Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

ایک قیامت برپا ہوگئی تھی اس وقت جب حویلی کے دروازے کھلنے پر حویلی کا بڑا بیٹا خوبصورت شیروانی میں ملبوس کھڑا تھا پھولوں کا ہار گلے پر تھا چہرے پر دنیا جہاں کی مسکراہٹ تھی۔۔۔
ایک پہاڑ اس حویلی کے مکینوں پر اس وقت ٹوٹا تھا جب وہ ساتھ کھڑی دلہن کے لباس میں کھڑی اس دوشیزہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے آیا تھا۔۔۔ اور سینٹر میں کھڑے ہوگئے تھے وہ دونوں۔۔ ان کے سامنے کچھ قدموں کے فاصلے پر ایک بڑا سا سٹیج سجا ہوا تھا جس پر بیٹھ کر نکاح پڑھوانا تھا مولوی صاحب پر جس پر بیٹھ کر ملنا تھا رشتے داروں سے ان دونوں نے جنہوں نے رشتہ ازدواج میں بندھ جانا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر ہی میں یہ سب ہونا تھا۔۔
مگر شاید قسمت اور بہروز حاکم کو کچھ اور ہی منظور تھا
شاہنواز حاکم جو ہنستے مسکراتے ہوئے اپنے دوستوں سے باتیں کررہے تھے۔۔ انہوں نے جب دروازے پر اپنے بیٹے اور اسکے ساتھ کسی نئی لڑکی کو دیکھا تو وہ شاکڈ ہوگئے تھے۔۔
ان دونوں کی باڈی لینگوئج سے وہ سمجھ گئے تھے آخر ہوا کیا ہے مگر۔۔ وہ پھر بھی آگے بڑھے تھے۔۔ اور انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو مخاطب کیاتھا جو بہروز کو ایرپورٹ لینے گیا تھا حمدان حاکم۔۔۔ جو بڑے بھائی کے غصے سے ایک دم ڈر گیا
“تم اس کو لینے گئے تھے یا اسکا نکاح پڑھوانے۔۔۔”
“بھائی میں۔۔۔”
شاہنواز نے جس قدر زور دار تھپڑ مارا تھا وہ چھوٹا بھائی دور جا کر گرا تھا۔۔
“شاہنواز۔۔۔”
معراج حاکم نے آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو روکنا چاہا تھا
۔
“کون ہے یہ لڑکی پوچھیں اس سے ابا حضور۔۔۔”
“بہروز بیٹا۔۔؟؟ یہ سب کیا مذاق ہے۔۔؟”
“یہ کوئی مذاق نہیں ہے دادا جان۔۔ میں شادی کرچکا ہوں۔۔ یہ میری لیگلی ویڈڈ وائف ہے۔۔”
بہروز کی کنفرمیشن نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا بےساختہ سب کی نظریں اس کمرے کی جانب گئی تھی جہاں دلہن تیار ہورہی تھی آج کے اس خوبصورت دن کے لیے۔۔
مگر بہروز کی خودغرضی نے یہ دن ایک بدصورت دن کی شکل میں تبدیل کردیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چاندنی بیٹا۔۔۔ تم کسی آپسرا سے کم نہیں لگ رہی ماشاللہ۔۔۔”
“چاندنی بھابھی۔۔۔ وااااووووو۔۔۔۔۔۔”
تایا کی چچا کی بیٹیاں جو کب سے چاندنی کے انتظار میں روم میں داخل ہوئی تھی میک اپ آرٹسٹ میک اپ مکمل کرنے کے بعد ایکسکئیوز کرکے چلی گئی تھی۔۔
