی آپ کی بہو۔۔”
“زیادہ بنو مت تمہاری وجہ سے ہوا۔۔ کس نے کہا تھا سب کے سامنے معنی خیز بات کرو۔۔۔”
بہروز کو دادی سے ڈانٹ پڑی تو وہ بھی سیدھا ہوگیا۔۔
“ارے دادی۔۔۔ ہم ایسا سوچ رہے ہیں بہت جلدی آپ پر سے پر دادی بنے گی۔۔۔”
اور وہ پانی کا گلاس لیکر کچن میں چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“شاہدہ یہ کھیر نہیں۔۔۔”
پیچھے سے بہروز نے اسے اپنے حصار میں بھر لیا تھا اسکے دونوں ہاتھ کاؤنٹر پر تھے جب اس نے چاندنی کو اپنی بانہوں میں قید کیا۔۔
“بہروز۔۔۔آپ۔۔۔ پیچھے ہٹ جائیں ملازم کسی وقت بھی واپس۔۔۔”
“انہیں معلوم ہے می کچن میں داخل ہوا ہوں اب اتنے معصوم بھی نہیں کہ ڈسٹرب کروں۔۔”
“آج آپ کچھ زیادہ ہی نڈر بننے کی کوشش نہیں کررہے بہروز صاحب۔۔؟؟”
“کوشش۔۔؟؟ میں ہوں نڈر۔۔۔ ثبوت دوں۔۔۔؟؟”
وہ اس پر جیسے ہی جھکا چاندنی نے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے فاصلہ بنا دیا تھا
“پلیز۔۔۔ میں نے سب کے درمیان سے واپس روم میں جانا ہے چھوڑ دیں منہ دیکھانے کے قابل۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ تم کوئی یونیک پیس ہو تم جانتی ہو۔۔؟؟ جاؤ چھوڑ دیا۔۔۔ اگر آج رات شایان کے روم میں رکی تو کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں۔۔ شایان کو بہن بھائی بھی چاہیے۔۔۔”
وہ اسکے کھلے منہ دیکھ کر اور ہنس دیا تھا۔۔۔
“کیوٹ۔۔۔”
اسکی ناک پر بوسہ دئیے وہ مسکراتے ہوئے کچن سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
اور جب شاہدہ کچن میں آئی تو وہ بھی چاندنی کے کھلے منہ کو دیکھ کر ہنس دی تھی۔۔
۔
“باجی بھائی چلے گئے ہیں اب منہ بند کرلیں۔۔”
“شاہدہ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں۔۔۔”
“چاندنی باجی میں آپ کے لیے بہت خو ش ہوں۔۔۔بہروز بھائی بہت اچھے ہیں۔۔”
چاندنی کے گلےلگ کر شاہدہ نے بھری ہوئی آنکھوں سے کہا تھا۔۔
“جھلی۔۔ اب چپ کرجاؤ۔۔۔”
“باجی ڈر لگتا ہے کہیں آپ کی خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگ جائے۔۔۔”
“اللہ ہے نہ اللہ کے سپرد کردو پگلی ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فرانس۔۔۔”
۔
میں نے اچھی والی شراب منگوائی تھی بیوقوف لڑکی۔۔۔ جاؤ ایک نئی بوتل اصل والی لیکر آؤ۔۔۔”
“ساحل لیز۔۔۔ آہ۔۔۔ میرے بال چھوڑ دو مجھے تکلیف ہورہی ہے۔۔”
“ابھی اور ہوگی بچ۔۔۔ آگے سے زبان چلاتی ہے۔۔”
اس نے شوز پہلے پاؤں سے اسکو مارنا شروع کردیا۔۔۔