“کسی کی نظر نہ لگے چاندنی بیٹا۔۔۔آج شاہزین زندہ ہوتی تو کتنی نظریں اتارتی تمہاری کتنے ناز اٹھاتی تمہارے۔۔۔”
“آنٹ فرحین آپ اب ہماری بہن کو کو اداس نہ کریں۔۔۔”
مگر چاندنی تو اداس ہوگئی تھی۔۔ آج کے دن اس نے کیا کچھ نہیں سوچا تھا۔۔
اس کی امی ابو نے بہت کچھ سوچا تھا اپنی بیٹی کے لیے آج کے دن کے لیے تو وہ اتنے پرجوش ہوتے تھے۔۔۔
۔
“چاندنی بیٹا۔۔۔ایم سوری۔۔ تم ابھی اپنا موڈ خراب نہ کرو۔۔”
“اٹس اوکے چچی جان۔۔ میں جانتی ہوں امی ابو نے کتنا کچھ سوچا تھا آج کے لیے۔۔میں کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتی ہوں۔۔۔”
اور سب اسکے سر پر ماتھے پر پیار کرکے باری باری روم سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
“امی ابو۔۔۔”
فوٹو فریم اٹھا کر وہ بالکونی کی طرف چلی گئی تھی
“یہ دیکھ رہے ہیں آپ ابو۔۔ جیسا آپ چاہتے تھے تایا ابو نے ویسے ہی سب حویلی کو دلہن کی طرح سجایا۔۔۔اتنا روشن کردیا ہر کونے کو۔۔ آپ ایسے ہی چاہتے تھے نہ۔۔؟”
رئیلنگ پر ہاتھ رکھ کر اس نے اس فوٹو فریم کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ انہیں صاف نہیں کررہی تھی اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا گھنٹوں کی محنت سے کئیے میک اپ پر۔۔۔
“امی۔۔۔ آپ کی بنائی ہوئی ہر جیولری یہ زیورات میں نے پہنے ہیں تائی امی کی دی ہوئی کوئی چیز نہیں پہنی میں نے سب سے کہہ دیا تھا میں نے آپ کی ہر نشانی پہننی ہے۔۔
اب دیکھ کر بتائیں کیسی لگ رہی ہوں۔۔؟؟”
وہ سرگوشی کررہی تھی۔۔۔ مگر اسکی باتیں اسکی سرگوشیاں دم توڑ گئی تھی جب اس نے ایک بڑی سی گاڑی کو ڈروئیو وے سے اندر حویلی کی پارکنگ میں داخل ہوتے دیکھا تھا۔۔۔
اور جب اس شخص کو نکلتے دیکھا تھا۔۔ چاندنی کی آنکھوں میں ایک چمک آئی تھی۔۔۔
پر کچھ سیکنڈ کے بعد وہ چمک جیسے مر گئی تھی جب بہروز نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا اور اس لڑکی نے بہروز کا ہاتھ تھام کر گاڑی سے باہر قدم نکالے تھے۔۔۔
۔
“بہروز۔۔۔”
بہروز اس لڑکی کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے اوپر کی جانب دیکھتا ہے جیسے اس نے کسی کی نظریں خود پر محسوس کی ہوں۔۔۔ چاندنی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس نے اس لڑکی کو کندھے سے پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا اور اندر لے گیا تھا اسے۔۔۔
۔
“بہروز۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے پیچھے دیوار پر جالگی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“”تم ابھی اس لڑکی کو طلاق دو گے سب کے سامنے۔۔