“سارا نشہ اتار دیا۔۔۔ سالی۔۔۔”
وہ اسے زخمی حالت میں چھوڑ گیا تھا گھر لاک کرکے۔۔۔
۔
“میں تمہیں چھوڑ کر آنے کا فیصلہ بہت غلط تھا بہروز۔۔۔ میں پچھتا رہی ہوں تمہیں ٹھکرا کر۔۔۔ چیٹ کرکے۔۔۔ بہروز۔۔۔مجھے یہاں سے بچا کر لے جاؤ۔۔۔”
۔
وہ روو رہی تھی ایک نظر اس بکھرے ہوئے گھر کو دیکھا اس نے اور چیزوں کا سہارا لیتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
اس نے تو بڑی پوزیشن کے لیے آزادی کے لیے بہروز کو چھوڑا تھا۔۔
وہ تنگ آگئی تھی اس بچے سے بہروز سے۔۔
اور کہاں لاکر کھڑا کرلیا اس نے خود کو۔۔۔
ابھی وہ باتھروم کی جانب جانے لگی تھی جب بیڈ پر رکھے موبائل پر اسکی نظر پڑی اور اس نے جلدی سے دروازہ لاک کرکے ایک ہی نمبر ڈائل کیا۔۔۔
جو آف جارہا تھا۔۔۔
“بہروز پلیز۔۔۔ بات کرو۔۔۔ میسج کیا تو وہ پڑھ لے گا۔۔۔ او گاڈ۔۔۔”
وہ ابھی امید ہارنے لگی تھی جب اسکے اور بہروز کے دوست ہارون کا نمبر اسکے ذہن میں آیا۔۔۔
“ہیلو۔۔۔”
“ہیلو۔۔۔ ہاورن۔۔۔ میں میں رابیعہ۔۔۔ پلیز مجھے اس شیطان سے بچا لو۔۔۔ میری جان کو خطرہ ہے۔۔۔میں۔۔۔”
اور دروازہ چابی سے کھول کر وہ جلدی سے اندر آیا تھا اور ایک زور دار تھپڑ مار کر اسے نے موبائل توڑ دیا تھا۔۔۔
۔
دوسری طرف ہارون موبائل کو دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔
“ہارون بیٹا کس کا فون تھا۔؟؟”
“کسی کا نہیں ماں۔۔۔رونگ نمبر۔۔”
یہ کہتے ہی اس نے وہ نمبر بلاک کردیا۔۔۔
“مجھے ڈبل کراس کیا تھا اب بھگتو۔۔۔ ایک رات میرے ساتھ گزار نہ سکی اور باقی سب کی راتیں رنگین کرتی رہی بے غیرت۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
چلتے چلتے کچھ مہینے اور گزر گئے۔۔۔ ان کا رشتہ ایسے تھا جیسے صدیوں کا ساتھ ہو۔۔۔
انکی نزدیکیاں ایسی تھی کہ ہوا بھی درمیان میں سے نہ گزر سکے۔۔۔
چاندنی نے وہ دو سال ایسے گزارے تھے کہ وہ رونا بھول گئی تھی۔۔۔
وہ اتنا ہنستی تھی کہ ڈر جاتی تھی غم سے۔۔۔
بہروز حاکم۔۔۔ کا وہ روپ دیکھ رہے تھے سب گھر والے کہ یقین ہی نہیں ہوتا تھا
آج کا دن بھی بہت خاص تھا اسکے لیے۔۔۔
آج اسکی اپاؤنٹمنٹ تھی۔۔۔ وہ زنیب بیگم کے ساتھ گائناکالوجسٹ کے پاس گئی تھی مسکراتی۔۔اور جب گھر آئی تو چہرہ مایوسی سے بھرا ہوا تھا۔۔
“ہم حویلی پہنچ گئے ہیں چاندنی۔۔۔ بیٹا تمہیں میرے سر کی قسم بہروز کے علاوہ کسی سے شئیر نہ کرنا یہ بات۔۔۔”
“کیوں۔۔۔سب کو کیوں نہ بتاؤں کہ لگ گئی ہے میری خوشیوں کو نظر۔۔