“میں اپنی ہی محبت کو طلاق کیوں دوں گا بابا سائیں۔۔؟؟ ہماری شادی کو بھی کچھ گھنٹے نہیں ہوئے۔۔۔ اس کا قصور کیا ہے۔۔؟’
“تو اس کا کیا قصور ہے جو اندر بیٹھی دلہن بنی تمہارا انتظار کررہی ہے۔۔؟ مولوی صاحب انتظار کررہے ہیں ہمارا کیا قصور ہے۔۔؟
اپنے نکاح والے دن تم کسی اور کے ساتھ نکاح کرکے لے آئے اسے ہماری حویلی میں۔۔؟”
“بابا سائیں میں آپ کی بھتیجی کو پسند نہیں کرتا۔۔۔ اس لاوارث کو جس کا کوئی سٹینڈرڈ نہیں تعلیم نہیں تمیز نہیں آپ اسے میرے پلے باندھنا چاہتے تھے۔۔۔ اپنی بھتیجی کے لیے آپ اپنے کسی ملازم کا رشتہ۔۔۔”
انکا ہاتھ اٹھ گیا تھا اپنے بیٹے پر۔۔
“باہر تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا تمہیں۔۔۔ تم تو جاہل بن کر واپس لوٹے ہو
ابھی کے ابھی اسے طلاق دو ورنہ میں تمہیں عاق کردوں گا اس ساری جائیداد سے تمہاری عیاشی سب میری وجہ سے ہے۔۔۔””
۔
“آپ کو کیا لگتا ہے ۔۔؟ آپ نکال دیں گے تو میں بکھر جاؤں گا۔۔؟ امریکہ میں میرا بزنس ہے گھر ہے بلڈنگ ہیں۔۔۔ میں آپ کی دولت یہ حویلی تو چھوڑ سکتا ہوں مگر اپنی بیوی اپنی محبت نہیں۔۔۔”
“بیٹا۔۔۔ ایسا نہ کہو۔۔اتنے سالوں کے بعد تو تم واپس آئے ہو۔۔ اپنے بابا سائیں کی بات مان لو۔۔”
ماں نے بیٹے کو اپنی محبت اور پرورش کا واسطہ جیسے ہی دیا تھا وہ کچھ پل کو چپ ہوگیا تھا۔
۔
“ہاں اگر آپ میری بیوی کو اپنا لیں بڑی بہو کے روپ میں تو میں اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں وہ میری دوسری بیوی بن جائے گی صرف کاغذات میں ۔۔”
۔
“تایا سائیں۔۔۔ میں دوسری عورت نہیں بنو گی۔۔ میں مرنا قبول کروں گی مگر دوسری عورت کبھی نہیں بنوں گی۔۔آپ میری بدنامی کی فکر نہ کریں میں یہ حویلی چھوڑ جاؤں گی۔۔
آپ لوگوں پر میرا بوجھ نہیں ڈالوں گی۔۔۔ میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوں مگر دوسری بیوی بننے کو تیار نہیں ہوں۔۔۔”
۔
وہ دولہن بنے سیڑھیوں پر کھڑی تھی۔۔۔جو بار بار ایک ہی بات دہرا رہی تھی
“دوسری عورت نہیں بننا مجھے۔۔۔”
۔
بہروز کی آنکھیں کچھ دیر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہی رخ بدل گئی تھی۔۔
اسکی آنکھوں میں جو درد عیاں تھا چہرے پر اتنا ہی غصہ بھی تھا۔۔ پر جس طرح اس نے اس وقت دوسری شادی اور بہروز حاکم کو بھری محفل میں ری جیکٹ کیا تھا اسکی گرفت رابیعہ کے بازو پر اور مظبوط ہوئی تھی
“سی۔۔۔ دیکھ لیں اسے بھی منظور نہیں۔۔۔ کہیں کوئی اور پسند۔۔۔”
اس بار معراج حاکم نے ہاتھ اٹھایا تھا اپنے پوتے پر۔۔۔
“ابھی اسی وقت نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔ بہروز۔۔۔ میں معراج حاکم تم سے ہر تعلق توڑتا ہوں اگر میری اولاد میں سے کسی نے تمہارے ساتھ کوئی رشتہ رکھا تو میں اس کا منہ نہیں دیکھوں گا۔۔۔”
وہ ہی نہیں ہر ایک فرد حیران ہوگیا تھا۔۔۔سب کو معلوم تھا معراج حاکم کی زبان کا جو ایک بار لفظ ادا ہوگئے سو ہو گئے۔۔۔
۔
“امی ابو کے جانے کے بعد اس ایک شخص سے امید تھی وہ بھی آج نہیں رہی۔۔ کیا میں اس قابل بھی نہیں تھی۔۔؟ کیا اتنی بری تھی کہ شادی والے دن شادی ٹوٹ گئی۔۔؟؟
بہروز۔۔۔؟؟”
آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔۔
“چاندنی۔۔۔۔ اگر میری بھانجی کو کچھ بھی ہوا بہروز حاکم تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔۔”
چاندنی کے مامو خالہ اس کی طرف بڑھے تھے اس بےہوش دلہن کو اٹھا کر اسکے کمرے کی طرف لے گئے تھے۔۔۔
“بہروز۔۔”
“کیا بہروز کررہی ہیں بیگم۔۔؟؟ اپنے بیٹے سے کہیں نکل جائیں یہاں سے اپنی بیوی کو لیکر۔۔۔”
“بابا سائیں۔۔۔”
“مرگیا تمہارا باپ۔۔۔ اب دفعہ ہوجاؤ۔۔۔۔”
اور گارڈز کو اندر بلا لیا گیا تھا وہ لوگ جیسے ہی اندر آئے بہروز نے ایک ایک کررکے سب کو دیکھا تھا۔۔ وہ جانتا تھا جلدی میں شادی کرکے اس نے للکارا تھا سب کی غیرت کو۔۔
پر اس طرح کے ری ایکشن کی اسے امید نہیں تھی۔۔۔
اور اس وقت بہروز کے پاس بھی کوئی نہیں آیا تھا۔۔ جو اتنے سال سے فون پر اسے تسلیاں دیتے رہے۔۔
معراج حاکم کے سامنے کسی کی جرآت نہ ہوئی بہروز کی طرف دیکھنے کی بھی۔۔۔
“اوکے۔۔میں جارہا ہوں۔۔ مگر یاد رکھوں گا میں کہ آپ نے اپنی پوتی کے لیے اپنے دوسرے بیٹے کی اولاد کو ٹھکرا دیا۔۔۔ ہمیشہ سے وہی منظور نظر رہی آپ کی۔۔۔
آج مجھے خوشی ہورہی ہے میں نے اس سے شادی نہیں کی۔۔ میں خوش ہوں اپنی پسند کے ساتھ۔۔ اور جارہا ہوں۔۔۔ مجھ سے کوئی بھی رابطہ نہ کرے۔۔۔
آج سے میں مر گیا آپ سب کے لیے۔۔۔”
۔
اور وہ رابیعہ کا ہاتھ پکڑے اسے حویلی سے لے گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ گھنٹے بعد۔۔۔”
۔
حاکم حویلی میں ہر سو خاموشی تھی ایک گہری خاموشی۔۔ مگر ایک کمرہ ایسا بھی تھا جہاں چیخنے چلانے کی آوازیں آنا شروع ہوئی تھی۔۔۔ ملازموں نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ حویلی میں آکر کوئی معراج حاکم سے اونچی آواز میں بات کررہا تھا۔ یا یوں کہیں بےعزتی کررہا تھا تھا
“ابراہیم میری بات سنو بیٹا۔۔”