مجھ سے ماں بننے کا سکھ چھین لیا ہے اللہ نے۔۔۔ میں بانجھ۔۔۔”
“خبر دار۔۔۔ خدا کے لیے ابھی چپ ہوجاؤ۔۔۔بالکل چپ۔۔”
اور وہ جب داخل ہوئے تو گھر والوں نے خوشی سے سو سوال پوچھے جن کا ایک ہی جواب دیتی رہی زینب بیگم۔۔۔
“ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ہماری لاڈلی کچھ کھاتی پیتی نہیں ہے۔۔؟؟ اگر کچھ خوش خبری چاہیے تو پہلے صحت کو اچھا کرے۔۔۔”
“اس لیے چاندنی باجی کا چہرہ اتنا اترا ہوا ہے۔۔۔؟؟”
“سنبل چاندنی کو ریسٹ کی ضرورت ہے اسے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔”
اور وہ جب کمرے میں چلی گئی تو سب سے چھوٹی چچی نے زبان کے واار شروع کردئیے
“دو سال ہونے کو آئے بھابھی۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔؟ چاندنی کو کہیں کہ اب اسکا بچپنا نہیں ہے۔۔ بہروز کی جتنی خواہش ہے وہ اتنا ہی اسے محروم کررہی۔۔ اب ڈاکٹر نے کہا ہے ہم بھی تو کہہ رہے تھے کہ سوچیں۔۔ بچے پیدا کرنے بھی ہیں یا نہیں۔۔؟”
“آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں چچی۔۔۔ ہم دونوں میاں بیوی کی جب مرضی ہوگی ہم فیصلہ کریں گے۔۔ اگر چاندنی نہیں چاہتی میں نہیں چاہتا تو خاندان کا کوئی بڑا بزرگ ہم پر زبردستی نہیں کرسکتا۔۔۔”
وہ کہہ کر آفس بیگ ساتھ ہی اوپر لے گیا تھا جو اکثر لیونگ روم میں چھوڑتا تھا۔۔
دادی اور زینب بہت خوش ہوئی تھی بہروز نے جس طرح اپنی بیوی کا ساتھ دیا اسکے لیے سٹینڈ لیا۔۔
اب سب بے فکر ہوگئے تھے بہروز کی طرف سے۔۔۔ انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ چاندنی اب محفوظ ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہارون میں۔۔۔تمہارے ساتھ ایک نہیں جتنی کہو گے ۔۔۔۔ رہنے کو تیار ہوں بس مجھے واپس بہروز کی زندگی میں جانا ہے۔۔۔”
“بہت جلدی یاد آیا۔۔؟؟ شادی کرچکا ہے۔۔۔”
“کیا۔۔۔ کس۔۔۔کس سے۔۔؟”
اسکے آنسوؤں سے اسکا چہرہ تر ہوگیا تھا۔۔۔
“اپنی کزن چاندنی سے۔۔ اب تو دو سال ہونے کو آئے گڈ نیوز آنے والی ہوگی۔۔۔اور۔۔”
“نو۔۔۔۔نوووو۔۔۔۔”
اس نے دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھوں سے ڈریپ نیڈل اتار کر پھینک دی تھی
“بہروز صرف مجھ سے محبت کرتا تھا وہ مجھے دھوکا نہیں دے سکتا ۔۔۔
وہ اس ان پڑھ گوار سے شادی نہیں کرسکتا۔۔۔وہ صرف میرا ہے میرا۔۔۔”
شور کی آوازیں سن کر نرس اور ڈاکٹر جلدی سے اندر آگئے تھے اور اسے بے ہوشی کا انجیکشن لگا کر سلا دیا گیا تھا۔۔
ان سب میں ہارون شاک تھا اس لڑکی کا جنون دیکھ کر۔۔ اس قدر شاک تھا کہ وہ پیچھے بیٹھ گیا تھا کرسی پر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میٹھا سا عشق لاگے۔۔۔ کڑوی جدائی۔۔۔
یار میرا سچا لاگے جھوٹی جدائی۔۔۔
چاندنی نے تن پہ میرے چادر بچھائی۔۔۔
اوڑھا جو تو نے مجھے سانس لوٹ آئی۔۔۔”
وہ بیڈ پر بیٹھ کر جیسے ہی گنگنا شروع ہوا آخری لائن سے پہلے چاندنی اٹھ کر اسکے سینے سے لگ گئی تھی۔۔۔
“بہروز۔۔۔ میں آپ کو کبھی باپ بننے کا سکھ نہیں دے سکتی۔۔۔ ڈاکٹر نے میری آخری امید بھی توڑ دی یہ کہہ کر کہ میں کبھی ماں نہیں بن سکتی۔۔۔”
“مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔”
وہ کچھ سیکنڈ کو افسردہ ہوا تھا پر چاندنی کے تکلیف زدہ چہرے کو اس نے اپنے دکھ کو چھپا لیا تھا۔۔
وہ چاہتا تھا کہ انکا بچہ بھی ہو۔۔ اسکی اور چاندنی کی اولاد اور اپنے مظبوط رشتے کو اور مظبوط بنانا چاہتا تھا پر۔۔۔
۔
“بہروز آپ کو فرق پڑنا چاہیے۔۔ آپ سمجھ نہیں رہے۔۔۔”
“چاندنی بچہ ہے تو سہی مجھے باپ کہنے والا تمہیں ماں کہنے والا تم کیوں۔۔۔”
“اوووہ اب سمجھ آئی بہروز۔۔ آپ کو کیا فرق پڑے گا آپ تو مکمل ہیں نہ ادھوری تو میں۔۔”
و بہروز کی غوش سے پیچھے ہوئی اور بیڈ سے اتر کر جانے لگی تھی جب بہروز نے واپس بیڈ پر کھینچ لیا تھا اسے۔۔۔
“ایک اور لفظ نہیں چاندنی تم کیا چاہتی ہو۔۔؟؟ باقی رسمی شوہروں کی طرح طعنے دوں تمہیں یا دوسری شادی اور بچوں کی دھمکی دوں۔۔؟؟ اگر شایان نہ بھی ہوتا ہمارے درمیان تب بھی میرا یہی جواب ہوتا میری جان۔۔۔ تم میرے لیے وہ سب ہو۔۔ اولاد کی کمی ہمارے رشتے میں تب تک نہیں ہوگی جب تک ہم اسے بار بار محسوس نہیں کریں گے۔۔۔”
چاندنی نے روتے ہوئے اپنا منہ بہروز کے سینے پر رکھ دیا تھا۔۔
“بہروز آپ کتنا پرجوش تھے۔۔۔اور میں۔۔۔”
“چاندنی۔۔ اس رات میری خواہشات کی نہیں اپنی تکلیف کی بات کرو وہ بیان کرو کیونکہ اس رات کے بعد ہم اس رپورٹ اور بچہ کی بات پھر کبھی نہیں کریں گے۔۔۔”
وہ سر اٹھائے اسکی آنکھوں میں دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو جان۔۔؟؟”
“دیکھ رہی ہوں بہروز بابا کا فیصلہ ایسے ہی اٹل نہیں تھا آپ کو لیکر وہ اس ہیرے کو پہچان گئے تھے۔۔۔”
یہ کہتے ہی جھک کر اس نے بہروز کے سینے پر اپنے لب رکھ دئیے تھے عین دھڑکتے دل پر۔۔۔
“میک لوو ٹو مئی بہروز۔۔۔”
“چاندنی۔۔۔ “
“پلیز۔۔۔”
اور وہ اپنی بیوی کا کوئی حکم کیسے ٹال سکتا تھا۔۔۔
۔