“بس انکل۔۔ بہت ہوا۔۔۔ شاہ زیب اور شاہزین کے جانے کے بعد بھی آپ نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ چاندنی آپ کا خون ہے آپ اس کے والی وارث ہیں آپ اسکا بہتر خیال رکھیں گے۔۔ میں چپ ہوگیا۔۔ واپس چلا گیا الٹے قدم۔۔ مگر اب نہیں میری آنکھوں کے سامنے وہ گستاخ بدتمیز میری بھانجی کو ٹھکرا کر چلا گیا۔۔ یہ خون ہے آپ کا۔۔؟؟”
ابراہیم صاحب چلائے تو باقی کے دونوں بیٹے کھڑے ہوگئے تھے بلکل سامنے آگئے تھے
سوائے شاہنواز کے اس میں ہمت نہ رہی تھی ابراہیم کی آنکھوں میں دیکھنے کی۔۔۔
“دیکھو بیٹا۔۔”
“دیکھیں بھائی صاحب۔۔ ہماری بیٹی کو ہم لے جانا چاہتے ہیں۔۔”
اور چاندنی کی نانی کی بات سن کر سب نے حیرانگی سے انہیں دیکھا تھا
“آپ ایسا نہیں کرسکتی۔۔۔ چاندنی ہمارے شاہ زیب کی آخری نشانی ہے میں اپنی بچی کو کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔”
چاندنی کی دادی بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی تھی۔۔
“یہ سب اسکی وجہ سے ہوا اس نے دونوں خاندانوں کی دوستی کو دشمنی میں بدل دیا یہ تم نے اچھا نہیں کیا بہروز۔۔۔”
شاہنواز یہ کہتے ہی اس کمرے اور پھر حویلی سے باہر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
وہ رمضان کے مکمل روزے رکھنے والا۔۔۔ میرا دل نہ رکھ سکا۔۔
لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والا میرے غموں کا سبب بن گیا
اللہ وہ میری محبت کا پاس نہ رکھ سکا جسے لوگوں کا دل رکھنے کی مہارت حاصل تھی”
۔
“اب اسے کیا مانگوں دعاؤں میں جو کسی اور کے نکاح میں چلا گیا
یا اللہ مجھے وہ تو نہ دے سکا۔۔۔۔اللہ مجھے صبر دہ دے میرے دل سے اسکی محبت تو نہ مٹا سکا مگر جدائی کی یہ تکلیف ختم کردے میرے مولا۔۔۔۔”
۔
“بس اب محبت بھی ٹوٹ گئی اس ٹوٹنے والے نکاح کے ساتھ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فہمیدہ میں ہاتھ جوڑتی ہوں میری بچی کو مجھ سے دور نہ کرو میرے پاس بس ایک ہی نشانی رہ گئی ہے میرے شاہ زیب کی۔۔”
شمیم بیگم جو کہ چاندنی کی دادی تھی وہ چاندنی کی نانی کے سامنے کھڑی تھی ہاتھ جوڑے
“شمیم۔۔ جو آج ہماری بچی کے ساتھ ہوا اسکے بعد بھی تم یہ کہہ رہی ہو۔۔؟ کم سے کم چاندنی کو ہمارے ساتھ جانے دو اسے جو یہاں پر محرومی مل رہی اس سے تو جان چھوٹے گی۔”
“دیکھو۔۔”
“ماں جی۔۔ آپ کے گھر میں بہروز کے لائف سٹائل کا سب کو معلوم تھا۔۔ پھر بھی رشتے کی بات چلائی گئی۔۔”
“بیٹا میں اپنے مرے ہوئے بیٹے کی قسم کھا کر کہتا ہوں ہمیں نہیں معلوم تھا۔۔ جتنا آپ لوگ اذیت میں ہو اتنا میں بھی ہوں۔۔ مجھے بھی تکلیف ہورہی ہے۔۔”
معراج صاحب اب کے ابراہیم کو اپنے ساتھ بٹھا چکے تھے اور باقی سب بھی ایک ایک کرکے اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھا شروع ہوئے۔۔۔
وہ جو ماحول میں جلد بازی اور تلخی تھی وہ کچھ ختم ہوئی تھی معراج صاحب کے دھیمے لہجے کی وجہ سے۔۔۔
“بہروز اس خاندان کا بڑا اور سمجھدار بیٹا رہا۔۔۔ سب کا پسندیدہ تھا۔۔۔ بہروز اور چاندنی کی شادی کا فیصلہ شاہنواز اور شاہ زیب کا تھا۔۔ اس رات سے لیکر اب تک۔۔۔ ہمیں معلوم نہیں تھا بہروز ایسا کرے گا اسے کوئی پسند بھی ہوگی۔۔۔آپ لوگوں کو ہمیں ایک بار موقع دینا چاہیے۔۔۔”
وہ پہلی بار کسی کے سامنے اس طرح جھکے تھے ابراہیم نے جب انکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے تھے تو کچھ تسلی ہوئی تھی سب کو۔۔
چند ایک کے علاوہ سب یہی چاہتے تھے کہ چاندنی کہیں نہ جائے وہ لڑکی ہر ایک کی جان بن چکی تھی۔۔۔ اسکی شرارتیں اسکی معصومیت اسکی سادگی۔۔ اور اب اسکی اداسی۔۔۔
۔
“بہروز کس سے محبت کرتا کس سے نہیں۔۔ وللہ عالم ہمیں معلوم نہیں تھا۔۔ کبھی فون پر کہیں اس نے بتایا نہیں۔۔۔ میں درخواست کرتی ہوں۔۔ ہم پر یہ ظلم مت ڈھائیں۔۔۔”
وہ اپنی بات مکمل کرچکے تھے۔۔
“سچ تو یہ ہے گھرکے بیٹے نے گھر کی بیٹی کو بےآبرو کردیا دنیا جہاں کے سامنے۔۔۔
میں باپ ہوکر شرمندہ ہوں شاہ زیب کا مجرم ہوں۔۔ مجھے کچھ گھنٹے پہلے معلوم ہوتا تو بہروز کا نکاح ہونے ہی نہ دیتا۔۔۔گریبان سے پکڑ کر لاتا ۔۔۔
آج تو تماشا لگایا میرے پوتے نے۔۔ میرا سر شرم سے نیچا کردیا۔۔۔
اب میں اور تکلیف برداشت نہیں کرسکتا میں معراج حاکم معافی مانگتا ہوں۔۔۔ بس ہماری بیٹی کو کہیں مت لے جائیں۔۔۔”
۔
دادا جان کی بات سن کر سب ہی آبدیدہ ہوگئے تھے۔۔ آہستہ آہستہ بچے وہاں سے چلے گئے کیونکہ اس وقت گھر کے بڑے بزرگوں کی یہ حالت ان سے دیکھی نہ گئی اور ان سب نے کمرہ چھوڑ کر بڑوں کو کچھ پرائیوسی دی۔۔۔۔
۔
تماشا تو لگا تھا۔۔۔ چاندنی کے کردار کو داغدار کیا گیا۔۔ لوگوں نے باتیں بنائی۔ بات ہر جگہ ہی پھیل گئی تھی اور بہروز۔۔۔؟؟
وہ اپنی بیوی کے ساتھ ایک بڑے سے ہوٹل میں روم بک کرکے اپنی شادی کی پہلی رات بہت پرجوش انداز میں منا رہا تھا۔۔۔
اور یہاں چاندنی جائے نماز میں بیٹھی رو رہی تھی۔۔ اللہ سے بےچین دل کے لیے صبر مانگ رہی تھی جو شاید ہی اسے ملنا مشکل تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کم آن بہروز اب تو نکاح ہوگیا۔۔ اب تو یہ دوریاں ختم کردو۔۔”
“ہم اپنے گھر جا کر باقی کی رسمیں۔۔۔”
“آئی واانٹ یو ناؤ بہروز۔۔۔ کہ سوگ منا رہے ہو۔۔؟؟ یاد آرہی ہے وہ فیملی۔۔ جس نے اس لڑکی کو اہمیت دی سب کے سامنے نکال دیا تمہیں۔۔”
“نوٹ ناؤ۔۔۔ رابیعہ میں بہت پرائیویٹ پرسن ہوں تم جانتی ہو۔۔
میں ویڈنگ نائٹ اس ہوٹل کے روم میں کبھی۔۔۔”
رابیعہ نے اسکے چہرے کو اپنی طرف کھینچ کر و فاصلہ بھی ختم کردیا تھا۔۔
“بہروز آج میرے پاس نہیں آئے تو پھر بھول جانا۔۔۔ اور یہ میری ضد ہے۔۔”
“بہروز نے اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔ اور وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی اسکی ضد کے آگے جھک گیا تھا۔۔
پر اس نے باقی کا فاصلہ ختم کرتے ہوئے اسکے ہونٹوں کا تعاقب کیا تو اسکی بند انکھوں میں اسے وہ روتا ہوا چہرہ نظر آیا۔۔۔
جو دلہن بنا ان سیڑھیوں پر پتھر بنے کھڑا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
تمہیں زرا تکلیف نہیں ہورہی چاندنی۔۔؟؟ وہ شادی والے دن چھوڑ گیا تمہیں بھری محفل میں نکاح سے انکار کردیا۔۔۔ دوسری بیوی لے آیا وہ اور تم یہاں کچن میں بیٹھی آئس کریم کھا رہی ہو۔۔؟؟”
۔
“ہمم۔۔۔ میں کس بات کا سوگ مناؤں۔۔؟ بہروز حاکم نے شادی سے انکار کردیا اتنے سالوں کے انتظار کے بعد مجھے خالی ہاتھ چھوڑ دیا۔۔
یا میں سوگ مناؤں کہ وہ شادی کرچکا ہے اور اسکی بیوی بلا کی خوبصورت ہے
میں سوگ اس بات کا مناؤں کہ آج گھر بار رشتے داروں میں سوسائٹی میں میری عزت دو ٹکے کی نہیں رہی۔۔۔
اتنی لمبی لسٹ ہے کس بات کا سوگ مناؤں۔۔۔؟؟”
۔
“چاندنی۔۔۔”
مہروز نے اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھرا تو چاندنی نے بھی سرد آہ بھری تھی
“امی ابو کی قبر پر گئی تھی۔۔۔ وہاں بیٹھ کر خوب روئی ہوں میں مہرو۔۔۔
میں نے انہیں بتایا ہے کہ میری شادی تھی اور انکا لاڈلا بھتیجا شادی والے دن مکر گیا۔۔
اور ایک انجان لڑکی کو بیوی بنا کر حویلی لے آیا۔۔۔
میں نے انکی قبر پر سوگ منایا ہے مہرو۔۔۔ میں انہیں بتا کر آئی ہوں کہ بہروز حاکم سے نفرت ہو گئی ہے مجھے شدت کی۔۔۔
ابو کو بھی شکایت لگائی ہے کہ جسے وہ بیٹا سمجھ کر مجھے جس کے حوالے کرگئے تھے
وہ تو باہر کے ملک جا کر کسی اور کا بن گیا۔۔۔
میں نے اپنے حصے کا سوگ منا لیا ہے مہرو۔۔۔”
کچن کاؤنٹر سے اٹھ کر آنکھوں سے آنے والے اس انسو کو بھی صاف کردیا تھا چاندنی نے
“میں دنیا کے سامنے تماشا نہیں بنو ں گی۔۔۔ اور نہ ہی بہروز حاکم کے پیچھے زندگی تباہ کروں گی۔۔۔
میں کمزور نہیں ہوں۔۔ میں اسکے دھوکے پر لڑکھڑائی ضرور ہوں گری نہیں ہوں۔۔۔
مجھے ٹھوکر لگی ہے ٹانگیں نہیں ٹوٹی کہ میں چلنا چھوڑ دوں۔۔۔”
۔
۔
“وہ جو محبتوں میں ناکام ہوجائیں ان میں جینے کی خواہش اور بڑھ جاتی ہے
اور جو رشتوں میں ناکام ہوجائیں ان کی آنا قیامت کی بلا رکھتی ہے کہ پھر رشتے واار دیتے ہیں عزتوں پر۔۔۔”
۔